Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قطر ایئر ویز 2025 کی بہترین ایئر لائن قرار

    قطر ایئر ویز 2025 کی بہترین ایئر لائن قرار

    فضائی مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایئر ہیلپ نے سال 2025 کے لیے دنیا کی بہترین ایئر لائنز کی سالانہ رینکنگ جاری کر دی ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی معروف فضائی کمپنی قطر ایئر ویز نے ایک مرتبہ پھر بہترین ایئر لائن کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ قطر ایئر ویز یہ مقام پانچ سال بعد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

    ایئر ہیلپ کی جانب سے جاری کردہ رینکنگ میں دنیا بھر کی ایئر لائنز کو 10 میں سے اسکور دیا گیا، جس کا تعین تین بنیادی عوامل ، وقت کی پابندی، صارفین کی رائے اور کلیم پروسیسنگ کی بنیاد پر کیا گیا۔ تینوں عوامل کو رینکنگ میں برابر وزن دیا گیا، جس سے مجموعی کارکردگی کا شفاف تجزیہ ممکن ہوا۔رپورٹ کے مطابق قطر ایئر ویز نے تینوں شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پہلا نمبر حاصل کیا۔ کمپنی نے نہ صرف وقت کی پابندی میں اعلیٰ معیار برقرار رکھا بلکہ صارفین کی جائزوں اور کلیمز کی بروقت پروسیسنگ میں بھی دیگر ایئر لائنز سے سبقت حاصل کی۔قطر ایئر ویز کے بعد متحدہ عرب امارات کی معروف فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز رینکنگ میں دوسرے نمبر پر رہی، جو مشرقِ وسطیٰ کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک اور اہم کامیابی ہے۔ برطانیہ کی ایئر لائن ورجن اٹلانٹک نے اس سال کی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    ایوی ایشن ماہرین کے مطابق قطر ایئر ویز کی دوبارہ ٹاپ پوزیشن پر واپسی اس بات کی علامت ہے کہ ایئر لائن نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی سروس کو مسلسل بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی، جس کے نتیجے میں مسافروں کا اعتماد بھی بحال ہوا۔

  • بابری  مسجدکی  جگہ  بنائےگئے  رام مندر  پر جھنڈا  ،پاکستان کا اظہار تشویش

    بابری مسجدکی جگہ بنائےگئے رام مندر پر جھنڈا ،پاکستان کا اظہار تشویش

    پاکستان نے بابری مسجدکی جگہ بنائےگئے رام مندر پر جھنڈا لہرانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےکہ بابری مسجدکو 6 دسمبر 1992 کو انتہاپسند ہجوم نے شہید کیا تھا،بھارت کی عدالتی کارروائیاں بھی مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویےکی عکاسی کرتی ہیں، بھارتی ریاست کا اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی ورثےکو مٹانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ متعدد تاریخی مساجد کی توہین اور انہیں شہید کرنے کے خطرات لاحق ہیں۔ بھارتی مسلمان سماجی، معاشی اور سیاسی سطح پر بڑھتی ہوئی محرومی کا سامنا کر رہے ہیں، پاکستان نے عالمی برادری سے بھارت میں بڑھتی اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی پر نوٹس لینےکی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے اسلامی ورثےکے تحفظ کے لیے مؤثرکردار ادا کریں بھارت مسلمانوں سمیت تمام مذہبی برادریوں کے مقامات عبادت کا تحفظ یقینی بنائے۔

    خیال رہےکہ ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ تعمیرکیےگئے رام مندر کی تکمیل مودی کی قیادت میں مذہبی انتہا پسندی کی علامت بن گئی ہے،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں 16 ویں صدی کی بابری مسجد کو شہید کرکے تعمیر کیےگئے رام مندر پر پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔

    واضح رہے کہ تاریخی بابری مسجد کو 1992 میں آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے انتہا پسند ہجوم نے شہید کردیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک گیر فسادات میں دو ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی،بھارتی سپریم کورٹ نے 2019 میں تسلیم کیا تھا کہ مسجدکی شہادت غیر قانونی تھی مگر اس کے باوجود زمین مندر کی تعمیر کے لیے ہندو ٹرسٹ کے حوالے کر دی گئی، جسے بین الاقوامی ماہرین نے قانون کی پامالی اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

  • بیکو ترکیہ نے پاکستان کے گھریلو آلات کے شعبے پر اپنے اعتماد کی توثیق کر دی

    بیکو ترکیہ نے پاکستان کے گھریلو آلات کے شعبے پر اپنے اعتماد کی توثیق کر دی

    کوچ ہولڈنگ اور بیکو کے سینئر ایگزیکٹوز کے دورۂ پاکستان کا مقصدصنعتی ترقی کو فروغ دینے، پروڈکٹس کومقامی تقاضوں میں ڈھالنےاور جدت میں تیزی لانے کے علاوہ ملک میں ہوم اپلائنسزز کے شعبے کو ڈاؤلینس کی طویل مدتی ترقی کو مستحکم بنانا تھا

    ترکیہ کی معروف انویسٹمنٹ ہولڈنگ کمپنی، کوچ ہولڈنگ ، نے پاکستان اور ڈاؤلینس کی ترقی کے سفر کے لیے اپنی طویل مدتی وابستگی کی توثیق کی ہے۔ اس بات کاظہار کوچ ہولڈنگ اور بیکو ے ایک اعلیٰ سطح کے دورے کے موقع پر کیا گیا جس میں بیکو ڈیوریبلز کے سینئر ایگزیکٹوزشامل تھے۔بیکو ،کنزیومر ڈیوریبلز کی انڈسٹری میں، کوچ گروپ کا نمایاں اور فلیگ شپ برانڈ ہے۔ اس وفد میں کنزیومر ڈیوریبلز گروپ کے صدر، ڈاکٹر فاتح کمال ابیچلی اوغلو ، کوچ ہولڈنگ کے چیف کمرشل آفیسر برائے ترکیہ اور ساؤتھ ایشیا،جان ڈنچر ؛ چیف پروڈکشن اینڈ ٹیکنالوجی آفیسر،نہات باییز ، اوربیکوکے ڈائریکٹر ریجنل مارکیٹنگ، بزنس ٹرانسفارمیشن اینڈ گروتھ، ہندان عبد الرحمٰن اوغلو شامل تھے۔اس دورے کی میزبانی ڈاؤلینس کے منیجنگ ڈائریکٹر،عمر احسن خان نے کی، جو پاکستان میں بیکو کی ذیلی کمپنی بھی ہے۔ یہ دورہ پاکستان کے لیے بیکو کے طویل مدتی وژن اور خطے میں کاروباری تعلقات، صنعتی ترقی اور پائیدار نمو کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس دورے میں وفد نے کراچی اور حیدرآباد میں واقع ڈاؤلینس کی جدید ترین مینوفیکچرنگ سہولیات کا معائنہ کیا، جن میں پروڈکٹ انوویشن، تحقیق و ترقی (R&D)، اور پیداواری نظام کو،مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے مزید جدید بنا یا گیا ہے۔وفد نے کراچی کی اہم ریٹیل مارکیٹوں کا بھی دورہ کیا اور ڈاؤلینس کے ملک گیر ڈیلر نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹریکٹو سیشن بھی منعقد کیا، جس میں صارفین کے رجحانات، مارکیٹ کی حرکیات، ڈسٹری بیوشن کی حکمتِ عملی، اور مستقبل کی ترقی کے مواقع پر گفتگو کی گئی، تاکہ ڈیلرز چینل کے ذریعے تعاون اور تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    دورے کے اختتام پر ڈاؤلینس کے منیجنگ ڈائریکٹر، عمر احسن خان نے کہا:”یہ دورہ ڈاؤلینس اور پاکستان کی مارکیٹ کی بے پناہ صلاحیت پر ہماری عالمی قیادت کے اعتماد کو اجاگر کرتاہے۔ ہم جدت کے فروغ، اپنے ڈیلر نیٹ ورک کی مضبوطی اور ایسی قابلِ اعتماد ٹیکنالوجیز فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جو واقعی پاکستانی صارفین کی ضروریات پوری کرتی ہیں ۔“

    کوچ ہولڈنگ اور بیکو پاکستان میں مسلسل جدت، مضبوط مقامی مینوفیکچرنگ اور ایسی قابلِ اعتماد ٹیکنالوجیز کے ذریعے ملک کی معاشی اور صنعتی ترقی میں معاونت کے لیے پُرعزم ہیں جو پاکستانی گھروں کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ کوچ گروپ کے آپریشنز ترکیہ اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اوردونوں ممالک جو مشترکہ اقدار اور اسٹریٹجک شراکت داری سے جڑے ہوئے ہیں۔ 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 1.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ ترکیہ اور پاکستان اس تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں، اور دو طرفہ تجارت کو آئندہ برسوں میں 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتے ہیں۔

  • چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل  ساحر شمشاد  مرزا  کا جی ایچ کیو کا الوداعی دور

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا جی ایچ کیو کا الوداعی دور

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے جی ایچ کیو کا الوداعی دورہ کیا اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الوداعی ملاقات کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی مثالی قیادت، اسٹریٹجک بصیرت اور پاک فوج کے لیے شاندار خدمات کو سراہا اور کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے مسلح افواج کی مشترکہ آپریشنل تیاری کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے قومی سلامتی کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی کاوشوں اور علاقائی استحکام اور عسکری سفارت کاری کے لیےکاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کریئر کے دوران فراہم کی گئی حمایت پر آرمی چیف اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا۔

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، ایف آئی اے کارکردگی پر شدید تحفظات

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، ایف آئی اے کارکردگی پر شدید تحفظات

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹر شہادت اعوان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

    اجلاس میں سینیٹر نسیمہ احسان، سیف اللہ ابڑو، عمر فاروق، پلوشہ محمد زئی خان، جام سیف اللہ خان، میر دوستین خان ڈومکی، دلاور خان، محمد اسلم ابڑو اور محمد عبدالقادر نے شرکت کی، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے (NCCIA) نے 6 نومبر کے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر بریفنگ دی اور بتایا کہ سینیٹر فلک ناز چترالی کے ساتھ ہونے والے فراڈ میں ملوث افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے زیرِ التوا اور نمٹائے گئے کیسز کے اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن پر ارکان نے تشویش کا اظہار کیا۔

    سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے ایف آئی اے کے رویے کی شکایات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینیٹر سے "مهدی شاہ” کے نام پر پیسے مانگے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایف آئی اے نے ایک یوٹیوبر کے بھائی کی بیوی سے 10 کروڑ روپے نہ مانگے ہوتے تو عوام سے ہونے والی لوٹ مار کا اندازہ نہ ہوتا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایک ایف آئی اے افسر کی مبینہ کرپشن پر سوال اٹھایا، جس نے صرف ایک سال میں اربوں روپے مالیت کی جائیداد بنائی۔ اراکین نے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کے لیے سب کمیٹی بنانے کی تجویز دی، تاہم چیئرمین نے کہا کہ اس مرحلے پر سب کمیٹی کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری رپورٹ جلد مکمل کرکے کمیٹی کو پیش کی جائے۔

    آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان کے نمائندوں نے سینیٹر اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری سے متعلق پیش رفت بتائی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پولیس ٹیمیں ملزمان کا پیچھا کرتے ہوئے کوئٹہ میں موجود ہیں، ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، شناختی کارڈ بلاک اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔چیئرمین نے ڈی آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ تحقیقات 20 دن میں مکمل کر کے رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔ ارکان نے آئی جی سندھ کی مسلسل غیر حاضری پر ناراضی کا اظہار کیا، جس پر چیئرمین نے ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں لازماً شریک ہوں۔

    سینیٹر اسلم ابڑو، سیف اللہ ابڑو اور نسیمہ احسان نے بتایا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، مگر انہیں کوئی سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ جب تک صوبائی تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹیاں معاملہ نہیں لیتیں، آئی جی اسلام آباد، آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان فوری طور پر ان سینیٹرز کو سیکیورٹی فراہم کریں۔

    اجلاس میں صوابی سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری کے کیس پر بھی بریفنگ دی گئی۔ آئی جی خیبرپختونخوا اور ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایف آئی آر درج ہے اور معاملہ ایف آئی اے کے پاس زیرِ تفتیش ہے۔ کمیٹی نے تفتیش میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے واضح ٹائم لائن مانگی اور ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ افسران مکمل رپورٹ کے ساتھ موجود ہوں۔ چیئرمین نے ایف بی آر چیئرمین کی غیر حاضری پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

  • افغانستان میں خطرناک قیدیوں کی رہائی،خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا خدشہ

    افغانستان میں خطرناک قیدیوں کی رہائی،خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا خدشہ

    افغانستان کی عبوری حکومت نے ایک 3,200 سے زائد ایسے سخت گیر قیدیوں کی سزائیں معاف کر دی ہیں جو عام مجرم نہیں بلکہ دہشتگردی کے نہایت سنگین مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔ ان میں خودکش حملہ آوروں کے نیٹ ورکس، بارودی دھماکوں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر شامل تھے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان قیدیوں کی سزا معافی کے فوراً بعد پاکستان کی جانب منظم اور تیز رفتار نقل و حرکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق 4,300 مزید قیدیوں کی سزا میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور یہ گروہ بھی اگلے مرحلے میں افغانستان سے نکل کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت کے لیے "تیار بیچ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معافی پانے والوں میں نہ صرف تجربہ کار شدت پسند شامل ہیں بلکہ ایسے افراد بھی ہیں جو پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں بارودی مواد کے ماہر، خودکش بمبار تیار کرنے والے، اغوا برائے تاوان نیٹ ورک کے سہولت کار اور سرحدی راستوں سے واقف گائیڈز شامل ہیں۔پاکستانی سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ عناصر دوبارہ منظم ہو کر ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب افغانستان کے اندرونی حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور قوتِ نافذہ کمزور پڑ چکی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق افغانستان میں حکومتی کنٹرول کمزور ہونے کے باعث شدت پسند گروہ تیزی سے خالی جگہوں کو پُر کر رہے ہیں۔ کئی رہائی پانے والے قیدی داعش خراسان میں شمولیت کے قریب بتائے جا رہے ہیں، جو خطے میں بہت بڑے سکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر یہ گروہ داعش اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر سرگرم ہوتے ہیں تو سرحدی علاقوں میں عدم استحکام، حملوں میں اضافہ اور خطے بھر میں دہشتگردانہ نیٹ ورکس کی مضبوطی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں نگرانی، بھاری نفری کی تعیناتی اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید فعال کر دیا ہے۔ افغانستان سے مشکوک آمد و رفت کی کڑی نگرانی جاری ہے جبکہ ممکنہ اہداف پر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔پاکستان کے اعلیٰ حکام اور علاقائی سکیورٹی ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور علاقائی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے اس فیصلے کے سنگین اثرات کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی امن و سلامتی کے لیے نیا بھاری خطرہ بن کر اُبھرا ہے۔

  • دہلی دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ بھارت منسوخ

    دہلی دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ بھارت منسوخ

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا۔

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنا دورہ بھارت ملتوی کردیا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نے اس سال کے آخر میں بھارت کا دورہ کرنا تھا،اسرائیلی وزیراعظم کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر قیادت سے ملاقات ہونا تھی تاہم دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے

    اس سے قبل نیتن یاہو نے ستمبر میں ہونے والا ایک روزہ دورہ بھارت بھی منسوخ کردیا تھا جب کہ اسرائیلی وزیراعظم آخری بار سال 2018 میں بھارت کے دورے پر آئے تھے

  • یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ترجمان پاک فوج

    یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ترجمان پاک فوج

    پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بریفنگ میں بتایاکہ ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں، پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا، ہم ریاست ہیں، ریاست کے طور پر ہی ردعمل دیتے ہیں، خون اورتجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں، طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے، طالبان حکومت نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح فیصلہ نہ کرے، طالبان حکومت کب تک عبوری رہے گی؟

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مطالبہ کیاکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں لہٰذا نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پرفوری پابندی عائد کی جائے، فیض حمید کا ٹرائل قانونی معاملہ ہے اس پر قیاس آرائی نہ کی جائے، جب یہ معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا فوری طور پر اعلان کردیا جائے گا۔ سرحد پار سے دہشتگردی کی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے او پاک ، افغان بارڈر پر اسمگلنگ اور پولیٹیکل کرائم کا گٹھ جوڑ توڑنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ممالک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاست کے خلاف بیانیہ بنارہے ہیں، ہمارا مسئلہ افغان عبوری حکومت سے ہے، افغانستان کے لوگوں سے نہیں، دہشتگردی کے خلاف مربوط جنگ لڑنے کیلئے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا،افغان رجیم دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے اور دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک بات چیت نہیں ہوگی،پاکستان کی عوام اور افواج دہشتگردوں کے خلاف متحد ہیں اور دہشتگردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا۔

  • کراچی سندھ کا دل،یہاں ہمارا کام بولتا ہے، شرجیل میمن

    کراچی سندھ کا دل،یہاں ہمارا کام بولتا ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی سنجیدہ اور فعال پالیسی کے تحت کراچی میں اس وقت 756ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں جن کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور جدید بنانا ہے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا دل اور ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،کراچی میں ہمارا کام بولتا ہےاربوں روپے کے منصوبے جاری ہیں، 756 ترقیاتی منصوبے سندھ حکومت کی عوام دوست ترجیحات اور شفاف حکمرانی کا ثبوت ہیں شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی ہمارا عزم ہے،کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کی 76 ترقیاتی اسکیموں پر 13 ارب روپے کی لاگت سے کام جاری ہے، جبکہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی 200 اسکیموں پر 18.36 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، حکومت شہر کو جدید، محفوظ اور سہولیات سے آراستہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے، صوبائی حکومت اہم منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ شہر کا انفراسٹرکچر موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کی تکمیل شہریوں کے لیے بڑی سہولت کا باعث بنے گی، اور چیلنجز کے باوجود کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔

  • 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت نہیں کی گئی،مسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت نہیں کی گئی،مسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جو قوتیں 27 ویں ترمیم لانے میں مُصر تھیں، اُن کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، عوام میں حکومت کی مقبولیت بڑی تیزی سے گری ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے دوران جے یو آئی سے مشاورت نہیں کی،جے یو آئی کی مجلس شوری نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے،27ویں ترمیم میں ہاتھ مروڑ کر دو تہائی اکثریت بنائی، ایک سال پہلے جسے غلط کہا آج وہ کس طرح آئین کا تقاضہ بنا گیا، کیسے جمہوری عمل ٹھہر گیا۔پیپلز پارٹی نے 27 ویں ترمیم پر غیرجمہوری کام کیا۔سب سے پہلے بنیادی مسئلے کو دیکھنا ہو گا، ایک سال قبل 26 ویں آئینی ترمیم لائی گئی، ایک ماہ سے زائد تک جے یو آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے،27 ویں آئینی ترمیم میں ان کا فرض تھا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتے،پارلیمنٹ میں ہمارے اراکین نے 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی،