Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وینزویلا میں کارروائی،وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج،ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ

    وینزویلا میں کارروائی،وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج،ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ

    امریکی سینیٹر برنی سینڈرز وینزویلا پر حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑے۔

    برنی سینڈرز نے کہا کہ سب سے پہلے امریکا کا نعرہ لگانے والے ٹرمپ اب وینزویلا کو چلائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر حملے کیلئے صدر ٹرمپ کا جواز وہی ہے جو پیوٹن یوکرین پر حملے کے دفاع میں پیش کرتے ہیں۔

    نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مخالفت کردی۔ پریس بریفنگ میں بتایا کہ فون کرکے صدر ٹرمپ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ کسی خودمختار ملک پر حملہ ایک جنگی اقدام ہے، جس سے نیویارک کے شہری بھی متاثر ہونگے۔

    وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو قید خانے پہنچا دیا گیا، نیویارک کے میٹروپولیٹن حراستی مرکز سے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ویڈیو جاری کردی گئی۔وینزویلا کے صدر مادورو کو کل یا پرسوں عدالت میں پیش کرنے کا امکان ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کا انتظام عارضی طور پر سنبھالنے کا اعلان کردیا۔ کہا نہیں چاہتے کوئی اور اقتدار سنبھالے اور پھر وہی حالات پیدا ہوں۔

    عالمیی برادری نے وینزویلا کیخلاف امریکی کارروائی کو مسترد کردیا، دنیا بھر میں امن پسند شہری سڑکوں پر آگئے۔اسپین میں ہزاروں افراد نے امریکی آپریشن کیخلاف احتجاج کیا، پیرس میں شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، امریکی حملے کو وینزویلا کیخلاف جارحیت قرار دیا۔ارجنٹینا اور کولمبیا میں بھی مظاہرے ہوئے، وائٹ ہاؤس کے باہر اور نیویارک میں وینزویلا کے شہریوں نے امریکی کارروائی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو کنٹرول میں رکھنے کے بیان پر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا گیا،وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور نعرے لگانے کے ساتھ مظاہرین نے’وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں’ کے بینر بھی لہرائے ۔ادھر نیو یارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    امریکی جریدے کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوشش سے لگتا ہے امریکا مشرق وسطیٰ کا سبق بھول گیا ہے، طاقت سے حکومتیں بدلنا زیادہ مسائل کا سبب بنتا ہے،ٹائم کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا نے مڈل ایسٹ میں گذشتہ 25 سال کی ناکام مداخلتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا،تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ مادورو غیر مقبول ہیں اور وینزویلا کی فوج نسبتاً کمزور ہے لیکن اس کی حکومت کو زبردستی ختم کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور امریکی سرزمین کے قریب مسائل جنم لے سکتے ہیں، جیسے مہاجرین، منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی عدم استحکام،

  • لکی مروت،بنوں،فائرنگ کے واقعات،چار پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت،بنوں،فائرنگ کے واقعات،چار پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت اور بنوں میں فائرنگ کے واقعات میں 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔

    لکی مروت پولیس کے ترجمان کے مطابق سرائے نورنگ شہر میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس سے ڈیوٹی پر مامور 3 ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوگئے، فائرنگ کے واقعے میں انچارج ٹریفک پولیس نورنگ جلال خان، کانسٹیبل عزیز اللہ اور کانسٹیبل عبداللہ شہید ہوئے،ترجمان کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سوار دہشتگرد فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے، شہید پولیس اہلکاروں کی لاشیں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال سرائے نورنگ منتقل کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب بنوں پولیس کا کہنا ہے کہ منڈان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا، کانسٹیبل رشید خان گھر سے ڈیوٹی پر تھانا منڈان جا رہا تھا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہوگیا۔

    وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لکی مروت میں فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی ہے، انہوں نے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ٹریفک پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا،سہیل آفریدی نے کہا واقعہ افسوسناک ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بزدلانہ حملوں سے ملک دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہے ہیں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا،صوبائی حکومت پولیس فورس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، شہداء کے لواحقین کو ہرممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔

  • موٹروے پولیس کی سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری،13.2 ملین سے زائد چالان جاری

    موٹروے پولیس کی سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری،13.2 ملین سے زائد چالان جاری

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 18000 سے زائد مسافروں کو ایمرجنسی مدد اور بروقت طبی امداد بھی فراہم کی گئی۔ 54 لاکھ سے زائد افراد کو ٹال فری ہیلپ لائن 130 کے ذریعے رہنمائی فراہم کی گئی۔18500 ڈرائیونگ لائسنس، 103 سی ای کیٹیگری لائسنس اور 1480 انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کیے گئے۔2674 روڈ سیفٹی پروگرامز منعقد کیے گئے تاکہ عوام میں محفوظ ڈرائیونگ کا شعور اجاگر ہو۔دورانِ سفر کھو جانے والی قیمتی اشیاء، جن میں سونے کے زیورات، 186 موبائل فونز، 48 پرس اور دیگر 331 قیمتی سامان شامل ہیں، تلاش کر کے اصل مالکان کے حوالے کیے گئے۔ 48 چوری شدہ اور 17 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد کر کے متعلقہ حکام اور اصل مالکان کے حوالے کی گئیں۔ 169 لاپتہ گمشدہ بچوں کو باحفاظت ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔70 خطرناک ملزمان کو گرفتار کر کے متعلقہ ضلعی پولیس کے حوالے کیا گیا۔ 29 غیر قانونی اسلحہ، 1349 راؤنڈز، 309 کلوگرام منشیات، 2450 لیٹر شراب اور 10 ہزار سے زائد نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے کارٹن برآمد کر کے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیے گئے۔ 7 اسمگلنگ اور 6 ڈکیتی کی وارداتیں ناکام بنائی گئیں۔

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 13.2 ملین سے زائد چالان جاری کیے گئے۔ ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور اوور اسپیڈنگ کے خلاف مہم کے دوران 11000 سے زائد ڈرائیوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ 690 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 349 مہلک اور 341 غیر مہلک حادثات شامل ہیں۔موٹروے پولیس کی سوشل میڈیا ٹیم اور ایف ایم 95 ریڈیو مسلسل شہریوں کو روڈ سیفٹی اور ٹریفک صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ہر ماہ شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست کھلی کچہری کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔موٹروے پولیس کے یہ اقدامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ ادارہ نہ صرف بلا امتیاز قانون کی عملداری بلکہ بلا تفریق شہریوں کی خدمت کے اعلیٰ معیار پر بھی کاربند ہے۔ شہریوں کو محفوظ اور باوقار سفری سہولیات فراہم کرنا موٹروے پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ہم اس مقصد کے لیے دن رات سرگرمِ عمل ہیں۔

  • سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا، 2025 میں دہشت گردی کی تفصیلی رپورٹ جاری

    سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا، 2025 میں دہشت گردی کی تفصیلی رپورٹ جاری

    خیبر پختونخوا میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق صوبے کو مسلسل اور بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا، خصوصاً قبائلی اضلاع اور جنوبی علاقوں میں حالات زیادہ سنگین رہے۔

    سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں صوبے بھر میں 1,762 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر 707 افراد جان بحق ہوئے، جن میں 159 پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ 272 افراد زخمی ہوئے۔
    دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے 395 شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔ اسی عرصے میں 9 خودکش حملے بھی ریکارڈ کیے گئے، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بنوں میں دہشتگردی کے 430 واقعات،شمالی وزیرستان میں 213 واقعات،ڈی آئی خان میں 137 واقعات،جنوبی وزیرستان میں111 واقعات پیش آئے،یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جنوبی اور قبائلی اضلاع بدستور دہشت گردوں کا مرکزی ہدف رہے۔سال 2025 میں دہشت گردوں نے مختلف طریقوں سے حملے کیے،فائرنگ کے واقعات 628 (14 اضلاع میں)پیش آئے،آئی ای ڈی دھماکے 179 ہوئے،ہینڈ گرنیڈ حملے 71 کئے گئے، راکٹ ،میزائل حملے کئے گئے، 80 ڈرون حملے کئے گئے،یہ تنوع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔

    رپورٹ میں دیگر سنگین جرائم کا بھی انکشاف کیا گیا، جن میں 88 اغوا کے واقعات ،149 بھتہ خوری کے کیسز، 117ٹارگٹ کلنگ،151سہولت کاری (Facilitation) کے کیسز،26 دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیسز شامل ہیں،سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں خیبر پختونخوا کو ایک مسلسل، منظم اور بدلتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا رہا۔ حملوں کی نوعیت، جغرافیائی پھیلاؤ اور جرائم کی اقسام اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سکیورٹی اداروں کو نہ صرف آپریشنل سطح پر بلکہ انٹیلی جنس اور مالیاتی نگرانی کے شعبوں میں بھی مزید مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔رپورٹ اس امر پر زور دیتی ہے کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور عوام کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔

  • بلوچستان گرینڈ الائنس کا مرحلہ وار احتجاجی پروگرام کا اعلان

    بلوچستان گرینڈ الائنس کا مرحلہ وار احتجاجی پروگرام کا اعلان

    کوئٹہ: بلوچستان گرینڈ الائنس (بی جی اے) نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مبینہ ملازم دشمن پالیسیوں کے خاتمے کے لیے جنوری 2026 میں صوبہ بھر میں مرحلہ وار احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    بی جی اے کے مطابق احتجاج کا بنیادی مطالبہ سرکاری ملازمین سے متعلق مشترکہ سفارشات پر عملدرآمد اور ملازم مخالف فیصلوں کی واپسی ہے۔احتجاجی تحریک کے مراحل کے دوران منتخب نمائندوں اور وزراء کو احتجاجی یادداشتیں پیش کی جائیں گی،5 جنوری کونصیرآباد اور ژوب ڈویژن،6 جنوری کو سبی اور مکران ڈویژن،7 جنوری کو لورالائی اور قلات ڈویژن،8 جنوری کوکوئٹہ اور رخشان ڈویژن میں پروگرام ہوں‌گے،

    دوسرا مرحلہ قومی شاہراہوں کی جزوی بندش (دوپہر 12 سے 2 بجے تک) ہے،12 جنوری کو خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی، اُتھل،13 جنوری کو قلات، پشین (یارو)، لورالائی، دالبندین، تربت، پسنی،14 جنوری کوڈیرہ اللہ یار، حب، خاران، ژوب، گوادر، چمن، راکھنی میں شاہراہیں بند کی جائیں گی

    تیسرا مرحلہ صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہے،15 جنوری کو صوبے بھر میں تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے،آخری مرحلہ لانگ مارچ اور دھرناہے،20 جنوری کو صوبے بھر کے سرکاری ملازمین کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کریں گے اور ریڈ زون میں غیر معینہ مدت کے دھرنے کا آغاز کیا جائے گا۔بی جی اے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ تنظیم کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کو دبانے کی کوشش کی گئی تو "جیل بھرو تحریک” شروع کی جائے گی۔
    مزید برآں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مزدور تنظیموں سے حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے بھی کیے جائیں گے۔بی جی اے کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ملازمین کے مسائل کا سنجیدگی سے حل نکالے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں‌11 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں‌11 ہلاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوااور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ذرائع کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے یکم جنوری کو پنجگور میں زاہد محمد حسین کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے، جسے تنظیم نے پاکستانی فورسز کا مبینہ معاون قرار دیا ہے۔ بی ایل اے کے بیان کے مطابق حملہ زاہد حسین کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ تعلق کی بنیاد پر کیا گیا۔ حکام نے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی قتل کے حالات سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں۔ علاقے میں سکیورٹی حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، مقامی انٹیلی جنس کا جائزہ لے رہے ہیں اور کالعدم تنظیم سے جڑی کسی بھی ممکنہ سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کوہاٹ میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت پر ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول صنعتی اسٹیٹ کوہاٹ سے کام ختم کر کے گھر واپس جا رہا تھا کہ حملہ آوروں نے اسے روک لیا۔ جب اس نے موبائل فون دینے سے انکار کیا تو حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی، مقدمہ درج کر لیا گیا اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور گواہوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

    حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تیراہ ویلی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا، جس میں تین شدت پسند مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں ٹی ٹی پی عناصر کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر فوری طور پر گھیراؤ اور تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فرار یا کمک کو روکنے کے لیے گھیراؤ سخت کر دیا۔ شدت پسندوں نے مختصر مزاحمت کی تاہم فورسز کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وادی کو مکمل طور پر محفوظ بنانے اور باقی ماندہ خطرات کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اپنے ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی، جو خطے میں شدت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے، خاص طور پر قبائلی اور سرحدی علاقوں میں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے دوہی وڈ میں سکیورٹی فورسز نے کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشن کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) سے وابستہ عناصر کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر آپریشن شروع کیا گیا۔ علاقے کو محفوظ بنانے کے دوران شدت پسندوں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کے بعد چھ شدت پسند مارے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ہلاک شدہ شدت پسندوں کی لاشیں تحویل میں لے لی گئیں اور اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ بعد ازاں علاقے میں مکمل سرچ آپریشن کے بعد اسے کلیئر قرار دے دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں امن و استحکام کی بحالی اور تخریبی نیٹ ورکس کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے کوئی سرا میں دہشت گردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس میں ایک شدت پسند مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ دیگر فرار ہو گئے۔ بعد ازاں علاقے میں مکمل کنٹرول حاصل کر کے کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں نگرانی اور گشت مزید سخت کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران کے علاقے دازن تمپ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت عزت اور جمعہ کے نام سے ہوئی، جو دازن تمپ کے رہائشی تھے۔ واقعے کے بعد مقامی حکام موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آوروں کا سراغ لگانے اور واقعے کی وجوہات جاننے میں مصروف ہیں۔

    سکیورٹی فورسز نے وسطی کرم کے علاقے مرگن میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی قاظم گروپ سے تعلق رکھنے والے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک انتہائی مطلوب شدت پسند بھی شامل تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر آپریشن شروع کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام دہشت گرد مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا اہم کمانڈر متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا اور فورسز کو مطلوب تھا۔ آپریشن کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ذرائع کے مطابق تیراہ ویلی میں شدت پسندوں نے مقامی جرگہ کے ایک رکن کو اغوا کر لیا، جس کے بعد دیگر جرگہ ارکان نے شدت پسندوں کے خلاف مقامی مزاحمت شروع کرنے پر غور کیا ہے۔ اغوا ہونے والے کی شناخت ملک اسلام غنی کے نام سے ہوئی، جو 24 رکنی جرگہ کا حصہ تھے۔ واقعے کے بعد جرگہ ارکان نے مشاورت شروع کی اور ہنگامی جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ شدت پسند عناصر کے خلاف منظم مقامی مزاحمت پر غور کیا جا سکے۔ ایک جرگہ رکن نے خیبر کرانیکلز سے گفتگو میں کہا کہ شدت پسندوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اغوا شدہ رکن کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

  • شمالی وزیرستان، میرعلی میں اسکول پر دہشتگردوں کا ڈرون حملہ

    شمالی وزیرستان، میرعلی میں اسکول پر دہشتگردوں کا ڈرون حملہ

    شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں دہشتگردی کا سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں گاؤں حسوخیل میں قائم الفاتح پبلک ہائی اسکول کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق حملے کے نتیجے میں اسکول کے تین عملے کے افراد زخمی ہو گئے، جن میں اسکول کے پرنسپل بھی شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے اسکول کی عمارت کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون کے ذریعے دھماکہ خیز مواد گرایا، جس سے اسکول کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کے فوراً بعد زخمی افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ریسکیو 1122 کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی، مگر اسی دوران حملہ آوروں نے ایک بار پھر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ دوسرے حملے کے نتیجے میں متعدد ریسکیو اہلکار بھی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور ریسکیو عملے کو نشانہ بنانا دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے، جس کا مقصد علاقے میں خوف پھیلانا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں نے جرگہ ممبر کو اغواء کر لیا
    جرگہ کے دیگر ممبران کا عسکریت پسندوں کے خلاف مقامی مزاحمت شروع کرنے کا فیصلہ
    ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں 24 رکنی جرگہ کے ایک ممبر ملک اسلام غنی کو اغواء کرنے کے بعد جرگہ کے دیگر ممبران نےعسکریت پسندوں کے خلاف مقامی مزاحمت شروع کرنے پر مشاورت شروع کردی اور اس حوالے سےجرگہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،جرگہ کے ایک ممبر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردوں کو واضح پیغام بھیجا ہے کہ اگر جرگہ ممبر کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو پھر اہل علاقہ ان کے خلاف اسلحہ اٹھاکر نہ صرف بدلہ لیں گے بلکہ علاقہ سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے اور نکالنے کیلئے سکیورٹی فورسز اور پولیس کا بھی ساتھ دینگے۔

    سنٹرل کرم :سکیورٹی فورسز کی کارروائی ، کالعدم تنظیم کے انتہائی مطلوب سمیت 11 دہشتگرد ہلاک؛
    ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سنٹرل کرم کے علاقہ مارغن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے کالعدم ٹی ٹی پی کاظم گروپ کے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا،مصدقہ اطلاعات کے مطابق، مقابلے کے دوران ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

  • جاوید بٹ قتل کیس،مرکزی ملزم امیر فتح کے گھر شاہ عالمی میں پولیس کا چھاپہ

    جاوید بٹ قتل کیس،مرکزی ملزم امیر فتح کے گھر شاہ عالمی میں پولیس کا چھاپہ

    لاہور میں طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کیس میں پولیس اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ قتل کے مرکزی ملزم امیر فتح کی گرفتاری کے لیے شاہ عالمی میں اس کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا، تاہم ملزم موقع پر موجود نہیں تھا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس جب شاہ عالمی میں واقع امیر فتح کے گھر پہنچی تو مکان بند تھا اور تالے لگے ہوئے تھے، جس کے باعث ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا اور ممکنہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات اکٹھی کیں، تاہم امیر فتح کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔دوسری جانب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے امیر فتح کے تین ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے مرکزی ملزم اور دیگر ممکنہ شریک ملزمان کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی

    واضح رہے کہ آج سیشن عدالت نے امیر فتح کی عبوری ضمانت خارج کر دی تھی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ جے آئی ٹی اپنی تفتیش مکمل کرتے ہوئے پہلے ہی امیر فتح کو اس قتل کیس میں قصوروار قرار دے چکی ہے۔یاد رہے کہ جاوید بٹ کو گزشتہ سال لاہور کے کینال روڈ پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے نے شہر میں سنسنی پھیلا دی تھی اور کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ پولیس اور تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید انکشافات متوقع ہیں۔

  • وینزویلا، تیل اور امریکی طاقت کی سیاست

    وینزویلا، تیل اور امریکی طاقت کی سیاست

    وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے بہت دور کیا۔ وہ ماضی میں ایک بس ڈرائیور اور ٹریڈ یونین کے سرگرم کارکن رہے، جنہوں نے وینزویلا کی تاریخ کے ایک نہایت ہنگامہ خیز دور میں بتدریج سیاست کے مدارج طے کیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ صدر ہیوگو شاویز کے قریبی ترین اور سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔

    شاویز کی سیاسی تحریک میں مادورو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہیوگو شاویز نے 2013 میں اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل انہیں نہ صرف نائب صدر نامزد کیا بلکہ اپنا سیاسی جانشین بھی قرار دیا۔ یہ ایک غیر معمولی اور سوچا سمجھا فیصلہ تھا، جس کا مقصد شاویز کے بعد بولیویرین انقلاب کو محفوظ بنانا تھا۔ہیوگو شاویز عالمی سیاسی تاریخ میں خاص طور پر اس وجہ سے نمایاں ہیں کہ انہوں نے کھلے عام اور مسلسل امریکہ سے محاذ آرائی کی۔ یہ تنازع محض زبانی بیانات تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد معاشی خودمختاری تھی، خصوصاً شاویز کے اس فیصلے میں کہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو قومی تحویل میں لیا جائے، امریکی اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو براہِ راست کنٹرول سے ہٹایا جائے اور ملک کے وسیع تیل کے وسائل کو مکمل طور پر ریاستی ملکیت میں دے دیا جائے۔

    ان اقدامات نے لاطینی امریکہ میں امریکہ کے دیرینہ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کو براہِ راست چیلنج کیا۔ نتیجتاً واشنگٹن اور کاراکاس کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ شدید خراب ہوتے چلے گئے۔عوامی سطح پر امریکہ نے وینزویلا کی قیادت، بشمول نکولس مادورو، پر منشیات کی اسمگلنگ، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، حتیٰ کہ فردِ جرم عائد کرنے اور سخت معاشی پابندیاں لگانے تک کے اقدامات کیے گئے۔ تاہم کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف یہ الزامات ہی وینزویلا پر امریکی دباؤ کی شدت کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔

    اصل مسئلہ بظاہر وسائل پر کنٹرول، جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ اور خطے میں امریکی بالادستی کے خلاف مزاحمت ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ فوجی کارروائیوں، دھمکیوں یا کشیدگی کو الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں بلکہ امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات اور وینزویلا کی معاشی و سیاسی خودمختاری کے دعوے کے درمیان جاری ایک طویل جدوجہد کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

  • اپوواکے زیرِ اہتمام  ملک یعقوب اعوان کی کتاب ادھورا چاند کی   تقریب رونمائی

    اپوواکے زیرِ اہتمام ملک یعقوب اعوان کی کتاب ادھورا چاند کی تقریب رونمائی

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیرِ اہتمام اپووا کے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی کتاب ’’ادھورا چاند‘‘ کی ایک شاندار اور پروقار تقریبِ رونمائی لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں منعقد ہوئی

    ادبی تقریب میں ملک کے ممتاز شعرا، ادبا، لکھاریوں اور مختلف شعبۂ ادب سے وابستہ نامور شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کی صدارت معروف شاعر، ادیب ناصر بشیر صاحب نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر نامور پنجابی شاعر و نغمہ نگار ایس ایم صادق، معروف شاعر ویر سپاہی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ معروف شاعرہ نرگس نور، نامور لکھاری اشفاق احمد خان، معروف لکھاری و مصنفہ ڈاکٹر فضیلت بانو،لیجنڈ اداکار حسیب پاشا( ہامون جادوگر)ڈی ایس پی شہزادی گلفام ، اینکر پرثناء آغا خان،معروف ادبی شخصیت مقبول چوہان سمیت ادب و ثقافت سے وابستہ متعدد معزز شخصیات کی شرکت نے تقریب کی علمی و ادبی وقعت میں مزید اضافہ کیا۔ مصنفہ قرۃ العین خالد ،لکھاری و صحافی فرسہ رانا نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔

    تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ بعد ازاں خالد مسعود نے نہایت عقیدت کے ساتھ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس سے محفل پر روحانی کیفیت طاری ہو گئی ،نائب صدرسفیان علی فاروقی نے سینئر نائب صدر حافظ محمد زاہد کے والد محترم اور بانی اپووا ایم ایم علی کے ماموں کے انتقال پر مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت کروائی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک یعقوب اعوان کی کتاب ’’ادھوراچاند‘‘ دنیائے ادب میں ایک خوبصورت اور منفرد اضافہ ثابت ہوگی۔ مقررین نے ملک یعقوب اعوان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک سنجیدہ اور باوقار ادبی شخصیت ہیں بلکہ ماضی میں پنجاب پولیس کے نامور افسر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جو ان کی شخصیت کے نظم، وقار اور فکری پختگی کا مظہر ہے۔

    تقریب کے اختتام پر اپووا کے عہدیدرا توصیف ملک اور اپووا کے رکن رانادانش کی سالگرہ کے کیک بھی کاٹے گئے، جس سے محفل میں خوشگوار فضا پیدا ہو گئی۔

    تقریب کے آغاز سے قبل تمام شرکاء کے لیے پرتکلف بوفے ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔جبکہ تقریب کے اختتام پر اپووا کے کوآرڈینیٹر قصور طارق نوید سندھو کی جانب سے شرکاء کا مٹھائی سے منہ میٹھا کروایا گیا۔یوں یہ ادبی تقریب نہایت خوش اسلوبی، فکری گہرائی اور تنظیمی حسن کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔