Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے “لنگز آف لاہور” منصوبہ

    لاہور کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے “لنگز آف لاہور” منصوبہ

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لیے “لنگز آف لاہور” منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ ماحول دوست منصوبہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں قدرتی فضا کی بحالی میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔

    ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق منصوبے کے تحت لاہور کے اردگرد جنگل نما حد بندی قائم کی جائے گی، جس کے لیے تقریباً 48 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ منصوبہ “پی ایچ اے لاہور” کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ لاہور کی جنگل نما حد بندی کی کل لمبائی 112 کلومیٹر جبکہ رقبہ 1,711 ایکڑ پر مشتمل ہو گا۔ “رِنگ فاریسٹیشن” منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں 1,210 ایکڑ اراضی پر 59 کلومیٹر طویل رنگ فاریسٹ تیار کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں 31 اور تیسرے مرحلے میں 22 کلومیٹر رقبے پر شجر کاری کی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق پہلا مرحلہ ایک سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا۔

    منصوبے کے تحت جامن، کچنار، امرود اور دیگر پھل دار درختوں کے علاوہ پلکن، ارجن، گلِ نشتر، سکھ چین، جیٹروفہ اور دیگر مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں گے۔ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق “لنگز آف لاہور” منصوبے سے تقریباً دو کروڑ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ یہ منصوبہ نہ صرف سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ شہری پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا، جبکہ سینئر منسٹر پنجاب مریم اورنگزیب سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے مکمل خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ترجمان نے کے مطابق یہ منصوبہ ماحولیاتی تحفظ اور صحت مند پنجاب کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

  • خاتون صحافی  ایشل عدنان کا آفتاب اقبال پر جنسی ہراسانی کا الزام

    خاتون صحافی ایشل عدنان کا آفتاب اقبال پر جنسی ہراسانی کا الزام

    ٹی وی میزبان اور صحافی ایشل عدنان نے معروف صحافی اور ٹاک شو میزبان آفتاب اقبال پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور ان کی جانب سے مبینہ طور پر پیش قدمی مسترد کیے جانے پر انہیں ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام سے نکال دیا،ایک حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں ایشل نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں آفتاب اقبال کے شو میں شریک میزبان کے طور پر رکھا گیا تھا اور پروموشنل مواد میں ان کا نام اور تصویر شامل کی جا چکی تھی۔ تاہم ان کے مطابق نئی ذمہ داری شروع ہونے کے صرف تین دن بعد ہی ان کا جوش و خروش بے چینی میں بدل گیا کیونکہ انہیں میزبان کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا،ایشل کا کہنا تھا کہ انہوں نے آفتاب اقبال کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی عزت کرتی ہوں لیکن آپ کا یہ رویہ آپ جیسے سینئر شخص کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق آفتاب اقبال نے یہ سن کر غصے کا اظہار کیا اور دھمکی دی کہ وہ انہیں شو سے ہٹا دیں گے اور مستقبل میں ٹی وی پر کسی موقع سے محروم کر دیں گے،ان کا کہنا ہے کہ آفتاب اقبال نے انہیں شریک میزبان کے عہدے سے ہٹا دیا اور مکمل طور پر پروگرام سے نکال دیا گیا اور یہ سب متعدد گواہوں کے سامنے ہوا۔

    ایشل نے مزید بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کیا جس پر چینل کے مالک نے مداخلت کی۔ ان کے مطابق مالک نے تسلیم کیا کہ آفتاب اقبال ایک بااثر شخصیت ہیں مگر انہیں یقین دلایا کہ ان کے سامنے آنے پر انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔ایشل نے مزید کہا کہ وہ اب اس واقعے سے آگے بڑھ چکی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ آفتاب اقبال شاید وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وہ چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد ہیں مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لیا ہے۔

    پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی خاتون اینکر یا میزبان نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہوں۔ ماضی میں بھی کئی خواتین صحافی اور شوبز شخصیات طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان میں میڈیا اداروں میں خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیوں کی کتنی ضرورت ہے،ابھی تک افتاب اقبال یا ایکسپریس ٹی وی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

  • اوکاڑہ میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، القاعدہ سے تعلق رکھنے والا مشتبہ دہشت گرد گرفتار

    اوکاڑہ میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، القاعدہ سے تعلق رکھنے والا مشتبہ دہشت گرد گرفتار

    پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ سے وابستہ ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی جس میں سیکیورٹی اہلکاروں نے ہدف کو گھیرے میں لے کر حراست میں لیا۔ آپریشن کے دوران ملزم کے قبضے سے دو کلوگرام سے زائد بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز، بال بیرنگز اور دیگر خطرناک اشیاء برآمد ہوئیں جو دیسی ساختہ بم (IEDs) تیار کرنے میں استعمال کی جاتی ہیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار شخص کا تعلق القاعدہ کے ایک فعال نیٹ ورک سے بتایا جا رہا ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق تحقیقات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بارودی مواد اور آلات کن ذرائع سے فراہم کیے گئے اور ان کا مقصد کیا تھا۔سی ٹی ڈی نے گرفتار ملزم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جب کہ تفتیشی ٹیم نے مشتبہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو ٹریس کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔حکام کے مطابق یہ کارروائی صوبے میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی مہم کا حصہ ہے۔

  • نورولی محسود کا دست راست ،ٹی ٹی پی کا نائب امیر قاری امجد جہنم واصل

    نورولی محسود کا دست راست ،ٹی ٹی پی کا نائب امیر قاری امجد جہنم واصل

    باجوڑ: پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب ایک انتہائی اہم اور خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP/FAK) کے نائب امیر قاری امجد عرف مفتی حضرت / مفتی مزاحم کو ہلاک کر دیا۔

    قاری امجد تنظیمی لحاظ سے نائب امیر اور نمبر 2 حیثیت رکھتا تھا اور مفتی نور ولی محسود کے براہِ راست ماتحت تھا۔ وہ پاکستان کے شمالی اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا مرکزی منصوبہ ساز اور عملی رہنما سمجھا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب باجوڑ کے علاقے میں ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی۔دہشت گردوں کے گروہ کی نقل و حرکت کو بروقت ٹریک کیا گیا اور نشاندہی کے بعد فورسز نے انتہائی مہارت اور درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے قاری امجد سمیت اس کے تین ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔

    یہ کارروائی پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

    قاری امجد کون تھا؟
    قاری امجد، جسے مفتی حضرت یا مفتی مزاحم کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی شورٰی کا مرکزی رکن اور نائب امیر تھا۔امریکہ نے اسے 2022 میں “خصوصی عالمی دہشت گرد” (Specially Designated Global Terrorist) قرار دیا تھا، کیونکہ وہ پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد حملوں کا منصوبہ ساز اور نگران تھا۔وہ دھماکہ خیز مواد، ڈرون (کواڈ کاپٹر) ٹیموں اور خودکش بمباروں کی تربیت براہِ راست دیکھتا تھا۔ قاری امجد نے دہشت گردی کے نئے ہتھکنڈے متعارف کرائے، جن میں ڈرون کے ذریعے سرحدی چوکیوں پر بم گرانا شامل تھا۔

    دہشت گردانہ سرگرمیاں
    خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں متعدد خودکش دھماکوں اور آئی ای ڈی حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔لڑکیوں کے اسکولوں کی تباہی اس کے نظریاتی شدت پسندی کی علامت بن گئی تھی۔سرحدی علاقوں میں ڈرون کے ذریعے بم حملے کرنے والی ٹیموں کی قیادت کرتا تھا۔پاکستانی سیکیورٹی قافلوں اور چوکیوں پر گھات لگا کر حملوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔نئی بھرتی شدہ دہشت گردوں کو دراندازی، بارودی سرنگوں کے استعمال اور گھات لگا کر حملے کرنے کی تربیت دیتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق، قاری امجد دو ہفتے قبل مفتی نور ولی محسود کے براہِ راست احکامات پر باجوڑ پہنچا تھا، جہاں اس کی سرگرمیوں پر پاکستانی انٹیلی جنس ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ بالآخر اسے ایک ٹارگٹڈ آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا۔

    قاری امجد کی ہلاکت کو سیکیورٹی ماہرین ایک فیصلہ کن کامیابی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس کی ہلاکت سے TTP کی کمانڈ اینڈ کنٹرول چین کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ باجوڑ، سوات اور شمالی وزیرستان کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کا نظام متاثر ہوا ہے۔ پاکستان کے خفیہ اداروں کے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور پیشگی کارروائیوں کے سلسلے میں یہ ایک نمایاں کامیابی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی “زیرو ٹالرینس” پالیسی کی واضح عکاسی کرتا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت سے جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق “پاکستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دی جائے گی۔ قومی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ بننے والے تمام عناصر کا انجام ایک ہی ہے ، مکمل خاتمہ۔”

    قاری امجد کی ہلاکت نہ صرف TTP کی اعلیٰ قیادت کے لیے بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ پاکستان کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھی واضح ثبوت ہے۔ماہرین کے مطابق، اس کارروائی کے بعد TTP کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران میں اضافہ متوقع ہے۔

  • سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام ،انتہائی مطلوب کمانڈر امجد سمیت چار جہنم واصل

    سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام ،انتہائی مطلوب کمانڈر امجد سمیت چار جہنم واصل

    29/30 اکتوبر 2025 کی شب، پاک افغان سرحد کے قریب ایک مسلح گروہ کی حرکت سیکورٹی فورسز نے محسوس کر کے بروقت کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دراندازی کی کوشش کو موثر طریقے سے ناکام بنایا گیا اور چار خوارج مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں اس گروہ کا اہم کمانڈر امجد عرف مزاہم بھی شامل ہے جو ‘فِتْنَہِ الخوارج’ کے رہبَرِی شُورَا کا سرِ فہرست رُکن بتایا جاتا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے حساس انٹیلی جنس پر مبنی معلومات کی بنیاد پر علاقے میں چوکیوں اور کمینوں کا اہتمام کیا ہوا تھا، جس کے باعث خوارج کی دراندازی کی کوشش کو بروقت نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی عین نشانے بازی اور پروفیشنل انداز میں انجام پائی جس سے حملہ آوروں کے ٹھکانے تباہ ہوئے اور چار دہشت گرد مارے گئے۔

    مارے جانے والے کمانڈرز میں ‘کمانڈر امجد’ بھی شامل ہے جو مقامی سیکیورٹی اداروں کے لحاظ سے ہائی ویلیو ٹارگٹ تھا۔ امجد کو فِتْنَہ الخوارج کا نائب اور نور ولی کا دستِ راست بتایا جاتا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس پر پانچ ملین پاکستانی روپے کا سرِ انعام مقرر کیا ہوا تھا، کیونکہ وہ طویل عرصے سے افغان سرزمین میں مقیم رہ کر پاکستان کے اندر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور حمایت میں ملوث رہا۔

    فِتْنَہ الخوارج کی قیادت جو افغانستان میں بسر کر رہی ہے، وہ سرحدی دراندازیوں کا منصوبہ بندی کر کے اپنے خوارج کی حوصلہ افزائی اور بااثر دکھانے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر اس سے پہلے کی سیکورٹی آپریشنز کی وجہ سے ان کے مورال میں کمی آئی تھی۔ بیان میں عبوری افغانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر ایسی تنظیموں کے ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے تا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی سازشیں رکی جائیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بقیہ خوارج کو ہٹایا جا سکے۔ اس حوالہ سے حکومت اور فورسز نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ "عزمِ استحکام” کے تحت وفاقی اپیکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کے منظور کردہ وژن کے مطابق برمحل اور مستقل کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے خاتمہ کو ممکن بنایا جا سکے۔

    حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک سیکیورٹی فورسز اپنے سرحدی دفاع کے عزم میں ثابت قدم ہیں اور قومی حدود کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ سیکیورٹی ذرائع نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ بھی مقامی فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھیں اور مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی دانش چِکنا گرفتار

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی دانش چِکنا گرفتار

    منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی اور منشیات کے بڑے سرغنہ دانش چِکنا کو گوا سے گرفتار کرلیا۔

    حکام کے مطابق دانش چِکنا، جس کا اصل نام دانش مرچنٹ ہے، کافی عرصے سے مفرور تھا اور بھارت میں داؤد کے نیٹ ورک کے تحت منشیات کی ترسیل اور فروخت کا بڑا آپریشن چلا رہا تھا۔ترجمان این سی بی کے مطابق، دانش چِکنا کے ساتھ تین دیگر ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے 1.341 کلو گرام میفیڈرون (Mephedrone) نامی نشہ آور کیمیکل برآمد ہوا۔این سی بی کی ممبئی یونٹ نے 18 ستمبر کو خفیہ اطلاع پر پونے میں ایک شخص کو روکا، جس کے قبضے سے 502 گرام میفیڈرون برآمد کیا گیا۔اس کارروائی کے فوری بعد، تفتیش کے دوران 839 گرام مزید منشیات دانش چِکنا اور اس کی اہلیہ کے ممبئی میں واقع گھر سے ضبط کی گئیں۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دانش چِکنا اور اس کی اہلیہ ایک منظم ڈرگ سنڈیکیٹ چلا رہے تھے، جو ملک کے مختلف حصوں میں میفیڈرون کی سپلائی میں ملوث تھا۔دونوں کئی ریاستوں میں سفر کر کے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔

    این سی بی نے طویل تعاقب کے بعد 25 اکتوبر کو گوا کے ایک ریزورٹ سے دانش چِکنا اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کیا،ابتدائی تفتیش کے بعد دونوں کو باقاعدہ طور پر این ڈی پی ایس ایکٹ (NDPS Act) کے تحت گرفتار کرلیا گیا،این سی بی کے مطابق دانش چِکنا ایک عادی منشیات فروش ہے،اس کے خلاف این سی بی اور راجستھان پولیس تین مقدمات پہلے ہی درج کرچکی ہیں، جب کہ ممبئی پولیس کے ریکارڈ میں اس کے خلاف سات فوجداری مقدمات موجود ہیں۔

  • علیمہ خان پیش نہ ہوئیں،چھٹی مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری

    علیمہ خان پیش نہ ہوئیں،چھٹی مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری

    بانی تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان کے ایک بار پھر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے،

    علیمہ خان اور ان کے وکلاء آج بھی انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں پیش نہیں ہوئے،علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت تھی۔ آج عدالت نے چھٹی مرتبہ علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے،علیمہ خان کے علاوہ دیگر 10 ملزمان اور استغاثہ کے گواہان عدالت میں پیش ہوئے تھے،نادرا نے علیمہ خان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی رپورٹ جمع کرا دی ہے،علاوہ ازیں 26 نومبر کے احتجاج کے دوران گاڑی کی سپرداری لینے والا ملزم عارف خان مچلکے پیش نہیں کرسکا جس کے بعد عدالت نے گاڑی کے مالک عارف کو جیل بھیج دیا۔

  • سپریم کورٹ،افغان شہری کو  پاکستانی شہریت دینے کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ،افغان شہری کو پاکستانی شہریت دینے کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ نے افغان شہری کو پاکستانی خاتون سے شادی کی بنیاد پر پاکستانی شہریت دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا۔

    افغان شہری کو پاکستان اوریجن کارڈ کے اجراء کے معاملے کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ یکم دسمبر 2023 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق نے اپیل دائر کر رکھی ہے، ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر کوئی مرد افغان شہری پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اسے پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) اور شہریت دی جائے، تاہم حکومت کو شہریت دینے والے حصے پر اعتراض ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ شہریت کس بنیاد پر دی جا سکتی ہے اور کل کتنے درخواست گزار ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اب تک 117 درخواست گزار سامنے آئے ہیں، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ یہ تو وہ ہیں جو سامنے آگئے ہیں۔

    وکیل نادرا نے مؤقف اپنایا کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افغان شہری کے لیے ویلڈ ویزا کی شرط بھی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کوئی شخص دیوار پھلانگ کر آیا یا دروازے سے داخل ہوا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی جا رہی ہیں، سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

  • خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس،گرفتار ملزم کی ضمانت خارج

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس،گرفتار ملزم کی ضمانت خارج

    لاہور کی ضلعی کچہری نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو بنانے کے مقدمے میں گرفتار ملزم ممنون حیدر کی ضمانت خارج کردی۔

    رپورٹ کے مطابق ضلعی کچہری لاہور میں خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو کے مقدمے کی سماعت ہوئی،مقدمے میں مدعی کی جانب سے مدثر چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے،عدالت نے ملزم ممنون حیدر کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ضمانت ملزم کا قانونی حق سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقابلِ ضمانت جرائم میں یہ حق لاگو نہیں ہوتا،تفتیش سے ظاہر ہوا کہ ملزم ممنون حیدر کے موبائل فون سے قابلِ اعتراض ویڈیو بنائی گئی، جو کہ ایک سنگین سائبر کرائم ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یہ افراد کی ساکھ اور نجی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں، ملزم پر عائد الزامات کے تحت درج دفعات ناقابلِ ضمانت ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ممنون حیدر کی سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں اس کی سزا معطلی کی استدعا منظور کی جاچکی ہے،ضلعی عدالت نے موجودہ کیس میں ملزم ممنون حیدر کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

  • سبزی فروش کے خلاف ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

    سبزی فروش کے خلاف ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

    راولپنڈی میں سبزیاں بیچنے کے لیے گاڑی پر اسپیکر نصب کرنے والے ایک سبزی فروش کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ کارروائی تھانہ چونترہ کی حدود میں عمل میں لائی گئی۔

    پولیس کے مطابق مذکورہ شخص گاڑی پر مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر سبزیاں فروخت کر رہا تھا اور گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے اسپیکر کے ذریعے اونچی آواز میں آوازیں لگا رہا تھا۔ پولیس نے اس عمل کو ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق، سبزی فروش چونترہ کے ایک گاؤں میں گاڑی کے ذریعے سبزیاں فروخت کر رہا تھا، جس دوران وہ اسپیکر کے ذریعے مسلسل بلند آواز میں پکار رہا تھا۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی مقامات پر اونچی آواز میں اشتہار یا اعلانات کرنا قانوناً ممنوع ہے، پولیس ذرائع کے مطابق، قانون کی خلاف ورزی پر شہری کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے تاکہ عوامی سکون اور شور کی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔

    مقامی شہریوں کی جانب سے اس اقدام پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ افراد نے کہا کہ پولیس کو ایسے چھوٹے تاجروں کے ساتھ نرمی برتنی چاہیے کیونکہ وہ روزی روٹی کے لیے محنت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر شہریوں کا کہنا ہے کہ آبادی والے علاقوں میں اسپیکر کا استعمال شور اور تکلیف کا باعث بنتا ہے، اس لیے قانون پر عمل درآمد ضروری ہے۔