Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دورہ لیبیا:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات

    دورہ لیبیا:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، جو اس وقت لیبیا کے سرکاری دورے پر ہیں، نے لیبین عرب مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ بالقاسم حفتر اور لیبین عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی۔

    آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو لیبین مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے ساتھ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال، اور دوطرفہ دفاعی تعاون و فوجی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تربیت، استعداد کار میں اضافہ (کیپیسٹی بلڈنگ) اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر لیبیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے پاکستان مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • اسنوکر کلب چلانا قانونی اور تفریحی سرگرمی، کوئی قانون پابندی عائد نہیں کرتا،عدالت

    اسنوکر کلب چلانا قانونی اور تفریحی سرگرمی، کوئی قانون پابندی عائد نہیں کرتا،عدالت

    لاہور ہائی کورٹ نے اسنوکر کلب کے کاروبار کو جائز اور قانونی قرار دے دیا۔

    عدالت نے شہری کا اسنوکر کلب بند کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،جسٹس جواد ظفر نے شہری محمد راشد کی اپیل پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسنوکر کلب چلانا قانونی اور تفریحی سرگرمی ہے، کوئی قانون اس پر پابندی عائد نہیں کرتا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ہر شہری کو قانونی بزنس کرنے کا حق ہے، بلیئرڈ اور اسنوکر کے کھیل غیراخلاقی نہیں، نہ ہی قانون کے تحت ممنوع ہیں،تحریری فیصلے کے مطابق قانونی دائرے میں چلنے والے کاروبار کو مبہم شکایات پر غیرمعینہ مدت کے لے بند نہیں کیا جا سکتا،درخواست گزار کے مطابق وہ سرگودھا میں اسنوکر کلب چلاتا تھا، اسنوکر کلب کے ذریعے عوام کو بلیئرڈ کھیلنے کی تفریح فراہم کی جاتی تھی۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آرکی کامسیٹس یونیورسٹی کے اساتذہ ،طلبہ کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آرکی کامسیٹس یونیورسٹی کے اساتذہ ،طلبہ کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آرکی کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے اساتذہ اور طلبہ کیساتھ خصوصی نشست ہوئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملکی داخلی صورتحال، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی،ڈی جی آئی ایس پی آر نے خصوصی نشست میں شرکاء کے سوالات کے مفصل اور مدلل جوابات دیے ، تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اپنے تاثرات کا اظہار بھی کیا ،شرکاء نےافواج پاکستان کی مادر وطن کیلئے لازوال قربانیوں کو شاندارخراج تحسین پیش کیا

    شرکاءکاکہناتھا کہ بغیرتحقیق کے غیرمصدقہ معلومات کاپھیلاؤ قومی مفادات کیلئے نقصان کاباعث بن سکتاہے،ایسے سیشنزسےبہترانداز میں مس انفارمیشن اورڈس انفارمیشن کا تدارک کیاجاسکتا ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں پاکستان کا مستقبل قرار دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے سوالات کے مکمل دلائل کے ساتھ جوابات دیے، پاکستان کے استحکام، سلامتی اورترقی کیلئےفوج کےساتھ ساتھ ہرشہری کاکردارناگزیر ہے،دہشتگردی کےمکمل خاتمےکیلئے تمام اداروں کےدرمیان باہمی تعاون اور یکجہتی انتہائی ضروری ہے، نوجوانوں میں آگاہی اور شعورکو اجاگر کرنے کیلئے ایسے سیشنز کاتسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے ، اس آگاہی سیشن نے پاکستان کے استحکام اور ترقی میں طلبہ کے کلیدی کردارکو نمایاں کیا ہے ،اس سیشن سے فتنہ الخوارج کے بارے میں ہمیں واضح آگاہی ملی ہے، شرکاء نے اس عزم کا اظہارکیا کہ پاک فوج ہم سے ہے اورہم پاک فوج سے ہیں

  • طالبان کی جانب سے خواتین ہراساں،جبری نکاح ،رہنما نےماتحت ملازمہ کو تیسری بیوی بنا لیا

    طالبان کی جانب سے خواتین ہراساں،جبری نکاح ،رہنما نےماتحت ملازمہ کو تیسری بیوی بنا لیا

    کابل: طالبان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ملا محمد ابراہیم عمری پر خواتین کو ہراساں کرنے، طاقت کے ناجائز استعمال اور مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملا محمد ابراہیم عمری نے اپنی ڈائریکٹوریٹ میں کام کرنے والی ایک خاتون ملازمہ کو دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے زبردستی اپنی تیسری بیوی کے طور پر نکاح کرنے پر مجبور کیا، جس سے طالبان کے زیرِ انتظام اداروں میں خواتین کے عدم تحفظ پر گہری تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ طالبان کے بعض حلقوں میں خواتین کے ساتھ ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاتون مبینہ طور پر ملا عمری کے ماتحت ادارے میں سرکاری ملازمہ تھیں اور ان پر ملازمت برقرار رکھنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔مزید انکشافات کے مطابق ملا محمد ابراہیم عمری نے اپنے زیرِ انتظام 120 عہدوں پر مشتمل ڈائریکٹوریٹ میں سے 36 اہم عہدے، 5 امارتیں اور ایک ایگزیکٹو مینجمنٹ کا عہدہ اپنے قریبی خاندان کے افراد کے لیے مختص کر رکھے تھے، جسے اقربا پروری کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ملا عمری پر یونیسف کے تحت تنخواہ پانے والے ملازمین سے 30 سے 50 فیصد تک رقم زبردستی وصول کرنے کے الزامات ہیں، جبکہ اساتذہ کے لیے منعقد کیے گئے تربیتی سیمینارز میں بھی مالی بے ضابطگیوں اور خرد برد کے شواہد سامنے آئے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام معاملات طالبان کے اعلیٰ حکام کے علم میں لائے گئے، تاہم تاحال کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ مبصرین کے مطابق اس خاموشی سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ طالبان حکومت میں خواتین کے حقوق، ملازمین کے تحفظ اور احتساب کے نظام کو سنجیدگی سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

  • ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت پر بنگلہ دیش کا جارحانہ ردِعمل

    ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت پر بنگلہ دیش کا جارحانہ ردِعمل

    ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت پر بنگلہ دیش کا جارحانہ ردِعمل سامنے آیا ہے

    مودی سرکار کو کھلا چیلنج، بنگلہ دیش نے بھارتی دباؤ اور بالادستی قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا،قاتلوں کی سرپرستی کرنے والے مودی کو بنگلہ دیش کی جانب سے دوٹوک پیغام، اب مزید مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی ،بنگلہ دیش میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے قاتل شیخ حسینہ واجد کو پناہ دینے والے مودی کا پتلا نذرِ آتش کر دیا،نیشنل سٹیزن پارٹی کے چیف آرگنائزر اور بنگلہ دیشی رہنما حسنات عبداللہ نے بھارت کو دوٹوک للکاردیا،حسنات عبداللہ نے بنگلہ دیش میں عدم استحکام پر بھارت کا شمال مشرقی خطہ الگ کر دینے کی وارننگ دے دی ،کہا کہ تم نے قاتلوں کو پناہ دی، بھارت واضح طور پر جان لے کہ ہم بھارت کی شمال مشرقی سیون سسٹرز ریاستوں کو الگ کر دیں گے،

    بنگلہ دیشی رہنما کا بھارتی حکام پر بنگلہ دیشی شہریوں کی سرحد پار ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا، حسنات عبداللہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کی خودمختاری اور انسانی حقوق پامال ہوئے تو بنگلہ دیش سخت جواب دے گا، بنگلہ دیشی رہنما نے بنگلہ دیش پر عدم استحکام مسلط کرنے کی صورت میں مزاحمت سرحد پارتک پھیلنے کی وارننگ دے دی ،بنگلہ دیشی رہنما نےسیاسی دہشت گردوں کو بھارت میں پناہ ملنے کا انکشاف کیا اور کہا کہ بھارت سامراجی ہتھکنڈوں، اطلاعاتی جنگ اور اقلیتی کارڈ استعمال کر کے خطہ میں انتشار پھیلا رہا ہےحسنات عبداللہ کے مطابق آج بھی بھارت بے جا مداخلت سے بنگلہ دیش کو کمزور اور تنازعات زدہ بنانا چاہتا ہے،بھارت کی ہمسایہ ممالک میں مداخلت اور قاتلوں کی پشت پناہی نے خطہ کو تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ،بنگلہ دیشی قیادت کا بھارت کو للکارنا یہ واضح پیغام ہے کہ اب سفاک مودی کواپنی جارحانہ پالیسیوں کے باعث سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے

  • پاک سرزمین کے بہادر سپوت ،لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا 54 واں یوم شہادت

    پاک سرزمین کے بہادر سپوت ،لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا 54 واں یوم شہادت

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کے 54ویں یوم شہادت پر خصوصی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے،محمد محفوظ شہید کے یومِ شہادت کے موقع پر دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی سے کیا گیا،علماء کرام نے شہید کے بلند درجات اور مغفرت کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا،علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہی پاکستان آج قائم و دائم ہے،علماء نے وطن پر جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو عزت اور تکریم کا حقیقی حقدار قرار دیا،علماء کرام نے کہا کہ شہداء کا مقدس لہو پوری قوم پر قرض ہے،زندہ اور باشعور قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، علماء کرام نے واضح کیا کہ جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ رسوائی کا شکار ہو جاتی ہیں،لانس نائیک محمد محفوظ شہید دھرتی کے دلیر سپوت تھے جو قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، شہداء کی قربانیاں ملکی استحکام، وقار اور قومی عظمت کی علامت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا فخر ہیں

    پاک فوج کے عظیم ہیرو لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے،لانس نائیک محمد محفوظ شہید 25 اکتوبر 1944 کو ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈ ملکاں میں پیدا ہوئے،پاک فوج میں شمولیت لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا دیرینہ خواب اور زندگی کا مقصد تھی،اسی جذبے کے تحت 8 مئی 1963 کو لانس نائیک محمد محفوظ نےپاک فوج کی پنجاب رجمنٹ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی،
    1971 کی جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ واہگہ اٹاری سیکٹر میں دشمن کیخلاف صفِ اوّل میں موجود تھے،17 دسمبر کی شب ہدف کی جانب پیش قدمی کے دوران آپ کو دشمن کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،دشمن کی پوزیشن تقریباََ 70میٹر کے فاصلے پر تھی، جس کے باعث پیش قدمی روکنا پڑی،دشمن کی شدید مزاحمت کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کی لائیٹ مشین گن تباہ ہو گئی،ایک شہید ساتھی کی مشین گن سنبھال کر لانس نائیک محمد محفوظ نے بھر پور انداز سے مکار دشمن کے ہدف کو نشانہ بنایا ،شدید زخموں کے باوجود محمد محفوظ شہید نے دشمن کے مورچہ تک پہنچ کر بھارتی فوج کے مشین گنر کی گردن دبوچ کر اسے ہلاک کر دیا ،اسی مورچہ میں موجود درندہ صفت دشمن نے سنگین وار کر کے آپ کو شہید کر دیا،لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بے مثال جرأت کا اعتراف بھارتی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل پوری نے بھی کیا،لیفٹیننٹ کرنل پوری کا کہنا تھا کہ اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے ایسا دلیر سپاہی نہیں دیکھا،بھارتی کمانڈر نے کہا اگر محمد محفوظ میری فوج میں ہوتے تو میں انہیں بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز کیلئے نامزد کرتا،لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بے مثال جُرات و شجاعت کے اعتراف میں آپکو پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز "نشانِ حیدر” سے نوازا گیا،لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا یومِ شہادت مادر وطن کیلئے افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کی روشن مثال ہے

  • مانع حمل اشیاء پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی درخواست آئی ایم ایف نے مسترد کر دی

    مانع حمل اشیاء پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی درخواست آئی ایم ایف نے مسترد کر دی

    بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے مانع حمل اشیاء پر عائد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مانع حمل مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ یہ اشیاء عام عوام، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات کے لیے زیادہ قابلِ برداشت بن سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف حکام نے اس مطالبے کو موجودہ مالی سال میں منظور کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکس میں اس نوعیت کی کوئی بھی بڑی رعایت یا تبدیلی صرف آئندہ بجٹ کے عمل کے دوران ہی زیرِ غور لائی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بجٹ سے ہٹ کر ٹیکس چھوٹ دینے سے محصولات کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں، جو پروگرام کی شرائط کے خلاف ہے۔

    ایف بی آر حکام نے میٹنگ میں یہ بھی مؤقف اپنایا کہ مانع حمل اشیاء بنیادی نوعیت کی مصنوعات ہیں اور ان پر زیادہ ٹیکس آبادی میں تیزی سے اضافے کو روکنے کی حکومتی کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے اس مؤقف کے باوجود فوری ریلیف دینے سے گریز کیا اور فیصلہ آئندہ مالی سال کے بجٹ تک مؤخر کر دیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ آبادی پر قابو پانے والی مصنوعات کو ملک بھر میں سستا، آسانی سے دستیاب اور عام شہریوں کی پہنچ میں لایا جائے۔ حکومت کا خیال ہے کہ مانع حمل اشیاء پر ٹیکس میں کمی سے نہ صرف عوامی صحت کے اہداف حاصل ہوں گے بلکہ آبادی کے دباؤ میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔

  • اقبال  چوک فلائی اوور پراجیکٹ صرف 77 روز کی ریکارڈ مدت میں مکمل ،وزیرداخلہ کا دورہ

    اقبال چوک فلائی اوور پراجیکٹ صرف 77 روز کی ریکارڈ مدت میں مکمل ،وزیرداخلہ کا دورہ

    حیرت انگیز رفتار اور اعلی ترین معیار سے اقبال چوک فلائی اوور پراجیکٹ صرف 77 روز کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہو گیا

    پراجیکٹ کے اطراف 3 ہزار نئے پودے و درخت لگا دئیے گئے ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےرات گئے پراجیکٹ کا دورہ کیا،وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری بھی ہمراہ تھے ،وزیر داخلہ محسن نقوی نے پراجیکٹ کا معائنہ کیا ۔ تعمیراتی معیار کو سراہا ،وزیرداخلہ محسن نقوی نے 77 روز میں فلائی اوور کی تکمیل پر پراجیکٹ ڈائریکٹر اور پوری ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی ،وزیر داخلہ محسن نقوی نے افتتاحی تقریب کے انتظامات کا جائزہ لیا ،وزیر داخلہ محسن نقوی نے افتتاحی تقریب کے لئے بہترین انتظامات کی ہدایت کی ، پراجیکٹ کے اطراف 3ہزار نئے پودے اور درخت لگانے پر سی ڈی اے کی کارکردگی کو سراہا

    وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اقبال فلائی اوور راولپنڈی اور اسلام آباد کا مرکزی جنکشن پوائنٹ ہے۔ فلائی اوور سے راولپنڈی/راوت اور لاہور سے اسلام آباد آنے والی ٹریفک کو سہولت ملے گی۔ فلائی اوور سے روزانہ تقریباً 100,000 مسافروں کو سہولت فراہم ہوگی۔چئیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور متعلقہ حکام بھی ہمراہ تھے

  • چارسدہ، ڈانس پارٹی پر چھاپہ، تین خواتین اور دس مرد گرفتار، اسلحہ و شراب برآمد

    چارسدہ، ڈانس پارٹی پر چھاپہ، تین خواتین اور دس مرد گرفتار، اسلحہ و شراب برآمد

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

    اسی سلسلے میں ڈی ایس پی شبقدر ریاض خان کی نگرانی میں سروکلے پولیس نے عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سروکلے آصف خان نے ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے موضع باڈی کور میں قائم ایک ڈانس پارٹی پر چھاپہ مارا۔چھاپے کے دوران تین خواتین ڈانسرز مسماتہ (ص)، مسماتہ (کا) اور مسماتہ (ک) جبکہ دس مرد تماش بین جن میں واجد، یونس، زیشان، گلستان، نعیم، محمد جان، سائر، مثل خان، ادریس اور عابد علی شامل ہیں کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس نے موقع سے چار عدد پستول اور گیارہ شراب کی بوتلیں بھی برآمد کر لیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ڈی ایس پی شبقدر ریاض خان نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس کی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشرے کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ عوامی شکایات پر فوری کارروائی چارسدہ پولیس کی اولین ترجیح ہیں۔

  • فرانس کی وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹس پر  سائبر حملہ

    فرانس کی وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹس پر سائبر حملہ

    پیرس: فرانس کی وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹس پر ایک سنگین سائبر حملہ سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں حساس سرکاری ڈیٹا لیک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق اس حملے میں وزارت کے پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے ذریعے حملہ آوروں نے اہم فائلوں اور سرکاری نظاموں تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر حملے کی نوعیت محدود سمجھی جا رہی تھی، تاہم تازہ تحقیقات کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اب تک اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ ڈیٹا متاثر ہوا ہے، تاہم لیک ہونے والے ڈیٹا کی مکمل نوعیت اور حجم کا تعین ابھی جاری ہے۔

    وزیر داخلہ کے مطابق سائبر حملے کے دوران وزارتِ داخلہ کے بعض پیشہ ورانہ ای میل اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی حاصل کی گئی، جس کے بعد حملہ آور متعدد حساس اور اہم فائلیں دیکھنے اور حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ متاثر ہونے والی فائلوں میں فوجداری ریکارڈ پروسیسنگ سسٹم بھی شامل ہے، جو ملک بھر میں مجرمانہ ریکارڈ اور عدالتی معلومات کے انتظام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مطلوب افراد کی فہرست، جسے FPR (Fichier des Personnes Recherchées) کہا جاتا ہے، بھی اس حملے کی زد میں آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ فہرست قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس میں مطلوب، لاپتا اور نگرانی میں رکھے گئے افراد سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔

    سائبر حملے کے سامنے آتے ہی فرانسیسی حکام نے فوری طور پر سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ تحقیقات کے دوران ایک 22 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔