Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں، کارروائیوں، اور حملوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک، جبکہ کئی شہری جاں بحق یا زخمی ہو گئے۔ مختلف علاقوں میں کارروائیاں اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔

    ٹانک کے علاقے مل لزئی میں سیکیورٹی فورسز اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ باقی مفرور عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔اسی ضلع میں مل لزئی پولیس حدود کے علاقے لکی مچن خیل میں ٹی ٹی پی کے شاہین گروپ کے دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے ایک کم عمر لڑکے، محمد وسیم (عمر تقریباً 15 سال) کو قتل کر دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتول کے والد، ریٹائرڈ صوبیدار پستہ جان، اور کزن گل زمان کو بھی اسی گروپ نے پہلے قتل کیا تھا۔ واقعے پر عوام میں خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے حافظ گل بہادر گروپ کے اہم کمانڈر بسم اللہ عرف فتح اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔ بسم اللہ کا تعلق زوی سیدگئی کے مسماخیل گاؤں سے تھا۔ وہ اپنے والد امیر داد خان عرف سکراوتی کی ہلاکت کے بعد گروپ کی قیادت کر رہا تھا۔ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں نصرت اللہ، انتقامی، اور محمد جان لمسی شامل ہیں، جو "فتح یونٹ” کے پرانے ارکان تھے۔دوسری جانب میرعلی، دتہ خیل، اور حسن خیل میں علیحدہ کارروائیوں کے دوران ٹی ٹی پی کے ظہیر گروپ کے تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ اسی علاقے میں حنیف اللہ عرف اسد گروپ کے ٹھکانے پر کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔

    ماموند تنگئی گڈیگل (تحصیل باجوڑ) میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران 13 دہشت گردوں کو ہلاک اور 40 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔خیروخیل پکہ میں مقامی باشندوں اور دہشت گردوں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دہشت گردوں نے بھاری اسلحہ استعمال کیا۔ دو شہری، اسد خان اور کامران، زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔تحصیل صفی کے علاقے کُرر (کریر) میں دہشت گردوں نے ایک شہری ناہید شاہ ولد واصل کو قتل کر دیا۔ وہ ایک ماہ قبل بنوں بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ واقعے پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    پشاور کے علاقے حسن خیل میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے عسکری ونگ نے سنائپر حملہ کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم نے اپنی دہشت گرد کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت اور نگرانی بڑھا دی ہے۔

    بلوچستان: متعدد دہشت گرد حملے اور پرتشدد واقعات
    اورماڑہ میں فوجی قافلے کی ایک گاڑی IED دھماکے کا نشانہ بنی، جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ تمپ میں نامعلوم مسلح افراد نے عبدالرحمن ولد طارق نور کو گولیاں مار کر قتل کر دیا، جبکہ بلیدہ (کچ) میں ایک افسوسناک واقعے میں چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جو ایک ہفتہ قبل پکنک پر گئے تھے۔چمن اور طورخم بارڈر پر افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ چمن سے ایک دن میں 10,700 افغان شہری واپس گئے، جبکہ طورخم سے 7,935 افغان افغانستان لوٹ گئے۔ واپسی کے عمل کے دوران پولیس اہلکاروں کے غیر اخلاقی رویے اور مبینہ بھتہ خوری کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ بارہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اغوا شدہ شہری جمشید ولد غیرت خان کو بازیاب کرا لیا۔ کارروائی کے دوران دو پولیس اہلکار میر گل اور طیب خان کو گرفتار کیا گیا جبکہ حیدر فرار ہو گیا۔ ڈی پی او خیبر رائے مظہر اقبال نے کہا کہ "وردی میں چھپے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں”۔تراہ وادی میں اغوا شدہ پولیس اہلکار واحد گل کو عوامی احتجاج کے بعد دہشت گردوں نے رہا کر دیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔

    ایک نئے عسکری گروہ "انصار الجہاد” نے کرم، باجوڑ، اور دیر میں تین حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ کے ترجمان عبداللہ انصاری نے بیان میں مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے چوکس ہیں۔کرم ضلع میں کاظم گروپ کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں درجنوں کارروائیاں کرتے ہوئے کئی اہم دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ حکام کے مطابق، حالیہ آپریشنز کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ اور امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

  • افغانستان ،زلزلے سے 20 افراد کی ہلاکت،320 زخمی

    افغانستان ،زلزلے سے 20 افراد کی ہلاکت،320 زخمی

    افغانستان کے ہندوکش خطے میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    خبر ایجنسی کے مطابق زلزلےکے جھٹکے افغانستان کے شہر مزار شریف سمیت دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، زلزلے کے باعث مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔،میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف حادثات میں اب تک 20 افراد کی ہلاکت اور 320 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے،مزار شریف میں زلزلے کے وقت شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لوگ آدھی رات میں گھروں سے نکل کر کھلے مقامات کی طرف دوڑنے لگے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے مکانات گر سکتے ہیں،امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.3 اور گہرائی 28کلو میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز صوبہ سمنگان کے ضلع خُلم سے تقریباً 22 کلو میٹر جنوب مغرب میں تھا،رپورٹس کے مطابق زلزلےکے جھٹکے ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران میں بھی محسوس کیےگئے۔

    واضح رہے کہ رواں سال 31 اگست کو افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2023 میں 6.3 شدت کے زلزلے اور آفٹر شاکس کے نتیجے میں کم از کم 4 ہزار اموات ہوئی تھیں۔

  • لاہور پریس کلب کے وفد کا کرتار پور کا دورہ

    لاہور پریس کلب کے وفد کا کرتار پور کا دورہ

    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کی قیادت میں سینئر صحافیوں کے وفد نے لاہور پریس کلب کی آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی کی دعوت پر گزشتہ روز دربار صاحب کرتارپور کا خصوصی دورہ کیا، جہاں ان کا پی ایم یو انتظامیہ کی جانب سے استقبال کیا گیا۔

    پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے افسر راجہ کامران نے دورے کے دوران وفد کو دربار صاحب کرتارپور کی تاریخ، تعمیراتی منصوبے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں اس کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی اور دربار صاحب کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔وفد نے بابا گورونانک کی سمادھی سمیت مختلف مقامات بھی دیکھے جبکہ اس موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ میں کرتارپور راہداری کے کردار پر اظہارِ خیال بھی کیا گیا۔

    وفد میں لاہور پریس کلب کے سینئر نائب صدر افضال طالب،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل قمر الزمان بھٹی،سابق نائب صدر امجد عثمانی،سینئر صحافی محمد عبداللہ،ڈاکٹر خالد منہاس،عمران علی نومی،ظہیر شہزاد،عمر حفیظ، سید فرزند علی، فواد بشارت، رانا خالد قمر، محمد اکرم،ڈاکٹر عمران بھٹی اور کلب کے ڈپٹی منیجر محمد عقیل شامل تھے۔صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے اس موقع پر حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرتارپور راہداری نا صرف مذہبی رواداری بلکہ خطے میں امن کی علامت ہے۔ لاہور پریس کلب کی جانب سے پی ایم یو انتظامیہ کو توصیفی سرٹیفیکٹس دیے گئے۔بعد ازاں، ارشد انصاری کی ستارہ امتیاز کیلئے نامزدگی کے سلسلے میں سر سید شکرگڑھ اور ضلع نارووال کے بڑے تعلیمی نیٹ ورک کے سربراہ ڈاکٹر حافظ شبیر احمد اور فیصل منظور تاج ایڈووکیٹ کی جانب سے شکرگڑھ میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب کی صدارت نارووال پریس کلب کے چیئرمین ملک سعید الحق نے کی جبکہ اس موقع پر حافظ شبیر احمد موجود تھے جنھوں نے ارشد انصاری کو صحافیوں کا قائد قرار دیا اور کہا کہ علاقائی صحافیوں کو لاہور پریس کلب سے رہنمائی لینی چاہیے۔صدرارشد انصاری نے شکرگڑھ کے صحافیوں کو اتحاد کا پیغام دیا اور کہا کہ گوجرانوالہ کی طرح ایک ہو جاﺅ نارووال میں صحافی کالونی میں منظور کرکے دوں گا۔ تقریب میں شکرگڑھ کے صحافیوں، وکلا اور معزز شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں اعظم خاور، نامور شاعر حاجی صابر ناز اور ڈاکٹر محمد عارف،سماجی کارکن ملک قدیر احمد،شکرگڑھ کے صحافیوں شہزاد حنیف، رانا علی رضا، محمد رمضان، عرفان خان خالد،میاں شاہد اقبال،مرزا اسلام۔ حافظ عرفان رضا،غلام محی الدین چوہدری فہد یعقوب،سرمد یعقوب،زوہیب شیخ ،حسن شیخ ،محمد متاع قادری ،میاں شاہد ندیم ،رانا مہران الہی ، خالد سیف، محمد یاسین زمان،محمد آصف جمال ،طارق امین سلطانی اور حافظ ندیم نے خصوصی طور پر شریک ہوئے۔اس سے پہلے وفد کے نارووال اور شکرگڑھ پہنچنے پر یاران شکرگڑھ کے چیئرمین مرزا سرور بیگ نے وفد کا استقبال کیا وفد کو پاکستان کے معیاری وقت کی جگہ کا دورہ بھی کرایا گیا جہاں ہندوستان سے سورج کی پہلی کرن پاک سر زمین پر اجالا بکھیرتی ہے۔اس موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق بھی دیکھاگیا۔وفد نے شکرگڑھ کی دھرتی پر آسودہ خاک صاحب کرامت صوفی بزرگ خواجہ عبدالسلام چشتی کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔تقریب کے اختتام پر صدر ارشد انصاری نے ڈاکٹر حافظ شبیر احمد اور فیصل منظور تاج کو لاہور پریس کلب کی جانب سے شیلڈز پیش کیں جب کہ محمد عرفان سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شہریوں میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر شکرگڑھ کے صحافیوں کی جانب سے صدر ارشد انصاری کو تلوار سے مزین سویئنر کا نایاب تحفہ بھی دیا گیا۔صدر ارشد انصاری نے کامیاب مطالعاتی اور تفریحی دورے جبکہ تمغہ امتیاز کے حوالے سے تقریب پر لاہور پریس کلب کے سابق نائب صدر امجد عثمانی،سینئر صحافی محمد عبداللہ ،خالد منہاس اور عمران علی نومی کا بھی شکریہ ادا کیا۔

  • صحافیوں کا تحفظ حکومتی ذمہ داری، مرکزی مسلم لیگ آزادی صحافت کے لئے پرعزم ہے،تابش قیوم

    صحافیوں کا تحفظ حکومتی ذمہ داری، مرکزی مسلم لیگ آزادی صحافت کے لئے پرعزم ہے،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ صحافیوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، صحافیوں کو تحفظ ملے گا تو وہ احسن طریقے سے ذمہ داریاں سر انجام دے سکیں گے، مرکزی مسلم لیگ آزادی صحافت کے لئے پرعزم ہے، صحافیوں کے حقوق کے لئے ان کے شانہ بشانہ رہیں گے

    صحافیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر سنٹرل میڈیا آفس میں منعقدہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے تابش قیوم کا کہنا تھاکہ پاکستان کے بہادر صحافیوں نے ہر دور میں مشکلات، دباؤ اور خطرات کے باوجود اپنے فرائض ایمانداری اور استقامت سے انجام دیے، مرکزی مسلم لیگ اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ ایک آزاد، باوقار اور ذمہ دار صحافت ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، صحافیوں کے تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی، اور پیشہ ورانہ آزادی کے لیے مؤثر اقدامات کئے جائیں، مرکزی مسلم لیگ آزادی صحافت کی جدوجہد میں اہل صحافت کے ساتھ کھڑی ہے،

  • خیبرپختونخوا بار کونسل انتخابات، پشاور کی 7 نشستوں پرانصاف لائرز فورم دو سیٹوں پر کامیاب

    خیبرپختونخوا بار کونسل انتخابات، پشاور کی 7 نشستوں پرانصاف لائرز فورم دو سیٹوں پر کامیاب

    خیبرپختونخوا بار کونسل کے انتخابات میں پشاور کی 7 نشستوں پر ووٹنگ کے غیر حتمی نتائج سامنے آگئے ہیں جن کے مطابق ملگری وکیلان گروپ نے سبقت حاصل کرتے ہوئے چار نشستیں اپنے نام کر لی ہیں، جب کہ انصاف لائرز فورم نے دو نشستیں جیتیں اور ایک نشست آزاد امیدوار کے حصے میں آئی۔

    انتخابات میں وکلاء کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی اور پولنگ کا عمل پُرامن ماحول میں مکمل ہوا۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق ملگری وکیلان کے امیدوار خضر حیات سب سے زیادہ 926 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ اسی گروپ کے فضل واحد نے 893، رفیق مہمند نے 861 اور بابر خان یوسفزئی نے 792 ووٹ حاصل کیے۔دوسری جانب انصاف لائرز فورم کی امیدوار صوفیہ نورین نے 880 ووٹ حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کی، جب کہ علی زمان نے 875 ووٹ لے کر اپنی نشست جیت لی۔آزاد امیدوار محمد سعید نے بھی زبردست مقابلہ کرتے ہوئے 828 ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے۔

    انتخابی نتائج کے بعد ملگری وکیلان کے رہنماؤں اور حامیوں نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کامیابی وکلاء کے اعتماد کا مظہر ہے۔

  • اعجازملاح کی گرفتاری،مزید حقائق منظر عام پر آ گئے

    اعجازملاح کی گرفتاری،مزید حقائق منظر عام پر آ گئے

    آپریشن سندور کی ناکامی اور عالمی سطح پر پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کے بعد سے بھارت نے مسلسل پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم مہم شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک ناکامُ کوشش کو ہماری مستعد سیکیورٹی ایجنسیز نے بے نقاب کیا ہے۔

    اس کوشش میں انڈین انٹیلیجنس ایجنسی نے ایک پاکستانی مچھیرے کو پاکستان رینجرز، نیوی اور آرمی کی وردیاں اور دیگر سامان خرید کر بھارت بھیجنے کا ٹاسک سونپا، تاہم ہماری سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے بھارت کے اس منصوبہ بندی کا سراغ لگا لیا۔ اور مجرم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔پاکستانی سیکورٹی ایجنسیاں گہرے سمندری پانیوں میں بھارتی ایجنسیوں کی مشکوک حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں سکیورٹی اداروں نے مسلسل نگرانی کے بعد ایک بظاہر عام سے مچھیرے سے مسلح افواج کی وردیاں اور مشکوک سامان برآمد کیا ہے۔ یہ شخص کچھ عرصہ سے مختلف دوکانوں سے پاکستانی افواج کے استعمال کی چیزوں کا پوچھ گچھ کرنے کی وجہ سے ہماری نظروں میں تھا، مشکوک سرگرمیوں کی تصدیق کے بعد ایک مشترکہ انٹیلیجنس آپریشن میں اس شخص کو فوجی وردیوں اور دیگر سامان سمیت اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جب وہ کشتی کے ذریعے اس سامان کو بھارت سمگل کرنا چاہ رہا تھا۔

    گرفتاری کے بعد ملزم سے اس کے مقاصد، روابط اور ممکنہ جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں تفصیلی تفتیش کی گئی۔ اور اس کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے کے بعد مندرجہ زیل حقائق سامنے آئے،اعجاز ملاح نے بتایا کہ وہ ایک غریب مچھیرا ہے جو گہرے پانی میں جا کر مچھلی پکڑتاتھا- وہ بھارتی خفیہ ایجنسی کےلالچ کی بھینٹ چڑھ گیا،ستمبر۲۰۲۵ میں بھارتی کوسٹ گارڈ نے اسے گہرے پانیوں میں مچھلی کا شکار کرتے ہوئے گرفتار کیا، بعد ازاں اُسے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جہاں بھارتی انٹلیجنس کے اہلکاروں نے اس سے ملاقات کی اوراسے بتایا کہ اسے بھارت میں دو سے تین سال قید کی سزا بھگتنی پڑے گی، بھارتی اہلکاروں نے پیشکش کی کہ اگر وہ پاکستان کے اندر ان کے لیے کام کرے تو اسے رہا کیا جا سکتا ہے، جس پر اس نے لالچ اور دھمکیوں میں رضامندی ظاہر کی، انہوں نے اسے کچھ سامان فراہم کرنے کی ہدایت کی جو اسے پاکستان جا کر جمع کرنا تھا اور بعد ازاں کشتی کے ذریعے بھارت پہنچانا تھا،

    پاکستان نے اس مچھیرے کی اپنے ہینڈلر سے کی گئی وائس چیٹ بھی حاصل کر لی ہے۔ جس میں اسکو چھ پاکستانی مسلح افواج کی مخصوص ناپ کی وردیاں (آرمی، نیوی اور سندھ رینجرز)، نام کی پٹیاں (جن پر مخصوص نام: عبید، حیدر، سہیل، ادریس، صمد اور ندیم لکھے ہوں)، تین زونگ موبائل سم کارڈ (جن کا بلینک خریداری انوائس کراچی کی دکان کے ساتھ ہوں)، سگریٹ کے پیکٹ، ماچس، لائٹر اور پاکستانی کرنسی کے 100 اور 50 کے نوٹ فراہم کرنے کو کہا،اعجاز نے کراچی کی مختلف دوکانوں سے مطلوبہ سامان کا انتظام کیا، جس کی تصویریں اس نے بھارتی انٹلیجنس کو بھیجیں، اعجاز کو 95 ہزار روپے سامان کی تصاویر بھجوانے کے عوض ادا کیے گئے، جبکہ بقیہ رقم سامان کی کامیاب ترسیل کے بعد ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا،‏اکتوبر کے آغاز میں، وہ مبینہ طور پر مذکورہ سامان بھارت پہنچانے کے لیے سمندر کی سمت روانہ ہوا، تاہم پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔

    بھارتی سیاسی قیادت پاکستان دشمنی میں اندھی ہو چکی ہے۔ اور آپریشن سندور کی شکست کو بہار کے ریاستی انتخابات سے عین پہلے ایک فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے بدلنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ میڈ ان پاکستان اشیاء سگریٹ ، لائٹرز ، اور کرنسی کسی ایسے جعلی مقابلے میں استعمال کرنے کا امکان ہے جس کے بعد یہ پرواپیگنڈہ کیا جا سکے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد میں براہ راست ملوث ہے،پاکستان نیوی اور سندھ رینجرز کی مخصوص وردیوں کی طلب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جعلی کارروائی ممکنہ طور پر بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کچھ یا بھوج میں انجام دینے کا منصوبہ ہے۔ اور اس سازش کو بھارت کی اسے علاقے میں ہونے والی جنگی مشقوں سے جوڑا جائے، ان حاصل کردہ فوجی وردیوں اور دیگر سامان سے پاکستانی فوج کے حاضر سروس اہلکاروں کی گرفتاری کا جھوٹا ڈرامہ بھی کیا جاسکتا ہے، زونگ سم کارڈز اس لیے شامل کیے گئے تاکہ مبینہ آپریٹرز یا آپریشن کی فنڈنگ اور مواصلاتی رابطے چینی عناصر سے منسوب کیے جا سکیں۔

    پاکستان اس گھناؤنے بھارتی آپریشن کے تمام شواہد اپنے بین الاقوامی دوستوں کے سامنے بھی پیش کر رہا ہے تاکہ بھارت کا مذموم چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے۔

  • صحافیوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو ہر گز رعایت نہیں دی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ

    صحافیوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو ہر گز رعایت نہیں دی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر حملے سماج کے ضمیر پر وار ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے صحافیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ آزاد میڈیا کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں صحافیوں کے تحفظ کا جامع قانون نافذ ہے، سندھ کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس عملی و مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، صحافیوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جارہے ہیں، ڈیجیٹل دنیا میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے، آزادیِ صحافت کے بغیر کوئی معاشرہ مکمل نہیں ہوسکتا، صحافیوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو ہر گز رعایت نہیں دی جائے گی۔

    مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ نفرت انگیز مہمات اور آن لائن ہراسانی کو روکنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی بنا رہے ہیں۔ آزاد، محفوظ اور بااعتماد میڈیا کے بغیر جمہوریت کا تصور نامکمل ہے۔

  • بھارت میں شادی کے دوران "ڈیجیٹل سلامی”

    بھارت میں شادی کے دوران "ڈیجیٹل سلامی”

    بھارت میں ایک دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے جب ایک شادی کی تقریب میں دلہن کے والد نے سلامی لینے کے لیے روایتی طریقہ چھوڑ کر جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔

    بھارتی ریاست کیرالہ میں ہونے والی ایک شادی میں دلہن کے والد نے اپنے کپڑوں پر ڈیجیٹل بار کوڈ (QR Code) لگایا اور باراتیوں سے کہا کہ وہ اس کوڈ کو اسکین کر کے سلامی کی رقم منتقل کریں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی میں شریک مہمان موبائل فون کے ذریعے بار کوڈ اسکین کر رہے ہیں اور دلہن کے والد خوش دلی سے یہ رقم ڈیجیٹل طریقے سے وصول کر رہے ہیں۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جہاں صارفین اسے "ڈیجیٹل انڈیا کی بہترین مثال” قرار دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے دلہن کے والد کے اس تخلیقی اور منفرد خیال کو سراہا ہے، جبکہ کچھ صارفین نے مزاحیہ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ اب شادیوں میں "کیش دینے کی جھجک” ختم ہو جائے گی کیونکہ سلامی اب صرف ایک اسکین کی دوری پر ہے۔

    کچھ صارفین نے یہ بھی لکھا کہ مستقبل میں شادیوں میں کیش، لفافے یا تحفوں کی جگہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رواج بڑھ جائے گا۔ دوسری جانب، چند لوگوں نے اس رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شادی کی خوشیوں اور روایتی انداز کی "ذاتی چھاپ” آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔

  • ڈولفن فورس کا اہلکار کالعدم تنظیم کی حمایت میں مواد شیئر کرنے پر گرفتار

    ڈولفن فورس کا اہلکار کالعدم تنظیم کی حمایت میں مواد شیئر کرنے پر گرفتار

    لاہور پولیس نے سوشل میڈیا پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی حمایت میں اور مریدکے آپریشن کے خلاف مواد شیئر کرنے کے الزام میں ڈولفن فورس کے ایک اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار اہلکار کی شناخت رحمان کے نام سے ہوئی ہے، جو ڈولفن اسکواڈ میں بطور اہلکار فرائض انجام دے رہا تھا۔ گجرپورہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لیا۔تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں معلوم ہوا ہے کہ رحمان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کالعدم تنظیم کے حق میں متعدد پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی تھیں، جن میں مریدکے آپریشن کے خلاف اشتعال انگیز مواد بھی شامل تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پبلک سروس رولز کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جب کہ اس کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات تحویل میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق کسی بھی سرکاری اہلکار کی جانب سے کالعدم تنظیم یا غیر قانونی سرگرمی کی حمایت ناقابلِ برداشت ہے۔ محکمے کی ساکھ اور نظم و ضبط کے پیشِ نظر ایسے اقدامات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اہلکار کو محکمانہ طور پر بھی معطل کر دیا گیا ہے، اور محکمانہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے ممکنہ روابط یا دیگر ساتھیوں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز یا اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، چاہے وہ کسی بھی ادارے یا عہدے سے وابستہ کیوں نہ ہوں۔

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز

    خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں، آپریشنز اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں کئی اہم دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جب کہ بلوچستان میں بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں پر ریاستی ردعمل جاری ہے۔

    لوئر ماموند، باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو افغان جنگجو، عبدالواحد عرف ابو عبیدہ اور احمد بلال عرف زید ہلاک ہوگئے۔ دونوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا کے گاؤں زرگون بار سے تھا۔ جھڑپ میں دیگر شدت پسند بھی زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سرحد پار سے سرگرم گروہوں کی نقل و حرکت کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ تھی۔

    پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر واقع کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے تھانے میں صبح 7:56 پر زوردار دھماکہ ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسلحہ خانے میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس سے متعدد دھماکے ہوئے۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف رہیں۔ حکام نے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    پشاور کے علاقے میرا کچوری میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں چار جرائم پیشہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان فرنٹیئر کور یا پولیس اہلکاروں کا روپ دھار کر شہریوں کو لوٹتے تھے اور گزشتہ دو دہائیوں سے راولپنڈی، نوشہرہ اور پشاور میں سرگرم تھے۔ جائے وقوعہ سے بھاری اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد کرلیا گیا۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے گلبہادر گروپ کے مطلوب کمانڈر "بسم اللہ” کو ہلاک کردیا۔ ذرائع کے مطابق کمانڈر بسم اللہ متعدد دہشت گرد کارروائیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھا۔ اس آپریشن سے علاقے میں شدت پسند نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    ٹانک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا انتہائی مطلوب دہشت گرد عمر خالد مدخیل مارا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی ہلاکت کی تصدیق خود ٹی ٹی پی نے بھی کردی ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔

    ضلع مہمند کی تحصیل عمبر کے علاقے رمبت میں حالیہ کارروائی میں ہلاک ہونے والے چار غیر ملکی شدت پسندوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تین افغان شہری داعش (خوارج) نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ شناخت شدہ افراد میں رحمت منصور، محمد فیروز، حافظ عمر اور مجاہد اللہ شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق افغانستان کے ننگرہار اور خوگیانی علاقوں سے تھا۔

    جنوبی اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف عوامی ردِعمل میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ مقامی برادریاں شدت پسندوں کے گھروں کو نذرِ آتش کر رہی ہیں اور بعض مقامات پر دہشت گردوں کے خاندانوں کو دباؤ میں لانے کے لیے خود کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ عوامی مزاحمت دہشت گردوں کے اثر و رسوخ کے خاتمے میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پر رپورٹس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی اعلیٰ قیادت، جس میں نور ولی محسود اور ملا خراسانی شامل ہیں، نے تنظیمی سطح پر تین نکاتی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں پاکستان میں کارروائیاں روکنے، گروہوں کو تقسیم کر کے افغانستان واپس جانے اور مقامی حملے معطل کرنے کے احکامات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوئیں تو یہ پاکستان و افغانستان دونوں کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

    طورخم سرحد کو 21 دن بعد افغان شہریوں کی واپسی کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق تجارتی سرگرمیاں اور ویزا ہولڈرز کی عام آمد و رفت بدستور معطل رہے گی، تاہم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو سہولت دینے کے لیے راستہ کھولا گیا ہے۔

    بلوچستان کے ضلع کچھی میں بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) نے مبینہ طور پر فوجی قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم سیکیورٹی حکام کی جانب سے ابھی تک اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ دوسری جانب قلات کے علاقے جوہان میں سیکیورٹی فورسز نے 100 کلوگرام وزنی بارودی مواد (IED) کامیابی سے ناکارہ بنا دیا، جب کہ منگچر میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگا دی اور ڈرائیور کو اغوا کرلیا۔

    حالیہ کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ساتھ ہی، عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مزاحمت شدت پسندوں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے افغانستان کی حکومت کو بھی اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔