Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا،ہدف کچہری تھی،عطا تارڑ

    جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا،ہدف کچہری تھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کچہری حملے کے ملزمان کو 48 گھنٹوں میں گرفتار کیا گیا، انٹیلیجنس بیورو اور سی سی ڈی نے حملے کے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، نور ولی محسود نے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کی،خودکش حملہ آور کا اصل ہدف کچہری تھا، لیکن سخت سکیورٹی نے منصوبہ ناکام بنایا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا، عثمان شنواری ننگرہار کا رہائشی ہے،سی ٹی ڈی نے ساجد اللّٰہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا ہے، ہینڈلر ساجد اللّٰہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا،ساجد اللّٰہ نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، ساجد اللّٰہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی،دہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اور اسلام آباد تھے، سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کسی ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے، دہشت گردوں کو اسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خودکش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا،دہشت گردوں نے افغانستان سے تربیت حاصل کی تھی، افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے حملے کی منصوبہ بندی کی،2023ء میں ساجد اللّٰہ نے داد اللّٰہ نامی شخص سے ملاقات کی، حملے کی منصوبہ بندی خوارج سرغنہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللّٰہ کے ذریعے کی، داد اللّٰہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے،ساجد اللّٰہ عرف شینا نے پاکستان واپس آکرخودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی۔ ساجد اللّٰہ عرف شینا مرکزی ملزم ہے، یہ تحریک طالبان کا رکن رہا ہے،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ تمام حقائق ہم نے قوم کے سامنے رکھے ہیں، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی، شہریوں کی حفاظت کے لیے ہم تمام تر اقدامات کریں گے۔

  • لڑکی کے بال کاٹنے کا واقعہ،متاثرہ لڑکی سامنے آ گئی، 3ملزمان گرفتار

    لڑکی کے بال کاٹنے کا واقعہ،متاثرہ لڑکی سامنے آ گئی، 3ملزمان گرفتار

    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک خاتون پر تشدد اور اس کے بال کاٹے جانے کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والے ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔

    متاثرہ خاتون نے اپنا نام ایمان بتایا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ڈیڑھ ماہ قبل پیش آیا تھا، اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ ثنا نامی لڑکی اور ارمان نامی شخص اسے اس کے گھر سے لے کر مصریال روڈ، کرسچن کالونی میں واقع ایک فلیٹ میں گئے، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے بال کاٹے گئے اور ویڈیو بنائی گئی، ملزمان بعد ازاں اسے بحریہ ٹاؤن میں ایک اور فلیٹ میں لے گئے، جہاں اسے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر دھمکایا گیا اور مزید ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔مصریال روڈ کے مقام پر ارمان کے ساتھ درانی، مٹھو اور ایک نامعلوم شخص سمیت 4 افراد موجود تھے، اس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، جس کا علم اسے لوگوں کے ذریعے ہوا۔ اس نے متعلقہ حکام سے ملزمان کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔اسلام آباد پولیس نے متاثرہ لڑکی کو ٹریس کر کے وقوعہ سے متعلق بیان ریکارڈ کیا۔ مختلف مقامات پر چھاپے مار کر ویڈیو میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ معاملہ دراصل راولپنڈی کی حدود کا ہے۔

    راولپنڈی میں لڑکی کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کرنے اور بال کاٹنے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد تھانہ نصیر آباد پولیس نے 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔افسوسناک واقعے میں ملوث ایک خاتون سمیت 2 ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ مقدمے میں 4 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا، جن میں سے 3 کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس نے ویڈیو بنانے کیلئے استمعال موبائل فون اور بال کاٹنے کیلئے استعمال کی گئی قینچی کی برآمدگی کیلئے ملزمان سے تفتیش شروع کردی ہے۔

  • اسٹیل مل وفاقی ادارہ،بار بار چوری کی وارداتیں، سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے،وقار مہدی

    اسٹیل مل وفاقی ادارہ،بار بار چوری کی وارداتیں، سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے،وقار مہدی

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے حکم پر سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے واٹر بورڈ کو ایک ہی روز میں این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی، جس کے بعد اسٹیل ٹاؤن اور گلشنِ حدید کے رہائشیوں کو پانی کی فراہمی ایک ہفتے میں شروع ہوجائے گی۔

    کمشنر آفس کراچی میں سینیٹر خالدہ اطیب نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کی۔ دیگر کمیٹی ممبران میں سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر مسرور احسن اور سینیٹر حسنیٰ بانو شامل تھیں۔ اجلاس میں کمشنر کراچی سید حسن نقوی بھی موجود تھے۔ یک نکاتی ایجنڈا اجلاس کا مقصد اسٹیل مل کے مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ پانی نا ہونے کی وجہ سے گلشن حدید اور اسٹیل مل کی کالونیز چار مہینے سے سخت اذیت کا شکار ہیں، اس کیلئے کوئی متبادل سہولت دیں تاکہ اہلیانِ علاقہ کو پانی مل سکے۔ کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ میئر کراچی نے پانی کا متبادل پراجیکٹ دیا تھا لیکن کے-الیکٹرک کی وجہ سے وہ آپریشنل نہیں ہو پارہا کیونکہ کے الیکٹرک نے اس کیلئے ایک بڑا بل بنا دیا ہے، کے ای سے درخواست کی گئی تھی کہ اس بل کو کم کریں اور فوری طور پر کنکشن کو بحال کردیں، اگر ادھر کوئی ٹرانسفارمر لگانا ہے یا کوئی سب اسٹیشن فعال کرنا ہے تو فوری تنصیب کردیں، اس کے چارجز سندھ حکومت بعد میں ادا کردے گی۔

    چیف آپریٹنگ آفیسر واٹر بورڈ اسداللہ خان نے کہا کہ پانی کے جن عارضی کنکشن کی بات ہورہی ہے، وہ حدود اسٹیل مل کی ہے، ہمیں این او سی چاہیے کیونکہ درخواست گزار واٹر بورڈ ہے اور جس جگہ پر کنکشن لگنا ہے وہ اسٹیل مل کی جگہ ہے، فوری حل یہ ہے کہ سندھ حکومت کی ہدایت پر ہم نے پمپنگ اسٹیشن بنا دیا، ہم تین کلومیٹر طویل لائن لے کر آگئے، اب ہمیں ایک ریزروائر میں پانی بھیجنا ہے، اسٹیل مل نے اس کی لائٹ بند کی ہوئی ہے، عوام کی سہولت کیلئے سب سے پہلے اسٹیل مل اس کی بجلی بحال کردے، اس دوران کے الیکٹرک نے ہماری درخواست پر سروے کرلیا ہے، جب تک ان کو این او سی نہیں ملتا، کے ای نے ہم سے کہا کہ اسٹیل مل سے این او سی دلوا دے تو ہم وہاں پی ایم ٹی لگوا کر بجلی بحال کردیں گے۔

    سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے کہا کہ این او سی ہم آج ہی جاری کردیں گے جس پر کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ این او سی آج کی تاریخ میں جاری کرنے کے ساتھ ہی اس کی کاپی مجھے بھجوائی جائے، پانی بہت ضروری ہے، بنیادی ضرورت میں آتا ہے، یہ مسئلہ فوری حل کیا جائے۔ڈائریکٹر کےالیکٹرک نے کہا کہ سروے پہلے ہی ہوچکا ہے، ایک ٹرانسفامر آنا ہے، 11 کلوواٹ کی لائن جارہی ہے، اس سے ٹرانسفامر جوڑ دیا جائے گا۔ این او سی کے بعد ایک ہفتہ لگے گا ٹرانسفارمر آئے گا، کیبلنگ ہوگی۔ صوبائی محکمہ توانائی ہمیں ادائیگی کی یقین دہانی کرا دے تو ہم فی الفور کام کردیں گے۔

    اسٹیل مل کی اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کرانے کے معاملے پر سی ای او اسٹیل مل کا کہنا تھا کہ انہیں پولیس فورس کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان قابضین پر ایف آئی ار بھی ہونی چاہیے تاکہ ان کا کریمنل ریکارڈ بنے، اس کے بعد ان کے خلاف ٹھوس کارروائی ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹی انکروچمنٹ کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیں، میں ہوں، اگر ڈپٹی کمشنر ملیر ملاقات کیلئے آجائیں تو انہیں ناجائز قابضین کی تفصیلات بتا دی جائیں گی۔کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ اسٹیل مل کی اراضی پر کوئی ناجائز قبضہ کرلے تو اس پر فوری ایکشن ہونا چاہیے انہوں نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو ہدایت دی کہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور قبضہ مافیا سے سرکاری اراضی واگزار کرائیں۔اس موقع پر سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے کہا کہ اسٹیل مل کے پاس 1675 ایکڑ اراضی ہے جو غیر انتقال شدہ ہے، وہ ہمارے نام پر منتقل نہیں ہوئی تھی، اس پر وفاقی حکومت اور اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے فیصلہ کردیا تھا کہ یہ اسٹیل مل کی زمین ہے، آپ اسے اسٹیل مل کے نام پر منتقل کرکے ریکارڈ میں ٹھیک کردیں، ہمیں خطرہ ہے کہ اس زمین بھی قبضہ نا ہوجائے۔

    سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ اس زمین کی دستاویزات ڈی سی ملیر سے اور کمیٹی سے شیئر کریں، انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ آپ لینڈ ایکویزیشن کی تفصیلات نکالیں، 70 کی دہائی میں کتنی اراضی اسٹیل مل کو دی گئی تھی، کتنی اراضی پر اسٹیل مل بنی اور کتنی اراضی خالی ہے، یہ تمام تفصیلات ہم سے بھی شیئر کیجیے۔ایک موقع پر سینیٹر مسرور احسن نے اعتراض اٹھایا کہ اسٹیل مل میں فنانس کا بیک گراؤنڈ رکھنے والا کوئی عہدیدار نہیں ہے، ہر اجلاس میں ایک نیا عہدیدار مالی معاملات کی تفصیل دینے بیٹھا ہوتا ہے۔ سینیٹر وقار مہدی نے اسفتسار کیا کہ مل سے ہونے والی چوری کی وارداتوں کے بعد ریکوری کتنی ہوچکی ہے؟ ڈپٹی کمشنر ملیر نے بتایا کہ 2024 میں 9 ایف آئی آر ہوئے جس میں 5 میں ریکوری ہوئی 4 میں کوئی نہیں جبکہ 2025 میں 29 ایف آئی آر میں سے 24 میں کچھ نا کچھ ریکوری ہوئی ہے جبکہ 5 میں کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔

    چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر خالدہ اطیب نے استفسار کیا کہ اسٹیل مل میں 10 ارب کی چوری ہوئی تھی جس میں ایک ہی شخص ملزم تھا، اس میں کتنی ریکوری ہوئی؟ کیا اس ملزم کو گرفتار کیا گیا؟ اسٹیل مل کے سی ایف او نے جواب دیا کہ وہ کیس ایف آئی اے کے پاس ہے، کیس پیپلز یونین نے داخل کیا تھا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کیس آپ لوگوں کو کرنا چاہیے تھا، مال اسٹیل مل کا چوری ہوا، آپ کو پتا ہوگا اس کی کتنی مالیت تھی۔

    سینیٹر خالدہ اطیب نے سوئی گیس حکام کی طرف سے کسی نمائندے کی اجلاس میں شرکت نا کرنے کا سخت نوٹس لیا، انہوں نے کہا کہ کچھ ہفتے پہلے ہی گیس کی ایک بڑی تنصیب چوری ہوئی ہے اور سوئی گیس سے کسی نے اجلاس میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔سینیٹر وقار مہدی نے سیکیورٹی افسر سے استفسار کیا کہ ایک ہی جگہ سے دس دفعہ چوری ہوئی، آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے ہدایت دی کہ اسٹیل مل کا مکمل سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے، بار بار چوری کی وارداتیں روکنے کیلئے سیکیورٹی خامی کا معلوم ہونا ضروری ہے، اسٹیل مل وفاقی ادارہ ہے، اگر اس کی حفاظت مشکل کام ہے تو ایف سی سے بات کرکے سیکیورٹی لے لیجیے۔

    اجلاس میں مختلف ورکرز یونین کے عہدیداران نے دیگر مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ٹاؤن میں ایک سال سے گیس، چار مہینے سے پانی بند ہے۔ ملازمت سے نکالے گئے افراد کو ان کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، بجلی کے تین ہزار کے بل پر مختلف ٹیکسز لگا کر 72 ہزار روپے بھیجا جارہا ہے۔ کرایہ 805 روپے سے بڑھا کر 17 ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ ہمیں نوکری سے نکالا گیا، کیس عدالت میں ہے۔ اپیلیٹ کورٹ نے حکم دیا کہ جب تک آپ ان کو واجبات ادا نہیں کرتے تب تک ان کو ملازم تصور کیا جائے، ان کو تنخواہ جاری کی جائے، دونوں کام نہیں ہوئے۔ اسٹیل مل نے ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا۔ جن لوگوں کو واجبات ادا نہیں ہوتے تب تک ہمارے کرائے اور بل مناسب ہونے چاہئیں۔ واجبات ادا ہوجائیں گے تو ہم مکان بھی ان کے حوالےکرکے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ نا ملنے کی وجہ سے محنت کشوں کے بچے کچرا چننے پر مجبور ہیں، فیس کی ادائیگی نا کرنے کی وجہ سے بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا، آپ ہمیں نکالنا چاہتے ہیں تو گولڈن ہینڈشیک دیں۔

  • الله اور رسول کی منظوری ہے تو میں عمرے پر جاؤں گا، شیخ رشید

    الله اور رسول کی منظوری ہے تو میں عمرے پر جاؤں گا، شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اللّٰہ کو منظور ہوا تو مجھے عمرے پر جانے کی اجازت ملے گی۔

    لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت نے میرے کیس میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، حکومت نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کیا ہے، ہمارا کیس آئندہ منگل تک چلا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام کے خلاف شیخ رشید احمد کی رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی،شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبدالرزاق خان کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے ،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام نے سنگل بینچ فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جسٹس رضا قریشی اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر کے حکم امتناع جاری کیا،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ عدالت نے شیخ رشید کو عمرے پر جانے دینے کے احکامات دے دیے تھے۔ شیخ رشید نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روکے جانے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں، دہشتگردی کے دو بڑے منصوبے ناکام

    سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں، دہشتگردی کے دو بڑے منصوبے ناکام

    خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے علی مسجد پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع پہاڑی سلسلے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران خفیہ ٹھکانے میں موجود خوارج شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کو علاقے میں موجود ایک خفیہ کمپاؤنڈ کے بارے میں ٹھوس معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد فوری اور حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشتگرد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق مارے گئے دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کمپاؤنڈ کو مکمل طور پر کلیئر کیا اور وہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مواد برآمد کرلیا۔ آپریشن میں کسی سیکیورٹی اہلکار کی جان و مال کا نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کاروں اور مزید ٹھکانوں کا سراغ لگایا جاسکے۔

    بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پولیس نے بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے صدر پولیس اسٹیشن کی حدود میں ریلوے ٹریک سے 3.5 کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا۔پولیس حکام کے مطابق ٹریک پر نصب مواد کی نشاندہی ہوتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا، جس نے کارروائی کرتے ہوئے دھماکا خیز ڈیوائس کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ یہ بروقت کارروائی ایک بڑے سانحے سے بچنے کا باعث بنی، کیونکہ چند ہی منٹ بعد جعفر ایکسپریس ٹرین اسی ٹریک سے گزرنے والی تھی۔علاقے کو مکمل طور پر سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔یہ دونوں کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت حکمتِ عملی اور مؤثر ردِعمل کا نتیجہ ہیں، جنہوں نے دہشتگردی کے سنگین منصوبے ناکام بنا کر شہریوں کی جانیں بچا لیں۔

  • ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ،تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے،انکشاف

    ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ،تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے،انکشاف

    پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، حملہ کرنیوالے تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے، بائیک ہیڈ کوارٹرز سے کچھ فاصلے پر کھڑی کی۔

    سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد کوہاٹ روڈ، سول کوارٹر سے جائے وقوعہ پہنچے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کے پاس کلاشنکوف اور 8 سے زائد دستی بم تھے، دہشتگردوں کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹنگ کیلئے لیبارٹری بھجوا دیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں 3 لوگ آئے تھے، حملہ آور افغان شہری تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹریک کررہے ہیں کہ حملہ آور کہاں سے آئے تھے، سی سی ٹی وی فوٹیجز پورے شہر سے اکٹھی کرلی ہیں، حملہ آوروں کی موٹرسائیکل تحویل میں لے لی ہے۔آئی جی کے پی نے کہا کہ پولیس کو ڈرونز سمیت جدید اسلحہ فراہم کررہے ہیں، دہشت گردوں کے حربوں میں تبدیلی آئی ہے۔

  • ضاطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پیش ہو گئے

    ضاطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پیش ہو گئے

    وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نےسماعت کی،وزیراعلی خیبر پختوانخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش ہوگئے ،ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور وکیل علی بخاری بھی ہمراہ کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہمارے پاس باقی درخواستوں کاریکارڈ نہیں،ہمارے خلاف چاروں درخواستیں یکجا کردیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اسکے لئے ایک درخواست دیں،الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ سہیل آفریدی خلاف الگ الگ درخواستیں آئیں،وکیل سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارےخلاف ایک کیس ڈی آراو آفس چل رہا ہے اور ایک یہاں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم آپکو سن لیں گے آپ جتنا مرضی وقت لیں،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کافیصلہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد کیلئے کمیشن کوئی بھی فیصلہ کرسکتاہے،جسٹس منیب اختر نے فیصلے توہین کمیشن کیس کی کاروائی کرنے کابھی کہا،وزیراعلی کے خلاف عوامی اور ڈی آراو نے شکایات کی ہے،

    الیکشن کمیشن کی سماعت میں پی ٹی آئی وکلاءنے شکوہ کر دیا کہ ہمارے وکلاء کوآنے نہیں دیاگیا،وکیل علی بخاری کا کہناتھا کہ ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختوانخوااور مجھ بھی شناخت کے باوجود روکا گیا،جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ شہر میں آفسران نئے آئے ہیں،اسلئے روکا ہوگا،وکلاء کے ساتھ اگر بدسلوکی ہوئی تو میں معذرت کرتا ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر نے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی

    سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218 تین الیکشن کمیشن کے اختیارات کو واضح کرتا ہے۔وزیر اعلیٰ کے پی کے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد میں جلسے پر کارروائی ہوئی تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کرے گا؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن سے قبل وزیراعظم ایسا خطاب کرتے تو انہیں بھی نوٹس جاری کیا جاتا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،سماعت ملتوی،فیصلہ محفوظ
    الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ معاملہ قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر مناسب آرڈر جاری کرینگے، کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرکے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ہو یا کوئی اور ادارہ ، ہم نے ماضی میں بھی ان کی عوام مخالف پالیسیوں پر تنقید کی ہے اور آئندہ بھی تنقید کریں گے.

  • سعودی عرب ہر پاکستانی کا دوسرا گھر ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی

    سعودی عرب ہر پاکستانی کا دوسرا گھر ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف سے ملاقات کی، جس میں سکیورٹی امور اور دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں برمی مسلمانوں کے لیگل سٹیٹس کے دیرینہ مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی،سعودی وزیرِ داخلہ نے اس معاملے کے حل کے لیے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی کوششوں پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر حملے میں شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے تعزیت بھی کی،فریقین نے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے لیے ٹریننگ ایکسچینج پروگرام پر اتفاق کیا، جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا ورکنگ گروپ آئندہ ماہ اجلاس منعقد کرے گا،محسن نقوی نے کہا کہ سعودی عرب ہر پاکستانی کا دوسرا گھر ہے اور پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ پائیدار تعلقات پر فخر ہے۔

    ملاقات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، پاکستان کے سفیر احمد فاروق، کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری نذیر گاڑا، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس اور سعودی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  • مقبوضہ کشمیر ،   37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    مقبوضہ کشمیر ، 37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    آج دنیا بھر میں ”خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے جب کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں خواتین 1947ء سے بھارت کے مسلسل فوجی قبضے اور سیاسی ناانصافیوں کی وجہ سے ناختم ہونے والے مصائب ، ریاستی دہشت گردی ، مظالم ، خوف اور اذیت کا بدستور شکار ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج کے دن کی مناسبت سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 37 برس کے دوران اپنی ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین کو شہید اور 11 ہزار 2 سو 69 کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔1989ء سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے 22 ہزار 9 سو 91 کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ درجنوں کشمیری خواتین بشمول حریت رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، صوبیہ عزیز، شیما شفیع وازہ، شائستہ مقبول، شمس بیگم، زیتون اختر، روبینہ نذیر، ثریا راشد وانی، شکیلہ، صائمہ بشیر میر ، مفیدہ اقبال ، راشدہ سلام دین، شفیقہ بیگم، سردہ بیگم، منیرہ بیگم، عشرت رسول، نگینہ منظور لون، آفرینہ المعروف آیات گنائی، افروزہ بیگم، شبروزہ بانو برکاتی، سلیمہ بیگم، گلشن ناز، دیوان باغ، نصرت جان، فرحت بیگم، حلیمہ بشیر ، نرگس بٹ ، آبانو ، نگینہ منیرہ بیگم ، پروین اختر ، مریم بیگم ، شمیمہ بیگم ، عظمیٰ وسیم، سلیمہ بی بی اور شہزادہ اختر نئی دلی کی تہاڑ سمیت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں مسلسل قید ہیں ۔بھارتی قابض فوجی کشمیریوں کو ان کے استصواب رائے کے سیاسی مطالبے پر اجتماعی سزا دینے کے لیے جنسی ہراساں کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہے ہیں جو کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کا ایک جنگی ہتھیار بن چکا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ، شوہروں اور بھائیوں کی جبری گمشدگیوں کی وجہ سے مسلسل اذیت کا شکار ہیں – اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی کشمیری خواتین کو بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری ظلم و تشدد سے نجات دلانے کیلئے اقدامات کرے ۔رپورٹ میں واضح کیا گیاہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری، شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر نامی دو خواتین کی عصمت دری اور قتل اور کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991ء کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران سو کے قریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔ باوردی بھارتی اہلکاروں نے 29 مئی 2009ء کو شوپیاں میں آسیہ اور نیلوفر کو اغوا کرنے کے بعد اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا اور بعد میں دونوں کو قتل کر دیا۔ جنوری 2018ء میں جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میں ایک 8 سالہ مسلم بچی آصفہ بانو کو بھارتی پولیس اہلکاروں اور دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ فرقہ پرست ہندوؤں نے اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا ۔ بھارتی فوج نوجوانوں کے قتل ، گرفتاری اور انکی جبری گمشدگی کے ذریعے خواتین کو مسلسل ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    اُدھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت ظلم و تشدد کے ذریعے کشمیری خواتین کو خوف و دہشت کا نشانہ بنانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا اور وہ تحریکِ آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کرتی رہیں گی ۔

    دریں اثناء خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر رہنماؤں محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، ایڈووکیٹ پرویز احمد، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، زاہد اشرف اور دیگر نے اسلام آباد میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں خواتین مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت نے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت کشمیری خواتین کی آبروریزی اور بے حرمتیوں کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019ء کے بعد کشمیری خواتین پر بھی قابض بھارتی فوجیوں کے مظالم میں تیزی آئی ہے ۔

  • پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے،عدالت پولیس پر برہم

    پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے،عدالت پولیس پر برہم

    کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش میں میری زیادہ دلچسپی نہیں۔ جسٹس نثار بھمبرو نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے؟، آپ کون ہوتے ہیں سرکاری کام سے انکار کرنے والے؟ عدالت نے کہا کہ مقدمے کے فیصلے تک پولیس کو کلین چِٹ نہیں ملے گی۔سندھ ہائی کورٹ نے پولیس افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کی تفتیش ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی ذاتی نگرانی میں تفتیش کروائیں، مفرور ملزم اور سہولت کاروں کو گرفتار کریں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے گئے ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔

    قمر عباس ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے نہ ملزم پکڑا نہ ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہٹائیں، مفرور ملزم نے مزید تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں۔عدالت نے پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی ہدایت بھی کردی۔