Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سڈنی فائرنگ،حملہ آور باپ بیٹا نکلے

    سڈنی فائرنگ،حملہ آور باپ بیٹا نکلے

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی ساحل پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور باپ بیٹا نکلے جن کی تفصیلات پولیس نے بھی جاری کر دی ہیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے واقعے سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ بونڈی ساحل پر یہودیوں کی تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے دونوں حملہ آور باپ بیٹا تھے جن میں سے ایک ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا حملہ آور شدید زخمی حالت میں ہے، ہلاک حملہ آور کی شناخت 50 سال کے ساجد اکرم کے نام سے ہوئی جبکہ زخمی حملہ آور کی شناخت 24 سال کے نوید اکرام کے نام سے ہوئی، ہلاک حملہ آور کے پاس 10 سال سے اسلحے کا لائسنس موجود تھا اور وہ ایک گن کلب کا رکن بھی تھا،ہلاک حملہ آور کے قبضے سے 6 ہتھیار بھی برآمد کرلیے گئے تاہم ان تمام ہتھیاروں کی بیچ فائرنگ واقعے میں استعمال ہونے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

    پولیس کاکہنا تھاکہ جائے وقوعہ کے قریب سے دو فعال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد ملے جنہیں محفوظ کر لیاگیا ہے،پولیس نے مزید ملزمان کی تلاش ختم کرنےکا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے حملےکے پیچھے محرکات تلاش کر رہے ہیں، فائرنگ میں ملوث باپ بیٹا کافی عرصے سے آسٹریلیا میں مقیم تھے تاہم دونوں افراد کے پس منظر سے متعلق مزید تفصیلات فی الحال فراہم نہیں کی جاسکتیں۔

    دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے آج یوم سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا،یاد رہےکہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور40 زخمی ہوگئے،پولیس کی جوابی کارروائی میں فائرنگ کرنے والا ایک شخص مارا گیا اور دوسرے حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔

  • سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی تصاویر،اسرائیلی اخبار کی جھوٹی رپورٹنگ

    سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی تصاویر،اسرائیلی اخبار کی جھوٹی رپورٹنگ

    سوشل میڈیا پر سڈنی میں فائرنگ کرنے والے نوید اکرم کی تصاویر گردش کر رہی ہیں، جس میں ایک صحت مند اور باڈی بلڈر شخص نظر آ رہا ہے۔ تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مطلوبہ اور فراہم کردہ نوید اکرم، جو آسٹریلیا کے ساؤتھ ونسڈور کے رہائشی اور الیکٹریکل انجینئر ہیں، کی صحت اور ظاہری شکل اس شخص سے واضح طور پر مختلف ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تصاویر میں دکھایا جا رہا ہے۔

    تحقیقی ٹیم اصل نوید اکرم کے آن لائن یا ڈیجیٹل ریکارڈز تلاش کر رہی ہے، لیکن اب تک کوئی ڈیجیٹل ثبوت یا آن لائن موجودگی سامنے نہیں آئی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ تصاویر اور معلومات ممکنہ طور پر غلط یا جعلسازی پر مبنی ہیں۔

    دوسری جانب، میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات میں تضاد بھی نمایاں ہے۔اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے نوید اکرم کو پاکستانی ظاہر کیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق وہ آسٹریلوی شہری اور الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ نوید اکرم کی عمر 24 سال بتائی گئی ہے، یروشلم پوسٹ کے مطابق انہوں نے 2012 سے 2016 تک انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اس حساب سے جس نے 2016 میں اپنی انجینئرنگ مکمل کی، اس کی عمر کم از کم 30 سال ہونی چاہیے۔

    یہ معاملہ واضح طور پر سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں اور غلط شناخت کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے۔ متعلقہ حکام نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ تصاویر اور معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف تصدیق شدہ ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔تحقیقات ابھی جاری ہیں، اور ٹیم اصل نوید اکرم کے ڈیجیٹل نقوش اور حقیقی شناخت کی تصدیق کے لیے تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے۔

    آ

    سٹریلیا کی حکام نے ابھی تک مبینہ شوٹر نوید اکرم کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ آسٹریلیا کے حکام کے جواب کا انتظار کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا بجائے اس کے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنا شروع کر دیں۔

  • پاکستان بحریہ کا شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل فائرنگ کا کامیاب تجربہ

    پاکستان بحریہ کا شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل فائرنگ کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں FM-90(N) ER سطح سے فضاء تک مار کرنے والے میزائل کی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیت کی توثیق کی

    ۔ فائر پاور کے مظاہرے کے دوران، پاک بحریہ کے جہاز نے انتہائی مینوریبل فضائی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے پاک بحریہ کی جنگی صلاحیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی۔ کمانڈر پاکستان فلیٹ، ریئر ایڈمرل عبدالمُنیب نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹ پر اس لائیو فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔کمانڈر پاکستان فلیٹ نے فائرنگ میں شریک افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ہر صورت پاکستان کے سمندری دفاع کو یقینی بنانے اور قومی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

  • پی ایس ایل گیارہ 26 مارچ سے 3مئی تک کھیلا جائے گا، محسن نقوی

    پی ایس ایل گیارہ 26 مارچ سے 3مئی تک کھیلا جائے گا، محسن نقوی

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل گیارہ 26 مارچ سے شروع ہوگا اور ایونٹ کا فائنل 3 مئی کو کھیلا جائے گا۔

    نیویارک میں پی ایس ایل روڈ شو کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 2 نئی ٹیموں کی بولی جمع کرانے کی تاریخ 22 دسمبر ہے جبکہ اس سے قبل 15 دسمبر تھی۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ہم یہاں اسی لئے موجود ہیں کہ لیگ کو بہتر سے بہترین بنانا ہے، ، میرا ویژن پی ایس ایل کو نمبر ون لیگ بنانا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ اس لیگ کی بہتری کیلئے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں گے، ہم کرکٹ ڈیولپمنٹ پر بھی بہت پیسہ لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو جو بھی معلومات چاہئیں وہ سلمان نصیر سے ملاقات کرسکتے ہیں، ٹیموں کی بڈنگ کا سارا عمل شفاف طریقے سے کیا جائے گا جبکہ 2 نئی ٹیموں کی بڈنگ اوپن اور براہ راست نشر کی جائے گی۔

    محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو انعامات دینے سے اُن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کے آرگنائزر مل کر کام کر رہے ہیں، ملک میں بہت با صلاحیت کرکٹرز موجود ہیں، پی سی بی اور پی ایس ایل کی انتظامیہ کرکٹ کی بہتری کیلئے کام کررہی ہیں۔

  • سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی شناخت ہو گئی،افغان تنظیموں سے تعلق

    سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی شناخت ہو گئی،افغان تنظیموں سے تعلق

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ساحل پر یہودیوں کی تقریب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 20زخمی ہوگئے، زخمیوں میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سڈنی پولیس نے 2 حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا، ایک حملہ آور کو شہری نے فائرنگ کے دوران قابو کرکے بندوق چھین لی،آسٹریلوی وزیراعظم نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے مناظر چونکا دینے والے ہیں، قیمتی جانیں بچانے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    آسٹریلوی پولیس کے مطابق آسٹریلیا میں یہودیوں پر فائرنگ کر کے 10 کو ہلاک کرنے والے دو حملہ آوروں میں سے ایک کا نام نوید اکرم ہے،اے بی سی نیوز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ایک سینیئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ بندوق برداروں میں سے ایک نوید اکرم تھا جو سڈنی کے جنوب مغرب میں بونیرگ کا رہائشی تھا،نوید اکرم کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کا افغانستان کی تنظیموں سے تعلق ہے،نوید اکرم کے بارے میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستانی ہے تا ہم اس کا باخبر ذرائع کے مطابق افغان تنظیموں سے روابط تھے.سڈنی فائرنگ کا مجرم نوید اکرم آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا وہیں پلا بڑھا، مقامی اسکول میں پڑھا اور اُس کا تعلق ایک افغان نژاد خاندان سے ہے۔

  • بھارت،افغان دفاعی منصوبہ: عسکریت پسندی کے فروغ،خطے کے امن کیلیے سنگین خطرہ

    بھارت،افغان دفاعی منصوبہ: عسکریت پسندی کے فروغ،خطے کے امن کیلیے سنگین خطرہ

    بھارت نے افغانستان کے لیے جدید اور عالمی معیار کے دفاعی نظاموں کی تیاری کے حوالے سے تعلیمی و تربیتی عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں بھارتی نوجوانوں کے ساتھ افغان نوجوانوں کی شمولیت بھی شامل ہوگی۔ اس پیش رفت کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک نیا اور سنجیدہ خدشہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    بھارتی وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق بھارت 2026 میں افغانستان کے لیے جدید دفاعی تعلیمی و تربیتی مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں دفاعی ٹیکنالوجی، فضائی نگرانی اور جدید فوجی نظاموں سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔ بھارتی دعویٰ ہے کہ ان مراکز کے ذریعے افغان نوجوانوں کو مستقبل میں جدید دفاعی نظام تیار کرنے اور فضائی و زمینی دفاع کو مضبوط بنانے کی صلاحیت دی جائے گی۔تاہم سیکیورٹی اور خطے کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام افغانستان کو ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی پراکسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تربیتی مراکز کے ذریعے صرف افغان نوجوان ہی نہیں بلکہ دیگر عسکریت پسند اور مسلح گروہوں سے وابستہ عناصر کو بھی براہِ راست یا بالواسطہ تربیت دی جا سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔

  • گوجرخان،وزیراعلیٰ کے درختوں کی کٹائی پر پابندی کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے گئے

    گوجرخان،وزیراعلیٰ کے درختوں کی کٹائی پر پابندی کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے گئے

    گوجرخان (قمرشہزاد) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ستمبر 2025 میں درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی نیلامی پر فوری پابندی عائد کی تھی، لیکن اس کے باوجود گوجرخان سوار حسین شہید سٹیڈیم کے باہر لگے تیس سال پرانے سدا بہار السٹونیا کے بیش قیمتی تناور درختوں کی غیر قانونی کٹائی کرکے قتل عام کیا گیا۔ جبکہ درختوں کی کوئی بھی ارادہ زمہ داری لینے سے گریزاں ہے،

    ذرائع کے مطابق سٹیڈیم تحصیل سپورٹس آفس کے زیر انتظام ہے جو باہر دوکانات کا کرایہ بھی وصول کرتے ہیں۔ مزید براں اسٹنٹ کمشنر گوجرخان کی زیر نگرانی بولی بھی ادارہ ہذا کرتا ہے، جبکہ مذکورہ جگہ لیز پر دی گئی ہے جسے درخت کاٹنے کے بعد ہموار جگہ پارٹی کے حوالے کرنا ہے۔ تاہم مقامی یا ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات نہ تو درخت کاٹنے کی زمہ داری قبول کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی وضاحت دی جا رہی ہے۔ اس تمام تر صورتحال پر عوامی سماجی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی جس پر انھوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی درختوں کی کمی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے نئے درخت لگانے کے بجائے یہاں درختوں کو کاٹا جا رہا ہے، انسانی درختوں کو کسی دوسری جگہ شفٹ کیا جا سکتا تھا جبکہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ستو پی کر سوئے ہیں۔ درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے۔ درختوں کا قتل عام حکومت اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ محکمہ جنگلات اور ماحولیات کے اداروں کا کردار درختوں کی کٹائی روکنا، جنگلات کا تحفظ کرنا، اور نئے درخت لگانا ہے، لیکن حقائق کے برعکس متعلقہ حکام اس میں ناکام نظر آتے ہیں۔

  • بونڈی فائرنگ،مشتبہ حملہ آور کی شناخت سے متعلق متضاد اطلاعات

    بونڈی فائرنگ،مشتبہ حملہ آور کی شناخت سے متعلق متضاد اطلاعات

    آسٹریلیا کے علاقے بونڈی میں پیش آنے والے فائرنگ کے ہولناک واقعے کے بعد مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے تمام ناموں کی باضابطہ تصدیق تاحال مکمل نہیں کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق واقعے میں تین حملہ آوروں کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے ایک کی شناخت مبینہ طور پر نوید اکرم کے طور پر کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق ایک مبینہ ساتھی کارکن لوچی نائٹ نے ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد نوید اکرم کو حملہ آور کے طور پر شناخت کرنے کا دعویٰ کیا اور یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا گیا۔

    اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مشتبہ شخص کے ڈرائیونگ لائسنس پر درج پتے کے مطابق اس کا تعلق بونی ریگ سے بتایا جا رہا ہے، جو سڈنی میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی آبادی والا علاقہ ہے۔ تاہم قومیت یا پس منظر سے متعلق کوئی بھی بات سرکاری تصدیق کے بغیر قیاس آرائی تصور کی جائے گی۔واقعے میں جانی نقصان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک یہودی ربی اور بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس پر آسٹریلوی معاشرے کے مختلف حلقوں نے شدید دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جیسے ہی شواہد مکمل ہوں گے، مشتبہ افراد کی شناخت اور کردار سے متعلق باضابطہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

  • بونڈی فائرنگ واقعہ، آسٹریلین نیشنل امامز کونسل کا شدید ردعمل، متاثرین سے یکجہتی کا اظہار

    بونڈی فائرنگ واقعہ، آسٹریلین نیشنل امامز کونسل کا شدید ردعمل، متاثرین سے یکجہتی کا اظہار

    آسٹریلیا کے معروف ساحلی علاقے بونڈی میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے پر آسٹریلین نیشنل امامز کونسل (ANIC)، کونسل آف امامز نیو ساؤتھ ویلز اور آسٹریلوی مسلم برادری نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔

    آسٹریلین نیشنل امامز کونسل کی جانب سے 14 دسمبر 2025 کو جاری کردہ عوامی بیان میں کہا گیا ہے کہ بونڈی میں ہونے والی فائرنگ جیسے پرتشدد واقعات کا معاشرے میں کوئی جواز نہیں اور ایسے جرائم برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو مکمل طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ کونسل کی ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو اس ہولناک واقعے کے عینی شاہد بنے یا کسی بھی طرح ذہنی و جسمانی طور پر متاثر ہوئے۔ کونسل نے اس واقعے کے بعد کمیونٹی میں پائے جانے والے خوف، کرب اور بے چینی کو تسلیم کرتے ہوئے تمام سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور مکمل تعاون کا اظہار کیا۔

    آسٹریلین نیشنل امامز کونسل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ہوشیار رہیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یہ وقت تمام آسٹریلوی شہریوں کے لیے، بشمول مسلم برادری، اتحاد، باہمی احترام اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ اسلام سمیت تمام مذاہب تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی، سماجی ہم آہنگی اور تمام شہریوں کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ آسٹریلین نیشنل امامز کونسل ملک بھر کی تمام ریاستوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد ائمہ کرام کی نمائندگی کرتی ہے اور مختلف مذاہب و برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • افغان طالبان کا بگرام ایئربیس پر مبینہ فوجی تیاریوں سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب

    افغان طالبان کا بگرام ایئربیس پر مبینہ فوجی تیاریوں سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی جانب سے بگرام ایئربیس پر جدید فوجی ساز و سامان، جنگی طیاروں اور بکتربند گاڑیوں کی تیاری سے متعلق پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے پر ایک معروف امریکی جریدے نے تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ شائع کر دی ہے، جس میں اس دعوے کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی جریدے کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، آزاد ذرائع اور تکنیکی شواہد کے جامع تجزیے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بگرام ایئربیس پر کسی قسم کی عملی سطح پر جنگی طیاروں یا بکتربند گاڑیوں کی تیاری یا جدید مرمت کا کوئی منظم نظام موجود نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے درحقیقت ناکارہ اور غیر فعال طیاروں اور بکتربند گاڑیوں کو محض رنگ و روغن کر کے رن وے اور کھلے مقامات پر کھڑا کر رکھا ہے تاکہ انہیں فعال عسکری طاقت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگی مشقوں، طیاروں کی مبینہ مرمت، عسکری پریڈز اور اڈے کی سرگرمیوں کی ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں، جن کا مقصد داخلی و خارجی سطح پر اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر دکھانا اور عوامی تاثر کو گمراہ کرنا تھا۔ تاہم امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز میں دکھایا گیا ساز و سامان تکنیکی اعتبار سے غیر فعال ہے اور اسے عملی جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    دفاعی و سکیورٹی ماہرین نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طالبان رجیم اپنی حقیقی سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے منظم ریاستی عسکری ڈھانچے کے بجائے مختلف غیر باقاعدہ اور مسلح گروہوں پر انحصار کر رہی ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار اور فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑا گیا تھا، جو بعد ازاں طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگ گیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس ساز و سامان کی بڑی تعداد یا تو ناکارہ ہو چکی ہے یا اس کے مؤثر استعمال کے لیے درکار تکنیکی مہارت اور پرزہ جات طالبان کے پاس موجود نہیں۔امریکی جریدے کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر طالبان کے عسکری دعوؤں، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر عالمی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔