Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے   ملک گیر احتجاج

    بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے ملک گیر احتجاج

    مرکزی مسلم لیگ، مسلم ویمن لیگ اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام بھارتی بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اسلام آباد،کراچی،پشاور، قصور ،ملتان، وہاڑی، راولپنڈی،بہاولپور ،پاکپتن،ننکانہ صاحب،حیدرآباد،ایبٹ آباد،ہری پور،مردان،راجن پور،ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں خواتین سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے،شرکا نے بھارت کو دہشتگرد اسٹیٹ قرار دینے کا مطالبہ کیا اور کہا خاتون کا نقاب کھینچنا دہشتگردی ہے،بھارت میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے،

    مسلم ویمن لیگ،سول سوسائٹی کے زیر اہتمام بھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران شرکا نے بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انڈیا پردے کی توہین بند کرو،خواتین کو تحفظ دو، سمیت دیگر تحریریں درج تھیں،شرکا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اوربھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے، اسلام آباد میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بھارت میں مسلم خاتون کا نقاب کھینچے جانے کے واقعہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے مسلم خاتون کا نقاب نوچنے کے خلاف سول سوسائٹی و مسلم ویمن لیگ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرہ میں شہر بھر سے خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی،وہاڑی میں مذمتی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ممبر صوبائی اسمبلی میاں ثاقب خورشید نے کی ،ریلی میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر ایم پی اے میاں ثاقب خورشید نے کہا کہ خاتون کا حجاب کھینچنا اس کے وقار اور مذہبی شناخت پر براہ راست حملہ ہے، حجاب و نقاب پر حملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے خاتون کے ساتھ بدسلوکی عالمی ضمیر کے لیے چیلنج ہے ، سیکولر سٹیٹ کہلانے والے ہندوستان نےبے حیائی کا مظاہرہ کیا ہے کوئی بھی مذہب ایسی حرکت کو پسند نہیں کرتا،سی او بلدیہ راؤ نعیم خالد ،صدر انجمن تاجران طاہر شریف گجر ،جنرل سیکرٹری انجمن تاجران راؤ خلیل احمد ،ایم این اے تہمینہ دولتانہ کے نمائندے ناصر دولتانہ،شیخ عبدالطیف،رانا محمد شفیق،چوہدری سعید اختر، شاہد سنی گجر،ریاض مسیح سمیت دیگر نے کہا کہ بھارتی صوبہ بہار کے وزیراعلیٰ نے جو گھٹیا اقدام کیا ہے اس کی اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔مرکزی مسلم لیگ پشاور اور سول سوسائٹی پشاور کے زیرِ اہتمام فوارہ چوک تا پریس کلب پشاور احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا،پریس کلب پشاور کے سامنے مظاہرے سے سول سوسائٹی کے سرپرست پیر عطاء اللہ درانی،صدر سول سوسائٹی پشاور نوید شہزاد، مرکزی مسلم لیگ کے پی کے صدر دعوتِ اصلاح ابو عکاشہ منظور،سینئر نائب صدر پشاور سمیع اللہ نے خطاب کیا ،مقررین نے کہا کہ مسلم خواتین کے مذہبی تشخص پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔نقاب عزت، شناخت اور مذہبی آزادی کی علامت ہے، اس کی توہین دراصل پوری انسانیت کی توہین ہے۔ مرکزی مسلم لیگ قصور کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔ احتجاج کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ رانا محمد اشفاق نے کی، رانا محمد اشفاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار کو اس عمل کی سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کرنے کی کوئی جرات نہ کرے،بہاولپور کے ون یونٹ چوک پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت مرکزی مسلم لیگ کے رہنما رانا سیف اللہ نے کی۔ مظاہرے میں کارکنان، طلبہ، خواتین، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پاکپتن میں مرکزی مسلم لیگ، انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے زیرِاہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں مذہبی، سماجی، تاجر رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین ننکانہ صاحب کی طرف سے خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،راولپنڈی میں مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام پریس کلب مری روڈ کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے کی قیادت عبدالرحمٰن، محمد مظہر قادر، عرفان احمد، احسان اللہ اور مبین احمد نے کی، مظاہرے کے دوران عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیں اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمان خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،مرکزی مسلم لیگ ایبٹ آباد کے زیرِ اہتمام مسلم خواتین کا نقاب کھینچنے کے واقعے کے خلاف ایبٹ آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مرکزی مسلم لیگ ملتان کے زیر اہتمام بھارت میں بہار کے وزیر اعلیٰ کا مسلم خاتون کا نقاب کھینچے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مرکزی مسلم لیگ ضلع رحیم یار خان کے جنرل سیکرٹری نوید قمر نے بھی رحیم یارخان میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا،

  • قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مواصلات علیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جو سخت جملوں اور ذاتی نوعیت کے الزامات تک جا پہنچی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر علیم خان نے کہا کہ سینیٹ میں ان پر ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے اور وہ اس سوال کو اپنی ذاتی تذلیل سمجھتے ہیں، جس پر سینیٹر پلوشہ خان نے جواب دیا کہ سوال کرنا الزام لگانا نہیں ہوتا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ اس سوال کو اتنا ذاتی نوعیت کا کیوں سمجھ رہے ہیں؟ اس دوران سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ سوال کرنے پر وفاقی وزیر سیخ پا ہیں، جبکہ وفاقی وزیر نے جواباً کہا کہ دنیا جہاں کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہوگئے ہیں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ آپ سوال کرنے پر اس لیے سیخ پا ہیں کیونکہ آپ گلٹی ہیں، جس پر وفاقی وزیر نے سخت لہجے میں کہا کہ میں تمہارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں اور یہ بھی کہا کہ مجھ سے ایسے بات کرنے کی تمہاری جرأت کیسے ہوئی۔

    سینیٹر پلوشہ خان نے بھی جواب میں کہا تمھاری جرات کیسے ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کو شٹ اپ کالز بھی دیں،پلوشہ خان نے چیئرمین کمیٹی پرویز رشید سے وفاقی وزیر کے رویے پر رولنگ دینے اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر میری ذات پر بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے سیکرٹری مواصلات اپنی نشست سے اٹھ کر سینیٹر پلوشہ خان کو منانے آئے، جبکہ دیگر کمیٹی ممبران نے بھی مداخلت کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کو خاموش کرا کے اجلاس کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

    ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی،اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاو کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔

  • ڈی آئی خان،دہشتگردوں کا ناکہ،فوجی افسر کے نہ رکنے پر فائرنگ

    ڈی آئی خان،دہشتگردوں کا ناکہ،فوجی افسر کے نہ رکنے پر فائرنگ

    ڈیرہ اسماعیل خان،این ۔50 شاہراہ پر تحصیل درابن کے علاقے میں دہشت گردوں کی جانب سے فوجی افسر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں افسر زخمی ہو گئے۔

    واقعہ گاؤں نیو گڑہ خان کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ایک فوجی افسر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔سیاہ ویگو گاڑی میں سوار فوجی افسر کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب سفر کر رہے تھے کہ راستے میں دہشت گردوں نے سڑک پر عارضی چیک پوسٹ،رکاوٹ قائم کر کے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ گاڑی نہ روکنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود فوجی افسر زخمی ہو گئے۔زخمی ہونے والے افسر کی شناخت میجر مشتاق مروت کے نام سے ہوئی ہے، جو ای ایم ای کوئٹہ میں تعینات ہیں۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ زخمی افسر کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

  • بنگلہ دیشی طالب علم رہنما عثمان ہادی کی ٹارگٹ کلنگ،احتجاج جاری،بھارت مخالف نعرے

    بنگلہ دیشی طالب علم رہنما عثمان ہادی کی ٹارگٹ کلنگ،احتجاج جاری،بھارت مخالف نعرے

    بنگلہ دیشی طالب علم لیڈر، شریف عثمان ہادی کے لئے جمعہ کی نماز کے بعد دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا

    اس موقع پر ڈھاکہ میں سخت سیکیورٹی اقدامات کئے گئے تھے کرفیو جیسے مناظر اور مسلسل احتجاج دیکھنے کا ملا،شاہ باغ پر مظاہرین نے مسلسل قبضہ رکھا اور بھارت مخالف نعرے لگائے،مظاہرین نے قاتلوں کو بھارت سے واپس لانے کا مطالبہ کیا، چیف ایڈوائزر یونس نے ہفتہ کو قومی سوگ کا دن قرار دے دیا، ہادی کی لاش آج شام 6 بجے ڈھاکہ پہنچے گی، ملک بھر میں خاص دعائیں جاری ہیں،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہادی کو بھارت کی غلامی کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا دی گئی، قاتل بھارت میں چھپے ہیں،مظاہرین نے انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کیا.

    بنگلہ دیش میں نوجوان رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے درمیان، مظاہرین بیناپول کے قریب بھارت کے خلاف ’بارڈر تک لانگ مارچ‘ کر رہے ہیں،ٰعثمان ہادی گذشتہ ہفتے فائرنگ کے نیتجے میں زخمی ہوئے تھے، جمعرات کو ان کی موت کی خبر کے بعد احتجاج جلد ہی شدت اختیار کر گیا۔بھارت اور مودی کے خلاف سرحد بیناپول پر بنگلہ دیشی نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل اور قاتل کےبھارت میں ہونے کے بعد حسینہ واجد کے خلاف نفرت مکمل طور پر بھارت کے خلاف نفرت میں بدل گئی ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارتی مداخلت مسترد کر دی اور خودمختاری کی خلاف ورزی برداشت نہ کرنے کی وارننگ دی۔

  • 9مئی کیس،شاہ محمودقریشی بری،یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ کو سزا

    9مئی کیس،شاہ محمودقریشی بری،یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ کو سزا

    انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کردیا۔

    عدالت نے 9 مئی کو کلب چوک جی او آر کے گیٹ پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو بری کرنے کا حکم دیا۔ اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کیس کا فیصلہ سنایا۔

    اس کے علاوہ انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی،کیس میں دوران ٹرائل ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 21 ملزمان کے حتمی بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے 56 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا،دوران ٹرائل چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا، عدالت نے شاہ محمود قریشی سمیت مجموعی طور پر 13 ملزمان کو بری کر دیا جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 8 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائیں،عدالت نے اشتہاری قرار دیے گئے 4 ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔ اشتہاری قرار پانے والوں میں فاروق انجم، حبیب احمد، ارسلان اور اکبر خان شامل ہیں۔مقدمہ کے 25 ملزموں کا چالان عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔

    تھانہ ریس کورس نے کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملہ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے کلب چوک جی او آر گیٹ کے سیکیورٹی کیمرے توڑے، ملزمان نے پولیس کی وائر لیس اور جی او آر گیٹ کے شیشے بھی توڑے۔ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہکاروں پر حملہ کیا،پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو 9 مئی بغاوت اور فسادات پر اکسانے کا الزام ہے.

  • سمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آنا قابل ستائش ہے، وزیراعظم

    سمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آنا قابل ستائش ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی کارکردگی کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کو ایف بی آر کے انسداد سمگلنگ اقدامات کی پیشرفت اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے انسداد سمگلنگ کی کامیاب کارروائیوں پر ایف بی آر کی پزیرائی کی اور کہا کہ ہر سال قوم کا اربوں روپے کا قیمتی سرمایہ سمگلنگ کی نذر ہوتا ہے، پاکستان کسٹمز کی کامیاب کارروائیوں سے سمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آنا قابل ستائش ہے، سمگلنگ کی روک تھام سے متعدد اشیاء اب قانونی طور پر درآمد ہو کر معیشت کا باضابطہ حصہ بن رہی ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف نےٹیکس چوری کے خلاف اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ٹیکس چوری اور سمگلنگ کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف قانونی کارروائیوں میں ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی،اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیاکہ سمگلنگ کی روک تھام کے لیے پورے ملک میں کسٹمز کا مربوط نظام نافذ ہے، راہگزر ایپ کے ذریعے پورے ملک میں پیٹرول پمپس کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے اور غیر قانونی پمپس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے،ضلعی انتظامیہ کو نئے پیٹرولیم ایکٹ کے تحت غیر قانونی مشینری ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی دروان نقل و حمل جی پی ایس ٹریکنگ کے لیے نظام نافذ العمل ہو چکا ہے، جولائی سے نومبر 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ روکنے کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں محصولات میں 82 فیصد اضافہ ہوا ہے، گزشتہ پانچ ماہ میں سگریٹ، ٹائرز، کپڑے، الیکٹرانکس اور متعدد دیگر مصنوعات کی غیر قانون سمگلنگ کے خلاف اقدامات کے نتیجے میں محصولات میں اضافہ ہوا ہے،اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • بھارت آبی دہشتگردی سے باز نہ آیا،دریائے جہلم،نیلم کا پانی روک لیا

    بھارت آبی دہشتگردی سے باز نہ آیا،دریائے جہلم،نیلم کا پانی روک لیا

    بھارت نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیرے ہوئے چناب کے بعد دریائے جہلم اور دریائے نیلم کا پانی بھی روک لیا۔

    ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور دریائے نیلم میں پانی کی آمد کم ہوکر صرف 3 ہزار کیوسک رہ گئی، چار روز پہلے پانی کی آمد 5 ہزار کیوسک سے زائد تھی،ذرائع کے مطابق دریاوں کا پانی روکنا سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے، دریائے چناب اور دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ تاریخ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے،ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا بتانا ہے کہ چناب میں چار روز پہلے پانی 10 ہزار کیوسک تھا جو اب 5 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا اخراج صفر رہ گیا ہے۔

    آبی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے باعث دریائے چناب سے قادرآباد خانکی بیراج سے نکلنے والی نہروں کو پانی نہیں ملےگا، بھارت کےپانی روکنے سے پنجاب کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہونےکا خدشہ ہے، انڈس واٹر کمیشن بھارت کے اس اقدام کے خلاف عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرے۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اسپیشل ماہرین کی ٹیم نے بھی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بھارتی اقداما کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کے چارٹر کی نفی قرار دیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ سے کہیں اور شفٹ کردیں،گورنر خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ پنجاب بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ سے کہیں اور شفٹ کردیں،گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسلام آباد یا پشاور بند کرنے سے بانی پی ٹی آئی کی سزا ختم نہیں ہوگی۔ اڈیالہ جیل کے قیدی اپنی سزا بھگت کر ہی رِہا ہوں گے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اڈیالہ جیل میں وی وی آئی پی قیدی ہیں، نہیں چاہتا بانی پی ٹی آئی کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ان کی خواہش تھی،خیبر پختونخوا میں گورننس کے مسائل موجود ہیں، وزیراعلیٰ کو اڈیالہ کے باہر بیٹھنے کے بجائے اپنے صوبے میں بیٹھنا چاہیے،بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے اڈیالہ کے دیگر قیدیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ سے کہیں اور شفٹ کردیں،ہم چاہتے ہیں کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بات اچھی ہے، آج پی ٹی آئی امپورٹڈ اپوزیشن لانا چاہتی ہے، پی ٹی آئی والے بتائیں مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں وہ کیا کہتے تھے.

  • عثمان ہادی کے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بنگلہ دیش میں احتجاج جاری

    عثمان ہادی کے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بنگلہ دیش میں احتجاج جاری

    سیاسی کارکن عثمان ہادی کے ٹارگٹ کلنگ کے بعد ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے شدید احتجاج جاری ہے

    بنگلہ دیش میں عوام بالخصوص نوجوان ایک بار پھر بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ،احتجا ج سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ بنگلہ دیشی عوام اب بھارتی مداخلت کے خلاف کھل کر مزاحمت کر رہے ہیں، بنگلہ دیش میں مظاہرین کا مؤقف ہے کہ؛”بھارت گزشتہ پانچ دہائیوں سے بنگلہ دیش کے سیاسی، ادارہ جاتی اور نظریاتی معاملات پر اثر انداز ہو رہا ہے جسے اب قبول نہیں کیا جائے گا ” عثمان ہادی کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت ہے، عثمان ہادی کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے ، جسے کوئی بھی خود مختار ملک قبول نہیں کر سکتا ، عثمان ہادی حسینہ واجد کے حکومت سے بے دخل ہونے کے بعد بھارت مخالف مظاہروں میں پیش پیش تھے،

    مظاہرین نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت میں موجود اور عثمان ہادی کے قتل سمیت متعدد سیاسی اقدامات کی ذمہ دار ہیں،مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حسینہ واجد کو بھارت سے واپس لا کر بنگلہ دیش کے عدالتی نظام کے تحت جوابدہ بنایا جائے،احتجاج کرنے والے حلقوں نے اس تاثر کو بھی سختی سے مسترد کیا ہے کہ یہ مظاہرے کسی مخصوص مذہبی یا انتہاپسند رجحان کی عکاسی کرتے ہیں،

    بنگلہ دیش کی موجودہ عوامی احتجاجی فضا گواہی دے رہی ہے کہ؛ دو قومی نظریہ محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ شناخت، خودمختاری اور آزادانہ قومی فیصلے کی ایک زندہ علامت ہے، جسے بیرونی طاقت کے ذریعے مٹایا نہیں جا سکتا،سیاسی مبصرین کے مطابق "خطہ میں بھارت کی بالادستی پر مبنی سوچ نے عدم استحکام کو جنم دیا ہے”بنگلہ دیش میں بھارت مخالف مظاہرے 1971 میں بھارتی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے دو قومی نظریے کو خلیجِ بنگال میں غرق کرنے کے دعوے کی سریحا نفی ہے ، عوامی ردِعمل ایک وسیع البنیاد قومی جذبے کا اظہار ہے، جس میں نوجوان اور مختلف طبقۂ فکر بھارتی بالادستی اور سیاسی سرپرستی کے خلاف یک زبان ہیں، بنگلہ دیش میں جاری احتجاج جنوبی ایشیا کے لیے یہ پیغام واضح ہے کہ ” پائیدار امن اور استحکام صرف باہمی احترام، عدم مداخلت اور مساوی شراکت داری سے ہی ممکن ہے”سیاسی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش کی یہ تحریک صرف ایک قتل کے خلاف نہیں بلکہ بھارت کی طویل بالادستانہ پالیسیوں کے خلاف عوامی ردِعمل ہے،یہ ایک نظریے کی آواز ہے جو بھارتی آلۂ کار شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی بیٹی کے ذریعے مسلط کی گئی نسلی سوچ کے خلاف بول رہی ہے، پاکستان کو بھی خطے میں ایک ذمہ دار اور استحکام کے داعی ملک کے طور پر بنگلہ دیش کی خودمختاری، پرامن جدوجہد اور عوامی امنگوں کی حمایت کو اجاگر کرنا چاہیے،

  • وزیراعلی خیبرپختونخوا کے منشیات فروشوں سے روابط کے اہم شواہد سامنے آگئے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا کے منشیات فروشوں سے روابط کے اہم شواہد سامنے آگئے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے منشیات فروشوں سے روابط کے اہم شواہد سامنے آگئے

    16 دسمبر 2025 کو وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے سینٹرل جیل پشاور کا دورہ کیا،دورہ سیکیورٹی سسٹم کے افتتاح کے نام پر کیا گیا، اصل مقاصد مختلف نکلے۔ جیل دورے کی منصوبہ بندی سی ایم کے قریبی ساتھیوں نے کی، ذرائع کے مطابق وزیراعلی کے فرنٹ مین ہادی آفریدی اور خرم خان دورے کے مرکزی کردارہیں،خرم خان جیلوں کو سامان سپلائی کرنے والی “سیونتھ سیز” کمپنی کے شیئر ہولڈر نکلے، کمپنی پر نیلامی کے عمل میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات ہیں،خرم خان 9 مئی کے قیدیوں کو موبائل فون فراہم کرنے میں بھی ملوث رہے،پشاور جیل میں بدنام منشیات فروش صدیق اور عبدالخالق آفریدی قید ہیں ،یہ دونوں منشیات فروش سہیل آفریدی کے بڑے الیکشن فنانسر رہے ہیں،صدیق آفریدی نے انتخابی مہم پر مبینہ طور پر 5 کروڑ خرچ کیے، وزیرِ اعلیٰ کے بھائی عامر آفریدی نے قیدی عبدالخالق کے لیے جیل حکام پر دباؤڈالا،

    سہیل آفریدی نے 9 مئی کے قیدیوں سے ملاقات کا مطالبہ کیا،ملاقات میں صدیق اور عبدالخالق آفریدی کو بھی شامل کیا گیا،دونوں مجرمان افتتاحی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ موجودتھے،وزیرِ اعلیٰ نے صدیق اور عبدالخالق کی پیرول پر رہائی کا مطالبہ کیا،افتتاحی تقریب سابق وزیرِ اعلیٰ کے دور کے میں کئے جا چکے تھے،جیل حکام نے دورے کی کوئی سفارش نہیں کی تھی۔