Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کا واقعہ، نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج

    خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کا واقعہ، نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج

    بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد بہار کے وزیرِاعلیٰ اور بی جے پی کے اتحادی نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے اس واقعے پر نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک عوامی تقریب میں خاتون کا نقاب زبردستی ہٹانا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ خواتین کے بنیادی حقوق اور ذاتی آزادی کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔واقعے پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی عوامی عہدیدار کی جانب سے کسی خاتون کا حجاب یا نقاب زبردستی ہٹانا عورت کی عزت، شناخت اور ذاتی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔ تنظیم کے مطابق ایسے اقدامات خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کو فروغ دیتے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان اظہرالدین نے مسلم خاتون کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر نتیش کمار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو خواتین کے وقار اور مذہبی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔انسانی حقوق کی کارکن دپیکا پشکر ناتھ نے اس واقعے کو جنسی ہراسانی کا سنگین معاملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات خواتین کو عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کی تذلیل اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا، جس کے بعد بھارتی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسے شرمناک اور قابلِ مذمت عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی اور عوامی عہدیداروں کے طرزِعمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

  • بلوچستان میں جھل مگسی ڈیزرٹ جیپ ریلی 2025 کا شاندار انعقاد

    بلوچستان میں جھل مگسی ڈیزرٹ جیپ ریلی 2025 کا شاندار انعقاد

    بلوچستان میں جھل مگسی ڈیزرٹ جیپ ریلی 2025 شاندار، رنگا رنگ اور منظم تقریبات کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہو گئی

    ریلی کے دوران آف روڈ چیلنج مقابلے نہایت سنسنی خیز اور دلچسپی سے بھرپور رہے،مختلف کیٹیگریز کے مقابلوں میں شریک ڈرائیورز نے غیر معمولی مہارت، رفتار اور جرات کا بھرپور مظاہرہ کیا،ریلی میں مجموعی طور پر 51 ڈرائیورز نے شرکت کی، جن میں دو خواتین ریسرز بھی شامل تھیں،مقابلے نہایت سخت اور تکنیکی چیلنجز سے بھرپور رہے، جس سے شائقین محظوظ ہوئے،اختتامی تقریب میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی،گورنر بلوچستان نے مختلف کیٹیگریز کے فاتح ڈرائیورز میں انعامات تقسیم کیے اور ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا،ریلی کے دوران ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور ضلعی سول انتظامیہ کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے،مؤثر سیکیورٹی انتظامات کے باعث ایونٹ نہایت پرامن، محفوظ اور خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا،جھل مگسی ڈیزرٹ جیپ ریلی 2025 نے موٹر اسپورٹس کے فروغ کے ساتھ ساتھ علاقہ کی مثبت شناخت اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا

  • بھارتی طیاروں کیلیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    بھارتی طیاروں کیلیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

    اس حوالے سے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد نیا نوٹم جاری کر دیا ہے۔جاری کردہ نوٹم کے مطابق بھارتی رجسٹرڈ طیاروں، بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ استعمال طیاروں اور بھارت کی ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود 23 جنوری 2026 تک بند رہے گی۔ اس فیصلے کا اطلاق مسافر، کارگو اور فوجی پروازوں سمیت تمام اقسام کی بھارتی پروازوں پر ہوگا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر 23 اپریل 2025 کو بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بندش میں مرحلہ وار توسیع کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ توسیع اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ذرائع کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کے لیے طویل متبادل فضائی راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پروازوں کے دورانیے اور ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نوٹم کی مدت پوری ہونے پر صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کا فیصلہ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اس دوران پاکستان کی فضائی حدود دیگر تمام بین الاقوامی اور ملکی پروازوں کے لیے بدستور کھلی رہے گی۔

  • ڈگری تنازع کیس،جسٹس طارق جہانگیری وفاقی آئینی عدالت پہنچ گئے

    ڈگری تنازع کیس،جسٹس طارق جہانگیری وفاقی آئینی عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری نے اپنے خلاف ڈگری تنازع کیس میں ہائیکورٹ کی کارروائی کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 9 دسمبر کے دو رکنی بینچ کے حکمنامے کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست قابل سماعت نہیں،انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ میرے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر رٹ کو خارج کیا جائے۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ڈگری کیس ناقابلِ سماعت قرار دینے کی وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر میرے خلاف تعصب رکھتے ہیں،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم سومرو کی ٹرانسفر کے خلاف ہم ججز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسٹس سومرو نے بنچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا لیکن چیف جسٹس ڈوگر نے نہیں کیا حالانکہ اُنہیں بھی بنچ چھوڑ دینا چاہیے تھا،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے ڈویژن بنچ نے نہ صرف میرے خلاف کیس اپنے سامنے مقرر کیا بلکہ مجھے کام سے بھی روک دیا، ایک ایسا آرڈر کیا جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا اور اہم بات یہ ہے کہ اٹارنی جنرل بھی اُس آرڈر کا دفاع نہیں کر سکے،سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو پہلے اعتراضات پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا لیکن اعتراضات دور کرنے سے پہلے نوٹس کر کے میرا موقف نہیں سنا گیا جو کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی واضح خلاف ورزی تھی،یہ تمام چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی ٹرانسفر کے خلاف میرے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی وجہ سے میرے خلاف متعصب ہیں جس کے باعث وہ اِس بنچ میں بیٹھنے کے اہل نہیں ہیں

    دوسری جانب جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی کو چیلنج کرنے کے لیے 3 سینئر وکلا پر مشتمل قانونی ٹیم تشکیل دے دی ہے،اکرم شیخ اور بیرسٹر صلاح الدین اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری کیس کی پیروی کریں گے جبکہ عزیر بھنڈاری وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس جہانگیری کی طرف کیس کی پیروی کریں گے،جسٹس طارق جہانگیزی کی جانب سے اسلام آبادہائیکورٹ میں بھی ڈگری تنازع کیس کے خلاف درخواستیں دائر ہوں گی۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی گزشتہ سماعت کے موقع پر جسٹس طارق جہانگیری نے بینچ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی موجودگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

  • عوام کو ہر صورت سستی روٹی اور سستا آٹا فراہم کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب

    عوام کو ہر صورت سستی روٹی اور سستا آٹا فراہم کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب کی سبزی منڈیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ماڈرن فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل مارکیٹس متعارف کرا دی گئی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماڈرن سبزی منڈیوں میں شفاف نیلامی، ویسٹ ٹو ویلیو نظام، آف سیزن سبزیوں کے لیے جدید کاشتکاری، ہیلپ ڈیسک، سیف سٹی سے آن لائن ٹریکنگ، مناسب لائٹس، صفائی کے انتظامات اور فنکشنل ٹوئلٹس یقینی بنائے جائیں گے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب سے مافیا کلچر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اب صوبے میں کوئی مافیا پنپ نہیں سکتا۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو ہر صورت سستی روٹی اور سستا آٹا فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر زراعت عاشق کرمانی، معاون خصوصی سلمیٰ بٹ، ڈی جی فوڈ امجد حفیظ اور پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایسے شاندار کام ہو رہے ہیں کہ دوسرے صوبے تقلید کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے آف سیزن سبزیوں کے حصول کے لیے جدید طریقۂ کاشت اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عوام کو دھوکہ دینے والے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا اور ایسے افسران کو نوکری سے فارغ کر کے جیل بھیجنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کی 188 ماڈرن سبزی منڈیوں میں خریداروں اور آڑھتیوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی کے تمام واٹر فلٹریشن پلانٹس بحال کر دیے گئے ہیں،اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکپتن، قصور، ساہیوال، میاں چنوں، شیخوپورہ اور منڈی بہاؤالدین میں بھی ماڈرن سبزی منڈیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ مری کے عوام کو سستے پھل اور سبزیاں فراہم کرنے کے لیے سپلائی چین سسٹم قائم کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مری میں ہول سیل نرخ پر پھل اور سبزیاں دستیاب ہوں گی۔

  • افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گردی،برطانوی حکومت کا ٹریول الرٹ جاری

    افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گردی،برطانوی حکومت کا ٹریول الرٹ جاری

    افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گردی اور خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر برطانوی حکومت نے افغانستان کے لیے ٹریول الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گرد تنظیموں اور خطہ کی بگڑتی سیکیورٹی صورتحال نے عالمی برادری کو خبردارکردیا۔ افغان طالبان رجیم کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔برطانوی دفترِ خارجہ نے افغانستان کی بدترین سیکیورٹی صورتحال کے باعث برطانوی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سفر نہ کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ افغان جریدے خاما پریس کے مطابق برطانوی حکومت نے پرتشدد واقعات میں مسلسل اضافے اور ملک گیر خطرات کے پیشِ نظر یہ اقدام اُٹھایا ہے۔برطانوی دفترِ خارجہ کی جاری کردہ سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ متعدد سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کے باعث سفر انتہائی خطرناک ہو چکا ہے، جبکہ برطانوی شہریوں کو افغانستان میں گرفتاری اور طویل قید کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکام نے افغانستان جانے کے خواہشمند شہریوں کو ممکنہ خطرات کا لازمی جائزہ لینے کا انتباہ دیا ہے۔

    برطانوی وزارتِ خارجہ نے افغانستان میں موجود برطانوی شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ مغربی حکام کے مطابق افغان طالبان رجیم کے اقتدار میں آنے کے بعد مخدوش سیکیورٹی صورتحال، محدود نقل و حرکت اور سفارتی رسائی نہ ہونے کے باعث سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج خطے میں عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔

  • بھارتی ریاست منی پور میں علیحدگی پسند تنظیموں کا زور ،اقلیتیں ہندوتوا کی درندگی سے بیزار

    بھارتی ریاست منی پور میں علیحدگی پسند تنظیموں کا زور ،اقلیتیں ہندوتوا کی درندگی سے بیزار

    بھارتی ریاست منی پور میں علیحدگی پسند تنظیمیں زور پکڑنے لگی ہیں، جہاں اقلیتیں وزیراعظم نریندر مودی کی ایماء پر ہندوتوا کی ریاستی درندگی سے بیزار دکھائی دیتی ہیں۔

    مودی کے جابرانہ نظام اور ہندوتوا کے شرپسند عناصر کے جاری ظلم و بربریت کے خلاف کوکی زو کمیونٹی کے مطالبات سامنے آ گئے ہیں،بھارتی جریدے اکھرول ٹائمز کے مطابق مظلوم کوکی قبائل نے بھارتی جبر و ستم کے خلاف منی پور میں الگ انتظامی ڈھانچے کو مسائل کا واحد حل قرار دے دیا ہے۔ آمرانہ طرزِ عمل سے چلنے والی بھارتی ریاست منی پور میں کوکی زو کمیونٹی نے باقاعدہ طور پر علیحدہ انتظامی ڈھانچے کا مطالبہ کر دیا ہے،کوکی زو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جبری نقل مکانی کے ساتھ ساتھ شدید جانی و مالی نقصانات برداشت کیے ہیں، جبکہ حریت پسند تحریکیں کوکی نیشنل آرگنائزیشن اور یونائیٹڈ پیپلز فرنٹ نے بھی علیحدگی کے مطالبے کی حمایت کر دی ہے۔ کمیونٹی کے مطابق طویل ظلم و استبداد کے بعد بی جے پی کی حمایت یافتہ ہندو میتی کمیونٹی کے ساتھ انضمام ممکن نہیں رہا۔

    بی بی سی کے مطابق منی پور میں مئی 2023 سے اب تک نسلی فسادات کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ سفاکیت اور بربریت کے بعد بھارت کی اقلیتی ریاستیں علیحدگی کا فیصلہ کر کے برسرِ پیکار ہیں، جبکہ ہندوتوا راج کے خلاف حریت پسند تحریکیں اس حد تک مضبوط ہو چکی ہیں کہ انہیں دبانا ناممکن ہو گیا ہے۔

  • سڈنی حملہ،آخری رسومات ادا،ملزم پر فردجرم عائد

    سڈنی حملہ،آخری رسومات ادا،ملزم پر فردجرم عائد

    آسٹریلیا میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 15 افراد میں سے چند کی آخری رسومات بدھ کے روز ادا کر دی گئی۔ اسی روز پولیس نے مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک کے خلاف قتل اور دہشت گردی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔

    سڈنی کے علاقے بانڈی میں واقع چاباد آف بانڈی کے باہر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے مقتول ربی ایلی شلینجر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ربی شلینجر اتوار کے روز ہونے والے اس خونریز حملے میں مارے گئے، جو یہودی خاندانوں کو ہنوکہ کی پہلی رات مناتے ہوئے نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
    ربی شلینجر کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب آبدیدہ تھے جب ان کا تابوت، جس پر سنہری اسٹار آف ڈیوڈ بنا ہوا سیاہ مخملی غلاف چڑھا تھا، عبادت گاہ میں لایا گیا۔41 سالہ ربی ایلی شلینجر بانڈی بیچ پر منعقد ہونے والے “ہنوکہ بائے دی سی” پروگرام کے منتظم تھے اور چاباد آف بانڈی میں اسسٹنٹ ربی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ پانچ بچوں کے والد تھے، جن میں ان کا سب سے چھوٹا بیٹا صرف دو ماہ کا ہے۔

    انہیں مقامی طور پر “بانڈی ربی” کے نام سے جانا جاتا تھا اور وہ یہودی برادری میں ایک نہایت محبوب اور مخلص مذہبی رہنما سمجھے جاتے تھے۔ عالمی یہودی تنظیم چاباد کے مطابق، ربی شلینجر نے بانڈی کی یہودی برادری میں مذہبی زندگی کو فروغ دینے کے لیے انتھک محنت کی۔تدفینی تقریب کے دوران ان کے سسر، ربی یہورام اُلمان، اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا “وہ بہترین شوہر، بہترین باپ اور بہترین بیٹا تھا۔ آج میں جو کچھ بھی کہوں گا، وہ اس کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ تم میرے بیٹے، میرے دوست اور میرے رازدار تھے۔ تمہارے بغیر ایک دن کا تصور بھی ممکن نہیں۔”

    آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے تدفین سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ربی شلینجر کو نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری کمیونٹی میں بے حد محبت حاصل تھی۔ اس دکھ کی گھڑی میں تمام آسٹریلوی عوام کے دل اور دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”

    بدھ کے روز دیگر متاثرین ریوین موریسن (62)، پیٹر میگھر اور ربی یعقوب لیویٹن (39) کی تدفین بھی مقرر تھی۔

    دوسری جانب ربی شلینجر کی تدفین کے چند گھنٹوں بعد پولیس نے بتایا کہ 24 سالہ نوید اکرم پر مجموعی طور پر 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں 15 افراد کے قتل،40 افراد کو قتل کرنے کی کوشش،دہشت گردی کی کارروائی انجام دینے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔نوید اکرم کے والد ساجد اکرم (50) کو پولیس نے موقع پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جبکہ نوید اکرم زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لینن کے مطابق، نوید اکرم کو منگل کے روز کوما سے ہوش آیا اور جیسے ہی وہ بیان دینے کے قابل ہوگا، اس کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

    حکام کے مطابق، حملہ آور داعش (اسلامک اسٹیٹ) کے نظریے سے متاثر تھے، اور انسدادِ دہشت گردی کے حکام کا ماننا ہے کہ دونوں نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری طرز کی تربیت حاصل کی، جو شدت پسند سرگرمیوں کے لیے بدنام علاقہ ہے۔ساجد اکرم ایک لائسنس یافتہ اسلحہ بردار تھا، جس کے بعد آسٹریلیا کے سخت اسلحہ قوانین پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آسٹریلیا میں یہودی مخالف حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں عبادت گاہوں اور یہودی املاک کو نذرِ آتش کرنا اور توڑ پھوڑ شامل ہے۔ یہودی رہنما برسوں سے حکومت سے اس مسئلے پر سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے تھے۔وزیرِاعظم البانیز نے کہا کہ وہ معاشرے سے یہود دشمنی کے مکمل خاتمے کے لیے قانون سازی پر نظرِ ثانی کے لیے تیار ہیں اور نفرت انگیز تقاریر کے قوانین کو مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔

    نیو ساؤتھ ویلز ہیلتھ کے مطابق، حملے میں زخمی ہونے والے 21 افراد تاحال اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔زخمیوں میں 22 سالہ نو آموز پولیس اہلکار جیک ہیبرٹ بھی شامل ہیں، جن کے سر اور کندھے میں گولیاں لگیں اور ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہو گئی۔ ان کے خاندان کے مطابق، جیک نے شدید زخمی ہونے کے باوجود دوسروں کی حفاظت اور مدد جاری رکھی۔اس کے علاوہ، متعدد عام شہریوں کی بہادری کو بھی سراہا جا رہا ہے۔ ڈیش کیم ویڈیو میں نظر آنے والا ساٹھ سالہ جوڑا بورس اور صوفیہ گورمین، جو ایک مشتبہ حملہ آور سے الجھ پڑے اور اس سے بندوق چھیننے کی کوشش کی، اس دوران جان کی بازی ہار گئے۔ وزیرِاعظم البانیز نے انہیں “آسٹریلوی ہیرو” قرار دیا۔

  • جاوید میاں دادکے دل میں تکلیف،ہسپتال پہنچ گئے

    جاوید میاں دادکے دل میں تکلیف،ہسپتال پہنچ گئے

    پاکستان کرکٹ کے عظیم بلے باز اور سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میانداد کو دل میں تکلیف کے باعث کراچی کے معروف قومی ادارہ امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاوید میانداد کو دل میں درد کی شکایت پر اسپتال لایا گیا تھا۔ این آئی سی وی ڈی پہنچنے کے بعد ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کے مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں اینجیوگرافی بھی شامل تھی۔ طبی رپورٹس کے تفصیلی جائزے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دے دیا اور اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی۔

    ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ جاوید میانداد کی حالت تسلی بخش ہے اور دل کے حوالے سے کسی تشویشناک مسئلے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ تمام ٹیسٹ رپورٹس نارمل آنے کے بعد انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

    دوسری جانب جاوید میانداد نے این آئی سی وی ڈی میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کے رویے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اسپتال سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو پہلے سے کہیں بہتر محسوس کر رہے ہیں،جاوید میانداد نے کہا،”اللہ کا شکر ہے میں اب بہت بہتر ہوں، قوم کی دعائیں میرے ساتھ رہیں تو صحت میں مزید بہتری آئے گی۔”

  • پاکستان کی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ کا ایک اور تاریخی کارنامہ

    پاکستان کی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ کا ایک اور تاریخی کارنامہ

    پاکستان کی مایہ ناز خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ نے عالمی سطح پر ایک اور بڑا اعزاز حاصل کرنے کی جانب اہم قدم بڑھا لیا ہے۔

    گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ کامیابی کے ساتھ قطبِ جنوبی پہنچ گئی ہیں، جو ایکسپلورر گرینڈ سلیم کی تکمیل کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔ثمینہ بیگ نے یونین گلیشیئر سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور نہایت مشکل اور چیلنجنگ اسکیئنگ روٹ اختیار کرتے ہوئے ساؤتھ پول تک رسائی حاصل کی۔ اس حوالے سے ان کے بھائی اور معروف کوہ پیما مرزا علی نے بتایا کہ یہ مرحلہ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی سخت تھا، تاہم ثمینہ بیگ نے غیر معمولی عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے کامیابی سے مکمل کیا۔

    مرزا علی کے مطابق قطبِ جنوبی پہنچنے پر ثمینہ بیگ نے پاکستان کا قومی پرچم اور اپنی کمیونٹی کا جھنڈا لہرایا، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ گلگت بلتستان کا نام بھی عالمی سطح پر روشن ہوا۔ثمینہ بیگ کا حتمی ہدف ایکسپلورر گرینڈ سلیم کو مکمل کرنا ہے، جس کے لیے دنیا کے ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے (سیون سمٹس) کے ساتھ ساتھ قطبِ جنوبی اور قطبِ شمالی تک پہنچنا لازم ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ثمینہ بیگ پہلے ہی سیون سمٹس کا اعزاز حاصل کرچکی ہیں اور اب اس تاریخی مشن کی تکمیل کے لیے انہیں صرف قطبِ شمالی پہنچنا باقی ہے۔ثمینہ بیگ کی یہ کامیابی پاکستانی خواتین کے لیے حوصلے، عزم اور عالمی سطح پر صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک متاثر کن مثال بن رہی ہے۔