Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دبئی ایئر شو 2025 میں بھارتی فضائیہ کو بڑی سبکی

    دبئی ایئر شو 2025 میں بھارتی فضائیہ کو بڑی سبکی

    دبئی ایئر شو 2025 کے موقع پر بھارتی فضائیہ اور بھارتی ایرو اسپیس صنعت کو اس وقت شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی ساختہ تیجس لڑاکا طیارے میں اچانک فیوژلاج کے نیچے سے تیل کا اخراج شروع ہوگیا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایئر شو کے اسٹیٹک ڈسپلے ایریا میں موجود تھا اور درجنوں بین الاقوامی مبصرین، میڈیا نمائندے اور عسکری وفود اسے قریب سے دیکھنے میں مصروف تھے۔عینی شاہدین کے مطابق تیل کے قطرے تیزی سے رن وے پر ٹپکنے لگے، جس پر بھارتی فضائیہ کے اہلکار فوری طور پر موقعے پر پہنچے۔ مناسب آلات یا کنٹینمنٹ ٹرے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اہلکاروں نے شاپنگ اور گفٹ بیگز تیزی سے طیارے کے نیچے رکھ کر تیل جمع کرنے کی کوشش کی، جس نے وہاں موجود لوگوں میں حیرت اور طنزیہ ردِعمل کو جنم دیا۔

    متعدد دفاعی ماہرین نے اس واقعے کو بھارتی دفاعی سازوسامان کی ساکھ کے لیے دھچکا قرار دیا۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ایئر شو میں ایسے واقعات کسی بھی طیارے کے امیج پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔

  • بھتہ لینے والے آج کراچی کا رونا رو رہے ہیں۔سعدیہ جاوید

    بھتہ لینے والے آج کراچی کا رونا رو رہے ہیں۔سعدیہ جاوید

    ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر ردِعمل میں کہا ہے کہ لسانیات کا چورن بیچنے والے ہمیشہ روتے ہی رہیں گے۔

    سعدیہ جاوید نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کراچی کا سودا سستے میں کیا، پی آئی ڈی سی ایل کے ذریعے فنڈز لینے والے اور دو وزارتیں لینے والے آج یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم چاہتے تو مزید فنڈز اور وزارتیں مانگ سکتے تھے، لوکل گورنمنٹ کے ساتھ جو حشر ایم کیو ایم نے کیا ہے، اس کا کوئی جواب نہیں، ان کو اختیارات نہیں چاہئیں، انہیں اپنا پیدا گیری کا وہ نظام چاہیے جو لنگڑے، ٹی ٹی اور سپاری پر چلتا ہے۔ ایم کیو ایم رہنماؤں کو اپنی ہر ناکامی کامیابی نظر آتی ہے، ایم کیو ایم نے ہمیشہ بلیک میلنگ کے لیے استعفوں کا کارڈ استعمال کیا ہے، کراچی کو برباد کرنے والے، غیر قانونی بھرتیاں کروانے والے اور بھتہ لینے والے آج کراچی کا رونا رو رہے ہیں۔

  • کوٹ لکھپت میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی ،وزیراعلیٰ کا نوٹس

    کوٹ لکھپت میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی ،وزیراعلیٰ کا نوٹس

    لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ذہنی معذور 23 سالہ لڑکی آمنہ کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم شخص لڑکی کو تشویشناک حالت میں اسپتال کے باہر چھوڑ کر فرار ہوگیا، جہاں ابتدائی طبی معائنے میں یہ انکشاف ہوا کہ متاثرہ لڑکی ایک ماہ کی حاملہ ہے۔

    واقعہ سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی مدد فراہم کی جائے۔پولیس کے مطابق لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس میں جنسی زیادتی اور سنگین جرائم کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق متاثرہ لڑکی ذہنی معذور ہے اور کافی عرصے سے جنسی استحصال کا شکار بنائی جاتی رہی۔نامعلوم شخص اسپتال کے باہر لڑکی کو چھوڑ کر فرار ہوا، جس کی تلاش کے لیے قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔میڈیکل رپورٹ میں لڑکی کے حاملہ ہونے کی تصدیق کے بعد تفتیش مزید اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔پولیس کی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، تاہم اب تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

  • خوارجی کمانڈر ہمارے ساتھ بداخلاقی کرتے تھے،گرفتاری دہشتگرد کا انکشاف

    خوارجی کمانڈر ہمارے ساتھ بداخلاقی کرتے تھے،گرفتاری دہشتگرد کا انکشاف

    دہشت گرد احسان اللّٰہ نے فتنہ الخوارج سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ میرا نام احسان اللّٰہ ولد عبدالجنان قوم محسود ہے، فتنہ الخوارج مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر فوج کے خلاف اکساتے ہیں۔

    دہشت گرد احسان اللّٰہ کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کمانڈر زبدری، مشتاق، گرنیڈ اور اسلام الدین کے لیے 3 سال سہولت کاری کی، ہم نے تتور میں پولیس اسٹیشن اور بکتربند گاڑی پر حملے سمیت کئی کارروائیاں کیں، فتنہ الخوارج نوجوانوں کی ذہن سازی کرتے ہیں، فتنہ الخوارج نوجوانوں کو فوج کے خلاف دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں، خارجی کمانڈر ذاتی مفادات کے لیے نوجوانوں کو بدکاری کی طرف بھی دھکیلتے ہیں،خوارجی کمانڈر ہمارے ساتھ بداخلاقی کرتے تھے، حقیقت میں خوارج خود کافر اور مرتد ہیں، جب میں نے انہیں دیکھا تو پتہ چلا پاکستانی فوج تو حقیقی مسلمان ہے، میں نے پاک فوج کے جوانوں کو 5 وقت نماز پڑھتے دیکھا، میں نے نماز اور کلمے سیکھے جو پہلے نہیں آتے تھے، نوجوانوں سے اپیل ہے دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے پاک فوج کا ساتھ دیں، ہم ان خوارج کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔

  • کسی” جن” نے میرے ساتھ زیادتی نہیں کی،خاتون کا وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کا مطالبہ

    کسی” جن” نے میرے ساتھ زیادتی نہیں کی،خاتون کا وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کا مطالبہ

    گجرات: جن کے خلاف خاتون سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نیا موڑ،متاثرہ خاتون کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا

    خاتون کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ کسی جن نے زیادتی نہیں کی پولیس نے خود جن کو مقدمہ میں ڈالا، مجھے پوری دینا میں بدنام کر دیا گیا، میں خود کشی کر لوں گی، جن کو چھوڑ کر میرا اصل ملزم پکڑا جائے، وہ مجھے قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے، متاثرہ خاتون نےپولیس اور ملزم کے حوالےسے مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے

    قبل ازیں گجرات کے گاؤں بھدر میں ساس نے اپنے داماد کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرادیا، جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک جن ان کے داماد پر قابض ہو کراس سے ریپ کروا رہا ہے۔،ککرالی پولیس کے پاس درج ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (ریپ کی سزا) کے تحت درج کی گئی ہے۔متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے 18 سالہ داماد نے متعدد مرتبہ اس کا ریپ کیا، لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پر ایک جن کا قبضہ ہوتا ہے جو اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ خاتون نے کہا کہ عادل نام کا ایک جن مجھ سے محبت کرتا ہے ، وہ جن ملزم پر قابو پا لیتا ہے تو وہ اس وقت تک نارمل نہیں ہوتا جب تک وہ اس کے ساتھ جسمانی تعلق نہ قائم کر لے،13 نومبر کو میرے ساتھ زنا کیا، اس سے قبل بھی متعدد بار زنا کر چکا ہے، ان واقعات نے اس کی گھریلو زندگی تباہ کر دی ہے اور مطالبہ کیا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

  • منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ سپریم کورٹ

    منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے منشیات سپلائی نہ روکنے پر سرکاری اداروں پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ منشیات کو بارڈر پر کیوں نہیں روکا جاتا؟ یہ شہروں تک کیسے پہنچتی ہے؟

    منشیات کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی اور اے این ایف کو ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کی ہدایت کر دی،جسٹس جمال مندوخیل نے دوران سماعت کہا کہ منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر منشیات کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ بارڈر سے ایک ایک ہزار کلومیٹر تک منشیات اندر کیسے آ جاتی ہے؟ یہ ضیاء الحق کا دیا ہوا تحفہ ہے اس کو بھگتیں،پانچ دس کلو کا مسئلہ نہیں لیکن ٹنوں کے حساب سے منشیات آتی ہے، طالبان نے افغانستان میں منشیات فیکٹریاں بند کیں تو یہاں شروع ہوگئیں، بلوچستان کے تین اضلاع میں منشیات کی فصلیں کاشت ہو رہی ہیں، سب کو معلوم ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتا، اے این ایف کا کام کلو کلو منشیات پکڑنا نہیں بلکہ سپلائی لائن کاٹنا ہے، چھوٹی موٹی کارروائی تو شہروں میں پولیس بھی کرتی رہتی ہے،بعدازاں عدالت نے کوریئر کمپنی کے منیجر کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کر دی۔

  • شیخ حسینہ واجد انسانیت کے خلاف جرائم میں قصور وار قرار،سزائے موت کا حکم

    شیخ حسینہ واجد انسانیت کے خلاف جرائم میں قصور وار قرار،سزائے موت کا حکم

    ڈھاکا: بنگلادیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ، سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المأمون کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کا فیصلہ عدالت نے سنا دیا

    بنگلہ دیشی عدالت نے سابق وزیراعظم حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان ملک کو سزائے موت سنادی، دونوں کو مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر سزا سنائی گئی، عدالت سے تعاون پر سابق آئی جی عبداللہ مامون کی سزائے موت 5 برس قید میں تبدیل کردی،سابق وزیراعظم حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان ملک سے فرار ہوچکے ہیں، آج عدالت میں مرکزی ملزموں میں سے صرف سابق پولیس چیف موجود تھے،بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انسانیت کیخلاف جرائم کے کیس میں سابق وزیراعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنادیں۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل۔1 کی تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ بینچ کی سربراہی جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار نے کی جبکہ دیگر اراکین میں جسٹس محمد شفیع الاسلام محمود اور جج محیط الحق انعام چودھری شامل ہیں۔

    23 اکتوبر کو چیف پراسیکیوٹر محمد تاج‌ الاسلام اور اٹارنی جنرل محمد اسد الزمان نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔
    ریاست کی جانب سے مقرر کردہ وکیل محمد امیر حسین نے ملزمان کی جانب سے جواب الجواب دلائل پیش کیے۔کارروائی کے دوران پراسیکیوشن ٹیم میں میزان الاسلام، غازی ایم ایچ تمیم، فاروق احمد، معین‌الکریم، اے بی ایم سلطان محمود اور دیگر وکلا بھی موجود رہے۔فیصلہ پہلے 13 نومبر کے لیے مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسے 17 نومبر تک مؤخر کر دیا گیا۔

    22 اکتوبر تک ریاستی دفاع نے غیر حاضر ملزمان شیخ حسینہ اور اسد الزمان خان کمال کی جانب سے دلائل دیے، جبکہ موجود “شاہی گواہ” سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المأمون کی طرف سے بھی مؤقف پیش کیا گیا۔پراسیکیوشن نے تینوں ملزمان کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کیا تھا۔دفاع نے تین روزہ دلائل میں متعدد اہم گواہوں کی شہادتوں کو چیلنج کیا، جن میں چوہدری عبداللہ المأمون، روزنامہ امردیش کے ایڈیٹر محمود الرحمان اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام شامل ہیں،وکیل امیر حسین نے دعویٰ کیا کہ المأمون کا “تعاون” دباؤ کا نتیجہ تھا، جبکہ محمود الرحمان کے سیاسی نظریات نے ان کے بیان کو مشکوک بنا دیا۔بعد ازاں المأمون کے وکیل زاہد بن امجد نے بطور گواہ و ملزم الگ دلائل بھی دیے۔

    10 جولائی کو کیس نے اس وقت حیران کن رخ اختیار کیا جب سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المأمون نے جولائی،اگست تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور تشدد کی ذمہ داری قبول کر لی۔انہوں نے ٹربیونل کے روبرو بیان دیا “ہم پر قتل اور نسل کشی کے جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ درست ہیں۔ میں جرم قبول کرتا ہوں۔ میں عدالت کی مدد کرنا چاہتا ہوں تاکہ مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔”اسی روز ٹربیونل نے تینوں کے خلاف فردِ جرم باقاعدہ منظور کی اور رہائی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

    سابق وزیراعظم پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ ہے، استغاثہ نے شیخ حسینہ کے لیے سزائے موت کی درخواست کر رکھی ہے۔شیخ حسینہ کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے پر بنگلادیش میں حالات خراب ہونے کے خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔خیال رہے کہ شیخ حسینہ پر 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات دینے اور وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کا الزام ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق مظاہروں کے دوران 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • علیمہ خان پیش نہ ہوئی،جائیدادوں کی رپورٹ پیش،وارنٹ پھر جاری

    علیمہ خان پیش نہ ہوئی،جائیدادوں کی رپورٹ پیش،وارنٹ پھر جاری

    راولپنڈی انسداد دہشت گردی میں علیمہ خان کی پنجاب میں جائیدادوں سے متعلق رپورٹ پیش کر دی گئی۔

    راولپنڈی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 26نومبر احتجاج پر علیمہ خانم کے خلاف تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ کی سماعت کی، ملزمہ علیمہ خان آج بھی عدالت پیش نہ ہوئی، دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے،علیمہ خانم کی پنجاب میں جائیدادوں سے متعلق بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ عدالت پیش کی گئی، علیمہ خانم بھکر میں 51کنال،16مرلے پراپرٹی کی مالکن ہیں، علیمہ خانم لاہور کے موضع میاں میر میں 1کنال 4مرلے، موضع نور پور میں1کنال 1مرلہ پراپرٹی کی مالکن ہیں،علیمہ خانم موضع سلطان رائے ونڈ میں بھی 64کنال 14مرلے کی مالکن ہیں، علیمہ خانم ضلع میانوالی میں 217کنال5مرلے کی مالکن ہیں، علیمہ خانم شیخوپورہ میں 4کنال،13مرلے کی مالکن ہیں، 4اضلاع میں علیمہ خانم 338کنال اراضی کی مالکن ہیں۔

    دورانِ سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ علیمہ خانم کی جائیداد کی تفصیلات اشتہاری دینے سے قبل منگوائی گئی، اشتہاری ہونے پر جائیداد سیز یا اٹیچ کی جا سکتی ہے، ملزمہ مسلسل غیر حاضر رہی تو قانون کے مطابق یہ کارروائی کی جا سکتی ہے،پراسیکیوٹر ظہیر نے مزید کہا کہ ملزمہ کے پہلے سے بھی 15اکاونٹ منجمند ہیں، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد کے وارنٹ گرفتاری عدالتی احکامات پر عدم عملدرآمد پر جاری کئے گئے، چیئرمین سی ڈی اے،چیف کمشنر اسلام آباد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کو تعمیل کرانے کی ہدایت کی گئی،سپرداری پر گاڑی حاصل کرنے والا ایک ضامن عدالت پیش ہوا اور دو حاضر نہ ہوئے،سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہان عدالت موجود تھے، ملزمہ،وکلاء صفائی کی عدم حاضری کے باعث شہادت ریکارڈ نہ ہو سکی۔عدالت نے سماعت 20نومبر جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  • بندہ زیادہ دیر جیل میں رہ جائے وہ پھر میڈیکل گراؤنڈ پر باہر آتا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی

    بندہ زیادہ دیر جیل میں رہ جائے وہ پھر میڈیکل گراؤنڈ پر باہر آتا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کے ایک مقدمے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے دلچسپ ریمارکس دیئے ہیں،

    نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جو بندہ زیادہ دیر جیل میں رہ جائے وہ پھر میڈیکل گراؤنڈ پر ہی باہر آتا ہے اور میڈیکل گراؤنڈ پر باہر آ کر پھر وہ بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ وہ دوسرے ممالک میں گھومتا پھرتا ہے اور اُسے کچھ نہیں ہوتا،ہائیکورٹ کے جج میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کے ایک مقدمے کی سماعت کر رہے تھے،

  • سعودی عرب میں عمرہ زائرین کی بس کو خوفناک حادثہ،42 بھارتی  تھے سوار

    سعودی عرب میں عمرہ زائرین کی بس کو خوفناک حادثہ،42 بھارتی تھے سوار

    مدینہ: سعودی عرب میں ایک دلخراش ٹریفک حادثے میں کم از کم 45 افراد کے جاں بحق ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جن میں سے تقریباً 42 بھارتی شہری ہونے کی اطلاع ہے۔ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب عمرہ زائرین کو لے جانے والی بس مدینہ کے قریب مفرحات کے مقام پر ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔

    حادثہ رات تقریباً 1:30 بجے (IST) پیش آیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق بس مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جا رہی تھی۔ زیادہ تر مسافر حیدرآباد، تلنگانہ سے تعلق رکھتے تھے اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ جا رہے تھے۔خلیج ٹائمز اور گلف نیوز کے مطابق کئی مسافر سفر کے دوران سو رہے تھے،ٹینکر سے تصادم کے فوراً بعد بس میں آگ لگ گئی،بس مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی،کم از کم 11 خواتین اور 10 بچے بھی متاثرین میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں،لاشیں جھلس جانے کے باعث شناخت انتہائی مشکل ہو گئی ہے،رپورٹس کے مطابق ایک شخص، محمد عبدالشعیب زندہ بچ گئے ہیں لیکن اُن کی حالت کے بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا گیا۔

    مقامی ریسکیو ٹیموں نے بتایا کہ آگ بجھانے اور لاشوں کی شناخت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حادثے کے مقام کو سیل کر دیا گیا اور ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    تلنگانہ حکومت نے فوری طور پر سعودی عرب میں بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے نئی دہلی میں موجود حکام کو سعودی سفارتکاروں سے مسلسل رابطے کی ہدایت کی،ریاستی سیکریٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کرنے کا اعلان کر دیا گیا،حادثے میں متاثر ہونے والے تلنگانہ کے شہریوں کی تفصیلات جمع کرنے کا حکم دیا،کنٹرول روم کے نمبر جاری کر دیے گئے ہیں،وزیر اعلیٰ نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔بھارتی سفارتخانے نے بھی ہیلپ لائن قائم کر دی

    وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا "مدینہ میں پیش آنے والے حادثے نے دل کو رنجیدہ کر دیا ہے۔ میری دعائیں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ بھارتی سفارتخانے کے اہلکار سعودی حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہے ہیں۔”

    حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بتایا کہ بس میں 42 عمرہ زائرین موجود تھے۔انہوں نے لکھا کہ وہ سعودی عرب میں بھارتی مشن کے حکام کے مسلسل رابطے میں ہیں۔کم از کم 16 زائرین دو حیدرآباد کی عمرہ ایجنسیوں
    "ال-میٖنا حج اینڈ عمرہ ٹریولز”سے تعلق رکھتے تھے،اویسی نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق افراد کی میتیں بھارت منتقل کی جائیں،زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے