Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • منصوبوں کے لئے جاری فنڈز کی مانیٹرنگ کیوں نہیں کی جا رہی، سینیٹر آغا شاہزیب

    منصوبوں کے لئے جاری فنڈز کی مانیٹرنگ کیوں نہیں کی جا رہی، سینیٹر آغا شاہزیب

    سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں وزارتِ منصوبہ بندی، خزانہ حکام کی جانب سے رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔حکام وزارت منصوبہ بندی نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے رواں مالی سال 29 کھرب کا ترقیاتی بجٹ مانگا تھا۔ وزارت خزانہ نے 11 کھرب روپے کے پی ایس ڈی پی کی منظوری دی۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے سوال اٹھایا کہ منصوبوں کے لئے جاری فنڈز کی مانیٹرنگ کیوں نہیں کی جا رہی؟۔پی ایس ڈی پی منصوبوں پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ وزارت منصوبہ بندی کی ذمہ داری ہے۔پلاننگ ڈویژن کی سفارش پر وزارت خزانہ منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کر دیتی ہے، کارکردگی کو کون مانیٹر کرے گا۔ منصوبوں میں کرپشن کی وجہ مانیٹرنگ کا نہ ہونا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ گزشتہ دور میں سندھ میں ارکان پارلیمنٹ کے ذریعے 22 ارب کا ترقیاتی فنڈ خرچ ہوا۔سندھ اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    جس پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی کے لئے ایک ہزار سے زائد منصوبوں کی مانیٹرنگ ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسوقت 137 کھرب روپے مالیت کے 1071 منصوبے جاری ہیں۔ ان میں پہلے سے جاری اور نئے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اب تک ان منصوبوں پر 39 کھرب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ رواں مالی سال وفاقی و صوبائی پی ایس ڈی پی کیلئے 11 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ فنکشنل کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزارت منصوبہ بندی سے پی ایس ڈی پی کے جاری منصوبہ جات اور اس سے متعلقہ اداروں کے ساتھ دوبارہ تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔

    انٹرنیشنل این جی اوز پاکستان میں کیا کر رہی؟ مانیٹرنگ کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا، انکشاف
    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں وزارت داخلہ کے حکام کی جانب سے انٹرنیشنل این جی اوز سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیکورٹی تقاضوں کے پیش نظر انٹر نیشنل این جی اوز کی فنڈنگ اور رجسٹریشن وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ اسوقت 112 انٹر نیشنل این جی اوز رجسٹرڈ ہیں، 85 کے ساتھ ایم او یوز ہیں۔ 2015 میں انٹر نیشنل این جی اوز کی ریگولیشن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکام وزارت داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹر نیشنل این جی اوز کر کیا رہی ہیں اس کا تعلق وزارت داخلہ سے نہیں ہے۔ ان این جی اوز کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ اقتصادی امور ڈویژن کی ذمہ داری ہے۔ وزارت اقتصادی امور ڈویژن نے انٹرنیشنل این جی اوز کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری سے انکار کر دیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ اقتصادی امور ڈویژن کا تعلق مقامی این جی اوز سے ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے کہا کہ کیا کسی ادارے کو نہیں پتا کہ انٹرنیشنل این جی اوز کیا کر رہی ہیں؟۔جس پر فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ پالیسی کے مطابق انٹرنیشنل این جی او کی مانیٹرنگ وزارت داخلہ کی ہے۔اقتصادی امور ڈویژن اور وزارت داخلہ نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی۔

    چیئرمین و اراکین کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ انٹرنیشنل این جی اوز کے حوالے سے اقتصادی امور ڈویژن اور وزارت داخلہ آپس میں ایک بین الاوزارتی میٹنگ کر کے سال 2015 سے لے کر رواں سال 2024تک کے انٹرنیشنل این جی اوز کے تمام منصوبہ جات کی تفصیلات، کارکردگی اور پایہ تکمیل منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اج کے اجلاس میں سینیٹر زمحمد اسلم ابڑو،فلک ناز، سیف اللہ ابڑو، حامد خان کے علاوہ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں خصوصی طور پر مدعو کیے گئے سینیٹر اشرف جتوئی کے علاوہ وزارت منصوبہ بندی، وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • زائرین کو سہولیات  ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو  کی ہدایت

    زائرین کو سہولیات ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کی ہدایت

    وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آنگی چوہدری سالک حسین سے عراق میں پاکستانی سفیر محمد ذیشان احمد نے ملاقات کی،

    ملاقات میں عراق جانے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے کہا کہ زائرین مینجمنٹ پالیسی وفاقی کابینہ نے اپریل 2021 میں منظور کی گئی، پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے، وزارت مذہبی امور اور عراق کی وزارت مذہبی امور کے مابین ایم او یو کا ڈرافٹ وزارت خارجہ کو بھجوایا گیا ہے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی زائرین کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جلد از جلد عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کرنے کی ہدایت، ایم او یو کے تحت پاکستانی زائرین کو عراق میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں گی،

    چوہدری سالک حسین نے کربلا میں پاکستان ہائوس اور وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ کا قیام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے، محرم، سفر اور اربعین کے موقع پر ذائرین کو ذیادہ سے ذیادہ سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، پاکستانی سفیر کی عراق میں پاکستانی ویلفیئر اتاشیوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • 24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ نےسخت ترین اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے

    وفاقی دارالحکومت میں ڈپٹی کمشنر نے احتجاج کے پیش نظر 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو مکمل تیاری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، شر پسندی میں ملوث افراد کیخلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں تمام سرکاری اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے سخت ترین حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں میں سکیورٹی کیلئے بھاری نفری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے

    وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں افغان مہاجرین کیمپوں کی جیو فنسنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے احتجاج کے دوران شر پسندی کرنے والے طالب علموں کی تعلیمی اسناد اور داخلے منسوخ کرنے کے فیصلے پر غورکیاگیا،احتجاج میں شامل شر پسند افراد کے پاسپورٹ ، شناختی کارڈ منسوخ اور سم بلاک کرنے کا بھی فیصلہ زیر غورآیا، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمنٹے کیلئے مشکوک مقامات کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے،

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    سابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو مذاکرات کی اجازت دے دی

    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے علی امین کو کہا ہے کہ اگر مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے اس لیے میں نے علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی اجازت دی ہے۔لیکن 24 نومبر کا ہمارا احتجاج فائنل ہے جب تک ہماری ڈیمانڈز پوری نہیں ہوں گی احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عمران خان نے علی امین گنڈا پور سے ملاقات کے دوران مذاکرات کی خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ علی امین گنڈاپور مجھ سے مذاکرات کی اجازت لینے آئے تھے علی امین نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل ہوں تو اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟عمران خان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے پارٹی سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا ہوگا اسی لیے مجھ سے اجازت مانگنے آئے تھے،

    دوسری جانب اڈیالہ جیل ،عمران خان ،بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،وکلاء صفائی نے 16 گواہان کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس میں بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست دائر کر دی،احتساب عدالت نے وکلاء صفائی کی گواہان طلب کرنے کی درخواست کو مناسب وقت پر سماعت کے لئے رکھ لیاعدالت نے سماعت کل 20 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان سے 342 کےسوالناموں پر جواب طلب کر لیا،

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے سعودی نائب وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی نائب وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ عزت مآب ڈاکٹر ناصر بن عبدالعزیز الداؤد نے آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے سعودی نائب وزیر داخلہ کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین عزت مآب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے پر سعودی قیادت اور حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون میں مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان میں 2.8 امریکی ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر عمل درآمد پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں غزہ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا۔ ریاض میں ہونے والی حالیہ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کا زکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے سربراہی اجلاس کے انعقاد پر سعودی عرب کی قیادت کی تعریف کی اور فلسطین میں اسرائیل کے نسل کشی کے اقدامات کے خلاف اور غزہ میں تشدد کے خاتمے کے لیے اجتماعی طور پر امت مسلمہ کو متحد کرنے کی سعودی ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب محمد بن سلمان کی کوششوں کو سراہا۔

    دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکورٹی تعاون میں تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نائب وزیر داخلہ اور ان کے وفد کا دورہ ان حساس شعبوں میں تعاون کے حوالے سے دونوں فریقوں کو قریب لانے میں مدد دے گا۔وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام ان کے پرتپاک استقبال کے منتظر ہیں۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

  • خبر میں تعریف نہ کرنے پر بشریٰ انجم بٹ میڈیا پربھڑک اٹھیں

    خبر میں تعریف نہ کرنے پر بشریٰ انجم بٹ میڈیا پربھڑک اٹھیں

    چیئرپرسن کی تعریف خبر میں نہ کرنے پر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ میڈیا پر بھڑک اٹھیں اور انہوں نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی لگادی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کی کوششوں سے 137 اساتذہ کو بحال کیا گیا۔میڈیا پر اس حوالے سے تمام کریڈٹ وزارت تعلیم کو دینے کی خبر چلائی گئی۔اساتذہ کی بحالی میں قائمہ کمیٹی کے مثبت کردار پر کوئی بات نہیں کی گئی، میڈیا پر چلنے والی یک طرفہ خبریں حقائق کے برعکس ہیں، برسوں سے تعطل کے شکار معاملے پر قائمہ کمیٹی تعلیم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔میڈیا کی جانب سے غلط خبریں چلانے پر کمیٹی نے اجلاس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اگر میڈیا نے درست معلومات نہیں پہنچانی تو اجلاس میں آنے کی بھی ضرورت نہیں۔جس میڈیا ہاؤس نے خبر چلائی ہے ان کو اس معذرت کرنی ہوگی.

    وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے 137 اساتذہ مستقلی کا نوٹیفکیشن بحال
    قبل ازیں قائمہ کمیٹی اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محی الدین وانی نے کہاکہ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے 137 اساتذہ مستقلی کا نوٹیفکیشن بحال کردیا ہے، 137 اساتذہ نے بیان حلفی دیا ہے کہ سنیارٹی کلیم نہیں کریں گے، ان اساتذہ کو 18 نومبر کو مستقل کیا گیا ہے،ایف پی ایس سی کے ذریعے مستقل ہونے والے ملازمین ان سے سینیرز ہوں گے، ان 137 اساتذہ کی مستقلی کا معاملہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلہ سے منسلک ہو گا، ان کے بیان حلفی عدالت میں جمع کروائیں گے، چئیرپرسن کمیٹی بشری بٹ نے کہاکہ خوش آئیند ہے کہ کمیٹی کی مداخلت سے ان اساتذہ کا معاملہ حل ہوا، ملازمین عدالتوں سے حکم امتناعی لے کر کمیٹی کو رجوع کرتے ہیں، آئندہ عدالت میں زیر التواء کوئی مقدمہ کو کمیٹی میں نہیں لیں گے،

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • کچھ نہیں ہونا، اندر خانے لیٹے ہوئے، گنڈا پور کس کا پیغام لے کر گیا،فیصل واوڈا

    کچھ نہیں ہونا، اندر خانے لیٹے ہوئے، گنڈا پور کس کا پیغام لے کر گیا،فیصل واوڈا

    آزادسینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ عمران خان کو بچانے کے لئے اب اُن کے پاس کوئی ساتھی نہ رہا، یہ سب ڈرامے باز اور کمپرومائزڈ لوگ ہیں، پروٹوکول بھی آ گیا، ہوٹر بھی آ گیا، یہ اندر خانے غریب کو مروانے کےلئے ڈرامہ کررہے ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اس بات پر یقین کرنا پڑ رہا ہے کہ رجیم چینج میں واقعی مداخلت ہوئی. کیونکہ اب امریکی کانگریس بھی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے،اب امریکہ میدان میں آ گیا کہ ہیومن رائٹس وائلشن ہو رہی، امریکہ کو کشمیر میں فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی، یہ لوگ انسانی حقوق کے چمپئین بنے ہوئے ہیں،یہ ایک نئی مداخلت ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی،میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا حامی ہوں ، میں پاکستان کے سیاستدان کی طرح ٹویٹ کر کے ڈیلیٹ نہیں کرتا، اگر آپ نے چمپئین بننا ہے تو مکمل بنیں ، دیکھیں کوئٹہ میں کیا ہوا، آپ چاہتے کیا ہیں کیا آپ بانی پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں یا مخالف ،اب آپ پاکستان کی سیاست میں برائے راست مداخلت کر رہے ، اندر خانے آج بھی بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات تو ہو رہے ہیں، آج گنڈاپور کس کا پیغام لے کر اڈیالہ جیل گئے ؟،لاشوں پر سیاست کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے،پانچ سات ہزار آدمی خیبر پختونخوا سے لا کر اسلام آباد پر چڑھائی کی باتکر رہے ہیں،یہ حکومت مجھے پسند نہیں ، یہ حکومت کی کم عقلی ہے کہ یہ ہینڈل ہی نہیں کرسکتے ،خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے، بھارت کا نہیں، اگر وہاں بھی ہمیں لگا کہ ملک کےخلاف سازش ہو رہی ہے تو وہاں بھی ریڈ ہو جائے گی، آپ الزام لگائیں گے کہ ماسک والے آ گئے، ڈالے آ گئے، جائو جو الزام لگانا ہے لگائو، پرابلم یہ ہے کہ فرسٹریشن ہے، پی ٹی آئی کا یہ اس سال آخری رائونڈ ہے، 24 نومبر کو بھی کچھ نہیں ہوگا،24 نومبر کو پانی کا بلبلا بننے جا رہا ہے، کچھ بھی نہیں ہونا، اندر خانے لیٹے ہوئے ہیں، گنڈا پور کس کا پیغام لے کر گیا، آپ اپنے بچے لائیں، کسی کا باپ کھڑا ہو گیا ہے، کسی کی ماں، کسی کا بیٹا، کسی کی بیٹی، کسی کی بیوی کھڑی ہو گئی، پٹواریوں سے گھٹیا سیاست کر رہے ہیں

    فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی چل رہی ہے اور عمران خان کیلئے سب ڈرامہ کررہے ہیں، بیرون ملک سےبھی پاکستانی معلامات میں مداخلت کی جارہی ہے،فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے توکسی نےخط نہیں لکھا، آپ خود کو سپرپاور کہتے ہیں، میری نظر میں آپ زیرو پاورہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں آپ اسلحہ باردو چھوڑ کرچلے گئے،کوئٹہ میں دہشت گردی کا اتنا بڑا سانحہ ہوا، امریکا بتائے بانی پی ٹی آئی کا فائدہ کررہا ہے یا نقصان،ہمارے ہاں روز کوئی ایک نیا میچ شروع ہو جاتا، میں پی ٹی آئی کا پرانا ورکر رہ چکا ہوں، اس ملک میں لیڈروں کی لاش پر سیاست ہوتی رہی ،پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کمپرومائزڈ ہے ،

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    پی ٹی آئی پنجاب کے رہنماؤں کے احتجاج کی کال پر تحفظات سامنے آگئے ۔

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، اس ضمن میں بشریٰ بی بی متحرک ہیں، بشریٰ بی بی پشاور میں اجلاسوں کی صدارت کر رہی ہیں اور پارٹی رہنماؤں کو بندے لانے کا ٹاسک دے رہی ہیں تو دوسری جانب اراکین کے احتجاج کے حوالہ سے شکوے بھی سامنے آئے ہیں، اراکین کا کہنا ہے کہ پشاور اجلاس پنجاب کا تھا مگر پنجاب کے رہنماوں کو نظر انداز کیا گیا ،علی امین گنڈا پور نے حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو پنجاب کے حوالے سے بات ہی نہیں کرنے دی گئی، پنجاب میں کیا مشکلات ہیں احتجاج کے حوالے سے کیا پلاننگ ہوگی بات چیت ہی نہیں کی گئی ،کارکنوں کو اکٹھا کرنے اور اسلام آباد لیجانے میں بھی مشکلات ہیں، پنجاب میں تو کرایہ پر گاڑیاں ہی نہیں مل رہی کوئی ٹرانسپورٹ گاڑی دینے کو تیار نہیں،احتجاج کے حوالے سے پنجاب کے رہنماوں سے مشاورت کی جاتی تو بہتر ہوتا،پنجاب کے کئی اراکین نے بشریٰ بی بی کے پشاور میں منعقدہ اجلاس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ بشریٰ بی بی کے احکامات کی بجائے ہم بانی پی ٹی آئی کے احکامات مانیں گے اور احتجاج میں ضرور جائیں گے لیکن بشریٰ بی بی کو رپورٹ نہیں کریں گے،

    دوسری جانب حکومت نے تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کی کال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں شروع کردی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔،اسلام آباد پولیس نے 22 نومبر سے رینجرز اور ایف سی کے9 ہزار اہلکار مانگ لیے ہیں جب کہ پولیس حکام کی جانب سے اینٹی رائٹس کٹس بھی طلب کی گئی ہیں،اسلام آباد میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت 5 یا اس سے زائد افراد کے تمام عوامی اجتماعات، جلوسوں، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہوگی۔

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینئر صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ میری اطلاع کیمطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج ابتدائی ایک پیغام لے کر عمران خان سے اڈیالہ میں اس وقت ملاقات کر رہے ہیں۔ ایسے پیغامات مزید بھی پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اور جیسا کہ کل بھی میں نے خبر دی تھی کہ عین ممکن ہے 24 نومبر کا پی ٹی آئی احتجاج کینسل/موخر ہو جائے۔ فیس سیونگ کیلئے کچھ یقین دہانیاں کچھ دیگر معاملات ہو سکتے ہیں؛ یا ٹوکن احتجاج۔ کل بیرسٹر گوہر نے بھی کہہ دیا کہ مطالبات ماننے کی یقین دہانی ہو تو احتجاج ختم کیا جا سکتا ہے۔ کل بھی میں نے خبر دی، آج بھی اس خبر کو نوٹ کر لیں۔ آئندہ کی پیش رفت بھی جلد آپ کے سامنے لاوں گی۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی جو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی، ملاقات میں 24 نومبر احتجاج سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی کانفرنس روم میں ہونے والی دونوں شخصیات کی اہم ملاقات کی وجہ سے عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی،وزیراعلیٰ کے پی کے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایپکس کمیٹی اجلاس، 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج اور دیگر امور پر بات چیت کی، ملاقات ختم ہونے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا میڈیا سے کوئی بات کیے بغیر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے،

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہر شہری کی آواز کو یقینی بنائے گا.شزا فاطمہ

    ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہر شہری کی آواز کو یقینی بنائے گا.شزا فاطمہ

    ڈیجیٹل ڈائیلاگ پاکستان کی افتتاحی تقریب سے وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان مؤثر تعاون کا نیا پلیٹ فارم ہے.ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہر شہری کی آواز کو یقینی بنائے گا.

    شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ویمن انٹرپرینیورشپ اور نیو انرجی وہیکلز پالیسی پائلٹس کی کامیابی ہے. شفافیت اور ٹیکنالوجی کی جانب ایک انقلابی قدم ہے.مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پالیسی سازی میں انقلاب آئے گا، خواتین کے موبائل فون، آئی سی ٹی کے استعمال میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، خواتین کی سیاست میں آنے کے لیے سماجی، معاشی رکاوٹیں ہیں، ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنا کر مین اسٹریم پولیٹیکس میں لایا جا سکتا ہے خواتین کی ڈیجیٹل اکانومی تک رسائی کے لیے جینڈر ڈیجیٹل ڈیوائیڈ پالیسی پر کام کر رہے ہیں، وزیراعظم فری لیپ ٹاپ اسکیم ڈیجیٹل ٹولز کی رسائی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ حکومت اسمارٹ فون فار آل پالیسی پر بھی کام کررہی ہے۔

  • بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،شرجیل میمن

    بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،شرجیل میمن

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات ، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کھیلوں سمیت تمام شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے،

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کردیا،اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئےشرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آج ہم نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کیا ہے، کراچی میں پیپلز بس سروس چل رہی ہیں،پیپلز بس سروس کی لائیو ویڈیوز سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹر ہوں گی، بس ڈرائیور اور کنڈیکٹرز کوبھی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا، یہ اسٹیٹ آف دی آرٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شروع کی ہے، ہم یہ ماڈل ای وی بس سروس کیلئے بھی لارہے ہیں، امن وامان کی صورتحال کیلئے بھی یہ سسٹم ہونا چاہیے، ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ بسوں میں کونسے مسافر سفر کررہے ہیں،بس میں سفر کرنے والوں کی جیو فینسنگ بھی ہوگی، شکایات کی صورت میں شہریوں کیلئے کمپلین سیل بنایا ہے، کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ بھی مانیٹر ہورہا ہے،

    بشریٰ بی بی کہتی ہیں ہر شخص 5ہزار آدمیوں کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کرے،یہ نو مئی دوہرانا چاہتے ہیں، شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو ورغلایا جارہا ہے، وہی ٹولہ ہے جس کا مقصد ہے پاکستان میں انارکی پھیلائی جائے، پی ٹی آئی کے کارکن معصوم ہیں، پی ٹی آئی کا مقصد ہے ملک کو کسی طرح بند کرنا، سب سے پہلے پاکستان ہے، معیشت بہتر ہوئی ہے، اسٹاک مارکیٹ بھی بلندیوں پر جارہی ہے، ایک قوت ہے جو چاہتی ہے ملک میں معیشت کا پہیہ نہ چلے، بشریٰ بی بی کی بھی آڈیو آئی ہے، بشریٰ بی بی کہتی ہیں ہر شخص 5ہزار آدمیوں کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کرے، آڈیو میں کہا جارہا ہے آدمی نہ لائے تو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیں گے،یہ ٹولہ چاہتا ہے ملک میں انارکی، افراتفری ہو، 9مئی جیسے واقعات یہ لوگ دوبارہ دہرانا چاہتے ہیں، یہ جب بھی اسلام آباد آئے تو پرامن طریقے سے نہیں آئے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور صوبے کے وسائل استعمال کررہے ہیں، تشدد کسی بھی چیز کا حل نہیں ہوتا، آپ صوبے کی مشینری وفاق پر چڑھائی کیلئے استعمال کرتے ہیں، بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،

    جب بھی پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی بدترین میڈیا ٹرائل ہوالیکن کبھی میڈیا پر پابندی عائد نہیں کی،شرجیل میمن
    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ پانی کی قلت کا سامنا کررہا ہے، کنال والے معاملے پر ہمارا مؤقف اٹل ہے، چاہتے ہیں ہمارا ملک دن بدن ترقی کرے، بدقسمتی سے ہر چیز کا برا استعمال کرنے والے لوگ اچھی کو بھی برا بنادیتے ہیں، کچھ لوگوں نے ڈیجیٹل دہشتگردی شروع کی ہوئی ہے، چاہتے ہیں وی پی این جیسی چیزوں کو اداروں کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے، ہم ہمیشہ آزادی صحافت کی بات کرتے ہیں، جب بھی پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی بدترین میڈیا ٹرائل خلاف ہوا، پیپلز پارٹی نے کبھی میڈیا پر پابندی عائد نہیں کی، پیپلز پارٹی کا 2008 میں میڈیا ٹرائل کیا گیا،ہم نے کسی کو پریشان نہیں کیا نہ پابندی لگائی، پیپلز پارٹی میڈیا کی آزادی کیلئے کوشش کرتی رہتی ہے، ہم حکومت کے اتحادی نہیں ہیں، ہم نے حکومت کی مدد کی تاکہ سسٹم آگے چل سکے،پی ٹی آئی نے کہا کسی پارٹی سے بات کرنے کو تیار نہیں، ہم بھی کسی سے بات نہ کرتے تو اسمبلی عمل میں نہ آتی، ہمارا کوئی ذاتی نوعیت کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ اجتماعی تھے، ہم نے کہا تھا پی ایس ڈی پی میں مشورہ کیا جائے،حیدر آباد ،سکھر موٹروے کی پورے پاکستان کو ضرورت ہے، پورٹ سے چیزوں کی ترسیل کیلئے یہ موٹروے واحد راستہ ہے، حکومت سکھر حیدر آباد موٹروے کو ترجیح نہیں دے رہی، ہمارے سپریم کورٹ میں 120 ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں،اگر وہ 120 ارب روپے مل جائیں تو ہم اپنے مسائل خود حل کرلیں، وفاق سے ہم نے کہا ہے ہمارا حق ہمیں دیا جائے، منشیات کے خلاف قدم اٹھایا تھا تو لیڈر شپ کے کہنے پر،چیئرمین بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ منشیات کا خاتمہ ہو، شخصیات کے بدلنے سے حکومت کی پالیسی نہیں بدلتی، پہلے بھی گورنمنٹ کی رٹ کو منوایا ہے،

    غیر قانونی بس اڈوں کیخلاف آپریشن سے کراچی کے ٹریفک دباؤ میں کمی آئی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن