Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی،سوشل میڈیا پر تنقید،وزیراعظم کا نوٹس

    اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی،سوشل میڈیا پر تنقید،وزیراعظم کا نوٹس

    اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    شہریوں، ماحولیاتی کارکنوں اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں سبزہ ختم کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی دباؤ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اور فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے اس معاملے پر فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ درختوں کی کٹائی کس منصوبے کے تحت کی گئی، اس کی اجازت کس نے دی اور اس کے ذمہ دار افسران یا ادارے کون ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی سی ڈی اے کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ کا خود جائزہ لیں گے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو تفصیلی طور پر آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا ماحولیاتی قوانین، این او سیز اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اس پورے معاملے پر براہِ راست نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر درختوں کی کٹائی غیرقانونی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں درختوں کی کٹائی نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ شہریوں کی صحت، ہوا کے معیار اور موسمی اثرات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔

  • افغانستان میں انتہا پسند پالیسیاں، عدالتوں پر بھی افغان طالبان  رجیم کی اجارہ داری

    افغانستان میں انتہا پسند پالیسیاں، عدالتوں پر بھی افغان طالبان رجیم کی اجارہ داری

    افغان طالبان رجیم میں انصاف دفن، انسانی حقوق کی آزادیوں پر قدغنیں جاری ہیں

    افغان طالبان رجیم کی سخت گیر اور انتہا پسند پالیسیوں نے عوام کا جینا دو بھر کردیا،افغان جریدے آمو ٹی وی نے ایک بار پھر افغان طالبان کی انتہا پسند حکومت کےسیاہ چہرہ کا پردہ فاش کردیا ،آمو ٹی وی کے مطابق افغان طالبان رجیم نے حراست سے متعلق نیا جابرانہ حکم نامہ جاری کردیا ، افغان طالبان کے نئے فرمان کے تحت مشتبہ افراد کی حراست 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی گئی ،نئے قانون کے تحت قیدی افغان طالبان عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کے حق سے محروم ہیں،طالبان رجیم نے حراستی اختیارات مکمل طور پرافغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے سابقہ قوانین ختم، رہائی کا اختیار صرف افغان طالبان کی عدالتوں تک محدود ہو گئے،افغان طالبان رجیم کے جاری کردہ نئے حکم نامے کے بعد افغان شہری طویل حراست اور بلاجواز گرفتاریوں کے شدید خطرات سے دوچار ہوچکے ہیں

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان عدالتی فیصلے سے قبل رہائی پر پابندی بے گناہوں کو مہینوں قید رکھ سکتی ہیں،افغان طالبان رجیم کا نیا فرمان منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کو کھلے عام روند تا ہے ،اقوام متحدہ 2021 سے ابتک افغان طالبان رجیم کی جانب سےکی جانے والی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے،غاصب افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیاں افغانستان کو کھلی جیل میں تبدیل کر رہی ہیں،افغان طالبان رجیم کے فیصلے انسانی حقوق کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہے ہیں

  • پنجگور،اسلامک یونیورسٹی سے فارغ ساجد نامی دہشتگرد گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

    پنجگور،اسلامک یونیورسٹی سے فارغ ساجد نامی دہشتگرد گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

    پنجگور میں ایک آپریشن کے دوران بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک ساجد نامی دہشتگرد پکڑا گیا جس کا کور نام شاہ ویز ہے، یہ اسلامک یونیورٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے،اس کی گاڑی سے آر پی جی، 5 راکٹس، 2 ایم 16 رائفلز، 20 ہینڈ گرینیڈز کے علاوہ دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کرلیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزاز گورایہ کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد ساجد احمد اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے۔کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعرزاز گورایہ نے کہا کہ پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے اہم آپریشن کیا ہے، دہشتگرد ساجد پنجگور سے تربت کی طرف بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا، گرفتار دہشتگرد سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا، ایک دہشت گرد جہانزیب مہربان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو ریکی اور رقم فراہم کرنے میں شامل رہا ہے۔ جہانزیب نے ایک اور 18 سال کے لڑکے کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا تھا،ساجد احمد یونیورسٹی آف تربت میں پڑھاتا رہا ہے، ساجد کی بھابھی بھی بی وائی سی کی کارروائیوں میں ملوث تھی۔ مزید کارروائیوں میں دہشت گرد بیزل اور خاران کے رہائشی سرفراز کو بھی گرفتار کیا ہے۔

    اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ پورے صوبے میں پولیس کی عملداری موجود ہےانہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ادارے کی شاخیں بنائی جارہی ہیں، گزشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 730 انسداد دہشتگردی کے آپریشنز کیے گئے، پورے بلوچستان میں پولیس کی عملداری موجود ہے، گزشتہ 3 ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی ہوئی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بلوچستان حکومت نے نیا ادارہ قائم کیا۔

  • امریکا، چرچ کے باہر فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 6 زخمی

    امریکا، چرچ کے باہر فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 6 زخمی

    امریکی ریاست یوٹاہ کے دارالحکومت سالٹ لیک سٹی میں ایک چرچ کے باہر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 6 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویش ناک ہے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کے چیپل میں پیش آیا، جہاں ایک شخص کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریب کے دوران اچانک فائرنگ شروع ہوگئی جس سے وہاں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا،اطلاع ملتے ہی پولیس اور ہنگامی طبی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ چرچ اور اس کے اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے کر اپنی تحویل میں لے لیا گیا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس نفری تعینات کردی گئی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور فائرنگ میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ذمہ داروں کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

  • مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    ایم کیو ایم کے رہنما، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ الطاف حسین ہے، پاکستانی عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں، افتخار حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کیا گیا، افتخار حسین الطاف حسین کا ہی فون سنتا ہے

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کرمنل مائنڈ آدمی ہےجیسے مافیاز کام کرتے ہیں ویسے ہی الطاف حسین کام کرتا ہے جو الطاف کے سامنے سوال کرتا تھا وہ دنیا سے چلا گیا، عمران فاروق الطاف حسین سے لڑائی کرتے تھے، بات کرتے تھے، ایم کیو ایم کے اس وقت کے سب لوگوں‌کو پتہ ہے جب انکا قتل ہو وہ ناراض تھے سیکرٹریٹ نہیں آتے تھے، پہلے بھی کئی بار وہ ناراض ہو چکے تھے، الطاف حسین سے کوئی سوال کر لے تو وہ نظروں میں آ جاتا ہے وہ تو نظروں میں تھے،جب پارٹی میں کچھ نہیں تھا تب پانچ، چھ ،سات لوگوں میں یہ شامل تھے، غلط بات پر روکنا ٹوکنا ان کا حق تھا لیکن الطاف حسین ہوش میں ہوتے تو وہ مارنے کی ہدایت نہ دیتے وہ تو ہفتوں ،ہفتوں نشے میں رہتے، انکی رات کی کال خراب ہوتی تھی پھر شام کو پھر دن دو بجے کی بھی کال خراب ہونے لگی، ہم نے لندن میں ہفتوں‌گزارے،ٹی وی والوں کو کہتے تھے کہ الطاف کی کال نہ اٹھانا،پہلے ہم سے رابطہ کرنا، جو مارنے والی ٹیمیں تھیں ان کو کال کر دی گئی کہ تمہارے قائد کو تنگ کر رہا ہے تو اس کے بعد قتل ہو گیا،یہ میں نہیں کر رہا، میں الزام نہیں لگا رہا،لندن میں قتل ہوا ہے، لندن میں پاکستانی پولیس، پاکستانی عدالت نہیں ہے، وہاں ریاست ،نظام ہے،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے سارے کیس کو ٹریس آؤٹ کیا، قاتلوں‌کی تصویریں نکالیں، جو آرڈر دینے والے ہیں سب کو نکال لیا، قتل کرنے والے پکڑے گئے، قاتل جنہوں نے آرڈر دیا، مبارکباد دی، جس کو کال ریسیو ہوئی اس کا نام افتخار حسین ہے، الطاف کا کزن ہے اور الطاف کا فون وہی استعمال کرتے ہیں، ان کو مبارکباد دی گئی،افتخار حسین پاکستان آئے قاتلوں سے ملے ،پھر وہ لندن گئے تو انکو ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا،یہ میں نہیں کہہ رہا یہ میڈیا میں‌رپورٹ ہوا ہے،لندن میں پاکستان جیسی گرفتاری نہیں ہوتی،وہاں کسی کو گرفتار کرنے کے لئے شواہد جمع کر کے پہلے عدالت پیش ہونا پڑے گا، وارنٹ جاری ہوتے ہیں پھر گرفتاری ہوتی ہے، پولیس ویسے نہیں پکڑ سکتی،پولیس نے عدالت میں قتل کیس کے ثبوت دکھائے ہوں گے تو وارنٹ ملے ہوں گے،مارنے والے جب پاکستان پکڑے گئے تو برطانیہ نے کہا کہ ہمارے حوالے کریں یہ آ کر بیان دیں گے لیکن پاکستان اور برطانیہ میں قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے برطانیہ کے حوالہ نہیں کیا گیا،اسکے بعد برطانوی حکام پاکستان آئے اور یہاں کیس چلا، الطاف حسین کو قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا،پاکستان کی عدالت کو برطانیہ نے ثبوت دیئے،جس کے بعد یہ فیصلہ آیا، پاکستانی میڈیا نے سب نے اسکو نشر کیا،

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیس میں افتخار حسین کی گرفتاری ہوئی، تین لوگ جو یہاں پکڑے گئے تھے انکو پاکستان برطانیہ کے حوالے کر دیتا اور یہ قیدی بیان دیتے تو الطاف حسین ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو جاتے، یہاں کی عدالت نے الطاف کو مفرور قرار دیا ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال ہی ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم ہی مصطفیٰ کمال ہے، پی ایس پی ختم ہو چکی ہے، میں ایم کیو ایم کی سنٹرل کیبنٹ کا ممبر ہوں،چیئرمین کے بعد کسی کو عہدہ نہیں ملا، 11 لوگوں نے ملکر چیئرمین بنایا،یہ سوال کہاں سے آ رہا کہ ایم کیو ایم کوئی اور ہے مصطفیٰ کمال کوئی اور ہے،ایم کیو ایم مرکزسے پریس کانفرنس کا دعوت نامہ جاری ہوتا ہے اور پریس کانفرنس ہوتی ہے.

  • امریکہ کا  درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا اعلان

    امریکہ کا درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم سرکاری یادداشت (میمورنڈم) جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ان بین الاقوامی تنظیموں، فورمز، کنونشنز اور اقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں سے دستبردار ہو جائے گا جو امریکی قومی مفادات کے خلاف سمجھے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ وزیرِ خارجہ کی جانب سے کی گئی جامع جانچ پڑتال اور کابینہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

    صدر کی جانب سے جاری یادداشت کے مطابق، 4 فروری 2025 کو جاری ہونے والے ایگزیکٹو آرڈر 14199 کے تحت وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان تمام بین الاقوامی بین الحکومتی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کا تفصیلی جائزہ لیں جن میں امریکہ رکن ہے یا جنہیں کسی بھی نوعیت کی مالی یا انتظامی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ کون سی تنظیمیں اور معاہدے امریکہ کے مفادات سے متصادم ہیں۔یادداشت میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ نے اپنی رپورٹ صدر کو پیش کر دی، جس پر صدر نے کابینہ کے ارکان سے تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ بعض تنظیموں میں امریکہ کی رکنیت برقرار رکھنا یا ان کی مالی معاونت جاری رکھنا قومی مفادات کے خلاف ہے۔ اسی بنیاد پر صدر نے فوری طور پر دستبرداری کے اقدامات کی ہدایت جاری کی۔

    صدر ٹرمپ نے تمام ایگزیکٹو محکموں اور وفاقی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد ان تنظیموں سے امریکہ کی دستبرداری کے عملی اقدامات مکمل کریں۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی اجازت کی حد تک ان اداروں میں شرکت اور فنڈنگ بند کر دی جائے گی۔

    فیصلے کے تحت امریکہ متعدد غیر اقوامِ متحدہ تنظیموں سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، توانائی، جمہوریت، سائبر سیکیورٹی، ہجرت، معدنیات، ثقافت اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی ادارے شامل ہیں۔ ان میں انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (IPCC)، انٹرنیشنل رینیوبل انرجی ایجنسی، انٹرنیشنل سولر الائنس، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اور فریڈم آن لائن کولیشن جیسے نمایاں فورمز بھی شامل ہیں۔
    یادداشت کے مطابق امریکہ اقوامِ متحدہ کے درجنوں ذیلی اداروں اور پروگرامز سے بھی دستبردار ہوگا، جن میں اقوامِ متحدہ کا محکمہ برائے معاشی و سماجی امور، اقوامِ متحدہ کا جمہوریت فنڈ، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ادارہ (UN Women)، اقوامِ متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی، اقوامِ متحدہ کا آبادی فنڈ اور اقوامِ متحدہ یونیورسٹی شامل ہیں۔

    یادداشت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، معاشی مفادات اور داخلی ترجیحات کو اولین حیثیت دیتا رہے گا۔ صدر کا کہنا ہے کہ جن عالمی اداروں کی سرگرمیاں یا پالیسیاں امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں، ان میں شمولیت یا فنڈنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے کسی بھی وفاقی ادارے کے قانونی اختیارات متاثر نہیں ہوں گے اور اس پر عمل درآمد امریکی قوانین اور دستیاب بجٹ کے مطابق کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس یادداشت سے کسی فرد یا ادارے کو امریکہ کے خلاف قانونی حق حاصل نہیں ہوگا۔صدر نے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ اس یادداشت کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا جائے تاکہ یہ فیصلہ باضابطہ طور پر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکے۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    عدالت نے ایمان مزاری کی ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی

    ایمان مزاری کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطورِ پراسیکیوشن گواہ طلب کرنے کی کوشش خالصتاً ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد عدالت کے فورم کو انصاف کے تقاضوں کے بجائے ادارہ جاتی تنازع اور میڈیا بیانیے میں بدلنا تھا۔ قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ملزم کو پراسیکیوشن کے گواہوں کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اس کے باوجود ایک اعلیٰ آئینی عہدے کو بلاجواز گھسیٹنا عدالتی عمل کی سنگینی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    عدالت کے سامنے ایمان مزاری اور ان کے معاونین اس بنیادی سوال کا کوئی قانونی جواب پیش نہ کر سکے کہ وہ کس شق کے تحت ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن گواہ بنوانا چاہتے ہیں۔ یہ خاموشی خود اس درخواست کے کھوکھلے پن کا ثبوت بن گئی۔ جج نے واضح اور غیر مبہم انداز میں یہ اصول دہرایا کہ عدالتیں افراد یا عہدوں سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ صرف قانونی نکات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ محض کسی ادارے یا عہدے کا نام لے لینا اسے مقدمے کا لازمی فریق نہیں بنا دیتا۔قانون اس حوالے سے بالکل دو ٹوک ہے کہ پراسیکیوشن کے گواہوں کا تعین ریاست کا اختیار ہوتا ہے، نہ کہ ملزم کا۔ ایمان مزاری اس بنیادی نکتے کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس مقدمے یا ان مبینہ ٹوئٹس اور بیانات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے جن کی بنیاد پر کیس قائم کیا گیا۔ محض کسی اعلیٰ آئینی عہدے کا نام شامل کر دینا کسی بھی درخواست کو قانونی وزن فراہم نہیں کرتا، اور یہی نکتہ اس کیس میں سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا۔

  • جعلی پولیس مقابلہ، ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا

    جعلی پولیس مقابلہ، ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا

    عدالت نے جعلی پولیس مقابلے کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح پیغام دے دیا ہے۔ سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت جعلی پولیس مقابلہ کیس میں جرم ثابت ہونے پر بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او سمیت 10 پولیس اہلکاروں کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی گئیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او کو 7 سال قید کے ساتھ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جبکہ مقدمے میں نامزد ایک اے ایس آئی پر 7 سال قید کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی کیس میں شامل دیگر 8 پولیس اہلکاروں کو بھی 7،7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ جعلی پولیس مقابلہ سنگین جرم ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد ایس ایچ او سمیت تمام سزا یافتہ پولیس اہلکار عدالت سے فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ مقدمہ سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ایک شہری کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا۔ مقتول کی والدہ کی مدعیت میں بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سخت سزا سنائی، جسے انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کا دہشتگردی پر من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت حقائق کو نہیں چھپا سکتا، بھارت خطے میں امن کا مسلسل خلل ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے، بھارت نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی کے ارکان قید ہیں، سینئر کشمیری رہنما شبیر شاہ کئی برسوں سے طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں، خاتون کشمیری رہنما آسیہ اندرابی بھی طویل عرصے سے بھارتی حراست میں ہیں، دیگر کشمیری سیاسی رہنما بھی دہائیوں پر محیط قید و بند کی سزا کاٹ رہے ہیں، یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں سزا سنائی گئی، کشمیری صحافی عرفان مجید بھارتی حکام کی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی پاکستان نے مخالفت کی ہے، ایران پر پابندیوں کی پاکستان نے ماضی میں مخالفت کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیا گیا، ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے، سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں،کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی، پاک سعودی دفاعی تعاون جاری ہے جو دوطرفہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے، سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں

  • چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش،قائمہ کمیٹی کااظہار تشویش

    چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش،قائمہ کمیٹی کااظہار تشویش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایوان بالا کی جانب سے بھیجے گئے عوامی اہمیت کے ایک نکتے کے تحت کوئٹہ کے لیے پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے معاملے پر غور کیا گیا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے چترال سے آنے جانے والی پروازوں کی آپریشنل صورتحال پر بریفنگ لی۔ اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر عطا الحق نے شرکت کی۔قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کا خیرمقدم کیا اور قومی فضائی ادارے میں خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور نجی شعبے کے ذریعے آپریشنل مینجمنٹ کے اقدامات کو سراہا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اس امر پر زور دیا کہ حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا اور نجکاری کے نتیجے میں وہ بڑے عوامی وسائل بچیں گے جو ماضی میں بیل آؤٹ پیکجز پر خرچ کیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب پی آئی اے کو پیشہ ور ماہرین مؤثر انداز میں چلائیں گے اور ادارہ اپنی سابقہ ساکھ بحال کرے گا۔

    کمیٹی نے چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ معطلی طیاروں کی کمی کے باعث ہوئی ہے کیونکہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے آپریشنل ہیں۔ تاہم کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نجکاری اور مالی وسائل کی فراہمی کے بعد وزارت کی اولین ترجیح گراؤنڈڈ طیاروں بشمول اے ٹی آر طیاروں کی مرمت ہے تاکہ چترال روٹ پر سروس بحال کی جا سکے۔ سیکرٹری دفاع نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اس روٹ کی بحالی کے لیے کنسورشیم کو سفارشات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ چترال اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ گرین ٹورازم اقدام اور وزارتِ دفاع کے درمیان تعاون فضائی سفر کو بڑھانے اور روٹس کی افادیت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو زیر غور منصوبوں سے بھی آگاہ کیا جن کے تحت چارٹرڈ ہیلی کاپٹر سروسز متعارف کرانے اور چترال کی پروازوں کو چارٹرڈ آپریشنز کے ساتھ منسلک کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے چترال کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھانے اور ہفتہ وار ایک سے دو پروازیں شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض روٹس اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں محض منافع کے پیمانے پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔

    قائمہ کمیٹی نے کوئٹہ کے لیے پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا۔ اراکین کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور وزارتِ دفاع پر زور دیا کہ کرایوں کی حد مقرر کرنے کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے کیونکہ بلوچستان کے رہائشیوں کو حد سے زیادہ کرایوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عام طور پر ہوائی کرایوں کا تعین طلب اور رسد کی ضروریات کے تحت ہوتا ہے۔ تاہم کمیٹی کی سفارش پر سیکرٹری دفاع نے یقین دہانی کرائی کہ کرایوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے کیپنگ میکانزم وضع کیا جائے گا۔ کمیٹی نے موجودہ ایئرپورٹ پروٹوکول سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی اور اس میں بہتری پر زور دیا۔ متعلقہ حکام نے علیحدہ کاؤنٹرز کے قیام اور پروٹوکول میکانزم کی مزید بہتری کی یقین دہانی کرائی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ہدایت کی کہ کوئٹہ کے لیے زائد کرایوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایئرلائن معاہدوں میں مناسب سہولت کار شقیں شامل کی جائیں تاکہ بلوچستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    مزید برآں قائمہ کمیٹی نے ایئرپورٹ پاسز کی مدتِ معیاد اور ایئرپورٹس پر بیت الخلاء کی خراب حالت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ ایئرپورٹ سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی کابینہ نے حال ہی میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایئرپورٹس پر ایئرپورٹ سروسز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ مسافروں کو درپیش مشکلات میں کمی کے لیے ایئرپورٹ پاسز کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کی جائے۔چیئرمین و اراکین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی عوامی سہولیات اور تعمیری اقدامات کے لیے پُرعزم ہے۔

    قائمہ کمیٹی کو پاکستان۔افغانستان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے مابین حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے پر اِن کیمرہ بریفنگ بھی دی گئی۔قائمہ کمیٹی نے کامیابیوں کو سراہا اور دفاعی معاہدے کی تعریف کی۔ اراکین کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ وفاقی وزیر برائے دفاع باقاعدگی سے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کریں۔