Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قومی اسمبلی کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے بھی منظور

    قومی اسمبلی کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے بھی منظور

    سینیٹ نے آرمی، ائیرفورس، نیوی ترمیمی ایکٹ اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل منظور کرلیے۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں وفاقی وزرا اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور طارق فضل چوہدری نے بل پیش کیے۔ایوان نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ائیر فورس ایکٹ، پاکستان نیوی ایکٹ اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیے۔ سینیٹ میں بلوں کی منظوری کے موقع پر پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ارکان کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔ہمایوں مہمند اور کامران مرتضیٰ نے بل جی مخالفت کرتے ہوئے بل کو کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا تاہم چیئرمین سینیٹ نے بلوں کی منظوری کے لیے ایوان سے رائے لی جس کے بعد ایوان نے بلوں کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایوان نے27 ویں آئینی ترمیم منظورکی اور اسی سبب ایکٹس میں ترمیم کی ضرورت تھی، آرمی، نیوی اور ائیر فورس ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔

  • جسٹس مسرت ہلالی کی وفاقی آئینی عدالت کی جج بننے سے معذرت

    جسٹس مسرت ہلالی کی وفاقی آئینی عدالت کی جج بننے سے معذرت

    سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت کی جج بننے سے معذرت کر لی۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت کی جج بننے سے معذرت کر لی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی نے صحت کے مسائل کے سبب آئینی عدالت کا جج بننے سے معذرت کی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی جس کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش نے جسٹس امین الدین کو وفاقی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔دوسری جانب 27 آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی خان اور جسٹس اطہر من اللہ نے بطور جج سپریم کورٹ عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دونوں ججز نے اپنے استعفے صدر پاکستان کو ارسال کیے۔

  • تاجکستان کے وزیرِ دفاع کی  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

    تاجکستان کے وزیرِ دفاع کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

    راولپنڈی: تاجکستان کے وزیرِ دفاع کرنل جنرل صوبیر زودا امام علی عبدالرحیم نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں موجود تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، خصوصاً تربیت، انسدادِ دہشتگردی اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔تاجک وزیرِ دفاع نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ خطے کے دیرپا امن و ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • مرکزی مسلم لیگ کی جدوجہد سیاسی اور آئینی ،سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے،حافظ طلحہ سعید

    مرکزی مسلم لیگ کی جدوجہد سیاسی اور آئینی ،سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے،حافظ طلحہ سعید

    مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے کہا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ پاکستان کے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سیاسی اور پرامن جدوجہد کے ذریعے ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے اپنے بنیادی عہد کی بھرپور توثیق کرتی ہے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اصولوں کا یہ حتمی بیان جاری کرتی ہے، جس کے تحت ہر طرح کے تشدد، انتہا پسندی اور نفرت کو غیر مشروط طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ ہم ایک سیاسی اور آئینی جماعت ہیں۔ ہمارا یہ اقدام اپنے بنیادی اصولوں کی توثیق کرنے، اپنی جماعت کے خلاف جاری بے بنیاد الزامات اور بدنامی کی مہم کا جواب دینے، اور یہ واضح کرنے کے لیے ہے کہ ہم پاکستان کے آئینی ڈھانچے کے اندر اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعے ملک کی بنیادوں اور فلاح و بہبود کو درپیش تمام خطرات کا مقابلہ کریں گے۔

    حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ "ہماری جماعت کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی تھی کہ سیاسی تبدیلی لانے کا جائز طریقہ یہ ہے کہ پرامن احتجاج، باوقار بحث و مباحثہ اور انتخابی عمل کے ذریعے سیاسی آزادیوں اور حقوق کے لیے مضبوط جدوجہد کی جائے۔ ہم تشدد کے بجائے نظریات کی طاقت پر؛ جبر کے بجائے قائل کرنے پر؛ اور دہشت کے بجائے امن پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان کو ایک صحتمند سیاسی نظام اور مستحکم معیشت درکار ہے، جو صرف قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پرامن سیاسی جدوجہد، نظریات کے صحت مند مقابلے اور پرامن سیاسی عمل سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے”۔حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کے حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کی آزادی کے لیے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کرنا ہمارا آئینی اور سیاسی حق ہے۔ ہم آئین پاکستان کے تحت پرامن ذرائع سے اس حق کو استعمال کرنے کا اپنا عزم دہراتے ہیں۔ لہٰذا، عالمی برادری کو یہ تسلیم اور احترام کرنا چاہیے کہ ہم پرامن رہتے ہوئے، بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیر پر غیر قانونی قبضے سے اختلاف کرنے، اور وہاں بھارتی جارحیت اور تشدد کی مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں، اور اس بنا پر ہمارے امن کے عزم پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ہماری جماعت آزادیوں کی پرامن سیاسی جدوجہد اور شراکت کی علمبردار ہے۔

    حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے صوبوں میں بھارتی حمایت یافتہ افراد، منظم گروہوں اور قانون شکنی کرنے والے غیر ریاستی عناصر کی طرف سے کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے تشدد، دھمکیوں یا خوف و ہراس پھیلانے کے استعمال کی مذمت اور تردید کرتے ہیں۔ ہم ایسے انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کرتے ہیں جو پاکستان کے اداروں کو نقصان پہنچانے اور سازشی کہانیاں و غلط معلومات کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نسل، مذہب، قومی اصل یا سیاسی عقیدے کی بنیاد پر ہر طرح کی تعصب کے خلاف کھڑے ہیں۔ہم آئین پاکستان، عدلیہ کی آزادی اور ہمارے انتخابی عمل کی سالمیت کے ساتھ اپنے غیر متزلزل عہد کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں۔”ہم تمام سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاسی مباحثے کا معیار بلند کریں اور ایک خوشحال پاکستان کی ہماری سیاسی اور پرامن جدوجہد میں شامل ہوں۔ ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش اہم مسائل (معاشی خوشحالی سے لے کر قومی سلامتی تک) پر نیک نیتی سے بحث کریں گے، اور اس دوران ہمیشہ اپنے سیاسی عمل کی قانونی حیثیت اور اپنے ہم وطنوں کا احترام کریں گے”۔یہ کمزوری نہیں بلکہ طاقت اور وضاحت کا اعلان ہے۔ ہمارے ملک کے لیے ہمارا وژن اتحاد، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اصولوں اور امن کا راستہ چنا ہے، اور ہم پوری قوم کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ اس پر چلے۔

    حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ان اصولوں کو اپنی سرکاری پالیسی، عوامی رابطوں اور امیدواروں کی جانچ پڑتال کے عمل میں شامل کرے گی تاکہ قیادت سے لے کر نچلی سطح تک یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو تمام شہریوں کے لیے اقتصادی مواقع میں اضافے، تعلیم اور صحت کی عالمگیر فراہمی، نظریہ پاکستان سے وابستگی، انفرادی آزادی کا تحفظ اور زراعت، خواتین کو بااختیار بنانے اور زیادہ منصفانہ و مساوی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم سیاسی عمل کی قوت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور عوامِ پاکستان کی خدمت کے لیے وقف ہیں۔

  • دو لوگوں کی کہی بات پر نہیں کہہ سکتےکہ کوئی تحریک چل جائےگی،پرویز رشید

    دو لوگوں کی کہی بات پر نہیں کہہ سکتےکہ کوئی تحریک چل جائےگی،پرویز رشید

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر پرویزرشید نے کہا ہے کہ ججوں کا کام ٹکر بنوانا، کسی کو رسوا کرنا یا ڈانٹا نہیں بلکہ انصاف دینا ہے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام جیوپاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نےکہا کہ صرف 2 ججز نے استعفیٰ دیا اور ان کا اعتراض ہے کہ آئین کوختم کردیاگیا، سپریم کورٹ کے ٹکڑےکردیےگئے تاہم کسی دوسرےجج نےان کی اس بات کوتسلیم نہیں کیا اور اپنے کام کو جاری رکھنا مناسب سمجھا ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتاہےکہ نہ آئین کونقصان پہنچا اور نہ ہی سپریم کورٹ کو ٹکڑوں میں تقسیم کیاگیاہے، صرف دو لوگوں کی کہی بات پر نہیں کہہ سکتےکہ کوئی تحریک چل جائےگی، آئین میں ترمیم کاحق پارلیمنٹ کو ہے، یہ ہمارا آئینی حق ہے، خود سپریم کورٹ کے ججز بھی آئین کی پیداوار ہیں، کیا یہ دو جج حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف وہ مقدمے سنیں گےجس میں ہمارےسامنے سرکاری اہلکار، منتخب نمائندے ہوں اور ہم ان کی تذلیل کریں، تضحیک کریں، رسوا کریں، جیلوں میں بھیجیں اور نااہل قرار دےدیں۔

    پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں قتل، زمین پر قبضے، شہری سے ناانصافی کا مقدمہ نہیں سنوں گا، اعلیٰ عدالت میں بیٹھ کر ہر شہری کو انصاف دینا آپ کا ذمہ ہے، آپ کے ذمہ یہ کام نہیں ہے کہ ٹی وی کے ٹکر بنوانے ہیں، آج فلاں کو ڈانٹ دیا، فلاں کو رسوا کیا، آپ صرف یہ کام کرنا چاہتےہیں، آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہوئی ہے، خود پی ٹی آئی کےکسی رکن نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں کیا، سینیٹ میں64 اراکین نےکھڑےہوکر ووٹ دیا،اختلاف میں کوئی کھڑا نہیں ہوا، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو یہی کہیں گےکہ ترمیم اتفاق رائے سےکردی گئی ہے جب کہ کل جو ترمیم ہوئی اس سےصرف 3 لوگوں نےاختلاف کیا جو جے یو آئی کےتھے

  • حماس کی جانب سے ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپسی

    حماس کی جانب سے ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپسی

    حماس نے غزہ میں قید ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس کردی ہے، جس کی باضابطہ تصدیق اسرائیلی فوج اور وزیراعظم آفس نے کر دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لاش ریڈ کراس کے ذریعے اسرائیل کے حوالے کی گئی۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس نے 73 سالہ اسرائیلی یرغمالی "می نی گوڈارڈ” (Meny Godard) کی میت انہیں منتقل کی، جسے حماس نے غزہ سے حوالے کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم آفس نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "ریڈ کراس نے ضروری مرحلہ وار طریقہ کار کے بعد یرغمالی کی لاش آئی ڈی ایف کے حوالے کی ہے۔”

    ذرائع کے مطابق یہ پیشرفت غزہ امن معاہدے کے تحت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق حماس اب تک متعدد زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کے علاوہ کئی یرغمالیوں کی میتیں بھی واپس کر چکی ہے۔ اس کے بدلے اسرائیل نے درجنوں فلسطینی قیدیوں کو مرحلہ وار رہائی فراہم کی ہے۔معاہدے کے تحت دونوں فریقوں کے درمیان فہرستوں کا تبادلہ، لاشوں کی شناخت اور تصدیقی عمل ریڈ کراس کی نگرانی میں مکمل کیا جاتا ہے۔

  • بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

    بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اُن کی تقریر کی غلط ایڈیٹنگ کرنے پر معافی مانگ لی تاہم معاوضہ دینے سے انکار کردیا۔

    بی بی سی نے تسلیم کیا کہ 6 جنوری 2021 کی ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو اس انداز میں جوڑا گیا کہ ایسا غلط تاثر پیدا ہوا جیسے ٹرمپ نے براہِ راست تشدد پر اکسانے کی اپیل کی ہو،بی بی سی نے واضح کیاکہ ادارہ غلط ایڈیٹنگ پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ 2024 میں نشر ہونے والی ٹرمپ کی ایڈٹ شدہ دستاویزی فلم دوبارہ نہیں دکھائی جائےگی، اس معاملے پر ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبرہ ٹرنس پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر نے دستاویزی فلم میں اُن کی تقریر کی متنازع ایڈیٹنگ کے معاملے پر بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی دی تھی،بی بی سی کے وکلا نے بتایاکہ انہوں نے ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا جواب دے دیا ہے ، میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے وکلا نے بی بی سی کو خط کا جواب دینے کیلئے آج شام 5 بجے تک کی مہلت دی تھی۔

  • کوہاٹ،کرک،پولیس کاروائیوں کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک

    کوہاٹ،کرک،پولیس کاروائیوں کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور کرک میں پولیس نے کارروائیوں کے دوران 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    کوہاٹ میں پولیس نے کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، یہ کارروائی کوہاٹ میں بازید خیل کے قریب کی گئی،ڈی پی او کوہاٹ شہباز الہٰی کے مطابق تھانہ صدر کے ایس ایچ او ریاض اپنے دستے کے ساتھ معمول کے گشت پر تھے کہ دہشت گردوں نے ان کے دستے پر اچانک فائرنگ کر دی،پولیس نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں تینوں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، لاشوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ادھر کرک کے علاقے میر کلام بانڈہ میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا،ترجمان سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے میر کلام بانڈہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا،ترجمان سی ٹی ڈی پولیس نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد مختلف سنگین مقدمات میں نامزد تھا۔

  • منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں منشیات بنانے اور فراہم کرنے والوں کے سخت خلاف کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منشیات بالخصوص ہیروئن اور آئس کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی صدارت اجلاس میں منشیات کے سپلائرز اور مینوفیکچررز کےخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا منشیات کی لعنت جامعات تک پہنچ چکی ہے، ہم مزید غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے، نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سےمحفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، منشیات بالخصوص ہیروئن اور آئس کا جڑ سےخاتمہ ناگزیر ہے،انہوں نے کہا کہ منشیات کی تیاری اور ترسیل کیخلاف کارروائی کیلئےمربوط حکمت عملی اختیار کی جائے، کارروائی کیلئےمحکموں اور اداروں پرمشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے، منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور نتیجہ خیز کارروائی ہونی چاہیے، خواہ مخواہ کسی کو تنگ نہ کریں، حقیقی بنیادوں پر کارروائی کریں، حکومت تعاون فراہم کرے گی، ضبط شدہ منشیات کو تلف کرنا ناگزیراور دوبارہ مارکیٹ میں نہیں آنی چاہیے۔

  • جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

    جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

    وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے درمیان مشاورت مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا تاریخی مرحلہ طے پا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    حلف برداری کی تقریب کل صبح 10 بجے ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد ہو گی، جہاں صدرِ مملکت جسٹس امین الدین خان سے حلف لیں گے۔ذرائع کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام ملکی عدالتی نظام میں ایک نئی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔حلف برداری کی تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز، سینئر وکلا، اٹارنی جنرل، وزیر قانون، اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں،

    تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام آئینی تنازعات کے جلد از جلد حل کے لیے ایک مؤثر پیش رفت ہے، جس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔