Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران خان کی صحت  کو شدید خطرات لاحق ہیں،وکیل فیصل چوہدری کا دعویٰ

    عمران خان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں،وکیل فیصل چوہدری کا دعویٰ

    سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل، فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ ان کے موکل کو جیل میں غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے اور انہیں بنیادی ضروریات تک فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا کہ ’’بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کو ٹھیک سے کھانا بھی نہیں دیا جا رہا تھا۔ ان کے ساتھ سلوک غیر انسانی ہے۔‘‘فیصل چوہدری نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں جیل حکام نے ان سے ملاقات کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا، اور جب اس بارے میں عدالت سے رجوع کیا گیا تو عدالت نے تفتیشی افسر کو ڈھائی بجے طلب کیا۔ ’’ہم نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، جس پر پارٹی کو سخت تشویش ہے۔‘‘پارٹی کی قانونی ٹیم اس بات سے پریشان ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت اور ان کی حفاظت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔عمران خان سے ایکسرسائز مشین واپس لے لی گئی ہے اور جیل حکام اور پولیس افسران مسلسل ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ جب بھی کسی نوعیت کا واقعہ پیش آتا ہے، ان سے ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔‘‘

    فیصل چوہدری نے مطالبہ کیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو انسانی حقوق کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی قانونی حقوق کا احترام کیا جائے تاکہ وہ اپیل کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔

  • کارکنان پارٹی کی طاقت اور کامیابی کی بنیاد ہیں،بلاول

    کارکنان پارٹی کی طاقت اور کامیابی کی بنیاد ہیں،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر کارکنان، حامیوں اور پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن ملک میں جمہوریت، سماجی انصاف اور عوام کے اختیارات کے لیے پیپلز پارٹی کی 57 سالوں پرمحیط غیر متزلزل وابستگی کا مظہر ہے۔

    پی پی پی چیئرمین نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لازوال میراث کو اجاگر کیا، جنہوں نے 30 نومبر 1967 کو پیپلز پارٹی کی بنیاد اس مقصد کے ساتھ رکھی تھی کہ مساوات، انسانی حقوق اور معاشی خوشحالی کے اصولوں پر مبنی ایک مساوی معاشرہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے جمہوریت کے لیے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنی انتھک جدوجہد سے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی تاریخ تشکیل دینے میں پیپلز پارٹی کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دوراندیش قیادت میں، پارٹی نے قوم کو 1973 کا پہلا جمہوری آئین دیا، جو تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور نمائندگی کو یقینی بناتا ہے۔ قائد عوام نے پاکستان کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا، جو ملک کی دفاعی صلاحیتوں کا سنگ بنیاد بنا۔ پیپلز پارٹی نے زمین کی تقسیم، مزدوروں کے حقوق، اور تعلیم میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائیں، جو سماجی ترقی کی بنیاد بنیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو، جو کسی مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں، نے نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کیا بلکہ خواتین کو بااختیار بنایا، سماجی فلاح و بہبود کو فروغ دیا، اور کروز میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی میں بھی قیادت فراہم کی۔ صدر آصف علی زرداری کے پہلے دورِ صدارت میں، پیپلز پارٹی کی حکومت نے مساوات کے اصولوں سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنایا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا آغاز کیا، جو اب تک لاکھوں مستحق شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنا چکا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ محروم طبقوں کی آواز، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کی محافظ، اور خواتین و اقلیتوں کے اختیارات کی مضبوط بنانے کی حامی رہی ہے۔ اپنی بنیاد سے لے کر آج تک، پیپلز پارٹی ایک پرامن، ترقی پسند اور خوشحال پاکستان کی جدوجہد میں ثابت قدم رہی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنان کی ثابت قدمی اور وفاداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کی طاقت اور کامیابی کی بنیاد ہیں۔ پارٹی کے بنیادی اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے ظلم، ناانصافی اور عدم مساوات کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اِس تاریخی دن کے موقع پر آئیے ہم پارٹی کے اصولوں کو برقرار رکھنے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور محنت کرنے کا عہد کریں۔ مل کر ہم ایک جمہوری اور جامع پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنان اور حامیوں پر زور دیا کہ وہ یومِ تاسیس کو جوش و خروش اور یکجہتی کے ساتھ منائیں اور ان عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں جو جمہوریت اور آزادی کی جدوجہد کے لیے دی گئیں۔

  • پیپلز پارٹی کے قیام کے 57 برس مکمل، جیالوں کا جوش و جذبہ عروج پر

    پیپلز پارٹی کے قیام کے 57 برس مکمل، جیالوں کا جوش و جذبہ عروج پر

    پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کو آج 57 سال مکمل ہوگئے۔ 57 سال قبل 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب خان کی کابینہ سے استعفیٰ دے کر ترقی پسند قوتوں سے ہاتھ ملا کر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس نعرے "روٹی، کپڑا اور مکان” کو اپنی تحریک کا حصہ بنا کر بھٹو نے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی تھا۔

    پیپلز پارٹی کے قیام کے ابتدائی برسوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں ایک نئی سیاسی قوت پیدا کی اور اس تحریک کو عوامی سطح پر کامیاب بنایا۔ 1971 کی جنگ کے بعد ملک میں سیاسی خلا کو بھرنے کے لئے انہوں نے عوامی طاقت کو اپنا ہتھیار بنایا اور 1973 میں پاکستان کا آئین بھی دیا، جو آج تک ملک کی سیاست میں اہمیت رکھتا ہے۔ بھٹو صاحب نے 1971 کی جنگ کے بعد بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کی کوشش کی اور 1973 میں پاکستان کا آئین منظور کرایا، جسے ایک سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔تاہم، جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کا نشانہ بنایا گیا اور 1979 میں ان کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ان کی شہادت نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو ایک نئی تحریک دینے کا کام کیا۔

    پیپلز پارٹی کی قیادت بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کے ہاتھوں میں آئی۔ بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیا کے مارشل لا کے خلاف جدوجہد کی اور 1988 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو وزیراعظم بنوایا۔ بے نظیر بھٹو نے نہ صرف ملک میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کی بلکہ ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے اپنے منشور اور پالیسیوں کے ذریعے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔ ان کی شہادت 2007 میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہوئی، لیکن ان کی قربانی نے پارٹی کو ایک نئی توانائی دی۔

    آج پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھوں میں ہے، جنہوں نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پارٹی نے ن لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت میں حصہ لیا اور عوامی مسائل پر توجہ دی۔

    آج پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس ایک اہم دن ہے، جسے پورے ملک میں جیالے جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی خطاب کریں گے۔پیپلز پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں پارٹی کے کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری اس موقع پر اہم خطاب کریں گے اور پارٹی کی پچھلے 57 برسوں کی جدوجہد کا ذکر کریں گے۔ جیالوں کا جوش اور ولولہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف ماضی میں بلکہ آج بھی ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت ہے، جو عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت سرگرم ہے۔

    پیپلز پارٹی کی 57 سالہ تاریخ ایک طویل سفر ہے جس میں مشکلات، قربانیاں اور سیاسی جدوجہد شامل ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت سے لے کر بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو تک، پیپلز پارٹی نے اپنے اصولوں اور منشور کے ساتھ عوام کی خدمت کی ہے۔ آج بھی پارٹی کے جیالے اپنے قائدین کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے پارٹی کے یومِ تاسیس کو جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔

  • اسلام آباد،مطیع اللہ جان کی  ضمانت منظور

    اسلام آباد،مطیع اللہ جان کی ضمانت منظور

    اسلام آباد سے گرفتار صحافی مطیع اللہ جان کی دس ہزار روپے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی گئی

    انسداد دہشتگردی عدالت نےمطیع اللہ جان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات خرید وفروخت کا کیس کی سماعت ہوئی،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کے کاپی عدالت کے سامنے پیش کی گئی،ایڈووکیٹ ایمان مزاری ، ہادی علی چٹھہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عدالت میں درخواست ضمانت پر فریقین نے دلائل دیئے، جس کے بعد عدالت نے مطیع اللہ جان کی درخواست ضمانت منظور کر لی اور رہا کرنے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مطیع اللہ جان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دیا تھا، مطیع اللہ جان کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا ان پر پولیس سے اسلحہ چھین کر دھمکی دینے اور منشیات کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،

  • ہمیں دو ہزار  دے کر یہاں باندھ دیا، خود بھاگ گئے،افغان شرپسندوں کا اعتراف جرم

    ہمیں دو ہزار دے کر یہاں باندھ دیا، خود بھاگ گئے،افغان شرپسندوں کا اعتراف جرم

    پی ٹی آئی کے اجرت یافتہ غیر قانونی افغانیوں نےاعتراف جرم کر لیا

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران غیر قانونی افغانیوں کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے ،غیر قانونی افغان باشندوں کو پیسے دے کر احتجاج میں شرانگیزی کے لئے لایا گیا،گرفتار شدہ غیر قانونی افغان شرپسند وں کے بیان سامنے آ گئے، شرپسند بیت اللہ کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان سے ہے ہمارے لوگ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں پر فائرنگ کر رہے تھے،ابرار الحق کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان سے ہے، علی امین گنڈا پور دو تین ہزار کی لالچ دیکر لایا اور فائرنگ کروائی،ہماری فائرنگ سے اسلام آباد پولیس کے اہلکار زخمی ہوئے،میری ڈیوٹی ایک گاڑی کیساتھ تھی جس میں اسلحہ پہنچایا جارہا تھا،شرپسند امان خان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان کے صوبے قندھار سے ہے،میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پی ٹی آئی کے کارکن فائرنگ کررہے تھے،پرویز خان کا کہنا تھا کہ ہمیں دو ہزار روپے دے کر یہاں باندھ دیا اور خود بھاگ گئے،یا اللہ ہمارے پردے رکھ، میں غریب اور عاجز ہوں،
    پرویز خان ،

    شرپسند فضل حق کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان کے صوبے قندوز سے ہے، میری ڈیوٹی ایک گاڑی کے ساتھ تھی،درحقیقت اس میں پی ٹی آئی کے کارکن اسلحہ لیکر جا رہے تھے،اس گاڑی سے 25 سے 30 کلاشنکوفیں لوگوں میں تقسیم کی گئیں،

  • سوشل میڈیا پر  لاشوں سے متعلق جھوٹا پراپیگنڈہ   کارروائی ہوگی،عطا تارڑ

    سوشل میڈیا پر لاشوں سے متعلق جھوٹا پراپیگنڈہ کارروائی ہوگی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑنے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امن و امان کے حوالے سے گزشتہ روز اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہان، پنجاب اور سندھ حکومتوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جی صاحبان بھی شریک ہوئے،ریاست کی طرف سے فیصلہ کیا گیا کہ انتشار اور تشدد کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،ملک ترقی کر رہا ہے، معاشی اشاریئے مثبت ہو رہے ہیں،سٹاک ایکسچینج ایک لاکھ کی حد عبور کر چکی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی کم ہو کر 6.9 فیصد پر آ گئی ہے، پاکستان میں سات ماہ کے دوران کئی ممالک کے وفود نے دورے کئے،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے وفود، ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان آ چکے ہیں بیلاروس کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے، کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے،پاکستان نے ایس سی او سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا، پی آئی اے کی یورپ کے لئے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے،روٹس کھلنے سے پی آئی اے کا ریونیو بڑھے گا، پی آئی اے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے گا، زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں،پاکستان کی معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دن رات محنت ہو رہی ہے،ہمیں جب یہ ملک ملا تو ڈیفالٹ کے دھانے پر تھا، ہم نے کسی پر الزامات نہیں لگائے، ملک کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کام کیا، شہباز شریف کا مشن تھا کہ ملک کی اکانومی کو ٹھیک کرنا ہے، ایم ڈی آئی ایم ایف کے الفاظ تھے کہ شہباز شریف نہ ہوتے تو پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ لاشوں پر سیاست کی جا رہی ہے،پہلے کہا گیا کہ سنائپر شاٹ مارے گئے، پھر کہا گیا کہ براہ راست فائرنگ کی گئی،تین روز گذر گئے، تحریک انصاف فائرنگ کی ایک ویڈیو بھی نہیں پروڈیوس کر سکی،کیا وجہ ہے کہ براہ راست فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے؟، یہ لوگ پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں،انہوں نے 2019ءکی فوٹیج شیئر کیں،پی ٹی آئی والوں نے غزہ کے اندر اسرائیلی مظالم کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں، شہید ہونے والے رینجرز، پولیس اہلکاروں کی تصاویر تو انہوں نے نہیں لگائیں،بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا ملتان میں چند سال جلسہ تھا، اس میں 12 لوگ مرے، یہ اتنے بے حس شخص ہیں کہ یہ اپنی تقریر کئے بغیر گھر نہیں گئے،تحریک انصاف لاشوں کا جھوٹا بیانیہ چلا رہی ہے، یہ کوئی شواہد نہیں لا سکے، انہوں نے ایک تصویر شائع کی جس میں بلیو ایریا کی پوری سڑک کو خون میں لت پت دکھایا ہے،جب یہ لوگ جوتے، کپڑے اور گاڑیاں چھوڑ کر بھاگے تو ہم نے اس سڑک کا ایک ایک کونہ دکھایا،پی ٹی آئی لاشوں سے متعلق پرانی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر چلا رہی ہیں،مظاہرین پر فائرنگ ہوئی نہ کہیں خون دیکھا گیا،پی ٹی آئی میں اقتدار کی جنگ چل رہی ہے،تاجروں اور کاروباری حضرات کا یومیہ 190 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے،جعلی پوسٹوں پر فیک کی اسٹیمپ لگوا رہے ہیں، جعلی پوسٹوں کی جانچ پڑتال کے لئے سیل بنایا گیا ہے، جعلی پوسٹوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ خفت اور شرمندگی مٹائی جائے، ان کے ساتھ لوگ نہیں نکلے، لوگوں نے ان کی کال مسترد کی، لاشوں کے جھوٹے بیانیہ سے معیشت ڈی ریل نہیں ہوتی، جو لوگ پکڑے گئے ہیں ان کا سپیڈی ٹرائل ہوگا، انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، جن لوگوں نے لاشوں کے غلط اعداد و شمار شیئر کئے ہیں، انہیں ثبوت دینا ہوگا،علی امین گنڈاپور دو مرتبہ موقع سے بھاگے ہیں، موقع سے بھاگنے والوں کو حق نہیں ہوتا کہ وہ بھڑکیں ماریں، یہ ایکسپوز ہو چکے ہیں، ان کا ملک دشمن ایجنڈا کھل کر سامنے آ چکا ہے،

  • پنجاب سے 34،لاہور سے 11 دہشتگرد گرفتار

    پنجاب سے 34،لاہور سے 11 دہشتگرد گرفتار

    صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے رواں ماہ میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 34 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ لاہور سے فتنہ الخوارج سمیت دیگر تنظیموں کے 11 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے اہم عمارتوں کے نقشے برآمد کر لیے گئے

    ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 242 کارروائیاں کیں، جن میں 243 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 34 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا گیا۔

    گرفتار دہشت گردوں میں زبیر ۔اسلم ۔ابوبکر ۔فدا حسین ۔فہد ۔سیف اللہ ۔عبداللہ ۔محمود الحسن ۔نفیس ۔اسرار ۔حاجی شاہ ۔کاشف۔ قاسم ۔صابر ۔رمضان ۔جنید ۔عمران ۔عرفان وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق فتنہ خوارج داعش اور دیگر تنظیموں سے ہے ، انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کی گرفتاری بھکر۔ لاہور ۔بہاول نگر ۔بہاولپور ۔۔سرگودہا ۔ناروال ۔اٹک ۔گجرات ۔رحیم یار خان ۔فیصل اباد ۔راولپنڈی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کی گئی۔ دھماکہ خیز مواد 6815 گرام، ڈیٹونیٹرز 28، سیفٹی فیوز وائر 89 فٹ، ائی ای ڈی بم 4.پرائما کارڈ 3 فٹ . پستول معہ گولیاں، کالعدم تنظیم کے پمفلٹ 59، میگزین .57500 روپے نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے لاہور میں ایک سرکاری عمارت کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 28 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے

    انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے دوران مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 7536 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 235630 افراد کو چیک کیا گیا، 637 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 466 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 340 بازیابیاں کی گئیں۔

  • صاحبزادہ حامد رضا نے استعفیٰ کیوں دیا؟کھرا سچ میں اہم انکشافات

    صاحبزادہ حامد رضا نے استعفیٰ کیوں دیا؟کھرا سچ میں اہم انکشافات

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ میرا ایک بیٹا ہے اسکو مشورہ ہو گا کہ وہ سیاست سے دور رہے میں بھگت رہا ہوں

    نجی ٹی وی 365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں اینکر پرسن مبشر لقمان نے سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر آپ نے سچ بولنا ہے آج سیاستدان کے طور پر نہیں، ایک خانقاہ کے حساب سے سچ بولنا ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ کے والد کو جیل میں ڈالا ہو اور آپ احتجاج میں نہ ہوں، بشریٰ ، عمران کے بچے احتجاج میں نہیں آتے، کبھی تو آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ میں دل پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے کہہ رہا ہوں بہت سارے سیاستدان پاکستان میں ایسے ہیں جن کے بچے سیاست میں نہیں، میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا، میرا اپنا بیٹا سیاست میں آنا نہیں چاہتا، میں جہاں پھنس بیٹھا ہوں میں نے آگے چلنا ہے،ہم چار بھائی تھے، میں اب خمیازہ بھگت رہا ہوں، میرا ایک بیٹا ہے اسکو مشورہ ہو گا کہ وہ دور رہے میں بھگت رہا ہوں، میرا بیٹا لندن نہیں جائے گا،میں کسی اور کے بارے میں جواب دہ نہیں ہوں ،خان کی بیوی نہیں آ رہی تھی تو ایشو تھا وہ آ گئیں تو ایشو، خان کی بہنوں نے،بیوی نے جیل کاٹ لی،ہم ایسی قوم ہیں جو کسی بات پر راضی نہیں ہوتیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں جھوٹ بول رہی ہیں، سچ بولیں تو ہم راضی ہیں.

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ آپ پی ٹی آئی کے نہیں تو جوابدہ نہیں، اگلی احتجاج کی کوئی کال آ رہی، جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ ابھی تک نہیں لیکن حکمت عملی پر بات ہوئی ہے، اگلے چند دنوں میں پرپوزل کی خان سے لی جائے گی، مبشر لقمان نے سوال کیا کہ بانی گنڈا پور سے ناراض ہیں ہو سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ کسی اور کو بنایا جائے جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ میری آخری ملاقات ہوئی اس وقت تو عمران گنڈا پور پر مطمئن تھے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے لوگ کیوں نہیں نکلے، جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اراکین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، بہت ساروں کی تو فیملیاں بھی سائیکو پیشنٹ بن گئیں، واش روم کے بیسن تک توڑ دیئے گئے پورا پنجاب بلاک تھا، 24 تاریخ کو شدید شیلنگ ہم پر کی گئی، میں بھی جلوس لے کر نکلا تھا، میں‌27 گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچا، راستے بند تھے،ہم مختلف راستوں سے گئے،ہمارے ساتھ فیصل آباد کے تمام ایم این ایز تھے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علی امین 12 ضلعے کراس کر کے پہنچا تھا آپ نے تو زیادہ کر لئے، آپ کی بات پر مجھے اعتبار ہے، علی امین کی بات پر اعتبار نہیں، مجھے نہیں آدھی سے زیادہ تحریک انصاف کو گنڈا پور پر اعتبار نہیں، حامد رضا کا کہنا تھاکہ کچھ چیزیں ایسی ہوئی ہیں جو نہیں ہونی چاہئے تھی، میں نے زندگی میں اتنا برا سفر نہیں کیا جتنا اس دن کیا،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے حماد اظہر سےپوچھنا تھا وہ آرام سے ہشاش بشاش آتا ہے اور چلا جاتا ہے،

    حامد رضا کا کہنا تھا کہ سیٹ میں نے عمران خان کے ساتھ جیتی وہ امانت ہے،میں اس وقت ضمانتیں کروا رہا ہوں، مختلف مقدمے 24 کو درج ہوئے، ریاست ہمیں دہشت گرد یا غدار ثابت کرنا چاہتی ہے جن مقدموں کا پتہ چلتا ہے ضمانتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں،میرا استعفیٰ سیاسی اور کور کمیٹی کا ہے،میں نے سیدھی سادھی بات، سیاست کی ہے، تنقید کی جا رہی تھی کہ پنجاب سے لوگ نہیں نکلے، ہم اسلام آباد پہنچے پھر بھی تنقید کی گئی میں نے سوچا سب کا احتساب ہونا چاہئے اسلیے استعفیٰ دیا، گروپنگ پارٹیوں میں ہوتی ہے، میں پی ٹی آئی کا اتحادی ہوں، قومی اسمبلی کا استعفیٰ عمران خان کو دوں گا، جس طرح حکومت نے 24 تاریخ کو سلوک کیا، مارا گیا، سیٹ میں نے عمران کی وجہ سے جیتی وہ قبول کرتے ہیں یا نہیں دیکھتے ہیں،مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی حکومت نے تحریک لبیک کے لوگوں کو مارا تھا اور ان کو را کا ایجنٹ کہا تھا اس وقت میں نے کہا تھا کہ انکو کہیں ایسا نہ کریں یہ کبھی نہ کبھی اللہ ان کو دکھا دے گا، جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ میں اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں تھا، میں ایمان اور مذہب کے بارے میں بڑا کلیئر ہوں، میں نے ہی اس وقت سہولت کاری کی تھی،

  • 9مئی ،سازش زمان پارک میں تیار کی گئی،عمران کی ضمانت مسترد،تحریری فیصلہ

    9مئی ،سازش زمان پارک میں تیار کی گئی،عمران کی ضمانت مسترد،تحریری فیصلہ

    انسداد دہشتگری عدالت لاہور ،بانی پی ٹی آئی کی نو مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانتیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اے ٹی سی جج منظر علی گل نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ زمان پارک میں تیار کی گئی سازش کی گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، پراسکیوشن کے پاس بانی پی ٹی آئی کی اشتعال انگیزی کے ہدایات کے آڈیو اور بصری ثبوت موجود ہیں،بانی پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے ایک سازش تیار کی، الزام کے مطابق، سازش تیار کی گئی کہ گرفتاری کی صورت میں دیگر قیادت ریاستی مشینری کو جام کردے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیے کہ وقوعے کے وقت بانی پی ٹی آئی گرفتار تھے، پراسیکیوشن کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے گرفتاری سے قبل سازش تیار کی، وکیل بانی پی ٹی آئی کی دلیل میں وزن نہیں کہ بانی پی ٹی آئی وقوعے کے وقت گرفتار تھے، وکیل بانی پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے مختلف کیسسز میں ضمانتیں بعد از گرفتاری ہو چکی ہیں، ہر کیس کا فیصلہ ُاس کیس کے اپنے میرٹس پر ہونا چاہیے، موجودہ کیس سازش یا اشتعال انگیزی پر اکسانے کا کوئی معمولی کیس نہیں ہے، پراسکیوشن کا کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ملٹری تنصیبات پر حملوں کی ہدایت کی اور سازش تیار کی،بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر ناصرف لیڈران بلکہ ان کے کارکنان اور حمایتیوں نے سختی سے عمل کیا،لاہور ہائیکورٹ نے اعجاز چودھری کی ضمانت کے فیصلے میں سازش کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے کردار پر بحث کی ہے، وکیل بانی پی ٹی آئی نے اعتراض اٹھایا کہ مبینہ سازش کی کوئی تاریخ، وقت اور جگہ متعین نہیں،پراسیکیوشن کے مطابق، زمان پارک میں 7 مئی اور 9 مئی کو اس سازش کو تیار کیا گیا، پراسکیوشن کے مطابق، خفیہ پولیس اہلکاروں نے خود کو پی ٹی آئی ورکرز ظاہر کرتے ہوئے اس سازش کو سنا تھا، انسداد دہشتگری عدالت لاہور بانی پی ٹی آئی کو قصور وار قرار پاتی ہے، بانی پی ٹی آئی کوئی معمولی آدمی نہیں، ان کی ہدایات اور بیانات کی ان کے حامیوں کی نظر میں ایک قدر ہے، پی ٹی آئی کی دیگر قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کو مسترد کرنے کا سوچا تک نہیں، پولیس کے مطابق، 11 مئی کو پولیس اہلکار پر تشدد سمیت ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے،پولیس کے مطابق، تمام واقعات میں ملٹری تنصیبات، سرکاری اداروں اور پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے،بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں خارج کی جاتیں ہیں،

  • اسلام آباد،ریڈزون سمیت تمام راستے کھول دیئے گئے

    اسلام آباد،ریڈزون سمیت تمام راستے کھول دیئے گئے

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریڈ زون اور شاہراہ دستور جانے والے تمام راستے کھول دیے گئے ہیں، جس کے بعد شہر میں معمولات زندگی بحال ہو گئے ہیں۔ حکومت نے ریڈ زون کے اطراف سے کنٹینرز ہٹا کر عوامی راستوں کو مکمل طور پر کھول دیا ہے، جس سے شہریوں کو سہولت ملی ہے۔

    ریڈ زون میں داخلے کے لیے نادرا چوک اور مارگلہ روڈ سے کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان راستوں کی بندش کا سبب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا احتجاج تھا، جو گزشتہ دنوں اسلام آباد میں جاری تھا۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے ان راستوں کو بند کیا گیا تھا، مگر اب صورتحال معمول پر آ چکی ہے اور شہریوں کو دوبارہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ایوب چوک کا راستہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے جبکہ سرینا چوک کے انڈر پاس کی تعمیراتی کام کے باعث وہاں راستہ ابھی تک بند ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے حکومت نے شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی، جس کے بعد دارالحکومت میں مختلف راستے بند کیے گئے تھے۔اب اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹریفک کی روانی دوبارہ بحال ہو گئی ہے اور عوامی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں روزمرہ کے کاموں اور کاروبار کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ریڈ زون اور دیگر اہم راستوں کی بحالی سے شہریوں کو آسانی ہو گی اور ان کے سفر میں درپیش مشکلات کم ہوں گی۔