Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خودمختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    خودمختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا ہےکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا، اس موقع پر انہیں آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشن کے زیر اہتمام تربیتی مشقوں کا جائزہ لیا، فیلڈ مارشل نے مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے تیاریوں اور جدت اپنانے پر زور دیا اور جوانوں کو فراہم کردہ کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کو سراہا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ لاہور میں ہائی کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے طبی عملے اور انتظامیہ کی خدمات کی تعریف کی۔

    لاہور گیریژن میں افسران سے خطاب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، پاک فوج ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہیں۔ افواج اعلیٰ معیار، نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں،پاک فوج جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جوانوں کی جسمانی فٹنس اور مورال ہماری ترجیح ہے۔

  • شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہی وعدے بھول گئے، مرتضیٰ وہاب

    شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہی وعدے بھول گئے، مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے وزیراعظم شہباز شریف سے گلے شکوے، وعدے وفا کرنے کی اپیل کردی۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف اپوزیشن لیڈر تھے تو وفاق کو کراچی میں حصہ ڈالنے کا مشورہ دیتے تھے مگر وزیراعظم بنتے ہی سارے وعدے بھول گئے، اگر شہباز شریف کی یہی سوچ ہوگی تو ان میں اور بانی پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔حب ریور روڈ منصوبے میں 8 ہزار فٹ جدید ڈرینیج سسٹم شامل کیا گیا ہے۔نکاسی آب کی بہتری کے لیے 21 ہزار فٹ سے زائد RCC پائپ لائن بچھائی جائے ،منصوبہ مکمل ہونے سے علاقے میں سیلابی صورتحال کا خاتمہ ہوگا،حب ریور روڈ پر100 اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی،وزیراعظم کو لاہور سے آگے بھی دیکھنا ہوگا کراچی بھی پاکستان کا اہم شہر ہے حب ڈیم کا کنال کام ہم نے مکمل کیا، ہم پانی کی الاٹمنٹ بڑھانے پر بھی بات کررہے ہیں

  • فتنہ الخوارج کا تحصیل باڑہ میں مسجد پر حملہ،اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت

    فتنہ الخوارج کا تحصیل باڑہ میں مسجد پر حملہ،اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت

    فتنہ الخوارج نے خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبرکی تحصیل باڑہ کےعلاقے اکاخیل میں مسجد کو نشانہ بنا دیا

    ضلع خیبر تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل عالم کلے (قبروں کلے) میں خوارج کا مسجد اور عام شہریوں کے گھروں میں رکھا سامان پھٹنے سے مسجد اور گھروں کو آگ لگ گئی۔ خوارج کی وجہ سے پیش آنیوالا واقعہ انسان دشمنی اور اسلام کے مقدس مقامات کی توہین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چند مقامی لوگوں کے مطابق خوارج کی جانب سے یہ دھماکہ خود کیا گیا ہے تاکہ مقامی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے سہولت کاری پر مجبور کیا جا سکے۔جنگی چال کے طور پر مساجد اور عام لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنانا خوارج کے مکروہ چہرے کی عکاسی کرتا ہے ۔ عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں اور واقعہ میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے میں مثبت کردار ادا کریں ۔

  • دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے ماحولیات کو شدید خطرے میں ڈال دیا

    دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے ماحولیات کو شدید خطرے میں ڈال دیا

    سندھ اور پنجاب کے دریاؤں میں غیر مقامی اور حملہ آور نوع کی مچھلیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے مقامی ماہی گیری اور ایکو سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں نہ صرف مقامی انواع کو کھا رہی ہیں بلکہ ان کی خوراک اور رہائش کے علاقوں پر قبضہ کر کے مقامی ایکو سسٹم کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

    آبی ماہرین اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستانی پانیوں میں 26 مختلف غیر ملکی مچھلیوں کی اقسام دیکھی جا چکی ہیں، جو عام طور پر گھروں کے ایکوریم کے لیے امپورٹ کی جاتی ہیں۔ ان حملہ آور مچھلیوں میں ایمازون سیل فن کیٹ فش، پاکو اور سرخ پیٹ والی تلپیا مچھلیاں سرفہرست ہیں، جو بنیادی طور پر لاطینی امریکا سے آئی ہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان مچھلیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف مقامی مچھلیوں کی نسلوں کو ختم کر دیں گی بلکہ دریاؤں کے قدرتی ماحول کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق یہ مچھلیاں تیزی سے بڑھتی ہیں اور ان کے شکار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مقامی انواع کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔

    حالیہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مچھلیاں کس طرح پاکستانی دریاؤں تک پہنچی ہیں، اس پر کام جاری ہے۔ ابتدائی خدشات کے مطابق زیادہ تر مچھلیاں غیر قانونی طور پر ایکوریم سے پانی میں چھوڑ دی گئی ہیں یا تجارتی امپورٹ کے دوران غیر ارادی طور پر ریلز اور پانی کی ترسیل کے ذریعے ریلے میں شامل ہو گئی ہیں۔

    ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان حملہ آور مچھلیوں کو کنٹرول کیا جا سکے، کیونکہ ان کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ مقامی ایکو سسٹم پر ان کے اثرات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے نے بتایا، "اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کے دریاؤں میں مقامی مچھلیوں کی نسلیں معدوم ہو سکتی ہیں اور پورا ایکو سسٹم تباہ ہو سکتا ہے۔”

  • پی ایس ایکس میں‌تیزی کا رجحان برقرار

    پی ایس ایکس میں‌تیزی کا رجحان برقرار

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے ایک اور تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں پی ایس ایکس 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔ سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد اور خریداری کے دباؤ کے باعث مارکیٹ میں مثبت ماحول غالب رہا،کاروبار کے دوران کچھ دیر پہلے 100 انڈیکس میں 1 ہزار 700 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 86 ہزار 765 پوائنٹس کی سطح پر دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں تیزی کے باعث مختلف شعبوں بالخصوص بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور آٹو سیکٹر کے حصص میں نمایاں اضافہ ہوا،ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کی اہم وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، شرح سود سے متعلق مثبت توقعات، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی شامل ہیں۔ ان عوامل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی دیکھنے میں آئی تھی اور 100 انڈیکس 2 ہزار 653 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 85 ہزار 62 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ مسلسل دوسرے روز بھی ریکارڈ سطحیں قائم ہونے سے مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل ظاہر ہو رہا ہے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی اور مالیاتی حالات میں مثبت پیش رفت جاری رہی تو آنے والے دنوں میں بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے

  • کاروبارکیلئے  قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    کاروبارکیلئے قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے .زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں.ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں. نوجوانوں کو آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو،نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی. اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین پر پہنچ گیا. مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں. زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں. SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ” کا اجراء بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقائدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بلخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی.

  • ڈاکوؤں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے،وزیر داخلہ سندھ

    ڈاکوؤں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے،وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ کچے میں بڑے آپریشن کی طرف جارہے ہیں، ٹارگٹ کرکے نامی گرامی ڈاکوؤں کیخلاف کارروائی کرینگے، آپریشن میں فوج کی فی الحال ضرورت نہیں۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبے میں کچے میں بڑے آپریشن کی طرف جارہے ہیں، تمام وسائل استعمال کریں گے، ٹارگٹ کرکے نامی گرامی ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سرینڈر کرنیوالے ڈاکوؤں کو موقع دیں گے، سرینڈر کرکے قانون کا سامنا کریں، خود کو بہت بڑا چیمپئن سمجھنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ضیاء لنجار کا کہنا تھا کہ آپریشن میں فوج کی فی الحال ضرورت نہیں، آپریشن میں پنجاب پولیس کی بھی ضرورت پڑے گی، آئی جی سندھ کو آئی جی پنجاب سے بھی رابطے کا کہا ہے، صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، سندھ میں اب کہیں بھی حفاظتی کانوائے نہیں چل رہے۔ ایک سوال پر وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ڈاکوؤں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔

  • حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی تیار کرلی

    حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی تیار کرلی

    اسلام آباد: ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور سیاسی استحکام کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی باقاعدہ حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت شروع کرنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف موجودہ سیاسی صورتحال میں مفاہمت اور مکالمے کو ناگزیر سمجھتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی سطح پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور مذاکرات کے لیے واضح لائحہ عمل بھی تیار کرلیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست پر حکومتی وفد اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل پارلیمانی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ آئینی اور جمہوری اصولوں کے تحت مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے واضح فیصلہ کیا ہے کہ مذاکرات صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب نمائندوں سے ہی کیے جائیں گے، جبکہ کسی بھی غیر منتخب یا غیر پارلیمانی نمائندے سے بات چیت نہیں ہوگی۔ حکومتی موقف ہے کہ پارلیمان ہی مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا درست فورم ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن قیادت سے رابطے تیز کریں گے، جس کے بعد مذاکرات کے باضابطہ آغاز کا امکان ہے۔

  • سہیل آفریدی کو سندھ میں ویلکم کرتے ہیں،سیکورٹی،پروٹوکول دیں گے،شرجیل میمن

    سہیل آفریدی کو سندھ میں ویلکم کرتے ہیں،سیکورٹی،پروٹوکول دیں گے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کو سندھ میں ویلکم کرتے ہیں،بحیثیت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سیکیورٹی بھی دینگے اور پروٹوکول بھی، سندھ کے لوگ مہمان نواز ہیں ہمیشہ مہمان نوازی کا خیال رکھتے ہیں.

    شرجیل میمن کراچی پریس کلب پہنچے، جہاں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، جنرل سیکرٹری اسلم خان اور باڈی کے دیگر ارکان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا،سینئر وزیر نے کراچی پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران سے ملاقات کی اور انہیں کامیابی پر مبارکباد دی،اس موقع پر پریس کلب کے عہدیداران نے سینئر وزیر کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور صحافی برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا،شرجیل انعام میمن نے صحافیوں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے ہر شعبے میں تاریخی اقدامات کیے ہیں، خاص طور پر صحت کے شعبے میں انقلابی کام ہوئے ہیں،سندھ کے اسپتالوں میں شناختی کارڈ یا ڈومیسائل کی بنیاد پر علاج نہیں کیا جاتا اور لاکھوں روپے مالیت کا علاج بالکل مفت فراہم کیا جا رہا ہے،صحافت میں جدت آ رہی ہے اور یہ اب صرف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک محدود نہیں رہی، حکومت چاہتی ہے کہ صحافت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔

    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ صحافی برادری کے ساتھ ہمیشہ تعاون کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی،پیپلز پارٹی اور صحافی برادری نے ہمیشہ جمہوریت کی جدوجہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، اور حکومت چاہتی ہے کہ صحافیوں کے آج اور مستقبل کے لیے مل کر کام کیا جائے تاکہ ان کا محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکے، صحافیوں کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کراچی کے بعد حیدرآباد میں بھی اسی طرز کی کوششیں کی جائیں گی۔ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادی اظہار رائے کے لیے جدوجہد کی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے وزیراعلیٰ پاکستان کے وزیراعلیٰ ہوتے ہیں، سندھ مہمان نوازوں کی دھرتی ہے، اور حکومت سندھ قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام مہمانوں کو مکمل سکیورٹی اور سہولیات فراہم کرے گی۔

  • ایک مریم آپ کے سامنے،میرے سامنے آپ سب مریم کھڑی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    ایک مریم آپ کے سامنے،میرے سامنے آپ سب مریم کھڑی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو پنجاب کی تقدیر بدل سکتی ہے، پنجاب کی بیٹی کسی سے کم نہیں اگر وہ محنت کرے تو سب کچھ حاصل کر سکتی ہے۔

    لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کی خواتین باہمت ہیں، پنجاب کی خواتین اپنی صلاحیت سے صوبے کی قسمت بدل دیں گی، پنجاب کی خواتین جو چاہیں اپنی ہمت سے حاصل کر سکتی ہیں،حکومت اب بیمار لوگوں کا اسپتال آنے کا انتظار نہیں کرے گی، اب ہم بیمار لوگوں کے علاج کے لیے اُن کے گھر خود جائیں گے۔ اب کوئی شہر گلی اور محلہ ایسا نہیں رہے گا کہ جہاں تک ہماری ٹیمیں نا پہنچیں، 25 ہزار کمیونٹی ہیلتھ اسپیکٹرز جب میدان عمل میں نکلیں گی تو پنجاب سے بیماریاں دور بھاگ جائیں گی، فیلڈ اسپتال گاؤں گاؤں جا کر علاج کر رہے ہیں، ستھرا پنجاب منصوبہ دنیا بھر میں مقبول ہوا،ابھی آپ کی تنخواہ 50 ہزار ہے، آپ لوگ مجھے کام کر کے دکھاؤ میں آپ کی تنخواہ بڑھاؤں گی، جب آپ لوگ اچھا کام کریں گے تو میں خود آپ کی تنخواہ بڑھاؤ گی،چاہتی ہوں کہ لوگوں کو چل کر اسپتال نہ جانا پڑے اسپتال خود چل کر عوام تک آئے، آپ لوگوں کی مدد سے پتہ چلے گا کہ پنجاب میں کون سی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میں کارڈیالوجی اسپتال بن رہے ہیں، کوئی سوچ سکتا تھا کہ جھنگ میں کارڈیالوجی اسپتال بنے گا، ایک مریم آپ کے سامنے کھڑی ہے اور میرے سامنے آپ سب مریم کھڑی ہیں۔