Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کمانڈر انجام کو پہنچ گیا

    گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کمانڈر انجام کو پہنچ گیا

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کا انتہائی مطلوب کمانڈر بادل عرف دلدار آواران کولوا سیکٹر میں سیکیورٹی کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

    بادل عرف دلدار 2013 سے بی ایل ایف کے لکھو گروپ کا حصہ تھا اور 2020 میں اسے کمانڈر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ وہ متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور 26 اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعات شامل ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے آواران کے کولوہ سیکٹر میں کامیاب آپریشن کرتے ہوئے بی ایل ایف کے ایک اہم کمانڈر بادل عرف دلدار کو ہلاک کر دیا۔12 جنوری کو، وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اس وقت مارا گیا جب وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ایک مقام پر پہنچا۔ بادل کے قبضے سے اسلحہ،گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے.

  • وفاقی آئینی عدالت،ارشد شریف کیس آخری مراحل میں داخل

    وفاقی آئینی عدالت،ارشد شریف کیس آخری مراحل میں داخل

    ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں داخل ہوگیا، وفاقی آئینی عدالت نے کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا۔

    وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس میں فریقین کو 5 دن میں تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم دیدیا، قرار دیا کہ تحریری معروضات آجائیں پھر مناسب حکم جاری کریں گے۔جسٹس عامر فاروق کا کہنا ہے کہ حقیقیت یہ ہے تفتیش کا عمل کافی سست ہے، ہم کسی کو الزام نہیں دینا چاہتے کہ فلاں کا قصور ہے۔

    وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ سوموٹو کی بنیاد پر کمیشن بنا اور تفتیش ابھی تک چل رہی ہے جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں ابھی تک کیا ہوچکا ہے ، وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ ہم نے کینیا میں کیس کیا تھا اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا ، ہم نے کینیا کی عدالت سے ایکسڈنٹ سے قتل کا وقوعہ بنانے کی استدعا کی تھی ، کینیا کی عدالت نے ہماری استدعا منظور کرکے تفتیش کا حکم دے دیا تھا ،ابھی تک کینیا کی تفتیش میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،ہماری پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے اور اس عدالت میں آنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ کھڑی ہو ، حکومت اور ہمارے اپروچ کرنے میں فرق ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی ،شروع میں کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کردیا تھا ،گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے ہوا ، مزید تفتیش کے لیے اب جب کینیا حکومت جب ہمیں کہے گی ہم اپنی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجیں گے ،

    جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم اس کیس میں کیا کرسکتے ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب ہم اس وقت کینیا کا رہ تفتیش کرسکتے ہیں ،جائے وقوعہ پر جائیں گے ، کینیا حکومت جو شواہد دے گی ،

    دوران سماعت عمران فاروق قتل کیس کا تذکرہ سامنے آیا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یاد ہوگا کہ عمران فاروق قتل بھی انگلینڈ میں ہوا تھا ، انگلینڈ میں تفتیش ہوئی ، انگلینڈ پولیس کے ساتھ پاکستان پولیس نے مل کر تفتیش کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کی نوعیت تبدیل ہے ،ہم نے چالان جمع کروا دیا ہے دو ملزمان کو نامزد کردیا ہے ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں گرفتار ہیں کیا ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان گرفتار نہیں ہم نے ان کے بلیک وارنٹ جاری کردیے ہیں ، جسسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اب ملزمان کو انٹر پول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انٹر پول کو ملزمان کی گرفتاری کیلئے خط لکھا ہوا ہے ، اس وقت پاکستان میں تفتیش مکمل ہوچکی ہے ، وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا ہے ، پوری کوشش ہے کہ جلد سے جلد تفتیش مکمل کرلیں .

  • ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی ،ٹرمپ

    ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی ،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج اور بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرتے ہوئے سخت اور غیر معمولی بیانات دیے ہیں۔ امریکی ریاست مشی گن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایرانی قوم سے اپیل کی کہ وہ احتجاج جاری رکھے، اپنے اداروں پر قبضہ کرے اور ان افراد کے نام یاد رکھے جو ان کے بقول ظلم و جبر کے ذمہ دار ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی اور کہا کہ جو لوگ ظلم ڈھا رہے ہیں انہیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ ان کے اس بیان کو ایران کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک ایران میں قتل عام بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام سے کسی قسم کی ملاقات یا مذاکرات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بات چیت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات سے متعلق سوالات پر کہا کہ وہ اس حوالے سے تفصیلات یہاں بیان نہیں کر سکتے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “میرا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں، سب کو معلوم ہو جائے گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔” اس بیان کو ممکنہ فوجی یا سخت سفارتی کارروائی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایک الگ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ یہ اسی طرح جاری رہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور بات پھانسیوں تک پہنچتی ہے تو پھر امریکہ کو بھی کارروائی کرنا پڑے گی۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی بیان دیتے ہوئے ایرانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے بجائے عوام کا ساتھ دے۔ رضا پہلوی کے مطابق موجودہ حالات میں فوج کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے اور اگر وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو ملک میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو بھی غیر یقینی بنا سکتے ہیں۔

  • جعلی نقشہ پونے تین کروڑ کا غبن،سرکاری زمین پر قبضہ کی کوشش ناکام

    جعلی نقشہ پونے تین کروڑ کا غبن،سرکاری زمین پر قبضہ کی کوشش ناکام

    گوجرخان (قمرشہزاد) اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ اور چیف آفیسر بلدیہ ملک طارق ضیاء نے قبضہ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ایک اہم کارروائی میں جی ٹی روڈ پر کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین پر بننے والے غیر قانونی کمرشل ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) کی ملکیتی اراضی پر مبینہ طور پر غیر قانونی ریسٹورنٹ تعمیر کیا جا رہا تھا۔ اس سنگین بدعنوانی میں نہ صرف زمین پر قبضہ کیا گیا بلکہ بلدیہ میں جعلی نقشہ جمع کروا کر سرکاری فیس کی مد میں تقریباً پونے تین کروڑ روپے کا غبن کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ملحقہ آبادی کے مکینوں نے اس غیر قانونی تعمیر کے خلاف دہائی دی تھی کہ ریسٹورنٹ کا سیوریج سسٹم پورے علاقے، بشمول قریبی ہسپتالوں اور سکولوں کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دے گا۔ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے، اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے سخت احکامات جاری کیے جس پر چیف آفیسر بلدیہ ملک طارق ضیاء نے موقع پر پہنچ کر تعمیراتی کام رکوایا اور عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔

    شہری حلقوں نے اس دلیرانہ کارروائی پر انتظامیہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خضر ظہور گورائیہ اور ملک طارق ضیاء کی نے قانون شکنوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ گوجرخان میں اب لاقانونیت کی جگہ نہیں ہوگی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے قبضہ گروہوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی سرکاری زمین یا عوامی حقوق پر شب خون مارنے کی جرآت نہ کر سکے۔

  • سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر  :  قمرشہزاد مغل

    سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    صحافت کے لبادے میں چھپی مصلحتوں، ایوانوں کی غلامی اور ضمیر فروش سوداگروں کے اس دور میں جہاں حق بولنا خودکشی تصور کیا جاتا ہے، وہاں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے مقتل میں بھی سچ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اگر ان ناموں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے پہلا اور معتبر نام مبشر لقمان صاحب کا آتا ہے۔ وہ شخص جس نے صحافت کو ڈرائنگ رومز کی عیاشی سے نکال کر سچائی کے اس کٹھن میدان میں لا کھڑا کیا جہاں ہر قدم پر خطرات کی بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ باغی ٹی وی محض ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک ایسی سوچ جو وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنا جانتی ہے۔ آج جب اس ادارے نے اپنے سفر کے 14 سال مکمل کیے ہیں صحافت کی دنیا میں سچ اور جرات مندی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کوئی فرد یا ادارہ ان اصولوں پر قائم رہتا ہے تو وہ معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے۔ مبشر لقمان صاحب اور ان کا ادارہ باغی ٹی وی بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ حقائق کو بے باکی سے پیش کرنا اور ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا ان کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کٹھن سفر میں ممتاز اعوان صاحب کا کردار بھی کسی ستون سے کم نہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ انھوں نے کس طرح دن رات ایک کر کے اس ادارے کی آبیاری کی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور مخلصانہ جدوجہد نے باغی ٹی وی کو وہ وقار بخشا ہے کہ آج یہ ادارہ حق گوئی کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی اور ممتاز اعوان ہی کی بصیرت ہے جہنوں نے مجھے اس باغی کارواں کا حصہ بنایا اور سچائی کی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کا حوصلہ دیا۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں کہ باغی ٹی وی اور مبشر لقمان صاحب کی جانب سے میری صحافتی خدمات کے اعتراف میں مجھے تعریفی سند سے نوازا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک اعلانِ جنگ ہے ان باطل قوتوں کے خلاف جو صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔
    بقول شاعر!
    میں نے مانا کہ اندھیرا ہے بہت چاروں طرف
    پر دیا ایک جلانا تو مرا کام ہے نا

    جب مبشر لقمان جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی مہر آپ کے کام پر لگ جائے، تو ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ سند اس بات کی گواہی ہے کہ ہم اس ٹیم کا حصہ ہیں جو بکنے کے لیے نہیں، بلکہ حقائق کو ننگا کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنا خطرناک ہے، میں کہتا ہوں کہ سچ بولنے کی قیمت چکانا اگر جرم ہے، تو ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔ باغی ٹی وی کی 14 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں مبشر لقمان، ممتاز اعوان اور وہ پوری ٹیم جو باغی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ادارے کے سپاہی ہیں جہاں قلم کی نوک پر سچ ناچتا ہے اور جہاں ضمیر کی آواز پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے۔ حق اور سچ کا یہ سفر جاری رہے گا، کیونکہ باغی ابھی زندہ ہے اور اس کی للکار ایوانوں میں گونجتی رہے گی
    شعر
    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
    یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،14ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،14ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 14 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 14برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے 14برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 14برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 14 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے،

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    باغی ٹی وی کی 14 ویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم عالی، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا، لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

  • خیبرپختونخوا ،سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا ،سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد جہنم واصل

    خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے دو الگ الگ واقعات میں چھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا

    محکمہ انسداد دہشتگردی خیبرپختونخوا پشاور نے خفیہ اطلاع پر پشاور کے نواحی علاقے ٹپوسانو باچا قبرستان، ظاہر گھڑی میں دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران تین انتہائی مطلوب دہشتگرد مارے گئے۔ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے کچھ ساتھی آبادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے۔ ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق مارے گئے دہشتگردوں کے قبضے سے دو کلاشنکوفیں اور ایک پستول بمع کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔

    ضلع خیبر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک،

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) خیبر نے خفیہ اطلاع پر جمرود میں شاہ کس بائی پاس روڈ پر واقع ناکے کلے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران تین دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے دو ساتھی پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگرد سرگرم رکن تھے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں، قتل و اقدامِ قتل، بھتہ خوری سمیت دیگر دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے تین کلاشنکوفیں اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا۔