Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یکم نومبر 1984،بھارت کی تاریخ کا سیاہ باب،سکھ برادری انتہا پسند گروہوں کا نشانہ

    یکم نومبر 1984،بھارت کی تاریخ کا سیاہ باب،سکھ برادری انتہا پسند گروہوں کا نشانہ

    یکم نومبر 1984، بھارت کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پورے ہندوستان میں سکھوں کے خلاف ظلم و بربریت کا سلسلہ شروع ہوا۔ 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے فوراً بعد دہلی سمیت مختلف شہروں میں انتہاء پسند ہندو گروہوں نے منظم انداز میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا۔

    ان ہولناک واقعات کے دوران ہزاروں سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا جبکہ سینکڑوں خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قتلِ عام کو بھارت کی تاریخ کا شرمناک واقعہ قرار دیا۔عالمی جریدے ڈپلومیٹ کے مطابق، انتہاء پسند ہندوؤں نے ووٹنگ لسٹوں کے ذریعے سکھوں کے نام اور پتے معلوم کیے اور رات کی تاریکی میں ان کے گھروں کی نشاندہی کی۔ اگلے دن منظم حملوں میں سکھ مکینوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ان کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی،شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ تمام کارروائیاں بھارتی حکومت کی خاموش حمایت اور سرپرستی میں کی گئیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سکھوں کے خلاف باضابطہ طور پر نسل کشی کی مہم چلائی گئی جو تین دن تک بلا روک ٹوک جاری رہی۔یہ ظلم و بربریت محض 1984 تک محدود نہیں رہی۔ بھارت میں اس سے قبل 1969 میں گجرات، 1984 میں امرتسر، اور 2000 میں چٹی سنگھ پورہ میں بھی سکھوں کے خلاف فسادات کیے گئے۔

    2019 میں کسانوں کے احتجاج کے دوران نریندر مودی حکومت نے ہزاروں سکھ مظاہرین کو گرفتار کیا۔ بیرونِ ملک مقیم سکھ رہنماؤں کو بھی بھارتی ایجنسیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔18 جون 2023 کو سکھ رہنماء ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کر دیا گیا، جس کے بارے میں کینیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق کی،ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ سکھوں کے خلاف بھارتی ریاستی مظالم صرف بھارت کے اندر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی جاری ہیں، جس سے بھارت کا چہرہ ایک بار پھر اقلیت دشمن ملک کے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے۔

  • فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک کیس،اسرائیلی فوج کی چیف لیگل افسر مستعفی

    فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک کیس،اسرائیلی فوج کی چیف لیگل افسر مستعفی

    اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قانونی افسر (چیف ایڈووکیٹ جنرل) میجر جنرل یفات ٹومر یروشلمی نے جمعہ کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ اس مجرمانہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے جو اس ویڈیو کے لیک ہونے پر کی جا رہی تھی جس میں اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی قیدی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔

    میجر جنرل یفات ٹومر یروشلمی نے اپنے استعفے میں لکھا کہ انہوں نے اگست 2024 میں اس ویڈیو کے افشا ہونے کی منظوری دی تھی، جس کے باعث اب وہ مزید اس عہدے پر کام نہیں کر سکتیں۔ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اسرائیلی فوج نے پانچ فوجیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کی، جس کے بعد ملک میں ایک بڑی ہلچل پیدا ہو گئی۔ دائیں بازو کے سیاستدانوں اور قوم پرست گروہوں نے اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ کچھ مظاہرین نے اس واقعے کے بعد دو فوجی اڈوں پر دھاوا بھی بولا جب تحقیقاتی ٹیم نے فوجیوں کو تفتیش کے لیے طلب کیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو اسرائیل کے صدی تیمن (Sde Teiman) حراستی مرکز کی ہے جہاں ان فلسطینیوں کو رکھا گیا ہے جو یا تو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں ملوث تھے یا بعد ازاں غزہ کی لڑائی میں گرفتار کیے گئے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند فوجی ایک فلسطینی قیدی کو ایک طرف لے جا کر اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں، ایک فوجی کتے کو قیدی پر چھوڑا جاتا ہے جبکہ باقی اپنی ڈھالوں سے منظر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے رواں ہفتے بتایا کہ ویڈیو کے لیک ہونے پر جاری مجرمانہ تحقیقات کے دوران میجر جنرل یروشلمی کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔یروشلمی نے اپنے دفاع میں کہا کہ انہوں نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا تاکہ فوج کے قانونی شعبے کو ’’جھوٹے پروپیگنڈے‘‘ سے بچایا جا سکے، کیونکہ جنگ کے دوران فوج کے قانونی ادارے کو جان بوجھ کر بدنام کیا جا رہا تھا۔انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا "صدی تیمن کے قیدی یقیناً بدترین دہشت گرد ہیں، مگر اس حقیقت سے یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی کہ کسی بھی قیدی کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہ بنیادی اصول سب کو قائل نہیں کرتا۔”

    وزیرِ دفاع کاتز نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "جو کوئی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگاتا ہے وہ اسرائیلی فوج کی وردی پہننے کا اہل نہیں۔”دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے وزیر ایتمار بن گویر نے ان کے استعفے کو خوش آئند قرار دیا اور فوجی قانونی افسران کے خلاف مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا۔بن گویر نے اپنی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ فلسطینی قیدیوں کے اوپر کھڑے نظر آ رہے تھے، جو بندھے ہوئے حالت میں فرش پر لیٹے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ وہ حملہ آور ہیں جو 7 اکتوبر کے قاتلانہ حملوں میں شامل تھے، اور انہیں سزائے موت ملنی چاہیے۔”

    غزہ جنگ بندی کے تحت رواں ماہ تقریباً 1,700 فلسطینی قیدی رہا کیے گئے، بدلے میں 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کیا گیا۔ کچھ رہائی پانے والے اسرائیلی قیدیوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کے جنگجوؤں نے ان پر بن گویر کے بیانات کے بدلے تشدد کیا۔بن گویر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سب حماس کے مفاد میں پھیلائی گئی کہانیاں ہیں۔”

    بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدی تیمن کیمپ اور دیگر اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں پر بدترین تشدد، بھوک اور غیر انسانی رویے کی رپورٹس جاری کی ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی "درجنوں تحقیقات” جاری ہیں، تاہم وہ اسے "نظامی مسئلہ” تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔

  • بھارت نژاد بزنس مین کی 500 ملین ڈالر کی دھوکہ دہی

    بھارت نژاد بزنس مین کی 500 ملین ڈالر کی دھوکہ دہی

    عالمی مالیاتی دنیا میں بھارتی نژاد بزنس مین کی جانب سے فراڈ کہانی سامنے آئی ہے، بھارتی نژاد ٹیلی کام ایگزیکٹو بانکم برہم بھت پر الزام ہے کہ اس نے بلیک راک کی پرائیویٹ کریڈٹ یونٹ اور کئی بڑے مالیاتی اداروں کو 500 ملین ڈالر (آدھا ارب ڈالر) کے قرض فراڈ میں الجھا دیا۔

    یہ انکشاف امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی خصوصی رپورٹ میں ہوا ہے، جس کے مطابق بلیک راک کی ذیلی کمپنی HPS انویسٹمنٹ پارٹنرز سمیت متعدد قرض دہندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ برہم بھت نے اپنی کمپنیوں براڈ بینڈ ٹیلی کام (Broadband Telecom) اور بریج وائس (Bridgevoice) کے ذریعے جعلی انوائسز اور جھوٹے اکاؤنٹس بنا کر بینکوں سے بھاری قرضے حاصل کیے، اور پھر رقوم کو بھارت اور ماریشس کے آف شور اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا۔رپورٹ کے مطابق برہم بھت کی کمپنیوں پر قرض دہندگان کا واجب الادا قرضہ 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ فراڈ نہایت منظم انداز میں کیا گیا، جہاں کمپنیوں کے مالی گوشوارے محض کاغذی خوشحالی کا دھوکہ تھے۔

    فرانسیسی بینک BNP Paribas نے بھی HPS کے ذریعے دئیے گئے قرضوں کی فنانسنگ میں کردار ادا کیا تھا، تاہم بینک نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔یہ اسکینڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلیک راک نے رواں سال HPS انویسٹمنٹ پارٹنرز کو خرید کر پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ میں اپنی توسیع شروع کی تھی۔ HPS نے ستمبر 2020 سے برہم بھت سے وابستہ کمپنیوں کو قرض دینا شروع کیا، جو بعد میں بڑھ کر 385 ملین ڈالر سے 430 ملین ڈالر (2021–2024) تک پہنچ گیا۔ذرائع کے مطابق BNP Paribas نے برہم بھت کے نیٹ ورک کی کمپنیوں، بالخصوص Carriox Capital اور اس کی ذیلی اداروں، کو دیے گئے قرضوں کا تقریباً آدھا حصہ فنانس کیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جولائی 2025 میں HPS کے ایک ملازم نے کمپنی کے کلائنٹس کے ای میل ایڈریسز میں مشکوک مماثلت دیکھی۔تحقیق سے پتا چلا کہ یہ ای میلز جعلی ڈومینز سے بنائی گئی تھیں، جو اصلی ٹیلی کام کمپنیوں سے مشابہ دکھائی دیتی تھیں۔مزید جانچ پر یہ بھی سامنے آیا کہ کئی ای میلز اور دستاویزات مکمل طور پر جعلی تھیں۔جب HPS کے حکام نے بانکم برہم بھت سے رابطہ کیا تو اس نے پہلے تشویش کو نظرانداز کیا اور پھر فون کالز کا جواب دینا بند کر دیا۔ایک HPS اہلکار نے جب گارڈن سٹی (نیو یارک) میں کمپنی کے دفاتر کا دورہ کیا تو دفاتر بند اور سنسان پائے گئے۔قریب کے کرایہ داروں نے بھی تصدیق کی کہ کئی ہفتوں سے کوئی ملازم دفتر میں داخل نہیں ہوا۔

    برہم بھت کی رہائش گاہ پر دو BMW، ایک Porsche، ایک Tesla اور ایک Audi کھڑی دیکھی گئیں، جبکہ دروازے کے باہر ایک بند پیکج گرد سے اٹا ہوا پایا گیا۔فراڈ کے انکشاف کے بعد HPS نے امریکی لا فرم Quinn Emanuel اور اکاؤنٹنگ فرم CBIZ کی خدمات حاصل کیں۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دو سالوں میں جمع کیے گئے تمام کسٹمر ای میلز جعلی تھے، اور کئی کانٹریکٹس 2018 سے جعلی دستاویزات پر مبنی تھے۔ایک نمایاں مثال بیلجیئم کی ٹیلی کام کمپنی BICS کی تھی، جس نے جولائی میں باقاعدہ تحریری طور پر تصدیق کی کہ ہمیں برہم بھت کی کمپنی کی جانب سے موصولہ ای میلز سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک واضح فراڈ کی کوشش تھی۔

    مقدمے کے مطابق برہم بھت نے ایک ایسا مالیاتی تاثر پیدا کیا جس میں تمام اثاثے محض کاغذی تھے، حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔،مزید الزامات کے مطابق اس نے ان جعلی اثاثوں کے نام پر حاصل کی گئی رقم بھارت اور ماریشس کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی۔

    یہ اسکینڈل عالمی مالیاتی مارکیٹ میں ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بلیک راک جیسی بڑی کمپنی پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہی تھی۔مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ڈیجیٹل دستاویزات پر اندھا اعتماد اور کمزور مالیاتی جانچ کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی عدالت میں دائر مقدمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ امریکی مالیاتی تاریخ کے بڑے بین الاقوامی قرض فراڈز میں سے ایک قرار دیا جائے گا۔

  • پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر

    پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر

    بھارت سے آنے والی آلودہ مشرقی ہواؤں کے سبب پنجاب کے وسطی علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔

    محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق بھارت سے آنےوالی آلودہ مشرقی ہوائیں لاہور کے فضائی معیار پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اس دوران لاہور کا اوسط اے کیو آئی 320 تا 360 تک رہنے کا امکان ہے،محکمہ ماحولیات پنجاب کا بتانا ہے کہ پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر ہے، لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس 450 ریکارڈ کیا گیا ہے ، فضا میں آلودگی کی شرح بلند مگر قابو میں ہے تاہم لاہور میں دوپہر ایک بجے سے 5 بجے تک فضائی معیار میں بہتری کا امکان ہے، فضائی معیار کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق، لاہور سیکرٹریٹ میں 1018، ساندہ روڈ پر 997 اور راوی روڈ پر 820 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے ہیں، لاہور کے مختلف علاقوں میں فضا انتہائی مضر صحت ہے جس کے پیش نظر ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کی ہے،دوسری جانب برکی روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ، جی ٹی روڈ، ایجرٹن روڈ پر اے کیو آئی 500 ریکارڈ کیا گیا گیا، اسی طرح ڈیرہ غازی خان اور قصور بھی ملک کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں، ڈی جی خان اور قصور میں ائیرکوالٹی انڈیکس 500 ریکارڈ کیا گیا، قصور میں 286 ، رائے ونڈ میں 601، گوجرانوالہ میں 442، لاہور میں 398، فیصل آباد میں 337 اور شیخوپورہ میں 358پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا۔

  • سابق خاتون ایم پی اے کا بیٹا سنوکر کلب سے جوا کھیلتے ہوئے گرفتار

    سابق خاتون ایم پی اے کا بیٹا سنوکر کلب سے جوا کھیلتے ہوئے گرفتار

    سابقہ ایم پی اے خاتون پر مبینہ پولیس تشدد کا معاملہ،ڈی آئی جی آپریشنز نےمبینہ واقعہ کا نوٹس لے لیا اور انکوائری کا حکم دے دیا
    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے انکوائری 48 گھنٹے میں مکمل کرنے کا حکم دیا،مبینہ واقعہ کی تمام شواہد بشمول ویڈیوز سے انکوائری کرنے کا حکم دیا گیا،ترجمان کے مطابق مبینہ تشدد کی انکوائری شروع، دیگر تمام الزامات حقائق کے منافی ہیں،خاتون ایم پی اے کا بیٹا سنوکر کلب میں جوا کھیلتے گرفتار ہوا،ارسلان دو روز قبل 90 سنوکر کلب میں 12 دیگر ملزمان کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا، مذکورہ سنوکر کلب اور گرفتار دیگر ملزمان سابقہ جوئے میں ریکارڈ یافتہ ہیں،خاتون کا ایک بیٹا گزشہ ماہ موٹر سائیکل سے گر کر جاں بحق ہوا جس کا مقدمہ درج ہے، سنوکر کلب سے دوسرے بیٹے کی گرفتاری کو پہلے بیٹے کے مقدمہ قتل پر دباو سے جوڑنا بے بنیاد ہےخاتون ایم پی اے نے بیٹے کو چھڑوانے کے لیے دباو ڈالنے کی کوشش کی،سابق ایم پی اے اور اس کے شوہر نے بیٹے کو چھڑوانے کے لیے پولیس والوں سے شدید بدسلوکی کی، وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے،بغیر تصدیق الزام تراشی پر مبنی یک طرفہ خبر چلانا افسوسناک ہے

    قبل ازیں سابق رکن اسمبلی سمیرا کومل کے بیٹے پر مزنگ پولیس نے جوا کھیلنے کا مقدمہ درج کر لیا،سمیرا کومل نے دعویٰ کیا تھا کہ میرے بیٹے کو جھوٹے مقدمے میں نامز د کیا گیا ،بیٹا ارسلان گھر کے باہر کھڑا تھا، پولیس پکڑ کر لے گئی۔شوہر کے ساتھ تھانے گئی تو پولیس نے دونوں پر تشدد کیا۔ایک ماہ پہلے دوسرے بیٹے کو قتل کر دیا گیا، انصاف نہیں ملا

  • حاملہ کترینہ کیف کی تصویریں منظر عام پر

    حاملہ کترینہ کیف کی تصویریں منظر عام پر

    بالی ووڈ کی معروف اور خوبصورت اداکارہ کترینہ کیف ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں، تاہم اس بار وجہ اُن کی نئی فلم یا فیشن فوٹو شوٹ نہیں بلکہ اُن کی وائرل ہونے والی تصاویر ہیں۔

    بھارتی میڈیا پورٹل نے کترینہ کیف کی چند نجی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ اپنے ممبئی کے اپارٹمنٹ کی بالکونی میں کھڑی نظر آرہی ہیں۔ تصاویر میں اُن کے خدوخال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر حاملہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، 42 سالہ اداکارہ اس وقت تین ماہ کی امید سے ہیں۔ان تصاویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی جانب سے مخلوط ردعمل سامنے آیا۔ کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کترینہ کیف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ متعدد صارفین نے میڈیا پورٹل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے ایک خاتون اداکارہ کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

    یاد رہے کہ کترینہ کیف اور وکی کوشل نے 9 دسمبر 2021ء کو راجستھان کے ایک شاندار ریزورٹ میں شاہی انداز میں شادی کی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی ان کے والدین بننے کی افواہیں گردش میں آگئی تھیں، تاہم اس وقت دونوں نے ایسی خبروں کی تردید کی تھی۔تاہم حال ہی میں کترینہ کیف نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایک خوشگوار تصویر شیئر کی، جس کے بعد مداحوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ اداکارہ جلد اپنے پہلے بچے کی خوشخبری سنانے والی ہیں۔

  • پاکستان اور کویت کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاورمنصوبے کے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط

    پاکستان اور کویت کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاورمنصوبے کے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط

    : پاکستان اور کویت فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ (کے ایف اے ای ڈی) کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لئے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط ہوگئے۔ دستخط کی یہ تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 7.5 ملین کویتی دینار (25 ملین امریکی ڈالر) ملیں گے۔

    پاکستان کی جانب سے معاہدے پر سیکرٹری وزارت اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے دستخط کئے۔ اس تقریب میں کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد حشام سمیت وزارت اقتصادی امور اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت اقتصادی امور نے کویتی حکومت اور کے ایف ای اے ڈی کا پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں مسلسل تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ حمیر کریم نے مزید کہا کہ یہ رعایتی مالی امداد پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات اور پائیدار شراکت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے توانائی، پانی اور سماجی شعبے کے منصوبوں میں کویت فنڈ کی مالی معاونت کو سراہا جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ مئی 2024 میں ہونے والے پاکستان-کویت مشترکہ وزارتی کمیشن کے پانچویں اجلاس کے دوران، پاکستان نے کویت فنڈ سے مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے کل 30 ملین کویتی دینار (100 ملین امریکی ڈالر) کے فنانسنگ معاہدے پر جلد دستخط کرنے کی درخواست کی تھی، جو چار مساوی قسطوں میں جاری کی جائے گی۔ جون 2024 میں قرض کے پہلے معاہدے پر دستخط کے بعد، آج کے دستخط اس عزم کے دوسرے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے حکام کو بتایا کہ یہ منصوبہ آسانی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دوسرے قرض کے تحت اس اہم منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی، جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا، صاف توانائی پیدا کرنا، پشاور شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی اور پاکستان میں سیلاب پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے قرض کے تیسرے معاہدے پر جلد دستخط کرنے پر بھی زور دیا اور کویت فنڈ کو پاکستان میں دیگر ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنانسنگ پر غور کرنے کی دعوت دی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد ہشام نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے ترقیاتی اقدامات کے لیے کے ایف ای اے ڈی کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا۔

  • وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر نئی پابندیاں عائد

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر نئی پابندیاں عائد

    امریکی صدر کے دفتر، وائٹ ہاؤس، نے صحافیوں کے داخلے سے متعلق نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب کسی بھی صحافی کو پریس سیکرٹری یا دیگر اعلیٰ حکام کے دفاتر میں بغیر اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نئی پالیسی کے تحت وائٹ ہاؤس کے "اپر پریس روم” میں داخلہ صرف پیشگی اپائنٹمنٹ کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حساس معلومات کے تحفظ اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو اب ملاقات یا بریفنگ کے لیے پہلے سے وقت لینا ہوگا، تاکہ دفتر میں موجود افسران اور سیکیورٹی اہلکار انتظامات کو بہتر طور پر یقینی بنا سکیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پینٹاگون میں بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن کے تحت میڈیا نمائندوں کی آزادانہ رسائی محدود کر دی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا حالیہ فیصلہ میڈیا اور حکومتی اداروں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جب کہ صحافتی تنظیموں نے اس پالیسی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت کی یہ نئی پالیسی معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور داخلی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

  • ڈنمارک کی مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی شناخت کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش

    ڈنمارک کی مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی شناخت کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش

    ڈنمارک نے ایک انقلابی تجویز پیش کر کے دنیا بھر میں ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نئی کاپی رائٹ قانون سازی کے تحت ہر شہری کو اپنی شناخت، چہرے، آواز اور جسمانی ڈیٹا پر مکمل قانونی ملکیت دی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی کمپنی یا مصنوعی ذہانت (AI) سسٹم کسی شخص کے خدوخال، آواز یا جسمانی انداز کو بغیر اجازت استعمال نہیں کر سکے گا۔

    یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی تیزی سے عام ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کی مشابہت پر مبنی جعلی ویڈیوز یا آوازیں بنائی جاتی ہیں، جنہیں دھوکہ دہی، جعلی خبروں اور سیاسی مہمات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ڈنمارک کی حکومت کے مطابق، کسی فرد کا ظاہری خدوخال اور آواز بھی دانشورانہ ملکیت کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس طرح اگر کسی کی شناخت کا غلط استعمال کیا جائے تو متاثرہ شخص قانونی طور پر معاوضہ یا ویڈیو ہٹانے کا مطالبہ کر سکے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو یہ دنیا بھر کے لیے ڈیجیٹل انسانی حقوق کا ایک نیا نمونہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ قدم واضح پیغام دیتا ہے کہ "انسانی شناخت محض ڈیٹا نہیں، بلکہ قابلِ احترام ملکیت ہے۔”

    ڈنمارک کی اس تاریخی کوشش سے یہ بات بھی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی شناخت کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

  • پولیس وردیاں پہن کر ڈکیتی کرنے والے 4 ڈاکو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    پولیس وردیاں پہن کر ڈکیتی کرنے والے 4 ڈاکو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    پشاور کے علاقے میراکچھوڑی مہرگل کلے میں پولیس مقابلے کے دوران 4 ڈاکو ہلاک ہو گئے

    پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پہنچی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ سے گینگ کےچاروں ڈاکو ہلاک ہوگئے. ہلاک ملزمان 2003 سے پولیس کی وردی میں وارداتیں کرتے تھے، ڈاکوؤں نے ڈاکٹر کےگھر سےکروڑوں روپے اور زیورات بھی لوٹے تھے۔

    ایس ایس پی آپریشنز پشاور مسعود احمد بنگش نے اس حوالے سے بتایا کہ ہلاک چاروں ڈاکووں کی شناخت ہوگئی ہے، 3 ڈاکوؤں کا تعلق افغانستان سے ہے،ہلاک ڈاکوپشاور، راولپنڈی، نوشہرہ اور دیگراضلاع کی پولیس کو انتہائی مطلوب تھے، ڈاکووں نےحالیہ دنوں میں دو بڑی وارداتیں کی تھیں، ڈاکوؤں سے کلاشنکوف، رائفل ، 2 پستول اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔