Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سگی مامتا خون میں نہا گئی ،بھائیوں کا جھگڑا فائرنگ سے بوڑھی ماں لقمہ اجل بن گئی

    سگی مامتا خون میں نہا گئی ،بھائیوں کا جھگڑا فائرنگ سے بوڑھی ماں لقمہ اجل بن گئی

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ مندرہ کے نواحی علاقے ہرنال میں گھریلو ناچاقی نے ہنستا بستتا گھر اجاڑ دیا، دو بھائیوں کے مابین ہونے والی تلخ کلامی کے نتیجے میں فائرنگ سے بدنصیب بوڑھی ماں اپنی زندگی کی بازی ہار گئی گھر میں کہرام مچ گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ہرنال کے رہائشی رستم علی اور اس کے بھائی عمران کے درمیان کسی معمولی گھریلو بات پر تکرار ہوئی۔ تلخ کلامی اس قدر بڑھی کہ غصے میں بپھرے ہوئے ملزم عمران نے ہوش و حواس کھو کر 30 بور پستول نکال لیا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس دوران دونوں بھائیوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کرنے والی ان کی 56 سالہ والدہ مسمات رحمت جان زوجہ محمد ازرم گولیوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گئیں۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او مندرہ ملک تنویر اشرف نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ ایس ایچ او ملک تنویر اشرف کا کہنا ہے کہ ملزم عمران واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے کر مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ جلد ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • گوجرخان پولیس کا بڑا معرکہ اغوا کاروں کا نیٹ ورک توڑ دیا

    گوجرخان پولیس کا بڑا معرکہ اغوا کاروں کا نیٹ ورک توڑ دیا

    گوجرخان (قمر شہزاد) اے ایس پی گوجرخان سید دانیال حسن کی زیر نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ گوجرخان مرزا طیب ظہیر بیگ کی قیادت میں گوجرخان پولیس نے ایک بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے نواحی علاقے نگائل سے اغوا ہونے والی کمسن بچیوں کو لاہور سے بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ پولیس کی اس فوری اور مؤثر کارروائی نے نہ صرف معصوم جانوں کو تحفظ فراہم کیا بلکہ سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

    تفصیلات کے مطابق نواحی علاقے نگائل سے کمسن بچیوں کے اغوا کی اطلاع موصول ہوتے ہی اے ایس پی سید دانیال حسن نے واقعے کا فوری نوٹس لیا انہوں نے کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ کی قیادت میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں جنہیں ٹارگٹڈ کارروائی کا حکم دیا۔ پولیس ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی، خفیہ معلومات اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے انتھک محنت کی اور قلیل وقت میں ملزمان کا سراغ لگا کر لاہور میں چھاپہ مارا، جہاں سے مغوی بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرواتے ہوئے اغوا میں ملوث ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جن کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے ایس پی سید دانیال حسن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کمسن بچیوں کے اغوا جیسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ شہریوں کے جان و مال، بالخصوص بچوں کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ معاشرے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔ جبکہ ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ نے کہا کہ بچوں کے اغوا جیسے سنگین جرائم میں ملوث درندے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے گوجرخان پولیس شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے دن رات کوشاں ہے اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوامی حلقوں نے اے ایس پی گوجرخان، ایس ایچ او اور ان کی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے، جس سے پولیس پر عوام کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا دو روزہ میڈیا ونٹر سکول ، ملک بھر سے میڈیا کوآرڈینیٹرز کی شرکت

    مرکزی مسلم لیگ کا دو روزہ میڈیا ونٹر سکول ، ملک بھر سے میڈیا کوآرڈینیٹرز کی شرکت

    سینئر صحافیوں، مرکزی مسلم لیگ کے قائدین کی گفتگو،خبر نگاری، اے آئی، مطالعہ سازی ،ڈیجیٹل میڈیا پر لیکچر

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام میڈیا ونٹرسکول مکمل، لاہور میں دو روزہ میڈیا ورکشاپ میں سینئر صحافیوں، مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے خطاب کیا، میڈیا ورکشاپ میں ملک بھر سے مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی میڈیا کوآرڈینیٹرز نے شرکت کی، شرکا کو خبر نگاری ، اے آئی کا مثبت استعمال، لکھنے کے لئے مطالعہ کتنا ضروری، ڈیجیٹل میڈیا میں کیسے آگے بڑھیں،ویڈیو ایڈیٹنگ سمیت دیگر موضوعات پر لیکچر دیئے گئے، ورکشاپ سے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف،سینئر صحافی دلاور چوہدری، شاہد نذیر چوہدری،محمد عثمان ،چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ،جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لاہور قیصر شریف، سلمان جاوید،اینکر حمزہ علی ،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم،مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری،حمید الحسن،مزمل اقبال ہاشمی،ملک وقاص سعید، طہ منیب،ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان و دیگر نے خطاب کیا،

    مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف نے میڈیا ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال بہت ضروری ہے، میڈیا میں مرچ مصالحہ سے ریٹنگ بڑھ سکتی ہے لیکن قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی،سوشل میڈیا کے ذریعے ہی مایوسی میں ڈوبے نوجوان کو امید دلانی ہے قوم کو شعور دینا ہے۔ اسے ہجوم نہیں ایک قوم کی شکل دینا ہے، سینئر صحافی دلاور چودھری نے شرکا سے خطاب کرتے کہا کہ علم مومن کی میراث ہے۔ایک اچھا انسان بننے، معاشرے کو متوازن بنانے کے لیے کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔کم علمی کی وجہ سے قوم تذبذب کا شکار رہتی ہے۔ اچھے فیصلے کے لیے ذہن وسیع ہونا چاہیے اور وسیع ذہن کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے۔ سینئر صحافی شاہد نذیر چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ ڈیجیٹل میڈیانے دنیا ہی بدل دی ہے، موبائل ایک انڈسٹری ہے ، اسی موبائل کی قوت سے غلامی سے آزادی حاصل کرنی ہے۔مسائل کو سوشل میڈیا کی مدد سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ صحافی کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے، ہمیں انداز بدلنے کی ضرورت ہے، پارٹی کے بیانیے کو پالیسی کے مطابق لے کر چلیں ،مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کے لئے بھی تربیتی پروگرام منعقد کروا رہی ہے، اسی سلسلے کو جاری رکھیں گے، میڈیا ورکشاپ کے دوسرے روز اتوار کو شرکا میں سرٹفکیٹ جبکہ مہمانان خصوصی میں شیلڈ تقسیم کی گئیں،

  • چین، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہو گئے !!!

    چین، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہو گئے !!!

    بھارت ٹوٹنے کے قریب !!! مودی گوربا چوف بننے کو
    روس اور امریکہ کے درمیان انڈین سفارت کاری ناکام

  • غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون گرفتار،مقدمہ درج

    غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون گرفتار،مقدمہ درج

    گوجرانوالہ پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون کو حراست میں لے لیا ، زنا کا مقدمہ درج کر لیا گیا

    سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کے نوٹس پر پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ تھانہ اروپ پولیس نے جدید سائنٹفک طریقہ کار سے تفتیش کرتے ہوئے خاتون کو ٹریس کر کے حراست میں لیا، مقدمہ درج کر لیا گیا،ویڈیو میں نظر آنے والے ملزم کی گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی کینٹ کی زیر نگرانی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں،سی پی او کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی تفتیش میرٹ پر کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی ۔

    دوسری جانب سی سی ڈی لاہور کے ذمہ دار افسر ایس پی آفتاب پھلروان کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیس ز نا بالرضا کا ہے اس میں زیا دتی کا پہلو ہوتا تو یہ کیس سنگین ہوتا ۔ سی سی ڈی صرف سنگین نوعیت کے ریپ کیسز کو ہینڈل کرتی ہے ، کیونکہ ہمیں ریاست نے اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا ۔ عمیری کے نیفے میں پستول چلنے یا اسکے پار ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں ، حقیقت میں سی سی ڈی کے پاس عمیری کا کیس ہی نہیں ، یہ مقامی پولیس کے جینڈر سیل کا کیس ہے وہی اسے دیکھ رہے ہیں ، جب یہ معاملہ وائرل ہوا تو سی سی ڈی نے بنیادی طور پر کیس کا جائزہ ضرور لیا لیکن ہمارے افسران نے فیصلہ کیا کہ یہ ہمارا کیس نہیں ہے چنانچہ ہم پیچھے ہٹ گئے ،سی سی ڈی جرائم کے خلاف ایک معتبر ادارہ ہے ۔ عوام کے اندر اسکی عزت ہے اور ہم انشااللہ اپنے دائرہ کار سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے اور عوام سے ملنے والی عزت اور نام کو سنبھال ک رکھیں گے

    یاد رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک مبینہ نازیبا ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جسے صارفین عمیری لیک ویڈیو کا نام دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو تقریباً 7 منٹ 11 سیکنڈ کی بتائی گئی اور اس میں ایک نوجوان شخص جسے عمیری کہا جا رہا ہے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ازواجی عمل میں ملوث نظر آیا۔ویڈیو کے کلپس ایکس پر پارٹس میں شیئر کیے جا رہے ہیں جہاں ایک شادی شدہ خاتون نشے کی حالت میں عمیری نامی شخص سے غیر قانونی طور پر ازواجی عمل میں مصروف ہے جبکہ اس دوران خاتون عمیری نامی شخص سے سے بار بار نکاح کرنے کی بات کرتی نظر آتی ہے۔خاتون شدید غصے کی حالت میں اپنے شوہر، والدین اور بھائیوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کروائی گئی جو اس کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ویڈیو میں خاتون کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو بنا کر میرے بھائیوں اور والد کو بھیج دو جبکہ عمیری کا جواب ہے کہ اگر سرمایہ ہوتا تو دو سال پہلے نکاح کر لیتا۔

    اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایکس پر میمز، جوکس اور طنزیہ پوسٹس کا سیلاب آ گیا ہے ،یہ معاملہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں وائرل ہونے والے دیگر لیک ویڈیو سکینڈلز (جیسے مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا اور دیگر ٹک ٹاکرز) کی طرح پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز اکثر ہیکنگ، بلیک میلنگ یا ذاتی انتقام کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایکس پر کئی پوسٹس میں جعلی لنکس شیئر کیے جا رہے ہیں جو وائرس یا فراڈ کا سبب بن سکتے ہیں،سائبر کرائم ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ حساس مواد شیئر کرنا یا مشکوک لنکس پر کلک کرنا قانونی طور پر جرم ہے اور پیکا ایکٹ کے تحت سخت سزا ہو سکتی ہے۔

  • پی ٹی آئی کا جلسے کے مقام پر یوٹرن، باغِ جناح میں ہی جلسہ کرنے کا  فیصلہ

    پی ٹی آئی کا جلسے کے مقام پر یوٹرن، باغِ جناح میں ہی جلسہ کرنے کا فیصلہ

    کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کے مقام سے متعلق صورتحال میں اتار چڑھاؤ کے بعد بالآخر پارٹی نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت اپنا جلسہ باغِ جناح گراؤنڈ میں ہی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    اس سے قبل این او سی کے اجرا میں تاخیر اور حکومتی رویے پر تحفظات کے باعث پی ٹی آئی قیادت نے مزارِ قائد کے گیٹ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعدازاں سندھ حکومت کی واضح وارننگ اور باضابطہ اجازت نامہ جاری ہونے کے بعد پارٹی نے فیصلہ تبدیل کرلیا۔اس سے پہلے پی ٹی آئی کے رہنما راجہ اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے انہیں باضابطہ طور پر کوئی این او سی موصول نہیں ہوا، اگرچہ میڈیا پر ایک خط گردش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لیٹر درست بھی ہے تو اب انتظامات کے لیے وقت ناکافی ہے۔ راجہ اظہر نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے دو روز تک پی ٹی آئی کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا، جس کے باعث پارٹی نے مزارِ قائد کے گیٹ پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    مزارِ قائد کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجہ اظہر نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے باغِ جناح میں جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہاں سے کرسیاں اور دیگر سامان واپس اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ جلسہ مزارِ قائد کے گیٹ پر ہوگا۔ تاہم اسی دوران سندھ حکومت نے باغِ جناح میں جلسے کی باضابطہ اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور سڑک پر کسی بھی قسم کے جلسے پر سخت کارروائی کی وارننگ دی۔نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے کراچی میں اپنا جلسہ باغِ جناح میں ہی منعقد کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی کے ابتدائی مؤقف پر سخت ردِعمل سامنے آیا۔ سندھ کے وزیرداخلہ ضیاء لنجار نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کسی بھی سڑک پر جلسہ کیا گیا تو حکومت سخت ایکشن لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب تک پی ٹی آئی سے تعاون کر رہی ہے، تاہم حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے بھی پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو باغِ جناح میں جلسے کی مکمل اجازت ہے اور جلسہ وہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سڑک پر جلسہ کرنے کی بات کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں اور اس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ باغِ جناح کا مطالبہ خود پی ٹی آئی نے کیا تھا، تاہم چونکہ یہ جگہ وفاق کے زیر انتظام ہے اس لیے اجازت نامے کے اجرا میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت جلسے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔

    ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب این او سی جاری ہوچکا ہے تو پی ٹی آئی کو گراؤنڈ میں ہی جلسہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزارِ قائد کا تقدس پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور سڑک پر جلسے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ شرجیل میمن نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت جلسے کے لیے انتظامات بھی کر سکتی ہے اور گراؤنڈ بھرنے کے لیے افراد بھی فراہم کر دے گی، مگر قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    شرجیل انعام میمن نے قبل ازیں باغِ جناح میں جلسے کی اجازت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جلسے کے دوران قانون و امن کی مکمل ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔ اجازت نامے کے مطابق کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز، فرقہ وارانہ یا ریاستِ پاکستان اور اداروں کے خلاف تقاریر کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا منتظمین کی ذمہ داری ہوگی اور پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا لازم ہوگا، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اجازت منسوخ کرنے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہوگا۔

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کو کراچی کے باغِ جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت 26 نکات پر مشتمل شرائط کے ساتھ دی گئی ہے، جو پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد کے نام جاری کی گئی۔ شرائط کے مطابق کوئی بھی مقرر نظریۂ پاکستان یا ریاستی پالیسی کے خلاف تقریر نہیں کرے گا، افواجِ پاکستان یا کسی برادری کے خلاف نفرت انگیز گفتگو اور انتہا پسندی پر مبنی تقاریر پر مکمل پابندی ہوگی۔این او سی میں یہ بھی درج ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ پنڈال کی مکمل چیکنگ کے بعد اسے منتظمین کے حوالے کرے گا۔ جلسے کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ تقریب کے آغاز سے اختتام تک کی جائے گی، جس کی سی ڈی اگلے روز متعلقہ اداروں کو جمع کرانا آرگنائزر کی ذمہ داری ہوگی۔ اجازت نامے کے مطابق جلسے کا وقت شام 8 بجے سے رات 12 بجے تک مقرر کیا گیا ہے اور اس دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔انتظامیہ کے مطابق ان تمام شرائط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلسہ پُرامن ماحول میں مکمل ہو، کسی قسم کا امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور عوامی نظم و ضبط متاثر نہ ہو۔

  • مبشر لقمان کی 63ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    مبشر لقمان کی 63ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکرپرسن،باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان کی 63ویں سالگرہ کی تقریب 365 نیوز کھرا سچ کے دفتر میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر ٹیم کھرا سچ، باغی ٹی وی کے ارکان اور 365 نیوز کے ساتھیوں کی موجودگی میں مبشر لقمان نے کیک کاٹا۔ تقریب میں شریک تمام عملے نے انہیں مبارکباد دی اور ان کی صحت مند اور خوشحال زندگی کے لیے دعا کی۔

    تقریب میں نوید شیخ ایگزیکٹو پروڈیوسرکھراسچ، ارسا سہیل پروڈیوسر، عبدالرؤف پروڈیوسر، علی رضا ایسوسی ایٹ پروڈیوسر،اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز حیدر اعوان شامل تھے۔شرکاء نے مبشر لقمان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق گوئی اور جرات مندانہ انداز کو سراہا۔ یاد رہے کہ مبشر لقمان اپنی بے باک صحافت، جرات مندانہ تجزیوں اور سچائی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ دیانت داری اور اصولوں پر مبنی صحافت کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔

    مبشر لقمان باغی ٹی وی کے سی ای او اور کھرا سچ پروگرام کے میزبان ہیں۔ باغی ٹی وی اور کھراسچ کی ٹیم نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستانی صحافت کا ایک چمکتا ستارہ قرار دیا، جو عوام کو حقائق سے روشناس کرانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔تقریب کے دوران شرکاء نے مبشر لقمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی سالگرہ کو ایک یادگار موقع قرار دیا۔ ان کی جرات مند اور بے خوف صحافت پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک قابل تقلید مثال ہے، جس نے ہمیشہ عوام کے لیے سچائی کا راستہ روشن کیا ہے۔

  • پانچ سال کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات دیں،نیب کا میئر کراچی کوخط

    پانچ سال کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات دیں،نیب کا میئر کراچی کوخط

    قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ڈویلپمنٹ پروجیکٹس سے متعلق اہم تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ نیب کی جانب سے یہ اقدام کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ میگا کرپشن سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

    نیب کراچی کے خط کے مطابق سال 2020 سے 2025 کے دوران کے ایم سی کے تحت مکمل کیے گئے اور جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی جامع تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیب نے واضح کیا ہے کہ ان منصوبوں میں لاگت، فنڈز کے ذرائع، ٹینڈرز کا طریقہ کار، کنٹریکٹرز کی تفصیلات، ادائیگیوں کا ریکارڈ، منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور موجودہ پیش رفت سے متعلق مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ذرائع کے مطابق نیب کو کے ایم سی کے متعدد ڈویلپمنٹ پروجیکٹس میں مبینہ بے ضابطگیوں، فنڈز کے غلط استعمال اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں، جن پر ابتدائی جانچ کے بعد مزید معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    خط میں نیب آرڈیننس کی سیکشن 27 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مطلوبہ تمام تفصیلات 15 جنوری سے قبل نیب کراچی بیورو کو جمع کرائی جائیں۔ مقررہ وقت میں ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

  • ضلع دُکی کوئلے کی پیداوار سے قومی معیشت کو مضبوط سہارا

    ضلع دُکی کوئلے کی پیداوار سے قومی معیشت کو مضبوط سہارا

    بلوچستان کے دل میں واقع ضلع دُکی قدرتی وسائل سے مالا مال ایک اہم خطہ ہے، جو اعلیٰ معیار کے کوئلے کی بدولت پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

    دُکی سے یومیہ اوسطاً 2235 ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 33.5 ملین روپے بنتی ہے۔ یہ پیداوار ملک کی توانائی اور صنعتی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔کوئلہ کانیں 19 ہزار سے زائد خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں، جبکہ حاصل ہونے والے وسائل سے تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔امن و امان اور ترقی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔ضلع دُکی آج محنت، وسائل اور قومی ترقی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔

  • امریکی ریاست مسسی سپی میں فائرنگ، 6 افراد ہلاک، ملزم گرفتار

    امریکی ریاست مسسی سپی میں فائرنگ، 6 افراد ہلاک، ملزم گرفتار

    امریکی ریاست مسسی سپی کے شہر ویسٹ پوائنٹ میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے یہ واقعات شہر کے تین مختلف مقامات پر پیش آئے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔کاؤنٹی شیرف ایڈی اسکاٹ نے واقعے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ“بدقسمتی سے آج رات ہماری کمیونٹی کو ایک بڑے المیے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب صورتحال قابو میں ہے اور عوام کو مزید کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔”

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے محرکات اور واقعات کے پس منظر سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ حکام نے تاحال نہ تو فائرنگ کے اسباب واضح کیے ہیں اور نہ ہی ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت جاری کی گئی ہے۔