Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بونڈی فائرنگ واقعہ، آسٹریلین نیشنل امامز کونسل کا شدید ردعمل، متاثرین سے یکجہتی کا اظہار

    بونڈی فائرنگ واقعہ، آسٹریلین نیشنل امامز کونسل کا شدید ردعمل، متاثرین سے یکجہتی کا اظہار

    آسٹریلیا کے معروف ساحلی علاقے بونڈی میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے پر آسٹریلین نیشنل امامز کونسل (ANIC)، کونسل آف امامز نیو ساؤتھ ویلز اور آسٹریلوی مسلم برادری نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔

    آسٹریلین نیشنل امامز کونسل کی جانب سے 14 دسمبر 2025 کو جاری کردہ عوامی بیان میں کہا گیا ہے کہ بونڈی میں ہونے والی فائرنگ جیسے پرتشدد واقعات کا معاشرے میں کوئی جواز نہیں اور ایسے جرائم برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو مکمل طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ کونسل کی ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو اس ہولناک واقعے کے عینی شاہد بنے یا کسی بھی طرح ذہنی و جسمانی طور پر متاثر ہوئے۔ کونسل نے اس واقعے کے بعد کمیونٹی میں پائے جانے والے خوف، کرب اور بے چینی کو تسلیم کرتے ہوئے تمام سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور مکمل تعاون کا اظہار کیا۔

    آسٹریلین نیشنل امامز کونسل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ہوشیار رہیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یہ وقت تمام آسٹریلوی شہریوں کے لیے، بشمول مسلم برادری، اتحاد، باہمی احترام اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ اسلام سمیت تمام مذاہب تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی، سماجی ہم آہنگی اور تمام شہریوں کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ آسٹریلین نیشنل امامز کونسل ملک بھر کی تمام ریاستوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد ائمہ کرام کی نمائندگی کرتی ہے اور مختلف مذاہب و برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • افغان طالبان کا بگرام ایئربیس پر مبینہ فوجی تیاریوں سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب

    افغان طالبان کا بگرام ایئربیس پر مبینہ فوجی تیاریوں سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی جانب سے بگرام ایئربیس پر جدید فوجی ساز و سامان، جنگی طیاروں اور بکتربند گاڑیوں کی تیاری سے متعلق پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے پر ایک معروف امریکی جریدے نے تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ شائع کر دی ہے، جس میں اس دعوے کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی جریدے کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، آزاد ذرائع اور تکنیکی شواہد کے جامع تجزیے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بگرام ایئربیس پر کسی قسم کی عملی سطح پر جنگی طیاروں یا بکتربند گاڑیوں کی تیاری یا جدید مرمت کا کوئی منظم نظام موجود نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے درحقیقت ناکارہ اور غیر فعال طیاروں اور بکتربند گاڑیوں کو محض رنگ و روغن کر کے رن وے اور کھلے مقامات پر کھڑا کر رکھا ہے تاکہ انہیں فعال عسکری طاقت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگی مشقوں، طیاروں کی مبینہ مرمت، عسکری پریڈز اور اڈے کی سرگرمیوں کی ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں، جن کا مقصد داخلی و خارجی سطح پر اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر دکھانا اور عوامی تاثر کو گمراہ کرنا تھا۔ تاہم امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز میں دکھایا گیا ساز و سامان تکنیکی اعتبار سے غیر فعال ہے اور اسے عملی جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    دفاعی و سکیورٹی ماہرین نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طالبان رجیم اپنی حقیقی سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے منظم ریاستی عسکری ڈھانچے کے بجائے مختلف غیر باقاعدہ اور مسلح گروہوں پر انحصار کر رہی ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار اور فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑا گیا تھا، جو بعد ازاں طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگ گیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس ساز و سامان کی بڑی تعداد یا تو ناکارہ ہو چکی ہے یا اس کے مؤثر استعمال کے لیے درکار تکنیکی مہارت اور پرزہ جات طالبان کے پاس موجود نہیں۔امریکی جریدے کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر طالبان کے عسکری دعوؤں، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر عالمی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

  • قادری ہاؤس پولیس چھاپہ،17 افراد گرفتار،بھتہ خوری کی اطلاع پر کاروائی کی،پولیس

    قادری ہاؤس پولیس چھاپہ،17 افراد گرفتار،بھتہ خوری کی اطلاع پر کاروائی کی،پولیس

    کراچی پولیس نے بھتہ خور گروہ میں شامل ہونے کے الزام میں جواد قادری اور شاہزیب ملا سمت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    ایس ایس پی عمران خان نے بتایا ہے کہ ناظم آباد میں قادری ہاؤس پر بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ملزم ریحان کی نشاندہی پر چھاپہ مارا گیا،چھاپے میں جواد قادری اور شاہزیب ملا سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے، ریحان جمشید کوارٹر میں بھتہ خوری اور فائرنگ میں ملوث تھا، گرفتار کیے گئے ملزمان بھتہ خور گروہ کے سرغنہ صمد کاٹھیاواڑی اور وصی اللّٰہ لاکھو کا نیٹ ورک چلاتے تھے، گرفتار ملزمان پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے، ملزمان کا سابقہ کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    دوسری جانب پاکستان سنی تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قادری ہاؤس پر پولیس کے چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہیں، 20 سے زائد ذمے داران و کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، قادری ہاؤس کے کیمروں کو بھی توڑ دیا گیا، طاقت کے استعمال سے حق و سچ کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، ثروت اعجاز قادری کو کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا

    کراچی میں قادری ہاؤس پر پولیس کارروائی پر ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن عمران خان نے کہا ہے کہ ثروت اعجاز کے گھر سے چھاپے میں 17 افراد کو حراست میں لیا گیا، سنی تحریک کے رہنماؤں کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا،انٹیلیجنس معلومات اور تکنیکی شواہد کی روشنی میں بھتہ خور گروپ وصی اللّٰہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواڑی کیخلاف کارروائی کی گئی، کارروائی پہلے سے گرفتار ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی۔ ملزم ریحان الدین چار سال تک بھتہ کیس میں جیل میں رہا ہے۔ ملزمان ایسی جگہ سے گرفتار ہوئے اس لیے معاملہ حساس ہوگیا، 3 بھتہ خور اور تین شوٹرز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ملزمان جمشید روڈ پر کار شوروم سے بھتے کے لیے فائرنگ میں ملوث ہیں، گرفتار 17 ملزمان میں سے 8 ملزمان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ ملا ہے، دیگر ملزمان کے جرائم ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے، سال بھر میں بھتہ خوری کے 169 واقعات ہوئے تھے جس میں 65 واقعات بھتہ خوری کے تھے جبکہ دیگر واقعات ذاتی معاملات کے تھے،کل ہونے والی واردات میں کسی دوسرے گروہ کا نام سامنے آرہا ہے، جو لوگ دورانِ تفتیش سامنے آئے انہیں گرفتار کیا گیا، 17ملزمان حراست میں ہیں، تمام سے تفتیش کی جارہی ہے

    قادری ہاؤس سے اسلحہ ملتا اور وہیں واپس جمع ہوتا تھا، بھتہ خور ملزم کے انکشافات سامنے آ گئے، ایس آئی یو سے فائرنگ کے تبادلے میں گزشتہ روز گرفتار ہونے والے بھتہ خور ملزم ریحان الدین عرف ڈاکٹر نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔نیو ایم اے جناح روڈ کار شوروم پر فائرنگ کرنے والے گرفتار مرکزی ملزم ریحان عرف ڈاکٹر نے کراچی کے تاجروں اور دکانداروں سے بھتہ خوری کے حوالے سے ساری تفصیل بیان کردی۔اس حوالے سے پولیس نے بتایا ہے کہ ریحان عرف ڈاکٹر نے حلقہ این اے 238 سے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا جس میں شکست ہوئی۔دوران تفتیش ملزم نے بتایاکہ وہ جواد قادری عرف واجہ براہ راست صمد کاٹھیاواڑی کیلئے کام کرتا ہے، کراچی میں جواد قادری بھتہ خوری کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ملزم ریحان عرف ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ سنی تحریک کے مرکز قادری ہاؤس سے اسلحہ ملتا اور واپس وہیں جمع ہوتا تھا۔ایم اے جناح روڈ پر شوروم مالک سے بھتے کے واقعے بارے میں ملزم نے بتایا کہ ہمیں اس کی معلومات ملی تھیں تو شاہزیب کو شوروم پر فائرنگ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔اس تاجر سے 50 لاکھ روپے بھتے کی رقم ملنا تھی جس میں سے میں 25 لاکھ روپے رکھتا اور باقی 25 لاکھ خبر دینے والے کو دیتا تھا۔ملزم ریحان عرف ڈاکٹر نے بتایا کہ صمد کاٹھیاواڑی کے کارندے، نیو کراچی، جمشید روڈ، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں رہتے ہیں، 10سے زائد بھتہ خور ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔

  • میسی کی بھارت میں بدترین اور ذلت آمیز مہمان نوازی،شرمناک داستان رقم

    میسی کی بھارت میں بدترین اور ذلت آمیز مہمان نوازی،شرمناک داستان رقم

    لیجنڈری فٹبالر میسی کے ساتھ بھارت نے بدترین اور ذلت آمیز مہمان نوازی کرکے شرمناک داستان رقم کردی۔

    کولکتہ اسٹیڈیم میں سیکیورٹی کی شرمناک ناکامی کے باعث فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کو جان کے خوف سے اسٹیڈیم چھوڑنا پڑا،بھارت میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کے ساتھ جاہلانہ رویہ مودی کے بھارت کی اصل تصویر ہے۔ میسی کے ساتھ بد اخلاقی بھارتی عوام کی زہریلی ذہنیت اور بے حس مودی کے گھٹیا پن کی انتہا ہے۔

    غاصب مودی کے ہندوتوا راج میں بھارت کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی معمول بن چکی ہے،اسٹیڈیم میں بے قابو ہجوم، مودی کے ’شائننگ انڈیا‘ کے جھوٹے دعووں کو ریزہ ریزہ کرگیا،بھارتی میڈیا کے مطابق لیونل میسی کا کولکتہ ایونٹ ناقص سیکیورٹی کی وجہ سے بد ترین بد نظمی کا شکار ہوا اور سالٹ لیک اسٹیڈیم میدان جنگ بن گیا،کولکتہ میں سالٹ لیک اسٹیڈیم میں بھارتی ہجوم نے لیونل میسی کی طرف بوتلیں اچھالیں، کرسیاں توڑیں اور اسٹیڈیم کے انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا،انتہا پسند بھارتیوں نے جھنڈے لہرا کر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے۔

  • سابق بھارتی آرمی چیف کا پاکستان کی برتری کا اعتراف

    سابق بھارتی آرمی چیف کا پاکستان کی برتری کا اعتراف

    بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) وید پرکاش ملک نے عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید جنگی صلاحیتوں نے پاک بھارت دفاعی حکمتِ عملی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحد عبور نہیں کی، کیونکہ جدید اسٹینڈ آف ویپنز کے ذریعے دور سے کارروائیاں ممکن ہو چکی ہیں،جنرل (ر) ملک کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک نے ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی ہے، تاہم پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں بہتر ہتھیار اور جدید عسکری سازوسامان موجود ہے۔ انہوں نے رافیل طیاروں اور ایس -400 دفاعی نظام کی تباہی کو پاکستان کی عسکری برتری کی مثال قرار دیا،سابق بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ بھارت کو اپنی فوجی تیاریوں، ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ جدید جنگیں اب روایتی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہو چکی ہیں۔

  • کراچی سے 3 ہائی پروفائل ملزمان،3 شوٹرز سمیت 9 گرفتار

    کراچی سے 3 ہائی پروفائل ملزمان،3 شوٹرز سمیت 9 گرفتار

    ایس آئی یو نے کراچی میں بڑی کارروائی کی، 3 ہائی پروفائل ملزمان اور 3 شوٹرز سمیت 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق وصی لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواڑی نیٹ ورک سے ہے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ملزمان بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہے تھے، وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد بیرون ملک چھپے ہوئے ہیں۔ایس ایس پی کے مطابق گرفتار ملزم ریحان الدین کار شو روم پر فائرنگ کے مقدمے میں ملوث تھا، ایک ماہ قبل جمشید کوارٹر تھانے میں بھتے کا مقدمہ درج ہوا تھا۔عمران خان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، ابتدائی تفتیش میں گرفتار 8 افراد کا کریمنل ریکارڈ ملا ہے۔

  • امریکا سے جاپان جانے والا یونائیٹڈ ایئرلائنز کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    امریکا سے جاپان جانے والا یونائیٹڈ ایئرلائنز کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    امریکا سے جاپان جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز ایک سنگین تکنیکی خرابی کے باعث بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ورجینیا سے روانگی کے کچھ ہی دیر بعد طیارے کے ایک انجن میں اچانک خرابی پیدا ہوگئی، جس کے بعد پائلٹ نے فوری طور پر ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے طیارے کو واپس واشنگٹن کے ڈالیس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا۔رپورٹس کے مطابق طیارے نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ہنگامی لینڈنگ کی، تاہم لینڈنگ کے دوران رن وے کے قریب آگ بھڑک اٹھی، جس سے ایئرپورٹ پر ہلچل مچ گئی۔ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، جس کے نتیجے میں کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔

    ایئرلائن حکام کے مطابق خوش قسمتی سے طیارے کو آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تمام مسافر و عملہ محفوظ رہے۔ اس پرواز میں مجموعی طور پر 275 مسافر اور عملے کے 15 ارکان سوار تھے، جنہیں بحفاظت طیارے سے اتار لیا گیا۔ مسافروں کو بعد ازاں ایئرپورٹ لاؤنج میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی دیکھ بھال اور متبادل سفری انتظامات کیے گئے۔یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انجن میں خرابی کی اصل وجہ جاننے کے لیے تکنیکی ماہرین کی ٹیم نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ حفاظتی اصولوں کے مطابق طیارے کو مکمل معائنہ کے بعد ہی دوبارہ پرواز کی اجازت دی جائے گی۔ حکام نے اس واقعے کو حفاظتی نظام کی بروقت کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا جس کی بدولت ایک ممکنہ بڑے حادثے سے بچاؤ ممکن ہوا۔

  • دبئی میں ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث کارندہ گرفتار

    دبئی میں ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث کارندہ گرفتار

    کراچی، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے دبئی میں ملازمت دلانے کے نام پر لڑکیوں کو بیرون ملک اسمگل کرنے والے گروہ کے ایک اہم کارندے کو گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت شاہ زیب کے نام سے ہوئی ہے، جسے امیگریشن کلیئرنس کے دوران حراست میں لیا گیا۔ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب وزٹ ویزے پر دبئی جانے والی ایک لڑکی نے امیگریشن عملے کو آگاہ کیا کہ اسے ہوٹل میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے۔لڑکی کی بروقت نشاندہی پر ایف آئی اے نے فوری تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث شاہ زیب کو گرفتار کرلیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ شاہ زیب نے مرکزی اسمگلر ندیم سے ملنے والی رقم کے عوض لڑکی کے وزٹ ویزے، ہوائی ٹکٹ اور دیگر سفری دستاویزات (شومنی) کا انتظام کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ملزم شاہ زیب نے مجموعی طور پر 4 لاکھ 20 ہزار روپے وصول کیے، جن میں سے 40 ہزار روپے ایئرپورٹ پر کلیئرنس کے لیے اسلم نامی ایجنٹ کو دیے گئے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس سے اسمگلنگ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور بیرون ملک روابط کے حوالے سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف قانونی اور مستند ذرائع اختیار کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا انسانی اسمگلنگ سے متعلق فوری طور پر ایف آئی اے کو اطلاع دیں۔

  • ڈی ایس پی عثمان حیدر کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کیس کا معمہ حل، ڈی ایس پی خود قاتل نکلا

    ڈی ایس پی عثمان حیدر کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کیس کا معمہ حل، ڈی ایس پی خود قاتل نکلا

    لاہور: ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور کمسن بیٹی کی گمشدگی کا معمہ بالآخر حل ہو گیا، جہاں پولیس افسر عثمان حیدر نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

    ڈی آئی جی ذیشان رضا نے پریس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے دورانِ تفتیش اپنی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ ان کے مطابق عثمان حیدر نے دونوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا اور بعد ازاں واقعے کو اغوا کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ڈی آئی جی کے مطابق عثمان حیدر نے تقریباً ایک ماہ قبل تھانہ برکی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروائی تھی، جس میں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم تفتیش کے دوران شواہد، بیانات اور تکنیکی بنیادوں پر کیس میں اہم پیش رفت ہوئی، جس کے بعد ملزم پر شک مضبوط ہوا اور سخت تفتیش کے نتیجے میں اس نے جرم کا اعتراف کرلیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عثمان حیدر کی بیٹی کی لاش کاہنہ کے علاقے سے جبکہ اہلیہ کی لاش شیخوپورہ سے برآمد کر لی گئی ہے۔ دونوں لاشوں کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کی غرض سے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی ذیشان رضا کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ قتل کے محرکات، پسِ پردہ عوامل اور واردات کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کو میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • سڈنی،بونڈی بیچ پریہودی فیسٹول کے دوران فائرنگ،کم از کم دس افراد کی موت

    سڈنی،بونڈی بیچ پریہودی فیسٹول کے دوران فائرنگ،کم از کم دس افراد کی موت

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر تھوڑی دیر پہلے ایک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دو مسلح افراد نے وہاں موجود لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

    یہ حملہ ایک یہودی کمیونٹی کے ہانوکا (حنوکا) فیسٹیول کے دوران ہوا، جو ساحل پر منعقد کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے دو ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے اور صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔بانڈی بیچ دنیا کا ایک مشہور اور علامتی سیاحتی مقام ہے، جسے مختلف سرویز کے مطابق اکثر دنیا کا بہترین ساحل قرار دیا جاتا ہے۔

    یہ علاقہ یہودی آبادی سے گنجان آباد ہے اور آسٹریلیا کے امیر ترین مضافاتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔یہاں کئی معروف اور بااثر شخصیات رہائش پذیر رہی ہیں، جن میں کیری پیکر اور ان کے صاحبزادے جیمز پیکر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قریبی مضافات میں آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر، آسٹریلوی ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز، شین واٹسن اور متعدد دیگر آسٹریلوی کرکٹرز بھی رہتے ہیں۔سن 1986 میں عمران خان نے بھی کرکٹ این ایس ڈبلیو کے ساتھ اپنے دور کے دوران یہاں قیام کیا تھا۔

    یہ فائرنگ یہودی تہوار ہنوکا فیسٹیول کے دوران پیش آئی۔واقعے کے بعد دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔تاحال حملے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔حملے میں دس ہلاکتیں ہوئی ہیں

    ماضی میں بھی سڈنی میں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 2014 میں ایک عراقی شخص کی جانب سے سڈنی کے مرکزی علاقے میں واقع لنڈٹ کیفے میں فائرنگ کا واقعہ شامل ہے، جس میں بے گناہ افراد نشانہ بنے تھے۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران سڈنی میں مہاجرین کے خلاف متعدد احتجاجی ریلیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔اس کے علاوہ، صرف دو ہفتے قبل آسٹریلوی سینیٹر پاؤلین ہینسن پارلیمنٹ میں مکمل برقع پہن کر داخل ہوئیں، جس پر دو مسلم سینیٹرز فاطمہ پے مین اور لاہور میں پیدا ہونے والی مہرین فاروقی کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی۔اگرچہ معاشرے میں مہاجرین کے خلاف نفرت کے رجحانات دیکھے جا رہے ہیں، تاہم بانڈی میں ہونے والا یہ حملہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔یہ واقعہ کسی بھی قسم کے تشدد یا نفرت کے لیے کوئی جواز فراہم نہیں کرتا۔

    گزشتہ سال ہی بونڈی شاپنگ مال میں ایک ذہنی مریض شخص نے ایک پاکستانی سیکیورٹی گارڈ کو چاقو مار کر قتل کر دیا تھا، تاہم اس حملے میں اس نے بے گناہ سفید فام افراد کو بھی نشانہ بنایا تھا۔آج کی یہ فائرنگ ایک نہایت احمقانہ اور مکمل طور پر بے سوچے سمجھے عمل ہے۔آسٹریلیا ایک عظیم ملک رہا ہے اور مہاجرین کے لیے مواقع کی ایک بہترین سرزمین ثابت ہوا ہے۔