Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سمیر احمد سی او او پی سی بی، سلمان نصیر چیف ایگزیکٹو پی ایس ایل مقرر

    سمیر احمد سی او او پی سی بی، سلمان نصیر چیف ایگزیکٹو پی ایس ایل مقرر

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے گورننگ بورڈ نے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی تجویز پر سید سمیر احمد کے نام کی منظوری دی گئی ہے۔سلمان نصیر کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا ہے اور وہ پی سی بی کے چیئرمین ایڈوائزر بھی ہوں گے، سید سمیر احمد نے پی سی بی میں اپنے نئے عہدے پر سی او او کے فرائض سنبھال لیے ہیں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سمیر احمد سید کو بورڈ آف گورنرز کے 75ویں اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کے طور پر تقرری کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ اجلاس ہفتہ کی دوپہر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سمیر احمد سید ایک تجربہ کار سول سرونٹ ہیں جن کے پاس وسیع انتظامی تجربہ ہے۔ انہوں نے حال ہی میں وزیراعظم آفس میں جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ سمیر احمد سید نے سلمان نصیر کی جگہ چیف آپریٹنگ آفیسر کا عہدہ سنبھالا ہے، جنہوں پی سی بی کے چیئرمین کے مشیر اور ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ سلمان نصیر نے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر اپنے پانچ سالہ عہدے کی تکمیل کے بعد دوبارہ معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو فروری 2025 میں مکمل ہو گا۔

    پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے سمیر احمد سید کا خیرمقدم کرتے ہوئے سلمان نصیر کی خدمات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا،”سمیراحمد ایک بہترین پیشہ ور ہیں جن کے پاس انتظامی مہارت اور گہری صنعت کا علم ہے۔ ہم انہیں پی سی بی کے خاندان میں خوش آمدید کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت میں ہم اپنی انتظامی ساختوں کو مزید مضبوط اور بہتر کریں گے، اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جانب بڑھیں گے جس کا مقصد ایک اعلیٰ کارکردگی والا ادارہ بننا ہے۔

    "سلمان نصیر نے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر شاندار قیادت فراہم کی اور ان کی خدمات انتہائی قیمتی رہیں۔ ان کے تجربے اور بصیرت نے پی سی بی کو ایک اثاثہ فراہم کیا ہے۔ چونکہ ہمارا منصوبہ پی ایس ایل کو ایک خودمختار ادارہ کے طور پر قائم کرنا اور 2026 میں دو اضافی ٹیموں کے ساتھ لیگ کو توسیع دینا ہے، ہم نے انہیں پی ایس ایل کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا ہے۔ وہ پی سی بی کے چیئرمین کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے، تاکہ ان کی مہارت ہماری اسٹریٹجک منصوبوں کی رہنمائی کرے۔”

    سمیر احمد سید نے اپنی تقرر ی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کرکٹ کا ایک طویل المدتی پیروکار اور حمایتی ہونے کے ناطے، یہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ میں اس متحرک تنظیم میں چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر شامل ہو رہا ہوں، خاص طور پر ان اہم اور دلچسپ لمحوں میں۔ میں پی سی بی کے چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔ اپنے ساتھیوں کے تعاون سے، میں یہاں پی سی بی میں ایک معنی خیز کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔”اس تنظیم میں بے پناہ صلاحیت ہے اور کرکٹ پاکستان کے عوام کو یکجا کرنے والی قوت ہے۔ میرے دور میں، میں چیئرمین کی پاکستان کرکٹ کے لیے وژن کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کروں گا۔ یہ وژن قومی ٹیموں کی کامیابی، انفراسٹرکچر کی بہتری، کرکٹرز کے لیے مواقع کی توسیع اور اچھے حکمرانی پر مرکوز ہے۔ میں اس سفر میں اپنا کردار ادا کرنے اور اس کھیل پر دیرپا اثر ڈالنے کے لیے پرجوش ہوں جسے ہم سب دل سے چاہتے ہیں۔”

    سلمان نصیر نے سمیر احمد سید کے لیے اپنی حمایت اور شکریہ کا اظہار کیا اور کہا کہ "یہ میرے لیے ایک اعزاز اور فخر کی بات تھی کہ میں نے پی سی بی کی انتظامی ٹیم کی قیادت کی اور چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ سفر بہت فائدہ مند رہا کیونکہ ہم نے مل کر قابل ذکر ترقی کی اور متعدد چیلنجز کا سامنا کیا۔”میں پی سی بی کے چیئرمین کا شکر گزار ہوں اور اپنے ساتھیوں کا بھی، جن کی حمایت کے بغیر ہماری کامیابیاں ممکن نہ ہوتیں۔ میں بورڈ آف گورنرز کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور سمیر احمد سید کی کامیابی کے لیے اپنا مکمل تعاون پیش کرتا ہوں۔ ان کے تجربے اور عزم کے ساتھ، مجھے یقین ہے کہ پی سی بی مزید مستحکم ہوگا اور نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔”

    پی سی بی کی انتظامیہ میں یہ تبدیلی ایک نیا باب شروع کر رہی ہے، اور کرکٹ کے میدان میں نئے اہداف کے حصول کے لیے ایک نیا عزم اور جذبہ دکھا رہی ہے۔

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر لندن میں حملہ کرنے والے 23 پاکستانیوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈال دیے گئے ہیں۔

    نجی میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اعلیٰ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، جن 23 پاکستانیوں پر حملے کا الزام ہے، ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ ان افراد میں تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ملائیکہ بخاری اور لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے مظاہروں میں مشہور ہونے والے شایان علی کا نام بھی شامل ہے۔پاکستانی حکام نے برطانوی حکومت کو ان افراد کی حوالگی کے لیے خط لکھا ہے۔ اگر یہ افراد پاکستان واپس آتے ہیں تو ان پر پاکستان میں درج مقدمات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ فہرست کے مطابق، ان افراد میں سعدیہ فہیم، فہیم گلزار، ماہین فیصل، سدرہ طارق اور حبا عبدالمجید کے نام بھی شامل ہیں۔وقاص چوہان ،محسن حیدر ضمیر اکرم ، سردار تیمور،محمد پرویز علی اور رخسانہ کوثر کے نام شامل ہیں،لسٹ میں شیخ محمد جمیل ،مہران حبیب ذہیر احمد ،رحمان انور، اور محمد صادق خان کے نام بھی شامل ہیں،خدیجہ کاشف ،محمد نوید افضل ،شہزاد قریشی ،سلیمان علی شاہ اور بلال انور کے نام شامل ہیں،پی سی ایل میں ان تمام افراد کے شام شامل کیے گئے ہیں جو مقدمے میں درج ہیں 23 افراد کے علاوہ 153 مزید افراد کے نام بھی پی سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں ،23 افراد کے پاسپورٹ معطل بھی کر دئے گئے ہیں،تمام شامل افراد کی حوالگی کے لیے برطانوی حکام کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے،پاکستان لائے جانے کی صورت میں ان افراد کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے گ

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

  • خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کا خطرہ،گورنر فیصل کریم کنڈی کا اظہار تشویش

    خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کا خطرہ،گورنر فیصل کریم کنڈی کا اظہار تشویش

    خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان، پہاّپور، پانیاں، کلاچی، جندولہ اور بلیوٹ شریف کے ڈگری کالجوں کے لیے جاری کردہ الرٹس اس بات کا عندیہ ہیں کہ صوبے میں فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    ایکس پر گورنر خیبر پختونخوا نے الرٹ کی پوسٹ شئیر کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو ایسی قیادت درکار ہے جو ان کی حفاظت کو سیاست کے بجائے ترجیح دے۔اگر ان خطرات کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو نہ صرف ہمارے تعلیمی اداروں اور طلباء کی حفاظت کو خطرہ ہوگا بلکہ پورے علاقے کی سلامتی اور استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ گورنر نے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنے عوام کی زندگیوں اور مستقبل کو تحفظ دینے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرے، نہ کہ سیاسی مفادات کی تکمیل پر۔

    https://twitter.com/fkkundi/status/1855129979086115144

    واضح رہےکہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے حوالہ سے تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے

  • وزیراعظم کی وی پی این استعمال کر کے ایکس پر ٹرمپ کو مبارکباد،کمیونٹی نوٹ لگ گیا

    وزیراعظم کی وی پی این استعمال کر کے ایکس پر ٹرمپ کو مبارکباد،کمیونٹی نوٹ لگ گیا

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اُن کے انتخابی نتائج پر مبارکباد دی ہے، جس پر سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ انتخاب میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”ہم امریکا کے ساتھ ملکر کام کرنے کے خواہاں ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مبارکباد کے پیغام کے بعد ایکس پر کمیونٹی نوٹ لگ گیا،ایکس کی جانب سے کمیونٹی نوٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر پابندی لگا ئی ہوئی ہےاور انہوں نے خود وی پی این کا استعمال کر کے ٹرمپ کو مبارکباد دی ہے، جو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی ہے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم کے مبارکباد کے پیغام پر کمیونٹی نوٹ لگنے کے بعد صارفین کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے پاکستان میں ایکس بند ہے اور وزیراعظم سمیت سبھی افراد وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں اگر ایکس اتنا ہی ضروری ہے تو حکومت نے پابندی کیوں لگائی، حکومت کو ایکس کو فوری کھولنا چاہئے،

    پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی کے بعد وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کا استعمال تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد صارفین ایکس تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مختلف ذرائع تلاش کرنے لگے ہیں، جن میں وی پی این ایک مقبول ترین طریقہ ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے ایکس پر عائد کی گئی پابندی کے باوجود، صارفین نے مختلف وی پی این سروسز استعمال کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ وہ اپنی پسندیدہ سروسز کو بلا روک ٹوک استعمال کر سکیں۔ وی پی این کے ذریعے صارفین اپنی انٹرنیٹ کنکشن کو انکرپٹ کر کے غیر محدود رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔وی پی این کے استعمال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سیکیورٹی اور پرائیویسی کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وی پی این ایک مفید ٹول ہے، لیکن اس کا غلط استعمال صارفین کی ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔پاکستان میں ایکس پر پابندی کا فیصلہ حکومت کی جانب سے ‘نظریاتی تحفظ’ اور ‘قومی سلامتی’ کے حوالے سے کیا گیا تھا، لیکن اس پابندی نے عوامی ردعمل کو بھی جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں آزادی اظہار رائے کے خلاف ہیں، اور انہیں کسی بھی صورت میں درست نہیں سمجھا جا سکتا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وی پی این کا استعمال قانونی لحاظ سے مبہم ہے، کیونکہ کچھ ممالک میں یہ قانونی ہے، جبکہ پاکستان میں حکومت اس کا استعمال محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، جب تک صارفین کو ایکس تک رسائی حاصل کرنے کی کوئی اور قانونی طریقہ مہیا نہیں کیا جاتا، وی پی این کا استعمال بڑھتا رہے گا۔

    پاکستان میں ایکس پر پابندی کے بعد وی پی این کا استعمال اس بات کا غماز ہے کہ حکومت کے اقدامات کے باوجود ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی آزادی ایک ایسا حق ہے جسے عام شہری جلدی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ وی پی این جیسے ٹولز کے استعمال میں سیکیورٹی اور پرائیویسی کے خطرات بھی ہیں، جو حکومت کے لئے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

  • پیپلز پارٹی کے منصوبے دوسرے صوبوں کے لئے ماڈل ہیں،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے منصوبے دوسرے صوبوں کے لئے ماڈل ہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم محض ایک پروجیکٹ نہیں، اس سے کہیں آگے ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت سندھ سیلاب میں بے گھر ہونے اور اپنا سب کچھ کھونے والے افراد کا درد سمجھتی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو کا ویژن محض گھروں کو تعمیر نہیں، عوامی خدمت، اور سیلاب متاثرین کے امید و وقار کی بحالی ہے،حکومت سندھ 21 لاکھ خاندانوں کے لئے نئے گھروں کی تعمیر ہی نہیں ان کی زندگیوں کی بھی تعمیر نو کر رہی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کی روشنی میں حکومت سندھ سیلاب متاثرین کو اپنا وقار لوٹانے کے لئے سرگرم ہے،ہاؤسنگ پروجیکٹ اس بات کی گواہی ہے کہ حکومت سندھ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور پیپلز پارٹی عوامی خدمت اور مجموعی فلاح و بہبود کو ہمیشہ مقدم رکھتی ہے، پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حقیقی عوامی خدمت کیسی ہوتی ہے، بی آئی ایس پی سے لے کر ہاؤسنگ پروجیکٹ تک پیپلز پارٹی نے جو بھی پروجیکٹس لانچ کئے وہ دوسرے صوبوں کے لئے ماڈل ہیں،

    اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

  • ٹرمپ کا میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ

    ٹرمپ کا میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ

    صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا

    امریکہ کے نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو جیل میں ڈالنے، نشریاتی لائسنسز منسوخ کرنے اور میڈیا اداروں کے خلاف متعدد مقدمات درج کرانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ یہ حکمت عملی وہ پہلے بھی استعمال کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں باقاعدگی سے صحافیوں سے الجھتے ہوئے، میڈیا کو "عوام کا دشمن” قرار دیا اور سرکاری بریفنگز سے صحافیوں کو باہر نکال دیا۔ حالیہ مہینوں میں اپنے انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے میڈیا پر حملہ کرنے کے لیے متشدد اور جارحانہ بیانات دیے، اور حال ہی میں ایک عوامی اجتماع میں کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر صحافیوں کو گولی مار دی جائے۔ ان بیانات نے یہ خوف پیدا کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے وسائل کو آزاد صحافت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    یورپ میں آمرانہ قیادت پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں، جہاں انہیں اپنے وفاداروں کی حمایت حاصل ہوگی اور نگرانی کے کم تر عوامل ہوں گے، وہ امریکہ میں آزاد صحافت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔بین الاقوامی صحافیوں کے مرکز کی صدر، شارون موشاوی نے کہا کہ ایسے ممالک جہاں آزاد صحافت کو ختم کیا گیا، وہاں یہ عمل ایک ہی اقدام سے نہیں ہوتا۔ "یہ ایک ہی بات نہیں ہے، یہ نہیں ہوتا کہ ‘ہم صحافیوں کو جیل میں ڈالیں گے’۔”

    دنیا کے مختلف حصوں میں آمرانہ حکومتوں جیسے روس، ہنگری، بھارت اور حالیہ دنوں میں پولینڈ نے آزاد میڈیا پر پابندیاں لگائیں اور اختلاف رائے کو دبایا۔ ٹرمپ نے ان ممالک کے رہنماؤں کی اکثر تعریف کی ہے، خاص طور پر ہنگری کے دائیں بازو کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی۔شارون موشاوی نے کہا، "یہ ہزاروں چھوٹے حملوں کی موت ہے، یہ متعدد زاویوں سے حملے ہوتے ہیں

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی،پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی،پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل، کے ایس ای 100 انڈیکس 93,000 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو تجارتی دن کے دوران اسٹاکس نے اپنی تیزی کا تسلسل برقرار رکھا، اور کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار اپنی تاریخ میں 93,000 پوائنٹس کی سطح کو عبور کر گیا۔پی ایس ایکس کی ویب سائٹ کے مطابق، اس دن کے دوران انڈیکس نے 93,514.55 پوائنٹس کی بلند ترین اور 92,566.49 پوائنٹس کی کم ترین سطح کو چھوا۔ کل تجارت کے دوران 361,755,080 حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 21.5 ارب پاکستانی روپے رہی۔دن کے اختتام پر، کے ایس ای 100 انڈیکس 93,291.68 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ پچھلے دن کے 92,520.48 پوائنٹس کے مقابلے میں 771.20 پوائنٹس یا 0.83 فیصد کا اضافہ تھا۔

    اس دن مختلف اہم شعبوں میں خریداری کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنریز شامل ہیں۔ انڈیکس میں شامل بڑے حصص جیسے پی آر ایل، ہبکوب، ایس این جی پی ایل، او جی ڈی سی، ایم سی بی اور ایم ای بی ایل مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔

    دوسری جانب پاکستان کی کارکنوں کی ترسیلات زر اکتوبر 2024 میں 24 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.052 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ پچھلے سال اکتوبر میں یہ رقم 2.463 ارب ڈالر تھی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر میں ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جو ستمبر میں 2.86 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے چار مہینوں میں ترسیلات زر 11.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 35 فیصد کا اضافہ ہے۔

    اس کے علاوہ، مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) نے اپنی نومبر کی رپورٹ میں آٹھ پاکستانی کمپنیوں کو اپنے فرنٹیئر مارکیٹ (ایف ایم) اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کیا ہے۔ ان کمپنیوں میں سٹی فارما، کریسنٹ اسٹیل اینڈ آلائیڈ پروڈکٹس، فاسٹ کیبلز، فلائنگ سیمنٹ کمپنی، پاکستان آکسیجن، شفا انٹرنیشنل ہسپتالز، تھٹا سیمنٹ کمپنی اور ٹی آر جی پاکستان شامل ہیں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں یہ تیزی اس بات کا غماز ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور اقتصادی اشارے بہتر ہو رہے ہیں۔ اس تیزی کو مزید تقویت اس وقت ملی جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مرکزی شرح سود میں 250 بیسس پوائنٹس کی کمی کی، جس کے نتیجے میں شرح سود 17.5 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ کمی اقتصادی ماہرین کے لئے ایک حیران کن اقدام تھی، کیونکہ بیشتر ماہرین 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے تھے۔

    حالیہ ہفتوں میں پی ایس ایکس نے 0.96 فیصد کا ہفتہ وار اضافہ دیکھا، جو کہ مسلسل مانیٹری ایزنگ اور 20 سال میں پہلی بار حکومت کی جانب سے بجٹ سرپلس کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ سرپلس 1.7 کھرب روپے کا تھا اور اس کے ساتھ ہی مضبوط کارپوریٹ ارننگ رپورٹس نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔تاہم، حکومت آئی ایم ایف کے دو سہ ماہی اہداف پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جس میں ٹیکس کی وصولی 90 ارب روپے کم اور صوبوں کا کیش سرپلس ہدف 182 ارب روپے کم رہا۔

    اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہی، جب کہ حقیقی شرح سود موجودہ پالیسی شرحوں پر 10 فیصد سے زائد ہے۔ اقتصادی طور پر، اکتوبر کا تجارتی خسارہ 1.4 ارب ڈالر رہا، جبکہ برآمدات 4.9 فیصد ماہانہ اضافہ کے ساتھ 2.97 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

    علاوہ ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے رواں سال جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات جاری کر دی گئیں،6 نومبر تک 52 لاکھ 15 ہزار سے زائد ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے، گزشتہ سال اسی مدت میں 29 لاکھ 59 ہزار ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے تھے، گوشواروں کے ساتھ 6 نومبر تک ٹیکس کی ادائیگی 132 ارب سے زائد ہوئی، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ٹیکس ادائیگی 77 ارب 13 کروڑ روپے تھی،یکم جولائی سے 6 نومبر تک 6 لاکھ 60 ہزار نئے ریٹرن فائلرز کا اندراج ہوا، گزشتہ سال یکم جولائی سے 6 نومبر تک 13 لاکھ 46 ہزار نئے ریٹرن فائل ہوئے تھے، گزشتہ سال کے مقابلے رواں برس گوشواروں میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے، مالی سال 2024ء کے لیے 20 لاکھ 51 ہزار 962 افراد نے نِل ریٹرن فائل کیا،گزشتہ سال 6 نومبر تک 10 لاکھ 36 ہزار 998 نِل ریٹرن فائل کیے گئے تھے جبکہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 36 لاکھ 92 ہزار سے زائد نِل ریٹرن فائل ہوئے تھے۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز خط پر کوڈ اف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا،جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے،کوڈ اف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،آئیندہ اجلاس میں کوڈ اف کنڈکٹ ترمیم پر غور کیا جائے گا،

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوپہر 1 بجے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عامر فاروق، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کونسل نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بحث کی۔ اس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز بنانے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کا معاملہ بھی شامل تھا۔ کونسل نے رجسٹرار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل کے رولز بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کا مسودہ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ چیئرمین کو 3 ماہ کے لیے کونسل کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک قابل فرد کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ یہ فرد کونسل کے اجلاسوں کی نگرانی کرے گا اور اصول سازی کے عمل کو مضبوط کرے گا۔

    سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8) کے تحت ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر بھی غور کیا اور اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا۔ کونسل نے اس معاملے پر مشاورت کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف اداروں کے سربراہان پر اس ضابطہ اخلاق کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔اس کے علاوہ، کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف دائر کردہ دس شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ کونسل نے شکایت کنندگان سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ ہونے پر ان شکایات کو مسترد کر دیا۔کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقدمات کا بروقت فیصلہ کیا جا سکے اور بیک لاگ کو ختم کیا جا سکے۔ غیر سنجیدہ شکایات کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ کیلئے جج کی نامزدگی پر اتفاق نہ ہوسکا
    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ کی تشکیل کے سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر غور کیا گیاسندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی کی پیش کردہ تجویز کی توثیق کی گئی،سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ معزز جج صاحبان آئینی بنچوں کے ججوں کے لیے نامزد کیا گیا،سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے،جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا،

    دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ پر تجاویز آئی ہیں، فیصلہ ہوا آئندہ اجلاس تک سندھ ہائی کورٹ ججز آئینی مقدمات سن سکتے ہیں، ہائی کورٹ میں ابھی 12 ججوں کی آسامیاں بھی خالی ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے تھوڑی دیر کے لیے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی، پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین اہلیہ کی بیماری کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 25 نومبر تک موخر کیا گیا ہے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی بھر مار،متبادل پلیٹ فارم بنائے جائیں،پلوشہ خان

    سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی بھر مار،متبادل پلیٹ فارم بنائے جائیں،پلوشہ خان

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس کے دوران سینیٹر پلوشہ خان نے وزارت کے حکام سے کہا  کہ آپ سوشل میڈیا کو آج تک ریگولیٹ نہیں کرسکے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو کیسے ریگولیٹ کریں گے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس سینیٹر افنان اللہ کی زیرِ صدارت ہوا، اجلاس میں لانگ ڈسٹینس اینڈ انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کمپنیوں کے بقایا جات کے معاملے پر چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 15 ایل ڈی آئی کمپنیوں میں سے 10 نے ادائیگی کر دی ہے۔ 10 کمپنیوں نے 10 ارب روپے دیئے ہیں، باقیوں کے 24 ارب بقایا جات ہیں، اس وقت کل رقم 24 ارب ہے، لیٹ پیمنٹ ملا کر 74 ارب بنتے ہیں، اگر ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کریں تو انٹرنیٹ کا مسئلہ پیدا ہوگا، اگر لائسنس معطل کیے تو 50 فیصد موبائل سروس، 40 فیصد اے ٹی ایم سروسز متاثر ہوں گی،چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے اپنی فنڈنگ سے ملک بھر میں فائبر کیبلز بچھائی ہیں، اب بھارت کسی کمپنی کے مرہون منت نہیں رہا، پاکستان نے ایک روپیہ تک فائبر میں نہیں لگایا ہے، جب تک اپنی فائبر نہیں بچھائیں گے تو کمپنیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہیں گے۔

    وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی حکام نے بتایا کہ حکومت نے نیشنل فائبرائزیشن پالیسی پر کام شروع کر دیا ہے، کمیٹی اجلاس میں ریگولیشن آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس بل 2024 بھی زیر غور لایا گیا، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام حکام نے بتایا کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مصنوعی ذہانت پالیسی پر مشاورت جاری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو کیسے ریگولیٹ کریں گے، آپ سوشل میڈیا کو آج تک ریگولیٹ نہیں کرسکے، ابھی بھی سوشل میڈیا پر فیک نیوز، جعل سازی کی بھرمار ہے، چین نے سوشل میڈیا کے متبادل اپنے پلیٹ فارم بنائے، پھر چین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو کنٹرول کیا ہے، انٹرنیٹ کو کوئی کنٹرول نہیں کر سکتا، سوشل میڈیا کے متبادل پلیٹ فارم بنائے جائیں.

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    غیر اخلاقی ویڈیوشیئر کرنے پر دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    سوشل میڈیا کی دوستی،خواجہ سرا نے مدرسہ کی طالبہ کو شادی کے بہانے کیا اغوا

  • پی آئی اے کی حالت بدتر،  نئی ایئرلائن شروع کی جائے،عمران اسلم خان

    پی آئی اے کی حالت بدتر، نئی ایئرلائن شروع کی جائے،عمران اسلم خان

    ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹر ایسوسی ایشن کے بانی، ایوی ایشن ایکسپرٹ، عمران اسلم خان نے حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں نئی ایئرلائن شروع کی جانی چاہیے اور اس مقصد کے لیے ایک مضبوط کنسورشیم تشکیل دیا جائے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ ایئر لائن انڈسٹری کی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاروں کا ساتھ بہت ضروری ہے اور اس ضمن میں ایئر کرافٹ اونر ز اینڈ آپریٹر ایسوسی ایشن مکمل طور پر معاونت فراہم کرے گا۔پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو خریدنے کا خیال بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اس ادارے کی حالت بدتر ہوچکی ہے۔  "پی آئی اے کو خریدنے کی باتیں بے معنی ہیں، ایک روپے میں بھی یہ خریدنے کے قابل نہیں رہا۔”عمران اسلم خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں ایوی ایشن کے شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے تو صرف نجی اداروں اور سرمایہ کاروں کی شمولیت ضروری ہے، جن کے پاس جدید ترین تکنیکی صلاحیتیں اور وژن ہو۔

    پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پی آئی اے کی نجکاری: مفتاح اسماعیل کا صوبوں کے کردار پر سوال

    میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان