Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کرینہ کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں عدم تحفظ اور حسد کا سامنا رہا،سیف

    کرینہ کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں عدم تحفظ اور حسد کا سامنا رہا،سیف

    بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم اور کھلا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اہلیہ کرینہ کپور کے ساتھ تعلقات کے ابتدائی دنوں میں وہ عدم تحفظ اور حسد جیسے جذبات کا شکار رہے۔

    سیف علی خان کا کہنا تھا کہ اس دور میں ان کے لیے اس صورتحال کو سمجھنا آسان نہیں تھا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ کرینہ کپور اُس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں۔سیف علی خان نے بتایا کہ کرینہ کپور کے ساتھ ڈیٹنگ ان کے لیے ایک بالکل نیا اور مختلف تجربہ تھا۔ ماضی کے تعلقات کے برعکس کرینہ نہ صرف بالی وڈ کی سب سے بڑی اسٹارز میں شمار ہوتی تھیں بلکہ وہ مسلسل فلموں میں مصروف رہتی تھیں، جہاں انہیں مختلف اداکاروں کے ساتھ کام کرنا پڑتا تھا۔ کامیابی، شہرت اور عوامی توجہ کا یہ دباؤ سیف کے لیے ابتدا میں خاصا مشکل ثابت ہوا۔

    اداکار نے اعتراف کیا کہ جب کرینہ دوسرے مرد اداکاروں کے ساتھ فلموں میں کام کرتی تھیں تو وہ اندرونی طور پر حسد اور عدم تحفظ محسوس کرتے تھے۔ سیف علی خان کے مطابق، اُس وقت یہ جذبات ان کے لیے الجھن کا باعث بنے رہے کیونکہ وہ اس قسم کے تعلقات کے عادی نہیں تھے، جہاں ان کی ساتھی زندگی کے ہر پہلو میں اس قدر نمایاں اور عوامی شخصیت ہو۔سیف علی خان نے انکشاف کیا کہ ایک موقع پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اس صورتحال کو اس طرح دیکھیں جیسے وہ خود کسی ہیرو کو ڈیٹ کر رہے ہوں۔ ان کے بقول، یہ جملہ ان کے ذہن میں نقش ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے ساتھ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ فلمی دنیا میں کام کے دوران حریف اداکار بھی دراصل دوست بن جاتے ہیں، اور یہ ایک پیشہ ورانہ تقاضا ہے۔

    انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں سیف علی خان نے مزید کہا کہ اُس وقت ان تمام جذبات سے نمٹنے کے لیے پختگی، اعتماد اور وقت کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق، یہ تمام خوبیاں صرف سچی وابستگی، باہمی سمجھ بوجھ اور مضبوط رشتے کے ذریعے ہی پروان چڑھتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ کرینہ کپور اور سیف علی خان نے 2012 میں شادی کی تھی۔ آج یہ جوڑا بالی وڈ کے مقبول ترین اور مضبوط رشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں، جن میں بڑے بیٹے تیمور علی خان اور چھوٹے بیٹے جہانگیر علی خان شامل ہیں۔

  • اڈیالہ دھرنا،علیمہ خان سمیت 400 ملزمان پر مقدمہ درج

    اڈیالہ دھرنا،علیمہ خان سمیت 400 ملزمان پر مقدمہ درج

    اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت 400 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    مقدمہ تھانہ صدر بیرونی نے انسداد دہشتگری ایکٹ کی دفعات کے تحت 35 نامزد ملزمان سمیت 400 افراد کےخلاف درج کیا گیا،مقدمے میں علیمہ خان، نورین نیازی، قاسم خان، سلمان اکرم راجہ اور عالیہ حمزہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے جبکہ نعیم حیدر پنجوتھہ، تابش فاروق، طیبہ راجا، نادیہ خٹک، ہارون، راجا اسد عباس، ظفر گوندل، شفقت عباس اور علامہ راجہ ناصر عباس کو بھی نامزد کیا گیا ہے،مقدمے میں ریاست پر حملے کی مجرمانہ سازش کی منصوبہ بندی کی دفعہ 120 بھی شامل کی گئی ہے۔

    مقدمے کے متن کے مطابق14 ملزمان کو گزشتہ رات موقع سے گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان کو انسداد دہشتگری عدالت میں پیش کر دیا گیا، ملزمان پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور پولیس پر حملوں کا بھی الزام ہے،متن کے مطابق ملزمان نے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگائے، سڑک بلاک کی، ملزمان کارکنان کو اشتعال دلاتے رہے، ملزمان کے احتجاج سے مقامی آبادی کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا،پولیس کی جانب سے منع کرنے کے باوجود ملزمان کار سرکار میں مداخلت کرتے رہے، ملزمان نے پولیس پر پتھراؤ کیا، کانچ کی بوتلیں پھینکیں اور پولیس سے مزاحمت کے دوران اہلکاروں کی وردیاں بھی پھٹ گئیں،

  • سپریم جوڈیشل کونسل،جسٹس طارق جہانگیری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت دائر کردی

    سپریم جوڈیشل کونسل،جسٹس طارق جہانگیری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت دائر کردی

    جسٹس جہانگیری ڈگری کیس میں نیا موڑ،جسٹس طارق جہانگیری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کر لیا

    جسٹس طارق جہانگیری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت دائر کردی،کہا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے زیر التوا کیس پر مجھ سے بات کی،چیف جسٹس نے کیس کی جلد سماعت کا دباو تسلیم کیا، چیف جسٹس کیس پر بات کر کے مس کندکٹ کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملاقات کیلئے بلایا اور جعلی ڈگری کیس پر بات کی، کہا گیا کہ مجھ پر دبائو ہے آپ مستعفی ہوجائیں، زیر التواء مقدمہ پر بات اور مستعفی ہونے کا مشورہ دینا مس کنڈکٹ ہے،جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کیا جائے،

  • رواں برس سعودی عرب سے بھیک مانگنے پر 24 ہزار،دبئی سے 6 ہزار پاکستانی ڈی پورٹ

    رواں برس سعودی عرب سے بھیک مانگنے پر 24 ہزار،دبئی سے 6 ہزار پاکستانی ڈی پورٹ

    ڈی جی ایف آئی اے کے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی آغا رفیع اللہ کی سربراہی میں ہوا۔ڈی جی ایف آئی اے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس سال 51 ہزار لوگوں کو آف لوڈ کیا گیا۔اس سال 24 ہزار افراد کو صرف سعودی عرب نے بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی نے بھی اس سال 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ آزربیجان نے 2 ہزار 5 سو پاکستانی بھکاروں کو ڈی پورٹ کیا۔ لوگ عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں ثبوت کے ساتھ اف لوڈ کیا ،عمرے کے نام پر لوگوں کے پاس یورپ جانے کے ڈاکومنٹس موجود تھے تب آف لوڈ کیا۔اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے 12 ہزاد افراد تاحال واپس نہیں آئے۔ برما میں سیاحتی ویزے پر چار ہزار افراد گئے اڑھائی ہزار واپس نہیں آئے۔گزشتہ سالوں میں غیر قانونی جانے والے افراد میں پاکستان ٹاپ فائیو ملکوں میں تھا۔ گزشتہ برس 8 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ گئے۔اس سال تعداد چار ہزار ہوگئی ،اب تک مجموعی طور پر 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے باعث سعودی عرب نے ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی اور جرمنی نے ہمارے سرکاری پاسپورٹ پر ویزہ فری کردیا۔
    ایمی اپلیکیشن جنوری کے وسط میں لانچ کردی جائے گی۔ ایمی ایپلیکیشن میں بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل ایمیگریشن حاصل کرلیں گے۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ زمبابوے میں ہمارے سفیر نے بتایا ایتھوپیا اور زیمبیا سے غیر قانونی طریقے سے لوگ یورپ جا رہے ہیں، ایک جعلی فٹبال کلب نے ٹیم کو جاپان بھیجا، ایک لنگڑا شخص بھی فٹبال ٹیم کے ساتھ چلاگیا.

  • پتنگ بازی کے خلاف درخواست ،کل سماعت کیلیے مقرر کرنے کی ہدایت

    پتنگ بازی کے خلاف درخواست ،کل سماعت کیلیے مقرر کرنے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ، پتنگ بازی کے خلاف عوامی مفاد کی درخواست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    عدالت نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی دائر درخواست پرعائد اعتراضات ختم کردئیے،عدالت نے رجسٹرار آفس کو کیس کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی،جسٹس ملک محمداویس خالدنے سماعت کی،درخواست گزار کےوکیل اظہر صدیق نے دلائل دئیے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہے۔سال 2024 میں پتنگ بازی پر1922 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کئے گئے۔لائسنسنگ، سیف زونز اور ایس او پیز کےبغیر پتنگ بازی کی اجازت نہ دی جائے۔

    قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025 منظور کر لیا

    پتنگ بازی،لاہور میں گلے پر ڈور پھرنے سے ایک اور جان چلی گئی

    بسنت میں بھی ایسے پتنگ نہیں کٹتی جیسے بھارتی جہاز کٹے، خواجہ آصف

  • معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب

    معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب

    معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب بن گئی

    بھارت میں کئی سیاسی و سماجی رہنما بشمول عسکری قیادت اپنی عبرتناک شکست کا اعتراف کر چکی ہے،گودی میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا اور من گھڑت کہانیوں کے باوجود مودی اپنی ہزیمت کا نہ چھپا سکا ، کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کے پہلے ہی دن ہمیں پاکستان کے ہاتھوں مکمل پسپائی کا سامنا کرنا پڑا،7مئی کو صرف آدھے گھنٹے کی فضائی لڑائی میں ہم پاکستان سے مکمل طور پر شکست کھا گئے، یہ حقیقت ہے کہ بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا اور پوری بھارتی فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا ، پاکستان کے ہاتھوں مار گرائے جانے کے خوف سے مزید بھارتی طیاروں نے اڑان ہی نہیں بھری ،بھٹنڈہ یا کہیں سے بھی بھارتی طیارہ ٹیک آف کرتا تو پاکستان سے مار گرائے جانے کا خطرہ ہوتا،

    بھارتی فوجی قیادت آپریشن سندور میں متعدد بار بھارتی طیاروں کی تباہی اور بھاری نقصان کا اعتراف کر چکی ہے،اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی آپریشن سندور میں بھارتی شکست اور ناکامی کا پردہ چاک کر چکے ہیں ،11 مئی کو ائیر مارشل اے کے بھارتی ڈائریکٹر جنرل ائیر آپریشنز نے اعتراف کیا کہ "جنگ میں نقصان ہوتے ہیں”31 مئی کو بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے کہا کہ” یہ اہم نہیں کہ کتنے طیارے گرے یہ اہم ہے کہ کیوں گرے”

    عالمی میڈیا اور رہنما بھی بنیان المرصوص میں بھارت کی بدترین ہزیمت اور بھارتی خود ساختہ بیانیہ کاپردہ چاک کر چکے ہیں،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ بارہا پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے کا اعتراف کر چکےہیں ،شکست خوردہ مودی کو بھی آخر کارپاکستان کے ہاتھوں تاریخی ناکامی اور مکمل پسپائی کوتسلیم کرنا ہو گا

  • ارشد شریف قتل کیس، تفصیلی رپورٹ عدالت جمع،سماعت ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس، تفصیلی رپورٹ عدالت جمع،سماعت ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس کی تفصیلی رپورٹ آئینی عدالت میں جمع کروا دی گئی۔

    آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی،کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ارشد شریف قتل کیس میں تفصیلی رپورٹ جمع کروادی ۔ رپورٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں جے آئی ٹی کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ رپورٹ میں مزید آئندہ اقدامات کے بارے میں بھی بتا دیا گیا ہے، جے آئی ٹی نے صرف کینیا جاکر شواہد اکٹھے کرنا ہیں، جے آئی ٹی کے موقع کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقات فائنل ہو جائیں گی ، بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی،گزشتہ سماعت پر عدالت نے پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی.

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اشتہاری قرار

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور 2 دیگر صوبائی وزرا کو اشتہاری قرار دے دیا،

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبائی وزراء مینا خان، شفیع جان، امجد علی اور اقبال آفریدی کے بھی اشتہار شائع ہو گئے ۔ پانچوں ملزمان کوسی ٹی ڈی اسلام آباد کے 2 مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا،ملزمان کو اشتہارکے ذریعے 30 روز کےاندرعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ 30 دن پیش نہ ہوئے تو قانونی کارروائی کی جائے گی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر افراد کے خلاف 26 نومبر 2024 کو ہونے والے احتجاج کے معاملے میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے،تحریک انصاف کے تقریباً 80 فیصد اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی پر اسلام آباد میں مقدمات قائم ہیں۔ پی ٹی آئی کے 70 ایم پی ایز اسلام آباد پولیس کو مطلوب ہیں۔ مقدمات 18 مختلف تھانوں میں 2022 سے نومبر 2024 تک درج کیے گئے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد پولیس کو 11 مقدمات میں مطلوب ہیں، سہیل آفریدی پر7 اے ٹی اے، پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات درج ہیں۔ سب سے زیادہ 52 ایف آئی آرز سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کیخلاف درج ہیں

  • بونڈی حملہ آوروں کا دورہ فلپائن، دہشتگرد ٹریننگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا،حکام

    بونڈی حملہ آوروں کا دورہ فلپائن، دہشتگرد ٹریننگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا،حکام

    فلپائن کے صدارتی ترجمان کلیری کاسترو نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ بونڈی حملہ آوروں کے فلپائن کے دورے کے دوران دہشتگرد ٹریننگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

    ترجمان نے کہا کہ فلپائن کو داعش کے تربیتی مرکز کے طور پر پیش کرنے کی رپورٹس مسترد کرتے ہیں، فلپائن کو دہشتگردی کی تربیت کے لیے استعمال کیے جانے کے دعوے کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا،علاوہ ازیں فلپائن کے فوجی ترجمان کرنل فرانسل پیڈیلا نے کہا کہ 2024 کے آغاز سے اب تک بڑے انسدادِ دہشتگردی آپریشن نہیں ہوئے، باغی گروپ منتشر ہیں اور ان کی کوئی قیادت نہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر یہودیوں کے ایک تہوار کی تقریب پر دو مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے،پولیس کی جوابی کارروائی میں فائرنگ کرنے والا ایک شخص مارا گیا اور دوسرے حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا ہے

  • آپریشن سندور، بھارت پہلے ہی دن جنگ ہار چکا تھا، بھارتی سابق وزیراعلیٰ کا اعتراف

    آپریشن سندور، بھارت پہلے ہی دن جنگ ہار چکا تھا، بھارتی سابق وزیراعلیٰ کا اعتراف

    ممبئی: بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما پرتھوی راج چوہان نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر آپریشن سندور کے پہلے ہی دن جنگ ہار گیا تھا۔ ان کے اس بیان نے بھارتی سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔

    پرتھوی راج چوہان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 مئی کو ہونے والی تقریباً آدھے گھنٹے کی فضائی جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کے طیارے مار گرائے گئے، جس کے نتیجے میں بھارت عملی طور پر جنگ ہار چکا تھا۔ اس ابتدائی نقصان کے بعد صورتحال بھارت کے حق میں نہیں رہی۔ پہلے دن کی لڑائی کے بعد بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا کیونکہ اگر انہیں دوبارہ جنگ میں بھیجا جاتا تو پاکستان ائیر فورس کی جانب سے مزید طیارے گرائے جانے کا شدید خدشہ موجود تھا۔ ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ فضائی محاذ پر بھارتی سرگرمیاں محدود رہیں۔

    کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ حالیہ آپریشن کے دوران زمینی سطح پر فوج نے ایک کلومیٹر بھی پیش قدمی نہیں کی۔ ان کے مطابق دو سے تین دن تک جو کچھ ہوا وہ محض فضائی جھڑپوں اور میزائل حملوں تک محدود تھا۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں بھی اسی نوعیت کی ہوں گی، جہاں روایتی زمینی لڑائی کے بجائے ٹیکنالوجی، فضائی طاقت اور میزائل سسٹمز مرکزی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے اس تناظر میں ایک اہم سوال بھی اٹھایا اور کہا کہ اگر جنگوں کی نوعیت یہی رہنی ہے تو کیا واقعی بھارت کو 12 لاکھ فوجیوں پر مشتمل ایک بڑی بری فوج کی ضرورت ہے، یا پھر ان فوجیوں سے کسی اور نوعیت کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔

    پرتھوی راج چوہان نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور انہوں نے کوئی غلط یا گمراہ کن بات نہیں کی۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

    دوسری جانب ان کے اس بیان نے بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، خصوصاً حکومتی حلقوں کی جانب سے پرتھوی راج چوہان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے قومی سلامتی اور فوج کے حوصلے پر منفی اثر پڑتا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست میں دفاعی پالیسی، فوجی اخراجات اور قومی سلامتی کے معاملات پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔