Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

    نشتر ہسپتال ملتان،ایڈز کا پھیلاؤ، وزیراعلیٰ کا ایکشن،افسران معطل

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نشتر اسپتال ملتان کے ڈائیلسز یونٹ سے 25 مریضوں میں ایڈز کی منتقلی کے معاملے پر ایکشن لے لیا ہے

    نشتر اسپتال کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو نیفرولوجی وارڈ سے ایڈز کی 25 مریضوں میں منتقلی کے معاملے پر مکمل بریفنگ دی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے غفلت برتنے پر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس نشتر اسپتال ڈاکٹر کاظم اور وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر مہناز خاکوانی سمیت 5 سینیئر ڈاکٹرز کو معطل کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں افسران کو معطل کیا گیا،معطل ہونے والوں میں ہیڈ آف نیفرولوجی وارڈ ڈاکٹر غلام، ڈاکٹر جہانگیر، ڈاکٹر پونم، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر عالمگیر اور ہیڈ نرس ناہید بھی شامل ہیں، تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں تمام ڈاکٹرز کے لائسنس بھی منسوخ کردیے گئے۔

    واضح رہے کہ نشتر اسپتال ملتان کے ڈائیلسز یونٹ میں 25 مریضوں میں ایڈز وائرس کی منتقلی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال سے رجسٹرڈ مریضوں کے ایڈز ٹیسٹ نہیں کیے گئے، جو کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعد کے مطابق ڈائیلسز مریضوں کا ہر 6 ماہ بعد ایڈز ٹیسٹ اور 3 ماہ بعد ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ ضروری ہے، لیکن ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ 11 اکتوبر کو ڈائیلسز یونٹ میں ایک مریض میں ایڈز وائرس رپورٹ ہوا۔ اسپتال انتظامیہ نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی اور ایڈز کنٹرول پروگرام کے کسی ماہر ڈاکٹر سے رابطہ نہیں کیا،ایک ماہ گزرنے کے باوجود 25 مریضوں کے اہل خانہ کے اسکریننگ ٹیسٹ نہیں کرائے گئے، جس سے ان کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔تحقیقات میں اسپتال کے ایم ایس (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ)، ہیڈ آف نیفرالوجی اور سینئر رجسٹرار کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ڈائیلسز یونٹ کا مکمل ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے

  • سزا یافتہ قیدیوں کو انکے متعلقہ ضلع کی جیل میں رکھنے کا  فیصلہ

    سزا یافتہ قیدیوں کو انکے متعلقہ ضلع کی جیل میں رکھنے کا فیصلہ

    وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر جیل ریفارمز کے حوالے سے مثالی پیشرفت سامنے آئی ہے

    سزا یافتہ قیدیوں کو انکے متعلقہ ضلع کی جیل میں رکھنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا،محکمہ داخلہ پنجاب نے سزا یافتہ قیدیوں کو اپنے ضلع کی جیل میں رکھنے کی پالیسی بنا لی،ماضی میں 5 سال سے زائد قید کی سزا پانے والے اسیران کو اپنے اضلاع کی بجائے سینٹرل جیلوں میں رکھا جاتا تھا،گھر سے دور قید کاٹنے والے اسیران کے والدین اور اہل خانہ شدید مشکلات کا شکار تھے،دور دراز جیلوں میں قیدی سے ملاقات کیلئے اہل خانہ کو مالی و دیگر مشکلات کا سامنا رہتا تھا،سابقہ پالیسی کے پیش نظر سینٹرل جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کو رکھا جا رہا تھا

    حکومت پنجاب کے حالیہ اقدامات سے ڈسٹرکٹ جیلوں کی سکیورٹی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے،ڈسٹرکٹ جیلوں میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش بھی موجود ہے،سزائے موت کے قیدیوں کو پہلے ہی متعلقہ اضلاع کی جیلوں میں رکھا جا رہا ہے ،تمام ڈسٹرکٹ جیلوں میں انڈسٹری لگائی جا چکی ہے اور قید بامشقت دی جاسکتی ہے

    محکمہ داخلہ نے قیدیوں کو انکے ضلع کی جیل میں بھیجنے کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی،کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی سفارشات اور لائحہ عمل طے کریگی،ڈپٹی سیکرٹری (پریزن) ہوم، ڈی آئی جی پریزن سرگودھا ریجن، ڈی آئی جی پریزن ڈی جی خان ریجن، اے آئی جی جوڈیشل انسپکٹریٹ آف پریزن، سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل فیصل آباد اور سیکشن آفیسر ہوم ڈیپارٹمنٹ کمیٹی میں شامل ہیں،

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • پی ٹی آئی احتجاج، اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    پی ٹی آئی احتجاج، اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت

    تحریک انصاف کا احتجاج، اڈیالہ جیل جانے والے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

    اڈیالہ جیل کے گردو نواح کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیل کو تھانہ ڈکلیئر کرکے پولیس تعینات کر دی گئی ہے، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے سیل سرکل 4 کو تھانہ نیو ٹاؤن قرار دے دیا گیا ہے، سرکل 4 کو تھانہ قرار دینے کے احکامات سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں

    دوسری جانب جڑواں شہروں ے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے،اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والا مرکزی راستہ فیض آباد انٹرچینج بھی بند کر دیا گیا ہے،سکستھ روڈ سے فیض آباد تک بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ فیض آباد لاری اڈے پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ خالی کرا دیے گئے،سی پی او راولپنڈی کا کہنا ہے کہ امن و امان خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے، سیف سٹی کیمروں سے شہر کی نگرانی کی جا رہی ہے

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

  • نومئی مقدمات،علیمہ،عظمیٰ، زین قریشی  کی ضمانت میں توسیع

    نومئی مقدمات،علیمہ،عظمیٰ، زین قریشی کی ضمانت میں توسیع

    لاہور انسداد دہشت گردی عدالت ،جناح ہاؤس حملہ سمیت نو مئی کے دیگر مقدمات کی سماعت ہوئی

    علیمہ خان، عظمی خان اور زین قریشی کی ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، وکیل ملزمان نے کہا کہ راستے بند ہیں جس کے باعث درخواست گزار عدالت نہیں آ سکے ۔ جج اے ٹی سی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پیش نہ ہوئے تو درخواستیں مسترد کر دیں گے۔ تفتیشی افسر آئندہ سماعت تک تفتیش مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے علیمہ خان، عظمی خان، زین قریشی کی عبوری ضمانت میں سات دسمبر تک توسیع کر دی ،انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی ، ملزمان نے جناح ہاؤس حملہ سمیت دیگر مقدمات میں عبوری ضمانتیں دائر کر رکھی ہیں

    انسداد دہشتگری عدالت لاہور ،پی ٹی آئی جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کی 5 اکتوبر کو توڑ پھوڑ کے مقدمے میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے سلمان اکرم کے عبوری ضمانت میں 7 دسمبر تک توسیع کر دی ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کی طبیعت ناساز ہے، تمام راستے بند ہیں،سلمان اکرم راجہ کی حاضری معافی کی درخواست منظور کی جائے،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے عبوری ضمانت پر سماعت کی ،سلمان اکرم راجہ نے پانچ اکتوبر کو توڑ پھوڑ کے کیس میں عبوری ضمانت دائر کر رکھی ہے

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • بشریٰ وضاحت کریں یا قوم سے معذرت ،تماشا ختم ہونا چاہیے،خواجہ آصف

    بشریٰ وضاحت کریں یا قوم سے معذرت ،تماشا ختم ہونا چاہیے،خواجہ آصف

    خواجہ آصف کا بشریٰ بی بی کے بیان پر ردعمل: پی ٹی آئی رہنما پریشانی میں متضاد بیانات دینے لگے

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کا یہ بیان پی ٹی آئی کے لیے ایک "سیاسی خودکش حملہ” ثابت ہوا ہے، جس کے بعد پارٹی رہنما بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما گزشتہ 24 گھنٹوں میں بیان کی مختلف تشریحات کرتے ہوئے عوام کے سامنے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اگر بشریٰ بی بی میں ہمت ہے تو وہ خود اپنے بیان کی وضاحت کریں یا قوم سے معذرت کریں۔ یہ تماشا ختم ہونا چاہیے۔”خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کے متنازعہ الفاظ کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما اپنے موقف کا دفاع کرتے کرتے "رل گئے ہیں”۔ ہر کوئی ایک الگ وضاحت پیش کر رہا ہے، لیکن عوام کے ذہنوں میں سوالات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی بشریٰ بی بی کے بیان اور پی ٹی آئی کی موجودہ صورت حال پر تبصرے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے ہمیشہ دوسروں پر الزامات لگائے ہیں، لیکن اب خود ان کے بیانات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کے سعودی عرب کے حوالہ سے بیان سے نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں بلکہ ان کی عوامی حمایت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق، یہ واقعہ پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور پی ٹی آئی کو اپنے بیانیے کو درست کرنے کے لیے بڑے فیصلے لینے پڑیں گے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی مرکزی قیادت کی اکثریت نےخود کو بشری بی بی بیان سے الگ کرنے کافیصلہ کیا ہے،بشری بی بی کے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں تشویش کی لہر دوڑچکی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے بشری بی بی کو کسی بھی معاملے سے پہلے بانی پی ٹی آئی یا پارٹی سے مشاورت کا کہہ دیا گیا، بشری بی بی نے اپنی مشیر مشعال یوسفزئی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو پیغام پہنچانے کی کوشش کی تاہم مشال یوسفزئی کو اڈیالہ میں عمرا ن خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ پارٹی قیادت کی تشویش پر بانی پی ٹی آئی کا بشری بی بی کو سیاست سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا ویڈیو پیغام ایڈیٹ کر کے اپلوڈ ہوا لیکن اتنی بڑی غلطی کیسے نظر انداز ہوئی, ویڈیو ایڈیٹ کرنے کے بعد بھی جاری کردہ بیان کی ٹائمنگ درست نہیں تھی،

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے جو کچھ کہا مکمل تیاری اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہا ہے، اُس کی نظیر پی ٹی آئی کی فتنہ و فساد سے بھری تاریخ میں بھی نہیں ملتی،دوست ملکوں کو ناراض کر کے پاکستان سے دور کرنا بانی پی ٹی آئی کی سیاست کا خاصہ رہا ہے، "خان نہیں تو پاکستان نہیں” کا نعرہ مکہ و مدینہ کی مقدس سرزمین تک آ پہنچا ہے، ننگے پاؤں اور مدینہ کے نام پر لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلا گیا، یہ بھی نہ سوچا گیا کہ عظیم دوست اسلامی ملک پر کتنا گھناؤنا الزام لگایا جا رہا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • امن و امان  خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    امن و امان خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والےکسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی الصبح پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانفشانی کی تعریف کی،اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس، چیف کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس افسران کی بڑی تعداد بھی پولیس لائنز میں موجود تھی،پولیس لائنز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کل بیلاروس کا وفد اور 25 نومبر کو بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے کے پیش نظر اسلام آباد کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے، پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا،ہمیں آپ اور آپ کی زندگیاں بہت عزیز ہیں، دوران ڈیوٹی تمام حفاظتی سامان پہننا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کسی کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، امن و امان کو قائم رکھنے اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سحر کامران نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اہم کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستان میں پسماندہ طبقات کی سیاسی بااختیاری اور انتخابی عمل میں شمولیت کو فروغ دینے کے موضوع پر مرکوز تھی۔

    سحر کامران نے اپنی شرکت کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم مسئلے پر بات کرنے اور مختلف طبقوں کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً انسانی حقوق کمیشن اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔کانفرنس میں پسماندہ طبقات، بشمول خواتین، اقلیتوں، اور معذور افراد کی انتخابی عمل میں شرکت کو بڑھانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز  کا انعقاد کیا گیا، جن میں نمایاں ماہرین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستانی سماج میں ایک مثبت تبدیلی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جہاں پسماندہ طبقات کے حقوق اور ان کے انتخابی عمل میں کردار کو اہمیت دی جائے،

    کانفرنس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) اور فریڈرک نومن فاؤنڈیشن فار فریڈم (ایف این ایف) کے اشتراک سے منعقدہ ایک کانفرنس میں خواتین، ٹرانس جینڈر افراد، مذہبی اقلیتوں اور معذوری کا شکار افراد سمیت پسماندہ طبقات کے سیاسی اختیار اور انتخابی عمل میں شرکت میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت پھل پھول سکتی ہے جب ہر شہری کو سیاسی عمل میں مساوی شرکت کا موقع ملے۔ ایف این ایف کی سربراہ بیرگٹ لام نے کہا کہ شہری ووٹ ڈالنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وکیل اور محقق ماورا غزنوی نے کہا کہ سب سے اہم مسئلہ دور دراز علاقوں میں خواتین اور معذوری کا شکار افراد کی پولنگ اسٹیشنز تک رسائی ہے۔ معذوری کا شکار افراد کے حقوق کے کارکن زاہد عبداللہ نے کہا کہ معذوری کا شکار خواتین کی بطور ووٹر کم نمائندگی ہونا باعث تشویش ہے۔ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کی کارکن نایاب علی نے نشاندہی کی کہ ٹرانس جینڈر ووٹروں کی صنفی شناخت اور صنفی اظہار سے جڑے کلنک کے باعث ان کے خلاف امتیازی سلوک اب بھی عام ہے۔ ماہر تعلیم اور سماجی کارکن فرزانہ باری نے سیاست میں خواتین، مزدور طبقے، معذوری کا شکار افراد اور ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی نشاندہی کی۔

    وکیل محمود افتخار احمد نے کہا کہ احمدی کمیونٹی کے لیے علیحدہ انتخابی فہرستوں نے انہیں مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے کیونکہ ان کا ذاتی ڈیٹا قابل رسائی ہے جسے احمدیوں کے گھروں اور کاروبار کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے تجویز دی کہ عام شہریوں کے لیے انتخابی فہرست میں اپنا نام تلاش کرنے کے عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار اور جے یو آئی (ف) کی رہنما آسیہ ناصر نے الزام لگایا کہ خواتین ووٹرز اور مذہبی اقلیتوں کے ووٹرز کو پولنگ کے دن تشدد کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابی امور کے ماہر طاہر مہدی نے کہا کہ جب تک جمہوری نظام اشرافیہ کے زیر تسلط رہے گا، معذور افراد کے لیے ریمپ یا خواتین کے لیے مخصوص نشستوں جیسے علامتی اقدامات کمزور طبقات کے مسائل کا دیرپا حل ثابت نہیں ہوں گے۔ انسانی حقوق کی کارکن رومانہ بشیر نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مختص کوٹہ پر عملدرآمد کرنا چاہیے، لیکن اہم بات یہ کہ انہیں اس حد تک بااختیار بنانا چاہیے کہ یہ کوٹے بالآخر غیر ضروری ہو جائیں۔

    ایم کیو ایم (پاکستان) کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ معذوری کا شکار افراد کے لیے مخصوص نشستوں کے خیال کی حامی رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ بیشتر خواتین قانون سازوں کا اعلیٰ سطح کے فیصلوں میں کردار اب بھی انتہائی محدود ہے۔نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالحسیب نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ ووٹرز کے قومی شناختی کارڈز تک رسائی بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر (جینڈر) آمنہ سردار نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ووٹرز کے پولنگ اسٹیشنز کو بغیر کسی وجہ کے تبدیل نہ کیا جائے۔ایچ آر سی پی کے کونسل ممبر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ووٹروں کو رجسٹریشن کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنا ایک ثانوی مسئلہ ہے۔ اس کے بجائے، الیکشن کمیشن، نادرا اور سیاسی جماعتوں کو پسماندہ ووٹروں اور امیدواروں سے متعلق ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کے لیےکام کرنا چاہیے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایچ آر سی پی کی وائس چیئر اسلام آباد نسرین اظہر نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • ورجن آسٹریلیا کی پرواز میں اصلی "سانپ” گھس گیا

    ورجن آسٹریلیا کی پرواز میں اصلی "سانپ” گھس گیا

    ورجن آسٹریلیا کی پرواز VA1482، جو برووم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرتھ ایئرپورٹ جا رہی تھی، ایک انوکھے مسافر کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی۔ طیارے کے اڑان بھرنے سے پہلے عملے نے ایک "اسٹمسنز پائتھن” (غیر زہریلا اور بے ضرر سانپ) کو طیارے میں پایا۔

    اس موقع پر "ڈزنی شپ ریک ہنٹرز آسٹریلیا” کے ریئلٹی ٹی وی اسٹار، آندرے ریریکورا نے فوری طور پر سانپ کو قابو کیا اور اسے ایک ایئرپورٹ ملازم کے حوالے کر دیا تاکہ سانپ کو محفوظ طریقے سے آزاد کیا جا سکے۔ریریکورا نے بتایا کہ:”طیارے کو تقریباً بند کر دیا گیا تھا اور سب کو نیچے اتارنے کی تیاری تھی، لیکن کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا کیونکہ سب گھر جانا چاہتے تھے۔ جب میں نے سانپ کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ کچھ نہیں کہتا۔ یہ بہت ڈرا ہوا اور شرمیلا تھا، اس لیے میں نے فوراً اسے باہر نکال دیا۔ یہ بہت پیارا تھا، لیکن کچھ ایئر ہوسٹسیں خوف سے بھاگ رہی تھیں۔”

    مسافروں اور عملے نے ریریکورا کے فوری عمل کی تعریف کی اور خوشی کا اظہار کیا کہ نہ صرف وہ طیارے سے اتارنے سے بچ گئے بلکہ سانپ بھی محفوظ رہا۔ ریریکورا کو شکریے کے طور پر ایئرلائن کی طرف سے ایک مفت مشروب دیا گیا۔

    یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں فوری فیصلہ اور ہمت کیا کچھ کر سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے، آندرے ریریکورا کی حاضر دماغی نے سب کو بچا لیا اور سفر جاری رہا.

  • ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ہم جنس پرست فلائٹ اٹینڈنٹ کو متنازعہ گفتگو اور آن لائن پوسٹس پر برطرف کردیا گیا

    یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ایک فلائٹ اٹینڈنٹ، روبن سانچیز، کو مبینہ طور پر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہم جنس پرستی پر گفتگو کرنے اور اپنی متنازعہ سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سانچیز خود بھی ہم جنس پرست ہیں۔رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ مئی 2023 میں لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کلیولینڈ ہوپکنز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے دوران ایک پرواز میں پیش آیا۔ سانچیز، جو 28 سال سے فلائٹ اٹینڈنٹ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، نے ایک ساتھی کے ساتھ اپنے کیتھولک عقائد اور پرائیڈ مہینے کے حوالے سے گفتگو کی، جو ایک مسافر کے مطابق قابل اعتراض تھی۔

    مسافر نے شکایت کی کہ سانچیز نے کہا،”مجھے تمام سیاہ فام لوگ ناپسند ہیں” اور "میں فخر سے اینٹی ٹرانس ہوں۔”سانچیز نے ان الزامات کی تردید کی، لیکن نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "کیتھولک ہونے کے ناطے ہمیں پرائیڈ کا مشاہدہ نہیں کرنا چاہیے۔ چرچ کبھی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ مرد بچے پیدا کرتے ہیں، عورتوں کے پاس عضو تناسل ہوتا ہے، یا چرچ کو ہم جنس شادیوں کی منظوری دینی چاہیے کیونکہ شادی ایک مقدس رسم ہے، جو دو مردوں یا دو عورتوں کے لیے نہیں ہے۔”

    سانچیز کا مزید کہنا تھا کہ فخر محبت، آزادی، اور ہم جنس پرستی لوگوں کے زندہ رہنے اور نظر آنے کے حق کا جشن ہے۔ میری پرورش ایک کیتھولک ہوئی تھی اور روحانی رہتے ہوئے منظم مذہب سے دور ہو گیا ہوں۔ میں ایک ہم جنس پرست آدمی بھی ہوں، میرے علم کے مطابق، کیتھولک چرچ نے یہ نہیں کہا ہے کہ فخر کا مہینہ ایک مسئلہ ہے یا پیرشینوں کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔ میں نے اس موقف کی ظاہری حمایت کے لیے ویٹیکن کی طرف سے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ یہ ہم جنس شادی کی حمایت نہیں کرتا اور میں اس کے ساتھ ٹھیک ہوں۔ یہ شرم کی بات ہے، لیکن اگر مذہبی نظریہ لوگوں کو اس بات پر یقین دلاتا ہے۔ LGBTQI+ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ہم جنس پرست جوڑوں کو پیش کردہ قانونی حقوق اور چرچ کو الگ رکھا جائے۔ مزید، چاہے آپ ٹرانس افراد کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں،

    سانچیز کا دعویٰ ہے کہ ان کے ایک سپروائزر نے ان کی سوشل میڈیا پوسٹس کی جانچ کی اور انہیں متنازعہ پایا۔ ان پوسٹس میں وہ اپنی یونیفارم میں نظر آ رہے ہیں، جس سے ان کی شناخت یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ملازم کے طور پر ہوئی۔ سانچیز نے کہا کہ انہیں "ووک کلچر” اور "کینسل کلچر” کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایک GoFundMe مہم شروع کی ہے تاکہ ان افراد کی مالی مدد کی جا سکے جو پادری بننا چاہتے ہیں لیکن مالی وسائل نہیں رکھتے۔ اب تک انہوں نے $12,000 سے زیادہ رقم جمع کر لی ہے۔

    یونائیٹڈ ایئرلائنز کی سوشل میڈیا پالیسی کے مطابق،”سوشل میڈیا پوسٹس کو احترام پر مبنی ہونا چاہیے اور ان میں کسی کے خلاف تشدد، بدنامی، یا ہراسانی نہیں ہونی چاہیے۔”سانچیز کی کئی پوسٹس اس معیار پر پوری نہیں اترتیں۔

    اس معاملے نے سماجی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے سوالات کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے، لیکن کام کی جگہ پر تعصباتی خیالات کا اظہار ناقابل قبول ہے۔سانچیز کی برطرفی اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر متنازعہ سرگرمیاں ملازمت پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • سروسز انٹرنیشنل ہوٹل  کی کامیاب نجکاری، کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا ،علیم خان

    سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی کامیاب نجکاری، کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا ،علیم خان

    سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور (ایس آئی ایچ) کی نجکاری کا عمل پنجاب کوآپریٹو بورڈبرائے لیکیوڈیشن (پی سی بی ایل)، سوک کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ (سی سی سی ایل)، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ایل ڈی اے)، نجکاری کمیشن اور خریدار کے درمیان فروخت کے معاہدے پر پرائیویٹائزیشن کمیشن اسلام آباد میں دستخط سے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

    وفاقی وزیر برائے نجکاری،چیئرمین نجکاری کمیشن عبدالعلیم خان نے دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔میسرز فیصل ٹائون (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو اگست 2021 میں ہونے والی کھلی عوامی نیلامی کے نتیجہ میں نجکاری کمیشن نے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے 27 اکتوبر 2021 کو دی تھی۔وفاقی وزیر نجکاری نے حکومت پنجاب سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تمام زیر التواء مسائل کے حل کو باہمی تعاون سے ممکن بنایا جس سے اس نجکاری کی تکمیل ہو پائی۔ وفاقی وزیر نے نجکاری پروگرام کی کامیابی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تمام تر حکومتی مشینری کے یکجا طور پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور کی کامیاب نجکاری سے پرائیوٹائزیشن کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا اور یہ ادارہ باقی کیسز کو بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گا۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافے کے لئے غیر ضروری کاغذی کارروائیوں میں وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں نجکاری کے امور کو کم سے کم وقت میں مکمل کرنا چاہیے۔