Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عدالت کا عمران خان کی دی گئی فہرست کے مطابق ملاقات کا حکم

    عدالت کا عمران خان کی دی گئی فہرست کے مطابق ملاقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نا کرانے پر توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل فرید چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل ایاز شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عمرا ن خان کے وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز میٹنگ کا شیڈول تھا لیکن میٹنگ نہیں کرائی گئی ،مجھے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ روڈ بلاک تھی جس سے عام لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں ، اسد قیصر ، شبلی فراز ان کو بھی اڈیالہ جیل کے باہر روکا گیا ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے اس توہین عدالت کے کیس میں جواب جمع کرایا ہے ، اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق 3 کوآرڈی نیٹرز ہیں، ہمیں کوئی لسٹ نہیں دی گئی کہ یہ 6 لوگ ملنا چاہتے ہیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ انتظار پنجوتھا کوآرڈینیٹر تھے جو لاپتہ ہوئے تھے، ہم نے لسٹ دی تھی۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں لسٹ نہیں دی، یہ کہہ رہے ہیں لسٹ دی ہے، آپ یہ بتائیں ان کی میٹنگ کب کرائیں گے؟ یہ لسٹ آپ کو ابھی دیتے ہیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹر دن میں 3 مرتبہ عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں کل کیوں ملاقات نہیں کرا سکتے؟سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں کہا کہ ان کی ملاقات منگل اور جمعرات کو طے ہے، ان دنوں کے علاوہ ہمیں ہائی پروفائل ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی انتظامات کرنا ہوتے ہیں، ہم تو ہمیشہ عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہیں، فیصل چوہدری صاحب تو روزانہ 8 گھنٹے ملتے ہیں، یہ پھر بھی شکایت کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی فہرست پر منگل کو ملاقاتوں کا حکم دے دیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ "میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ کیا کھاتے ہیں کیا کرتے ہیں آپ مجھے بس یہ بتائیں کہ کیا آپ ان کی ملاقات کروائیں گے یا نہیں؟ "- اسلام آباد ہائیکورٹ نےجیل حکام کو حکم دیا کہہ عمران خان خود لسٹ بنا کر سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو دیں گے وہ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور پی ٹی آئی سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کو بھیجیں گے آئندہ سے اسی لسٹ کے مطابق منگل اور جمعرات کو عمران خان سے فیملی ممبران وکلا و دیگر ملاقات کر سکیں گے۔

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • لاہور میں سموگ کا راج برقرار،مارکیٹیں 8 بجےبندکرنے کا حکم

    لاہور میں سموگ کا راج برقرار،مارکیٹیں 8 بجےبندکرنے کا حکم

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سموگ کا راج برقرار ہے
    دنیا کے بڑے شہروں میں لاہور کی فضا سب سے آلودہ ریکارڈ ہوئی اور لاہور کی فضا میں 860 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا،پنجاب میں سب سے زیادہ ملتان شہر کی فضا انتہائی مضر صحت ہے جہاں پارٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد 1635 تک جا پہنچی ہے، آلودہ فضا میں سانس لینا انسانی صحت کیلئے خطرناک بن چکا ہے۔ایئرکوالٹی 1175 ہوگیا اسموگ کے دوران اسکولوں میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں، اساتذہ بھی گھروں سے آن لائن کام کریں گے جب کہ اسکولوں میں ٹیچرز، والدین میٹنگز، اسپورٹس، تفریحی دورے نہیں ہوں گے،

    لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں آج بھی پہلے نمبر پر ے، گرین لاک ڈاؤن کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس 700 سے تجاوز کر گیا ہے، شہر کے متعدد علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 1000 سے بھی اوپر چلا گیا ہے، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سموگ کے باعث آنکھوں اور گلے کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، ایک ماہ میں ایک لاکھ سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں جس میں زیادہ تعداد بزرگ اور بچوں کی ہے۔

    شدید دھند اور سموگ، موٹروے بھی بند
    دوسری جانب لاہور شیخوپورہ اور اسکے مضافاتی علاقے شدید سموگ اور دھند کی لپیٹ میں ہیں شاہرات پر سموگ کی شدت کے باعث حدنگاہ کم ہوگئی ہے سموگ اور دھند کی شدت اور حدنگاہ میں کمی کے باعث موٹروے ایم ٹو لاہور سے شیخوپورہ تک جبکہ موٹروے ایم تھری لاہور سے جڑانوالا ایم فور گوجرہ سے عبدالحکیم تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔۔شہری دھند سموگ کے ایام میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دوران سفر کسی مشکل صورتحال میں موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر کال کرسکتے ہیں ۔

    دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے موٹر وے اور رنگ روڈز داخلے پر پابندی کا حکم
    لاہور ہائیکورٹ،سموگ کے تدارک کیلئے موثر اقدامات نہ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی عدالت نے مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے اتوار کے دن بھی مارکیٹیں مکمل بند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے تمام نجی دفاتر میں دو دن کے لئے ورک فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے کیس کی سماعت جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر کی۔عدالت نے بڑی گاڑیوں کے شہر میں داخلے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرک اور ٹرالر سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہیں،ڈولفن پولیس اور پولیس اہلکار ہیوی ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے تعینات کئے جائیں،ہر سماعت پر حکومت کو سموگ کنٹرول کیلئے اقدامات کا کہتے رہے،اصل آلودگی کا باعث ہیوی ٹریفک کا دھواں چھوڑنا ہے،اگر لاری اور بسوں کو نوٹس دیئے ہیں تو ابھی تک بند کیوں نہیں ہوئیں،دھواں چھوڑنے والی بسوں کو 50، 50 ہزار جرمانہ کریں تو کیسے ٹھیک نہیں ہونگے،فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی سڑک پر کیسے آ سکتی ہے،محکمہ ٹرانسپورٹ کو اقدامات کرنے چاہئے تھا،ہم حکومت کی مدد کیلئے یہ اقدامات کررہے ہیں،حکومت شاید عدالتی احکامات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی ہو،ڈی سی وغیرہ پر حکومت کا دباؤ ہو تو کام کریں گے، سموگ کی صورتحال کا انتظامیہ کو رات کو جائزہ لینا چاہئے، ڈی سی لاہور اور کمشنر کو رات کو نکل کر دیکھنا چاہیے کیا ہورہا ہے،ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عملدرآمد ممکنہ نہ ہو،شادی پر ون ڈش تو کردی لیکن وہاں پر رش کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات نہیں کیے، ورک فرام ہوم کی پالیسی شروع کی جائے،پورے پنجاب میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں،صوبے میں مارکیٹیں اتوار کو بھی بند رکھی جائیں،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے موٹر وے اور رنگ روڈز داخلے پر پابندی عائد کی جائے، سموگ کے حوالے سے ایمرجنسی کی صورتحال کا سامنا ہے، یہ اقدامات کرنے سے سموگ ایک سال میں کنٹرول نہیں ہو جائے گی،5 سال تک ان اقدامات کے نتائج آنا شروع ہونگے،چائنہ والوں نے سموگ اور آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کامیاب اقدامات کیے ہیں.

    وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر سموگ آگاہی مہم جاری ہے،وزیر صحت خواجہ عمران نذیرنے لاہور میں سموگ آگاہی مہم میں شرکت کی، خواجہ عمران نذیر نے لبرٹی مارکیٹ میں شہریوں کو ماسک تقسیم کئے،خواجہ عمران نذیر نے شہریوں کو ماسک پہنائےاور احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا

    سموگ میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں ،عظمیٰ بخاری
    وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہےکہ سموگ کو کم کرنے کیلئے ہمیں اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی لانا ہوگی، ملتان اور فیصل آباد کے حوالے سے میرے لئے بھی خبریں آج تشویشناک ہیں، فیصل آباد ویسے بھی انڈسٹریل سٹیٹ ہے، ہماری پوری حکومتی مشینری سڑکوں پر کھڑی ہے، گزشتہ 8ماہ میں سینکڑوں بھٹوں میں سے کئی مسمار کئے گئے، ہم بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر لارہے ہیں، جو اس ٹیکنالوجی پر نہیں جائیں گے وہ پنجاب میں کام نہیں کرسکیں گے،ایسا نہیں کہ سموگ صرف پاکستان میں ہے باقی ممالک میں نہیں، بیجنگ آخری 26سالوں سے سموگ سے مقابلہ کررہا ہے، وہ بھی سموگ میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں ، وہ لوگ اپنی انڈسٹری کو بیجنگ سے دور لے کر جارہے ہیں،حکومت پاکستان بھی سموگ والے مسئلے پر اقدامات کررہی ہے، دہلی کی حکومت کو بھی اقدامات کرنا ہوں گے ، بھارت بھی سموگ کے معاملے پر فکرمند ہے

    پنجاب میں سموگ کی وجہ سے پارکس،تفریح گاہیں بند
    پنجاب حکومت نے بڑھتی سموگ کی وجہ سے پارکس، تفریح گاہیں اور عجائب گھر آج سے 10 دن کے لیے بند کر دیئے ہیں، اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی 8 نومبر سے 17 نومبر تک لاگو رہے گی،نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی پر گرفتاری ہو گی اور جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

  • ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی: شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے

    امریکہ میں 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد برطانیہ کے شہزادہ ہیری کی خفیہ امیگریشن فائل منظر عام پر آ سکتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اس فائل کی ریلیز کو روکے رکھا تھا، لیکن ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سرخیوں میں آ سکتا ہے۔

    شہزادہ ہیری اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بڑھنے لگے تھے، جب میگھن مارکل نے ٹرمپ کو عورت دشمن قرار دیا تھا اور جواب میں ٹرمپ نے میگھن کو "گھٹیا” قرار دیا تھا۔ اس کے بعد، ٹرمپ نے 2017 میں کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ صدر بنے تو شہزادہ ہیری کو حمایت نہیں دیں گے کیونکہ اس نے ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر شہزادہ ہیری نے اپنی امیگریشن درخواست میں جھوٹ بولا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شہزادہ ہیری کی امریکی امیگریشن درخواست پر سوالات اُس وقت اُٹھے جب 2023 میں اُنہوں نے اپنی یادداشت "Spare” میں منشیات کے استعمال کا اعتراف کیا۔ امریکی امیگریشن کے قوانین کے مطابق، منشیات کا استعمال امریکی شہریت حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور اس بارے میں معلومات درخواست میں فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔دائیں بازو کے تھنک ٹینک "ہیریٹج فاؤنڈیشن” کا دعویٰ ہے کہ منشیات کا تفریحی استعمال امریکی شہریت کے لیے نااہلی کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائلز کی ریلیز سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ہیریٹج فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جو ابھی اپیل میں ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق، شہزادہ ہیری کو بائیڈن انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، لیکن ٹرمپ کی کامیابی کے ساتھ، یہ ممکن ہے کہ وہ شہزادہ ہیری کی امیگریشن درخواست پر دوبارہ غور کریں یا اس کے ریکارڈز منظر عام پر لے آئیں۔ہیریٹج فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری کے ریکارڈز کی منظر عام پر آنے سے یہ پیغام جائے گا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔

    شہزادہ ہیری کے امیگریشن کیس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں نہ صرف برطانوی شاہی خاندان کی نجی زندگی شامل ہے بلکہ امریکی امیگریشن پالیسی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے سخت امیگریشن قوانین کا حامی ہونا اور ہیری کی ممکنہ امیگریشن فائلز کا منظر عام پر آنا ایک بڑی سیاسی اور قانونی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کا موقف ایک طرف جبکہ ٹرمپ کے امیگریشن قوانین پر سخت موقف کا فیصلہ ایک اہم موڑ ہوگا، جس سے بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات کرنے کی خواہش ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد وہ 70 سے زائد عالمی رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں، لیکن ابھی تک روسی صدر سے رابطہ نہیں ہو سکا، اور وہ جلد ہی ان سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اسی دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس میں اب بال امریکی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو روس سے تعلقات کی بحالی کے لیے اپنی توجہ دینی چاہیے۔پیوٹن نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا یہ سمجھ جائے گا کہ روس پر پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں، اور ان کی سرحدوں پر تنازعات کو ہوا دینا بھی بے فائدہ ہوگا۔

    یہ خبر اس وقت آئی جب ایک روز قبل کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں امریکی صدر ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد دینے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ کریملن نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا ایک دشمن ریاست ہے جو یوکرین کی جنگ میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر ملوث ہے۔

    یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روس اور امریکا کے تعلقات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا پیوٹن سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے، اس تناظر میں ٹرمپ کے روسی صدر سے بات کرنے کے فیصلے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا عالمی سیاست میں تبدیلی کی کوئی امید کی جا سکتی ہے یا یہ محض ایک سیاسی چال ہو گی۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • مالا کنڈ،لیویز اہلکار نے گولیاں چلا دیں، دو اہلکاروں کی موت

    مالا کنڈ،لیویز اہلکار نے گولیاں چلا دیں، دو اہلکاروں کی موت

    خیبر پختونخوا کے علاقے مالاکنڈ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے

    مالاکنڈ میں لیویز اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے لیویز حوالدار سمیت 2 اہلکار وں کی موت ہو گئی ہے، واقعہ مالاکنڈ کے علاقے موسیٰ مینہ درگئی میں چیک پوسٹ پر پیش آیا، لیویز اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے اس کا ساتھی حوالدار سمیت 2 اہلکار جاں بحق اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا ہے،فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہوگیا جب کہ لاشوں اور زخمی کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، واقعہ کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے نوٹس لیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کی فوری ہدایت جاری کی ہے،پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزم کو گرفتار کر لیں گے

  • دوران پرواز مسافر نےراہداری میں پیشاب کر دیا،ایئرلائن نے بلائی پولیس

    دوران پرواز مسافر نےراہداری میں پیشاب کر دیا،ایئرلائن نے بلائی پولیس

    ریان ایئر کی ایک پرواز پر بدتمیزی کی انتہاء دیکھنے کو ملی جب ایک مسافر نے جہاز کے درمیان میں پیشاب کرنے کی حرکت کی، جس پر ایئر لائن حکام کو مقامی پولیس کو طلب کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    تفصیلات کے مطابق، ریان ایئر کی پرواز ٹینیریف جا رہی تھی، ایک مسافر نے دوران پرواز بدتمیزی کی اور جہاز کے گزرگاہ میں پیشاب کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد عملے نے فوری طور پر ایمرجنسی پروسیجرز کے تحت متعلقہ حکام کو اطلاع دی اور طیارے کی لینڈنگ کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا۔اس واقعہ کی وجہ سے جہاز کا عملہ اور دیگر مسافر شدید پریشانی کا شکار ہو گئے، ایئر لائن کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مسافر کو مقامی حکام کے حوالے کیا گیا اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ریان ایئر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ساتھ ہی مسافروں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز فضائی سفر کے دوران معمول کی پرواز کر رہا تھا، اور طیارہ منزل پر پہنچتے ہی اس کے دوران کی جانے والی غیر قانونی حرکت پر مسافر کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

    ریان ایئر کی ایک پرواز کو ٹینیرف ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل حکام کو اطلاع دینی پڑی، کیونکہ پرواز کے دوران ایک شخص نے راہداری میں پیشاب کردیا تھا۔یہ واقعہ ریان ایئر کی پرواز FR3152 پر پیش آیا، جو 4 نومبر بروز پیر کو ایسٹ مڈلینڈ ایئرپورٹ سے صبح 6:29 بجے ٹینیرف جنوبی ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پرواز کی مدت چار گھنٹے 30 منٹ تھی۔پرواز کے دوران مسافروں کے غیر مہذب سلوک کے پیش نظر، طیارے کے عملے نے فیصلہ کیا کہ جب پرواز ٹینیرف ایئرپورٹ پر پہنچے گی تو پولیس کی مدد کے لیے حکام کو پہلے ہی اطلاع دی جائے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ مسافر کس طرح کے غیر مہذب سلوک میں ملوث تھے، ایک ذریعے نے "ٹراول اینڈ ٹور ورلڈ” کو بتایا کہ ایک شخص راہداری میں زمین پر پیشاب کر رہا تھا۔ریان ایئر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ "ایسٹ مڈلینڈ سے ٹینیرف (4 نومبر) جانے والی اس پرواز کے عملے نے چند مسافروں کی جانب سے غیر مہذب سلوک کے باعث پولیس کی مدد کے لیے پہلے ہی اطلاع دی تھی۔””جب طیارہ ٹینیرف ایئرپورٹ پر پہنچا تو مقامی پولیس نے اسے وصول کیا اور ان مسافروں کو طیارے سے اتار دیا۔”

    پرواز نےمقامی وقت کے مطابق 11 بجے کے قریب ٹینیرف ایئرپورٹ پر لینڈ کی، جہاں مسافروں کو مقامی حکام کے ذریعے طیارے سے باہر نکال لیا گیا۔ریان ایئر کے سی ای او مائیکل او لیری نے اگست میں "دی انڈیپنڈنٹ” کے ٹریول پوڈکاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروازوں پر مسافروں کی جانب سے بدتمیزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ موسم گرما میں پروازوں کی تاخیر اور مسافروں کی جانب سے منشیات اور شراب نوشی میں اضافہ ہے۔ہم اور یورپ کی زیادہ تر ایئرلائنز اس موسم گرما میں مسافروں کے غیر مہذب سلوک میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔”پروازوں میں تاخیر اس موسم گرما میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے لوگ ایئرپورٹس پر شراب پینے میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

    اس سال ریان ایئر کو کئی بدسلوکی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جیسے کہ ستمبر میں ایک مسافر کو ایبیزا جانے والی پرواز سے نکالنا پڑا، کیونکہ اس نے کیبن عملے کو مارا پیٹا اور دوسرے مسافروں پر تھوکا۔ ایک اور واقعہ اگست میں پیش آیا جب ایک مسافر شراب کے نشے میں اپنے گرل فرینڈ پر گالی گلوچ کر رہا تھا اور طیارے کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچا رہا تھا۔

  • نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    امریکی ملٹری جج نے نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر افراد کے پلی بارگین ایگریمنٹس بحال کر دیے

    واشنگٹن: امریکا کے ایک ملٹری جج نے نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ طے شدہ پلی بارگین ایگریمنٹس (مفاہمتی معاہدے) کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے، جو کہ تین ماہ قبل امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے ختم کر دیے تھے۔ ان معاہدوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ سزائے موت کی سزا کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں،

    گوانتاانامو بے میں ایک فوجی جج نے فیصلہ دیا کہ 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے دو ساتھیوں کے لیے درخواستوں کے معاہدے قانونی اور درست ہیں، جس کے نتیجے میں ان افراد کو ممکنہ طور پر سزائے موت سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عمر قید کی سزا قبول کریں۔ایئر فورس کے کرنل میتھیو مک کال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع لوئڈ آسٹن کے پاس ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں تھا، جیسا کہ 2 اگست کو پینٹاگون کی جانب سے ان معاہدوں کے اندراج کے بعد آسٹن نے انہیں کالعدم کر دیا تھا۔خالد شیخ محمد اور اس کے دو اہم ساتھی، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوسوی نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ 2,976 افراد کے قتل اور دیگر الزامات میں قصوروار قرار پائیں گے، اس کے بدلے میں ان کے خلاف سزائے موت کی سزا ختم کر دی جائے گی۔ یہ معاہدے ان افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم انہیں متنازعہ قرار دیا گیا۔ معاہدوں کے اعلان کے فوراً بعد آسبن نے انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    آسٹن نے اس فیصلے کے بارے میں ایک یادداشت میں کہا تھا کہ "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ ملزمان کے ساتھ مقدمے سے پہلے کی کارروائیوں میں میں خود کو ذمہ دار سمجھوں”۔ تاہم، جج مک کال نے بدھ کے روز کہا کہ آسٹن کا یہ فیصلہ دیر سے آیا تھا اور انہوں نے اس بنیاد پر کہ آسٹن کو اس کیس پر اتنی وسیع اختیار حاصل نہیں تھا، ان معاہدوں کو برقرار رکھا۔9/11 کے متاثرین کے خاندانوں میں ان معاہدوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں نے ان معاہدوں کی حمایت کی ہے، جب کہ کچھ اس بات پر مصر ہیں کہ مقدمہ ٹرائل کی صورت میں چلے اور ان افراد کو سزائے موت دی جائے۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں سے انہیں اگلے سال کی سزا کی سماعت میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والے حملے کے اثرات پر بات کرنے کا موقع ملے گا، اور وہ القاعدہ کے حملے میں ان کے کردار اور محرکات کے بارے میں سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    اس فیصلے سے یہ واضح ہوا کہ اب نائن الیون حملوں میں ملوث تینوں ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی کے خلاف مقدمات کا کوئی منطقی نتیجہ نکلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کیسز کو کئی سالوں تک التوا میں رکھا گیا تھا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی سماعت کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا تھا۔

    امریکی عہدیداروں نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے کہ ملٹری جج نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ملزمان کے مقدمات کے لیے جو ایگریمنٹس کیے گئے تھے وہ بالکل درست اور قابلِ نفاذ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان ملزمان کے مقدمات کسی منطقی انجام کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ استغاثہ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”

    نائن الیون حملوں کے تین ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی اس وقت گوانتا نامو بے جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔طویل عرصے سے جاری قانونی کارروائیوں اور تشویشات کے باوجود، ملٹری جج کا حالیہ فیصلہ ان مقدمات کو ایک نئے موڑ پر لے آیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا یا نہیں۔

  • پاکستانی طلبہ نے سب سے بڑا انسانی پرچم بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر لیا

    پاکستانی طلبہ نے سب سے بڑا انسانی پرچم بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر لیا

    پاکستان کے لیے قابل فخر لمحہ،آرمی پبلک سکول لاہور کے 10 ہزار سے زائد طلباء نے بھارت کے سابقہ ​​ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے بڑا انسانی پرچم بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

    یہ ناقابل یقین کارنامہ فورٹریس سٹیڈیم میں ہونے والے لاہور یوتھ فیسٹیول کے دوران کیا گیا، جو کہ اتحاد اور حب الوطنی کا جشن ہے۔لاہور گیریژن ایجوکیشن سسٹم کے طلبہ نے ایک شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے سب سے بڑا انسانی پرچم بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر لیا ، اس ریکارڈ میں 10 ہزار سے زائد طلبہ نے حصہ لیا، جس سے پاکستان نے بھارت کا پچھلا ریکارڈ بڑی آسانی سے توڑ دیا۔اس سے قبل بھارت نے رواں سال 7,368 طلبہ کے ساتھ انسانی پرچم بنا کر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرایا تھا، لیکن پاکستانی طلبہ نے اس ریکارڈ کو عبور کرتے ہوئے ایک نیا عالمی سنگ میل قائم کیا۔یہ نیا ریکارڈ لاہور میں حکومت پنجاب کے تحت منعقد ہونے والے لاہور یوتھ فیسٹیول کے دوران قائم کیا گیا۔ ریکارڈ بننے کے بعد طلبہ نے جشن منایا اور ملی نغموں کی دھنوں پر خوشی کا اظہار کیا۔

    لاہور یوتھ فیسٹیول کا یہ ریکارڈ بنانے والا ایونٹ واقعی ایک تاریخی لمحہ تھا۔ اس ایونٹ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ اس جشن میں شریک طلبہ کا جوش و خروش قابلِ دید تھا۔ریکارڈ کے بعد فیسٹیول کا دوسرا اور آخری حصہ 8 سے 10 نومبر تک لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم میں ہوگا، جس میں رنگا رنگ تقریبات اور مقابلے ہوں گے۔ افتتاحی تقریب 8 نومبر کو جبکہ اختتامی تقریب 10 نومبر کو ہوگی۔

    یہ کامیابی پاکستانی طلبہ کی محنت، جذبے اور عزم کا غماز ہے۔ عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا یہ لمحہ نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ یہ دنیا بھر میں نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے کی ترغیب دے گا۔ لاہور یوتھ فیسٹیول جیسے ایونٹس ہمیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ اگر ہم متحد ہو کر محنت کریں تو دنیا کی کسی بھی بڑی کامیابی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • کملا ہیرس کو میڈیا، اداروں اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود  شکست کیوں؟

    کملا ہیرس کو میڈیا، اداروں اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود شکست کیوں؟

    امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی واپسی کرتے ہوئے دوسری بار امریکہ کے 47ویں صدر کے طور پر کامیابی حاصل کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی رائے شماری اور الیکٹورل کالج دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ خاص طور پر امریکی سینیٹ میں اب ری پبلکنز کی اکثریت ہے، جو 52 سیٹوں پر مشتمل ہے۔ 2004 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ری پبلکنز نے عوامی رائے شماری میں کامیابی حاصل کی، جب جارج بش نے 50.7% ووٹ حاصل کیے تھے اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جان کیری نے 48.3% حاصل کئے تھے،امریکی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس اور لبرلز اس نتیجے پر شدید غم و غصے کا شکار ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سے عوامل اس تبدیلی کی وجہ بنے ہیں۔

    ٹرمپ کا پیغام اور مہنگائی کا اثر
    امریکہ میں مہنگائی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس نے ووٹرز کی رائے پر گہرا اثر ڈالا۔ صدر بائیڈن کے دور میں مسلسل مہنگائی نے زندگی کے اخراجات کو بڑھا دیا، خاص طور پر کھانے، رہائش اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، متوسط طبقے اور غریب عوام نے مہنگائی کا شدید اثر محسوس کیا، اور وفاقی ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے باوجود اقتصادی بحالی کا عمل سست دکھائی دیا۔ ری پبلکن رہنما ٹرمپ نے اس نارضگی کو کامیابی سے اپنے فائدے میں بدلتے ہوئے خود کو وہ امیدوار ظاہر کیا جو اقتصادی استحکام بحال کرنے اور اخراجات کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔نیشنل ایگزٹ پولنگ ڈیٹا کے مطابق تقریباً 31% ووٹرز نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ معیشت ہے، جب کہ 35% نے کہا کہ ان کے لیے جمہوریت کی حالت سب سے اہم ہے۔ مزید یہ کہ جن ووٹرز نے معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، ان میں سے 79% نے ٹرمپ کو ہیریس کے مقابلے میں حمایت دی۔امریکی حکومت کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق، بائیڈن کے دور میں 45 ماہ کے دوران مہنگائی 20.1% بڑھ گئی، جب کہ ٹرمپ کے دور میں یہ شرح صرف 7.1% تھی۔ یہ فرق سالانہ مہنگائی کی شرح میں 5.4% (بائیڈن کے دور) اور 1.9% (ٹرمپ کے دور) تک نمایاں تھا۔

    ٹرمپ کا مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ
    ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس بات پر زور دیا کہ امریکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور ان کے پیغام نے عوام کے دلوں میں گہرا اثر ڈالا۔ بہت سے امریکیوں نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے مہنگائی، قرضوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس نے ان کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ ٹرمپ نے معیشت کی بحالی، مہنگائی میں کمی اور ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی، اور اس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد نے انہیں اپنے مسائل کا حل سمجھا۔

    غیر قانونی تارکین وطن اور سرحدی تحفظ کا مسئلہ
    امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ بھی ایک اہم موضوع رہا۔ بائیڈن کے دور میں غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوا اور سرحدی تحفظ ایک متنازعہ موضوع بن گیا۔ ری پبلکن پارٹی نے اس مسئلے کو اپنے حق میں استعمال کیا اور ٹرمپ نے امریکہ کی سرحدوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا، جس سے بہت سے ووٹرز ان کی حمایت میں آئے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کا مہنگائی، اقتصادی مسائل اور سرحدی تحفظ جیسے عوامی مسائل پر فوکس کرنا تھا۔ کملا ہیریس اور بائیڈن انتظامیہ کے تمام بیانات اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود، امریکی عوام نے اپنی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ٹرمپ کے پیغام کو اپنایا۔ یہ انتخابات اس بات کا غماز ہیں کہ حقیقی مسائل، خاص طور پر معیشت، سیاست میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • برطانیہ،جنسی زیادتی کے 20 مجرمان کو 219 برس قید کی سزا

    برطانیہ،جنسی زیادتی کے 20 مجرمان کو 219 برس قید کی سزا

    برطانیہ 4 کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں20 افراد کو 219 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے

    ویسٹ یارکشائر پولیس کے ایک سرکاری بیان میں 6 نومبر کو اعلان کیا گیا کہ برطانیہ میں گرومنگ گینگز کی ایک اور سزا میں، 20 مردوں کو کمسن لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور حملہ کرنے کا مجرم پایا گیا اور انہیں مجموعی طور پر 219 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی۔ سزا پانے والوں میں، ہیلی فیکس کے شہزاد نواز (45) کو عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 11 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ندیم ناصر (44) کو عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ساجد عدالت (48) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے کل سات سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے سہیل ظفر (41) نے عصمت دری اور کلاس سی منشیات کی فراہمی کے جرم کا اعتراف کیا۔ اسے مجموعی طور پر 42 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے شہزاد نذیر (49) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 11 سال کی سزا سنائی گئی۔ہیلی فیکس کے ندیم عدالت (39) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 14 سال کی سزا سنائی گئی۔ اس نے سزا کے خلاف اپیل کی اور اسے بڑھا کر کل 16 سال کر دیا گیا۔ ہیلی فیکس کے اسد محمود (38) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے مجموعی طور پر 13 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے محمد رضوان اقبال (39) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے کل نو سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے وسیم عدالت (38) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 12 سال کی سزا سنائی گئی، جسے اپیل کے بعد بڑھا کر 14 سال 6 ماہ کر دیا گیا۔ہیلی فیکس کے امیر شعبان (48) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ملک قدیر (67) کو عصمت دری کے پانچ الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 22 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے محمد زیاراب (55) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے عمران راجہ یاسین (45) کو ریپ کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے کامران امین (48) کو ریپ کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے محمد اختر (54) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 11 سال کی سزا سنائی گئی۔ وہ اپنی سزا کاٹتے ہوئے انتقال کر گئے۔ہیلی فیکس کے ثقاب حسین (46) کو عصمت دری کا قصوروار پایا گیا اور اسے 7 سال اور 6 ماہ کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے ہارون صادق (40) کو عصمت دری کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ڈیوزبری کے شفیق علی رفیق (44) کو عصمت دری کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 12 سال کی سزا سنائی گئی۔ بریڈ فورڈ کے سرفراز ربنواز (39) کو عصمت دری کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا اور اسے 9 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ہیلی فیکس کے کریگ مچل (55) کو عصمت دری کا مجرم پایا گیا اور اسے 12 سال کی سزا سنائی گئی۔

    ان ملزمان کو میں 12 سے 16 سال کی چار لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کا استحصال کرتے ہوئے، انفرادی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کے بعد عدالت پیش کیا گیا تھا۔ کالڈرڈیل کے جاسوسوں نے 2016 میں ابتدائی الزام کے بعد سے 2001 اور 2010 کے درمیان کیلڈرڈیل کے علاقے میں بچوں کے جنسی استحصال کے مختلف آزادانہ دعووں کی کئی انتہائی حساس اور پیچیدہ تحقیقات کی ہیں۔” قانونی کارروائیوں کے تحفظ کے لیے ابتدائی مرحلے میں عدالتی پابندیوں کی وجہ سے، ہم اب تک ان تحقیقات کے نتائج کا اشتراک کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ پابندیاں اب ہٹا دی گئی ہیں، ہمیں تین تحقیقات کی تفصیلات بتانے کی اجازت دی گئی ہے

    کیلڈرڈیل میں 2006 سے 2009 کے درمیان 13 سے 16 سال کی دو لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کا استحصال کیا گیا جس کے بعد پہلی تحقیقات 2016 میں شروع کی گئیں۔بریڈ فورڈ کراؤن کورٹ میں دو مقدمات کی سماعت کے دوران ہیلی فیکس سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو قید کیا گیا۔ اکتوبر 2021 میں پہلے مقدمے کا آغاز ہوا جس میں پانچ افراد کو مجرم قرار دیا گیا اور چار مزید کو دوسرے مقدمے کے دوران مجرم قرار دیا گیا جو جنوری 2022 میں شروع ہوا تھا۔ 2002 سے 2006 تک ایک کمزور لڑکی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں سننے کے بعد، دوسری تفتیش بھی 2016 میں شروع ہوئی تھی۔بریڈ فورڈ کراؤن کورٹ میں، اگست 2022 میں پہلے مقدمے میں ایک شخص کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور اکتوبر 2022 میں شروع ہونے والے دوسرے مقدمے میں چھ افراد کو قصوروار پایا گیا تھا۔ جنوری 2024 میں شروع ہونے والے تیسرے مقدمے میں تین افراد کو قصوروار پایا گیا تھا۔ 2018 میں 2001 اور 2002 کے درمیان ایک 12 سالہ لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا، تیسری تحقیقات کا موضوع تھا، جس میں ایک شخص کو مجرم سمجھا گیا تھا۔

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    برطانوی میڈیا کے مطابق 2014 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں رودرہیم میں 1997 سے لیکر 2013 تک برطانیہ میں مقیم پاکستانی افراد کے ایک گینگ کی طرف سے 1400 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انکشاف کے بعد آپریشن اسٹوو وڈ کے نام سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا ،برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سپر مارکیٹ، قبرستان، پارک، کار اور بچوں کی نرسری کے عقب سمیت مختلف مقامات پر ہوئے تھے،ایک بچی کو ہوٹل میں دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،

    قبل ازیں برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 24 ملزمان کو سزا سنائی گئی ہے،جن ملزمان کو عدالت نے سزا سنائی وہ ویسٹ یارکشائر میں 1999 سے 2012 کے درمیان متعدد کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، بدسلوکی اور اسمگلنگ کے مرتکب پائے گئے ہیں، اس کیس کی ابتدا 2018 میں 8 بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تحقیقات کے دوران ان ملزمان کی گرفتاریوں سے ہوئی، تحقیقات کے دوران ملزمان کا پورا نیٹ ورک پکڑا گیا اور دیگر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے،

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار