Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جو مرشد ہیں، وہی بانی پی ٹی آئی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں،فیصل واوڈا

    جو مرشد ہیں، وہی بانی پی ٹی آئی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں،فیصل واوڈا

    سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر فیصل واوڈا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے ہیں

    نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ جب بشریٰ بی بی عمران خان کی زندگی میں آئیں، تو اس کے بعد عمران خان کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔بشریٰ بی بی کے اثر و رسوخ کے بعد عمران خان "گھڑی چور، مار دھاڑ پر یقین کرنے والے اور اداروں کے خلاف” ہوگئے۔ ایک "7 عورتوں کا گینگ” عمران خان کی سیاست کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، "جو مرشد ہیں، وہی بانی پی ٹی آئی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ لوگ جو "ڈیل کے تحت باہر آئے ہیں، وہ جب ڈیل سے باہر جائیں گے، تو پھر حراست میں بھی جائیں گے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھرنے کے دوران سب سے پہلے بشریٰ بی بی اور گنڈاپور بھاگے تھے۔ فیصل واوڈا کے مطابق بشریٰ بی بی "جان دینے کو تیار تھیں مگر فوٹیج میں یہ دکھایا گیا کہ وہ ٹہلتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ رہی تھیں۔”

    اس کے علاوہ فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر بشریٰ بی بی عمران خان سے ملاقات کر کے "دم درود والا پانی پلائیں یا دہی کھلا دیں”، تو ریاست ان کی زندگی کی حفاظت کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر عمران خان کو بچانا ہے، تو یہی راستہ ہے کہ ان کی کسی سے ملاقات نہیں کرائی جائے۔”

    فیصل واوڈا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگنے کے امکانات ہیں اور جلد ہی پی ٹی آئی سے مخلص لوگ نئی جماعت "پی ٹی آئی پاکستان” بنا کر سیاست میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کے موجودہ بحران کے بعد یہ نئی جماعت ملک کی سیاست میں اہم مقام حاصل کرے گی۔

  • پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پروازوں سے پابندی اٹھائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزارت ہوا بازی، سی اے اے حکام اور پی آئی اے انتظامیہ کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی اور اسے مالی طور پر بھی فائدہ ہوگا، یہ پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کا مظہر ہے،یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کیلئے ہوائی سفر میں آسانی پیدا ہوگی۔

    دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد پی آئی اے سب سے پہلے پیرس کیلئے پروازیں چلائے گی،پیرس کیلئے فلائٹ آپریشن چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا،برطانیہ کیلئے پروازوں پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ برطانوی حکام کریں گے، اب برطانوی پابندی کے بھی جلد خاتمہ کی امید ہے

    واضح رہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی اٹھا لی ہے،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم کر دی، ایئر بلیو لمیٹڈ، کو بھی تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت مل گئی،یہ کامیابی وزارتِ ہوا بازی کی مکمل توجہ کے باعث ممکن ہوئی،آج ایک تاریخی دن ہے،وزارت ہوابازی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا،بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے معیار کے مطابق حفاظتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا،

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

  • بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    مشال یوسف زئی وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کے عہدے سے برطرف

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے مشال یوسف زئی کو وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے، اور اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ مشال یوسف زئی کی برطرفی کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں اہم سیاسی دعوے کیے، جس پر حکومت نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔

    مشال یوسف زئی نے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے حوالے سے کچھ انکشافات کیے تھے۔ ان کے مطابق، بشری بی بی کو "بانی” کی طرف سے ڈی چوک جانے کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ اس وقت بشری بی بی کی ترجمانی کر رہی تھیں۔ مشال یوسف زئی کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے پشاور آنے کے بعد نہ تو انہوں نے کسی سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی میٹنگ میں شرکت کی۔مشال یوسف زئی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ڈی چوک سے پشاور تک کے سفر کے دوران انہیں متضاد اطلاعات ملیں، جس سے یہ تاثر ملا کہ ان کی سیاسی حکمت عملی میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ تھی۔ ان کے مطابق، بشری بی بی کی گاڑی کے ونڈ اسکرین پر کسی کیمیکل کے گرنے سے آگے دیکھنا مشکل ہوگیا تھا، جس کے باعث انہوں نے گاڑی تبدیل کی تاکہ ڈی چوک جانے کے سفر میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ تاہم، مشال یوسف زئی نے کہا کہ انہیں مانسہرہ لے آیا گیا، نہ کہ ڈی چوک۔

    مشال اعظم یوسفزئی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ترجمان بھی ہیں اور ڈی چوک آنے کے موقع پر مشال یوسفزئی بشریٰ بی بی کے ہمراہ رہی ہیں، 26 نومبر کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد مظاہرین سے خالی کرایا، آپریشن شروع ہوتے ہی وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئیں تھیں اور کارکن بھی بھاگ نکلے تھے۔

  • بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے بشریٰ بی بی کی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت پر ردعمل دیتے ہوئے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست میں کردار ادا کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ روبینہ خان کے مطابق، بشریٰ بی بی کا سیاسی عمل میں شامل ہونا اور فیصلوں میں حصہ لینا پچھلے کچھ سالوں سے جاری ہے، اور اس کا آغاز پنجاب میں سسٹم چلانے کے عمل سے ہو چکا تھا، جہاں بشریٰ بی بی نے عثمان بزدار اور فرح گوگی کے ذریعے سیاسی معاملات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    روبینہ خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست میں بڑھتا ہوا کردار کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، بلکہ مشال یوسفزئی کو بشریٰ بی بی کی "نئی فرح گوگی” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ جیل میں قید ہونے کے باوجود بشریٰ بی بی نے مشال یوسفزئی کے ذریعے سیاست میں مداخلت کرنا جاری رکھا، اور اس کے ذریعے نہ صرف فیصلے کیے بلکہ حکومتی عہدوں پر تقرریاں بھی کیں۔ بشریٰ بی بی علی امین گنڈاپور کے ساتھ سیاسی اعلانات اور خطابات کرتی رہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں صرف ایک محض عہدے کی حد تک محدود نہیں رہیں، بلکہ وہ اہم فیصلوں میں شریک رہی ہیں۔

    پرانے پاکستان کی گندگی سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔ روبینہ خان
    عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا سیاست میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف اپنے بھائی کو سیاست میں ہونے والے نقصان سے بچانا اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ روبینہ خان نے یہ بھی کہا کہ ان کی بہنوں کا کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ حکومتی عہدوں کے ذریعے مال کمانا چاہتی ہیں۔روبینہ خان نے نیا پاکستان اور پرانے پاکستان کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کہا ہے کہ پرانے پاکستان کی گندگی سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔

    روبینہ خان نے اپنے بیان میں بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، ان کے ذریعے فیصلوں کی منظوری اور تقرریوں کے عمل پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہنوں کا سیاست میں کسی قسم کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور ان کا واحد مقصد اپنے بھائی کی ساکھ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، روبینہ خان نے نیا پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پرانے پاکستان کی گندگی کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روبینہ خان بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر رہی ہیں اور اپنے بھائی کی ساکھ کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی سیاستی سازش یا خلفشار کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    شاور پولیس نے رواں سال کے دوران پیش آنے والے قتل و اقدام قتل کے واقعات کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا جاری کیا ہے، جس کے مطابق اب تک 574 افراد، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، قتل ہو چکے ہیں۔ ان افراد میں 415 مرد، 49 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق، 804 ایسے واقعات بھی مختلف تھانوں میں رپورٹ ہوئے ہیں جن میں اقدام قتل کی کوشش کی گئی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے قتل کے واقعات میں 33 فیصد کمی جبکہ اقدام قتل کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوں کے قتل کے واقعات میں 4 فیصد کمی جبکہ اقدام قتل کے واقعات میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2023 میں قتل کے واقعات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اقدام قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال 618 افراد قتل ہوئے تھے جبکہ اقدام قتل کے 773 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) قاسم علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قتل و اقدام قتل کے بیشتر واقعات جائیداد اور زمینی تنازعات کی وجہ سے پیش آ رہے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قسم کے تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔

    پولیس کے مطابق، قتل اور اقدام قتل کے واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ زمینوں کی ملکیت، جائیداد کے تنازعات اور خاندانی جھگڑے ہیں۔ یہ واقعات بعض اوقات مقامی سطح پر غیر قانونی قبضوں اور لینڈ مافیا کے ساتھ بھی منسلک ہوتے ہیں، جو امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

    سی سی پی او قاسم علی خان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قتل و اقدام قتل کے واقعات میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام پولیس کے ساتھ مل کر ان معاملات کو حل کرنے میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپنے طور پر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس قسم کے جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، مگر اس میں عوام کا تعاون بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پشاور پولیس نے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ایک مہم بھی شروع کی ہے تاکہ وہ جرائم کی روک تھام میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور معاشرتی مسائل کو مل کر حل کیا جا سکے۔

  • پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر  پابندی ختم

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

    پاکستانی ایئر لائنز پر پابندی کا خاتمہ،پی آئی اے اور ایئر بلیو کو تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت مل گئی

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم کر دی، ایئر بلیو لمیٹڈ، کو بھی تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت مل گئی،یہ کامیابی وزارتِ ہوا بازی کی مکمل توجہ کے باعث ممکن ہوئی،آج ایک تاریخی دن ہے،وزارت ہوابازی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا،بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے معیار کے مطابق حفاظتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا،

    پاکستان سے برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں 2020 میں معطل کردی گئی تھیں جب یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ یہ پابندی 2020 میں کراچی میں ایک المناک حادثے کے بعد لگائی گئی تھی جس میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے تھے اور پائلٹ لائسنس اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس سے حفاظتی خدشات پیدا ہوئے تھے۔توقع ہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی سے پی آئی اے کے آپریشنز کو نمایاں فروغ ملے گا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آسان سفر کی سہولت ملے گی،

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

  • آرمی چیف کا نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کا دورہ،مشقوں کا مشاہدہ کیا

    آرمی چیف کا نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کا دورہ،مشقوں کا مشاہدہ کیا

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی کا دورہ کیا

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پبی میں پاک چین مشترکہ مشقوں وارئیر 8 کا مشاہدہ کیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو مشترکہ مشق کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،آرمی چیف نے مشق کے شرکاء سے بات چیت بھی کی ، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو مشق کی تفصیلات، اس کے دائرہ کار اور انعقاد کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مشق کے شرکاء سے بھی بات چیت کی اور ان کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور بلند حوصلے کی تعریف کی جو مشق کے دوران واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔

    پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ فوجی مشق "واریئر-VIII” 19 نومبر 2024 کو شروع ہوئی، جو تین ہفتے تک جاری رہے گی۔ یہ مشق دہشت گردی کے خلاف جنگ کے میدان میں دونوں افواج کی مشترکہ تربیت اور آپریشنز کے حوالے سے ہے۔ "واریئر” سیریز کی یہ آٹھویں مشق ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ہر سال منعقد کی جاتی ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے پہنچنے پر راولپنڈی کور کے کمانڈر نے کیا۔ ان کی موجودگی میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات اور تعاون کا اعادہ کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کی مشترکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

    "واریئر-VIII” مشق کا مقصد دونوں افواج کی مشترکہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جدید حربوں اور تکنیکوں پر عملدرآمد کو فروغ دینا ہے۔ اس مشق میں شریک دونوں ممالک کے فوجیوں کو دہشت گردی کی مختلف صورتوں کا سامنا کرنے کی تربیت دی جارہی ہے اور آپریشنز میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔

    پاکستان اور چین کی مشترکہ تربیتی فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا

    آرمی چیف کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس کا دورہ،انڈس شیلڈ مشقوں کا معائنہ

    پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق دروزبا ہفتم کا آغاز

    پاکستان اور چین کے درمیان اس نوعیت کی مشقیں دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں مزید پختگی کا سبب بن رہی ہیں، اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں

  • انتشار  پھیلانے والوں کیخلاف مؤثر کاروائی کیلئے اجلاس میں بڑے فیصلے

    انتشار پھیلانے والوں کیخلاف مؤثر کاروائی کیلئے اجلاس میں بڑے فیصلے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کی صورتحال پر اعلی سطح اجلاس ہوا

    وزیرِ اعظم نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی اور انکے خلاف مؤثر کاروائی کیلئے وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی. وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور سیکیورٹی فورسز کے نمائندے بھی اس ٹاسک فورس میں شامل ہونگے.ٹاسک فورس یہ یقینی بنائے گی کہ 24 نومبر کو انتشار پھیلانے میں ملوث مسلح افراد اور پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرے گی تاکہ انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے.

    وزیرِ اعظم نے ملک میں آئندہ کسی بھی قسم کے انتشار و فساد کی کوشش کو روکنے کیلئے وفاقی انسداد فسادات (Riots Control) فورس بنانے کا فیصلہ کر لیا،انسداد فسادات فورس کو بین الاقوامی معیار کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سازو سامان سے لیس کیا جائے گا. اجلاس میں وفاقی فورینزک لیب کے قیام کی منظوری دی گئی،وفاقی فورینزک لیب میں ایسے واقعات کی تحقیقات و شواہد اکٹھا کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے گا.

    اسلام آباد سیف سٹی منصوبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں وفاقی پراسیکیوشن سروس کو مضبوط کرنے اور افرادی قوت بڑھانے کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا گیا.

    24 نومبر کی لشکر کشی کو خیبر پختونخوا سمیت تمام پاکستانیوں نے مسترد کر دیا.وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان الحمدللہ استحکام کی جانب گامزن ہے.پاکستان کے استحکام اور ترقی کے دشمنوں کے مزموم مقاصد کامیاب نہیں ہونے دینگے. خیبر پختونخوا بہادر و غیور عوام کا صوبہ ہے. مٹھی بھر انتشاری، پر امن اور غیور پشتونوں کی نمائندگی نہیں کرتے. 24 نومبر کی لشکر کشی کو خیبر پختونخوا سمیت تمام پاکستانیوں نے مسترد کر دیا.پاکستان کے تحفظ اور اسکی معاشی و قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے سب کو مل کر ایسی مزموم کوششوں کو روکنا ہوگا.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز شریف، سینئیر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

    پی ٹی آئی فتنہ،تخریب کاری جتھہ کیخلاف ایف آئی آرز کاٹی جائیں، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں،فتنہ ہے۔ تخریب کار جتھے کا آئینی اور قانونی طریقے سے راستہ روکنا ہے۔ اسلام آباد احتجاج کا مقصد معاشی کامیابیوں کے سفر کو روکنا تھا۔خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کی جانب سے دئیے گئے فنڈز عوامی فلاح کی بجائے انتشاری سرگرمیوں پر استعمال ہوئے۔ ان کا کڑا احتساب ہوناچاہیے۔2014 سے حملوں اور دھرنوں کی روایت ڈالی گئی، 2014 میں شاہ محمود قریشی کو پیغام بھیجا کہ تین دن کے لئے ہٹ جائیں، ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سی پیک کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری موخر ہوئی۔بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے دشمنوں کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔پی ٹی آئی پولیٹیکل پارٹی نہیں ہے یہ ایک فتنہ ہے، تخریب کاری کا ایک جتھہ ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آرز کاٹی جائیں اور ان کی پروسیکیوشن ہو اگر ان کا چہرہ نہیں دکھائیں گے تو یہ وطن کے ساتھ دشمنی ہے

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • بشریٰ عمران خان کیلئے خطرہ،جان چھڑانی ہو گی،فیصل واوڈا

    بشریٰ عمران خان کیلئے خطرہ،جان چھڑانی ہو گی،فیصل واوڈا

    سابق وفاقی وزیر ،پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور موجودہ سینیٹر فیصل واوڈا نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عمران خان کی زندگی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

    ایک حالیہ انٹرویو میں فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی زندگی کو لے کر بہت پریشان ہیں اور ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔عمران خان کی زندگی کو بچانے کے لیے بشریٰ بی بی سے "جان چھڑانی” ہوگی۔ ان کے مطابق، جب تک بشریٰ بی بی عمران خان کے ساتھ ہیں، نہ صرف ان کی سیاست متاثر ہوگی بلکہ ان کی آزادی بھی خطرے میں ہے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کبھی عمران خان کو دہی کھلاتی ہیں، کبھی کچھ اور، اور یہ سب کچھ عمران خان کی سیاست کو کمزور کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ر اگر ان سے چھٹکارا نہ پایا گیا تو عمران خان کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ سینیٹر واوڈا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی موجودگی میں عمران خان نہ تو سیاست میں واپس آ سکیں گے اور نہ ہی وہ اپنے حقوق اور آزادی کے لیے کچھ کر پائیں گے۔

    قبل ازیں فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کے مستقبل سے متعلق بھی ایک دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگنے والی ہے اور جلد ہی پارٹی کے مخلص ارکان "پی ٹی آئی پاکستان” کے نام سے نئی جماعت تشکیل دیں گے۔ اس بیان نے سیاسی حلقوں میں مزید قیاس آرائیاں اور بحث چھیڑ دی ہے۔

    فیصل واوڈا کے اس سخت بیان پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور ان کے حامیوں کی طرف سے کوئی رسمی ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی کے اندرونی اختلافات اور کشیدگی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ الزامات سیاسی منظرنامے میں ایک نیا موڑ لے سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • میرے والد عمران خان سے وفا کی سزا کاٹ رہے ہیں۔زین قریشی

    میرے والد عمران خان سے وفا کی سزا کاٹ رہے ہیں۔زین قریشی

    ملتان،تحریک انصاف کے اسلام آباد احتجاج سے قبل پی ٹی آئی راہنماؤں کی گرفتاریوں کا معاملہ ، گرفتار ممبران اسمبلی ملک عامر ڈوگر،زین قریشی اور معین الدین قریشی کو عدالت پیش کردیاگیا، عدالت نے ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا

    عدالتی فیصلے کے بعد زین قریشی کو رہا کر دیا گیا، رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتےہوئے زین قریشی کا کہنا تھا کہ میں رہائی کے موقع پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں ہم سب لوگ پارٹی پالیسی اور صدر جنوبی پنجاب کے مطابق بتائے گئے مقام اور وقت پر قافلوں کو اکٹھا کر رہے تھے جب پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔فرمائشی گرفتاری کا پروپیگنڈا کرنے والے جان لیں کہ فرمائشی گرفتاری وہ دیتے ہیں جنہیں کچھ ثابت کرنا ہو ۔ مجھے یا میری خاندان کو کچھ ثابت کرنے کے ضرورت نہیں ہے ۔ میرے والد عمران خان سے وفا کے سزا کاٹ رہے ہیں۔ جب پراسیکیوشن سزا موت کا تقاضاکرتے تھے اس وقت ہم نے کوئی ڈیل نہیں کی۔ اور جس شخص پر پچاس سے زائد پرچے ہوں اسی فرمائشی گرفتاری دینے کے ضرورت نہیں ہے ، مجھے کسی کو استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں اگر دینا پڑا تو عمران خان کو دوں گا

    بعد ازاں ایکس پر ایک پیغام میں زین قریشی کا کہنا تھا کہ اللّٰہ الحق ہے،آج جیت حق، سچ اور کی ہوتی ہے۔ انشاءاللہ آئندہ بھی ہر میدان میں فتح، حق اور سچ کی ہوگی۔ہماری نیت صاف ہے، ضمیر مطمئن ہے۔ ہم اپنے شہداء کے خون کے قرض دار ہیں، اور ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ڈی چوک پر ظلم اور جبر کی جو داستان لکھی گئی، تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ ایک سیاہ باب ہے۔ ہم اس سانحہ کے شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انکی قربانی رائیگاں نھیں جانے دیں گے،24 نومبر کو ہماری گرفتاری کے بعد مہر بانو قریشی کی قیادت میں قافلہ ڈی چوک گیا اور اس جدوجہد میں ملتان خصوصاً این اے 150 , 151 کے عوام نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا میں ان سب کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے خان کی کال پر لبیک کہا۔