Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • میران شاہ میں پاک فوج کے افسران کی دار العلوم عربیہ کی دستار بندی تقریب میں شرکت

    میران شاہ میں پاک فوج کے افسران کی دار العلوم عربیہ کی دستار بندی تقریب میں شرکت

    شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں قائم دینی درسگاہ دارالعلوم عربیہ میں دستار بندی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ، اساتذہ، مدرسے کی انتظامیہ، مقامی عمائدین اور بڑی تعداد میں علاقہ مکینوں نے شرکت کی۔

    تقریب کے دوران پاک فوج کے افسران نے دینی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی علمی و تعلیمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس معاشرے میں اخلاقی اقدار، رواداری اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی علاقے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ پاک فوج نہ صرف ملکی دفاع کی ذمہ دار ہے بلکہ قبائلی اضلاع میں تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے فروغ کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں دارالعلوم عربیہ کی تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے پاک فوج کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی، تاکہ ادارہ مزید بہتر انداز میں اپنی خدمات انجام دے سکے۔

    تقریب کے اختتام پر مقامی عمائدین اور عوام نے پاک فوج کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی سرپرستی سے علاقے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے پاک فوج اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کا رشتہ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔آخر میں ملک کی سلامتی، ترقی اور امن کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

  • یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنیوالی طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کا فیصلہ

    یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنیوالی طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کا فیصلہ

    لاہور کی نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنیوالی طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لاہور کی نجی یونیورسٹی میں عمارت سے چھلانگ لگانے والی طالبہ جنرل اسپتال میں زیرعلاج ہے۔میڈیکل بورڈ نے 2 روز بعد طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ نیورو سرجن کے معائنے کے بعد سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔بورڈ کا کہنا ہے کہ طالبہ کی دماغی حالت ٹھیک اور بات سمجھ رہی ہے، مریضہ اپنے اہلخانہ سے بھی بات کررہی ہے، طالبہ آئی سی یو میں اور ادویات دی جارہی ہیں۔میڈیکل بورڈ نے مزید بتایا کہ طالبہ کے ساتھ ماہر نفسیات ہر وقت کام کررہا ہے، طالبہ کو گھبراہٹ اور اداسی کے علاج کیلئے ادویات دی گئی ہیں، مریضہ کی ذہنی کونسلنگ کے ساتھ فزیوتھراپی جاری ہے۔

    لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کا اقدام خودکشی، پولیس نے شامل تفتیش کیے گئے نوجوان کو کلیئر قرار دے دیا۔پولیس کا کہنا ہے واقعہ مکمل ذاتی نوعیت کا ہے، کسی دوسرے شخص کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا۔پولیس نے مزید کہا کہ نوجوان کی واقعے میں کوئی ذمہ داری یا غفلت ثابت نہیں ہوئی، طالبہ کے اقدام خودکشی پر کسی کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ وجوہات کا تعین کرنے کیلئے کال ریکارڈ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے، متاثرہ لڑکی کی حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا، نوجوان اویس کی خودکشی اور طالبہ کا اقدام خودکشی مختلف واقعات ہیں۔

  • ملازمین کے علاج معالجے کیلئے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ملازمین کے علاج معالجے کیلئے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں کے آغاز پر صوبائی کابینہ نے تشکر کا اظہار کیا۔

    بلوچستان کابینہ نے الیکٹرک بائیکس اسکیم عام آدمی کیلئے متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا، انٹر پرائزز ڈیولپمنٹ پروگرام کی گوادر، کیچ، آواران تک توسیع کی منظوری بھی دیدی گئی۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے منصوبوں کیلئے تعاون پر وزیراعظم کے مشکور ہیں، عام آدمی کے ٹیکس سے حاصل ہونیوالے وسائل عوام کی امانت ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بائیکس تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے افراد کو آسان اقساط پر دی جائیں گی، بلوچستان کا عام غریب آدمی مشکلات جھیلے اور وسائل کا بڑا حصہ مخصوص طبقے پر خرچ ہو یہ ناانصافی ہے، سرکاری ملازمین کے علاج معالجے کیلئے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں۔

    ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان صوبے کے تقریباً 2.5 لاکھ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ عوامی وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی کابینہ نے جامع ہیلتھ انشورنس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ اقدام علاج معالجے کی سہولیات کو شفاف، مؤثر اور پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ گڈ گورننس اور عوامی فلاح کے حکومتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔حکومتِ بلوچستان، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں، بہتر صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔

  • سہیل آفریدی کراچی پہنچ گئے،سعید غنی کراچی ایئر پورٹ پر موجود،جلسہ کی اجازت دینگے،ناصر شاہ

    سہیل آفریدی کراچی پہنچ گئے،سعید غنی کراچی ایئر پورٹ پر موجود،جلسہ کی اجازت دینگے،ناصر شاہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کراچی پہنچ گئے

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ مینا آفریدی اور شفیع جان سمیت دیگر بھی موجود ہیں،سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کے استقبال کے لئے کراچی ائرپورٹ موجود ہیں،بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے رہنما و کارکنان استقبال کے لئے جمع ہیں، پی ٹی آئی کے تمام کارکنان پر امن طریقے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا استقبال کرنے پہنچے، ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان پر امن طریقے سے کراچی ایئرپورٹ پر موجود ہیں،

    دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو جناح گراٶنڈ میں جلسہ کرنےکی اجازت کے لئے مشاورت جاری ہے، صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی کا سندھ میں بھرپور استقبال کریں گے، سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیاں کریں جلسہ بھی کر سکتے ہیں ، پی ٹی آئی سمیت کسی بھی جماعت کی پرامن جدوجہد کو نہیں روکا جا سکتا، قانون کی خلاف ورزی ہوں تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جلسے کی کوئی پابندی نہیں ہے کورنگی اور ساؤتھ میں بھی انھوں نے جلسے کی درخواست دی ہے ،پی ٹی آئی نے باغ جناح میں جلسے کی اجازت مانگی ہے وہ ان کو دی جارہی ہے،پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے بات چیت ہورہی ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے ائرپورٹ پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پیغام پاکستانی عوام کے نام ہے،حقیقی آزادی کا سفر جاری ہے،کراچی اہم سنگ میل ہے ،انشاء اللہ کراچی سے گونج اٹھے گی،کراچی کا جلسہ اہم ہوگا، ایک عہد کریں گے،اڈیالہ کی دیواریں اب گرنے والی ہیں ،سب سے کہتا ہوں ساتھ چلو

    کراچی روانگی سے قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اتوار کو مزار قائد پر جلسہ ہو گا، وزیر اعلیٰ سندھ نے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ میں پہلے وہاں موجود کے پی کے عوام سے ملوں گا اور ان کے مسائل وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے رکھوں گا،

  • امریکا میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ، پورٹ لینڈ اور منی ایپلس میں شدید کشیدگی

    امریکا میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ، پورٹ لینڈ اور منی ایپلس میں شدید کشیدگی

    امریکا میں وفاقی امیگریشن اداروں آئی سی ای اور بارڈر پیٹرول کی کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات نے ملک بھر میں شدید غم و غصے، احتجاج اور سیاسی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔

    ایک جانب ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں بارڈر پیٹرول ایجنٹ کی فائرنگ سے میاں بیوی زخمی ہو گئے، جبکہ دوسری جانب ریاست منیسوٹا کے شہر منی ایپلس میں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی نکول گڈ ہلاک ہو گئیں۔ دونوں واقعات کے بعد عوامی سطح پر شفاف تحقیقات اور وفاقی اہلکاروں کی جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

    پورٹ لینڈ میں پیش آنے والے واقعے کے مطابق وفاقی بارڈر پیٹرول اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، جس میں مبینہ طور پر ایک مشتبہ گینگ رکن موجود تھا۔ حکام کے مطابق اس دوران اچانک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار شوہر اور اس کی اہلیہ گولیوں کا نشانہ بن گئے۔فائرنگ کے فوراً بعد زخمی شخص نے خود 911 پر کال کی اور ڈسپیچر کو بتایا کہ اسے دو گولیاں لگی ہیں جبکہ اس کی بیوی بھی زخمی ہے۔ پورٹ لینڈ ایریا فائر اینڈ ریسکیو نے فوری طور پر امدادی ٹیمیں روانہ کیں اور دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی شناخت اور حالت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔پورٹ لینڈ پولیس چیف باب ڈے کے مطابق یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا فائرنگ کے وقت گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا یا نہیں، کیونکہ واقعے کے فوراً بعد گاڑی جائے وقوعہ سے نکل گئی تھی۔ اس واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی کر رہی ہے، جبکہ بیورو آف الکحل، تمباکو، اسلحہ و دھماکہ خیز مواد (ATF) بھی تفتیش میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔

    اوریگون کے اٹارنی جنرل ڈین رے فیلڈ نے واقعے کی باضابطہ ریاستی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جانچا جائے گا کہ آیا کسی وفاقی اہلکار نے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورٹ لینڈ اور پورے ملک میں وفاقی اہلکاروں کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال پر پہلے ہی تحفظات موجود ہیں اور یہ واقعہ شفافیت و جوابدہی کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔پورٹ لینڈ کے میئر کیتھ ولسن نے آئی سی ای سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات تک شہر میں اپنی تمام کارروائیاں معطل کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “پورٹ لینڈ کسی بھی قسم کے عسکری تجربات کی جگہ نہیں بن سکتا۔”

    دوسرا اور زیادہ سنگین واقعہ منی ایپلس میں پیش آیا، جہاں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ رینی نکول گڈ ہلاک ہو گئیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتولہ غیر مسلح تھیں اور واقعے کی ویڈیوز نے سرکاری مؤقف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔واقعے کے بعد منی ایپلس میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ مظاہرین نے جائے وقوعہ کے قریب سڑکیں بند کر دیں، عارضی رکاوٹیں قائم کیں اور علاقے کو “نو آئی سی ای زون” قرار دے دیا۔ بعض مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر منیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے ریاستی نیشنل گارڈ کو مقامی پولیس کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کی اجازت دے دی۔ منی ایپلس پولیس نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تمام افسران کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں ڈیوٹی پر واپس بلا لیا ہے۔گورنر ٹم والز نے جمعہ کو “یومِ اتحاد” منانے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے پرامن طریقے سے مقتولہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔

    منی ایپلس کے میئر جیکب فری نے وفاقی تحقیقات پر شدید شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی تفتیشی اداروں کو اہم شواہد اور مواد تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔سابق پراسیکیوٹر مائیکل فری مین نے نائب صدر کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فائرنگ کرنے والے آئی سی ای ایجنٹ کو “مکمل استثنیٰ” حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے مزید شواہد سامنے آنے تک حتمی رائے سے گریز بھی کیا۔

    پورٹ لینڈ، منی ایپلس اور دیگر شہروں میں سینکڑوں افراد نے شمع بردار تعزیتی اجتماعات منعقد کیے، جہاں “ابولش آئی سی ای” اور وفاقی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ نیویارک سمیت کئی شہروں کے میئرز اور سیاسی رہنماؤں نے ان واقعات کو سنگین قرار دیتے ہوئے وفاقی امیگریشن اداروں کی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے۔پورٹ لینڈ اور منی ایپلس میں پیش آنے والے ان واقعات نے امریکا میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے اختیارات، طاقت کے استعمال اور جوابدہی پر ایک نئی اور شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام، شہری رہنما اور ریاستی حکام شفاف، آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

  • حکومت عدالتی احکامات ماننے کو تیار نہیں، علیمہ خان

    حکومت عدالتی احکامات ماننے کو تیار نہیں، علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان قید تنہائی میں ہیں، ہمیں نہیں معلوم وہ کس حال میں ہیں۔

    راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت عدالتی احکامات ماننے کو تیار نہیں، ہمارے پاس کوئی فورم موجود نہیں جہاں جا کر اپنا کیس رکھیں، بشریٰ بی بی اور بانی کا کیس اس لیے نہیں لگا رہے تاکہ انکی ضمانت نہ ہو،پرسوں میرے وارنٹ جاری کیے، آج جج صاحب خود چھٹی پر چلے گئے، ہم نے پیر تک مہلت مانگی تھی، ہماری بات نہیں سنی گئی، آج میں عدالت میں پیش ہوئی لیکن سماعت ملتوی کردی گئی۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ سندھ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے سندھ حکومت راستے نہیں روک رہی، سندھ حکومت سمجھدار ہے، پنجاب میں عوامی مینڈیٹ والی حکومت نہیں اس لیے راستے روکے۔

  • وزیراعظم  سے متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس گروپ کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس گروپ کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس گروپ کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید موثر معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کی سمت بڑھ رہے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورۂ پاکستان نے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید تقویت دی ہے اور تعاون کے فروغ کے لیے سازگار فضا قائم کی ہے۔وزیراعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اور تبادلوں سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے نجی شعبوں اور سرمایہ کاروں کے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد میسر ائی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل جدت، بلاک چین اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں بزنس ٹو بزنس (B2B) تعاون کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں،اماراتی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری، جدت اور عالمی روابط اور پاکستان کی افرادی صلاحیت و قوت معاشی ترقی کے لئے نہایت مفید شراکت داری ہے۔

    سجوانی گروپ کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی شراکت داری کے مواقعوں پر مزید تعاون کرنے کی عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مضبوط حمایت کے ساتھ نجی شعبے کے اشتراک میں اضافہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔متحدہ عرب امارات کی سجوانی گروپ کے وفد نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا.

  • بہترین سفارت کاری، پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا،عالمی جریدہ

    بہترین سفارت کاری، پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا،عالمی جریدہ

    عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہےکہ بہترین سفارت کاری کی بدولت پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا ہے۔

    عالمی جریدے کے مطابق چین نے پاکستان کے خطے میں بڑھتے مؤثرکرداراوربہترین سفارت کاری کو بھرپوراندازمیں سراہا ہے، حکومت، ریاستی اداروں اور عوام کے قومی معاملات پریکساں دوٹوک مؤقف کی عالمی سطح پرپذیرائی ہورہی ہے، بہترین سفارت کاری کی بدولت پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا ہے۔ چین پاکستان کومعاشی طور پرمضبوط اور سرحدوں سےباہربھی مؤثرکردار اداکرنے والاملک تصورکرتا ہے، امریکا سے اچھے تعلقات کے ساتھ پاک چین دوستی بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، چین، پاکستان کے عالمی او رعلاقائی معاملات میں اہم کردار کی حمایت کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چین سلامتی کونسل اور ایس سی او کی صدارت کے لیے پاکستان کو بہترین اور موزوں تصورکرتا ہے، پاکستان بھی چین کےساتھ متعدد شعبوں میں اسٹرٹیجک شراکت داری کو اہم سمجھتاہے، چین نےایک بارپھرپاکستان کی خودمختاری،آزادی اورعلاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہارکیا ہے، چین نےمسئلہ کشمیر کےسلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق حل پر زور دیا ہے، چین نے افغان حکومت پر اعتدال پسندی اورپڑوسیوں کے ساتھ اچھےتعلقات پر زور دیا ہے، چین خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر رہاہے،ماہرین کے مطابق خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی حمایت پاکستانی مؤقف کی بھرپورتوثیق ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کی ایک ہی روز میں  بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی ایک ہی روز میں بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک

    قابلِ اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے ایک ہی دن میں ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی متعدد کامیاب کارروائیاں انجام دیں، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 27 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان، کرم، بنوں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات موصول ہوئیں، جس کے بعد مربوط اور ہدفی آپریشنز کیے گئے۔میر علی، شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔دوغار، کرم ایجنسی میں مقابلے کے بعد 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔اسپن وام، شمالی وزیرستان میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے۔دٹہ خیل، شمالی وزیرستان میں فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔زمرن رینجز، ضلع کیچ، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کی، جس میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق تمام کارروائیاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئیں، جن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے۔سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے، جبکہ عوام کے تعاون کو بھی اس جنگ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

  • وفاقی حکومت کا مجوزہ رمضان پیکج،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے

    وفاقی حکومت کا مجوزہ رمضان پیکج،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے ۔ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔ تمام متعلقہ ادارے آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کریں ۔ یوٹیلٹی سٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے۔ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ غریب عوام میں رمضان پیکج کے امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا. تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔ رمضان پیکج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں۔مؤثر نگرانی کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے.

    دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکج کو موثر اور شفاف قرار دیا ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی. رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی بدنظمی کی نشاندہی نہیں کی گئی. اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی یا سنگین انتظامی بدنظمی و بدعنوانی نہیں پائی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، براۓ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرہ اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی