Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کابل، طالبان انٹیلی جنس چیف کے معاون دھماکے میں ہلاک

    کابل، طالبان انٹیلی جنس چیف کے معاون دھماکے میں ہلاک

    افغان طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کے ایک سینئر اہلکار اور ادارے کے سربراہ عبد الحق واثق کے قریبی معاون مولوی نعمان غزنوی کابل میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    طالبان سے وابستہ متعدد ذرائع اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مولوی نعمان غزنوی کابل کے مشرقی علاقے بٹخاک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہلاک ہوئے۔ وہ طالبان انٹیلی جنس کے سربراہ عبد الحق واثق کے نہایت قریبی ساتھی اور سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب تاحال واضح نہیں ہو سکے۔

    مولوی نعمان غزنوی طلبان کے انٹیلیجنس چیف عبد الحق وثیق کے قریبی معاون کے طور پر جانے جاتے تھے۔ واقعے نے طالبان کی سکیورٹی اور انٹیلیجنس حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعہ طا،لبا،ن کی اندرونی چپقلش کا نتیجہ ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات طا لبان کی صفوں میں نظم و ضبط اور انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی پر پڑ سکتے ہیں

  • معروف ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر علی زین العابدین کو مریضہ کی جانب سے دھمکیوں کاسامنا

    معروف ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر علی زین العابدین کو مریضہ کی جانب سے دھمکیوں کاسامنا

    فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ امراضِ چشم سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ایف سی پی ایس فیلو ڈاکٹر علی زین العابدین نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک مریضہ کی جانب سے بلاجواز الزامات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ مریضہ کا علاج مکمل طور پر کامیاب رہا۔

    ڈاکٹر علی زین العابدین کے مطابق وہ ایف سی پی ایس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ فیلوشپ اِن ویٹریو ریٹینا اور انٹرنیشنل کالج آف آفتھلمولوجی کی ڈگریاں بھی رکھتے ہیں اور کئی برسوں سے شعبۂ چشم میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں سال اپریل میں ایک مریضہ اپنے رشتہ داروں کے کہنے پر ان کے کلینک آئی، جن کے اہلِ خانہ پہلے ہی ان سے کامیاب علاج کروا چکے تھے۔ مریضہ اور ان کے شوہر کا مکمل معائنہ کیا گیا اور جدید لیزر علاج کے تمام مراحل، دورانیہ، ریکوری، ادویات اور احتیاطی تدابیر تفصیل سے سمجھا دی گئیں۔ڈاکٹر کے مطابق مقررہ وقت پر مریضہ کی لیزر سرجری کامیابی سے مکمل کی گئی، جس کے بعد دونوں میاں بیوی اطمینان کے ساتھ گھر چلے گئے۔ تقریباً سات دن بعد مریضہ نے فون کر کے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جس پر انہیں فوری طور پر کلینک آ کر معائنہ کروانے کا مشورہ دیا گیا۔چیک اپ کے دوران مریضہ کی نظر 6/6 پائی گئی، جو بغیر عینک ایک عام صحت مند فرد کے برابر ہوتی ہے۔ قرنیہ، آنکھ کا اندرونی دباؤ اور دیگر تمام ٹیسٹ نارمل تھے۔ ڈاکٹر کے مطابق مریضہ کو مزید تسلی دی گئی اور احتیاطاً مصنوعی آنسو تجویز کیے گئے کیونکہ بعض اوقات لیزر کے بعد آنکھوں میں خشکی کی شکایت ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر علی زین العابدین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود چند دن بعد مریضہ نے فون پر دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور الزام عائد کیا کہ ان کی آنکھ خراب کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریضہ نے کلینک بند کروانے اور میڈیا میں بدنام کرنے کی دھمکیاں بھی دیں،مریضہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے ادائیگی کی، تاہم مریضہ نے بعد میں پیچیدگیوں کی شکایت کی اور زبردستی 4 لاکھ روپے لے لیے،پھر مجھے چند دنوں بعد اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی کی طرف سے کال آتی ہے کہ آپ کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا ہے، جب میں اے ایس پی شہر بانو کے سامنے پیش ہوا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے مریضہ کا آپریشن غلط کیا ہے، اسے پیسے واپس کیے جائیں،لیکن مریضہ تو پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے 4 لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی،مجھے مریضہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اب علاج لندن سے کروانا چاہتی ہیں، اس کا جو خرچ آئے گا وہ ادا کیا جائے۔ مجھے ڈرایا دھمکایا گیا جس پر میں نے 10 لاکھ روپے کے 3 چیک مریضہ کے حوالے کردیے، ان 3 میں سے 2 چیک کیش ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 2 چیک رکوانے کے لیے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ، انہیں پولیس اسٹیشن بلوانے کے لیے ایس ایچ او خرم کو کلینک پر بھی بھیجا گیا تھا،ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے اٹھا کر حوالات میں بند کردیا تھا، مجھ سے نوٹ لکھوایا گیا، میں خاموش رہا، پولیس کسی بھی ڈاکٹر کو میڈیکل رپورٹ یا میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے بغیر اسٹیشن نہیں بلا سکتی،پولیس کس حیثیت سے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کسی ڈاکٹر کا آپریشن صحیح ہوا یا نہیں، اور اس کا جائزہ لینے کے لیے ان کے پاس کون سی طبی ڈگریاں موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی آپریشن کی درستگی کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے، پولیس افسر نہیں،ڈاکٹر علی زین العابدین نے متعلقہ حکام اور طبی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ معالجین کو ہراسانی اور بے بنیاد الزامات سے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں،مریض خاتون تھی میں عزت کرتا تھا وہ دھمکیاں دیتے رہے کہ جیسے مریضہ چاہ رہی ہے میں ویسے ہی کروں، ابھی بھی دھمکیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا،یہ سارے فیصلے پولیس نےکرنے ہیں تو ہیلتھ کیئر کمیشن کا رول ختم کرنا چاہئے، ہم انصاف کے متلاشی ہیں،سینئر ڈاکٹر،افسران واقعہ کی شفاف انکوائری کروائیں،میری عزت کا کھلواڑ ہو رہا ہے اس کا مداوا کیا جائے، وزیراعلی پنجاب پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ وہ میرٹ پر میرا کیس دیکھیں گی،صحت کے شعبے میں پنجاب میں انقلاب آیا،ڈاکٹروں کے مسائل کو دیکھیں اور اس پولیس ایکشن جو میرے خلاف ہوا میری داد رسی کی جائے، میری رقم واپس کروائی جائے،

  • پاکستان کیلئےگینز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرنے والی دخترِ پاکستان ، مونا خان

    پاکستان کیلئےگینز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرنے والی دخترِ پاکستان ، مونا خان

    پاکستان کیلئے باعثِ فخر اور وطنِ عزیز کی بیٹی مونا خان نے لندن میراتھن ریس میں "گینیز ورلڈ ریکارڈ” حاصل کر کیا

    خاتون صحافی مونا خان نے 42.2 کلومیٹر کا فاصلہ مقررہ وقت میں سَر کر کے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کیا،پاکستان کی بیٹی مونا خان نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستانی خواتین بھی عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں،مونا خان نے خاتون ہو کر عزم ، ہمت اور محنت کی عظیم مثال قائم کر دی،لندن میراتھن ریس میں مونا خان نےسبز ہلالی پرچم اٹھاکر بھارتی ریسر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،مونا خان کی کہانی عزم، قربانی اور پاکستانی خواتین کی ناقابل شکست ہمت کی عکاس ہے،مونا خان کی کی تاریخی فتح نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی خواتین کسی بھی میدان میں اپنے حریف کو مات دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں

  • کرک،کالعدم ٹی ٹی پی کے 8 دہشتگرد ہلاک

    کرک،کالعدم ٹی ٹی پی کے 8 دہشتگرد ہلاک

    کرک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دشوار گزار راستہ ہونے کے باعث لاشیں برآمد نہیں کی جاسکیں۔

    خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ختم ہوگیا، پولیس کی جانب سے سیکیورٹی آپریشن مکمل کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث دہشتگردوں کی لاشیں برآمد نہ کی جاسکیں، شدید فائرنگ کے دوران 2 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق آپریشن کالعدم ٹی ٹی پی کلیم اللہ گروپ کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، آپریشن کے بعد کلیم اللہ گروپ کے بچ جانیوالے افراد فرار ہوگئے۔

  • سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے،بلاول

    سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، اپنے لیڈر کی گرفتاری اور کیسز پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔

    لاڑکانہ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگوکوتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے، حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر لانے کے لیے صدر آصف علی زرداری کو کردار ادا کرنا ہوگا،پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، لیڈر کی گرفتاری اور کیس پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے، حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر لانے کیلیے صدر زرداری کو کردار ادا کرنا ہوگا، الیکشن جلدی نہیں ہو رہے، نئے انتخابات سے پہلے الیکٹرول ریفارم ضروری ہے، ایسے ریفارم لائیں جس پر سب کو اعتماد ہو،عام آدمی سے اس کا معاشی حال پوچھنے پر ملک کی اصل معاشی صورتحال کا اندازہ ہوگا، عام آدمی کا جواب اصل ٹیسٹ ہوتا ہے، اس سے پوچھیں کیا اس کی معاشی ترقی ہو رہی ہے؟ وفاقی حکومت معاشی بحران سے نمٹنا چاہتی ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر غور کرے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں، سیاست کے لیے مزید گنجائش نکلنا ملک کے مفاد میں ہے،ہ بی بی کی برسی پر وفد بھیجنے پر وزیراعظم اور میاں نواز شریف کے شکرگزار ہیں، نجکاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی اپنا نقطہ نظر رکھتی ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے عوام کو بہتر سہولت دلا سکتے ہیں، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو ترجیح دیتے ہیں، وفاق کو معاشی بحران ایڈریس کرنا ہے تو اہم کردار پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہوسکتا ہے، وفاق کو سندھ حکومت کے پبلک پارٹنر شپ سے سیکھنا چاہیے،سندھ حکومت وہ کام کر رہی ہے جو دیگر صوبوں میں نہیں ہو رہے، مریضوں کو سو فیصد مفت طبی سہولتیں دی جارہی ہیں، بچوں کو عالمی معیار کے مطابق مفت طبی سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں،صوبائی حکومت کے اقدامات کے بعد بچوں کی سب سے کم شرح اموات سندھ میں ہے، بچوں کی زندگی بچانا ہماری اولین ترجیح ہے،طبی میدان میں سندھ کی سہولت کا کوئی مقابلہ نہیں، سندھ میں عالمی معیار کے صحت کے مراکز قائم کر رہے ہیں۔

  • بھارتی فوجی قیادت پر تنقید،سوشل میڈیا پر پابندی،نئی پالیسی جاری

    بھارتی فوجی قیادت پر تنقید،سوشل میڈیا پر پابندی،نئی پالیسی جاری

    مودی حکومت اور بھارتی ملٹری قیادت پر تنقید کے بعد بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر پابندی کی نئی پالیسی جاری کردی۔

    بھارتی فوج کی نئی پالیسی کے تحت انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپس پر بھارتی فوجی اہلکاروں کے کسی بھی قسم کے تبصرے، لائیک یا شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے،برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس پالیسی کا اطلاق تمام حاضر سروس اہلکاروں پر ہوگا،مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے بھارتی فوج کے اندر پائی جانے والی بے چینی، پالیسیوں پر تنقید اور فوج کو ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر لانے کے خدشات کارفرما ہیں،یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فوجی اہلکار اور سابق افسران کھلے عام مودی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت فوجی ادارے کو نظریاتی طور پر ہندوتوا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس پر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر ردِعمل سامنے آ رہا ہے، بھارتی آرمی چیف کی مذہبی رسومات میں شرکت پر بھی سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی گئی،ذرائع کے مطابق عیسائی فوجی سیموئیل کمالیسن کا کورٹ مارشل بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا رہا، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے ہندو مذہبی رسومات ادا کرنے سے انکار کیا تھا،ذرائع کے مطابق ریاست بہار میں بھارتی فوجی یونیفارم میں حکومت مخالف نعروں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جبکہ بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر بھی سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل سامنے آیا۔مبصرین کے مطابق بھارتی افسران اور جوانوں میں مودی حکومت اور عسکری قیادت کے خلاف کشیدگی پائی جاتی ہے۔

  • چیئرمین اوورسیز پاکستانیزفاؤنڈیشن سید قمر رضا کا پوٹھوہار پریس کلب کا دورہ

    چیئرمین اوورسیز پاکستانیزفاؤنڈیشن سید قمر رضا کا پوٹھوہار پریس کلب کا دورہ

    گوجرخان (قمرشہزاد) اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن چیئرمین سید قمر رضا نے معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی کی خصوصی دعوت پر پوٹھوہار پریس کلب گوجرخان کا دورہ کیا۔

    پریس کلب آمد پر جنرل سیکریٹری بار ایسوسی ایشن گوجرخان جاوید بھٹی، مرکزی انجمن تاجران کے صدر راجہ جواد، ایڈووکیٹ ثاقب علی بیگ، چئیرمین اشتیاق اور صحافیوں نے ان کا بھرپور اور پرتپاک استقبال کیا، انہیں گلدستے پیش کیے اور مالا پہنائیں اور ان کی آمد کو کلب کے لیے اعزاز قرار دیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت رسول مقبول پڑھی گی، سینئر صحافی پروفیسر حمید اصغر نے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جبکہ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی نے سید قمر رضا کی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے انجام دی جانے والی خدمات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ سید قمر رضا نے سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے جو عملی اقدامات اٹھائے ہیں، وہ ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی قیادت میں او پی ایف ایک فعال ادارے کے طور پر ابھرا ہے۔

    پوٹھوہار پریس کلب کے صحافیوں نے سید قمر رضا کی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تارکینِ وطن پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی داد رسی کرنا درحقیقت وطنِ عزیز کی خدمت ہے۔ تقریب کے آخر میں چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "میرا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کو بحال کرنا اور ان کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔” انہوں نے پوٹھوہار پریس کلب کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے شہزاد قریشی اور تمام صحافی برادری کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • سہراب گوٹھ، گھر سے خاتون اور تین بچوں کی لاشیں برآمد، شوہر حراست میں

    سہراب گوٹھ، گھر سے خاتون اور تین بچوں کی لاشیں برآمد، شوہر حراست میں

    کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ گنا منڈی میں واقع ایک گھر سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق گھر سے ملنے والی لاشوں میں ایک خاتون اور اس کے تین کمسن بچے شامل ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر جب ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو چاروں افراد کی لاشیں گھر کے اندر موجود تھیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی معائنے میں تمام لاشوں پر پھندا لگا ہوا تھا، جس سے بظاہر واقعہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔پولیس نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 30 سالہ خاتون فاطمہ، 10 سالہ بچی سونم، 3 سالہ آرزو اور 2 سالہ ارمان شامل ہیں۔ بچوں کی عمریں 2 سے 8 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے گھر کو تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق مرنے والی خاتون کا تعلق افغانستان سے تھا جبکہ اس کا شوہر نجیب اللہ ضلع لیہ کا رہائشی ہے۔ نجیب اللہ سبزی منڈی میں مزدوری کرتا ہے اور اس نے افغان خاتون سے دوسری شادی کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شوہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے سہراب گوٹھ کے افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رابطہ کیا۔ پولیس حکام نے وزیر داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی نتیجہ شواہد مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی کہ واقعے کی تفتیش کو غیرجانبدار، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کیا جائے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا مجرمانہ پہلو سامنے آئے تو ذمہ داروں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات جاری ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

  • پاکستانی نوجوان احسن یاسین کی شارجہ میں شاندار کامیابی

    پاکستانی نوجوان احسن یاسین کی شارجہ میں شاندار کامیابی

    شارجہ میں منعقد ہونے والے 54ویں شیخ محمد بن زاید کیمل ریسنگ فیسٹیول میں پاکستانی نوجوان احسن یاسین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا۔

    اس عالمی ایونٹ میں 50 سے زائد ممالک کے نوجوان کھلاڑیوں نے کیمل ریس میں شرکت کی، جہاں سخت مقابلے کے باوجود احسن یاسین نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔18 سالہ احسن یاسین نے دو کلومیٹر طویل یوتھ کیمل ریس 3 منٹ 47 سیکنڈ میں مکمل کرتے ہوئے گولڈن کیمل ٹرافی اپنے نام کر لی۔ اس شاندار فتح کے ساتھ انہیں 50 ہزار درہم کی انعامی رقم بھی ملی، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 38 لاکھ روپے بنتی ہے۔ریس کے آغاز میں احسن یاسین کی پوزیشن چھٹی تھی، تاہم اپنی محنت، مہارت اور بہترین حکمتِ عملی کی بدولت انہوں نے چند ہی لمحوں میں رفتار بڑھاتے ہوئے دیگر تمام مقابلوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ ان کی اس غیر معمولی واپسی کو شائقین اور ماہرین کھیل کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔

    احسن یاسین نہ صرف کیمل ریسنگ میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ وہ انجینئرنگ کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دبئی کے ہیریٹیج سینٹر میں کیمل ریسنگ کی باقاعدہ ٹریننگ بھی لیتے ہیں، جو ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے احسن یاسین نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند دیکھنا ناقابلِ بیان خوشی اور فخر کا لمحہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کامیابی پاکستان کے نام کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے مزید اعزازات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔