Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور

    قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور

    قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور کر لیا

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 کے تحت مقدمات سننے کے لیے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کو دیا گیا ہے،کمیٹی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس علاوہ سینیئر ترین جج شامل ہوں گے، بینچز بنانے والی کمیٹی کے تیسرے رکن جج چیف جسٹس کے نامزد کردہ ہوں گے،ایکٹ کے تحت کمیٹی کے کسی رکن کی عدم موجودگی میں چیف جسٹس کسی اور جج کو رکن نامزد کر سکیں گے جبکہ کمیٹی بینچ بنانے کا فیصلہ اکثریت سے کرے گی۔

    قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی، آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، نئے نوٹیفکیشن کے مطابق مدت دوبارہ سے شروع ہوگی، یہ مدت پانچ سال ہوگی.

  • آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، عہدے کی مدت 5 سال ،ترمیم منظور

    آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، عہدے کی مدت 5 سال ،ترمیم منظور

    قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔

    مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا، نئے نوٹی فکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی،مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے، وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔ مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو 3 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گامجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے،عہدے کی مدت 5 سال ہو گی۔ وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔ان کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جب تعیناتی ہو گی،اعظم نذیر نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سے5 سال کا ہوگا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی نے پاکستان ایئر فورس ایکٹ 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔پاکستان ایئر فورس ایکٹ میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے الفاظ نکالے گئے ہیں۔

  • جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک کا بھی مستعفی ہونے پر غور

    جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک کا بھی مستعفی ہونے پر غور

    سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک نے 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ججز نے ترمیم کے مجوزہ مسودے میں عدلیہ کے اختیارات اور ججز کی خودمختاری سے متعلق شقوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے،جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت شروع کر دی ہے دونوں ججز مستعفی ہو سکتے ہیں

    واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ مستعفیٰ ہو چکے ہیں

  • استعفےکے بعد جسٹس اطہرمن اللہ،منصور علی شاہ کی آج رات کینیڈا روانگی متوقع

    استعفےکے بعد جسٹس اطہرمن اللہ،منصور علی شاہ کی آج رات کینیڈا روانگی متوقع

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے، دونوں جج صاحبان مبینہ طور پر آج رات کینیڈا روانہ ہونے والے تھے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ دونوں جج صاحبان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے پر غور کیا جائے۔ مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ دیکھتے ہیں وہ نکل پاتے ہیں یا نہیں

    واضح رہے کہ جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے،27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ، اطہر من اللہ مستعفی

    جسٹس منصور علی شاہ، اطہر من اللہ مستعفی

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دونوں جج صاحبان نے سپریم کورٹ میں اپنے چیمبرز خالی کر دیے ہیں۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے،27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے اپنا استعفیٰ پیش کروں، آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا،11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا، تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان سے تھا، 27ویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی، اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہے جو قوم نے عدلیہ پر کیا، تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا، تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللّٰہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔

  • وفاقی کابینہ نے تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس ، اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔وفاقی کابینہ نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کا مقصد افواج پاکستان سے متعلق قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کی بنیاد پر ضروری قانون سازی کی گئی ہیں جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی معیاد بھی شامل ہے. ان ترامیم کے تحت چیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ موجودہ چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جائے گا۔اسی طرح سے ان قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی شامل کئے گئے ہیں ۔یہ اسکیم اور متعلقہ قوانین میں ترمیم ہمعصر اور جدید جنگی تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجویز کی گئیں ہیں۔وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ, 2025 کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر, 2025 کو ہونے والی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی ۔

  • کسی کو تاحیات استثنیٰ دیناآئین و شریعت کیخلاف ہے،خالد مسعود سندھو

    کسی کو تاحیات استثنیٰ دیناآئین و شریعت کیخلاف ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات ہیں، حکومت نے دھونس اور دھاندلی سے سینیٹ سے ترمیم پاس کروائی،کلمہ کے نام پر بنائے گئے ملک کے آئین میں ترامیم ملکی مفاد میں ہونی چاہیے،کسی کو تاحیات استثنیٰ دینا جمہوری اور آئینی و شرعی اعتبار سے درست نہیں.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم حکومتی اتحاد نے جس انداز میں سینیٹ میں پیش کر کے منظور کروائی یہ ہمارا جمہوری کلچر اور روایات نہیں،حکومتی اتحاد کے پاس ان ترامیم کو پاس کروانے کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا لیکن دھونس اور دھاندلی سے اپوزیشن کی آواز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ،قوم سے مشاورت کیے بغیر تجاویز ترمیم میں پیش کی گئیں، جس طرح عدلیہ کے حوالہ سے ترامیم کی گئی ہیں یہ عدلیہ کے نظام کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں، عدلیہ کی آزادی پر بہت بڑی قدغن ہے، مرکزی مسلم لیگ 27 ویں آئینی ترمیم کو پیش کرنے والوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قانون سازی جو ملکی مفاد میں نہ ہو اس سے باز رہا جائے مرکزی مسلم لیگ کو 27 ویں ترمیم پر شدیدتحفظات ہیں.

  • 27 ویں آئینی ترمیم، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    27 ویں آئینی ترمیم، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کردیے۔

    27ویں آئینی ترمیم کا بل دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔خیال رہے کہ سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں 27 ویں آئينی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔27 ویں آئينی ترمیم کل قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی تھی، 27 ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس درکار 224 سے زیادہ 234 ارکان موجود تھے تاہم جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

    قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم میں 8 نئی ترامیم شامل کی گئی تھیں، حکومت نے تجاویز پر آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں تبدیلی کردی کلاز 2 کے تحت سنگین غداری کا عمل کسی بھی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جاسکے گا، آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت کے لفظ کا اضافہ کیا گيا۔

    موجودہ چیف جسٹس کو عہدے کی مدت پوری ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا، اس کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین جج چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔

  • کالعدم تحریک لبیک  کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    کالعدم تحریک لبیک کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے اس کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں، اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ احکامات محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ پنجاب نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں ٹی ایل پی کی ملکیتی جائیدادوں اور مالیاتی اثاثوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری طور پر منجمد کریں۔مزید برآں، بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری ہاؤسنگ، سیکریٹری كوآپریٹو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو بھی اس ضمن میں باضابطہ مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ "پنجاب بھر میں تحریک لبیک پاکستان کی تمام جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات مرتب کر کے رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کی جائے۔”

    محکمہ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ چیئرمین سب کیبنٹ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف حساس اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مؤثر اور عملی شکل دی جائے۔

    یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، جس کے بعد تنظیم کے دفاتر، فلاحی اداروں، فنڈز اور دیگر مالی ذرائع کی نگرانی پہلے ہی کی جا رہی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں ٹی ایل پی کے مالی معاملات کی تفصیلی چھان بین اور ان سے وابستہ افراد کے اکاؤنٹس کی بھی جانچ کی جائے گی، تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • بھارت  افغانستان کی پشت پناہی کررہاہے۔خواجہ آصف

    بھارت افغانستان کی پشت پناہی کررہاہے۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ افغانستان دہشتگردی کی اور بھارت افغانستان کی پشت پناہی کررہا ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ دن پہلے کے حملے میں بھی افغان شہری ملوث تھے اور اب اسلام آباد دھماکے میں بھی افغان شہری نکل آئے ہیں۔ ہم بار بار افغانستان کو بتا رہے ہیں مگر کابل ذمہ داری نہیں بھی لیتا تو یہ شہادت ساری دنیا کے سامنے ہے، افغانستان دہشتگردی کی پشت پناہی کررہا ہے اور بھارت افغانستان کی پشت پناہی کررہاہے۔ ہم نے جنگ بھی جیتی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی جیتیں گے، دہشتگردی کے پیچھے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے۔