Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • طیفی بٹ کے بہنوئی کے مقدمہ قتل کی جلد تفتیش مکمل کرنے کاحکم

    طیفی بٹ کے بہنوئی کے مقدمہ قتل کی جلد تفتیش مکمل کرنے کاحکم

    سیشن کورٹ لاہور نے طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے مقدمہ قتل کی جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیدیا

    عدالت میں قیصر بٹ اور امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،عدالت نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 20 اکتوبر تک توسیع کردی ،ایڈیشنل سیشن جج نے عبوری ضمانت پر سماعت کی ،تھانہ اچھرہ پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے،قیصر بٹ اور امیر فتح ٹیپو نے عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، دونوں ملزمان کے خلاف جاوید بٹ کے قتل کا مقدمہ درج ہے

    واضح رہے کہ لاہور تھانہ اچھرہ کی حدود میں طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کا مقدمہ مقتول کے بیٹے حمزہ بٹ کی مدعیت میں درج کر لیا گیا،مقدمہ میں امیر بالاج کے بھائی امیر فتح،قیصر بٹ سمیت دو نامعلوم ملزمان نامزد کئے گئے ہیں،درج مقدمے کے مطابق سائل کی والدہ کو علاج کے لئے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا،میری والدہ ہوش و حواس میں ہیں، نے سوا دو بجے کال کر کے مجھے سارے واقعہ کے بارے میں بتایا،سائل اپنے ملازم راحت کے ہمراہ موقع پر پہنچاسائل کی والدہ نے ملزمان کو دیکھا اور پہچان لیا،والدہ نے بتایا کہ امیر فتح اور قیصر بٹ دونامعلوم موٹر سائیکل سواروں کے پیچھے سوار تھے جنہوں نے گولیاں چلائیں،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

    واضح رہے کہ لاہور کے علاقے مسلم ٹاؤن میں شوٹرز نے پراڈو جیپ پر فائرنگ کی تھی،شوٹرز کی فائرنگ سے معروف طیفی بٹ کا بہنوئی جاوید بٹ قتل، بیوی زخمی ہو گئی،واقعہ کے بعد شوٹرز فرار ہو گئے، مرنے والے کی شناخت جاوید کے نام سے ہوئی ہے،پولیس کے مطابق مرنے والا طیفی بٹ کا بہنوئی بتایا گیا ہے

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ٹیپو کا بیٹا امیر بالاچ قتل ہوا تھا ،بالاج کا مقدمہ طیفی بٹ کے خلاف درج ہوا تھا ،پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول محمد جاوید بٹ اقبال ٹاؤن کے رہائشی تھے، تحقیقات جاری ہیں،

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس، احسن شاہ کے گھر سے رقم برآمد،ایک اور مبینہ ملزم گرفتار

    امیر بالاج قتل کیس، شوٹر مظفر مالشیا نہیں بلکہ طیفی بٹ کا گن مین تھا

    امیر بالاج کو قتل کرنے والی ٹیم کے سرغنہ کی شناخت

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور موبائیل فوٹیج،ایک اور ملزم سامنے آ گیا

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور حملہ آور گرفتار،تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،اہم پیشرفت،ریکی کرنیوالا دوست گرفتار

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس: نامزد ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابطہ

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،حملہ آور کی لاش ورثا کے حوالے

    ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج قتل،طیفی بٹ مقدمے میں نامزد

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے  صدر منتخب

    ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے صدر منتخب

    امریکی صدر کے انتخاب کیلئے انڈیانا اور کینٹکی کے بعد جارجیا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ ، ورجینیا اور فلوریڈا میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہےجس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کردیا گیا

    وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ صدر منتخب ہو گئے ہیں ،سی این این کے مطابق ابھی تک الیکٹورل نتائج مکمل سامنے نہیں آئے، سی این این کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب،538 میں سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ نے 276 اور کملا ہیرس نے 223 الیکٹورل ووٹ حاصل کرلیے ہیں، سات میں 2 سوئنگ اسٹیٹس جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کامیاب ہو گئے ہیں، پینسلوینیا کی 19الیکٹورل نشستیں بھی ٹرمپ کے نام ہو گئی ہیں،

    ٹرمپ کی فتخ کے تاریخی اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کی سیاست میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکہ کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات متوقع ہے، جہاں ان کے اقتدار میں مزید سیاسی اور اقتصادی فیصلے ہوں گے جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار صدر منتخب ہونے پر ٹرمپ ہیڈ کوارٹر میں جشن کا آغاز ہو گیا ہے، ٹرمپ کے حامیوں نے نعرے بازی کی، رقص کیا، اور ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد دی،ٹرمپ کے ہزاروں ہامی ٹرمپ ہیڈ کوارٹر میں موجود ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ نے وقت فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں اپنے حامیوں سے خطاب بھی کیا، اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کی ٹیم نے پارٹی کے شرکاء کو شام کے وقت کنوینشن سینٹر منتقل کر دیا تھا۔

    آپ کا شکریہ،امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہونیوالا ہے،ٹرمپ کا ووٹرز سے فاتحانہ خطاب
    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے الیکشن آفس میں جمع ہونے والے کارکنوں سے وکٹری سپیچ میں کارکنان کو مبارکبار دی اور کہ ہم امریکہ کو عظیم تر بنائیں گے،ہم امریکہ میں مہنگائی کا خاتمہ کریں گے، مشرق وسطیٰ میں امن قائم کیا جائے گا،بہترین انتخابی مہم چلائی گئی، یہ امریکا کی سیاسی جیت ہے،امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہونیوالا ہے ،یہ امریکیوں کی شاندار فتح ہے، ایک بار پھر منتخب کرنے پر عوام کا بہت شکریہ ہم ایک تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں، ٹرمپ نے امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ "ہر دن میں آپ کے لیے لڑوں گا” اور کہا کہ وہ "امریکہ کے سنہری دور” کا آغاز کریں گے۔ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر ان کے اہل خانہ، بیوی میلانیا ٹرمپ، ان کے نائب امیدوار جی ڈی ونس اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن بھی موجود تھے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب نئی بلندیوں پر پہنچے گا اور ملک کے تمام معاملات کو ٹھیک کیا جائے گا، امریکی عوام نے ایسی کامیابی کبھی نہیں دیکھی، اور ایسی سیاسی جیت پہلے کبھی نہیں ہوئی، "امریکا کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بناؤں گا، اور ہم امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے،ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ باقی کی سوئنگ اسٹیٹ میں جیت کر 315 الیکٹورل ووٹ حاصل کریں گے، اور اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے ووٹ کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس کے میدان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کے دوران صدر افتتاحی خطاب بھی کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم منگل کی صبح اپنے نتائج کے حوالے سے پراعتماد نظر آرہی تھی جب پولنگ شروع ہوئی اور ووٹنگ کا عمل جاری تھا۔ تاہم، سی این این سے بات کرنے والے مہم کے متعدد معاونین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ کی کامیابیاں اتنی جلدی ہوں گی جتنی آج رات کے نتائج میں نظر آ رہی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اراکین کو کنونشن سنٹر جانے کی ہدایات
    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان کو کنونشن سینٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سی این این کے مطابق، اس حوالے سے آگاہی رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے افراد اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان کو اب بسوں میں بٹھا کر کنونشن سینٹر روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس پیشرفت کے پیچھے کچھ سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ اقدام خاص طور پر ان موقعوں کے لیے کیا جاتا ہے جب کسی اہم سیاسی شخصیت کی تقریر متوقع ہو۔امریکی انتخابات میں فتح کے بعد کنونشن سنٹر میں ٹرمپ کا خطاب متوقع ہے

    کملا ہیرس آج رات خطاب نہیں کریں گی،اعلان ہو گیا
    امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس آج رات اپنے حامیوں سے خطاب نہیں کریں گی، لیکن کل خطاب کا امکان ہے، کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے شریک چیئرنے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کملا ہیرس کا خطاب کل متوقع ہے، یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر سے انتخابات کے نتائج آنا جاری ہیں۔کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے شریک چیئر کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس ابھی ووٹ گننے کا عمل جاری ہے۔ ہم ابھی بھی ایسے ریاستوں میں ہیں جن کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔”ان کے اس بیان کے فوراً بعد سی این این نے یہ پیش گوئی کی کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو اہم بیٹل گراؤنڈ ریاستوں، نارتھ کیرولائنا اور جارجیا میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
    kamala

    امریکا میں صدارتی انتخابات میں 50 میں سے 43 ریاستوں کے نتائج آچکے ہیں،50 ریاستوں میں سے 25 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور 18 ریاستوں میں کملا ہیرس کامیاب ہوئی ہیں،ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا، ٹیکساس، لوئزیانا، الاباما، مسی سپی، ارکنساس، اوکلاہوما، اوہائیو، انڈیانا، نبراسکا، وائیومنگ میں کامیاب ہوئے ،ڈونلڈ ٹرمپ ساؤتھ ڈکوٹا، نارتھ ڈکوٹا، میزوری، یوٹا، ٹینیسی، ساؤتھ کیرولائنا، کینٹکی اور ویسٹ ورجینیا میں بھی کامیاب ہوئے ،ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس نیویارک، الی نوائے، ورمونٹ، میساچوسٹس، کنیٹیکٹ، روڈ آئی لینڈ، نیو جرسی، ڈیلاویئر، میری لینڈ میں کامیاب ہوئی ہیں۔امریکا کی 50 ریاستوں میں 538 الیکٹورل کالجز ہیں، کیلیفورنیا 54 الیکٹورل کالجز کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

    ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے لوزیانہ میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ وہ آج رات سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی واچ پارٹی میں شرکت کے لیے مار اے لاگو روانہ ہوں گے۔جانسن نے کہا، "مجھے امید ہے کہ ہمیں نہ صرف ایوان میں بڑی اکثریت حاصل ہوگی، بلکہ سینیٹ اور وائٹ ہاؤس بھی واپس حاصل ہوگا تاکہ میرا کام آسان ہو سکے۔”

    امریکی انتخابات،واشنگٹن ڈی سی میں سیکورٹی سخت،وائیٹ ہاؤس کے گرد باڑنصب
    امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیش نظر واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں پولیس اہلکار اور پولیس موبائلز گشت کر رہی ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ارد گرد 8 فٹ اونچی لوہے کی باڑ نصب کی گئی ہے۔کیپیٹل کی عمارت کے گرد بھی اضافی حفاظتی انتظامات کے تحت باڑ اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، اور حفاظتی تدابیر کے باعث متعدد کاروباری اداروں نے اپنے کاروبار عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔اؤریگن، پنسلوینیا اور کیلیفورنیا جیسے ریاستوں میں بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ، پولنگ کے دوران امریکی ریاست جارجیا کے فلٹن کاؤنٹی کے پانچ پولنگ اسٹیشنز پر بم کی افواہیں پھیلنے سے سنسنی پھیل گئی۔ دھمکیوں کے نتیجے میں دو پولنگ اسٹیشنز سے ووٹرز کے انخلا کے باعث ووٹنگ کے عمل میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، عارضی طور پر بند کیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا عمل بحال کر دیا گیا۔

    جارجیا ،بم دھماکوں کی 60 دھمکیوں کے باوجود ریکارڈ ووٹر نکلے
    جارجیا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ بریڈ رافنسپرگر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ زیادہ تر انتخابی نتائج رات کے اختتام تک رپورٹ کر دیے جائیں گے۔اس وقت تک ریاست بھر میں کم از کم 88 فیصد ووٹ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ رافنسپرگر نے کہا کہ اس بار ووٹوں کی گنتی کا زیادہ تر حصہ مکمل ہو چکا ہے، جو کہ "ہمارے تاریخ کا پہلا موقع ہے”۔انہوں نے بتایا کہ "جارجیا کے مختلف اضلاع میں 60 بم دھماکے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، لیکن پھر بھی ریکارڈ تعداد میں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا”۔ اس کے علاوہ، رافنسپرگر نے کہا کہ جارجیا کے پولنگ اسٹیشنز پر بم دھمکیوں کا ماخذ روس سے تھا۔”اور جو لوگ آج ہمارے انتخابات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، میں ان کے لیے ایک پیغام رکھتا ہوں، "آپ نے غلط جارجیا کو چیلنج کیا۔ آپ کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔”انہوں نے انتخابی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "جارجیا میں کامیاب انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ آپ نے ہر روز ہر قانونی ووٹ کو محفوظ کرنے کے لیے محنت کی۔”یاد رہے کہ جارجیا ریاستی سطح پر اہم ہے، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کمیلا ہیرس کے خلاف انتخابی دوڑ میں۔ جارجیا نے 2020 میں تقریباً 30 سال بعد پہلی بار نیلے رنگ کا رنگ اپنایا تھا جب جو بائیڈن نے 11,000 سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔

    فولٹن کاؤنٹی میں امریکی انتخابات کے دوران ، 32 بم دھماکوں کی دھمکیاں
    فولٹن کاؤنٹی میں آج کے ووٹوں کے نتائج کی اپلوڈنگ کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ الیکشن ہب میں آخری میموری کارڈز پہنچ چکے ہیں، جنہیں سکین کرکے فوراً اپلوڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد، نتائج کا مکمل اعلان جلد متوقع ہے۔کاؤنٹی حکام نے اس عمل کو "حیرت انگیز” قرار دیا، خاص طور پر جب یہ بات سامنے آئی کہ آج کاؤنٹی کو 32 بم دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان دھمکیوں کے باوجود ووٹوں کی گنتی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، بریڈ ریفن سپرگر نے تقریباً 11 بجے رات کے قریب ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ رات جلد ختم ہو گی۔ انہوں نے کہا، "میں نے وعدہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی وعدہ کرکے جواب نہیں دیا تھا، لیکن لگتا ہے کہ رات جلد ختم ہو جائے گی۔ یہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ہاں، ہمیں آخری 400,000 ووٹوں کا انتظار کرنا ہوگا، لیکن موجودہ نتائج کی روشنی میں لگتا ہے کہ جو لیڈز ہیں، وہ مستحکم ہیں۔”کاؤنٹی حکام نے ان نتائج کی پروسیسنگ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بار پورے عمل میں شفافیت اور تیزی سے کام کیا گیا، جو انتخابات کے کامیاب انعقاد کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

    نیواڈا میں نیا مسئلہ،11ہزار بیلٹ پیپر پر دستخطوں کی عدم مطابقت،پنسلوانیا میں سافٹ ویئر خراب،ووٹوں کی ہاتھوں سے گنتی
    نیواڈا میں ایک نیا مسئلہ سامنے آیا ہے جس میں دستخطوں کی عدم مطابقت کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ نیواڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، فرانسسکو ایگیلار نے سی این این کو بتایا کہ 11,000 سے زائد بیلٹوں کو دوبارہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان پر دستخط موجود ریکارڈ سے میل نہیں کھاتے۔ ایگیلار نے کہا، "ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ زیادہ تر نوجوان ووٹرز کو دستخط کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں اور حقیقی زندگی میں دستخط نہیں کرتے۔”دوسری جانب پنسلوانیا کے کاؤنٹی کیمبیا میں ان بیلٹس کی ہاتھوں سے گنتی کی جا رہی ہے جو پہلے اسکین نہیں ہو سکے تھے کیونکہ اس میں سافٹ ویئر کا مسئلہ تھا۔ پنسلوانیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، ایل اسمتھ نے کہا کہ اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں نارم کارولائنا کے انتخابی ڈیٹا میں وقتی طور پر تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی کاؤنٹیز ایک ہی وقت میں بڑی مقدار میں ڈیٹا شیئر کریں گی، جیسا کہ پیٹرک گینن، اسٹیٹ بورڈ آف الیکشن کے ترجمان نے بتایا۔پنسلوانیا کے ویسٹ چیسٹر کے قریب دو پولنگ اسٹیشنوں پر بم کی دھمکی کے بعد ان پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹنگ کا وقت 10 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ ان ووٹرز کو سہولت دی جا سکے جو دوسری جگہوں پر منتقل کیے گئے تھے،

    فتح ہماری، سو جاؤ،کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے انچارج کا عملے کو مشورہ
    امریکی صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے انچارج چیئر جین او میللی ڈیلن نے منگل کی رات ایک ای میل میں عملے کو بتایا کہ وہ نتائج کے فوری طور پر سامنے آنے کی توقع نہیں رکھتے، اور وہ اس بات پر پُرامید ہیں کہ نائب صدر کملا ہیریس کے پاس فتح کے لیے ابھی بھی ایک راستہ موجود ہے۔اس ای میل میں 270 انتخابی ووٹوں کے حصول کے لیے کسی بھی راستے کو مسترد نہیں کیا گیا، تاہم او میللی ڈیلن نے "بلُو وال” یعنی مشیگن، وسکونسن اور پنسلوانیا پر زور دیا، جو ہمیشہ سے مہم کے لیے فتح کی سب سے ممکنہ راہ سمجھی جاتی ہے،
    او میللی ڈیلن نے لکھا، "مہم میں ہم نے جو تیاری کی تھی، یہ انتخابی مقابلہ ویسا ہی ہے جیسا ہم نے متوقع کیا تھا۔ ہم ابھی بھی سن بیلٹ ریاستوں سے ڈیٹا آتا ہوا دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمیں ہمیشہ سے معلوم تھا کہ 270 انتخابی ووٹوں کا ہمارا سب سے واضح راستہ ‘بلُو وال’ ریاستوں سے ہے۔ اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، اس کے بارے میں ہمیں اچھا لگ رہا ہے۔”انہوں نے مشیگن، پنسلوانیا اور وسکونسن کے میٹرو علاقے، جیسے فلاڈیلفیا، ڈیٹرائٹ اور ملواکی سے آنے والی غیر حتمی ووٹوں کی تعداد کا حوالہ دیا اور بتایا کہ مہم نے اس بات کا اشارہ لیا ہے کہ ان علاقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا ہے، جو انتخابی نتائج کو ان کے حق میں بدل سکتی ہے۔او میللی ڈیلن نے مزید کہا کہ نتائج کے بارے میں کئی گھنٹوں تک کچھ واضح نہیں ہوگا۔ یہ مقابلہ راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں نے 2020 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے،انہوں نے مہم کے عملے کو کہا، "یہ وہ چیلنج ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں، تو آج رات جو ہمارے سامنے ہے، اسے مکمل کریں، نیند لیں اور کل سے اپنی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

    ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے طلباء کی بڑی تعداد نے طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالے
    ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی 27 سالہ گریجویٹ طالبہ، ٹیری سروےور نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ آج رات اپنے یونیورسٹی کے فٹنس سینٹر میں ایک گھنٹہ تک ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑی رہیں۔ اس دوران وہاں 300 سے زائد افراد کی لائن لگ چکی تھی۔ہوپی اور ناواجو نسل سے تعلق رکھنے والی سروےور نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں امیدواروں کے بارے میں متذبذب تھیں، کیونکہ وہ نہ تو کملا ہیرس کے حق میں تھیں اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہی تھیں، لیکن آخرکار انہوں نے ہیرس کا انتخاب کیا۔ تاہم، وہ یہ دیکھ کر خوش ہوئیں کہ نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد لائن میں کھڑی ہو کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہی تھی۔ان کے پیچھے فرسٹ ایئر طالب علم اینڈریو آرمور کھڑے تھے، جنہوں نے بھی دونوں امیدواروں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا لیکن ان کا ماننا تھا کہ ٹرمپ بہتر انتخاب ہیں، خاص طور پر امیگریشن، اسرائیل اور اسقاط حمل جیسے مسائل کی بنیاد پر۔21 سالہ لارنس پیریٹ، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہے تھے اور کملا ہیرس کی حمایت کر رہے تھے، نے کہا کہ انہیں اس تاریخی انتخابات کا حصہ بننے پر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے لائن کتنی ہی لمبی ہو، ان کے لیے ووٹ دینا ضروری تھا اور وہ خوش ہیں کہ انہوں نے صبر سے اپنی باری کا انتظار کیا۔ اس دوران مختلف مقررین اور رضا کاروں نے ان کے تجربے کو مزید خوشگوار بنایا، جیسے ووٹر گائیڈز، کھانا، پانی ،فاطمہ الارا جی، ایک اور طالبہ، نے کہا کہ انہیں اپنے ساتھی طلباء اور دیگر ووٹروں کی حوصلہ افزائی دیکھ کر خوشی ہوئی جو طویل لائن میں کھڑے ہو کر اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے آئے۔اس دوران، فینکس کی 25 سالہ ڈینیلا، جو کی سابقہ طالبہ ہیں اور اپنا آخری نام شیئر کرنے سے گریز کر رہی تھیں، نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دے رہی ہیں۔ وہ میکسیکن نژاد امیگرنٹس کی بیٹی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان اور کاروبار کو ٹرمپ انتظامیہ کے تحت فراہم کی جانے والی گرانٹس اور قرضوں کی وجہ سے کووڈ-19 کی وبا کے دوران زندہ رہنے میں مدد ملی۔ ایک مسیحی ہونے کے ناطے، ڈینیلا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اسقاط حمل پر حکومت کا موقف ان کے اپنے نظریات سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔یہ انتخابات نہ صرف اہم سیاسی انتخاب ہیں، بلکہ یہ نوجوانوں اور مختلف پس منظر رکھنے والے ووٹروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کی غمازی بھی کرتے ہیں، جو اپنے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

    امریکا میں پولنگ مکمل ہونے کے اوقات بھی مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں، 6 مختلف ٹائم زون کے باعث مختلف امریکی ریاستوں میں پولنگ کا اختتام الگ الگ وقت پر ہوگا۔امریکا کی دیگر ریاستوں میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہےامریکی میڈیا کے مطابق 7 کروڑ 89 لاکھ افراد پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیت کیلئے کل 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوں گے،آج ہونے والے انتخابات میں ووٹرز ایوان نمائندگان کے 435 ارکان کو منتخب کریں گے،ایوان نمائندگان پر کنٹرول کیلئے 218 سیٹیں درکار ہیں، امریکی سینیٹ کے100 میں سے34 ارکان کا انتخاب بھی آج ہوگا، اس وقت سینیٹ میں ریپبلکن ارکان 38، ڈیموکریٹس 28 ہیں۔ 11 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی ہو گا۔

    خیال رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دور اقتدار کیسا رہا؟ انتخابی مہم میں حملے،الزامات
    سابق امریکی صدر اور 2024 کے لیے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورِ اقتدار کئی تنازعات سے بھرپور رہا ہے، انہوں نے 91 الزامات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی دوسری صدارتی مہم شروع کی، اور اس دوران اُن پر دو ناکام قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ٹرمپ امریکا کی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ بری ہوگئے، ان پر طاقت کے غلط استعمال، کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اپنے حامیوں کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد ہوئے۔اپنے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے امریکی فوجی فنڈز کو امریکا-میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کی طرف موڑا، غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک متنازعہ خاندانی علیحدگی پالیسی نافذ کی، اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کی۔انہوں نے امریکا کو پیرس ماحولیاتی معاہدے اور ایرانی جوہری معاہدے سے الگ کیا، امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا، ملک میں ریکارڈ ٹیکس چھوٹ دی، چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑی اور شمالی کوریا کے ساتھ تاریخی ملاقاتیں کیں، جس سے وہ شمالی کوریا جانے والے پہلے امریکی صدر بنے۔اپنے صدراتی دور میں ٹرمپ نے کورونا وائرس کے خلاف غیر سائنسی اقدامات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں امریکا میں اس وبا سے 4 لاکھ اموات ہوئیں۔2020 کے صدارتی انتخابات میں شکست کو تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دھاندلی کے الزامات بھی لگائے۔ انتخابی فراڈ کے 60 سے زائد دعووں میں وہ عدالتوں میں شکست سے دوچار ہوئے۔ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام بھی ہے کہ 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل کے باہر جمع ہونے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں ان کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا، جس دوران پانچ افراد ہلاک ہوگئے،انتخابی مہم کے دوران جان لیوا حملے، جنسی ہراسانی کے الزامات بھی ٹرمپ کی فتح میں رکاوٹ نہ بنے اور ٹرمپ کامیاب ہو گئے، ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ایک دو دہائی پرانے جنسی ہراسانی کے الزام کو سامنے لایا گیا تھا، ٹرمپ پر قائم مقدمات کو بھی انکے خلاف انتخابی مہم میں استعمال کیا گیا تھا لیکن ٹرمپ نے اس سب کے باوجود فتح حاصل کر لی.

    امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے میدان مارلیا
    امریکی سینیٹ میں ریپبلکن نے 51نشستیں حاصل کرلیں ، امریکہ کی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد سینیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے۔ سینیٹ میں اب ری پبلکن پارٹی کی نشستوں کی تعداد 51 ہو گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 43 نشستیں ہیں۔امریکی سینیٹ میں کل 100 نشستیں ہیں، اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کی اکثریت حاصل کرنے کے بعد، اب ان کے پاس سینیٹ میں قانون سازی اور دیگر اہم فیصلوں پر اثر ڈالنے کی طاقت ہوگی۔اس تبدیلی کا اثر آئندہ سیاست پر بھی پڑے گا، کیونکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا کسی بھی حکومت کے لیے اہم حکومتی فیصلوں میں اثر ڈالنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ 51 نشستوں کے ساتھ ری پبلکن پارٹی اب سینیٹ میں زیادہ تر اہم کمیٹیوں پر بھی قابض ہو سکتی ہے، جس سے قانون سازی کے عمل پر ان کا کنٹرول مزید مستحکم ہو گا۔ری پبلکنز کی اکثریت سینیٹ کو اس پوزیشن میں لا کر رکھے گی کہ وہ ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو مضبوط بنا سکیں گے،چند انتخابات کے نتائج ابھی آنے ہیں، لیکن اس وقت ری پبلکنز کے پاس سینیٹ میں 51 سیٹیں ہیں اور وہ جنوری میں نیا کانگریس شروع ہونے پر کنٹرول سنبھال لیں گے۔ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنا ری پبلکنز کی اس رات کی پہلی بڑی کامیابی ہے، ری پبلکنز کی کامیابی کی ابتدا الیکشن کی رات کے ابتدائی اوقات میں ہوئی، جب ویسٹ ورجینیا کے گورنر جم جسٹس کو سینیٹ کی وہ نشست جیتنے کے لیے منتخب کیا گیا جو ڈیموکریٹک سینیٹر جو مینچن کے ریٹائر ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ مینچن نے دوبارہ انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ڈیموکریٹس نے اس نشست کے لیے مقابلہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔

    امریکی انتخابات،پولنگ مقامات پر بم دھمکیوں کی ای میل روسی ڈومین سے آئیں،دعویٰ
    واشنگٹن: امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد ریاستوں میں پولنگ مقامات کو ملنے والی بم دھمکیوں میں سے کچھ روسی ای میل ڈومینز سے آئیں۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور ایف بی آئی نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ دھمکیوں کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔امریکی سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کی سربراہ جین ایسٹرلی نے منگل کی رات صحافیوں کو بتایا کہ "ایف بی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دھمکیاں روسی ڈومینز سے آئی ہیں۔ اگر یہ واقعی کسی غیر ملکی دشمن یا روس سے جڑی ہوئی ہیں، تو ہم اس کے اثرات پر غور کریں گے کہ حکومت کے طور پر ہمارے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا۔”ایف بی آئی مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان چار ریاستوں کے حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے جہاں پولنگ اور انتخابات سے متعلق مقامات کو بم دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ سی این این کو منگل کی رات ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ ان ریاستوں میں مِشیگن، وسکونسن، ایریزونا اور جارجیا شامل ہیں، جنہوں نے دھمکیوں کے بعد اپنے پولنگ اسٹیشنز کو خالی کر لیا تھا،ایف بی آئی نے پہلے ہی تصدیق کی تھی کہ بعض دھمکیاں روسی ای میل ڈومینز سے آئی تھیں اور ان کو غیر معتبر قرار دے دیا تھا۔تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ کی قیادت میں معیشت بہتر،مہنگائی میں کمی ہو گی،ووٹرز کی رائے
    امریکی شہریوں نے ٹرمپ کو ووٹ کیوں دیئے، اس ضمن میں خبر رساں ادارے سی این این نےووٹرز سے بات چیت کی ہے،30 سالہ شہری ڈینزیل کسیمایو کا کہنا تا کہ ان کا خاندان کینیا سے امریکہ میں ہجرت کر کے آیا تھا۔ ایریزونا میں ایک رجسٹرڈ ریپبلکن، کسیمایو نے 2020 میں صدر جو بائیڈن کو ووٹ دیا تھا، لیکن اب وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں معیشت بہتر ہو گی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی، اور دوسرے ممالک امریکہ کی عزت کرتے تھے۔ انہیں یہ بھی پسند ہے کہ ٹرمپ نے اصلاحات کی بات کی تھی۔ تاہم، وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ خواتین کو اسقاط حمل کے بارے میں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

    59 سالہ مری ویپریکٹ کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال بہت مشکل تھے، معیشت بدتر تھی اور سرحدوں کی صورتحال بھی خراب تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اب وہ زیادہ لوگوں کو جانتی ہیں جو ٹرمپ کی حمایت میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ٹرمپ کی پالیسیوں کی اہمیت ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس کے دوبارہ صدر بننے سے ملک کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    45 سالہ برُوس ٹویئر اسکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فینکس کے علاقے میں 100 سے زیادہ دروازے کھٹکھٹائے ہیں اور ریپبلکن ووٹرز کو پہلے ووٹ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ بنے انہیں "100 فیصد اعتماد ہے” کہ ٹرمپ ایریزونا جیتیں گے۔ وہ امریکہ کی سرحدی سیکیورٹی اور اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کے مطابق یہ دو موضوعات ان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔

    امریکی عوام نے ٹرمپ کو تبدیلی کے لیے صاف اور واضح مینڈیٹ دیا،ایلون مسک
    ٹیسلا اور اسپیس ایکس ،ٹویٹر،ایکس کے مالک ایلون مسک نے حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ "امریکہ کے عوام نے آج رات ڈونلڈ ٹرمپ کو تبدیلی کے لیے صاف اور واضح مینڈیٹ دیا ہے۔”مسک نے یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں انہوں نے امریکہ کے عوام کی خواہشات اور سیاست میں تبدیلی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عوام نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ میں تبدیلی کی سمت متعین ہوگی اور یہ وقت ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے۔ اس بیان کے بعد ایلون مسک کے حمایتی اور ناقدین دونوں کی طرف سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔

    elun

  • امریکی انتخابات،پہلی بار ووٹ ڈالنے والی 20 سالہ لڑکی کی ٹرمپ کی حمایت

    امریکی انتخابات،پہلی بار ووٹ ڈالنے والی 20 سالہ لڑکی کی ٹرمپ کی حمایت

    فلوریڈا میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والی خاتون نے ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا ہے

    فلوریڈا میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والی 20 سالہ دَویانا پورٹر نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیتیں کیونکہ انہیں "ٹرمپ کے موقف” پسند ہیں۔ پورٹر نے بتایا کہ وہ پورٹو ریکن ہیں اور اگرچہ ٹرمپ کے میڈیسن اسکوائر گارڈن کے جلسے میں پورٹو ریکو کے بارے میں کی جانے والی تبصرے انہیں پسند نہیں آئیں، مگر وہ سمجھتی ہیں کہ "ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے، اور اگر وہ پورٹو ریکن لوگوں کو پسند نہیں کرتے تو یہ تکلیف دہ ہے، لیکن آخرکار میں اپنے آپ سے مطمئن ہوں۔”

    دوسری جانب پنسلوانیا کے مغربی علاقے کی ایلیگینی کاؤنٹی میں منگل کی صبح دو پولنگ مراکز میں تاخیر دیکھی گئی، تاہم اب وہ مراکز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ کاؤنٹی کی ترجمان ایبِگیل گارڈنر نے کہا کہ وائٹ ہال کے پولنگ اسٹیشن پر انتخابی جج دیر سے پہنچے، لیکن اب وہ وہاں موجود ہیں اور پولنگ مرکز فعال ہے۔پٹسبرگ کے لنکن پلیس علاقے میں، پولنگ اسٹیشن پر انتخابی جج وقت پر نہ پہنچ سکے،تا ہم اب وہاں پولنگ معمول کے مطابق جاری رہے گی۔”

    ریپبلکن نائب صدر کے امیدوار جے ڈی وینس نے آج صبح سینٹ انتھونی آف پیڈویا چرچ میں اپنی بیوی عائشہ اور بچوں کے ساتھ پولنگ اسٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالا۔ سینٹر جے ڈی وینس نے خوشگوار مزاج میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور کہا کہ "ہم سب کو اپنے ملک کے مستقبل کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔”

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • محسن نقوی نے اپنا پنجاب والا ریکارڈ برقرار رکھا ہوا ہے،وزیراعظم

    محسن نقوی نے اپنا پنجاب والا ریکارڈ برقرار رکھا ہوا ہے،وزیراعظم

    جناح ایونیو-نائنتھ ایونیوانٹرسیکشن اورسرینہ چوک کنونشن سینٹر انٹر سیکشن کا سنگ بنیاد،وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    اس موقع پر وزیراعظم کو چیف کمشنر اسلام آباد علی رندھاوا نے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نےمنصوبوں کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف نائن اور سیرینہ چوک پر 2 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا ہے،جو منصوبہ 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا وہ 3 ماہ میں مکمل ہو جائے گا،سیرینہ چوک کا منصوبہ 60دنوں میں مکمل ہو جائے گا،وزیرداخلہ محسن نقوی اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں،وزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنا پنجاب والا ریکارڈ برقرار رکھا ہوا ہے،ایس سی او کانفرنس کے کامیاب انعقاد کیلئے بہترین کام کیا گیا،ایس سی او کیلئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات پر سکیورٹی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں،کانفرنس مہمانوں نے اسلام آباد کی خوبصورتی کی تعریف کی،اسلام آباد کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے

    وزیرداخلہ محسن نقوی نےمنصوبوں کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ کوشش ہو گی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کریں،اسلام آباد کی خوبصورتی کو مستقل بحال رکھنے کیلئے کوشاں ہیں،وزیراعظم کی ہدایت پر فائیو سٹارز ہوٹلز کی تعمیر کیلئے 2 جگہوں کا اشتہار دے دیا،اسلام آباد میں تفریحی سرگرمیوں کیلئے سفاری پارک بنائیں گے،فیض آباد چوک پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے کام کر رہے ہیں،مارگلہ روڈ کو موٹروے سے جوڑنے کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں،

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

  • امریکی انتخابات،ٹرمپ سزا یافتہ ہونے کے باوجود ووٹ دینے کے اہل

    امریکی انتخابات،ٹرمپ سزا یافتہ ہونے کے باوجود ووٹ دینے کے اہل

    امریکا میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں ،صدارتی امیدوار ،سابق صدرٹرمپ آج سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ووٹ دے سکتے ہیں

    فلوریڈا میں عموماً ایسے افراد کے لیے ووٹنگ کے حقوق حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے جن پر فوجداری مقدمات چل چکے ہوں، لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آج خود کے لیے ووٹ ڈالنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئے گی۔ٹرمپ کو اس سال کے شروع میں مین ہیٹن کی عدالت نے 2016 کے صدارتی انتخابات سے پہلے اسٹارمی ڈینئلز کو خاموشی کے پیسوں کی ادائیگیوں سے متعلق کاروباری ریکارڈز میں جعل سازی کے 34 الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔ ٹرمپ وہ پہلا سابق امریکی صدر ہے جنہیں کسی فوجداری مقدمے میں سزا ہوئی ہے، اور ان کی سزا 26 نومبر کو سنائی جائے گی۔

    فلوریڈا کے قانون کے مطابق، اگر کسی شخص کی سزا دوسرے ریاست میں ہو تو فلوریڈا اس ریاست کے قوانین کو تسلیم کرتا ہے کہ کس طرح مجرم فرد اپنے ووٹنگ کے حقوق بحال کر سکتا ہے۔ٹرمپ کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیو یارک کے 2021 کے قانون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو سزا یافتہ افراد کو اس صورت میں ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے جب وہ انتخابات کے وقت قید کی سزا نہیں بھگت رہے ہوں۔تاہم، فلوریڈا میں دیگر افراد جنہیں فوجداری مقدمات میں سزا ہوئی ہو، ان کے لیے یہ قوانین اتنے آسان نہیں ہیں۔

    2018 میں ایک کامیاب بیلٹ انیشیٹو کے ذریعے سزا مکمل کرنے والوں کے ووٹنگ حقوق بحال کرنے کا عمل شروع ہوا تھا، لیکن ریاستی ریپبلکن قانون سازوں نے اسے ناقابل عمل بنا دیا۔ انہوں نے ایک ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت سزا کے ساتھ جڑے تمام جرمانے اور فیسیں ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے، اور یہ عمل پیچیدہ ہے کیونکہ ایسی فیسوں کا سرکاری سطح پر کوئی مرکزی ریکارڈ نہیں ہوتا

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • پاکستان بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار  کا جبوتی کا دورہ

    پاکستان بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا جبوتی کا دورہ

    پاکستان بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران جبوتی کا دورہ کیا ہے

    بندرگاہ آمد پر جبوتی بحریہ کے حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا استقبال کیا،کمانڈنگ آفیسر پی این ایس ذوالفقار نےمیزبان بحری حکام سے ملاقاتیں کیں،کمانڈر جبوتی بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے ساتھ پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا،دورہ کے اختتام پر؛ جبوتی کوسٹ گارڈز کے ساتھ مشترکہ بحری مشق کا انعقاد کیا گیا،مشق کا مقصد مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت اور باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانا تھا،پاکستان اور جبوتی کی بحری افواج کے مابین دوطرفہ روابط دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،جبوتی میں قیام کے دوران، مختلف ممالک کے سفیروں، دفاعی اتاشی، جبوتی کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت کے ساتھ مقامی اور پاکستانی کمیونٹی نے بھی جہاز کا دورہ کیا،اس دورے سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید فروغ ملے گا

  • سیاستدانوں کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے جسم کے ساتھ کیا کرنا ہے،خاتون ووٹر

    سیاستدانوں کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے جسم کے ساتھ کیا کرنا ہے،خاتون ووٹر

    امریکہ میں انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے،فولٹن کاؤنٹی کے پولنگ اسٹیشن پر پہلی ووٹر خاتون کا کہنا ہے کہ وہ تولیدی حقوق کے لیے ووٹ دینے آئی ہیں

    الیزبتھ گونزالیز نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اس بار صدارت کے انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں متذبذب تھیں، کیونکہ 2020 کے انتخابات میں جارجیا میں سیاست کا بے قابو طوفان انہیں بے حد متاثر کر چکا تھا۔ تاہم، پولنگ کے آغاز سے دو گھنٹے قبل، گونزالیز، جو کہ ایک تعلیم دہندہ ہیں، فولٹن کاؤنٹی کے 177 پولنگ اسٹیشنوں میں سے ایک پر صبح 5 بجے کے قریب ووٹ دینے کے لیے پہلی لائن میں کھڑی ہو گئیں۔انہوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا، "مجھے معلوم ہے کہ میری آواز کا شمار ہوتا ہے اور میری آواز سنی جانی چاہیے۔” ان کے سینے پر ‘میں جارجیا کی ووٹر ہوں’ کا اسٹیکر چمک رہا تھا۔

    گونزالیز، جو اپنے 60 کی دہائی میں ہیں، نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ کس امیدوار کو انہوں نے ووٹ دیا، مگر وہ اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ انہیں جو سب سے اہم مسئلہ محسوس ہوتا ہے وہ خواتین کے تولیدی حقوق ہیں۔انہوں نے کہا، "جس طرح شوہر اپنی بیویوں کو قربان کر رہے ہیں، بچے اپنی ماؤں کو قربان کر رہے ہیں اور ڈاکٹرز کو جیل جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ خواتین کو ان کے تولیدی حقوق کی ضرورت ہے۔ خواتین کو اپنے صحت کے حقوق کا اختیار ہونا چاہیے، یہ معاملہ صرف صحت کے فراہم کنندگان اور عورت کے درمیان ہونا چاہیے۔”

    اسی مسئلے نے ایشیا براؤنلی کو بھی پولنگ اسٹیشن پر پہنچنے پر مجبور کیا، اور انہوں نے کملاہیرس کو ووٹ دیا۔ ایشیا براؤنلی، جو کہ ایک نرس ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ وہ مائشی گن سے تعلق رکھتی ہیں اور اس سال جارجیا منتقل ہوئیں تاکہ تبدیلی لا سکیں۔انہوں نے کہا، "میں ایک افریقی امریکی ہوں، اور میرے خیال میں خواتین کو اپنے حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ یہ ہمارے جسم ہیں، سیاستدانوں کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے جسم کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ خاص طور پر جب میں ایک نرس ہوں، صحت کی دیکھ بھال بہت اہم ہے۔”

    براؤنلی نے ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونے کے عمل کو "مشقت طلب” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے انہیں متعدد بار فون کالز کرنی پڑیں، اور آخرکار ووٹنگ کے ابتدائی دن کے آخر میں فولٹن کاؤنٹی میں فعال ووٹر بننے میں کامیاب ہوئیں، کیونکہ کام کے اوقات نے انہیں انتخابات سے قبل اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا تھا۔انہوں نے کہا، "میں تبدیلی لا سکتی ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے۔ یہ ایک بہت اہم انتخاب ہے۔”

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    جو بائیڈن انتخابی نتائج وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش گاہ سے دیکھیں گے، مہم کا خاموش اختتام

    امریکا میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، ٹرمپ اور کملا ہیرس میں مقابلہ ہے، موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کملاہیرس کو نامزد کیا تھا، اب ہونے والے انتخابات میں امریکی صدر جو بائیڈن کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں ہوگا، لیکن ان کے لیے اس انتخابات کے نتائج کا بڑا اثر ہے، خاص طور پر ان کی 81 سالہ عمر اور ان کی سیاسی میراث کے حوالے سے، کیونکہ وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وائیٹ ہاؤس کا مکین انکی نامزد کملا ہیرس بنتی ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ،

    صدر بائیڈن نے حالیہ دنوں میں نسبتاً کم سرگرمی دکھائی ہے اور آج بھی یہی توقع ہے۔ جوبائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن وائٹ ہاؤس کی رہائش گاہ سے انتخابات کے نتائج دیکھیں گے، جہاں ان کے طویل عرصے سے ساتھ کام کرنے والے مشیر اور سینئر عملہ بھی موجود ہوگا، ایک وائٹ ہاؤس اہلکار کے مطابق جو بائیڈن، جن کے شیڈول میں کوئی عوامی تقریبات شامل نہیں ہیں انتخابات کے نتائج کے دوران ملک بھر میں اپ ڈیٹس وصول کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

    آج کا انتخاب گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں بالکل مختلف دکھائی دے رہا ہے، اگرچہ بائیڈن کو پس منظر میں ڈال دیا گیا ہے، وہ ٹرمپ کی ممکنہ دوبارہ صدارت کے خطرات سے بار بار آگاہ کرتے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بائیڈن کی کچھ اہم کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ اگر ٹرمپ جیت کر ان کی کامیابیوں کو رد کرنے کی کوشش کریں تو ان کا دفاع کیا جا سکے۔بائیڈن نے ہفتے کو کہا تھا کہ "میرے اور ٹرمپ کی شخصیت میں بڑے اختلافات ہیں،” "کیا ہوگا؟ اگر آپ میری انتظامیہ کو ان کی انتظامیہ سے بدل دیں گے تو کیا ہوگا؟”

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر خارجہ عزت مآب سید عباس عراقچی نے آج وزیراعظم ہاؤس، اسلام آباد میں ملاقات کی ۔
    ایران کے وزیر خارجہ کے طور پر پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر جناب عراقچی کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مزید برآں وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ مفاد کے تمام شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

    قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ کی وزارت خارجہ آمد ہوئی ہے جہاں انکی نائب وزیراعظم و پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی ہے، وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

  • امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لئےپولنگ جاری ہے،شمالی کیرولائنا کے شہر وِلمِنگٹن میں واقع "لائل آرڈر آف دی موس لوج” میں قائم پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ پولنگ اسٹیشن صبح 6:30 بجے کھلا اور ابتدائی طور پر 30 سے 40 افراد قطار میں کھڑے تھے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، قطار میں مزید افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا،

    دوسری جانب جارجیا کے شہر لارنس ول میں واقع گوِنیٹ کاؤنٹی ووٹر رجسٹریشن اینڈ الیکشنز آفس میں بھی ایک طویل قطار دیکھنے کو ملی، جہاں لوگ اپنا بیلٹ جلدی سے وصول کرنے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس میں مقابلہ ہے،ووٹنگ شروع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ امریکا، یہ آپ کی آوازسنانے کا لمحہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹرز سے کہا کہ یہ باہر نکلنے، ووٹ ڈالنے کا وقت ہے، ایک ساتھ مل کر امریکا کو دوبارہ عظیم بنا سکتے ہیں۔امریکی انتخابات میں سات کروڑ 89 لاکھ افراد پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکےہیں، کسی بھی امیدوار کو جیت کےلیے کل 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوں گے۔ پانسہ پلٹنے والی سات ریاستیں کسی امیدوار کی کامیابی میں فیصلہ کن ہوں گی،6 مختلف ٹائم زون کے باعث مختلف امریکی ریاستوں میں پولنگ کا آغاز اور اختتام الگ الگ وقتوں پر ہوگا۔

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید