Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان میں نیا دہشتگرد گروپ ’جبہۃ الرباط‘ سرگرم

    افغانستان میں نیا دہشتگرد گروپ ’جبہۃ الرباط‘ سرگرم

    کابل: افغانستان میں ایک نیا شدت پسند گروپ "جبہۃ الرباط افغانستان” سامنے آیا ہے جس نے پورے ملک میں ایک خطرناک پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کی میزبانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، گروپ کے ترجمان ابو اسامہ المصری نے ایک تازہ آن لائن پیغام میں اپنے جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے علاقوں میں پاکستان سے واپس آنے والے ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کا استقبال کریں اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کریں،واپس آنے والے جنگجوؤں کو خوراک، رہائش اور مالی مدد فراہم کی جائے۔افغانستان میں داخل ہونے والے ہر ٹی ٹی پی رکن یا گروپ کی مکمل تفصیلات جمع کی جائیں۔یہ تمام معلومات براہِ راست "دفترِ امیر” کو ارسال کی جائیں تاکہ مرکزی سطح پر نگرانی کی جاسکے۔

    مزید برآں، بیان میں مقامی کمانڈروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیادت کی جانب سے جاری کردہ سیکورٹی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جبہۃ الرباط محض ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد نہیں بلکہ ایک منظم اور منضبط عسکری نیٹ ورک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ افغانستان میں قائم کوئی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کھلے عام تعاون اور ہم آہنگی کا اعلان کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق، گروپ کی توجہ سرحدی صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ پر مرکوز ہونا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سرحد کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔گروپ کی جانب سے آنے والے جنگجوؤں کا ڈیٹا جمع کرنے اور اسے مرکزی دفتر تک پہنچانے کی ہدایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جبہۃ الرباط ایک منظم ڈھانچہ اور ڈیٹا بیس قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ایسے گروہوں کی علامت ہے جو طویل المدتی علاقائی یا عملی کنٹرول حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

    جبہۃ الرباط افغانستان کا ظہور اور اس کا ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی میزبانی کا اعلان افغان سرزمین پر عسکری تنظیموں کی ازسرنو منظم کاری کا نیا اور خطرناک مرحلہ ظاہر کرتا ہے۔یہ پیش رفت سرحد پار دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے کی علامت ہے، جو خطے کے مشرقی حصے میں تشدد کی نئی لہر کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

  • سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کو دل کی تکلیف، دو اسٹنٹ ڈالے گئے

    سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کو دل کی تکلیف، دو اسٹنٹ ڈالے گئے

    اسلام آباد: سابق وزیرِاعظم اور عوامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے ان کے تفصیلی طبی معائنے کے بعد دل کی دو شریانوں میں اسٹنٹ ڈالے۔

    شاہد خاقان عباسی کو اچانک سینے میں درد کی شکایت پر اسپتال لایا گیا۔ ابتدائی ٹیسٹوں اور ای سی جی کے بعد ڈاکٹروں نے فوری طور پر ان کی انجیوگرافی کی، جس کے دوران دو اسٹنٹ ڈالے گئے تاکہ دل میں خون کی روانی معمول پر لائی جا سکے۔اسپتال ذرائع کے مطابق، سابق وزیرِاعظم کی حالت اب مستحکم اور تسلی بخش ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کرنے اور غیر ضروری ملاقاتوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو کچھ دنوں کے لیے زیرِنگرانی رکھا جائے گا تاکہ صحت میں بہتری کا مکمل یقین ہو سکے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر اپنے ردِعمل میں شاہد خاقان عباسی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ان کا کہنا تھا "برادرم شاہد خاقان عباسی دل کے عارضے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ہم شاہد بھائی کی مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ان کے ساتھ دہائیوں پر محیط رفاقت رہی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ پُرخلوص، نڈر، قابل اور مہذب شخصیت کے طور پر پایا۔ سیاسی اختلافات نے کبھی ذاتی تعلقات پر اثر نہیں ڈالا، اور ان شاءاللہ آئندہ بھی نہیں ڈالیں گے۔”

    سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی شاہد خاقان عباسی کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے، جب کہ عوامی سطح پر سوشل میڈیا پر ان کے حق میں دعا اور ہمدردی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

  • پنجاب، دفعہ 144کے نفاذ میں مزید توسیع

    پنجاب، دفعہ 144کے نفاذ میں مزید توسیع

    پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع کر دی گئی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے 8 نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے،ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت 4 یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پرمکمل پابندی ہو گی، دفعہ 144 کے دوران اسلحے کی نمائش، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے، اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہے، دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن وامان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازوں اور تدفین پر نہیں ہوگا، سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی جبکہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

  • چینی کی قیمت میں اضافہ،220 روپے کلو فروخت ہونے لگی

    چینی کی قیمت میں اضافہ،220 روپے کلو فروخت ہونے لگی

    ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی فی کلو قیمت 220 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ایک ہفتےمیں سرگودھامیں چینی کی فی کلو قیمت میں23 روپے تک جبکہ کراچی اور حیدرآباد میں چینی کی فی کلو قیمت میں 5 روپے تک اضافہ ہوگیا جس کے بعد ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 220 روپے ہوگئی، دستاویزات کے مطابق راولپنڈی، کراچی اور سرگودھا میں چینی کی فی کلو قیمت بڑھ کر 200 روپے تک پہنچ گئی جبکہ حیدرآباد میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 190سےبڑھ کر 195روپے ہوگئی ہے۔

    ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت میں 12پیسے کی کمی ہوئی، ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 188روپے 69 پیسے پر آگئی ہے۔دستاویز کے مطابق گزشتہ ہفتےتک ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 188 روپے 81 پیسے تھی جبکہ ایک سال قبل ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 132روپے47پیسے تھی۔،دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں چینی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھا جارہا ہے اور فی کلو چینی 200 سے 220 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔

  • سندھ ہائیکورٹ، ای چالان کیخلاف ایک اور درخواست دائر

    سندھ ہائیکورٹ، ای چالان کیخلاف ایک اور درخواست دائر

    ای چالان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست شہری جوہر عباس نے دائر کی ہے۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے گئے جرمانے انتہائی زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں۔ لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ 200 روپے اور کراچی میں 5 ہزار روپے ہے۔
    شہری جوہر عباس نے درخواست میں کہا ہے کہ فریقین کو ہدایت کی جائے کہ وہ عدالت کو ان جرمانوں کے منصفانہ ہونے کے بارے میں مطمئن کریں، عائد کیے گئے جرمانوں کو فوری طور معطل کیا جائے،درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل نادرا کو فریق بنایا گیا ہے۔

  • سیاحتی مقام  پر جھولے سے گر کر لڑکی کی موت

    سیاحتی مقام پر جھولے سے گر کر لڑکی کی موت

    ایبٹ آباد کے معروف سیاحتی مقام ہرنو میں آج ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں جھولے سے گرنے کے باعث ایک نوجوان لڑکی جان کی بازی ہار گئی۔ واقعے نے تفریح کے لیے آنے والے شہریوں میں افسوس اور خوف کی لہر دوڑا دی۔

    پولیس کے مطابق، ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ لڑکی ایک جھولے پر سوار تھی جب اچانک توازن بگڑنے کے باعث وہ نیچے گر گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق، جھولا کافی اونچائی پر جھول رہا تھا، جس سے گرنے کے نتیجے میں لڑکی کو شدید چوٹیں آئیں۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوری بعد موقع پر موجود لوگوں نے لڑکی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی اور اُسے شدید زخمی حالت میں ایبٹ آباد کے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم راستے میں ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔پولیس نے بتایا کہ متوفی لڑکی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔ لاش کو اسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے،

  • بھارتی خفیہ ایجنسی کیلیے کام کرنیوالا اعجاز ملاح گرفتار کر لیا،عطا تارڑ

    بھارتی خفیہ ایجنسی کیلیے کام کرنیوالا اعجاز ملاح گرفتار کر لیا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اعجاز ملاح کو گرفتار کیا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی نے اعجاز ملاح کو اپنے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا۔

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت نے اعجاز ملاح کو آرمی، نیوی اور رینجرز کی وردیاں خریدنے کی ہدایت کی، جب اعجاز ملاح یہ وردیاں خرید رہا تھا تو پاکستانی ایجنسیوں نے اس کی نگرانی شروع کردی، بھارت نے اعجاز ملاح نامی مچھیرے کو گرفتار کیا، بھارت نے اعجاز ملاح کو گرفتار کر کے اسے نامعلوم مقام پر منتقل کیا، بھارت نے اعجاز ملاح نامی مچھیرے کو گرفتار کر کے انٹیلیجنس ٹاسک پر پاکستان بھیجا، مگر ہماری نگرانی نے ہر سازش ناکام بنا دی،، اعجاز ملاح کو بھارت جاتے ہوئے گرفتارکیا گیا۔بھارت پاکستان کی معرکہ حق میں فتح اور سفارتی کامیابیوں سے پریشان ہے، آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت نے جھوٹی مہمات شروع کیں۔

    دوسری جانب اعجاز ملاح نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں نے مجھے سمندر سے گرفتار کیا، بھارتی ایجنسیوں نے کہا کہ اگر ہمارے لیے کام نہ کیا تو جیل میں رہو گے،بھارتی ایجنسی نے مجھے فوج کی وردیاں، موبائل سمز اور فون بلز وغیرہ لانے کی ہدایت دی، اس کے علاوہ 50 اور 100 روپے کے پرانے کرنسی نوٹ لانے کا بھی کہا گیا۔

    اس موقع پر طلال چوہدری کاکہنا تھا کہ اعجاز ملاح کو انڈین کوسٹل گارڈ نے گرفتار کیا اور اس ڈرایا گیا اور پیسے دینے کی کوشش کی گئی اور 95 ہزار کی ٹرانزکشن بھی ہوئی جس کی مزید تحقیقات ہماری انجنسیز ابھی کر رہی ہیں

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی، سیکیورٹی آپریشنز اور تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں کئی دہشت گرد مارے گئے، ایک لیویز اہلکار شہید ہوا جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی اداروں نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک، گرفتار اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاقے تختِ خیل نذر دینو میں شدت پسندوں نے ایک ٹیلیفون ایکسچینج کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا۔ دھماکے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں،بنوں کے علاقے ہوید بازار سے ایک پولیس افسر کو شدت پسندوں نے اغوا کر لیا۔ مقامی افراد نے ردِعمل کے طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے ایک مقامی کمانڈر کے والد اور بھائی کو پکڑ کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مغوی پولیس افسر کی بازیابی تک دونوں افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    رُمبٹ علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو افغان شہری شامل ہیں جن کی شناخت عبدالستارر عرف علی اور ظفر خان عرف زبیر (سکینہ غزنی) کے نام سے ہوئی، جبکہ تیسرا دہشت گرد اسداللہ مقامی رہائشی تھا۔تیراہ وادی میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔میاں برانگولہ علاقے میں ایک لیکچرار کو ان کے گھر میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

    حکومتی ہدایت پر بنوں تا میرانشاہ روڈ پر یکم اور 2 نومبر کو صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا۔ یہ اقدام سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت اور آپریشنز کے پیشِ نظر اٹھایا گیا۔ہوید تھانے کی حدود سے اسپیشل برانچ کے افسر شفیع اللہ خان کو شدت پسندوں نے اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق افسر ڈیوٹی پر جاتے ہوئے راستے میں اغوا ہوئے۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل واپڈا کے پانچ ملازمین کو بھی اسی علاقے سے اغوا کیا گیا تھا، جن کے بدلے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    کلی ملک رسول بخش سمالانی کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے علی مردان پر فائرنگ کی، جو پروفیسر محمد اشرف حسنی کے بھائی ہیں۔ علی مردان کو چار گولیاں لگیں، جنہیں پرنس فہد اسپتال دالبندین منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔کوہلو-رخنی شاہراہ پر تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک لیویز اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہید اہلکاروں نے حملہ آوروں کے خلاف سخت مزاحمت کی۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔ہرنائی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کمانڈر سیف اللہ سمیت پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیف اللہ IED بنانے اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے جنگجوؤں کو تربیت دینے میں ملوث تھا۔لورا لائی کے پہاڑی علاقوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندستان (BLA) کے آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔ فورسز نے علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے آپریشن کو وسعت دے دی ہے۔پنجگور میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کمانڈر قاسم کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ اس کے بھتیجے اور بھانجی بھی تنظیم میں شامل ہیں اور مختلف حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔مورگند اور شیخری کے علاقوں میں فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا، جس میں چھ اہلکار شہید ہوئے جبکہ دو فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں،

  • گلگت بلتستان کی ترقی، خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے پرعزم ہیں،بلاول

    گلگت بلتستان کی ترقی، خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے پرعزم ہیں،بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےڈوگرہ راج سے گلگت بلتستان کی آزادی کی سالگرہ پر پیغام جاری کیا ہے

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو ڈوگرہ راج سے آزادی کی سالگرہ پر مبارکباد د ی اور کہا کہ آج سے 78 سال قبل گلگت بلتستان کے غیور عوام نے تاریخ کا ایک سنہری باب رقم کیا،یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے عوام نے جرات، استقامت اور قربانیوں سے اپنی آزادی حاصل کی، گلگت بلتستان کے عوام کی یہ روح پاکستان کے اتحاد، ایمان اور استقامت کے مثالی جذبے کی عکاس ہے،قائدِ عوام اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت گلگت بلتستان کی ترقی، خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے پرعزم ہیں،پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے پہلی بار گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت اور خود مختاری دی،گلگت بلتستان کے عوام ہمارے شمالی سرحدی خطے کے محافظ اور پاکستان کے قومی وجود کا لازمی حصہ ہیں، یقین ہے کہ پوری قوم مل کر ایک مضبوط، جامع اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے سفر کو جاری رکھے گی

  • یوم آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے آئی ایس پی آر کا نغمہ ریلیز

    یوم آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے آئی ایس پی آر کا نغمہ ریلیز

    یوم آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے آئی ایس پی آر نے خوبصورت نغمہ ریلیز کر دیا

    گلگت بلتستان کے نوجوان گلوکاروں کی آواز میں وطن سے محبت کا والہانہ انداز، نغمہ کے بول ہیں "پاکستان کی شان – گلگت بلتستان”یہ نغمہ گلگت بلتستان کا وطنِ عزیزسے لازوال رشتہ اور محبت کی بہترین عکاسی کرتا ہے،یہ گیت اُن جانثاروں کی بھی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے،نغمہ میں اس امر کابھی ذکر کیا گیا ہے کہ جس نے بھی اس ملک کی جانب میلی نگاہ ڈالی اسکو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا،نغمہ میں اس بات کی بھی ترویج کی گئی کہ ہمیں اپنی تمام تر ذاتی رنجشوں کو بُھلا کر اس ملک کے مستقبل کوپیشِ نظر رکھنا چاہیئے

    ہم ایک عظیم قوم ہیں اور اس وطن کی سرفرازی کے لئے ہمیں اتحاد، محبت اور بھائی چارہ کی فضا کو قائم کرنا ہوگا