Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب، سابق شوہر مفرور

    کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب، سابق شوہر مفرور

    کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک رہائشی عمارت سے زنجیروں میں جکڑی خاتون کو بازیاب کرالیا۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع مددگار 15 پر موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس ٹیم فوری طور پر دیے گئے پتے پر پہنچی۔پولیس نے رہائشی عمارت کی تیسری منزل پر پہنچ کر گھر کا دروازہ توڑا، جہاں ایک کمرے میں خاتون کو زنجیروں سے بندھا ہوا پایا گیا۔ پولیس نے فوری طور پر زنجیریں کاٹ کر خاتون کو بحفاظت آزاد کرالیا۔ متاثرہ خاتون کی شناخت شیریں جناح کالونی کی رہائشی کے طور پر ہوئی ہے۔ابتدائی تفتیش کے مطابق متاثرہ خاتون کو اس کے سابق شوہر نے بچوں کے خرچے کی ادائیگی کے بہانے گھر بلایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سابق شوہر نے خاتون کو گھر میں زنجیروں سے باندھا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم پولیس کی بروقت کارروائی سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کو ابتدائی طبی امداد اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ خاتون کا تفصیلی بیان قلمبند کرلیا گیا ہے، جس کی روشنی میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں اور جلد گرفتاری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے ایسے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ،وزیراعظم کے سامنے اراکین پھٹ پڑے

    عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ،وزیراعظم کے سامنے اراکین پھٹ پڑے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان نے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے تحت ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔خیبر پختو نخوا میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کا حل وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    شرکا نے بتایا کہ خیبر پخونخوا کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے. گورننس نام کی کوئی چیز نہیں. صحت، تعلیم، انفرا سٹرکچر، اور عوامی فلاح کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی موجود نہیں. عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ھے ،وزیراعظم نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ہری پور میں پورے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات میں میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے. ان نوجوانوں سے مل کر خوشی ہوئی اور یہی نوجوان پاکستان کا مستقبل کا اثاثہ ہیں. ان نوجوانوں کے لئے آیندہ بھی میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی پالیسی جاری رہے گی تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں.

    وزیر اعظم نے خیبر پختونخواہ میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جو کہ پشاور کا دورہ کرے گی اور عوامی نمائندگان سے مل کر ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لے گی. ملاقات میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناللہ، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، بابر نواز ایم این اے، ثمر بلور ایم این اے، اختیار ولی (کوآرڈینیٹر وزیراعظم)، مرتضیٰ جاوید عباسی سابق ڈپٹی اسپیکر، زاہد خان سابق سینیٹر، ڈاکٹر عباداللہ ایم پی اے، پیر صابر شاہ، سردار مشتاق سابق ایم این اے، شاہ جی گل آفریدی سابق ایم این اے، شہاب الدین خان رحمت سلام خٹک اور بہرہ مند تنگی موجود تھے۔

  • پاکستان میں افغان طالبان کی مبینہ موجودگی، قاری عمر لغمانی کی ویڈیو وائرل

    پاکستان میں افغان طالبان کی مبینہ موجودگی، قاری عمر لغمانی کی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو قاری عمر لغمانی کو پاکستان کے ایک غیر ظاہر کردہ علاقے میں فلمایا گیا دکھایا جا رہا ہے۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان میں افغان طالبان کی مبینہ موجودگی سے متعلق خدشات اور سوالات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو حالیہ دنوں میں لیک ہوئی جس میں مذکورہ شخص خود کو قاری عمر لغمانی ظاہر کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو کی صداقت ثابت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور سرحدی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ ہو سکتا ہے۔سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ویڈیو کو پاکستان کے ایک نامعلوم علاقے میں فلمایا گیا دیکھا جا سکتا ہے، یہ ویڈیو پاکستان میں افغان طالبان کی موجودگی کو بے نقاب کرتی ہے ،اس پر تحقیقات اور کاروائی کی ضرورت ہے،سرحد پار سے پاکستان میں دہشتگردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں،اب افغان طالبان کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہے.

  • کارانداز پاکستان کا آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج، ڈیجیٹل مالی شمولیت کی جانب اہم قدم

    کارانداز پاکستان کا آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج، ڈیجیٹل مالی شمولیت کی جانب اہم قدم

    سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی،ڈیجیٹل ادائیگیوں کو تیزی سے فروغ دینا ایک قومی ترجیح ہے،تاہم غیر مستقل رابطہ سازی(connectivity) اب بھی اُن اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو اس کے دائرہ کار اور شمولیت کو محدود کر رہی ہے۔ اگرچہ ،حالیہ برسوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، لیکن ملک کے متعدد حصوں میں مستحکم انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک تک رسائی نہ ہونے کے سبب ڈیجیٹل ذرائع سے روزرمرہ کا لین دین بدستور محدود ہے، خاص طور پر دیہی، دور دراز، اور آفات سے متاثرہ علاقوں میں، ڈیجیٹل ادائیگیاں لاکھوں صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔

    اس چیلنج کے تناظر میں، کاراندازپاکستان نے "آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج” کے فائنل پچ راؤنڈ کا انعقاد کیا۔ یہ راؤنڈ ایک جامع جانچ پڑتال کے عمل پر مشتمل تھا جس کا مقصد محدود یا بغیر انٹرنیٹ رابطہ سازی والے ماحول میں راست (RAAST) کو استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے محفوظ اور قابلِ توسیع حلوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ یہ اقدام مسئلے کی نشاندہی سے عملی حل کی تیاری کی جانب ایک اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت اختراع کاروں اور ایکوسسٹم کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا گیا تاکہ ایسی عملی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ٹیکنالوجیز تیار کی جا سکیں جو مسلسل رابطہ سازی کی پابندیوں سے ماورا ہوکر کام کرسکیں ۔

    اس چیلنج کو مالیاتی ایکوسسٹم کے مختلف حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں اسٹارٹ اپس، فن ٹیک اور ٹیکنالوجی انوویٹرز کی جانب سے متعدد معیاری اور اختراعی تجاویز موصول ہوئیں، جن میں سے چند منتخب تجاویز کو پِچ راؤنڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔ شرکاء نے دو روز کے دوران اپنی تجاویز چھ رکنی قومی و بین الاقوامی جیوری پینل کے سامنے پیش کیں، ، جس میں جارڈن پیمنٹ اینڈ کلیئرنگ کمپنی ،اردن کی ڈائریکٹر،محترمہ لیانا الوریکات(Layanah Al-Wreikat) ، پرائیویٹ سیکٹر ڈیولپمنٹ ایڈوائزر، فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کی محترمہ صبیحہ احمد،ایشیائی ترقیاتی بینک کے پرنسپل پراجیکٹ آفیسر، جناب شوزب علی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈائریکٹر، ڈیجیٹل انوویشن اینڈ سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ، جناب محمد عمادالدین، سینٹر فار ڈیجیٹل اسیٹس ریسرچ، لمس (LUMS) کےپروفیسر اور سربراہ، ڈاکٹر زرتاش افضل اعظمی اور کارانداز پاکستان کے چیف ڈیجیٹل آفیسر،جناب شرجیل مرتضیٰ شامل تھے۔

    تجاویز کا جائزہ مختلف نوعیت کے معیار کی بنیاد پر لیا گیا، جن میں تکنیکی مضبوطی، سیکیورٹی اور رسک کنٹرولز، ریگولیٹری ہم آہنگی، قابلِ توسیع ہونے کی صلاحیت، مارکیٹ سے مطابقت، اور طویل مدتی پائیداری شامل تھے۔ پیش کردہ حلوں نے رابطہ سازی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور محدود یا بغیر رابطہ سازی والے ماحول میں محفوظ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنانے کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والی تجاویز کو گرانٹ سپورٹ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا، جس کے ساتھ تکنیکی اور ریگولیٹری رہنمائی اور پائلٹ نفاذ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

    اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے، کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناب وقاص الحسن نے کہا:” پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے مکمل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کا تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ملک کے بیشتر حصے کم یا بغیر کنیکٹیویٹی والے علاقوں پر مشتمل ہیں۔ وزیراعظم کی قیادت میں ‘کیش لیس پاکستان’ کے قومی وژن اور ‘ڈیجیٹل پاکستان’ ایجنڈے کے مطابق، آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج ایسے مقامی حلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو محفوظ، قابلِ توسیع اور ریگولیٹری فریم ورک سے ہم آہنگ ہوں ، تاکہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی وہاں تک ممکن ہو سکے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ “

    مستقبل کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے، آف لائن ادائیگیوں کے اختراعی چیلنج جیسے اقدامات ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکو سسٹم میں موجود اہم رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثرطریقہ فراہم کرتے ہیں۔ رابطہ سازی کے خلُا کا براہِ راست حل پیش کرتے ہوئے، کارانداز کا مقصد جدید ترین راست (RAAST) سے استفادہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو تیز کرنا ہے، تاکہ ایسے آسان، کم لاگت اور قابلِ استعمال ادائیگی حل متعارف کرائے جا سکیں جو ملک بھر میں حقیقی حالات کے مطابق کام کر سکیں۔

  • کمانڈر 12 کور کوئٹہ اور انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ای کامرس سینٹر کا دورہ

    کمانڈر 12 کور کوئٹہ اور انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ای کامرس سینٹر کا دورہ

    کمانڈر 12 کور کوئٹہ، لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان اور انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان (نارتھ)، میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے نوشکی میں قائم ای کامرس سینٹر کا دورہ کیا۔

    دورے کے دوران ای کامرس سینٹر کے اغراض و مقاصد، جاری تربیتی پروگرامز اور طالبات کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ سینٹر مقامی طالبات کو آن لائن کاروبار، فری لانسنگ اور جدید آئی ٹی اسکلز سکھا کر انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔کمانڈر 12 کور نے ای کامرس سینٹر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے بلوچستان کے طلباء اور طالبات کے لیے معاشی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج اور ایف سی بلوچستان عوامی فلاح و بہبود اور تعلیم و تربیت کے منصوبوں میں اپنا بھرپور کردار جاری رکھیں گے۔

    مقامی طالبہ کا کہنا تھا کہ میرا تعلق نوشکی سے ہے اور میں ایف سی بلوچستان نارتھ کی شکر گزار ہوں کہ ہمیں ای کامرس سیکھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ میں یہ درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ نوشکی میں اور بھی ایسی سہولیات میسر ہونی چاہئیں۔ایک اور مقامی طالبہ کا کہنا تھا کہ میرا تعلق نوشکی سے ہےمیں ایف سی ای کامرس اکیڈمی کی طالبہ ہوں، جہاں ہمیں آن لائن اسکلز سکھائی جاتی ہیں۔ اس اکیڈمی میں نوشکی کے نوجوانوں کو سیکھنے کے بہترین مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں،ایک اور طالبہ کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تعلیم ہمارے مستقبل کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ کور کمانڈر صاحب کا پیغام ہمارے لیے نہایت مضبوط اور حوصلہ افزا ہے، جس پر ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں

    اس موقع پر کمانڈر 12 کور اور آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے سینٹر میں موجود مقامی طالبات سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،خواتین کے لباس میں ملبوس مشتبہ شخص گرفتار

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،خواتین کے لباس میں ملبوس مشتبہ شخص گرفتار

    9 نومبر کو سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ایک مشتبہ فرد کو شناخت کیا جو خواتین کے لباس میں ملبوس تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جب اہلکاروں نے اسے روکا اور تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک مرد ہے اور اس کا تعلق کالعدم شدت پسند گروہ خوارج (فتنہ الخوارج) سے بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کو فوری طور پر تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک، مقاصد اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خواتین کے لباس کا استعمال سیکیورٹی چیک پوسٹس سے بچنے اور نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق شدت پسند عناصر کی جانب سے خواتین کی آڑ میں چھپنے کی حکمتِ عملی ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی نگرانی سے بچنا ہوتا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بیانیہ بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے شواہد کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور امن و امان کے قیام میں تعاون کریں۔ مزید پیش رفت اور تفتیش کے نتائج سامنے آنے پر تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

  • علی موسیٰ گیلانی کا موبائل فون چوری کرنے والا ملزم گرفتار، فون برآمد

    علی موسیٰ گیلانی کا موبائل فون چوری کرنے والا ملزم گرفتار، فون برآمد

    ملتان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کا موبائل فون چوری کرنے والے ملزم کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ بدھلہ سنت کے علاقے میں پیش آیا جہاں علی موسیٰ گیلانی ایک کبڈی میچ کے موقع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نامعلوم شخص نے ایم این اے علی موسیٰ گیلانی کا موبائل فون چوری کرلیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ترجمان پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، موبائل ٹریکنگ اور خفیہ معلومات کی مدد سے صرف 12 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ کارروائی کے دوران ایم این اے کا چوری شدہ موبائل فون بھی ملزم کے قبضے سے برآمد کرلیا گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم چوری کے گروہ کا حصہ ہے یا ماضی میں بھی ایسی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں سمیت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • ترکی کی پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش

    ترکی کی پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش

    ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی۔

    غیر ملکی میڈیا ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہوجائے گا،خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی، یہ بات نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ کی طرح ہے اور ترکیے پہلے سے نیٹو اتحاد کا رکن ہے،بلوم برگ کے مطابق ترکیے کو پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شامل کرنے کے لیے تینوں ملکوں کے درمیان معاہدہ جلد ممکن ہے۔

  • ایران میں 100 شہروں میں احتجاج پھیل گیا،47 ہلاک،2500 گرفتار

    ایران میں 100 شہروں میں احتجاج پھیل گیا،47 ہلاک،2500 گرفتار

    ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ، انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔

    تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوگئی ہوچکی ہےجن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں،ایران میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر بند کردی گئی ہے جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں، ایرانی میڈیا نے کرمانشاہ میں مظاہروں کے دوران شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں نقاب پوش افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعے کے خطاب میں کہا کہ ہے امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، ایران کے کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگے ہیں، ایران تخریب کاروں سے نمٹنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا، احتجاج جائز ہے مگر احتجاج اور فساد میں فرق ہے، حکومت مظاہرین سے بات کرے، تخریب کاروں سے بات کرنا فضول ہے ۔

  • حیدرآباد بار کا سہیل آفریدی کو خطاب کی اجازت دینے سے انکار

    حیدرآباد بار کا سہیل آفریدی کو خطاب کی اجازت دینے سے انکار

    وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کو حیدرآباد ہائیکورٹ بار سے خطاب کی اجازت دینے سے بار ایسوسی ایشن نے انکار کردیا

    سہیل آفریدی کل حیدرآباد پہنچیں گے، جہاں مختلف تقریبات میں شرکت اور ریلی کی قیادت بھی کریں گے، حیدرآباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عشرت لوہار نے بار سے خطاب کی اجازت نہ دینے کا لیٹر جاری کردیا،حیدرآباد ہائیکورٹ بار کے 11 ممبران نے وزیراعلی کے پی کے کو خطاب کی اجازت دینے کی مخالفت کی، صرف ایک ممبر نے حمایت کی ،صدر بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حیدرآباد ہائیکورٹ بار کے جنرل سیکرٹری نے ذاتی بناء پر وزیراعلی کے پی کے سہیل آفریدی کو خطاب کی اجازت دینے کا لیٹر جاری کیا تھا،