Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلا رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی،محسن نقوی نے کہا، کسی جلوس،دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔بیلا روس کا وفد آ رہا ہے،محسن نقوی کے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔باخبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے تحریک انصاف کل ڈی چوک میں احتجاج پر بضد ہے،حکومت نےایف نائن، سنگجانی میں احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے،تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کب داخل ہونا؟ پروگرام طے ہو گیا
    پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔ قیادت کے ساتھ علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور رانی خان بھی موجود ہوں گی۔

    تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا، جس کی علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے صدارت کی،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز مورخہ 24 نومبر کو پاکستان بھر کے ہر شہر سے ہو گا،قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرینگے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لئے جاتے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی کے لیڈران، کارکنان اور عمران خان کی رہائی ، 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، 8 فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی،پولیٹیکل کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوردہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا اور معاملات کے فوری حل کے زمرے میں حکومتی بے حسی اور بے بسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج میں جوق در جوق شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں۔ تاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری دور کا آغاز ہو سکے۔ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی دے۔

    موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات
    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج ،وزارت داخلہ نے موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات پی ٹی اے کو صادر کر دیئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہی وزارت داخلہ سے خط موصول ہوگیا تھا،آج موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق ہے،فی الحال صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کو موبائل، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا احکامات دیئے جائینگے، ذرائع پی ٹی اے

    سابق صدر عارف علوی کی تقریر
    پشاور میں سابق صدر عارف علوی نے پی ٹی آئی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر پاکستانی کے دل میں ایک امید کی طرح دھڑک رہے ہیں، اور ان کی محبت عوام کے دل سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین، قانون، اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    موٹرویز اور ٹرانسپورٹ کی بندش
    ملک کی مختلف موٹرویز بشمول پشاور-اسلام آباد اور لاہور-اسلام آباد کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ بندش 23 نومبر کی رات 8 بجے سے نافذ ہوگی۔ لاہور کی رنگ روڈ کو بھی 2 دن کے لیے احتجاج کے پیش نظر صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    عوامی مشکلات
    ٹرانسپورٹ اڈوں اور موٹرویز کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد اسلام آباد آتے جاتے ہیں، اور بندش کے سبب مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا، جس سے یومیہ 4 سے 5 کروڑ روپے کا نقصان متوقع ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بند کر کے ہمارا احتجاج پہلے ہی کامیاب بنادیا ہے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹروے اور شاہراہیں بند کردیں، پنجاب بھر میں دفعہ 144کا نفاذ، ہوٹلوں اور لاری اڈوں کی بندش ثبوت ہے کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ہم ابھی 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کےمراحل میں ہیں، حکومت نے ملک بند کرکے ہمارااحتجاج خود ہی کامیاب بنادیا۔ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت ملک بند کرکے عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں، جیل میں قید ایک شخص نے احتجاج سے قبل ہی حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    24 نومبر کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 23 نومبر کو میٹروبس سروس آئی جے پی تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند رہے گی تاہم راولپنڈی میں میٹروبس سروس بحال رہے گی،راولپنڈی صدر اسٹیشن تا فیض آباد تک میٹروبس سروس چلے گی البتہ 24 نومبر کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند رہے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، لاہور،اسلام آباد،اہم شاہراہیں بند،کاروبار بند،شہریوں کو مشکلات
    پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، موٹرویز سمیت کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئیں،راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں،اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے،فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا،

    لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، بابو صابو انٹر چینج ، سگیاں پل ، شاہدرہ چوک بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ رنگ روڈ کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے،فیصل آباد شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم 5، سکھر سے رحیم یار خان تک بند کر دی گئی ہے،اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے رینجرز اور ایف سی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنےکی ہدایت کر دی ہے،اسلام آباد کے تمام تھانوں میں گرفتار افراد کو رکھنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ قیدی وینزبھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں،پنجاب بھر میں آج سے 25 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    صدر، اے ٹی ڈبلیو اے بلو ایریا راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ تمام بزنس کمیونٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلو ایریا میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم کے مطابق، تمام دکانیں، دفاتر، ریسٹورینٹس اور کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔دفعہ 144 نافذ ہے،صرف میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔تمام کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ اپنے کاروبار بند رکھیں اور گھروں میں آرام کریں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے اپوزیشن اتحاد سے کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی،پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں کی،اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے واپس کوئٹہ روانہ ہو گئے،بی این پی سربراہ اختر مینگل دبئی میں ہیں، ان سے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، علامہ ناصر عباس بیرون ملک دورے کی وجہ سے احتجاج کا حصہ نہیں ہوں گے

    اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان احتجاج کے لیے پرعزم ،تیاریاں مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ،ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے،میں اپنے حلقے میانوالی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا، ٹک ٹاکر حکومت نے ہمیشہ ہمارے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، پانی پی ٹی ائی کی فائنل کال ہے کل پورا پاکستان اسلام آباد جائے گا ، میانوالی کی عوام تیار ہے ہمارے کچھ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں کچھ کل قافلوں کی صورت میں جائیں گے،حکومت جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دے ہم رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام اباد پہنچیں گے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،

    عارف علوی کی کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل،بولے،تشدد ہمیشہ پولیس کرتی
    پی ٹی آئی رہنما ،سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور تیاری کے حوالہ سے میری درخواست پوری قوم سے یہ ہے کہ پر امن رہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جلسے جلوسوں میں پر امن رہی ہے۔ تشدد ہمیشہ پولیس نے کیا۔ دنیا کی پچھلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پر امن عوام پر جب پولس آنسو گیس یا لاٹھی سے حملہ کرتی ہے تو پھر عوام ایسے ظالمانہ مار پیٹ کے بعد سنگ و خشت کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد کے بہانے “پرچم دروغ” کا استعمال ہم نے 9مئی کے دن دیکھا جس کے زہریلے انڈے اور بچے آج بھی نمودار ہو رہے ہیں۔پر امن رہیئے اور اللہ پر بھروسہ کریئے۔ وہی خدا ہے جو اس ملک کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ انشاللہ

  • سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے،خاص طور پر جب ہم درجنوں شہادتوں کو ایک دن میں سہہ رہے ہیں،اتنی شہادتیں کہ ایک دن میں تدفین بھی نہیں ہو سکتی،ایسے وقت میں احتجاج،دھرنوں کی سیاست ظلم ہے، دوسروں کی اولاد،بچوں کے شاندار مستقبل کی بات کریں لیکن اپنے بچوں کو احتجاج میں نہ لائیں، بشریٰ بی بی نے کل ایک تقریر کر دی اس نے بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے،حالت یہ ہو گئی کہ سلمان احمد جو عمران خان کے پرانے دوست ہیں، ان کو ایک ٹویٹ کرنی پڑی،عارف علوی نے بھی ایک ٹویٹ کی،یہ کوئی چھوٹا بیان نہیں ہے، دو لوگ بانی پی ٹی آئی کی گفتگو عام کر رہے ہیں ایک گنڈا پور دوسری علیمہ، یہ بیان کسی اور سے آتا تو اسکی ویلیو مختلف ہوتی کیا پی ٹی آئی نے اپنے لئے دروازے بند کر دیئے ہیں کیا ڈونلڈ ٹرمپ سے جو امیدیں لگائی ہیں وہ ختم ہو چکی ہیں ، اب یہ والی بات کر کے کیا ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ری پبلکن پارٹی سے دور کر لیا جس پر یہ لاکھوں ڈالر لابنگ کے لئے لگا چکے، ہمارے ملک میں دہشت گردی کا ناگ سر پھلائے بیٹھا اور ہم یہاں پر کل تک امریکا کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے، پھر باجوہ، پھر لندن پلان اور اب سعودی ولی عہد کو،

    مریم اور نواز شریف نے کھانا کھایاتو پی ٹی آئی نے بٹ کڑاہی والوں پر مقدمہ کروا دیا تھا، عظمیٰ کاردار
    کھراسچ پروگرام میں بات کرتے ہوئےمسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ مجھے پی ٹی آئی کے ساتھ بہت ہمدردی ہے، پی ٹی آئی کی کورکمیٹی یا پارلیمانی پارٹی انکو سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا، یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی کہ جانشین بانی کا مرشد ہے اور خان نے جو پیغام دینا تھا وہ کسی تنظیمی عہدیدار کو نہیں دی گئی بشریٰ کو دی گئی، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پارٹی رہنماؤں پر شک ہے کہ رہنما کمپرومائزڈ ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کتنی اعلیٰ گورننس ہے کہ سڑکیں بند کر دیں، انٹرنیٹ بند کردیں، ہوسٹلز بند کر دیں، گورننس کا اور طریقہ نہیں آتا جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج پر ہم یقین رکھتے ہیں، مریم نواز اور نواز شریف جب تنظیمی پروگرام کے لئے نکلے تھے تو بٹ کڑاہی پر ان لوگوں نے مقدمہ درج کروا دیا کہ نواز شریف کو کڑھائی کیوں کھلائی، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پورا ملک بند کر کے وزیراعلیٰ پنجاب لندن چلی جاتی ہیں، وزیر ماحولیات ان کے ساتھ، چیف سیکرٹری ان کے ساتھ،یوٹیوب کو پیسے آفر ہو رہے ہیں کہ سموگ بارے ہمارے حق میں پروگرام کریں، عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کمیونٹی رہتی ہے،دفعہ 144 نافذ ہے، قانون اور آئین اجازت نہیں دیتا کہ وہ وہاں آئیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کون سا قانون، آپ نے دفعہ 144 لگائی، چار بندوں کو نہ جانے دیں، ہوٹلوں سے لوگوں کو کیوں نکال رہے ہیں، جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ میں کل رہ کر آئی ہوں، کچھ بند نہیں ہوا،مبشر لقمان نے ہوٹلز بند ہونے کا نوٹفکیشن دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھیں ،جس پر عظمیٰ کاردار نے کہا کہ کچھ بند نہیں، مبشر لقمان نے کہا کہ موٹروے بند ہو گئی، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ کچھ بند نہیں، میں کل آئی ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انکو کل منع کر دیا ہے،اگر آپ چاہتے ہیں یہ وفاق پر حملہ کریں تو کیا ہو سکتا ہے،ریاست کا حق ہے کہ وہ حملہ آوروں کو روکے، مبشر لقمان نے کہا کہ احتجاج ان کا آئینی حق ہے، غیر آئینی کام نہیں کرتے ہم مفروضے کے طور پر ان کا حق نہیں چھین سکتے، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں، نومئی کو بھول گئے،گنڈا پور کا بیان بھول گئے،پولیس والوں کے کپڑے پھاڑے گئے، آپ کے سامنے ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اینکر ہوں، میرے پاس بہت کچھ ہے، سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی ہوتا ہی ناں،

    توڑ پھوڑ،احتجاج، تقریریں حل نہیں، مذاکرات سے آگے بڑھا جا سکتا، رضا ہارون
    پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ہارون کا کہنا تھا کہ مذاکرات آگے بڑھنے کا راستہ ہے،پی ٹی آئی کے تین مطالبات ہیں، ایک بھی مطالبہ توڑ پھور کرنے، تقریروں سے حل نہیں ہو گا، یہ مذاکرات سے حل ہو گا جب بات نہیں کریں گے تو کیسے مسئلے حل ہوں گے،24 نومبر ایک کال کی مار ہے،ابھی مذاکرات کی بات چیت شروع ہوئی تھی اس وقت خوشیاں نہیں دیکھی تھیں چہرے پر،

    پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عمران خان کی بات کی ہے، میری چار ماہ سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، بشریٰ کا کل جو بیان آیا ،اس کا پارلیمانی پارٹی کو نہیں پتہ، جہاں ہمیں خان کا حکم مل رہا ہوتا ہے سر آنکھوں پر، جہاں پر ذاتی رائے مل رہی ہووہ ہم نہیں مانیں گے،ایک ایمبسڈر نے مجھے کہا تھا کہ عمران خان کو ہٹانا ہے مجھے جھٹکا لگا، میں نے اسد قیصر کو یہ ساری بات بتائی، کل جو پینڈورا باکس انہوں نے کھولا ، میں صبح سے دیکھ رہی ہوں کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ بشریٰ نے کسی کا نام نہیں لیا، بحرحال یہ اچھی بات نہیں ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل کو جب کیس ہو گا تو چینل کو پیمرا کو جواب دہ ہونا پڑے گا اور مجھے بھی، جتنا مرضی میں مان لوں کہ یہ پی ٹی آئی کا بیان نہیں انفرادی بیان ہے، ڈھول توگلے میں پڑ گیا، شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ میں بغیرتصدیق یا تردید کےاپنی رائے دے رہی تھی،

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    21 نومبر کو کرم میں پیش آنے والا المناک واقعہ پوری قوم کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھا۔ اس حادثے کے بعد ہر دل دعاگو تھا کہ حالات پر قابو پا لیا جائے اور نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے حساس موقع پر بھی کچھ افراد نے اپنی ذاتی سیاست چمکانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

    پی ٹی آئی سے وابستہ دو بھائی، سابق آئی جی پولیس سید ارشاد حسین اور ریٹائرڈ ائیر مارشل قیصر حسین، نے اس سانحے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ قافلے کی سیکیورٹی فوج کی گاڑیاں کر رہی تھیں، جنہوں نے مبینہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کی جان بچانے میں ناکامی دکھائی۔یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قافلے کی حفاظت پولیس کی گاڑیاں کر رہی تھیں، جبکہ فوج اس مقام سے میلوں دور موجود تھی۔ حادثے کے فوری بعد، فرنٹیئر کور اور فوج نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔

    سابق آئی جی سید ارشاد حسین، جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کے پی کے حلقہ 96 سے امیدوار بھی رہ چکے ہیں، کا یہ رویہ ان کی غیر ذمہ داری اور جھوٹ بولنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے حساس مواقع پر جب قوم متحد ہو کر مسائل کا سامنا کرنے کی کوشش کرتی ہے، سیاسی مفادات کے لیے جھوٹ پھیلانا نہایت گھناؤنا عمل ہے۔یہ وقت اتحاد اور حقائق کو سمجھنے کا ہے، نہ کہ افواہوں اور جھوٹ کی بنیاد پر الزام تراشی کا۔ کرم کے عوام اور پاکستانی قوم کو چاہیے کہ ایسی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور ان عناصر کو مسترد کریں جو اپنی سیاست کے لیے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک کہتے ہیں کہ حالیہ دو ماہ سے پاراچنار اور کرم کی سڑک بند تھی، اختلاف شدت پر تھا۔ اب دو قبائل کی لڑائی کو فوج نے نہیں بلکہ سول انتظامیہ نے جرگے کے ذریعے حل کرنا تھا۔ آپ مجھے بتائیں کہ دو بڑے شہروں کا رابطہ بند ہے، کیا گنڈاپور سمیت کوئی ایک تحریک انصاف کا صوبائی عہدیدار صلح کروانے گیا؟ کسی نے جرگہ بلایا؟اب یہ جرگہ بلانا عطا تارڑ، رانا ثنا، شہباز شریف یا جنرل عاصم منیر کی ذمہ داری تھی یا خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کی؟

    صوبائی حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟
    انکی سنجیدگی کا آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اتنا افسوس ناک واقعہ ہونے کے باوجود آج بھی وہ عمران خان کے لئے دھرنوں کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ وزیر اعلی سے لیکر صوبائی کابینہ کا ایک بندا وہاں نہیں پہنچا۔ میں آپ سے ابھی کا گنڈاپور کا بیان شئیر کر رہا ہوں تاکہ آپ کو سنجیدگی کے عالم کا اندازہ ہوجائے۔

    اب میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں!کیا آپ جانتے ہیں خیبر پختونخواہ میں کس کی حکومت ہے؟12 سال سے تحریک انصاف کی،کیا آپ جانتے ہیں خیبر پختونخواہ میں کتنی پولیس ہے؟4 لاکھ،کیا آپ جانتے ہیں کہ اس 4 لاکھ پولیس کو کون چلاتا ہے؟وزیر اعلی خیبر پختونخواہ- انہوں نے پچھلے ماہ قانون بنا کر آئی جی کا رول بھی صفر کردیا ہے۔ایک مرتبہ سیاست کی پٹی اتار کر اپنی عقل سے سوچیں کہ جرگہ کروانا، امن و امان بحال کروانا، صوبے کے عوام کی خفاظت کرنا، مظلوموں کے جنازوں میں شریک ہونا، یہ سب سے زیادہ کس کی ذمہ داری تھی؟

    جس بندے کی ذمہ داری تھی وہ اسلام آباد میں حملے پلان کر رہا تھا
    اب یہ نمونے لانچ کردیتے ہیں، کبھی آئی جی ارشاد حسین جو خود تحریک انصاف کا امیدوار رہا ہے اور کبھی علامہ راجہ ناصر جو تحریک انصاف کی طفیل سیٹ لے گئے۔بیشرمی کی جو آخری حد ہے، یہ لوگ وہ حد بھی کراس کرچکے ہیں۔ کل یہی لوگ نک دا کوکا پر ناچ ناچ کر اسلام آباد داخل ہونگے جبکہ پاراچنار میں مظلوم رو رہے ہیں!
    اب ایک سوال لازمی اٹھنا چاہئے!فوج کیا کر رہی ہے؟فوج نے آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا، جس کو خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے رد کیا اور دہشتگردی کے خلاف آپریشن سے روک دیا۔ اب فوج صرف اپنی موجودہ حالت پر قائم ہے جہاں دہشتگرد کھلم کھلا حملے کر رہے ہیں اور پرسوں 12 جوان شہید ہوئے۔فوج اگر خیبر پختون خواہ میں کوئی آپریشن کرنا چاہے تو اسکے لئے آئین کے مطابق صوبائی حکومت کی درخواست موجود ہونا ضروری ہے۔اگر فوج کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو صوبائی حکومت استعفی دے دے اور ساری ذمہ داری فوج کے حوالے کردیں، پھر فوج ذمہ دار۔12 سال حکومت یہ کریں گے، 4 لاکھ پولیس سے پروٹوکول یہ لیں گے اور صوبے کا امن و امان تباہ ہونے پر ذمہ دار پاک فوج اور وفاق ہونگے؟یہ کہاں کا انصاف ہے؟خدارا اس منافقین کے ٹولے کو پہچانیں۔

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

  • سعودی عرب بارے  بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    بشریٰ بی بی کا سعودی عرب بارے متنازعہ بیان، ڈی جی خان ،لیہ، گوجرانوالہ، راجن پور،ملتان میں بشریٰ بی بی کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ 1885 کے تحت مقدمات درج مقدمے درج کر لئے گئے

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ویڈیو بیان کے خلاف ایف آئی آر ڈیرہ غازی خان میں درج کی گئی ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق بشریٰ بی بی نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے نفرت انگیز بیان دیا،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف دفعہ 126 ٹیلی گراف ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

    بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ غلام یسین ولد غازی خان، سکنہ ڈاک خانہ نواں جنوبی، چاه سمی والا، تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خان کی مدعیت میں دفعہ 126 ت پ -دی ٹیلی گراف ایکٹ، 1885 – 29 کے تحت درج کیا گیا،درج مقدمے میں کہا گیا کہ سائل شریف شہری محب وطن ہوں اپنے ملک پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات سننا گوارہ نہ کرتا ہوں مورخہ 21/11/2024 بوقت 9 بجے رات میں اڈا سو جھلی ہوٹل از ان فدا حسین پر دوستوں کے ساتھ چائے پی رہا تھا تو جیو نیوز ٹی وی چینل پرسابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی زوجہ الزام علیہ بشری بی بی کا بیان چل رہا تھا جس میں وہ کہہ رہی تھی کہ جب عمران خان عمرہ پر ننگے پاؤں گئے اور ان کی واپسی پر باجوہ کو کال آئی کہ آپ کسی کو اٹھا کر لائے ہیں ہم توملک پاکستان سے شریعت ختم کرنا چاہتے تھے اور تم شریعت کے ٹھیکداروں کو لے آئے ہو ” ان کی یہ بات اور بیان میرے ملک پاکستان اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اور اعلیٰ سطحی امور اور باہمی مفاد عامہ کے خلاف ہے جو کہ پاکستان اور پاکستان کی عوام کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے عالیجاہ ! الزام علیہ بشری بی بی نے ملک پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش کر کے اور ملک پاکستان اورپاکستان کی عوام کے جذبات مجروح کر کے سخت زیادتی کی ہے گواہان مسمیان – صغیر ولد واحد بخش قوم کچھیل سکنہ دیہ ، دین محمد ولد محمود قوم لنگرانہ سکنہ بستی لنگرانہ موضع نواں جنوبی بھی موجود تھے درخواست پیش کرتا ہوں الزام علیہ بشری بی بی کے خلاف سخت قانونی کاروائی کیا جائے ،تھانہ درخواست جمال نے مقدمہ درج کر لیا ہے

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    fir

    بشریٰ بی بی پر ڈی جی خان کے بعد راجن پور میں بھی مقدمہ درج
    بشریٰ بی بی کے سعودی عرب بارے متنازعہ بیان پر راجن پور میں بھی مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ حاکم دار کی مدعیت میں درج کیا گیا، درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ہم بیٹھے تھے اور موبائل پر خبریں سن رہے تھے جیو نیوز پر بشریٰ بی بی کا ویڈیو بیان نشر کیا گیا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشر یٰ بی بی بیان کر رہی ہیں کہ ننگے پاؤں مدینہ شریف میں چل رہے تھے ، باجوہ کی کال آئی کہ آپ کو کو اٹھا لائے ہیں ہم تو ملک پاکستان سے شریعت ختم کرنا چاہتے ہیں اور تم شریعت کے ٹھیکہ داروں کو لے آئے ہو، بشریٰ کا یہ بیان میرے ملک پاکستان اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اور اعلیٰ سطحی امور،اور باہمی مفاد عامہ کے خلاف ہے جو کہ ملک پاکستان اور پاکستانی عوام کے جذبات مجروح کر کے سخت زیادتی کی گئی، گواهان موجود تھے میں ایک محب وطن شہری ہوں اور پاکستان ہے محبت کرنے والا ہوں اس بیان سے دلی طور پر غمزدہ ہوں درخواست ہے کہ سخت قانونی کاروائی کی جائے اور بشریٰ بی بی کے طرف مقدمہ درج کیا جائے .

    بشریٰ بی بی کے خلاف لیہ میں بھی مقدمہ درج
    لیہ میں بھی بشری بی بی کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ تھانہ سٹی لیہ میں اشفاق سہیل کی مدعیت میں درج کیا گیا،مقدمہ بشری بی بی کے حالیہ سعودی حکومت کے حوالے سے بیان پر درج کیا گیا،درج مقدمے میں کہا گیا کہ بشری بی بی کا شریعت کے خاتمے کا بیان خارجہ پالیسی کے خلاف اور ملک کیخلاف سازش ہے،
    بشری بی بی کا بیان پاکستان اور سعودی عرب کے بیچ اعلی سطحی امور اور باہمی مفادات کے خلاف ہے،

    ملتان میں بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ قطب پور میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،گوجرانوالہ کے تھانہ صدر میں بھی بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،تھانہ صدر گوجرانوالہ میں محمد علی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے درج کیے گئے مقدمے کے مدعی کا کہنا ہے کہ ببشریٰ بی بی کا بیان سوچی سمجھی سازش ہے، جس سے جذبات مجروح ہوئے۔

    بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ سابق خاتون اول بشری بی بی کے خلاف بہاولنگر میں بھی ایف آئی آر درج کر لی گئی، بشری بی بی کے خلاف ایف آئی آر تھانہ سٹی بی ڈویژن میں درج کی گئی، ماڈل ٹاؤن کے رہائشی محمد آصف نامی شہری کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی ، ایف آئی آر 1885 کے ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کی گئی ،درج مقدمے میں کہا گیا کہ بشری بی بی کا بیان سوچی سمجھی سازش ہے،پاکستان اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی، اعلی سطحی امور باہمی مفاد عامہ کے خلاف ہے ،

  • پاکستان کے پہلے گورنمنٹ سیکٹرکے ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر کا قیام

    پاکستان کے پہلے گورنمنٹ سیکٹرکے ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر کا قیام

    چلڈرنز ہسپتال،یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور نے ہیموفیلیا فاؤنڈیشن آف پاکستان کے تعاون سے پاکستان کے پہلے عوامی شعبے کے ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر کے قیام کا اعلان کیا ہے ۔

    یہ معاہدہ جمعہ، 22 نومبر 2024 کو چلڈرنز ہسپتال لاہور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں طے پایا۔ یہ اقدام ہیموفیلیا اور دیگر بلیڈنگ ڈس آرڈرز سے متاثرہ بچوں کے لیے معیاری تشخیص، علاج اور نگہداشت فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے پہلے ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر کا قیام خون کے امراض میں مبتلا کمیونٹی کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ ان افراد کے لیے امید کی کرن ہے جو طویل عرصے سے مناسب علاج تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ مرکز اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر مریض، چاہے اس کے علامات کچھ بھی ہوں، بہترین دیکھ بھال اور علاج حاصل کرے گا جس کا وہ مستحق ہے۔

    ہیموفیلیا فاؤنڈیشن کے صدر، عباس علی زیدی نے اس تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی ہیموفیلیا کمیونٹی کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ دہائیوں سے خون کے امراض میں مبتلا افراد کو مناسب علاج اور دیکھ بھال تک رسائی میں بے پناہ چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال اور ٹریٹمنٹ سینٹر امید کی ایک کرن اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔ جب ہم ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرتے ہیں، تو کوئی بھی کامیابی حاصل کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر سائمہ فرحان، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیماٹولوجی اور انتقال خون، یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز، نے کہا کہ اس ٹریٹمنٹ سینٹر کا قیام خون کے امراض میں مبتلا بچوں کو درکار خصوصی دیکھ بھال اور علاج میں موجود ایک بڑی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان میں بہت سے خاندان جو مالی مسائل اور سفر کی رکاوٹوں کی وجہ سے علاج تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے ان کے لیے یہ ایک اہم سہولت ہے۔ ہم پبلک سیکٹر میں خصوصی اور جدید سہولیات متعارف کروا کر ہیموفیلیا سے متاثرہ بچوں کے بروقت، مؤثر اور قابل برداشت علاج کو یقینی بنا رہے ہیں۔ یہ سینٹر نہ صرف علاج فراہم کرے گا بلکہ ان بچوں کو ایک صحت مند، مفید اور بہتر زندگی گزارنے کا موقع بھی مہیا کرے گا۔

    چلڈرنز ہسپتال/یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز ، لاہور، ادارہ پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید ترین بچوں کا طبی مرکز ہے، جو بچوں کو عام علاج سے لے کر خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے میں معروف ہے۔
    ہیموفیلیا فاؤنڈیشن – پاکستان
    ہیموفیلیا فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، جو موروثی بلیڈنگ ڈس آرڈرز سے متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود اور علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے وقف ہے۔

  • بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی مقبول حکمران کو خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہوتا ہے، اسکے اپنے ہی سازش کرتے ہیں، ہمیشہ کوئی غدار اندر سے قلعے کا دروازہ کھولتا ہے اور قلعے کا دفاع پھر ممکن نہیں رہتا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہی کچھ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ کیا،پنکی پیرنی نے جس طرح اپنے شوہر اور جماعت کا خود کش حملہ کیا، اسکے بعد دفاع کرنا کسی کے لئے ممکن نہ رہا، لفظ گولی سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں، زبان کا دیا گھاؤ کبھی نہیں بھرتا،پنکی پیرنی نے بے بنیاد الزام پر مبنی ویڈیو جاری کر کے عمران خان کو وہ زخم دیئے جو کبھی نہیں بھر سکتے، پنکی پیرنی کی ویڈیونے ثابت کر دیا کہ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں تمام دوستوں کو ناراض کر دیا ،پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار بنا دیا، سرمایہ کاروں کو بھگایا،عمران خان اور پنکی پیرنی جب ارض مقدس اترے تھے تو انکے پاس خاورمانیکا اور انکے بچے بھی تھے،سرکاری وسائل پر اس غیر سرکاری دورے کے دوران کیا سعودی حکومت نے ان کو پروٹوکول نہیں دیا تھا، کیا خانہ کعبہ کا دروازہ نہیں کھولا گیا تھا، کیاانکی خدمت میں قیمتی نادار تحائف نہین پیش کیے گئے تھے، بشریٰ کی بیٹی کی شادی مسجد نبوی میں کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی؟ اس دورے کے بعد کیا سعودی ولی عہد کی عمران خان پر عنایت کا سلسلہ بند ہو گیا تھا؟ اگر سعودی عرب نے ہی حکومت ختم کرنے کا کہا تھا تو پھر سائفر کیوں لہرایا،پی ٹی آئی کو اس کیوں کا جواب دینا پڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے بھی اس طرح کی بات کی تھی جس پر عمران خان نے شیر افضل کو معذرت کرنے کا کہا تھا اب وہی حرکت پیرنی نے کر دی جوعمران خان کی مرشد ہے، کس منہ سے باز پرس کرے گا ، پیرنی نے یہ ڈیجیٹل دہشت گردی کیوں کی ہے، اسکے نتائج کیا ہوں گے، میری چڑیل نے بتایا کہ پیرنی کو نئے چلے کے لئے خون چاہئے، بے گناہ انسانوں کا خون سڑکوں پر بہے گا،تو پنکی پیرنی کے مرید خاص عمران خان کو اڈیالہ سے رہائی مل سکتی ہے، اب مسئلہ یہ کی پی ٹی آئی کی لیڈر شپ باہر نکلنے کو تیار نہیں نہ ہی ورکر، جس امریکا کو اپنا دشمن کہا تھا اسی امریکہ کی منتیں کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے جا رہے، پھر جنرل عاصم منیر کے خلاف محاذ بنایا اور اب اسی سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے، کارکنان کو چارج کرنے کے لئے انہیں کسی نئے دشمن کی تلاش تھی جس پر وہ انکو باہر نکال سکیں اسی لئے بشریٰ نے یہ باتیں گھڑیں، وہ سعودی سرمایہ کاری بند کروانا چاہتی ہیں، انہیں اندیشہ ہے پاکستان معاشی بحران سے نکل جائے گا اور اڈیالہ کادروازہ بند ہو جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ نے پنکی پیرنی کے بیان کی تردید کر دی ہے، پی ٹی آئی والے بھی وضاحتیں دے رہے ہیں لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ بشریٰ کو روکیں، فائنل کال عمران خان سے واپس نہیں کروا سکے، اب دوسری چال چلی، انہی کی فرمائش پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم نما تجویز دی ہے تا کہ دونوں کوئی حل نکالیں،یہ بات نہ عمران خان کو قبول ہے نہ پنکی پیرنی کو،گنڈا پور کے گھر رہتے ہوئے اس پر بشریٰ اعتماد نہیں کر رہی، ہو سکتا ہے کہ دوبارہ گرفتار ہونے سےپہلے وہ گنڈا پور کو قربانی کا بکرا بنا دے، اس نے تین میسج کل مولانا فضل الرحمان کو کئے، اب مولانا فضل الرحمان چاہیں تو گنڈا پور کو قربانی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • وزیراعلیٰ پنجاب”بادشاہ” فون ہی نہیں سنتی،گورنر پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب”بادشاہ” فون ہی نہیں سنتی،گورنر پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گورنر پنجاب کا فون سننا چھوڑ دیا

    اس بات کا انکشاف گورنرپنجاب سلیم حیدر نے خود کیا،پنجاب سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بادشاہ بن گئی ہیں، نہ ہی کبھی فون کیا اور نہ ہی میرٹ کے حوالے مشاورت کرتی ہیں، اب مریم نواز سے نہیں ملوں گا ، گورنر ہاؤس لاہور میں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کے دوران گورنر پنجاب سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ گورنر ایک آئینی عہدہ ہے اصولی طور پر وزیراعلیٰ گورنر کو ملنے آنا ہوتا لیکن میں وزیراعلیٰ کو ملنے گیا، ہمارا اتحاد مجبوری کا ہے، اگر ہم الگ ہو جائیں تو پھر ن لیگ کی حکومت کا کیا بنے گا، پنجاب میں معاملات میرٹ پر نہیں چل رہے،بطور اتحادی ہم سے مشاورت کی جائے،

    گورنر پنجاب سلیم حیدر کا مزید کہنا تھا کہ 6 ماہ فون پر بار بار رابطے کی کوشش کی مگر زیرو رسپانس آیا، اس لیے اب مریم نواز سے نہیں ملوں گا،ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اب ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے، اپنی قیادت کو پنجاب کی صورتِ حال سے آگاہ کر دیا ہے، ماضی میں ن لیگ کے ساتھ حکومت میں اتحاد کا تجربہ تلخ تھا، تحریری معاہدے اور مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دینے کے باوجود کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا، جو موجودہ صورتحال ہے ہم حکومت کو سپورٹ کر رہے لیکن کب تک کریں، ہماری طرف سے کمزوری نہیں، سسٹم کو چلانا ہے،ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری نہیں ہو گی تو بات کرنا ہمارا حق ہے، ہماری آخری حد تک کوشش ہو گی کہ معاملات بہتری کی طرف جائیں، احساس ہونا چاہئے،ن لیگ کے ساتھ الائنس میں ہمیشہ ہمیں نقصان ہوا، دو مختلف پارٹیاں ہیں، الگ سوچ کے ورکر ہیں، لیکن جب بھی بیٹھے ملک کی مجبوری میں بیٹھے، اس بار مینڈیٹ اس طرح کا تھا کہ مجبوری میں ن لیگ کے ساتھ بیٹھنا پڑا، نہ بیٹھتے تو الیکشن دوبارہ ہونا تھا سسٹم نہیں چلنا تھا،

  • بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کا تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کےسعودی عرب کے حوالہ سے بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے

    نجی ٹی وی جیو سے بات کرتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ "سعودی عرب پاکستان کا دوست اور محسن ہے ، سعودی عرب نےہر دور میں پاکستان کی بھر پور مدد کی، سعودی عرب نے بانی پی ٹی آئی کی حکومت کا بھی بہت خیال رکھا اور مدد کی،بشریٰ بی بی کا غیر ذمہ دارانہ بیان سراسر بے بنیاد ہے، سیاسی مفادات کے لیے بے بنیاد الزامات لگا کر قومی مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا”۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بشریٰ بی بی نے اپنے ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے توباجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں، باجوہ کو کہا گیا کہ یہ آپ کس شخص کو لے کر آئے ہیں، ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں، باجوہ کو کہا گیا ہم تو ملک میں شریعت ختم کرنے لگے ہیں اور آپ ایسے شخص کو لےکر آئے،کہا گیا ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں تب سے ہمارے خلاف گند ڈالنا شروع کردیا گیا، میرے خلاف گند ڈالا گیا ، بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کہنا شروع کیا گیا

    بشریٰ بی بی کے بیان کے بعد سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ نے انصار عباسی کے ذریعے بشریٰ کے بیان کی تردید بھی کی تھی تاہم انہوں نے اب خود نجی ٹی وی سے بات کر کے بشریٰ کے بیان کی دوبارہ تردید کی ہے

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے،آرمی چیف

    دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے آج پشاور کا دورہ کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ 19 نومبر 2024 کو ہونے والے نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے تسلسل اور جلد منعقد ہونے والی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں کیا گیا۔دورےکے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو علاقے کی موجودہ سیکورٹی صورتحال اور جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کی پیش رفت پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور فیلڈ کمانڈرز بھی موجود تھے۔

    شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مادر وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں قومی استقامت کی بنیاد ہیں جو مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی اور غیر متزلزل عزم کا مظہر ہیں۔آرمی چیف نے جوانوں کے بلند حوصلے، عملی تیاری اور مختلف خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج دشمن دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے غیر قانونی عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف قوم اور سیکیورٹی فورسز کے اجتماعی عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مربوط اور مضبوط آپریشنز کے ذریعے پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن کے دشمنوں کا پیچھا کرے گی تاکہ دیرپا استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔قبل ازیں پشاور آمد پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر پشاور نے کیا۔

  • فیض حمید کے بغیر عمران خان کی سیاسی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی،خواجہ آصف

    فیض حمید کے بغیر عمران خان کی سیاسی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم میں سے کسی کو شک نہیں کہ ان کااشارہ سعودی عرب کی طرف نہیں ،فیض حمید اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں ایک سکے کے دو رخ ہیں،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے سعودی عرب پر الزامات افسوسناک ہیں، بشریٰ بی بی کی ویڈیو دوبارہ سن لیں کسی کو شک ہے تو، بشریٰ بی بی کا اشارہ سعودی عرب کی طرف ہی تھا،فیض حمید اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی چیز ہیں،فیض حمید کے بغیر عمران خان کی سیاسی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی،انہوں نے پہلے امریکی غلامی نامنظور نعرہ لگایا اب امریکی غلامی منظور ہے، بشریٰ بی بی پیسے مانگ رہی ہیں،کچھ پاس سے بھی خرچ کر لیں، لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالنا یہ توجیب کتروں کا کام ہوتا ہے، اگر یہ جیب کترے ہیں بشمول، مجھے کہتے ہوئے حیا آ رہی ہے، یہ جیب کترے ہیں،بہتر ہے ڈی چوک میں چادل ڈال کر پیسے مانگنا شروع کر دیں، یہ اس حد تک بھی ویسے جا سکتے ہیں، اس کاسب سے بڑا نقصان، سعودی عرب جس طرح ہماری مدد کر رہا،معاشی صورتحال میں اور تاریخ گواہ ہے کہ 75 سالوں میں سعودی عرب ہمارے شانہ بشانہ رہا ہے، اپنی سیاست کے لئے یہ کیا کر رہے ہیں،اب نعرے لگائیں گے کہ سعودی عرب کی غلامی نا منظور ،یہ سیاست کو کہاں لے کر جائیں گے، ملکی معیشت، دفاع پر حملے کرتے ہیں،سیاست میں گند گھولا ہوا ہے، کل جو کچھ ہوا ور اس سے پہلے بھی جو بات چیت بشریٰ نے کی وہ اپنی پروجیکشن کر رہی ہیں، یہ لوگ مخلص نہیں کہ عمران کو رہا کیا جائے کیونکہ انکی دکانداری بند ہو جانی ہے، ہمارے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی،مذہبی اور معاشی تعلقات ہیں، ہمارے 28لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو سیاست کی نظر کیا جارہا ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ محترمہ ٹکٹ نہ دینے کی دھمکی دیتی ہیں، ٹکٹ جن کو دیا جاتا ہے وہ عزت دار ہوتے ہیں،یہ ون مین شو نہیں ہوتا، لیڈروں کے ووٹ ہوتے ہیں لیکن عوامی مطالبے پر ٹکٹ عزت دار بندے کو دیا جاتا ہے، یہ انکی توہین ہے، میں سمجھتا ہوں انکا ماضی اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ انکے اخلاق،سوچ کا کیا لیول ہے، جو وار پاک سعودی تعلقات پر کیا گیا، ان شاء اللہ پاکستان سروائیو کرے گا، اس قسم کے لوگوں کے شر سے اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے، انکی گھریلو لڑائی، ورثے کی لڑائی سے اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے،

    بھاوج اور نندوں کے درمیان لڑائی،سیاسی کشتی ڈوب رہی،خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ بھاوج اور نندوں کے درمیان ایک کشمکش چل رہی ہے، ایسی سیاسی پستی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں آئی،کل بھی کےپی میں خونریزی ہوئی اوروزیراعلیٰ ہر چوتھےدن وفاق پر حملہ آور ہوتاہ ے،اس وزیراعلیٰ کو حملہ آور تو دہشت گردوں پر ہونا چاہیے ،توشہ خانہ سے تحفہ سب نے لیا لیکن پیرنی صاحبہ کی ویڈیوز موجود ہیں، وہ لوگوں کو جھاڑ رہی ہیں کہ سامان فلاں کے پاس آنا چاہئے، یہ موروثی سیاست کے طعنےدیتے تھے ، یہاں وارثوں میں لڑائی ہو رہی ہے ،یہ موروثی سیاست کی بدترین شکل ہے ،پی ٹی آئی کے اندر لڑائی شروع ہے، ان کی سیاست کی کشتی ڈوب رہی ہے اس لیے یہ بیان دیا گیا،

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کیمطابق سعودی عرب کی جانب سے جنرل باجوہ کو کہا کہ ہم یہاں شریعت ختم کررہے ہیں تم کسے یہاں اٹھا کر لے آئے ہو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدانخواستہ شریعت کہہ رہی ہیں کیونکہ وہی وہاں لے جائی گئی تھیں۔بشری بی بی نے جنرل باجوہ کا نام لیکر جو الزام لگایا ہے اسکی جنرل باجوہ نے ایک صحافی کے ذریعہ تردید کی ہے لیکن بیان کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔ جس سعودی عرب کے متعلق بیان دیا ہے انہی سے گھڑیاں لیکر یہ کاروبار کرتے رہے ہیں، اور ان تحفوں کے بارے میں ان خاتون کی آڈیوز بھی موجود ہیں۔

    کرپشن کی داستانیں بزدار اور فرح گوگی سے شروع ہوئیں، اب سیاست پر قبضہ جمانے کیلئے فرنٹ رنر کام ہورہا ،خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں آہستہ آہستہ پتہ چل جائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کرپشن کی داستانیں بزدار اور فرح گوگی سے شروع ہوئیں، اب سیاست پر قبضہ جمانے کیلئے فرنٹ رنر کام ہورہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کا بھی کل اس چیز سے متعلق بیان آیا، ہماری سیاست نے کبھی اتنی پستی نہیں دیکھی تھی، خیبرپختونخوا میں کل بھی خونریزی ہوئی اور پرسوں بھی، ان کی اس شخص پر سیاست ہورہی ہے جودعویٰ کررہے ہیں کہ ہم شریعت ہیں،کوئی ایسا اقدام دیکھا دیں جو کے پی میں دہشتگردی کے خلاف کیا ہو،سیاست پر روزانہ بیان آئیں گے، کچھ دن پہلے تک بانی کہتے تھے سیاستدانوں ،اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں،اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے کچھ سیاستدانوں سے رابطے ہورہے ہیں،کل ہی عدالت میں بانی پی ٹی آئی نے کہا مذاکرات ہورہے ہیں،ان کا ایک قبضہ گروپ لاہور اور دوسرا پاکپتن کا ہے، اندرون خانہ لڑائی نے سیاست میں آلودہ صورتحال پیدا کردی ہے،

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ