Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • علیم خان کی نئے صوبوں کے قیام کی تجویز،ایم کیوایم کی حمایت

    علیم خان کی نئے صوبوں کے قیام کی تجویز،ایم کیوایم کی حمایت

    ایم کیو ایم پاکستان نے آئی پی پی کی ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کی حمایت کردی، استحکام پاکستان پارٹی نے حمایت کاخیر مقدم کیا ہے۔

    ترجمان آئی پی پی کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کیلئے ساتھ دینے پر ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ایم کیو ایم نے نئے صوبوں پر عبدالعلیم خان کی حمایت کرکے قومی سوچ کی عکاسی کی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی کشادہ دلی سے نئے صوبوں پر ساتھ دیں، ایم کیو ایم نے ملکی فلاح و بہتری کی بات کی ہے، نئے صوبوں کا قیام ہی مسائل کا حل ہے۔ترجمان آئی پی پی کا کہنا ہے کہ اختیارات کی تقسیم، مقامی سطح پر مسائل کا حل، چھوٹے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، نئے صوبوں کیلئے سیاسی وسماجی سطح پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔ترجمان استحکام پاکستان پارٹی نے کہا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ نیا نہیں، 28 جنوری 2013ء کی رپورٹ پر من و عن عمل ہونا چاہیے، صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس گڈ گورننس لائیں گے، صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے نئے صوبوں پر منفرد سوچ کا اظہار کیا، ایم کیو ایم کی طرف سے عبدالعلیم خان کی تجاویز کی حمایت خوش آئند ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب، سندھ، کے پی، بلوچستان کے نام بدلے بغیر نئے صوبے بن سکتے ہیں، سیاسی جماعتیں جمہوری طرزعمل کا مظاہرہ کریں، نئے صوبوں کیلئے ہم آواز ہوں، ایم کیو ایم نے 12 نئے صوبوں کی بات کرکے خود کو قومی دھارے میں شامل کیا، استحکام پاکستان پارٹی تمام جماعتوں کو نئے صوبوں پر بات چیت کی دعوت دیتی ہے۔

  • دعا ہے پی آئی اے کے معاملات اچھے انداز میں نمٹ جائیں۔وزیر خزانہ

    دعا ہے پی آئی اے کے معاملات اچھے انداز میں نمٹ جائیں۔وزیر خزانہ

    لاہور میں آل پاکستان چیمبرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اداروں کے اندر کمی کوتاہی کو دور کریں گے، جنوری تک این ایف سی پر کمیٹی کو بلاکر آگے بڑھیں گے، این ایف سی میں چاروں صوبوں نے ایک دوسرے کی بات سنی۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹرکچرل ریفارمز پر بات ہوگی، ہر طرف بات ہورہی ہے آئی ایم ایف نے مزید پابندیاں لگائیں، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کیے جائیں، سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے کیلئے قانون سازی کرچکے، یہ اضافی شرط نہیں، عملی اقدام ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے اصلاحات متعارف کرائیں، پاسکو کو بند کر رہے ہیں، جہاں جہاں اصلاحات کیں، بہتری آرہی ہے، المیہ ہے معاشی پالیسیوں میں روز تبدیلی ہوتی ہے، معیشت چلے گی تو ملک چلے گا، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ہے، پرائیویٹ سیکٹر نے ملک کو لیڈ کرنا ہے، وفاقی حکومت کا سائز کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ فارمل سیکٹر نے کہا نان کمپلائنس سیکٹر کے پیچھے جائیں، سروسز سیکٹر میں بہتری آرہی ہے، خوشی ہے پرائیویٹ سیکٹر حکومت سے ملکر کام کررہا ہے، ہمیں نیو اکانومی کی طرف جانا ہے، ہم نے حکومتی اخراجات کم کیے ہیں، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کر چکے، دعا ہے پی آئی اے کے معاملات اچھے انداز میں نمٹ جائیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگلے سال کا بجٹ پالیسی ساز بنائے گا، ہر شعبے کو برآمدات بڑھانے کیلئے کام کرنا ہوگا، ٹیکس پالیسی آفس تاجر برادری سے 24 گھنٹے رابطے میں رہے گا۔

  • بی ایس ڈی آئی،سول انتظامیہ، پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کا مشترکہ ترقیاتی اقدام

    بی ایس ڈی آئی،سول انتظامیہ، پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کا مشترکہ ترقیاتی اقدام

    (بی ایس ڈی آئی) بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو

    بی ایس ڈی آئی حکومتِ بلوچستان کا ایک اہم ترقیاتی پروگرام ہے، جو سول انتظامیہ ،پاک فوج ،ایف سی بلوچستان اور مقامی نمائندوں کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔اس کا مقصد ان چھوٹے مگر ضروری منصوبوں کی تکمیل ہے جو ماضی میں صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر یا نظرانداز ہوتے رہے۔ کیوں کہ پی ایس ڈی پی میں منصوبے طویل عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچتے تھے اور کچھ وجوہات کی بنا پر ادھورے بھی رہ جاتے تھے ، جبکہ بی ایس ڈی ائی منصوبوں پر کام کرنے کا عمل تیز اور کرپشن سے پاک صاف ہیں۔

    حکومتِ بلوچستان نے ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) قائم کی ہیں، جن میں ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ چیئرمین، متعلقہ ایم پی اے کا نمائندہ اور فیلڈ فارمیشن کے افسران شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں ان ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو مقامی عوام کی فوری ضرورت ہوتی ہیں۔ڈی سی سی کی سفارشات پر بلوچستان کے 35 اضلاع میں مجموعی طور 969 منصوبے بی ایس ڈی آئی میں شامل کئے گئے ، جن میں سے ایف سی بلوچستان نارتھ کے ایریا میں 23 اضلاع شامل ہیں، ان اضلاع میں ٹوٹل 568 منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مالیت 8705 ملین روپے بنتی ہے، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    359 منصوبے زیرِ غور ہیں۔
    44 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
    75 منصوبوں کے ورک آرڈر جاری ہو چکے۔
    90 منصوبوں کے ورک آرڈر تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمانڈر 12 کور کی ہدایات کے مطابق فیز ون اور فیز ٹو کے تمام منصوبے 30 مئی 2026 تک مکمل کرنا لازمی مکمل کرنے ہیں۔بی ایس ڈی آئی کو مکمل شفافیت کے اصول پر تشکیل دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے PIU( پروگرام امپلیمنٹیشن یونٹ) بطور مانیٹرنگ ٹیم کام کر رہی ہے ، جو معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہی ہیں۔

    عوام نے بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری مقامی سطح کے منصوبوں پر واضح اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے سول انتظامیہ ،پاک فوج ،ایف سی بلوچستان اور تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا ہے، جن کی بدولت ترقیاتی کام پہلے سے زیادہ تیزی، شفافیت اور مؤثر انداز میں جاری ہیں۔

  • پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے  کیلئے پوری طرح تیار ہے،فیلڈمارشل عاصم منیر

    پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے،فیلڈمارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے،

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا،فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کی مضبوطی کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے فارمیشن کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور مجموعی تیاری کی تعریف کی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےافسران اور جوانوں کے بلند حوصلے اور قومی سلامتی کیلئے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی،جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، تیز فیصلہ سازی، درستگی اور صورتحال سے آگاہی کی اہمیت پر زور دیا،قومی سلامتی کے لیے افسران اور جوانوں کے غیر متزلزل عزم کو سراہا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دشمن کی ہائبرڈ مہم، انتہاپسند نظریات ، قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں .جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی و قت کا تقاضا ہے ،پاک فوج تقسیم پیدا کرنے والے عناصر کی طرف متوجہ اور نمٹنے کیلئے تیار ہے،جدید جنگ تقاضا کرتی ہے فورسز میں چستی، درستگی اور حالات سے باخبر رہنے کی صلاحیت ہو،جدید جنگ یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ فورسز میں بروقت فیصلے کرنے کی اہلیت ہو،

  • پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی،عارف علوی،علی ظفر،اعظم سواتی،علی محمد خان ” آؤٹ”

    پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی،عارف علوی،علی ظفر،اعظم سواتی،علی محمد خان ” آؤٹ”

    دھڑے بندی، اختلافات یا بانی کی ہدایات، تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، نئی سیاسی کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

    پاکستان تحریک انصاف سیاسی کمیٹی سے بڑے بڑے نام آؤٹ ہوگئے، نئے چہروں کی انٹری ہوئی ہے۔پی ٹی آئی نے سیاسی کمیٹی سے عارف علوی، سینیٹر علی ظفر، علی محمد خان اور اعظم سواتی کو نکال دیا، شاہ فرمان، قاسم سوری، زلفی بخاری اور شہباز گل بھی فارغ ہوگئے۔نئی سیاسی کمیٹی میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، شیخ وقاص اکرم شامل ہیں جبکہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی فیصلہ سازی کیلئے اعلیٰ ترین فورم کا کردار ادا کرے گی۔

  • سپریم کورٹ، آٹھ سالہ بچہ زیادتی کیس،ملزم کی اپیل خارج

    سپریم کورٹ، آٹھ سالہ بچہ زیادتی کیس،ملزم کی اپیل خارج

    سپریم کورٹ نے 8 سال کے بچے سے زیادتی کے کیس میں ملزم عاصم گُل کی اپیل خارج کردی ہے

    ملزم عاصم گُل کی 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار ہے۔ اس حوالے سے جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس پر سماعت کی تھی،سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچے کی گواہی، طبی اور ڈی این اے شواہد سے مطابقت رکھتی ہے، شواہد میں کوئی تضاد یا قانونی نقص ثابت نہیں ہوا، متاثرہ بچے کی والدہ نے بتایا بچہ گھر لوٹا تو گردن پر خراشیں تھیں اور بچہ پریشان تھا، متاثرہ بچے نے بتایا کہ ملزم پتنگ اور کنچے دینے کا جھانسہ دے کر لے گیا تھا، ملزم عاصم گُل بچے کو زیرِ تعمیر دکان میں لے گیا جہاں زیادتی کی گئی، بعدازاں اڈیالہ جیل میں شناخت پریڈ ہوئی جس میں متاثرہ بچے نے ملزم کی شناخت کی۔

    سپریم کورٹ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 12 اپریل 2021 کو عاصم گُل فراز کو مجرم قرار دیا تھا اور 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 4 اگست 2021 کو دونوں اپیلیں مسترد کردی تھیں۔

  • اپیل کا حق فیض حمید کے پاس ہے لیکن نوازشریف کو نہیں دیا گیا تھا،خواجہ آصف

    اپیل کا حق فیض حمید کے پاس ہے لیکن نوازشریف کو نہیں دیا گیا تھا،خواجہ آصف

    سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت نااہل کیا گیا، نواز شریف پر من گھڑت الزامات لگائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو سازش کے تحت لایا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ 12 سال پہلے بانی پی ٹی آئی کا پروجیکٹ شروع کیا گیا، فیض حمید کی سربراہی میں بانی کو اقتدار میں لایا گیا، فیض حمید اور بانی ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم تھے، بانی پی ٹی آئی نے ملک کے ساتھ 4 سال کھلواڑ کیا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین کیخلاف حکم فیض حمید کی طرف سے آتا ہے، بانی پی ٹی آئی کیلئے 9 مئی برپا کیا گیا، آج بھی سازشی عناصر بانی کو واپس لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ فیض اور بانی کا گٹھ جوڑ قائم رہتا تو پاکستان اندر سے برباد ہوجاتا، انہیں انجام تک نہ پہنچایا گیا تو ملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا، اپیل کا حق فیض حمید کے پاس ہے لیکن نوازشریف کو نہیں دیا گیا تھا۔

  • پاکستان میں بھی انفلوئنزا کیسز سامنے آ گئے

    پاکستان میں بھی انفلوئنزا کیسز سامنے آ گئے

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صورتِ حال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہری وائرل انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں، جس کے باعث سرکاری و نجی اسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کا رش غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔طبی ذرائع کے مطابق لاہور میں انفلوئنزا کے مریضوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد میں خشک اور مسلسل کھانسی، شدید نزلہ و زکام، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، بخار اور عمومی کمزوری جیسی علامات عام پائی جا رہی ہیں۔ کئی مریضوں کا کہنا ہے کہ علامات شدت اختیار کر رہی ہیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    ماہرینِ صحت کے مطابق اس وقت انفلوئنزا تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسپتالوں میں آنے والے بیشتر مریض انفلوئنزا اے کی علامات کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دسمبر سے فروری تک کے مہینوں میں موسم کی تبدیلی، سرد اور خشک ہوا اور احتیاطی تدابیر میں کمی کے باعث انفلوئنزا کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل اور پھیپھڑوں کے مریض اس وائرس سے جلد متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ان میں پیچیدگیوں کا خدشہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کی علامات عموماً 7 سے 10 روز تک برقرار رہتی ہیں، تاہم بعض کیسز میں بیماری کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فی الحال انفلوئنزا کے مخصوص لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے، تاہم کلینکل تشخیص کی بنیاد پر مریضوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی علامات واضح طور پر انفلوئنزا کی نشاندہی کر رہی ہیں، جسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ کھانسی، بخار اور نزلہ زکام کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری بھیڑ میں جانے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور علامات شدید ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور آگاہی سے انفلوئنزا کے پھیلاؤ کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فلو کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ ’سب کلاڈ K‘ کے باعث برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔برطانوی محکمہ صحت کے مطابق اسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 2600 سے زائد مریض داخل ہو رہے ہیں، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔برطانوی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کوویڈ کے بعد اسپتالوں پر سب سے بڑا دباؤ ہے، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ نئی قسم زیادہ خطرناک نہیں لیکن اس کا پھیلاؤ معمول سے پہلے شروع ہو گیا ہے۔

    پاکستان میں بھی سپر فلو انفلوائنز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 20 فیصد نمونوں میں وائرس کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ ’سب کلاڈ K‘ کی موجودگی پائی گئی۔اس حوالے سے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے بتایا کہ سپر فلو وائرس کی علامات بھی دیگر انفلوئنزا کی طرح ہی ہوتی ہیں یعنی سر میں درد، نزلہ، بخار جیسی علامات ہوتی ہیں۔ڈاکٹر رانا جواد نے بتایا کہ اس وائرس کو سپر فلو اس کے لیے کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں جو متوقع تعداد ہوتی ہے اس سے زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وائرس میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔

  • خشک سردی کی لہر کے خاتمے کی امید، بارش کی پیشگوئی

    خشک سردی کی لہر کے خاتمے کی امید، بارش کی پیشگوئی

    پاکستان میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری خشک اور سرد موسم کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے خوش آئند پیشگوئی جاری کرتے ہوئے بارشوں اور برفباری کے دو مختلف اسپیلز کی اطلاع دے دی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 15 دسمبر تک ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ہے، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا اور خشک موسم کا تسلسل ٹوٹنے کی امید ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران مری، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں برفباری متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر بارش بھی ہو سکتی ہے۔ مری میں ہلکی برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے تاہم شہریوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر عرفان ورک کا کہنا ہے کہ اگرچہ بالائی علاقوں میں موسم کی صورتحال میں واضح تبدیلی آئے گی، تاہم جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے مکین زیادہ بارش کی امید نہ رکھیں۔ ان کے مطابق وفاقی دارالحکومت اور اس کے گردونواح میں زیادہ سے زیادہ بوندا باندی ہو سکتی ہے، جبکہ نمایاں بارش کا امکان کم ہے۔بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان کے شمالی و مغربی علاقوں میں بارش اور ہلکی برفباری متوقع ہے، جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں 19 دسمبر کو مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر بارش اور برفباری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں دن کے درجہ حرارت میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کے باعث سردی کی لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گرم لباس کا استعمال کریں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والے افراد موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہیں،ماہرین موسمیات کے مطابق یہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ فضائی آلودگی اور اسموگ میں کمی کا بھی باعث بن سکتی ہیں، تاہم سرد علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔

  • اشتہارات کی بندش،میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش،صحافتی تنظیمو ں کا اعلامیہ جاری

    اشتہارات کی بندش،میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش،صحافتی تنظیمو ں کا اعلامیہ جاری

    صحافی تنظیموں اور میڈیا کےنمائندہ اداروں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر سرکاری اشتہارات کی بندش کو ادارتی آزادی پر براہِ راست حملہ اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی، جس میں پی بی اے، سی پی این ای، پی ایف یو جے، اے پی این ایس اور ایمنڈ شامل ہیں، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی اظہارِ رائے کو محدود کرنے اور آزاد صحافت کو کمزور کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی ہے۔کمیٹی نے واضح کیا کہ اس غیر جمہوری اقدام کا سب سے نمایاں نشانہ ڈان گروپ ہے، جہاں ادارتی پالیسیوں اور غیر جانبدارانہ صحافت کے باعث طویل عرصے سے اخبار اور اب ٹی وی و ریڈیو کےاشتہارات بند کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا اظہار ہے کہ میڈیااداروں کو معاشی نقصان پہنچا کر ان کی ادارتی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اشتہارات کی بندش کی یہ کارروائیاں مستقبل کے مزید خطرناک اقدامات کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو نہ صرف صحافت بلکہ جمہوریت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ میڈیا اداروں کے خلاف سرکاری اشتہارات کو بطور دباؤ استعمال کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔بالخصوص ڈان گروپ پر لگائی گئی اشتہاری پابندیاں فی الفور ختم کی جائیں۔اورایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں میڈیا ادارے کسی انتہائی اقدام پر مجبور
    ہوں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے