Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا اسمبلی نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ منظور کر لیا

    پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ کو منظور کر لیا ہے۔ اس بل کو خیبر پختونخوا کی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، مینا خان نے ایوان میں پیش کیا، جسے تمام ارکان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024 کے تحت، صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس ہوگی۔ اس سے قبل مختلف یونیورسٹیوں کے چانسلر مختلف افراد تھے لیکن اب یہ اختیار وزیراعلیٰ کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے۔ وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا۔ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے، وزیراعلیٰ کو اکیڈیمک سرچ کمیٹی سے تین نام موصول ہوں گے، جن میں سے کسی ایک کو وائس چانسلر مقرر کیا جائے گا۔

    نئے ترمیمی بل کے مطابق وائس چانسلر کی مدت ملازمت کو چار سال تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس مدت کا جائزہ حکومت کی تشکیل کردہ مانیٹرنگ کمیٹی لے گی، جو وائس چانسلر کی کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ کرے گی۔ اگر کسی وائس چانسلر کی کارکردگی 65 فیصد سے کم ہو تو ان کی مدت ملازمت ختم کی جا سکتی ہے۔اس بل کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ خواتین یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کے عہدے کے لیے صرف خواتین ہی اہل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی تعلیم اور قیادت کو فروغ دینا ہے۔

    اس ترمیمی بل کو منظور کر کے صوبے میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں شفافیت آئے گی بلکہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی توقع ہے۔ خواتین کی قیادت کے حوالے سے یہ بل ایک تاریخی قدم ہے، جو نہ صرف تعلیم کے شعبے میں خواتین کی موجودگی کو بڑھائے گا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے گا۔خیبر پختونخوا حکومت نے اس بل کے ذریعے تعلیمی اداروں میں اصلاحات لانے کی عزم کو مزید مستحکم کیا ہے اور اسے صوبے کی تعلیمی ترقی میں سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سی ایم فری سولر پینل سکیم لانچ ، ایس ایم ایس او رپورٹل پر رجسٹریشن شروع

    سی ایم فری سولر پینل سکیم لانچ ، ایس ایم ایس او رپورٹل پر رجسٹریشن شروع

    پنجاب میں ایک لاکھ صارفین کے لئے سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم کی لانچنگ کر دی گئی-

    وزیراعلی مریم نوازشریف نے سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم کا باقاعدہ افتتاح کردیا-پنجاب کے صارفین آج سے ہی ایس ایم ایس یاآن لائن پورٹل پر گھر بیٹھے اپلائی کرسکتے ہیں -وزیراعلی مریم نوازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ فری سولر پینل سکیم کا مقصد عوام کو مہنگی بجلی سے مستقل ریلیف ہے-فی یونٹ 14روپے سبسڈی سے پنجاب کے 73لاکھ صارفین مستفید ہوئے-عوام کے وسائل عوام کی سہولت اور ریلیف کے لئے ہی خرچ ہوں گے-صوبائی سیکرٹری انرجی نے سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایاکہ سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم کے تحت سال بھر میں ایک لاکھ سولر سسٹم لگائے جائیں گے -صوبہ میں ماہانہ 200 یونٹ تک صرف کرنے والے صارفین کو سولر سسٹم مفت دیا جائے گا-100یونٹ ماہانہ صرف کرنے والے صارفین کو 550واٹ کا مفت سولر سسٹم دیاجائے گا- 200یونٹ تک ماہانہ بجلی صرف کرنے والے صارفین کو 1100واٹ کا سولر سسٹم مفت دیاجائے گا -بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سی ایم فری سولر پینل سکیم کی رجسٹریشن کیلئے پورٹل ”cmsolarscheme.punjab.gov.pk“ پر آن لائن اپلائی کیا جا سکتا ہے- پنجاب کے صارفین فری سولر پینل سکیم کے لئے 8800پرایس ایم ایس بھیج کر بھی رجسٹریشن کراسکتے ہیں – صارفین کے ماہانہ بل پر درج ریفرنس نمبر اور سی این آئی سی نمبر سے ویری فکیشن کی جائے گی -سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی جائے گی-

    فری سولر پینل حاصل کرنے والے صارفین کی معاونت او ررہنمائی کے لئے ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی -سولر پینل اور انورٹر کو چوری سے بچانے کے لئے صارف کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا-پنجاب میں ایک لاکھ سولر سسٹم انسٹال کرنے سے 57ہزار ٹن کاربن کااخراج کم ہوگا -فری سولرپینل سکیم سے وفاقی حکومت پر بھی سبسڈی کا بوجھ کم ہوگا-

    چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    اقلیتی برادری کے لیے سولر پینلز کی تقسیم: وفاقی حکومت کا اہم اقدام

    ے سندھ کی عوام کو مفت سولر پینل کی فراہمی کے حوالہ سے خوشخبری

    200 یونٹ تک استعمال کرنے والے عوام 14 اگست سے مفت سولر پینل حاصل کر سکیں گے

    500یونٹ تک خرچ کرنے والے 45لاکھ صارفین کے لئے سولر سسٹم لا رہے ہیں

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی

    ایک طویل عرصے تک پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدہ تعلقات میں اب خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے

    5 اگست کو بھارتی کٹھ پتلی حسینہ واجد کی حکومت کا عوامی انقلاب سے خاتمہ اور عبوری حکومت کا قیام بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے،پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اوربراہ راست ہوائی سفر طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا،اب بنگلہ ڈیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر ایس ایم محبوب عالم نے اعلان کیا ہے کہ ” دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں شروع ہوں گی، جس سے تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا” ”حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرس اینڈ سمال انڈسٹری کے تعاون سے دونوں ممالک کے درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے نمائش منعقد کی جائے گی”

    ایس ایم محبوب عالم نے پاکستان کی کاروباری برادری کو جنوری 2025 میں ڈھاکہ میں ہونے والی تجارتی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے،اور کہا کہ ”بنگلہ دیش 80 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے”

    حیدرآباد چیمبر کے صدر محمد سلیم میمن نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تجارتی تعلقات میں اہم پیشرفت پر روشنی ڈالی،اس موقع پر حیدر آباد چیمبر کے صدر نے 11 نومبر کو پاکستان سے بنگلہ دیش کیلئے پہلی براہ راست کارگو کا بھی ذکر کیا،حیدرآباد چیمبر کے صدرنے بنگلہ دیشی تاجروں کو پاکستان میں نمائشوں میں شرکت کی ترغیب دی اور کہا کہ ”پاکستانی تاجروں کو بنگلہ دیش میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیاجائے”محمد سلیم میمن نے ڈھاکہ میں پاکستانی مصنوعات کے برآمد کنندگان کو درپیش کسٹم کلیئرنس کے مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ”پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی بہتری سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھے گا””پاکستان سے براہ بنگلہ دیش کی پروازوں سے دونوں ممالک کی تاجر برادری فائدہ اٹھا کر کاروبار کو وسعت دی سکتی ہے”

  • کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری،امریکہ جانیوالی خاتون کو چھ برس کی سزا

    کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری،امریکہ جانیوالی خاتون کو چھ برس کی سزا

    جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر امریکہ جانے والی ملزمہ پریانکا دیوی سمیت 4 افراد کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ کو مجموعی طور پر 6 سال قید اور 45 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے دیگر تین شریک ملزمان، مریم عادل، امان اور راشد کو 2، 2 سال قید اور ہر ایک پر 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔

    عدالت نے اس مقدمے میں ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ کہا کہ جعلی ڈگریاں اور تعلیمی اسناد نہ صرف معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں بلکہ یہ تعلیمی اداروں اور ڈگری ہولڈرز کی عزت و وقار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے اعتماد کو بچایا جا سکے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزمہ پریانکا دیوی کے خلاف امریکی قونصلیٹ کی شکایت پر انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا۔ ملزمہ نے پڑھائی کے لیے امریکہ جانے کی غرض سے کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری استعمال کی تھی، جس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا۔پریانکا دیوی کو جعلی ڈگری حاصل کرنے کی ترغیب ایجوکیشنل کنسلٹنٹ مریم عادل نے دی تھی، اور ملزم امان نے اس جعلی ڈگری کو حاصل کرنے میں اس کی مدد کی تھی۔ راشد اس سازش میں ان کے ساتھ شامل تھا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ان تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب امریکی قونصلیٹ نے پریانکا دیوی کی جانب سے جعلی تعلیمی اسناد جمع کرانے پر ایف آئی اے کو اطلاع دی۔ ایف آئی اے نے اپنی تفتیش میں ملزمان کی گرفتاری کے بعد اس بات کا انکشاف کیا کہ یہ گروہ جعلی تعلیمی اسناد فراہم کرنے میں ملوث تھا، اور اس کے ذریعے مختلف افراد کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا ویزا حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات فراہم کی جاتی تھیں۔

    اس فیصلے کے بعد نہ صرف ان ملزمان کو سزا ملی بلکہ یہ معاشرتی سطح پر بھی ایک پیغام دینے والا قدم ہے کہ جعلی ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کیس کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ تعلیمی ادارے اور حکومتی ادارے ایسی جعلسازیوں کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کریں گے تاکہ تعلیمی نظام کی ساکھ قائم رکھی جا سکے۔

  • شادیوں کا شوقین،9 برسوں میں 20 شادیاں کرنیوالا گرفتار

    شادیوں کا شوقین،9 برسوں میں 20 شادیاں کرنیوالا گرفتار

    مہاراشٹر کی پولیس نے ایک 43 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے، جو خواتین کو شادی کے جھانسے میں مبتلا کرکے ان سے پیسے اور قیمتی سامان لوٹ لیتا تھا۔ ملزم کی شناخت فیروز نیاز شیخ کے طور پر ہوئی ہے، جو 2015 سے اب تک مختلف ریاستوں میں 20 سے زائد خواتین کو اپنا شکار بنا چکا تھا۔

    پالگھر ضلع کی پولیس کے مطابق، فیروز نیاز شیخ کا شوق شادیاں کرنا تھا، لیکن اس کی اولین ترجیح طلاق شدہ اور بیوہ خواتین تھیں۔ شیخ نے اپنی عمر 43 سال ہونے کے باوجود خود کو کبھی کنوارہ اور کبھی طلاق یافتہ ظاہر کرکے خواتین کو اپنی جال میں پھنسایا۔ اس نے میٹرومنئیل ویب سائٹس پر اشتہارات دئیے اور اس کے ذریعے خواتین سے ابتدائی رابطہ قائم کیا۔ بعد ازاں، وہ ان سے مسلسل رابطے میں رہتا اور انہیں اپنے جھانسے میں مبتلا کر لیتا۔پولیس کے مطابق، متاثرہ خواتین نے بتایا کہ فیروز کی باتوں میں ایسا سحر تھا کہ کوئی بھی خاتون اس سے بچ نہیں سکتی تھی۔ ایک مرتبہ جب وہ کسی خاتون سے بات کرتا تو وہ اس کے جال میں پھنس جاتی اور اپنا سب کچھ لٹا دیتی تھی۔ ملزم شادی کے بعد اپنی ذاتی مشکلات اور مالی پریشانیوں کا رونا روتا اور خواتین سے پیسے، زیورات اور قیمتی سامان لے لیتا تھا۔

    پولیس نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری نالا سوپارہ کی ایک خاتون کی شکایت کے بعد عمل میں آئی۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ شیخ نے ویب سائٹ پر دوستی کے بعد اسے شادی کی پیشکش کی، اور کچھ دن تک سب کچھ ٹھیک رہا۔ بعد ازاں، شیخ نے اس سے نقدی، ایک لیپ ٹاپ، اور دیگر قیمتی سامان لے لیا۔ اکتوبر اور نومبر میں اس خاتون سے مزید 6.5 لاکھ روپے لے لیے گئے۔ جب خاتون نے پولیس میں شکایت درج کرائی تو تفتیش کے دوران ملزم سے ایک لیپ ٹاپ، موبائل فون، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز، چیک بک اور کچھ زیورات برآمد ہوئے۔

    پولیس کے سینئر انسپکٹر وجے سنگھ بھاگل کے مطابق، تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ فیروز نیاز شیخ نے طلاق یافتہ اور بیواؤں کو نشانہ بنایا اور ان سے شادی کے بعد ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا۔ اس نے مہاراشٹر کے علاوہ مدھیہ پردیش، اتر پردیش، دہلی اور گجرات سمیت ملک کے مختلف حصوں میں خواتین کو دھوکہ دیا۔پالگھر پولیس نے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فیروز نیاز شیخ کی مزید وارداتوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کے دیگر متاثرین کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس کے جرائم کا مکمل سراغ لگایا جا سکے۔

    پولیس نے خواتین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص سے ملاقات کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرلیں اور کسی بھی غیر ضروری تعلقات میں نہ پھنسیں۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی پر وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیا گیا، جس میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث عوام کو درپیش مشکلات اور اس کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل شامل تھے، جنہوں نے اس درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس کا اثر ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) پر بھی پڑ رہا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اکثر احتجاج یا کسی سیاسی معاملے کے دوران حکومت انٹرنیٹ سروس کو جان بوجھ کر سست کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست روی کو تسلیم کرتی ہے اور بعض اوقات ایسے اقدامات کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کی اس سست رفتاری سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس پر جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ "آپ کا مطلب ہے کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست رفتاری کو تسلیم نہیں کر رہی؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ "جی ہاں، حکومت اکثر اوقات انٹرنیٹ سروس کو مخصوص حالات میں سست کرتی ہے، اور یہ پہلے سے عوام کو بتایا بھی جاتا ہے۔”

    عدالت نے اس معاملے کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آئندہ سماعت تک انٹرنیٹ کی سست رفتار کے حوالے سے جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس اہم مسئلے پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت کا وقت مقرر کردیا۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہو گئی ہیں

    عدالتیں طلب کر رہی ہیں لیکن بشریٰ بی بی عدالت میں پیش نہیں ہو رہی، بشریٰ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں ، آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئین، تا ہم دوسری جانب ڈی چوک سے فرار ہونے کے بعد بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہو چکی ہیں، بشری بی بی نے چارسدہ کا مختصر دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مرنیوالے دو افراد کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کی قربانیوں کو سراہا۔ بشری بی بی نے پی ٹی آئی کارکنوں کی جرات و قربانیوں کو حراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    بشریٰ بی بی نے خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے جان بحق ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے کا امدادی چیک بھی دیا۔ اس موقع پر بشری بی بی نے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ جاں بحق کارکن تاج الدین کے نام سے ایک گرلز ہائی سکول قائم کریں گی، تاکہ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے۔ اس دورے میں بشری بی بی نے چارسدہ کے کارکنوں کے حوصلے کو سراہا اور ان کے عزم کو مستحکم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے مشن میں بھرپور حمایت کا عہد کیا۔

    میں بھاگنے والی عورت نہیں، مجھے اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا، بشریٰ بی بی
    اس موقع پر کارکنان سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں بھاگنے والی عورت نہیں، مجھے ڈی چوک میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا، سمجھ نہیں آرہا تھا لوگ جھوٹ کیوں بول رہے تھے، ڈی چوک پر رات ساڑھے 12 بجے میں اپنی گاڑی میں اکیلی تھی،اسکے بعد بہت سی گاڑیاں آئیں کسی کو نہیں پتہ تھا کہ میری گاڑی کون سی ہے، وہ ڈی چوک زبردستی خالی کرا رہے تھےعمران خان کے لیے نکلنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی، میں وہاں سے نہیں ہٹی تھی کیونکہ خان نے ہٹنے کا نہیں کہا تھا، میں نے سب کو کہا تھا مجھے اکیلا نہیں چھوڑنا،لیکن سب نے مجھے اکیلے چھوڑ دیا تھا، بی بی وہاں اکیلی تھی، اور سب لوگ چھوڑ کر جا چکے تھے، بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ہیں، جو زبردستی علاقہ خالی کروا رہے تھے وہ بھی گواہ ہیں، میں نہیں جا رہی تھی میری گاڑی پر فائرنگ کی گئی، پٹھان غیرت مند ہیں، خان کے نام پر جو شہید ہوئے ہیں، خان نے کہا تھاان کے پاس لازمی جانا ہے

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پی ٹی آئی سابق رہنما جاوید بدر کا نواز شریف کو خط،الزام تراشیوں پر مانگی معافی

    پی ٹی آئی سابق رہنما جاوید بدر کا نواز شریف کو خط،الزام تراشیوں پر مانگی معافی

    تحریک انصاف کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر پنجاب جاوید بدر نے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے نام کھلا خط لکھ کر ماضی میں کی گئی الزام تراشیوں پر معافی مانگ لی ہے

    تحریک انصاف کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر پنجاب، جاوید بدر نے مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نام ایک کھلا خط لکھ کر ماضی میں کی جانے والی الزام تراشیوں اور سیاسی حملوں پر معافی مانگ لی۔ انہوں نے اس خط میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور نواز شریف سے امید ظاہر کی کہ وہ انہیں معاف کر دیں گے۔جاوید بدر نے اپنے خط میں کہا، "میں نواز شریف سے اپنی تمام گستاخیوں اور الزام تراشیوں پر معافی مانگتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری ان غلطیوں کو جہالت اور نادانی سمجھ کر معاف کر دیں گے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ معافی کسی سیاسی دباؤ یا لالچ کے تحت نہیں بلکہ صرف آخرت کے خوف اور ضمیر کی آواز پر لکھا گیا ہے۔ جاوید بدر نے اعتراف کیا کہ وہ اور ان کے ہم خیال افراد نے ماضی میں پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مل کر قوم کے نوجوانوں کی غلط سیاسی تربیت کی اور اس تربیت کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تربیت کا اثر نہ صرف نوجوانوں پر پڑا، بلکہ ان کے والدین اور پورے ملک پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔جاوید بدر نے خط میں مزید کہا، "نواز شریف پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، انہیں جیل میں ڈالا گیا، لیکن اللہ تعالیٰ کا انصاف برحق ثابت ہوا اور نواز شریف کو دوبارہ عزت اور مقام حاصل ہوا۔”

    انہوں نے سیاسی اعتبار سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں پاکستان میں سیاسی زہر پھیلایا گیا اور نوجوانوں کے ذہنوں میں انتشار کا بیج بویا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جب عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا اور بشریٰ بی بی کو کرپشن کی کھلی اجازت دی، تو وہ اس وقت پارٹی سے الگ ہو گئے۔

    جاوید بدر نے اپنی خط میں پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "پی ٹی آئی حکومت نے خزانہ خالی کیا، بین الاقوامی تعلقات خراب کیے اور فوج کے خلاف شرانگیز مہم چلائی۔” انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ نواز شریف اور ان کی ٹیم نے ملک میں استحکام پیدا کیا اور ان کی حکومت کو اس بات کا خراج تحسین پیش کیا۔

    جاوید بدر نے اپنے خط کے اختتام میں کہا کہ اگر کبھی نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو وہ ان کے سامنے اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کریں گے۔

    یہ کھلا خط ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ایک سابق پی ٹی آئی رہنما نے نہ صرف اپنی جماعت بلکہ ماضی کے سیاسی حلیفوں کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے اور ان سے تائب ہونے کا اظہار کیا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،بشریٰ‌پھر پیش نہ ہوئیں،وارنٹ گرفتاری برقرار

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،بشریٰ‌پھر پیش نہ ہوئیں،وارنٹ گرفتاری برقرار

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت ہوئی،

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ، بشری بی بی دوران سماعت عدالت میں پیش نہ ہوئیں ،نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آئندہ سماعت پر بشرا بی بی پیش ہوں گی اور 342 کے سوال نامہ کے جواب بھی ریکارڈ کروائے جائیں گے۔ وکیل عثمان گل نے کہاکہ بشری بی بی کے پلیڈر جیل کے باہر موجود ہیں انھیں عدالت آنے کی اجازت دی جائے ۔ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ بشری بی بی عدالت میں موجود ہوں گی تو ہی پلیڈر کی حاضری مارک ہو سکتی ہے ۔پانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو 342 کے سوال نامے کے جواب کے لیے 12 مواقع دیے جا چکے ہیں،10 سماعتوں سے بانی پی ٹی آئی کے کونسل عدالت میں موجود نہیں جبکہ چھ سماعتوں سے بشری بی بی کے کونسل موجود نہیں تھے ،عدالت نے بشری بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے کیس کی سماعت نو دسمبر تک ملتوی کر دی

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • پنجاب یونیورسٹی،طالب علم کا قتل،مقدمہ درج

    پنجاب یونیورسٹی،طالب علم کا قتل،مقدمہ درج

    : پنجاب یونیورسٹی میں طابعلم کو گولی لگنے سے جاں بحق ہونے کا معاملہ،واقعے کا مقدمہ مقتول کے والد کی مدعیت میں تھانہ مسلم ٹاؤن میں درج کرلیا گیا ہے

    مقدمے میں 2 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے،ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی ہیں،درج مقدمے کے مطابق رانا اختر جاوید ولد فضل مدعی ہیں،مدعی مقدمہ نے کہا کہ سائل محنت مزدوری کرتا ہے میر ابٹیا رانا عمار بعمر 22 سال جو کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں جینڈر سٹیڈی کا طالب علم تھا مجھے امروز اطلاع ملی کہ آپ کا بیٹا ذریعہ فائرنگ مضروب ہو کر شیخ زید ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے جب اس اطلاع پر میں شیخ زید ہسپتال پہنچاتو وہاں پر رانا محمد مصدق ولد محمد ارشاد اور شعیب ولد رانا ارشاد علی موجود تھے اور میرا بیٹاز خموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو چکا تھا مصدق اور شعیب نے مجھے بتلایا کہ رانا عمار ملزم حذیفہ عبد اللہ ولد غلام مصطفی اور دلاور حسن ولد ثنا اللہ جنڈر سٹیڈی طالب علم ہنڈا سٹی برنگ سفید 18/4592-LED پر قریب 12/45 بجیدن مورخہ 5/12/24 نزد جمنیزیم PC ڈھا بہ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور پہنچے جبکہ ہم وہاں پر کھانا کھا رہے تھے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے حذیفہ اور دلاور حسن نے رانا عمار پر فائرنگ شروع کر دی حذیفہ نے فائرنگ کی جس سے رانا عمار کو دو فائر کمر پر لگے، دلاور حسن کا فائر رانا عمار کے پٹ اور پیٹ پر لگا ،عمار شدید مضروب ہو گیا تو دونوں ملزمان رانا عمار مضروب سمیت کار کو بھگا کر لے گئے بعد میں معلوم ہوا کہ را نا عمار زخمی حالت میں شیخ زید ہسپتال میں داخل ہے جو ہم دونوں شیخ زید ہسپتال پہنچے تو دوران علاج معالجہ زخموں کو تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا یہ وقوعہ مسمیان مصدق اور شعیب نے بچشم خود دیکھا ہے وجہ عناد یہ ہے کہ چند یوم قبل رانا عمار کی ان دونوں ملزمان سے توں تکرار اور لڑائی ہوئی تھی جس کا ذکر رانا عمار نے ہمارے ساتھ بھی کیا تھا جو اسی رنجش کی بنیاد پر ان دونوں ملزمان نے ہم مشورہ ہو کر فائرنگ کر کے میرے بیٹے کو ناحق قتل کر کے سخت زیادتی کی ہے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جاوے

    قبل ازیں اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب کے رہنما انعام الرحمان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی حدود میں پیش آنے والے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں،،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناظمِ جامعہ کا کہنا تھا کہ
    پنجاب یونیورسٹی کا سیکورٹی سسٹم فیل ہو چکا ہے ، یہاں کسی کی جان محفوظ نہیں ، یونیورسٹی میں اسلحہ کیسے آیا ، یہ بڑا سوالیہ نشان ہے ؟ یونیورسٹی انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، ہمارا مطالبہ یہ اب تک اسکی تحقیقات کیوں نہ ہو سکیں ، پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ واقعے کو ماننے سے انکاری ہے ، کبھی کہتے واقعہ ہوا ہی نہیں ، کبھی کہتے ہیں ، واقعہ 3 بجے ہوا ، اگر وقعہ یونیورسٹی کی حدود میں نہی ہوا تو سیدھی بات سی سی ٹی وئی فوٹیج پبلک کی جائے ، اور واقعہ باہر ہی ہوا تو مقتول کے ساتھی کو تحویل میں لینے اور سب سے چُھپانے کی وجہ ؟ یہ 1 ماہ کے اندر دوسرا واقعہ ہے ، اس سے پہلے سوشیلاجی ڈیپارٹمنٹ کے باہر بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آ چکا جس میں فائرنگ کرنے والے کا تعلق بھی جامعہ سے نہی تھا ، جسے طلبہ نے پسٹل سمیت پکڑ کے سکیورٹی کے حوالے کیا تھا ۔ ہمارا مطالبہ ہے چیف سیکورٹی افیسر کو فی الفور ہٹایا جائے