Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سدھو موسے والا کے والدین نے چھوٹے بیٹے کی پہلی تصویر کی جاری

    سدھو موسے والا کے والدین نے چھوٹے بیٹے کی پہلی تصویر کی جاری

    پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے والدین نے اپنے چھوٹے بیٹے شبھدیپ سنگھ کی پہلی تصویر جاری کر دی ہے

    انسٹاگرام پر شیئر کی گئی اس تصویر میں ننھے شبھدیپ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے والد بلکار سنگھ کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں، جب کہ ان کی والدہ چرن کور بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ تصویر کے ساتھ کیپشن میں سدھو موسے والا کے والدین نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھا کہ "اللہ نے ہمیں ایک اور بیٹے سے نوازا۔”اس کے علاوہ، سدھو موسے والا کے والدین نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں سدھو موسے والا، ان کے والدین اور چھوٹے بھائی شبھدیپ کی تصویریں دکھائی گئی ہیں۔ اس ویڈیو میں سدھو موسے والا کی تصاویر کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کی محبت بھری جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو بہت سراہا گیا اور لوگوں نے اپنی محبت اور دعاؤں کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے لکھا کہ "سدھو واپس آ گیا، چھوٹا سدھو اپنے بڑے بھائی جیسا نظر آتا ہے۔” یہ پوسٹ لوگوں کے دلوں کو چھو گئی، اور سدھو موسے والا کے مداحوں نے ان کے خاندان کے لیے خوشی کی دعائیں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے مشہور گلوکار اور کسان رہنما سدھو موسے والا کو 29 مئی 2022 کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا جس نے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں صدمے کی لہر دوڑائی۔ سدھو موسے والا، جو اپنی موسیقی، شاعری اور کسانوں کے حقوق کے لیے جانی پہچانی شخصیت بن چکے تھے، کی موت نے لاکھوں دلوں کو رنجیدہ کر دیا تھا، سدھو موسے والا نے اپنے گانے "لیجنڈ” اور "فریڈم” جیسے کامیاب گانوں سے نہ صرف نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کی بلکہ کسان تحریک میں بھی اپنی آواز بلند کی۔ وہ اپنے گانوں کے ذریعے سماجی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مشہور تھے، اور ہمیشہ اپنے کام کے ذریعے لوگوں کو طاقتور بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ان کی موت کے بعد، نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں نے سوگ منایا۔سدھو موسے والا کے خاندان اور دوستوں نے ان کی یاد میں مختلف پروگرامز اور یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا، اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی عہد کیا۔ ان کا کردار اور ان کی موسیقی آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔سدھو موسے والا کی موت ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے: بھارت میں فنون اور سیاسی آوازوں کو خطرات کا سامنا کیوں ہے؟

    گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کا مبینہ ماسٹر مائنڈ امریکہ میں قتل؟حقیقت کچھ اور نکلی

    سدھو موسے والا کے بھائی کی پیدائش پر حکومت والد کو ہراساں کرنے لگی

    سدھوموسے والا قتل کیس: ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کیلئےچھاپے

    سدھو موسے والا کے والدین کے ہاں بیٹے کی پیدائش

  • پنجاب کالج کیس،لڑکی کی "اماں”ہونے کی دعویدارخاتون کے ریمانڈ میں توسیع

    پنجاب کالج کیس،لڑکی کی "اماں”ہونے کی دعویدارخاتون کے ریمانڈ میں توسیع

    لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت نے نجی کالج میں مبینہ ریپ کیس کی متاثرہ طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار خاتون کے جسمانی ریمانڈ میں 6 روز توسیع کردی ہے

    پولیس نے متاثرہ طالبہ کی ماں ہونے کی دعویدار خاتون سارہ خان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا، دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت میں کہاکہ ملزمہ کا ایک موبائل فون ملتان سے برآمد ہوا ہے ،دوسرا فون برآمد کرنا ہے، ملزمہ کی ویڈیوز کی جانچ کیلئے آواز میچنگ ٹیسٹ بھی کروانا ہے، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کر لی، عدالت نے حکم دیا کہ ملزمہ جسمانی ریمانڈ کے دوران صرف دن کے وقت پولیس حراست میں رہے گی، اندھیرا ہونے سے پہلے اسے روزانہ جیل منتقل کیا جائے گا،ملزمہ سارہ خان کیخلاف تھانہ گلبرگ نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر غیر مصدقہ خبر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں طلبہ نے احتجاج کیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی،بعد ازاں تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے مطابق کالج میں لڑکی سے زیادتی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی مبینہ زیادتی کا کوئی عینی شاہد ملا ہے، کمیٹی نے 28 کے قریب طلبہ اور طالبات کے انٹرویو کیے جس میں طلبہ اور طالبات نے بیان میں ادھر ادھر سے سننا بتایا،کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ معاملے کو سوشل میڈیا پر پوسٹوں کے ذریعے اچھالا گیا۔

    پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ، نئی جے آئی ٹی تشکیل

    پنجاب کالج مقدمہ،خاتون صحافی مقدس فاروق اعوان نے ضمانت کروا لی

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

  • ہم ہر گلی یا چوک پر پولیس اہلکار نہیں کھڑا کر سکتے،آئی جی اسلام آباد

    ہم ہر گلی یا چوک پر پولیس اہلکار نہیں کھڑا کر سکتے،آئی جی اسلام آباد

    اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے ارکان کے غصے کا سامنا کر گئے۔

    کمیٹی کے ارکان نے آئی جی اسلام آباد پر سخت تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔کمیٹی کے چیئرمین نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ تو ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہاں پرندہ بھی نہیں مار سکتا، لیکن بینک ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہو رہی ہیں۔ لوگوں کو خوف ہے کہ کہیں کوئی موٹرسائیکل سوار آ کر واردات نہ کر جائے۔”اس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ "یہ سب سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی سنسنی ہے، اسلام آباد کی صورتحال مکمل طور پر پرسکون ہے۔ ہم ہر گلی یا چوک پر پولیس اہلکار نہیں کھڑا کر سکتے۔”سینیٹ کمیٹی نے پولیس کے موجودہ انتظامات پر سوالات اٹھائے اور یہ بھی کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں جرائم بڑھ چکے ہیں، اسلام آباد میں ڈکیتی کی ایک اور واردات میں ایس ایم جی گن کا استعمال ہوا ہے بری امام کے علاقے میں ڈاکو موبائل دکان لوٹ کر فرار، جاتے ہوئے فائرنگ بھی کرتے گئے۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کیا گیا،ملزمان موبائل شاپ سے 6لاکھ 30ہزار روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے،دو موٹر سائیکلوں پر چار ملزمان آئے تھے،ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیکر ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • الیکشن کمیشن کا امیر جماعت اسلامی پر جرمانہ

    الیکشن کمیشن کا امیر جماعت اسلامی پر جرمانہ

    الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان پر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان پر کراچی کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر یہ جرمانہ عائد کیا گیا۔حافظ نعیم الرحمان نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کا جواب گزشتہ روز جمع کرایا تھا، جس کے بعد ڈی ایم او نے اس کا جائزہ لیا اور انہیں 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا،حکم نامے کے مطابق ٹاؤن چیئرمین گلبرگ اور یوسی چیئرمین پر بھی 10، 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز حافظ نعیم الرحمان کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الدین نے کہا تھا کہ حافظ نعیم کو الیکشن کمیشن کا نوٹس "بنو قابل” پروگرام میں شرکت پر آیا تھا،ہم نے نوٹس کا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرایا، جس میں بتایا کہ یہ پروگرام غیر سیاسی تھا اور پورے پاکستان میں منعقد ہو رہا تھا، ہم نے وضاحت کی کہ اس پروگرام کا انتخابی عمل اور انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تھا،ایڈووکیٹ سیف الدین نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نوٹس جاری کیا۔

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • جنوبی وزیرستان، 5 خوارج جہنم واصل،چار جوان شہید

    جنوبی وزیرستان، 5 خوارج جہنم واصل،چار جوان شہید

    جنوبی وزیرستان ،سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج جہنم واصل ہوئے ہیں جبکہ کارروائی کے دوران 4 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے کڑمہ میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 5 خوارج جہنم واصل ہوئے،جبکہ مقابلے میں وطن کے چار بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا،شہید ہونے والوں میں نائب صوبیدار طیب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل محمود اور لانس نائیک حبیب اللہ شامل ہیں،علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے، پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    لانس نائیک گلاب زمان شہید کی عمر 30 سال تھی ان کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔ شہید نے 9 سال تک وطن عزیز کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا،لانس نائیک حبیب اللّٰہ شہید کا تعلق ضلع اورکزئی سے ہے۔ 28 سالہ لانس نائیک حبیب اللّٰہ شہید نے 7 سال تک پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑی،ضلع کرک کے رہائشی لانس نائیک مزمل محمود شہید کی عمر 37 سال تھی، انہوں نے7 سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان کے علاقے کڑمہ میں فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےا فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نائب صوبیدار طیب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل محمود اور لانس نائیک حبیب اللہ کی شہادت پر رنج و الم کا اظہار کیا ہے،وزیراعظم نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے نڈر جوانوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی،ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ہماری دہشتگردوں سے جنگ جاری رہے گی،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • ایئرلائن کے مسافروں کو ہڑتال کی وجہ سے پروازوں میں کھانے کی کمی کا خدشہ

    ایئرلائن کے مسافروں کو ہڑتال کی وجہ سے پروازوں میں کھانے کی کمی کا خدشہ

    ایئرلائن کے مسافروں کو کھانے اور مشروبات کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ کیٹرنگ اسٹاف کی ہڑتال کا امکان ہے، ایک تجارتی یونین نے خبردار کیا ہے۔

    یونائٹ یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہیتھرو، گیٹ وک، اسٹین سٹیڈ اور برمنگھم سمیت بڑے ایئرپورٹس سے پروازوں کے لیے کھانے، اسنیکس اور مشروبات فراہم کرنے والے کارکنوں کی ووٹنگ کرائے گی۔یونین نے خبردار کیا کہ ممکنہ ہڑتالوں کا اثر مانچسٹر، برسٹل، گلاسگو اور لندن سٹی ایئرپورٹ پر بھی پڑے گا اور یہ ہڑتالیں کرسمس کے مصروف ترین سفری دور میں متوقع ہیں۔یونین نے کہا کہ اگر اس کے اراکین، جو سروس پرووائیڈر ڈناتا میں کام کرتے ہیں، تنخواہوں اور شرائط و ضوابط پر اختلافات کے باعث ہڑتال پر چلے گئے تو مسافروں کو "کھانے کے بغیر پروازوں” کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    یونائٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: "ملک بھر کے ایئرپورٹس پر مسافروں کو طویل اور قلیل فاصلے کی پروازوں میں کھانے یا مشروبات کی فراہمی کے بغیر سفر کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ڈناتا کیٹرنگ کے کارکن ہڑتال کے لیے ووٹنگ کر رہے ہیں۔”بیان میں مزید کہا گیا کہ "ہزاروں ڈناتا کے کارکن ہیتھرو، گیٹ وک، گلاسگو، لندن سٹی، اسٹین سٹیڈ، برسٹل، مانچسٹر اور برمنگھم ایئرپورٹس پر ایئرلائنز کے لیے کھانا فراہم کرتے ہیں اور وہ ہڑتال کے لیے ووٹنگ کر رہے ہیں۔”یہ کارکن کمپنی کی جانب سے شرائط و ضوابط میں تبدیلی کی کوششوں پر غصے میں ہیں اور یونین نے ان الزامات کو لگایا کہ کمپنی بغیر مشاورت کے ان کی شرائط بدلنا چاہتی ہے۔یونائٹ کے جنرل سیکریٹری شیرون گراہم نے کہا: "ڈناتا کی جانب سے اپنے کارکنوں کو نظر انداز کر کے شرائط و ضوابط میں نقصان دہ تبدیلیاں مسلط کرنے کی کوششیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔”

    ڈناتا،نے یونین کے نمائندوں سے بیماری کی چھٹیوں، ملازمین کی تعطیلات اور شفٹ کے شیڈول کے حوالے سے مشاورت کرنے سے انکار کیا ہے۔یونین کے مطابق: "ہڑتال کے لیے ووٹنگ کا عمل اس ہفتے شروع ہوا ہے اور 5 دسمبر تک جاری رہے گا، جس کے بعد کرسمس کی تعطیلات کے دوران ہڑتال کا امکان ہے۔”یونائٹ کے ایوی ایشن کے قومی افسر بالوینڈر بر نے کہا: "ہڑتال کا اثر برطانیہ کے آٹھ بڑے ایئرپورٹس پر ہونے والی پروازوں پر پڑے گا اور اس کا ذمہ دار مکمل طور پر ڈناتا ہوگا۔”ڈناتا کیٹرنگ اینڈ ریٹیل یوکے کے ترجمان نے کہا: "ہم نے اپنے ملازمین کے لیے اجرت اور حالات بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں لیکن یونائٹ نے ہماری معقول تجاویز کو مسترد کر دیا اور ہڑتال کے لیے ووٹنگ شروع کر دی ہے۔””ہم نے پہلے ہی اپنے ٹیم کے لیے تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ ان کی زندگی کی لاگت میں اضافے کو مدنظر رکھا جا سکے اور کمپنی کے لیے ان کی خدمات کو تسلیم کیا جا سکے۔”

    ماہرین ہمیشہ مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پروازوں کے دوران کھانے کا ذخیرہ اپنے ساتھ رکھیں تاکہ کسی بھی آخری لمحے کی کمی کا سامنا نہ ہو۔فلائٹ اٹینڈنٹ ڈیستینی آرمسٹرانگ نے اپنے ٹِک ٹاک پر بتایا کہ وہ ہمیشہ دو پٹیاں نوڈلز اپنے ساتھ رکھتی ہیں اور عملے سے گرم پانی کی درخواست کرتی ہیں۔انہوں نے کہا: "آپ ان پروازوں پر کھانے پر انحصار نہیں کر سکتے اور اگر وہ فراہم بھی کرتے ہیں، تو اکثر آپشنز کھانے کے نہیں ہوتے۔”

    یاد رہے کہ ہوائی جہاز کا کھانا ایک وقت میں مختلف ہوتا تھا، جب اس میں روایتی طور پر روسٹ چکن، سبز سلاد، اور میلبا ساس کے ساتھ آڑو ،پنیر اور شراب شامل ہوتے تھے۔

  • پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی پر بجلی چوری کا مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی پر بجلی چوری کا مقدمہ درج

    سرگودھا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شفقت عباس اعوان کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق، شفقت عباس اعوان پر یہ الزام ہے کہ ان کی رہائش گاہ چک 35 شمالی میں بجلی چوری کی جا رہی تھی۔ مقدمہ تھانہ صدرمیں درج کیا گیا ہے ،ایس ڈی او ولید احمد مقدمہ کے مدعی ہیں،مقدمے کے متن کے مطابق مقدمہ بر خلاف شفقت عباس اعوان ولد محمد عبد الرحمن ساکن چک نمبر 35 شمالی سرگودھا ،تحریر ہے کہ مورخہ 6.11.24 بروز بدھ رات ساڑھے نو بجے انچارج ٹاسک فورس ٹیم ہمراہ عثمان علی، میر حمزہ ،اور SDO ولید احمد ہمراہ ٹیم پولیس دوران 35 چک چیکنگ کیا جس کا حوالہ نمبر 1440104-13411-20 سے میٹر بنام عالم خان ولد اللہ یار خان زیر استعمال (شفقت عباس اعوان ولد محمد عبد الرحمن) کو چیک کیا تو صارف نے واپڈا میٹر جس کا میٹر نمبر 581485 ریڈنگ موقع پر 13749 کمپنی PEL PC ماڈل 2006کی باڑی میں سوراخ کر کے تیلے کی مدد سے ڈسک کی مدد سے روکا ہو ا تھا ڈسک پر واقع نشان موجود تھے جو کہ بجلی چوری کرنے کے زمرے میں آتا ہے لہذا صارف کا بجلی میٹر جس سے وہ بجلی چوری کر رہا تھا،بطور ثبوت قانونی کاروائی اتار لیا ہے لہذا جناب سے گزارش ہے کہ شفقت عباس اعوان ولد محمد عبد الرحمن ( جو کہ مذکورہ میٹر سے بجلی استعمال کرتا ہے ) بجلی چوری کے جرم میں زیر دفعہ 4621 ایف آئی آر درج کر کے کاپی ایف آئی آرزیر دستخطی کو ارسال کریں تاکہ مزید کاروائی عمل میں لائی جائے

    اس سلسلے میں شفقت عباس اعوان کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کا الزام بے بنیاد اور جھوٹا ہے، اور ان پر اس سے قبل بھی جھوٹے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • وزیراعظم کی گلگت میں رمدے یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت

    وزیراعظم کی گلگت میں رمدے یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں تھاگوس ، ضلع گھانچے کے مقام پر قائم کی جانے والی رمدے یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی

    سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی،رمدے یونیورسٹی ایک ٹرسٹ کے تحت قائم کی جا رہی ہے،رمدے یونیورسٹی کی تعمیر سمندر پار پاکستانیوں سمیت پاکستان بھر سے مخیر افراد کے تعاون سے مکمل ہو گی ،وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ میں جناب جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے اور اُن کے تمام احباب کو دِل کی گہرائیوں سے ’رمدے یونیورسٹی‘ کے قیام کی مبارک پیش کرتا ہوں،رمدے یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے تعاون کرنے والے تمام اداروں اور افراد کی کوششیں لائق تحسین ہیں،آج ہم سب نے مل کر یہاں کے بچوں اور بچیوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی ہے ،گلگت بلتستان کے گھانچے جیسے دور دراز علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے کا قیام انتہائی خوش آئند ہے،مجھے یقین ہے کہ 11 ہزار فٹ کی بلندی پر تھاگوس کے مقام پر قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی جدید علوم اور تحقیق کے معیار کی بلند چوٹیاں سر کرے گی۔ اِن شاء اللہ،پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے ،نجی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء نے ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ،گلگت بلتستان کی ترقی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،گزشتہ روز گلگت بلتستان کے دورے کے دوران سیلاب سے 62 متاثرہ خاندانوں کو گھر حوالے کیے گئے ہیں ،گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کے مختلف منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ علاقے کی بجلی کی ضروریات پورا کرنے میں مدد دے گا ،کل ہی گلگت بلتستان ایجوکیشن اینڈاومینٹ فنڈ کا اعلان کیا ہے جس سے گلگت بلتستان کے قابل اور مستحق طلباء مستفید ہو سکیں گے اور معاشرے کے تعمیری فرد کے طور پر پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے

    تقریب میں جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے نے رمدے یونیورسٹی کے حوالے سے بریفنگ میں کہا کہ رمدے یونیورسٹی گلگت بلتستان کے ضلع گھانچے کے علاقے تھاگوس میں 200 کنال رقبے پر قائم کی جا رہی ہے ،رمدے یونیورسٹی دنیا کی بلندترین مقامات پر تعمیر کی جانے والی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہو گی،یونیورسٹی میں ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی ، ہائیڈرولوجی، معدنیات سمیت دیگر مضامین کی تعلیم دی جائے گی،اسفند یار ولی رمدے اسکول گھانچے کے طلباء نے قومی ترانہ پیش کیا، اسفند یار ولی اسکول گھانچے کے طلبہ و طالبات نے وڈیو لنک کے ذریعے تقریب میں شرکت کی۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،پاکستان کو سالانہ 3 سو ارب کا نقصان

    غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،پاکستان کو سالانہ 3 سو ارب کا نقصان

    پاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کی فروخت کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، ملک میں 50 فیصد سے زیادہ سگریٹس اسمگل ہو کر فروخت ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث، قانونی سگریٹس کی فروخت میں واضح کمی آئی ہے، جس کا اثر ٹیکس آمدنی پر بھی پڑا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، قانونی سگریٹس کی فروخت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ صرف رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں قانونی سگریٹس کی فروخت میں 80 کروڑ اسٹکس کی کمی آئی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک کی مدت میں قانونی سگریٹس کی فروخت 7.1 ارب اسٹکس سے کم ہو کر 6.3 ارب اسٹکس پر آ گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو اس سال قانونی سگریٹس کی مارکیٹ سیل میں 4 ارب روپے کی مزید کمی کا امکان ہے۔ اسی طرح، کچھ برانڈز کی سالانہ فروخت میں بھی زبردست کمی آئی ہے، مثلاً ایک مشہور برانڈ کی فروخت 66 کروڑ سے کم ہو کر 30 کروڑ اسٹکس تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ غیر قانونی تجارت کا مسئلہ پاکستان میں سنگین ہوتا جا رہا ہے، جو نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے اور ٹیکس کی آمدنی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

    پاکستان میں سگریٹ نوشی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کا اثر نہ صرف بالغوں پر پڑتا ہے بلکہ بچوں کی صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے بچوں کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ہم سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں تاکہ ہم اپنے بچوں کو اس نقصان دہ عادت سے بچا سکیں۔سگریٹ میں پائے جانے والے مختلف کیمیکلز اور زہریلے مادے بچوں کے جسم میں داخل ہو کر ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں میں شامل زہریلے مادے بچوں کی سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے آسم، برونکائٹس، اور دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں بچوں کی دماغی نشونما پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آ سکتی ہے اور ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔طویل مدتی اثرات میں بچوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی شامل ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے دل کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بچوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے، جس کے باعث وہ مختلف انفیکشنز اور بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔سگریٹ میں موجود زہریلے مادے بچوں کے جسم میں کینسر کی نشوونما کا باعث بن سکتے ہیں۔

    بچوں کو سگریٹ سے بچانے کے لیے اقدامات
    پاکستان میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے کچھ مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے،والدین کی تربیت اور مثال بچوں کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے۔ اگر والدین خود سگریٹ نوش ہیں تو یہ عادت بچوں میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ والدین کو خود بھی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر نمونہ پیش کر سکیں۔ اس کے علاوہ، والدین کو اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔سکولز اور کالجز میں بچوں کو سگریٹ نوشی کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف آگاہی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ ان پروگرامز میں بچوں کو بتائیں کہ سگریٹ نوشی ان کی صحت، تعلیم اور زندگی کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔حکومت کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے قوانین مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ اسکولز اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانی چاہیے۔ علاوہ ازیں، سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگانے کے لیے موثر قانون سازی ضروری ہے۔یہ ضروری ہے کہ پبلک مقامات، جیسے پارکس، سڑکیں، اور کھیل کے میدانوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی جائے۔ اس سے بچوں کو اس بات کا شعور ہوگا کہ سگریٹ نوشی معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مہمات چلانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سگریٹ نوشی کے اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، والدین اور دیگر بزرگ افراد کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی نہ کریں۔صحت کے شعبے میں بہتری لاتے ہوئے، حکومت کو ایسی سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں جن کے ذریعے لوگ سگریٹ نوشی سے نجات حاصل کر سکیں۔ نیکوٹین کو کم کرنے والی ادویات، تھراپی اور کونسلنگ سیشنز ان اقدامات کا حصہ ہو سکتے ہیں،پاکستان میں سگریٹ کی قیمت بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بچے اسے آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ حکومت کو سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ کم عمر بچے سگریٹ خریدنے کی استطاعت نہ رکھیں۔آج کل الیکٹرانک سگریٹ یا ‘وپنگ’ بھی بچوں میں مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھی سگریٹ نوشی کی طرح مضر صحت ہے، لہٰذا اس پر بھی پابندی لگانی چاہیے اور اس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔

    پاکستان میں سگریٹ نوشی کی روک تھام اور بچوں کو اس عادت سے بچانے کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ والدین، اسکولز، حکومت اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی صحت کو اس خطرے سے بچایا جا سکے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات اور اس کے اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو صحت مند زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

    بیرون ملک مقیم پاکستانی گروپ نے سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش کردی، النہانگ گروپ نے قومی ایئرلائن پر واجب الادا 250 ارب روپے بھی ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کردی،النہانگ گروپ نے پی آئی اے کی خریداری کے لیے وزیر نجکاری، وزیر ہوا بازی اور وزیر دفاع سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بذریعہ ای میل پیشکش ارسال کردی ، گروپ نے حکومت کو پی آئی اے کے ملازمین کی چھانٹی نہ کرنے، تنخواہوں میں مرحلہ وار 30 سے 100 فیصد اضافے کی بھی پیشکش کی ہے،پاکستانی کاروباری گروپ نے قومی ایئرلائن کے لیے بہترین بزنس پلان ، فلیٹ میں جدید طیاروں کی شمولیت کی بھی یقین دہانی کرادی، پیشکش میں قومی ائرلائن کو دیگرائرلائننز کے لئےانجینئرنگ اورمینٹینس حب بنانے کا آپشن بھی شامل ہے

    گروپ "ال نہانگ” نے رپورٹ کے مطابق پرائیویٹائزیشن، ایوی ایشن، اور دفاعی وزیروں کو ای میل کے ذریعے ایک باضابطہ پیشکش بھیجی ہے، جس میں پی آئی اے کو نئی زندگی دینے کے لیے اپنے ویژن کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔قرض کی ادائیگی کے علاوہ، ال نہانگ کی پیشکش میں یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کو فارغ نہیں کیا جائے گا اور 30 تنخواہ کی اقساط میں تنخواہیں دوگنا کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔گروپ نے ایک جامع کاروباری منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس میں پی آئی اے کی بیڑے میں جدید طیاروں کا اضافہ اور ایئرلائن کو دوسرے کیریئرز کے لیے مینٹیننس ہب بنانے کی تجویز شامل ہے۔

    دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) اپنے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تلاش میں ہے، تاکہ امیر حیات کی مدت مکمل ہونے کے بعد ایئرلائن کی قیادت سنبھالی جا سکے۔پی آئی اے نے ایک اشتہار جاری کیا ہے جس میں 15 دنوں کے اندر موزوں امیدواروں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ امیدواروں کی عمر 45 سے 57 سال کے درمیان ہونی چاہیے اور ان کے پاس بڑی کمپنی چلانے کا 20 سال کا تجربہ یا ایوی ایشن صنعت میں کم از کم 10 سال کا مینیجمنٹ کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔

    علاوہ ازیں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کے جواب میں ان کے دفتر کو سیل کرنے کی کوشش کی ہے،جب پی آئی اے کی سیکیورٹی ٹیم SAEP کے دفتر کو سیل کرنے پہنچی، تو انجینئرز خود ہی دفتر کو تالے لگا کر احتجاج کرنے کے لیے پہنچ گئے۔سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان کے سیکریٹری اویس خان جدون نے کہا کہ انتظامیہ نے پی آئی اے کی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر سستے حربے اختیار کیے اور پی آئی اے کی ٹیم تحریری حکم کے بغیر دفتر سیل کرنے پہنچی تھی۔دوسری طرف، پی آئی اے کے ترجمان نے سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان کے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے قوانین کے مطابق طیاروں کے خراب انجن بیچ رہا ہے، جو کہ ایوی ایشن انڈسٹری میں معمول کی کارروائی ہے۔

    علاوہ ازیں خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو خریدنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی آئی اے خریدنے کے بعد اس کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ صوبے کے لوگ اس قومی اثاثے کو سستے داموں بیچنے کے خلاف پیسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر صوبہ پی آئی اے خریدتا ہے تو یہ اسی نام یعنی "پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز” کے تحت چلایا جائے گا اور حکومتی ملکیت میں رہے گا۔ "ہم اسے سستے داموں بیچنے نہیں دیں گے۔”ہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے کہ ایئرلائن عوامی ملکیت میں رہے اور اس کا نام برقرار رہے۔

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پی آئی اے کی نجکاری: مفتاح اسماعیل کا صوبوں کے کردار پر سوال

    میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان