Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وطن سے محبت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    وطن سے محبت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے آج مختلف وفود سے ملاقات کے دوران ملکی سیاسی منظرنامے، معاشی بے یقینی اور بڑھتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ وقت تصادم، الزام تراشی اور محاذ آرائی کا نہیں، بلکہ پاکستان کو بچانے اور مضبوط کرنے کا ہے۔” اس وقت وطنِ عزیز نازک دور میں قومی اتحاد، مفاہمت اور فہم و فراست کا شدید تقاضا کرتا ہے، کیونکہ انتشار کی ہر چنگاری براہِ راست ریاستی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ سیاسی قیادت اور تمام ریاستی ادارے ذاتی انا اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں۔ موجودہ سیاسی کشیدگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے، جس کے منفی اثرات ملک کی سلامتی، معیشت اور معاشرتی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ: “ملک و قوم ہم سب کی مشترکہ امانت ہیں، یہ وقت دلوں میں فاصلے بڑھانے کا نہیں بلکہ وطن کی خاطر ایک دوسرے کے قریب آنے کا ہے۔”انھوں نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی، شدت پسندی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت پیچیدہ سیکیورٹی ماحول سے گزر رہا ہے، جہاں دشمن ہماری داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہیں۔لہذا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی تشکیل دی جائے، جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہو۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام نے افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کی حرمت، سرحدوں کی حفاظت اور امن کے قیام کے لیے ہمارے بہادر جوانوں نے جو قربانیاں دی ہیں، قوم انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا انہی شہیدوں اور غازیوں کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اپنا آج، قوم کے کل کی خاطر قربان کیا۔ وطن سے محبت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک ذمہ داری ہے۔ “پاکستان ہم سب کا گھر ہے، اور اس گھر کو محفوظ، مضبوط، خوشحال اور باوقار بنانے کے لیے اتحاد، مفاہمت اور قومی سوچ ناگزیر ہے۔” پوری قوم، سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت سے ہماری اپیل ہے کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی خاطر ایک مشترکہ راستہ اختیار کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مضبوط اور روشن مستقبل دیا جا سکے۔

  • سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    لاہور: فلم انڈسٹری کی معروف ہدایتکارہ سنگیتا سے بھتہ طلب کرنے، دھمکیاں دینے اور شوٹنگ کے دوران ہنگامہ آرائی پر شیراکوٹ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایک نامزد ملزم سمیت آٹھ افراد نے نہ صرف بھتہ طلب کیا بلکہ دھمکیاں دینے کے بعد شوٹنگ کا عمل بھی زبردستی رکوا دیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سنگیتا اپنی پروڈکشن کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ اسی دوران متعدد افراد وہاں پہنچے، عملے کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا، شوٹنگ کروانے سے منع کیا اور موقع پر توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی آلات متاثر ہوئے بلکہ پروڈکشن کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تھانے کے مطابق ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا تاکہ ہدایتکارہ اور ان کی ٹیم کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

  • انصاف کی بنیاد بھی سپہ سالار نے اپنے ہی ادارے سے رکھ دی ،فیصل واوڈا

    انصاف کی بنیاد بھی سپہ سالار نے اپنے ہی ادارے سے رکھ دی ،فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ جیسا میں نے کہا تھا اور اس وقت کہا تھا جب کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اور آج وہی ہوا۔14 سال قید یہ ابتدا ہے،ابھی تو فیض حمید اپنے ٹرائل میں 9 مئی کے شواہد اور گواہی خان صاحب / جادوگر اور دیگر کے خلاف دے رہے ہیں( اس سے فیض حمید کی سزا میں کوئی کمی نہیں ہو گی)

    ایکس پر ایک پوسٹ میں فیصل واوڈا کاکہنا تھا کہ یاد رہے فیض حمید کی چودہ سال سزا صرف ایک کیس (چار الزامات) میں ہے, 9 مئی سمیت باقی کیسز کا ٹرائل چل رہا ہے،9 مئی سے ایک سال پہلے مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا کیونہ میں اسی چیز سے اُن کو روک رہا تھا کہ 9 مئی کے راستے پر نہ جائیں اس سے واپسی نہیں ہو گی۔یاد رہے 9 مئی میں ملوث پی ٹی آئی کے لوگ جو سائیڈ پر ہیں وہ اور وہ جنہوں نے پاکستان کے خلاف اپنے قلم کا استعمال کیا ( اطہر) استعفی دینے کے باوجود نہیں بچیں گے سمیت ان کے جو آج بھی سیاست کو اسی راستے پر لے کر جارہے ہیں،قوم اپنے شہیدوں کی جیتی ہوئی فوج کے سپہ سالار عاصم منیر صاحب کو جی جان سے پیار کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جو 75 سال میں نہیں ہوا وہ انصاف کی بنیاد بھی سپہ سالار نے اپنے ہی ادارے سے رکھ دی ہے اور بتا دیا کہ پاکستان سے بڑا نہ کوئی جنرل ہے نہ کوئی جج نہ اور نہ کوئی سیاسی لیڈر ۔بلکہ سب سے پاکستان ہے۔

    فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جیسے کہا تھا پاکستان کے خلاف مرنے مارنے گالم گلوچ اور دشمنوں کا بیانیہ چلانے والوں کو ایک انچ کی بھی گنجائش اب نہیں دی جائیگی اور انہیں عبرت بنا دیا جائیگا ( قانونی طور پر) اور بربریت سے ملک دشمن عناصر کو ان کے انجام تک پہنچایا جائیگا۔پاکستان ہمیشہ زندہ آباد

  • چائے کی پیالی نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا،گورنر خیبر پختونخوا

    چائے کی پیالی نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا،گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جنرل فیض کی سزا سے پاکستان کی سیاست پر اچھا اثر پڑے گا، چائے کی پیالی نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا،فیض حمید کے ساتھ کوئی اور ملوث ہوگا تو ان کو بھی سزا ملے گی

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی آسمان سے نہیں اترے کہ انہیں سزا نہ ہو۔ پنجاب حکومت کو کہوں گا بانی پی ٹی آئی کو کہیں اور شفٹ کریں، اڈیالہ سے صوبہ چلایا جارہا ہے، سیکریٹریٹ اڈیالہ منتقل ہوگیا ہے۔ سیکریٹری پریشان ہیں کہ کس کی بات مانیں اور کس کی نہیں، خیبرپختونخوا حساس صوبہ ہے، وفاق اور صوبےکو ایک پیج پر ہونا چاہیے، ڈی پی او کو وزیراعلیٰ انگلی دکھائیں تو پولیس کا مورال کہاں ہوگا،افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ امن اور ترقی کے لیے پہلے لاارڈرز پر توجہ ضروری ہے۔ پولیس اور فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں، حملے بڑھ رہے ہیں، اور سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔

  • افغان طالبان کی اسرائیلی تنظیم اسرائیل ایڈ کو بلا روک ٹوک کام کرنے کی اجازت

    افغان طالبان کی اسرائیلی تنظیم اسرائیل ایڈ کو بلا روک ٹوک کام کرنے کی اجازت

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم اسرائیل ایڈ (IsraAID) کو ملک میں بلا روک ٹوک کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس سے افغان طالبان کی ترجیحات اور خطے کی سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل ایڈ دعویٰ کرتی ہے کہ افغانستان میں اس کا کام طبی امداد، آفات سے بچاؤ اور بے گھر افراد کی معاونت تک محدود ہے۔ تاہم افغان امور کے ماہرین کے مطابق تنظیم کی موجودگی سیکیورٹی خدشات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ یہ امدادی کام کے بہانے حساس سماجی اور قیادتی معلومات جمع کر سکتی ہے۔

    2001 میں قائم ہونے والی اور تل ابیب میں مرکزی دفتر رکھنے والی اسرائیل ایڈ متعدد ممالک میں امدادی سرگرمیاں انجام دیتی ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بنیادی طور پر ایک اسرائیلی تنظیم ہے جو اسرائیلی حکومت کے وسیع تر مفادات کے ساتھ وابستہ ہے۔

  • مولانا محمد طیب قریشی کا افغان علماء کے بیان کا خیرمقدم

    مولانا محمد طیب قریشی کا افغان علماء کے بیان کا خیرمقدم

    چیف خطیب خیبر پختونخوا اور تاریخی مسجد مہابت خان کے امام و خطیب، مہتمم جامعہ اشرفیہ پشاور مولانا محمد طیب قریشی نے افغانستان کے ایک ہزار سے زائد علماء کرام کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔

    افغان علماء نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں امیرالمؤمنین سے سفارش کی ہے کہ وہ عناصر جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں، انہیں ریاستی سطح پر باغی قرار دیا جائے۔مولانا طیب قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے اعلانات دونوں برادر مسلم ممالک کو قریب لانے اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ان کے مطابق پاکستان کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ افغان حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔چیف خطیب نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔انہوں نے کہا "تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے افغان بھائیوں کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ ماضی میں پاکستانی حکومت اور دینی مدارس نے طالبان کی ہر طرح سے مدد کی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن طالبان کی حکومت کے بعد جو توقعات تھیں، وہ پوری نہ ہو سکیں۔”ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ پالیسیوں سے سب سے زیادہ نقصان افغان حکومت کو ہی ہوگا، جبکہ اس کا فائدہ ان گروہوں کو پہنچے گا جو افغانستان میں عدم استحکام کے منتظر ہیں۔

    مولانا طیب قریشی نے افغانستان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے معاشی و سفارتی تعلقات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہا ہے۔انہوں نے کہا "جب افغان وزیر تجارت بھارت کے دورے پر تھے، انہی دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والے مندر کا افتتاح کیا، جس پر دنیا بھر کے مسلمان احتجاج کر رہے تھے۔ یہ صورتحال مقبوضہ کشمیر اور گجرات کے مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔”انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تجارت کے لیے افغانستان کو 57 اسلامی ممالک میں سے کوئی دوست ملک نہیں ملا؟چیف خطیب نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی، غلط فہمیوں اور دوریوں کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں اور خطے کو امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جائیں انہوں نے کہا "وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی گزاریں اور ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کریں۔ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ آنے والی نسلوں کو وہ مشکلات نہ دیکھنی پڑیں جن کا سامنا آج خصوصاً افغانستان کر رہا ہے۔”

  • شمالی وزیرستان، میر علی میں سرکاری پرائمری اسکول دھماکے سے تباہ

    شمالی وزیرستان، میر علی میں سرکاری پرائمری اسکول دھماکے سے تباہ

    شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں گزشتہ رات شدت پسند خوارج نے ایک اور بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے گورنمنٹ پرائمری اسکول ایاز کوٹ خوشخالی کو بم دھماکوں سے تباہ کر دیا۔

    دہشت گردوں کی جانب سے نصب کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے اسکول کی پوری عمارت منہدم ہوگئی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان پیش نہیں آیا۔عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ دور دور تک آواز سنی گئی، جبکہ اسکول کی عمارت کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرکے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم دشمن عناصر ایک بار پھر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بچوں کے مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا نہ صرف بزدلی کی علامت ہے بلکہ ترقی کے سفر کو روکنے کی ایک ناکام کوشش بھی ہے۔شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کو بحال رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ذمہ دار عناصر کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔مقامی آبادی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دھماکوں اور تخریب کاری کے باوجود وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے دور نہیں ہونے دیں گے اور ترقی کا سفر ہر صورت جاری رکھیں گے۔

  • ہرشہر کے ہرکونے کو صاف ستھرا نظر آنا چاہیے: مریم نواز

    ہرشہر کے ہرکونے کو صاف ستھرا نظر آنا چاہیے: مریم نواز

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ہر شہر کے بیوٹیفکیشن پلان کی تفصیلات اور تصویری جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بیوٹیفکیشن پلان فیز ون کی تکمیل کے لئے فروری سے مئی تک کاہدف مقرر کر دیا۔

    اجلاس میں ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر شہر کے بیوٹیفکیشن پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 39اضلاع میں 132بیوٹیفکیشن سکیمیں 16ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوں گی۔ 97 بیوٹیفکیشن سکیموں کے ورک آڈر جاری،88 بیوٹیفکیشن پراجیکٹ شروع ہوگے۔ لاہور میں بیوٹیفکیشن کے 18، سرگودھا میں 6، بہاولپور میں 16، گوجرانوالہ میں 12 پراجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔ راولپنڈی کے 17، فیصل آباد کے 13، ملتان 8 اور ساہیوال میں 24 بیوٹیفکیشن پراجیکٹ مکمل کیے جائیں گے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے بھر کے 33اضلاع میں بیوٹیفکیشن پراجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ بیوٹیفکیشن پراجیکٹ میں قدیمی دروازوں کی بحالی کے کام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہر بازار میں فائبر گلاس اور ٹین سائل کور لگائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہرشہر کے بیوٹیفکیشن پلان میں واٹر فیچر/فوارے، مصنوعی آبشارے شامل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مرکزی بازاروں میں روڈ کے درمیان خوبصورت گرین بیلٹ بنانے کا حکم دیا اور بیوٹیفکیشن پلان میں تیزی سے بڑھنے والے پودے اور سبزہ شامل کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فٹ پاتھ پر روایتی گرے ٹائلز کی بجائے خوبصورت کلرٹائل لگانے کا حکم بھی دیا۔
    اجلاس میں بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کے لئے ڈیش بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے بیوٹیفکیشن ڈیش بورڈ کور وزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں ڈی سی کی طرح اسسٹنٹ کمشنروں کے بھی کے پی آئیز مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس سے کارکردگی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ کھلے مین ہول،ٹوٹی سڑکیں، گندگی، کوڑے کے ڈھیر، ٹوٹی ہوئی گرین بیلٹ اور خراب (کلر)پینٹ پرذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ شہروں میں تجاوزات نظر آنے پر اسسٹنٹ کمشنر کو وارننگ دی جائیگی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ شہروں کی بیوٹیفکیشن کا عمل جاری رہے گا۔ ہر ضلع،شہر اور قصبے کو اینڈ ٹو اینڈ(مکمل) بیوٹی فائی کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کوئی ایک بازار نہیں، شہر کے ہرہرکونے کو صاف ستھرا نظر آنا چاہیے۔ بیوٹیفکیشن پراجیکٹ اور اپ گریڈیشن کے دوران عوام کی سہولت کا خیال رکھا جائے،کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رحیم یار خان کے چھ بیوٹیفکیشن پراجیکٹ31مارچ تک مکمل ہوں گے۔ بہاولپور میں بابا فرید گیٹ، الصادق مسجد کی قدیمی صورت کی بحالی اور کھڑکیوں پر ووڈ بال کونی بنے گی۔ بہاولنگر،فورٹ عباس، منچن آباد،چشتیاں میں پانچ بیوٹیفکیشن پلان 30جنوری تک تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منچن آباد اور چشتیاں کے بیوٹیفکیشن پلان کو ری ڈیزائن کرنے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیصل آباد کے 121 سال قدیم گھنٹہ گھر اور بازاروں کو تجاوزات سے پاک اور اپ گریڈیشن کی جاری رہی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، کمالیہ اورگوجرہ میں تین بیوٹیفکیشن پلان فروری تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ جھنگ، شورکوٹ،18ہزاری بیوٹیفکیشن پلان کے لئے 30اپریل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چینیوٹ میں روایتی قدیمی فرنیچر مارکیٹ کو جدید ڈیزائن میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے پورے گوجرانوالہ کو نئی اور خوبصورت شکل دینے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ نارووال، شکرگڑھ اور ظفر وال میں تین بیوٹیفکیشن سکیمیں 31 مئی تک مکمل ہوں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے گجرات شہر کی اپ لفٹنگ کا پلان تین روز میں طلب کر لیا۔ سیالکوٹ کے اقبال منزل بازار اور ملحقہ گلیوں کی شاندار اپ گریڈیشن 31 مئی تک ہوگی۔ راولپنڈی کے راجہ بازاراور کمرشل مارکیٹ ایریا کو جدید اور شاندار صورت دی جائے گی۔ اٹک اور احسن ابدال میں دو بیوٹیفکیشن پراجیکٹ مکمل کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چکوال کے چھپڑ بازار کا نام تبدیل کرنے کی ہدایت کی، 30مارچ تک بیوٹیفکیشن مکمل ہوگی۔ جہلم، دینہ، سوہاوہ اور پنڈدانخان میں بیوٹیفکیشن کے چار پراجیکٹ 397ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔

  • امریکا کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر کا پیکیج منظور

    امریکا کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر کا پیکیج منظور

    امریکا نے پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر کا پیکیج منظور کرلیا۔

    عرب نیوز کے مطابق منظوری کا ذکر امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کو آپریشن ایجنسی کے اُس خط میں کیا گیا ہے جو امریکی کانگریس کو ارسال کیا گیا۔ کانگریس کو لکھے گئے خط کے مطابق نئے معاہدے میں 16 ڈیٹا لنک سسٹم، کرپٹوگرافک آلات، ایویانکس اپ گریڈ، تربیتی ماڈیولز اور جامع پائیداری سپورٹ شامل ہیں، جن کا مقصد پاکستان کے ایف 16 بیڑے کو جدید بنانا ہے۔ اس اقدام سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان جاری انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے ایف 16 لڑاکا جہازوں کے اپ گریڈیشن پیکیج کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے اور دونوں ممالک کے معمول کے دفاعی تعاون کا حصہ قرار دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے پہلی بار 80ء کی دہائی میں امریکا سے ایف 16 جنگی طیارے خریدے تھے۔

  • دفاع پاکستان کیلئے علما کرام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،قاری یعقوب شیخ

    دفاع پاکستان کیلئے علما کرام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،قاری یعقوب شیخ

    چیئرمین رابطہ علماء و مشائخ پاکستان،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےعلما و مشائخ سے خطاب میں دہشتگردی کیخلاف جس عزم کا اظہار کیاقوم اسکی تائید کرتی ہے، افغان علما کی جانب سے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں،افغان طالبان علماء کے بیان کی تائید کریں اور افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو روکیں،

    قاری یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمےاور ملک کے دفاع کے لئے جس عزم کا اظہار کیا پاکستان بھر کے علما کرام تائید کرتے ہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے علماء مشائخ کو ملکی دفاع کے لئے اعتماد میں لینا خوش آئند ہے،پاکستان بھر کے علما کرام کلمہ کے نام پرحاصل ملک پاکستان کے دفاع و سلامتی کے لئے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،دہشتگردی کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں،افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں بصورت دیگر پاکستان کی مسلح افواج قیام امن کے لئے جو بھی فیصلہ کریں گے مرکزی مسلم لیگ سمیت پاکستان کے علما کرام،قوم مکمل تائید و حمایت کرے گی ، برادر ملک افغانستان کے ایک ہزار سے زائد علما کی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی قرارداد خوش آئند ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان طالبان عملی طور پر ٹی ٹی پی کو روکیں اور ان کی پشت پناہی ختم کریں،پاکستان نے افغانستان کے لئے ہمیشہ برادر ملک کے طور پر حق ادا کیا تاہم افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی پشت پناہی اور پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کا رویہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے، اس ضمن میں پاکستان نے دوست ممالک کے ساتھ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کئے ،تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن افغانستان کی جانب سے ہٹ دھرمی دکھائی گئی،اب افغان علما کی جانب سے فتوے کے بعد افغان حکومت اسکی تائید کرے ،افغان طالبان کے زیر سایہ ٹی ٹی پی سرگرم ہے،افغان طالبان گارنٹی دیں کہ پاکستان میں بسنے والوں پر ایک بھی گولی افغانستان کی سرزمین سے نہیں چلے گی،