Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چارسدہ، ڈانس پارٹی پر چھاپہ، تین خواتین اور دس مرد گرفتار، اسلحہ و شراب برآمد

    چارسدہ، ڈانس پارٹی پر چھاپہ، تین خواتین اور دس مرد گرفتار، اسلحہ و شراب برآمد

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

    اسی سلسلے میں ڈی ایس پی شبقدر ریاض خان کی نگرانی میں سروکلے پولیس نے عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سروکلے آصف خان نے ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے موضع باڈی کور میں قائم ایک ڈانس پارٹی پر چھاپہ مارا۔چھاپے کے دوران تین خواتین ڈانسرز مسماتہ (ص)، مسماتہ (کا) اور مسماتہ (ک) جبکہ دس مرد تماش بین جن میں واجد، یونس، زیشان، گلستان، نعیم، محمد جان، سائر، مثل خان، ادریس اور عابد علی شامل ہیں کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس نے موقع سے چار عدد پستول اور گیارہ شراب کی بوتلیں بھی برآمد کر لیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ڈی ایس پی شبقدر ریاض خان نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس کی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشرے کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ عوامی شکایات پر فوری کارروائی چارسدہ پولیس کی اولین ترجیح ہیں۔

  • فرانس کی وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹس پر  سائبر حملہ

    فرانس کی وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹس پر سائبر حملہ

    پیرس: فرانس کی وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹس پر ایک سنگین سائبر حملہ سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں حساس سرکاری ڈیٹا لیک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق اس حملے میں وزارت کے پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے ذریعے حملہ آوروں نے اہم فائلوں اور سرکاری نظاموں تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر حملے کی نوعیت محدود سمجھی جا رہی تھی، تاہم تازہ تحقیقات کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اب تک اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ ڈیٹا متاثر ہوا ہے، تاہم لیک ہونے والے ڈیٹا کی مکمل نوعیت اور حجم کا تعین ابھی جاری ہے۔

    وزیر داخلہ کے مطابق سائبر حملے کے دوران وزارتِ داخلہ کے بعض پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی حاصل کی گئی، جس کے بعد حملہ آور متعدد حساس اور اہم فائلیں دیکھنے اور حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ متاثر ہونے والی فائلوں میں فوجداری ریکارڈ پروسیسنگ سسٹم بھی شامل ہے، جو ملک بھر میں مجرمانہ ریکارڈ اور عدالتی معلومات کے انتظام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مطلوب افراد کی فہرست، جسے FPR (Fichier des Personnes Recherchées) کہا جاتا ہے، بھی اس حملے کی زد میں آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ فہرست قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس میں مطلوب، لاپتا اور نگرانی میں رکھے گئے افراد سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔

    سائبر حملے کے سامنے آتے ہی فرانسیسی حکام نے فوری طور پر سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ تحقیقات کے دوران ایک 22 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔

  • کراچی ایئرپورٹ پر مسافر کا پاسپورٹ پھاڑنے کاواقعہ،نجی ایئر لائن عملہ قصوروارقرار

    کراچی ایئرپورٹ پر مسافر کا پاسپورٹ پھاڑنے کاواقعہ،نجی ایئر لائن عملہ قصوروارقرار

    کراچی، جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مسافر کا پاسپورٹ پھاڑنے کے واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے، تحقیقات کے بعد نجی ائیرلائن،بلیو ایئر لائن کے عملے کو قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔

    کراچی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بیرونِ ملک روانہ ہونے والے ایک مسافر کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب نجی ائیرلائن کے کاؤنٹر پر موجود عملے نے مبینہ طور پر اس کا پاسپورٹ پھاڑ دیا۔ یہ واقعہ مسافر کی پرواز سے عین قبل پیش آیا، جس کے باعث مسافر نہ صرف اپنی فلائٹ سے محروم ہوا بلکہ اسے ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ذرائع کے مطابق پی اے اے کی جانب سے کی جانے والی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ائیرلائن کاؤنٹر پر تعینات اسٹاف نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں مسافر کا پاسپورٹ نقصان کا شکار ہوا۔

    تحقیقات میں ائیرلائن کے عملے کو براہِ راست قصوروار قرار دیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ جیسے اہم سفری دستاویز کو نقصان پہنچانا نہ صرف سنگین غفلت ہے بلکہ یہ قانونی جرم کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

    پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق مسافروں کے سفری دستاویزات کا تحفظ ائیرپورٹس اور ائیرلائنز کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس نوعیت کے واقعات ملک کے امیج کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ پی اے اے نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ائیرلائنز کے عملے کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔

  • ملک کے تین بڑے ایئرپورٹس پر امیگریشن کے جدید ای گیٹس منصوبے میں اہم پیش رفت

    ملک کے تین بڑے ایئرپورٹس پر امیگریشن کے جدید ای گیٹس منصوبے میں اہم پیش رفت

    ملک کے تین بڑے بین الاقوامی ایئرپورٹس پر امیگریشن کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ای گیٹس منصوبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    ابتدائی مرحلے میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر جدید ای گیٹس نصب کیے جائیں گے، جس کا مقصد مسافروں کو تیز، محفوظ اور سہل امیگریشن سہولیات فراہم کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کے لیے ای گیٹس نصب کرنے کے لیے موزوں جگہ کا تعین کر لیا گیا ہے، جبکہ لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر بھی متعلقہ مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ منصوبے کے تحت بین الاقوامی معیار کے خودکار ای گیٹس لگائے جائیں گے جو مسافروں کی بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے امیگریشن کلیئرنس کو ممکن بنائیں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ای گیٹس کی تنصیب سے امیگریشن کاؤنٹرز پر رش میں واضح کمی آئے گی اور مسافروں کو طویل قطاروں سے نجات ملے گی۔ جدید نظام کے تحت پاسپورٹ اسکیننگ، چہرے کی شناخت اور دیگر سیکیورٹی مراحل خودکار انداز میں مکمل ہوں گے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شفافیت اور سیکیورٹی کے تقاضے بھی مزید بہتر ہوں گے۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق ای گیٹس منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور ابتدائی کامیابی کے بعد اسے ملک کے دیگر بڑے ایئرپورٹس تک بھی توسیع دی جائے گی۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کے ہوابازی اور امیگریشن نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی اور بین الاقوامی مسافروں کے لیے بھی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہو جائے گا۔

  • پاکستانی کبڈی کھلاڑی کا بھارتی جھنڈا لہرا کر بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنے پر اجلاس طلب

    پاکستانی کبڈی کھلاڑی کا بھارتی جھنڈا لہرا کر بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنے پر اجلاس طلب

    پاکستانی کبڈی کھلاڑی عبیداللہ کے بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنے، شرٹ پہننے اور بھارتی جھنڈا لہرانے کے معاملے پر پاکستان کبڈی فیڈریشن کی جنرل کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈریشن سیکرٹری رانا سرور نے کہا کہ چیئرمین چوہدری شافع حسین نے 27 دسمبر کو اجلاس طلب کیا ہے، بحرین میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں پاکستان کے 16 کھلاڑیوں نے شرکت کی، پاکستان کی یہ قومی ٹیم نہیں تھی اور نہ ہی اس کی اجازت طلب کی گئی، نہ ان کھلاڑیوں کو این او سی جاری کیا گیا،سیکرٹری فیڈریشن نے کہا کہ یہ ایک خود ساختہ ٹیم تھی جس میں پاکستان کا نام استعمال کیا گیا، ایونٹ میں شرکت کے لیے نہ حکومت سے اجازت لی گئی اور نہ ہی فیڈریشن کو بتایا گیا ،

    رانا سرور کا کہنا تھا کہ قومی کھلاڑی کا بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنا اور جھنڈا لہرانا ناقابل برداشت ہے، معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور سخت ترین ایکشن لیا جائے گا ،خود ساختہ پروموٹرز کے خلاف بھی ایکشن لیں گے ، کسی کو غیر قانونی ایونٹ کی اجازت نہیں دیں گے، کسی صورت میں پاکستان کا نام بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کلبوں میں کئی ممالک کے کھلاڑی ایک ساتھ کھیلتے ہیں ، غیر ملکی ٹیم کی جانب سے کھیلنا اور جھنڈا لہرانا افسوسناک ہے۔

  • ہماری سیاست سے دور رہیں، سابق آسٹریلوی وزیراعظم کا نیتن یاہو کو پیغام

    ہماری سیاست سے دور رہیں، سابق آسٹریلوی وزیراعظم کا نیتن یاہو کو پیغام

    آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم میلکم ٹرن بل نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی داخلی سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔

    ٹرن بل کا یہ ردعمل نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے آسٹریلوی فیصلے کو بونڈی بیچ فائرنگ واقعے سے جوڑ دیا تھا۔اتوار کی شام بونڈی بیچ پر یہودی تہوار ہنوکا منانے والے افراد پر فائرنگ کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حملہ آور باپ بیٹا تھے، جن کی شناخت ساجد اکرم اور اس کے بیٹے نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔ واقعے نے آسٹریلیا بھر میں شدید صدمے اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حملے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ آسٹریلیا کی جانب سے رواں سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے یہود دشمنی (اینٹی سیماٹزم) کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا، جس کے نتیجے میں ایسے واقعات کی فضا بنی۔

    برطانیہ کے نشریاتی ادارے چینل 4 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے میلکم ٹرن بل نے نیتن یاہو کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا“میں احترام کے ساتھ ‘بی بی’ نیتن یاہو سے کہنا چاہتا ہوں کہ براہِ کرم ہماری سیاست سے دور رہیں۔ اس قسم کے تبصرے نہ تو مددگار ہیں اور نہ ہی درست۔”

    ٹرن بل نے موجودہ وزیراعظم انتھونی البانیز کی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگست میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ درست تھا، جو کئی دیگر مغربی ممالک کے ساتھ مل کر کیا گیا، خاص طور پر غزہ جنگ کے تناظر میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے پیشِ نظر،

    نیتن یاہو نے بونڈی حملے کے بعد ایک تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے چند ماہ قبل آسٹریلوی وزیراعظم کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ فلسطین سے متعلق پالیسی یہود دشمنی کو ہوا دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اینٹی سیماٹزم ایک کینسر ہے جو اس وقت پھیلتا ہے جب رہنما خاموش رہتے ہیں۔”اس پر ردعمل دیتے ہوئے میلکم ٹرن بل نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ایک کامیاب کثیرالثقافتی معاشرہ ہے اور یہاں بیرونی تنازعات کو درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔“ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ یا دنیا کے کسی بھی خطے کی جنگیں یہاں نہ لڑی جائیں۔ نیتن یاہو نے جس طرح ان معاملات کو جوڑنے کی کوشش کی ہے، وہ کسی طور مفید نہیں۔”

    وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی نیتن یاہو کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطین سے متعلق آسٹریلیا کی پالیسی اور بونڈی حملے کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی اکثریت دو ریاستی حل کو ہی مشرق وسطیٰ میں امن کا راستہ سمجھتی ہے۔یہ قومی اتحاد کا لمحہ ہے، ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا ہے اور یہودی برادری کو سہارا دینا ہے جو اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے

    وزیراعظم البانیز نے اس شخص سے بھی اسپتال میں ملاقات کی جسے حملہ آوروں میں سے ایک کو قابو میں کرنے پر ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔احمد الاحمد، جو 2006 میں شام سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے اور پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہیں، حملہ آور پر قابو پاتے ہوئے زخمی ہوگئے تھے اور اس وقت زیر علاج ہیں۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے 4 سے زائد دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے 4 سے زائد دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک شدت پسند چوری، تاوان کے لیے اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد مسافروں کو روک کر ان کا سامان لوٹتے ہیں اور افراد کو اغوا کر کے ان کے اہلِ خانہ سے تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں شدت پسند مبینہ طور پر بھتہ مانگ رہے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ان واقعات کے ردِعمل میں گشت اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حساس علاقوں میں پولیس اور حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب بی ایل اے مسلسل بیانات جاری کر رہی ہے جن میں وہ صوبے میں حقوق کی جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایسی مجرمانہ کارروائیاں عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور امن و ترقی کی کوششوں کو سبوتاژ کرتی ہیں۔ حکام نے زور دیا کہ اغوا، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور استحکام کی بحالی تک سیکیورٹی آپریشن جاری رہیں گے۔

    بلوچستان کے بعض علاقوں میں مقامی باشندوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے تشدد کے واقعات کے بعد مسلح شدت پسند گروہوں کے خلاف ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے شدت پسندوں کو بلوچ شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ شدت پسند شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اور مبینہ طور پر ایک بینک سے رقم چھیننے کے بعد فرار ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور لوگوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے شدت پسند تشدد کے خلاف مزاحمت کا اظہار کیا۔
    مقامی باشندوں نے کہا کہ قتل، لوٹ مار اور دھمکیوں جیسے اقدامات نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور علاقے کا امن درہم برہم ہو گیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی کے افراد نے مزید شدت پسند سرگرمیوں کو روکنے کے لیے متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں اور واضح پیغام دیا گیا کہ مسلح اور دہشت گرد تنظیموں کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ویڈیو کی تصدیق اور واقعے کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور امن و امان کے قیام اور شدت پسند خطرات کے تدارک کے لیے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

    حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے داغری میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے کم از کم دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت سجاد زہری عرف سارنگ اور اسمت اللہ ستکزئی عرف سراج کے نام سے ہوئی۔آپریشن کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا تاکہ کسی مزید دہشت گرد کی موجودگی کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے۔ ہلاک شدہ شدت پسندوں کی لاشیں قانونی اور انٹیلی جنس کارروائی کے لیے تحویل میں لے لی گئیں۔ادھر کچھی ضلع کے علاقے سنی میں کیے گئے ایک علیحدہ آپریشن میں بی ایل اے کے مزید دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں سے ایک کی شناخت اسماعیل عرف صوفی کے نام سے ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں کوئٹہ اور کچھی اضلاع میں کم از کم تین بی ایل اے دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور صوبے میں کسی بھی مزید دہشت گرد سرگرمی کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری ہیں۔

    گھاگھی پاس کے علاقے میں مقامی وِنگ کمانڈر اور بَازہ گاؤں کے عمائدین کے درمیان ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں علاقے میں امن برقرار رکھنے اور دہشت گرد عناصر کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کرنے پر زور دیا گیا۔جرگے کے دوران گاؤں کے عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ شدت پسندوں یا جرائم پیشہ عناصر کو کسی قسم کی مدد، پناہ یا سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔حکام کے مطابق عمائدین نے استحکام اور باہمی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ جرگے کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام نے عمائدین کی یقین دہانیوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے روابط امن و امان کے قیام اور عوام و اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے چکدرہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع بدوان جنگل کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد سہولت کار کو ہلاک کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق فورسز نے کالعدم تنظیم سے منسلک سہولت کار کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔فائرنگ کے نتیجے میں سہولت کار، فرمان ولد ٹوٹی، موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ واقعے کے بعد لاش کو قانونی اور تفتیشی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔حکام نے کہا کہ شدت پسند سرگرمیوں کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    حکام کے مطابق میر علی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، ذرائع کے مطابق یہ مقابلہ اس وقت شروع ہوا جب دہشت گردوں نے حیسور روڈ پر ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن کے ذریعے مسلح عناصر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جانی نقصان یا گرفتاریوں سے متعلق مزید تفصیلات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔حکام نے اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    پولیس کے مطابق اغوا اور قتل کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی سنگین سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاراچنار اور ضلع کرم کے دیگر علاقے گزشتہ پانچ روز سے منقطع ہیں۔ ان واقعات کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خوراک، ایندھن اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق اپر کرم میں مالی خیل قبیلے کے رہنما حاجی کاکے اور بوشیرہ گاؤں کے رہائشی ریاض خان کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا، بعد ازاں دونوں کی لاشیں ویران علاقوں سے برآمد ہوئیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔صورتحال کے پیشِ نظر حکام نے مرکزی شاہراہ اور تمام اہم رابطہ سڑکیں احتیاطاً بند کر دیں، جس کے باعث لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت رک گئی۔ ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سڑکوں کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چوکس رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں جبکہ سیکیورٹی آپریشنز کے ذریعے ضلع میں استحکام پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • خود کو امریکی سفارت خانے کا اہلکار ظاہر کرنے والا افغان شہری گرفتار

    خود کو امریکی سفارت خانے کا اہلکار ظاہر کرنے والا افغان شہری گرفتار

    اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں خود کو امریکی سفارت خانے کا اہلکار ظاہر کرنے والا ایک افغان شہری گرفتارکر لیا گیا

    ملزم، جس کی شناخت حارث کے نام سے ہوئی ہے، کو گیٹ نمبر 2 کے ذریعے دو خواتین کے ہمراہ ایک گاڑی میں ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل ہوتے ہوئے جعلی امریکی سفارت خانے کا کارڈ رکھنے پر گرفتار کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلیجنس ادارے پہلے ہی ملزم کی نشاندہی کر چکے تھے اور اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔پولیس نے انٹیلیجنس اداروں کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا۔افغان شہری متعدد فراڈ مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کے خلاف امریکی سفارت خانے میں بھی شکایات درج تھیں۔گرفتار افغان شہری کو مزید تفتیش کے لیے سیکریٹریٹ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا   لیفٹینینٹ عمران خان شہید کے گھر کا دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا لیفٹینینٹ عمران خان شہید کے گھر کا دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل عاطف مجتبٰی نے آج ژوب میں شہید لیفٹینینٹ عمران خان کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ اور ان کے ہمراہ افسران نے شہید کے اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی اور خصوصی دعا کی۔آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے کہا کہ شہید کی قربانی ایک لازوال مثال ہے، جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ پوری قوم کا سرمایۂ افتخار ہیں، اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

    شہید کے اہلِ خانہ نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور دیگر افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد نے انہیں حوصلہ اور سکون عطا کیا۔

  • سڈنی حملہ،بھارتی شہری ساجد اکرم کا پاسپورٹ منظرعام پر

    سڈنی حملہ،بھارتی شہری ساجد اکرم کا پاسپورٹ منظرعام پر

    سڈنی حملے میں ملوث بھارتی شہری ساجد اکرم اور اس کے بیٹے کا پاسپورٹ منظر عام پر آ گیا

    بھارتی نژاد دہشت گرد ساجد اکرم کا پاسپورٹ بھارتی سفارتخانہ نے 24 فروری 2022 کو 10سال کے لیے جاری کیا تھا،بھارتی سفارتخانہ کو پہلے دن سے حملہ آور کی بھارتی شہریت کا علم تھا،بھارتی حکام نے جان بوجھ کر حقیقت چھپا کر اپنے میڈیا کو پاکستان پر الزام تراشی کے لیے وقت دیا،سڈنی حملے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا تھا، بھارتی میڈیا نے حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی تھی،بھارت کی اس مذموم کوشش کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔

    دی گارڈین کے مطابق آسٹریلیا نے 2020 میں بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ کے 2 اہلکار ملک بدر کیے تھے،آسٹریلیا سے نکالے گئے بھارتی ایجنٹ آسٹریلیا میں مقیم بھارتیوں کی پروفائلنگ میں ملوث تھے،ماہرین کا کہنا تھا کہ سڈنی حملے میں ملوث دہشت گرد بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک ہو سکتے ہیں،دہشت گرد ساجد اکرم نے چند روز قبل بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر بھی کیا تھا،