انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے الزام میں گرفتار چینی باشندوں سمیت پانچ ملزمان کو عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ڈیوٹی جج میاں اظہر ندیم نے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے پانچوں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دینے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔واضح رہے کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں کارروائی کرتے ہوئے چینی باشندوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا بھی برآمد کیا گیا، جس کے بعد انسانی اعضا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت اور اسمگلنگ کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان انسانی پلاسنٹا پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف اسپتالوں سے حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں اس پلاسنٹا کو بھیڑ کے اعضا ظاہر کرکے بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔تحقیقاتی ادارے کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس مبینہ نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد، سہولت کاروں اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔









