Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لڑکی کے زبردستی بال کاٹنے والے ملزمان کی شناخت ہو گئی،گرفتاری نہ ہو سکی

    لڑکی کے زبردستی بال کاٹنے والے ملزمان کی شناخت ہو گئی،گرفتاری نہ ہو سکی

    راولپنڈی میں لڑکی پر تشدد اور بال کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    راولپنڈی میں لڑکی پر تشدد، بال کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ کچھ لڑکے ایک لڑکی پر تشدد کے بعد اس کےبال کاٹ رہے ہیں،پولیس نے کارروائی کرتے واقعے کا مقدمہ تھانہ نصیر آباد میں درج کرلیا۔ مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ ویڈیو وائرل ہوئی، چند ملزمان لڑکی کے زبردستی بال کاٹ رہے تھے،پولیس کا مؤقف ہے کہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ واقعہ کرسچین کالونی راولپنڈی میں پیش آیا، لڑکی کے بال کاٹنے والے ملزمان نظار خان، انیس، جلیل خان اور جبار خان ہیں،مقدمے کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ نظار خان نے لڑکی کے بال زبردستی کاٹے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے 20 ہزار محنت کشوں کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا فیصلہ کرلیا، پنجابی زبان کو تعلیم اور عوامی زندگی میں مقام دلانے کیلئے اقدامات کا حکم بھی دیدیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں تمام محکموں کے بارے میں 6 گھنٹے طویل بریفنگ دی گئی، 20 ہزار محنت کشوں کو اپنے گھر کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں آرکیالوجی، اسپورٹس اور لیبر سمیت ہر شعبے کی جانچ پڑتال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کردی۔

  • الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں،سہیل آفریدی کی درخواست پر ریمارکس

    الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں،سہیل آفریدی کی درخواست پر ریمارکس

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے کی،دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے، خود نوٹس میں کہا گیا ہے جلسہ حویلیاں میں تھا جو این اے 18 کی حدود میں نہیں، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی،وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے میں کی گئی تقریر کی ٹرانسکرپشن پڑھ کر سنائی اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کوئی دھاندلی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی،جسٹس وقاراحمد نے کہا کہ آپ کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی تو نہیں کی، آپ الیکشن کمیشن کی کارروائی میں شامل ہوجائیں، تھوڑا انتظار کریں،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں، آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف 2 کارروائیاں چل رہی ہیں، ایک کارروائی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی ہے، پہلے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کارروائی مکمل کرے پھر الیکشن کمیشن کرے، الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو بائی پاس کر کے نوٹس دیا، الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اختیار نہیں۔الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کے عملے کو دھمکانا بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے، الیکشن کمیشن نے باقی امیدواروں کو بھی نوٹس دیے، بلاامتیاز کارروائی کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ اداروں پر اعتماد کریں، ہم نے ابھی کوئی ختمی فیصلہ نہیں کیا،جسٹس سیدارشد علی نے الیکشن کمیشن کے نمائندے استفسار کیا کہ ابھی تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو نااہل یا کام سے نہیں روکا،جسٹس ارشد علی نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے تحفظات کیا ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعلیٰ کے خلاف فوجداری سمیت کوئی بھی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ ہم اس میں آرڈر کرتے ہیں، عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  • خواتین پر تشدد کے خلاف متحد ہو جائیں۔وزیراعظم

    خواتین پر تشدد کے خلاف متحد ہو جائیں۔وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ آج خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان تمام دنیا کے ساتھ اس اہم مقصد کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی آواز کو بلند کررہا ہے۔ اس سال یہ دن "خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد” ہونے کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ عنوان جدید دور میں خواتین کو مختلف سطحوں اور پلیٹ فارمز پر تشدد اور حراساں کیے جانے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہ دن ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سوچیں اور اس عہد کی تجدید کرتے ہوۓ متحد ہو کر اس کے خلاف جدوجہد کریں۔ خواتین پر تشدد اور حراساں کیے جانے کے واقعات کےمکمل انسداد کے لیے ہمیں کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ جامع حکمت عملی میں نہ صرف اس طرح کے واقعات کا سدباب کے اقدامات شامل ہونا چاہئے بلکہ متاثرہ خواتین سے ہمدردی اور معاشرے کے استحصالی نظام کی اصلاح شامل ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد نہ صرف انسانیت، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرے کے امن و سکون اور ترقی و خوشحالی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ آئین پاکستان بڑے واضح الفاظ میں خواتین کی عزت و تکریم کی ضمانت دیتا ہے اور برابری کے حقوق فراہم کرتا ہے تاہم پھر بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو بہت سی صورتحال میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    حکومت پاکستان عالمی سطح پر خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی معاہدہ کو تسلیم کرتا ہے، اورحکومتی سطح پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پالیسی، قانون سازی، انتظامی, ادارہ جاتی اور دیگر اقدامات اٹھاے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں وزیراعظم کا خواتین کو بااختیار بنانے کا وزیراعظم کا پیکج بھی شامل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے ادارہ جاتی امداد کو یقینی بنانے کی بھی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں آزادانہ کمیشنز قائم کیے گئے ہیں جن قومی انسانی حقوق کمیشن, بچوں کے لیے قومی کمیشن اور خواتین کے لیےقومی کمیشن شامل ہے۔اس کے علاوہ خواتین کا تحفظ سینٹر، خواتین پولیس سینٹر، ہیلپ لائنز اور تشدد سے متاثرہ خواتین کی مالی اور قانونی امداد کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان خواتین کے قانونی تحفظ، انکی انصاف تک رسائی کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ حکومت پاکستان تمام متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ بھی تعاون کو جاری رکھے گی تاکہ خواتین کے تحفظ، خود مختاری اور انکی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم محض کوئی قانون یا حکومتی پالیسی خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے کو یقینی نہیں بنا سکتی جب تک معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو مجموعی ترجیح نہ بنایا جائے اور معاشرے میں اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے۔ہماری ثقافت و تہذیب میں بھی خواتین کے لیے برابری، عزت و تکریم اور ہر گھر میں اس کو یقینی بنانے کی تعلیم شامل ہے۔ آج پاکستان کے تمام شہریوں، نوجوانوں، تمام سماجی و مذہبی رہنما، اساتذہ سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ آئیے خواتین پر تشدد کے خلاف اور اسکے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔ آئیے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو مضبوط اور یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پختہ کا اعادہ کریں کہ پاکستان میں موجود ہر خاتون کسی بھی قسم کے خوف تشدد، استحصالی اور امتیازی سلوک سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے ۔ تمام متعلقہ حکومتی ادارے، معاشرہ، سرکاری اور غیر سرکاری آرگنائزیشنز اور عالمی تعاون مل کر ہی محفوظ، انصاف پسند اورخواتین کے لیے برابری پر مشتمل ماحول کو پاکستان میں یقینی بنا سکتے ہیں.

  • کینیڈا  کے شہر اوٹاوامیں ریفرنڈم، سکھوں کا بھارتی جابرانہ نظام کیخلاف اعلان بغاوت

    کینیڈا کے شہر اوٹاوامیں ریفرنڈم، سکھوں کا بھارتی جابرانہ نظام کیخلاف اعلان بغاوت

    کینیڈا کے شہر اوٹاوامیں ریفرنڈم، سکھوں کا بھارتی جابرانہ نظام کیخلاف اعلان بغاوت،فاشسٹ مودی کی فسطایت اور ظالمانہ پالیسیوں کیلئے سکھوں نے اپنی آزادی کا فیصلہ سنادیا

    اقلیتوں کے قاتل بھارت کیخلاف کینیڈامیں خالصتان کے حامی سکھوں کی کثیر تعداد میدان میں آ گئی،کینیڈا کی فضائیں مودی کی سفاکیت کیخلاف سکھ برادری کے بلند نعروں سے گونج اٹھیں،علیحدگی پسند تنظیم "سکھ فار جسٹس” کے مطابق؛کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 53ہزار سے زائد سکھوں نے "خالصتان ریفرنڈم” میں حق رائے دہی استعمال کیا،انتہائی سرد موسم کے باوجود سکھوں نے طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کے بعد ووٹ ڈالا،

    سکھ فارجسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ؛”کینیڈا ریفرنڈم ” ہندوتوا کے دہشتگرد مودی کی گولی اور بم کا جواب ہے ،مودی کی غاصبانہ پالیسیوں کی “سیاسی موت” بیلٹ اور عالمی احتساب کے ذریعے ہی ہو گی، 1984کی سکھ نسل کشی کے بعد اب مودی سرکار پنجاب میں "معاشی قتل "کر رہی ہے،کینیڈین ایجنسیز بتا چکی ہیں کہ مودی حکومت سکھوں کے قتل اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس میں ملوث ہے،

    بھارتی ریاستی ظلم و استبداد کیخلاف سکھوں کی بڑی تعداد نے آزاد ملک کااعلان کر دیا ہے،سکھ برادری پر جابرانہ رویے اور بھارتی دباؤ کے باوجود خالصتان تحریک عالمی سطح پر زور پکڑ چکی ہے

  • مودی طالبان گٹھ جوڑ ، افغانستان کی بھارت کوسرمایہ کاری کی پیشکش

    مودی طالبان گٹھ جوڑ ، افغانستان کی بھارت کوسرمایہ کاری کی پیشکش

    مودی طالبان گٹھ جوڑ افغان عوام کی معاشی بربادی کا نیا باب بن گیا

    انتہا پسند مودی کے کٹھ پتلی طالبان افغان وسائل بغیر ٹیکس کے بھارتی کمپنیوں کے حوالے کرنے پر تل گئے مموقع پرست بھارت افغانستان کی کمزور حالت کا فائدہ اٹھا کر قدرتی وسائل پر قبضہ جمانے کو تیار ہے،افغانستان کے صنعت و تجارت کے وزیر الحاج نورالدین عزیزی کا کہناتھا کہ؛ افغانستان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بھارتی کمپنیوں کو خصوصی مراعات دینے کے لیے تیار ہے،بھارت کو ٹیرف سپورٹ کے ساتھ ساتھ زمین بھی فراہم کی جائے گی ،نئی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ دی جائے گی،

    بھارت کو ٹیکس فری مراعات، جبکہ افغان عوام بھوک، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہے،بدحال افغانستان نے بھارتی سرمایہ کاروں کو ٹیکس چھوٹ دے کر کمزور معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا

  • عمران خان کے پاس موبائل سمیت کوئی ممنوعہ چیز موجود نہیں،جیل حکام

    عمران خان کے پاس موبائل سمیت کوئی ممنوعہ چیز موجود نہیں،جیل حکام

    اسلام آبادہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست میں جیل سپرنٹنڈنٹ کا اہم جواب سامنے آگیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ بانی کی جیل سے ہدایات نے ماضی میں کئی مواقع پر معاشرے میں تشدد کو ہوا دی، تاہم انہوں نے بانی کے ایکس اکاؤنٹ کی جیل سے آپریٹ ہونے کی تردید کر دی،سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں، بانی اور ان پر تعینات اسٹاف کو مستقل سرچ کیا جاتا ہے،عمران خان کے پاس موبائل سمیت کوئی ممنوعہ چیز موجود نہیں،موبائل سمیت کسی ممنوعہ چیز کی جیل رولز کے تحت اجازت نہیں، اڈیالہ جیل کے اندر موبائل فون سگنلز جیمر نصب ہیں، جیل کے اندر اور جیل کے باہر ملحقہ ایریا میں موبائل سگنلز بند ہوتے ہیں،جیل رول 265 قیدی بانی پی ٹی آئی کو سیاسی گفتگو سے روکتا ہے، جیل ٹرائل کے دوران بانی سے اس کی فیملی، وکلا ملاقات کرتے ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ قیدی بانی کے ساتھ سیاسی بحث مباحثے کرتے ہیں۔ بانی کی سیاسی ہدایات نے ماضی میں کئی مواقع پر معاشرے میں تشدد کو ہوا دی۔

    جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے نہیں چلایا جا رہا،عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل کے باہر سے ہی کوئی آپریٹ کر رہا ہے، موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت جیل کے اندر بانی کو دستیاب نہیں۔ بانی کو صرف جیل رولز یا عدالتی احکامات کے مطابق سہولیات میسر ہیں۔

  • پانچ مقدمات میں عمران،بشریٰ کی ضمانت میں توسیع،ویڈیولنک کے ذریعے پیشی کاحکم

    پانچ مقدمات میں عمران،بشریٰ کی ضمانت میں توسیع،ویڈیولنک کے ذریعے پیشی کاحکم

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 9 مئی سمیت دیگر پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا اور انہیں اگلی سماعت پر ویڈیولنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی اور دیگر پانچ مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیسز کی سماعت کی، جبکہ سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ اور زاہد شبیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ 23 دسمبر تک متعلقہ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی بلکہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے دونوں کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع دیتے ہوئے انہیں اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہونے یا ویڈیولنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی،عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث ضمانت کی درخواستوں پر دلائل نہیں دیے جا سکے، جس پر عدالت نے سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات، اقدامِ قتل اور مبینہ جعلی رسیدوں سمیت متعدد مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی جعلی رسیدیں جمع کرانے کا مقدمہ درج ہے۔

    دوسری جانب انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف 28 فروری جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز کی سماعت ہوئی۔ انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیسز پر سماعت کی،عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو 2 مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا۔ شبلی فراز کو مسلسل عدم حاضری کی بنیاد پر اشتہاری قرار دیا گیا۔،سابق وزیر قانون راجہ بشارت و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کیجانب سے سردار محمد مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے پیش ہونے والے ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کردی،یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف تھانہ رمنا میں 2 مقدمات درج ہیں۔

  • دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنانے کا فیصلہ

    دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنانے کا فیصلہ

    بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کے لیے دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنایا جائے گا۔

    سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے، پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے، 824 ارب روپے کا قومی فلڈ پروٹیکشن پلان مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کا منتظر ہے،سینیٹ کمیٹی نے صوبوں کو فوری طور پر دریاؤں پر تجاوزات مکمل طور پر ہٹانے کی ہدایت کر دی، چیئرمین کمیٹی نے پنجاب اور سندھ سمیت دریاؤں کے راستوں سے تجاوزات کے خاتمے کو یقینی نہ بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ اگر اگلے مون سون سے قبل یہ تجاوزات نہ ہٹائی گئیں تو یہ مجرمانہ فعل ہوگا،واپڈا حکام نے کمیٹی کو ملک بھر میں واٹر فلو کی نگرانی اور سیلاب سے قبل وارننگ سسٹم کے لیے نصب کیے جانے والے ٹیلی میٹری سسٹم پر بھی آگاہ کیا۔

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا مقدمہ درج

    ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا مقدمہ درج

    فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا، مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دہشت گردوں نے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ایف آئی آر کے مطابق 3 دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، ایک دہشت گرد نے مین گیٹ پر پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ 2 حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے 27 سے زائد گولیوں کے خول برآمد ہوئے، سیکیورٹی فورسز نے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔گزشتہ روز ہونیوالے حملے میں تینوں دہشت گرد مارے گئے تھے، حملے کے نتیجے میں ایف سی کے 3 جوان شہید جبکہ 11 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔