Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    حکومت نے فری لانسرز کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) رجسٹریشن کی نئی سہولت فراہم کر دی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس اقدام کے تحت موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت دے دی ہے، جس سے فری لانسرز کو آسانی سے اپنے موبائل ڈیٹا کنکشن پر وی پی این استعمال کرنے کی سہولت ملے گی۔

    اس نئی سہولت کے تحت وہ فری لانسرز جو اسٹیٹک آئی پی ایڈریس نہیں رکھتے، اب موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این کی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے فراہم کردہ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے فری لانسرز اپنے موبائل نمبر کو رجسٹر کر کے وی پی این کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔فری لانسرز کو وی پی این رجسٹریشن کے لیے https://ipregistration.pta.gov.pk پر جا کر اپنا موبائل نمبر رجسٹر کرنا ہوگا۔

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، یہ سہولت آئی ٹی کے شعبے کی ترویج اور وی پی این رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔یہ قدم ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے اور فری لانسرز کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں کام کرنے والے فری لانسرز کو اپنے کام کے لیے مزید سہولت اور تحفظ حاصل ہوگا، خاص طور پر ان کے آن لائن کام اور ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے۔

    وی پی این کے استعمال سے انٹرنیٹ پر محفوظ اور پوشیدہ طریقے سے کام کرنا ممکن ہوتا ہے، جو خاص طور پر فری لانسرز کے لیے اہم ہے جو بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں اور جنہیں اپنے کام کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وی پی این کے ذریعے، فری لانسرز اپنے ڈیٹا کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور انٹرنیٹ پر بلاک شدہ مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔یہ نئی سہولت پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی میں مزید مددگار ثابت ہوگی اور فری لانسرز کے لیے ایک نئی راہ کھولے گی۔

    وی پی این ،سوشل میڈیا پر پابندی، پی ٹی اے سے جواب طلب

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک ہو گئی ہے

    ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کی دوبارہ متحرک ہو ئی ہے،کسان یونینوں اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد، پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے دہلی چلو تحریک 6 دسمبر سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،”دہلی چلو مارچ” کسان مزدور مورچہ اور کسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہو رہاہے،ہریانہ میں بی جے پی کی مزاحمت کے بعد، کسانوں نے ٹریکٹر کی بجائے چھوٹے جتھوں میں دہلی پیدل جانے کا فیصلہ کیا ہے،کسانوں کے ‘دہلی چلو’ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت کی سرحدوں اور اس سے متصل پورے خطے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

    کسان رہنما سرون سنگھ پانڈھر کے مطابق،”مودی سرکار کسانوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے، حالانکہ وہ پچھلے 10 مہینوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں”ہم نے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہریانہ پولیس کو آگاہ کیا کہ ہمارا مارچ پرامن ہوگا،وزیر مملکت برائے ریلوے روینت سنگھ بٹّو اور ہریانہ کے وزیر زراعت نے کسانوں کو دہلی پیدل جانے کا اشارہ دیا، وقت آگیا ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں،کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دہلی جانے کی اجازت نہ ملی تو تصادم ہوگا

    فروری میں کسانوں کی دہلی جانے کی پہلی کوشش ہریانہ میں سیکورٹی فورسز کی سخت مزاحمت کا شکار ہوئی، جس میں کئی کسان جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے،”دہلی چلو مارچ” کسانوں کے اتحاد اور مودی سرکار کی زرعی پالیسی میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بنی ہوئی ہے،مودی سرکار کسان مارچ تحریک اور آزادی حق رائے کا گلا گھو نٹ کر اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو پروان چڑھانا چاہتی ہے

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کسانوں کی شکایات کا نوٹس لے لیا

    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کسانوں کی شکایات کا نوٹس لے لیا

    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کسانوں کی شکایات کا نوٹس لے لیا

    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس ہوا،اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کسانوں کی شکایات کا نوٹس لے لیا ہے،نوٹس ملوں کی جانب سے کسانوں کو گنے کی مناسبت قیمت ادا نہ کرنے پہ لیا گیا،وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ کین کمشنر آئندہ اجلاس میں گنے کی قیمتوں سے متعلق رپورٹ پیش کریں گے،کسانوں کا استحصال کسی قیمت پر نہیں ہونے دیا جائے گا،شوگر ملز مالکان کاشتکاروں کو گنے کی مناسب قیمت ادا کریں،کاشتکاروں کو گنے کی فصل کا مناسب نرخ ملنا چاہیے،جاری اعلامیہ کے مطابق بورڈ نے ملک میں چینی کے اسٹاک کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا, فورم کا ملک میں چینی کے موجودہ ذخائر پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چینی کا کرشنگ سیزن وقت پر شروع ہونا ایک کامیابی ہے،

    واضح رہے کہ رحیم یار خان شوگر ملز میں گنے کا وزن کم تولنے پر کسان اور مل انتظامیہ آمنے سامنے آ گئے، مل انتظامیہ نے ڈنڈا فورس نکال لی، کسانوں نے بھی ڈنڈے نکال لیے۔ ’’کسان دوست‘‘ پنجاب حکومت فی الحال خاموش ہے، کسانوں نے بھر پور احتجاج کیا،شوگر ملز کم قیمت پر کسانوں سے گنا خرید رہی ہیں اور لکھوا رہی ہیں کہ وہ قانونی کاروائی نہیں کریں گے

  • پنجاب میں چھوٹے کاروبار کے فروغ کیلئے ”کاروبار کارڈ“ سکیم کا فیصلہ

    پنجاب میں چھوٹے کاروبار کے فروغ کیلئے ”کاروبار کارڈ“ سکیم کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا انقلابی معاشی ویژن ،پنجاب میں چھوٹے کاروبار کے فروغ کیلئے ”کاروبار کارڈ“ سکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا

    میڈیم کاروبار کے لئے”چیف منسٹر آسان کاروبار فنانسنگ سکیم“پر اتفاقِ کر لیا گیا،بزنس کارڈ سکیم کے تحت ایک سے دس لاکھ روپے تک لون دیا جائے گا ،”چیف منسٹر آسان کاروبار فنانسنگ سکیم“کے تحت تین کروڑ تک قرضے دینے کی تجویز بھی سامنے آئی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سمال اور میڈیم لون سکیم کے لئے جامع پلان طلب کر لیا،تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سمال اور میڈیم لون بلاسود قرضے کا اصولی فیصلہ کیا گیا،بڑے شہروں میں سمال اور میڈیم انڈسٹری کے لئے الگ زون مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا، منتخب تجارتی سیکٹرز پر ترجیحی بنیادوں پر قرضے دینے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا،قرض کی پہلی قسط ملنے کے بعد 3ماہ کا گریس پریڈ بھی دیا جائے گا ،”چیف منسٹر آسان کاروبار فنانسنگ سکیم ”کے تحت 5سال تک قرض ادا کرنا ہوگا ،کاروبار کارڈ ریسٹورنٹ سمیت 10ایریاز میں ادائیگی کے لئے استعمال نہیں ہوسکے گا ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آئی ٹی سٹارٹ اپ کے لئے ترجیحا لون مل سکے گا،پنجاب میں تجارت اور صنعت کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع بڑھائیں گے-

  • نومئی جلاؤ گھیراؤ،عمران خان کی بہنوں کی ضمانت میں‌توسیع

    نومئی جلاؤ گھیراؤ،عمران خان کی بہنوں کی ضمانت میں‌توسیع

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کی سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی کی بہنیں عظمی خان اور علیمہ خان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی، جے آئی ٹی نے اسد عمر ،اعظم سواتی سمیت دیگر کی رپورٹ عدالت پیش کردی،رپورٹ میں کہا گیا کہ اسد عمر اور اعظم سواتی پی ٹی آئی لیڈر شپ نومئی کے واقعات میں شامل تھے ، انہوں نے کارکنوں کو نو مئی کے لیے اکسایا ،عدالت نے اسد عمر ،فواد چوہدری ،اعظم سواتی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا عدالت نے شامل تفتیش نہ ہونے والے ملزمان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا

    عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 14 جنوری تک توسیع کردی،جج اے ٹی سی نے کہا کہ بار بار حاضری معافی کی درخواستیں آجاتی ہیں آئندہ قابل قبول نہیں ہوگی اب ضمانتوں پر فیصلہ کرنا ہے مزید وقت نہیں ملے گا .

    عمران خان کی بہنوں نے کارکنان کو اکسایا،عدالت کے استفسار پر تفتیشی کا جواب
    دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان روسٹرم پر آ گئیں اور کہا کہ ڈیرھ سال سے عدالتوں میں آرہے ہیں ادھر ججز تبدیل ہوتے رہے، ہم عدالتوں میں آرہے ہیں مگر ضمانتیں کنفرم نہیں ہوئیں، پہلے تو تفتیش افسران پیش نہیں ہورہے تھے ،آپ ہمیں بتا دیں کیا وجہ ہے کیوں ضمانتیں کنفرم نہیں ہورہی، جج اے ٹی سی نے کہا کہ میں جب ٹرانسفر ہوکر ادھر آیا تو پی ٹی آئی کی 3 سو سے زائد ضمانتیں تھیں ، اب وہ ضمانتوں کی تعداد 170 رہ گئیں ہے بہت سے لوگوں بے گناہ ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں،علیمہ خان نے کہا کہ اگر تفتیش مکمل نہیں کررہے تو پولیس والوں کو سزا دیں، جس پر جج نے کہا کہ میں آخری موقع دے رہا ہوں پولیس آئندہ اپنی تفتیش مکمل کرے آئندہ اس ضمانت میں تاریخ نہیں ہوگی ،علیمہ خان نے کہا کہ چار اکتوبر کو ہم جیل میں تھے ان مقدمات میں بھی نامزد کردیا گیا ،ہم ان مقدمات میں کیسے نامزد ہوئیں ،عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ یہ کیسے نامزد ہوئیں ہیں،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے کارکنوں کو اکسایا .

  • سی پیک اتھارٹی ایکٹ کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے،سفارش

    سی پیک اتھارٹی ایکٹ کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے،سفارش

    اسلام آباد: سینیٹر قراۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں آج منعقد ہوا۔

    اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، ذیشان خانزادہ، محمد عبدالقادر، لیاقت خان ترکئی، جمال سیف اللہ خان، وزارت منصوبہ بندی و ترقی اور خصوصی اقدامات کے سیکرٹری، وزارت خزانہ کے سینئر افسران، خیبر پختونخوا کے منصوبہ بندی کے افسران اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے شریک ہوئے۔کمیٹی نے سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے پیش کیے گئے نجی رکن کے بل "چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2022” پر تفصیلی بحث کی۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ اس ترمیم میں سی پیک اتھارٹی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ایک ایک نمائندے کی شمولیت کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت نے پہلے کہا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کو تحلیل کرنے کا منصوبہ وزیر اعظم کو بھیجا گیا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے سیکرٹری نے بتایا کہ اس وقت سی پیک اتھارٹی غیر فعال ہے اور وزیر اعظم نے اس معاملے کو وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کو بھیجنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وزارت نے اس بات کی بھی سفارش کی ہے کہ سی پیک اتھارٹی ایکٹ کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔ کمیٹی نے تفصیلی غور کے بعد بل کی متفقہ طور پر منظوری دی۔

    کمیٹی کے اجلاس میں ایک اور اہم موضوع پر بھی غور کیا گیا، جس میں خیبر پختونخوا میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجراء پر وزارت منصوبہ بندی و ترقی، وزارت خزانہ اور خیبر پختونخوا کے منصوبہ بندی کے محکمے کے سینئر افسران نے بریفنگ دی۔ وزارت منصوبہ بندی کے سیکرٹری نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے لیے 7 منصوبوں پر دو سہ ماہیوں میں 35 فیصد فنڈز کی منظوری دی گئی ہے، تاہم وزارت خزانہ نے بتایا کہ پہلے سہ ماہی میں صرف ایک منصوبے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے، اور دوسرے سہ ماہی میں صرف دو منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔ وزارت خزانہ نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ 2024-25 کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تکمیل کی مدت کے حوالے سے اپ ڈیٹ فراہم کرے کیونکہ ان منصوبوں کی تکمیل کی مدت ختم ہو چکی ہے اور مزید فنڈز جاری نہیں کیے جا سکتے۔ چیئرپرسن نے اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ فنڈز کا استعمال نہ ہونے کی صورت میں عوامی فائدے ضائع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مواصلاتی خلا کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

    کمیٹی نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ خیبر پختونخوا کو ہر سال 100 ارب روپے کا جو فنڈز کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ مکمل طور پر فراہم نہیں کیا جا رہا۔ وزارت منصوبہ بندی کے سیکرٹری نے بتایا کہ اس وعدے میں صوبائی حکومتوں کا حصہ شامل تھا، لیکن ابھی تک صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی تعاون موصول نہیں ہوا۔

    کمیٹی کی جانب سے ان تمام امور پر جلد حل کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں اور عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

  • بلوچستان اور وزیرستان میں موبائل ،انٹرنیٹ سروس خراب،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    بلوچستان اور وزیرستان میں موبائل ،انٹرنیٹ سروس خراب،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    سینیٹر عبد الشکور خان کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی نے اسلام آباد کے سیکٹرز آئی-10/4 اور ایف-11/3 میں واقع گھروں کی گمشدہ فائلوں کا جائزہ لیا۔ سی ڈی اے (کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) نے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے داخلی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور تمام کیسز کی دوبارہ تصدیق کی جا رہی ہے۔ تصدیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آئی-10/4 کے پلاٹ کی الاٹمنٹ جعلی تھی۔ وزارت پارلیمانی امور کے سیکرٹری نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے ابتدائی عدالت کے احکامات کا دوبارہ تجزیہ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی یا نہیں۔ تاہم کمیٹی کے چیئرمین نے سی ڈی اے کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر فائل مخصوص مدت کے اندر بازیاب نہ ہوئی تو اس معاملے کو چیئرمین سینیٹ کے پاس لے جایا جائے گا۔

    اسی طرح، سیکٹر ایف-11/3 میں پلاٹ کی گمشدہ فائل کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ وزارت پارلیمانی امور کے سیکرٹری نے کہا کہ یہ مسئلہ ایوان میں یقین دہانی کے طور پر زیر بحث نہیں آیا تھا اور سینیٹ کمیٹی کے دائرہ کار کے مطابق درست طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اراکین کے ہم آہنگی سے کہا کہ اس کیس کو مناسب چینل کے ذریعے حل کیا جائے۔

    کمیٹی نے 04 اگست 2022 کو سینیٹ کے اجلاس میں وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے ضلع ایبٹ آباد کے علاقے ڈھری میرا میں 4 جی ڈیٹا اور وائس کال سروسز کی غیر موجودگی کے حوالے سے دی گئی یقین دہانی پر بھی غور کیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس معاملے کو اُٹھایا اور مایوسی کا اظہار کیا کہ یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا اور صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ دیگر اراکین نے بھی کہا کہ بلوچستان اور وزیرستان کے علاقے اس سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہیں اور انہوں نے سفارش کی کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں رابطہ کے مسائل کو آئندہ سفارشات میں شامل کیا جائے۔ اس معاملے پر اپ ڈیٹ آئندہ اجلاس میں دوبارہ زیر غور آئے گا۔

    کمیٹی نے 04 جنوری 2022 کو سینیٹ کے اجلاس میں وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کی جانب سے وفاقی حکومت کے پالی کلینک ہسپتال میں ایم آر آئی مشین کی فراہمی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد میں ایم آر آئی مشین کی مرمت کے حوالے سے دی گئی یقین دہانی کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق پمز میں ایم آر آئی مشین ستمبر 2023 سے کام کر رہی ہے۔ پالی کلینک ہسپتال کے لیے ایم آر آئی مشین کی تنصیب فروری 2025 میں متوقع ہے، جیسا کہ جاپان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا ہے۔ یہ مشین پہلے ہی ہسپتال پہنچ چکی ہے، لیکن ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر جاپان حکومت نے تنصیب میں تاخیر کی ہے، اور اب تنصیب فروری 2025 میں متوقع ہے۔

    مزید برآں، کمیٹی نے جوبلی انشورنس کی جانب سے بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے ملازمین کے لیے فراہم کردہ پیچیدہ اور مشکل دعووں کے عمل پر بھی بات کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے رپورٹ کیا کہ 5706 کیسز میں سے 5693 کیسز منظور ہو چکے ہیں، صرف 13 کیسز باقی ہیں، جنہیں 10 کام کے دنوں کے اندر حل کر لیا جائے گا۔اسی طرح، سی ڈی اے کی جانب سے قائداعظم یونیورسٹی کی زمین پر بنائی گئی سڑک کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس سڑک کے عوض معاوضہ کی زمین اب مختص کر دی گئی ہے۔

    اجلاس میں سینیٹرز گردیپ سنگھ، کامران مرتضیٰ، دوست محمد خان، کمیل علی آغا، حاجی حیات اللہ خان، وزارت پارلیمانی امور کے سیکرٹری، وزارت پارلیمانی امور کے اضافی سیکرٹری، وزارت داخلہ کے خصوصی سیکرٹری، وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کے خصوصی سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

  • جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانافضل لرحمان صاحب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو مدارس رجسٹریشن بل پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔وزیر اعظم نے بل پر تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت متفقہ بل کو متنازع بنانے سے گریز کرے ۔ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور مدارس کی آزادی اور حریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

    دوسری جانب جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان نے مدارس رجسٹریش بل کو مسترد کرکے، طبل جنگ، بجا دیا۔ بل کو مسترد کرنا پارلیمنٹ جمہوریت اور آئین کے چہرے پر زوردار طمانچہ ہے۔ کیا اسی کو، جمہوریت زبردست انتقام ہے، کہاجاتاہے؟ کیا صدر پاکستان مسلم لیگی حکومت کےلئے مشکلات پیدا کررہاہے ؟مدارس بل مسترد کرکے والد نے بیٹے کو بھی لال جھنڈادکھا دیا ،بل مسترد کرنے کا ذمہ دار صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ شہباز شریف اور بلاول بھی ذمہ دارہے ۔محسوس ہورہا ہے کہ صدر کے ہاتھوں بنایا ہوا وزیراعظم کو،، آوٹ،، اور،،بیٹے،،کو،،ان،، کیا جارہاہے

    علاوہ ازیں جے یو آئی رہنما عبدالغفورحیدری کا کہنا ہے کہ اگر 8 دسمبر تک دینی مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط نہیں ہوا تو ہوسکتا ہے کہ ہم اسلام آباد کا رُخ کریں گے،یہ بل سب کی طرف سے ہے، جے یو آئی ،یا وفاق المدارس کا نہیں بلکہ سب کی طرف سے ہے،ایسے میں نہیں سمجھتا کہ دانستہ طور پر کوئی ملک کے حالات خراب کرے.

  • لاہور اور ملتان میں  مارکیٹوں،  ہوٹلز کے اوقات پر عائد پابندی ختم

    لاہور اور ملتان میں مارکیٹوں، ہوٹلز کے اوقات پر عائد پابندی ختم

    پنجاب کے دو بڑے شہر لاہور اور ملتان میں دکانوں، مارکیٹوں، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورانٹس، اور فوڈ آؤٹ لیٹس کے اوقات کار پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ حالیہ ایئر کوالٹی انڈیکس میں بہتری کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    محکمہ ماحولیات پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے اس حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس میں کہا گیا کہ دکانیں، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورانٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس اب اپنے معمول کے اوقات میں کھلے رہیں گے اور ان پر اوقات کار کی کوئی پابندی عائد نہیں ہو گی۔ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایئر کوالٹی انڈیکس میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کی وجہ سے اس پابندی کو واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں اور معیشت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

    نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کا فوری اطلاق ہو گا اور اس بارے میں تمام متعلقہ محکموں کو آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔پابندی کے خاتمے سے لاہور اور ملتان میں کاروباری سرگرمیاں دوبارہ معمول کے مطابق جاری رہیں گی، اور شہریوں کو اپنی روزمرہ کی خریداری اور دیگر ضروریات کے لیے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا۔

    یہ فیصلہ شہریوں کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ سموگ کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کے بعد اب ایئر کوالٹی کی بہتری کے ساتھ ساتھ کاروباری ماحول بھی بہتر ہو رہا ہے۔

  • سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ،  خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ، خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور اپنے اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے، پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ نے خواتین کے لیے ایک تاریخی اقدام کے طور پر "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں کے شعبے میں برابری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

    آج سے اس ٹورنامنٹ کا آغاز لیاری کے انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں ہوا، جہاں سندھ کے مختلف اضلاع سے 320 خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل 16 ٹیمیں اس مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، جس کا مقصد خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو فروغ دینا اور انہیں ایک بہتر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود اس اہم موقع پر لیاری فٹ بال گراونڈ پہنچے اور سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے حوالے سے پیپلز پارٹی ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگ ایسے ہیں جو خواتین کی ترقی کو نہیں دیکھنا چاہتے، مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔ آج، میں یہاں لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں کھڑا ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے صوبے کی خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔”

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ جیسے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی کھیلوں میں شمولیت بڑھے گی، بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا ہو گی۔ یہ ٹورنامنٹ ایک پلیٹ فارم ہے جہاں خواتین اپنے کھیل کے جوہر دکھا سکتی ہیں اور معاشرتی طور پر بھی اپنی حیثیت کو مستحکم کر سکتی ہیں۔”قائداعظم نےکہا تھاجب تک خواتین کاکردار نہ ہوکوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ،کچھ لوگ خواتین کو پیچھے کھینچنا چاہتے ہیں، ترقی نہیں کرنے دیتے، ایسی سوچ کے لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں، ہمارے ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں، ان کے لئے سمجھتا ہوں سب سے بہترین جواب یہ خواتین ہیں جو آج گراؤنڈ میں موجود ہیں،بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے فٹ بال گراؤنڈ میں آج موجود ہیں جو حکومت سندھ نے کراچی کی عوام کے لئے منصوبہ شروع کیا، میں فخر کرتا ہوں صوبہ بھر کے نوجوان خاص طور کر صوبہ بھر سے خواتین وہ یہاں کھیلوں کے لئے موجود ہیں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے،خواتین کو برابری کا کردار ملنا چاہئے، شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کے لئے بہت کام کیا اور کہا تھا کہ پاکستانی خواتین جو کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے محنت میں، جدوجہد میں، قربانیوں میں اور شہادت قبول کرنے میں لیاری والے سب سے آگے ہیں۔میں اپنے نوجوانوں کو کھیلتے ہوئے، پڑھتے ہوئے اور روزگار حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

    سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ کا افتتاح،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال گراؤنڈلیاری کے عوام کیلئے تحفہ ہے،سندھ کےہرضلع میں یوتھ سینٹربنائے گئے ہیں

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ میں سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان ٹیموں کے درمیان دو گروپوں میں مقابلے ہوں گے، اور ہر گروپ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، بلکہ ان کے لیے ایک قومی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بھی موقع ہے۔

    یہ ٹورنامنٹ پیپلز پارٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو کھیلوں سمیت تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ سندھ حکومت نے ہمیشہ کھیلوں کے شعبے میں خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے ترقی کے راستے کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے ذریعے سندھ کی خواتین کھلاڑیوں کو نہ صرف کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، بلکہ ان کی سماجی اور معاشی حالت میں بھی بہتری آئے گی۔

    اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے بعد، یہ امید کی جا رہی ہے کہ سندھ سمیت پورے پاکستان میں خواتین کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، جو نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کا باعث بنیں گے بلکہ پورے ملک کی کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اس اقدام کی مدد سے پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور قدم اٹھایا ہے تاکہ وہ خواتین کی ترقی اور انہیں ہر میدان میں برابری کے حقوق فراہم کر سکے۔