Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیا کوئی شخص گولیاں، شاٹ گن لے کر مظاہرے میں شریک ہوتا ہے؟ شرجیل میمن

    کیا کوئی شخص گولیاں، شاٹ گن لے کر مظاہرے میں شریک ہوتا ہے؟ شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما ، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاوسنگ پروجیکٹ سندھ میں بننا شروع ہوگیا ہے

    حیدر آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے خواتین کے لئے جس طرح کام کیا، وہ مثالی تھا، وومین بینک، خواتین ہاریوں کو زمین مفت دینے کا اقدام، بینظیر کو شہید کیا گیا، آصف زرداری صدر بنے تو ہر وزیراعظم پر 58 ٹوبی کی تلوار لٹکتی تھی جو انہوں نے ختم کی، اور اپنی پاور پارلیمنٹ کو دے کر پارلیمنٹ کو مضبوط کیا، صدر زرداری نے احساس محرومیاں بلوچستان کی ختم کیں، یہ قومی لیڈر ہیں جو عوامی مسائل کو سمجھتے ہیں اور قوم کی امیدوں پرپورا اترتے ہیں، سی پیک آصف زرداری نے شروع کیا،بلاول وزیر خارجہ بنے تو انہوں نے پاکستان کا مقدمہ پوری دنیا میں جس طرح پیش کیا اس کی مثال نہیں ملتی، پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کیلئے کچھ کیا، ن پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے شہداء کی لازوال میراث ہے،شہید ذوالفقار علی بھٹو کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی تھی جس کا مقصد مسلم ممالک کو متحد کرنے کے لیے اپنا الگ بلاک بنانا تھا۔ اگر بھٹو شہید نہ ہوتے اور یہ بلاک قائم ہوتا تو فلسطین اور لبنان کی موجودہ صورتحال بہت مختلف ہوتی۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملک کی معیشت مستحکم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تعمیراتی شعبے کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ سکے اور اس شعبے میں ترقی کی راہ ہموار ہو۔ پیپلز پارٹی حکومت کی جانب سے ہر سطح پر تعمیراتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع مل سکیں۔ ہ پارٹی کی قیادت، بالخصوص چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سیلاب زدگان کے لیے 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں جو کہ ڈونرز کی مدد سے بنائے جا رہے ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے آصف علی زرداری کی سیاست کو سراہتے ہوئے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کو مضبوط کیا اور ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھایا۔ سی پیک منصوبہ بھی آصف زرداری کی حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے جس نے پاکستان کی معیشت کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں اور دونوں ملکوں چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا ایجنڈا پاکستان کے خلاف ہے۔ پی ٹی آئی ہمیشہ جھوٹ بولنے کی سیاست کرتی آئی ہے اور اس کے قائدین نے کئی بار عوام کو گمراہ کیا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے دعوے کے مطابق 300 افراد مارے گئے ہیں تو ان کی فہرستیں کہاں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ان افراد کی تدفین ہوئی اور نہ ہی ان کے نام سامنے آئے۔تشدد کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص گولیاں اور شاٹ گن لے کر مظاہرے میں شریک ہوتا ہے؟ اگر کسی کے گھر کے باہر ایسے افراد آتے ہیں تو کیا ان کا استقبال پھولوں سے کیا جائے گا؟ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے کچھ ارکان کی جانب سے طالبان اور اسرائیل کی حمایت میں بیانات آئے ہیں، جو کہ ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا قانون کسی بھی سیاسی جماعت کو اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس پر حکومت کو سختی سے کارروائی کرنی چاہیے۔

    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ملک کی معیشت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتی رہے گی اور ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کا عزم اور اس کے رہنماؤں کی طرف سے مسلسل کوششیں ملک کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جائیں گی۔

  • ہم نے کرکٹ اور سیاست کو الگ الگ رکھنا ہے ۔ محسن نقوی

    ہم نے کرکٹ اور سیاست کو الگ الگ رکھنا ہے ۔ محسن نقوی

    دئبی۔چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی متحدہ عرب امارات کے کرکٹ بورڈ کے سابق سیکرٹری و آئی سی سی ایسوسی ایٹس ممبر کمیٹی کے چیئرمین مبشر عثمانی سے ملاقات ہوئی

    ملاقات کے دوران چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے انعقاد کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستان اور یو اے ای میں کرکٹ کے فروغ کیلئے مزید اقدامات پر گفتگو کی گئی، چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے حوالے سےبات چیت کی،سٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن پراجیکٹس پر پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا گیا، محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار ہےپاکستان پر امن ملک ہےاور پاکستانی قوم کرکٹ کے کھیل سے محبت کرتی ہے۔ سکیورٹی سمیت تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ کرکٹ شائقین چیمپئنز ٹرافی کے بڑے مقابلے کے لیے بے تاب ہیں۔ تمام ممالک کو سٹیٹ گیسٹ کا پروٹوکول اور سکیورٹی دی جائے گی۔چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کا انعقاد پاکستان کے لئے اعزاز ہے اور ہم ہر ٹیم کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم نے کرکٹ اور سیاست کو الگ الگ رکھنا ہے ۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد اور ایڈوائزر سلمان نصیر بھی اس موقع پر موجود تھے

  • پی آئی اے پروازوں کی بحالی  پاکستان کے لئے  بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) پر عائد یورپی یونین کی پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد قومی ایئرلائن کو دوبارہ یورپ کی فضاؤں میں پروازیں بھرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنماسحر کامران نے اس خوشی کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا،”الحمداللہ! یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی ) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔ یہ ایک سنگ میل ہے اور ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے۔ پی آئی اے کی پروازوں کا یورپ میں دوبارہ آغاز نہ صرف ایئرلائن کے لئے بلکہ پورے پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔””یہ فیصلے پی آئی اے کی محنت اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اب پاکستانی عوام کو ایک نئی اُمید اور عزت کا موقع ملے گا اور انٹرنیشنل پروازوں کے حوالے سے بھی مزید کامیابیاں سامنے آئیں گی۔”

    یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں پی آئی اے نے ایوی ایشن کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں اب یہ پابندی اٹھا لی گئی ہے۔پی آئی اے نے بھی اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم قدم ہے اور قومی ایئرلائن کی دوبارہ یورپ میں پروازیں بھرنا اس کی ترقی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

    سحر کامران نے پی آئی اے کی ٹیم اور ایوی ایشن حکام کو اس کامیابی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ پی آئی اے مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی 57 ویں یوم تاسیس کے موقع پر پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ایکس پر پارٹی رہنماؤں، کارکنان کو مبارکباد دی ہے، سحر کامران نے پارٹی کی مرکزی رہنما آصفہ بھٹو زرداری کی تقریر کو بھی سراہا

    سحر کامران کاکہنا تھا کہ "ماشاءاللہ آصفہ بھٹو زرداری، ! آپ کی ہر بات ہمارے دلوں میں گہرا اثر چھوڑ گئی۔ آپ کی خوبصورتی اور فصاحت بے مثال تھی۔ آپ نے اپنی والدہ، محترمہ بے نظیر بھٹو کا ورثہ بھرپور اعتماد، حوصلہ، سکون اور وقار کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے، اللہ آصفہ بھٹو زرداری کو کامیابی دے اور ان کے تمام مقاصد میں کامیاب کرے۔

    سحر کامران نے پیپلز پارٹی کے 57 سال مکمل ہونے پر قیادت کو مبارکباد پیش کی، اور ان کی جدوجہد، قربانیوں، اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے اس موقع پر صدر آصف علی زرداری، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، بختاور بھٹو زرداری، اور تمام پی پی پی رہنماؤں کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔سحر کامران نے کہا: "ہمارے عظیم رہنماؤں کی قربانیوں کی بدولت پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔ پی پی پی کی 57 سالہ تاریخ قربانیوں، محنت، اور عزم کی ایک شاندار کہانی ہے۔”انہوں نے پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان اور رہنماؤں کو پی پی پی کے 57 سال مکمل ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ ان کے مطابق، پی پی پی کا عزم اور قربانیاں ہمیشہ قوم کے مفاد میں رہیں گی، اور پارٹی کا مستقبل مزید روشن ہو گا۔

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انسداد اسمگلنگ کی کامیاب کارروائیاں

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انسداد اسمگلنگ کی کامیاب کارروائیاں

    نومبر 2024 کے دوران ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے دیگر اداروں کے ہمراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسمگلنگ کے خلاف کامیاب کارروائیاں انجام دیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد ملک کی معیشت کو مستحکم بنانا اور غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔ ایف سی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے یہ کارروائیاں ڈیرہ مرادجمالی، بارکھان، پشین، چمن، ژوب اور نوشکی کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جہاں اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔

    ضبط شدہ اشیاء میں شامل:
    چینی 40 میٹرک ٹن
    بیٹل نٹس 12 میٹرک ٹن
    ٹائرز 728 عدد
    سگریٹس 1223 عدد
    ان کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی گئی، جن میں چینی، بیٹل نٹس، ٹائرز اور سگریٹس شامل ہیں۔ ان اشیاء کی اسمگلنگ کو روک کر نہ صرف غیر قانونی تجارت کے راستے بند کیے گئے بلکہ ان اشیاء کی مارکیٹ میں قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔

    ایف سی کی جانب سے بلوچستان کے بین الصوبائی سرحدوں پر قائم چیک پوسٹوں پر منظم چیکنگ کے نتیجے میں 122096 لیٹر ڈیزل کی اسمگلنگ کو بھی ناکام بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد قومی خزانے کو نقصان سے بچانا اور ملک کی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو اقتصادی مشکلات سے نکالا جا سکے اور غیر قانونی تجارت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اہم ہیں بلکہ ان سے عوامی سطح پر آگاہی بھی بڑھ رہی ہے۔

    حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید نقصان پہنچانے والی اس غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ ایف سی بلوچستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں اسمگلنگ کے خلاف مسلسل کامیاب کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی یہ کارروائیاں ملک بھر میں اسمگلنگ کے خلاف بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتی ہیں اور اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • نوشکی، گنداری ڈیم کی تعمیراتی کیمپ سے 6 افراد اغوا

    نوشکی، گنداری ڈیم کی تعمیراتی کیمپ سے 6 افراد اغوا

    بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا ہے جس میں مسلح افراد نے زرین جنگل لیویز چیک پوسٹ اور گنداری ڈیم کی تعمیراتی کیمپ سے چھ افراد کو اغواء کر لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اغواء ہونے والے افراد کا تعلق کوئٹہ اور خیبر پختونخوا سے ہے۔

    لیویز ذرائع نے بتایا کہ اغواء کے بعد مسلح افراد نے تعمیراتی سائٹ پر کیمپ کو بھی آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں کیمپ میں موجود سامان کو نقصان پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کے دوران کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن کیمپ اور اس کے اطراف کے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔

    ڈی جی لیویز بلوچستان نصیب اللہ کاکڑ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیویز فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اغواء کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔علاقے میں اس وقت سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور تمام ممکنہ راستوں پر چیکنگ کی جا رہی ہے۔ اغواء کیے گئے افراد کے خاندانوں نے حکام سے فوری بازیابی کی اپیل کی ہے بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات حالیہ مہینوں میں بڑھ گئے ہیں، جہاں دہشت گرد گروہ اور مسلح تنظیمیں سکیورٹی فورسز اور مقامی افراد کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

  • آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ،معاملات مثبت سمت میں بڑھنے کا امکان

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ،معاملات مثبت سمت میں بڑھنے کا امکان

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان معاملات اب مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے بارے میں گزشتہ روز دبئی میں ہونے والا آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس اہمیت کا حامل تھا، تاہم اس اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا تھا۔

    آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے درمیان اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اتفاق رائے پر بات کی گئی تھی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس معاملے کو تینوں اداروں کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں ایک نیا اجلاس آج دوبارہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔تاہم، اس کے بعد اطلاعات موصول ہوئیں کہ آج ہونے والی آئی سی سی بورڈ میٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔ لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے وینیو اور شیڈول سے متعلق پس پردہ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، اور جلد ہی اس بارے میں کوئی اہم پیشرفت متوقع ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بورڈ میٹنگ کسی بھی وقت، ممکنہ طور پر آج رات یا کل بلائی جا سکتی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان معاملات اب مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جلد ہی اس اہم ٹورنامنٹ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ متوقع ہے۔چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے یہ پیشرفت کرکٹ دنیا میں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ٹورنامنٹ بین الاقوامی کرکٹ کے منظرنامے پر ایک اہم مقام رکھتا ہے اور اس کی میزبانی کے لیے مختلف ممالک اور کرکٹ بورڈز کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے۔

    یہ پیشرفت پاکستان کرکٹ کے لیے بھی ایک بڑی خوشخبری ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں، اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد پاکستان کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک تاریخی موقع ہوگا۔آگے آنے والے دنوں میں مزید اطلاعات اور تفصیلات سامنے آئیں گی جس سے اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے گا۔

  • ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ویپنگ یا ای سگریٹ کا استعمال نوجوانوں میں بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ماہرین صحت نے اس کے خطرات کے بارے میں نئی تحقیق کی بنیاد پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ ویپنگ نہ صرف روایتی تمباکو نوشی سے زیادہ غیر محفوظ ہے، بلکہ اس کے جسم پر فوری اور خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

    شکاگو میں ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے اجلاس میں پیش کی گئی تازہ ترین تحقیق نے ویپنگ کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یونیورسٹی آف آرکنساس فار میڈیکل سائنسز کی ڈاکٹر ماریان ناباؤٹ نے اس تحقیق کی قیادت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو طویل عرصے تک تمباکو نوشی کا ایک "محفوظ متبادل” سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ویپنگ نہ صرف شریانوں کے افعال کو متاثر کرتا ہے بلکہ مجموعی طور پر صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ویپنگ جسم میں خون کی نالیوں پر برا اثر ڈالتا ہے اور خون کی روانی میں کمی لاتا ہے۔ جب انسانی جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے، تو اس کا برا اثر پورے جسم کے نظام پر پڑتا ہے، خاص طور پر پھیپھڑوں پر جہاں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے۔

    یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی تحقیق میں ویپنگ اور تمباکو نوشی کے اثرات پر تفصیل سے تجربات کیے گئے۔ اس میں 31 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 21 سے 49 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو تین مختلف سیشنز میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ نے تمباکو نوشی کی جبکہ دوسرے گروپ نے ای سگریٹ کا استعمال کیا۔تحقیق کے دوران شرکاء کا خون کی نالیوں میں بہاؤ، آکسیجن کی مقدار اور دماغ میں خون کی روانی کو مختلف طریقوں سے ماپا گیا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ دونوں صورتوں میں (یعنی ای سگریٹ کا استعمال یا روایتی سگریٹ نوشی) خون کی روانی میں کمی واقع ہوئی، مگر نیکوٹین والے ای سگریٹ کا اثر زیادہ نمایاں تھا۔ نیکوٹین والی ای سگریٹس کے استعمال کے بعد خون کی روانی میں زیادہ کمی دیکھی گئی۔

    ویپنگ کے اثرات میں سب سے اہم یہ بات سامنے آئی کہ ای سگریٹ کے استعمال کے بعد خون میں آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے، چاہے اس میں نیکوٹین ہو یا نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصوں کو مناسب مقدار میں آکسیجن فراہم نہیں ہو پاتی، جو کہ طویل عرصے تک صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹر ماریان ناباؤٹ نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیشہ تمباکو نوشی اور ویپنگ سے پرہیز کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ویپنگ کے فوری اثرات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ای سگریٹ، تمباکو نوشی کے مقابلے میں کم خطرناک نہیں بلکہ کچھ معاملات میں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

    ویپنگ کے مختلف ذائقوں کی وجہ سے نوجوانوں میں اس کا استعمال زیادہ بڑھا ہے، لیکن ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس عادت کو اپنانا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے ای سگریٹ ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے شریانوں اور پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

    ویپنگ ایک بڑھتا ہوا عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور ماہرین نے اس کی صحت پر منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ اگرچہ ای سگریٹ کو تمباکو نوشی کا محفوظ متبادل سمجھا گیا تھا، تاہم اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک، بلکہ بعض صورتوں میں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں سمیت ہر فرد کو اس عادت سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔

  • 40 دن میں کینسر کے علاج کا دعویٰ: سدھو کی اہلیہ کو 850 کروڑ کا قانونی نوٹس

    40 دن میں کینسر کے علاج کا دعویٰ: سدھو کی اہلیہ کو 850 کروڑ کا قانونی نوٹس

    بھارت کے سابق کرکٹر، سیاستدان، اور ٹی وی شو کے میزبان نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور کو ان کے شوہر کے کینسر سے صحتیابی کے لیے خوراک کے استعمال کے دعووں پر 850 کروڑ بھارتی روپے کا قانونی نوٹس مل گیا ہے۔ یہ نوٹس چتھیس گڑھ سول سوسائٹی کی جانب سے بھیجا گیا ہے، جس میں نوجوت کور سے ان کے شوہر کے کینسر سے صحتیابی کے حوالے سے کیے گئے دعووں کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    نوجوت کور کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ سات دنوں میں اپنے شوہر کے دعووں کا ثبوت پیش کریں، ورنہ انہیں 850 کروڑ بھارتی روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اگر انہوں نے یہ رقم ادا نہ کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ نوٹس میں نوجوت کور سے یہ بھی سوال کیا گیا ہے کہ کیا انہوں نے صرف مخصوص غذا جیسے نیم کے پتے، لیموں کا پانی، تلسی، اور ہلدی کا استعمال کیا تھا یا وہ ایلوپیتھک ادویات بھی استعمال کرتی رہیں؟یہ سوالات اس لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ نوجوت کور کے شوہر نوجوت سنگھ سدھو نے جو دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اہلیہ اسٹیج 4 کے کینسر سے صحتیاب ہو گئیں، وہ حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سدھو کے دعوے ایلوپیتھک علاج کی مخالفت کرتے ہوئے لوگوں کو متبادل علاج کی طرف مائل کر سکتے ہیں، جس سے کینسر کے مریضوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    نوجوت سنگھ سدھو نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ نوجوت کور اسٹیج 4 کے کینسر سے نجات پا چکی ہیں۔ سدھو نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کو اسٹیج 4 کا کینسر تھا، جو ہڈیوں تک پھیل چکا تھا اور ان کے بچنے کے امکانات صرف 5 فیصد تھے۔ تاہم، ان کی بیٹی نے تحقیق کرکے ایک غذائی پلان ترتیب دیا، جس کی مدد سے نوجوت کور نے صرف 40 دنوں میں کینسر کو شکست دے دی۔

    چتھیس گڑھ سول سوسائٹی نے نوجوت کور کے اس دعوے پر شدید اعتراض کیا ہے کہ ایک غذائی پلان سے اسٹیج 4 کا کینسر ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوے لوگوں کو ایلوپیتھک علاج سے دور کر سکتے ہیں اور انہیں غیر سائنسی علاج کی طرف مائل کر سکتے ہیں، جو کہ کینسر کے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ قانونی نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوجوت کور اپنے شوہر کے اس بیان پر وضاحت فراہم کریں کہ آیا انہوں نے ایلوپیتھک علاج کو چھوڑ کر صرف قدرتی غذا ہی کا سہارا لیا تھا۔ اگر نوجوت کور نے نوٹس کے مطابق 7 دنوں میں وضاحت نہ دی، تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس میں 850 کروڑ بھارتی روپے کا جرمانہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جو کہ نوجوت کور کے دعووں کو جھوٹا اور گمراہ کن ثابت کرنے کی صورت میں عائد کیا جائے گا۔

  • تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ترقی کا سفر جاری ہے ،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں پی آئی اے برباد ہوئی ، پی ٹی آئی دور حکومت میں پی ٹی آئی کیخلاف باتیں کی گئیں ، حکومت منزلیں عبور کرکے معیشت کو بحال کررہی ہے ،تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ، دنیا کی تاریخ میں اس طرح بھاگنے کی مثال نہیں ملے گی ،ہم نے کہا تھا ڈی چوک پر نہیں آنے دیں گے ،بشریٰ بی بی علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہوئیں ، علی امین گنڈا پور نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ، یہ یہاڑوں کو عبور کرکے فرار ہوئے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا 278 لوگ مارے گئے ،پی ٹی آئی کا ہر رہنما ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف نمبرز بتا رہا ہے ،آج تک کسی جنازے کی ویڈیو سامنے نہیں آئی، کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو خونریزی ہوئی ،ہم نے ڈی چوک کے متبادل جگہ فراہم کرنے کی آفر لی جسے بانی پی ٹی آئی نے تسلیم کیا، لیکن ہجوم دیکھ کر بشریٰ بی بی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئیں، انہوں نے کہا ہم ڈی چوک ہی جائیں گے،