Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایم پی ایز اور سیاسی شخصیات کو کال کر کے لوٹنے والا گرفتار

    ایم پی ایز اور سیاسی شخصیات کو کال کر کے لوٹنے والا گرفتار

    راولپنڈی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا بڑا ایکشن، آن لائن فراڈ میں ملوث ملزم گرفتارکر لیا گیا،

    ملزم ایم پی ایز اور سیاسی شخصیات کو کال کر کے بتاتا تھا کہ اقوام متحدہ کا وفد آ رہا ہے اور آپ پیپلز پارٹی کی طرف سے نمائندے ہوں گے،ملزم جھانسہ دیتا تھا کہ وفد کے ساتھ کارگو ہے جس کے ٹیکس کی مد میں ادائیگی کرنی ہے، یوں شہریوں سے پیسے بٹورے جاتے تھے،اسی طرح مدعی کو بھی نمائندہ بنانے اور کارگو ٹیکس کے نام پر 4 لاکھ 68 ہزار 500 روپے لوٹے گئے جو ملزم کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے،سائبر کرائم سرکل راولپنڈی نے ملزم محمد مظہر ولد محمد حنیف کو گرفتار کر لیا، جبکہ ساتھی محمد جاوید بھی نامزد کیا گیا ہے،ملزم کے خلاف ایف آئی آر نمبر 201/2025 درج کر کے پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی،ایس آئی محبوب الٰہی کی سربراہی میں مزید تفتیش جاری ہے

  • گلگت بلتستان میں 24 جنوری کو انتخابات کی منظوری

    گلگت بلتستان میں 24 جنوری کو انتخابات کی منظوری

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان میں 24 جنوری کو انتخابات کی منظوری دے دی۔ الیکشن کمیشن آج اسمبلی انتخابات کا شیڈول جاری کریگا۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے الیکشن کرانے کے لئے سفارشات صدر پاکستان کو بھجوائے تھے۔ صدر پاکستان نے 24 جنوری میں الیکشن منعقد کرانے کی حتمی منظوری دے دی۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ گلگت بلتستان اسمبلی 5 سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل کر دی گئی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ یار محمد خان کو نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیاتھا۔وزیر اعظم نے بطور چیئرمین جی بی کونسل نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد ناصر کی تعیناتی منظوری دی ، کابینہ ڈویژن نے نگران وزیراعلیٰ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات نگران حکومت کرائے گی۔

  • وطن کے نظریے کی حفاظت علماء نے کرنی ہے،علامہ طاہر اشرفی

    وطن کے نظریے کی حفاظت علماء نے کرنی ہے،علامہ طاہر اشرفی

    علمائے کرام نے پاک فوج سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عسکری قیادت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ علمائے کرام نے کہا کہ ملک جنگی حالات سے گزر رہا ہے، ہمیں اپنی فوج کو بھرپور سپورٹ کرنی چاہئے۔

    کنونشن سینٹر اسلام آباد میں قومی علماء مشائخ کانفرنس میں علماء نے پاک فوج سے مکمل اظہار یکجہتی کیا، سربراہ جامعۃ الرشید مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ملک جنگی حالات سے گزر رہا ہے، پاک فوج حرمین شریفین کی محافظ بھی ہے۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ وطن کے نظریے کی حفاظت علماء نے کرنی ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی کا کہنا تھا کہ بنیان مرصوص دنیا میں ہماری عزت کی وجہ بنا۔علامہ ضیاء اللہ شاہ نے کہا کہ سیاست کے نام پر پاک فوج کیخلاف بات نہیں کرنے دیں گے۔پیر حسن حسیب الرحمان کا کہنا تھا کہ علمائے کرام قدم قدم پر پاک افواج کے ساتھ ہیں۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا، فی تولہ سونا 10700 روپے اور فی اونس 107 ڈالر مہنگا ہوگیا۔

    آل پاکستان صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت ایک بار پھر ساڑھے 4 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔رپورٹ کے مطابق فی تولہ سونا 10 ہزار 700 روپے کے غیر معمولی اضافے کے بعد 4 لاکھ 54 ہزار 262 روپے تک جا پہنچا، 10 گرام سونے کی قیمت بھی 9 ہزار 174 روپے اضافے سے 3 لاکھ 89 ہزار 454 روپے ہوگئی۔صراف ایسوسی ایشن کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 107 ڈالر کا اضافہ ہوا اور نرخ 4 ہزار 319 ڈالر فی اونس ہوگئے۔

  • افغانستان  اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائے ،وزیراعظم

    افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کو دنیا کےلئے بڑے چیلنجز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی تک سب کےلئے منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے،سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پاکستان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے، تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیےبھرپور کردار ادا کر رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پرعزم ہیں،عالمی برادری افغان طالبان رجیم پر زور دے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائے ،پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق حق خوارادیت کےلئے کی جانےوالی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

    ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد ، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اشک آباد جیسے خوبصورت شہر میں موجودگی میرے لیے باعث مسرت ہے، سفید سنگ مرمر کی خوبصورتی اور ترکمان عوام کی گرمجوشی قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ترکمانستان کا میرا پہلا دورہ ہے لیکن میں اپنے آپ کو یہاں قطعاً اجنبی محسوس نہیں کررہا،ترکمانستان کی مہمان نوازی اپنی مثال آپ ہے،مہمان کو اہل خانہ سے بڑھ کر احترام دینا ترکمانستان کی روایت ہے، ترکمانستان کے قومی رہنما قربان گلی بردی محمدوف اور ترکمانستان کے صدرسردار بردی محمدوف میرے لئے بھائیوں جیسے ہیں اور پاکستان اور ترکمانستان کی دوستی کو مضبوط بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکمانستان کی قیادت کو مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے اور 2025کو اقوام متحدہ کی طرف سے امن و اعتمادکا سال قرار دینے کی کامیاب کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں غیرمستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پرعزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ی کا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، اس خطرے سے نمٹنے کےلئے کوششیں کی جارہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ افغان طالبان رجیم پر زور دے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کرے او ر اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو روکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مستقل جنگ بندی کےلئے قطر، ترکیہ ، سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور ایران کی پرخلوص کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے، تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا جس کی بعد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی ، رواں سال کے اوائل میں اقوام متحدہ کی قرارداد 2788کی منظوری تنازعات کے پرامن حل کےلئے پاکستان کے عزم کی بھرپور عکاسی کرتی ہے،8 عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے رکن کی حیثیت سے ہمیں امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن کی کوششوں سے بے گناہ فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اورمستقل اور پائیدار جنگ بندی،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا اور غزہ کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ضروری ہے، پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق، حق خوارادیت کےلئے تمام کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا،پائیدار امن کی خواہش پائیدار ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اس سلسلے میں 2030کا پائیدارترقی کا ایجنڈا ایک بہتر اور پرامن دنیا کےلئے بہت اہم ہے،سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پاکستان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مالیاتی شمولیت کے شعبے میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ خواتین اور کمزور طبقات کو اقتصادی دھارے میں لانے کے لئےموثر اقدامات کئے ہیں ۔

    گلوبل وارمنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صاف اور سرسبزماحول کےلئے حل پیش کئے ہیں اور اس حوالے سے ہمارے اقدامات عالمی مثال ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات دنیا کےلئے بڑے چیلنجز ہیں، یہ ایک عالمی خطرہ ہیں جو مشترکہ ذمہ داری کے تحت عملی اقدامات کے متقاضی ہیں ، جدید ٹیکنالوجی بالخصوص ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے۔

  • سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کیلئے آنے والے شہری کی موت

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کیلئے آنے والے شہری کی موت

    سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے آنے والا راولپنڈی کا رہائشی چل بسا

    سپریم کورٹ میں 70 سالہ عابد حسین کے گھر سے متعلق کیس زیر التوا تھا جس سلسلے میں درخواست گزار عدالت میں پیش ہوا تھا،شہری کے کیس کی پہلی سماعت 11 نومبر 2025 کو ہوئی تھی اور دوسری سماعت آج ہونا تھی جو ملتوی کردی گئی تھی،عدالت سے واپسی پر درخواست گزار عابد حسین کو دل کا دورہ پڑا جس پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

  • بھارت کے ہاتھوں 11 پاکستانی ماہی گیر گرفتار، کشتی بھی ضبط

    بھارت کے ہاتھوں 11 پاکستانی ماہی گیر گرفتار، کشتی بھی ضبط

    کراچی: بھارت نے سمندر میں روزگار کی تلاش میں جانے والے 11 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کر کے ان کی کشتی بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے۔ کوسٹل میڈیا سینٹر کے ترجمان کمال شاہ نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام ماہی گیر کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری سے تعلق رکھتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ تمام 11 افراد ایک ہی خاندان کے ہیں جو معاشی پریشانی کے باعث سمندر میں روزگار کے لیے گئے تھے۔کمال شاہ نے بتایا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سمندری حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں ماہی گیروں کو حراست میں لیا اور کشتی قبضے میں لے کر انہیں بھارتی حراستی مرکز منتقل کردیا۔ترجمان نے کہا کہ بارہا یہ مسئلہ اٹھایا جا چکا ہے کہ معاشی مجبوری کے باعث پاکستانی ماہی گیر غیر ارادی طور پر بھارتی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں طویل عرصے تک جیلوں میں رکھ کر سفارتی معاملات کو پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے۔

    انہوں نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ گرفتار ماہی گیروں کی فوری رہائی کے لیے سفارتی سطح پر قدم اٹھایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔متاثرہ خاندانوں نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی جلد واپسی کے منتظر ہیں اور حکومتی اقدامات کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

  • آئی ایم ایف کی پاکستان پر مزید 11 شرائط عائد

    آئی ایم ایف کی پاکستان پر مزید 11 شرائط عائد

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر 11 مزید سخت شرائط عائد کر دی ہیں تاکہ کرپشن کے خطرات کو کم کیا جا سکے، شوگر سیکٹر پر بااثر طبقے کی گرفت ختم ہو، اور ترسیلات زر کی حقیقی لاگت سامنے لائی جا سکے۔ نئی شرائط کا مقصد بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے نقصانات کم کرنا، گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، اور انتہائی غیر مؤثر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی کو مؤثر بنانا بھی ہے۔

    جمعرات کو آئی ایم ایف نے سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے دوسرے جائزے کی اسٹاف لیول رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان پر 11 اضافی شرائط لگا دی گئی ہیں۔ ان نئی شرائط کے ساتھ پچھلے ڈیڑھ سال میں مجموعی شرائط کی تعداد بڑھ کر 64 ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان آئندہ سال دسمبر تک اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثوں کی تفصیلات ایک سرکاری ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد آمدن اور اثاثوں میں عدم مطابقت کی نشاندہی کرنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اس دائرہ کار کو اعلیٰ صوبائی سول سرونٹس تک بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے اور بینکوں کو ان کے گوشواروں تک مکمل رسائی فراہم کرے گی۔ آئندہ سال اکتوبر تک پاکستان 10 محکموں میں کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کیے گئے رسک اسیسمنٹ کی بنیاد پر ایکشن پلان بھی جاری کرے گا۔ اس عمل میں قومی احتساب بیورو (نیب) سب سے زیادہ خطرات والے اداروں کے لیے ایکشن پلان کی تیاری کی قیادت کرے گا۔صوبائی سطح پر کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو مالیاتی انٹیلی جنس حاصل کرنے کے اختیارات دیے جائیں گے اور انہیں اپنی حدود میں کرپشن کے مالیاتی مقدمات کی تحقیقات کے لیے استعداد کار بڑھانے میں مزید معاونت ملتی رہے گی۔ نئی شرائط گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ کے اجرا کے بعد سامنے آئی ہیں جس نے پاکستان کے قانونی اور گورننس نظام کی بڑی کوتاہیوں کو بے نقاب کیا تھا۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ترسیلات زر کی لاگت اور سرحد پار ادائیگیوں میں رکاوٹوں کا جامع جائزہ لے اور آئندہ سال مئی تک اس حوالے سے ایک ایکشن پلان جاری کرے۔ یہ شرط اس خدشے کے بعد سامنے آئی ہے کہ ترسیلات زر بھیجنے کی لاگت آنے والے برسوں میں بڑھ کر 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ترسیلات زر اب بھی پاکستان کی محدود درآمدات کی فنانسنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔آئندہ سال ستمبر تک حکومت مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹوں کا جامع مطالعہ کرے گی اور ان مسائل کے حل کے لیے ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری کرے گی۔شوگر انڈسٹری پر بااثر طبقے کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف نے شرط رکھی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئندہ سال جون تک چینی کی منڈی کی مکمل لبرلائزیشن کے لیے قومی پالیسی پر اتفاق کریں اور اسے کابینہ سے منظور کرائیں۔ اس پالیسی میں لائسنسنگ، قیمتوں کے کنٹرول، درآمد و برآمد کی اجازت، زوننگ، اور عمل درآمد کے واضح اوقات کار شامل ہوں گے۔

    ایف بی آر کی ناقص کارکردگی نے بھی نئی شرائط کو جنم دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ دسمبر کے اختتام تک ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے روڈ میپ مکمل کرے، جس میں ترجیحات، عملے کی ضروریات، کردار، ٹائم لائنز، اہداف، آمدنی پر اثرات، اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے کلیدی کارکردگی اشارئیے (KPIs) شامل ہوں۔

    اس روڈ میپ کی بنیاد پر حکومت کو کم از کم تین ترجیحی شعبوں میں مکمل عمل درآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کرنا ہوں گے، جن میں ضمنی قانون سازی، عملے کی بھرتی اور تعیناتی، اور ابتدائی KPI رپورٹنگ شامل ہے۔آئندہ سال دسمبر تک حکومت کو ایک جامع وسط مدتی ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی بھی جاری کرنا ہوگی، جس میں ٹیکس پالیسی، انتظامیہ اور قانونی اصلاحات کا ترتیب وار روڈ میپ، گورننس کا ڈھانچہ اور وسائل کی فراہمی کا منصوبہ شامل ہوگا۔اسی مدت تک حکومت کو HESCO اور SEPCO میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے ضروری پیشگی شرائط کو حتمی شکل دینا ہوگی اور آئندہ بجٹ سے پہلے سات بڑے سرکاری اداروں کے ساتھ پبلک سروس اوبلیگیشن (PSO) معاہدے بھی کرنے ہوں گے۔

    مزید برآں حکومت کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترامیم تیار کرکے پارلیمنٹ میں جمع کرائے گی تاکہ غیر فہرست شدہ کمپنیوں کے لیے کمپلائنس کو مضبوط بنایا جائے، کارپوریٹ گورننس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، اور قوانین کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اسی دوران اسپیشل اکنامک زونز (SEZ) ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک کانسپٹ نوٹ بھی جاری کیا جائے گا۔آئی ایم ایف کے مطابق اگر دسمبر 2025 تک محصولات ہدف سے کم رہے تو حکومت نے منی بجٹ لانے پر بھی اتفاق کر لیا ہے، جس میں کھاد اور زرعی ادویات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ، مہنگی میٹھی مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی، اور منتخب اشیا کو معیاری سیلز ٹیکس شرح پر منتقل کرکے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا شامل ہوگا۔ آئی ایم ایف نے گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی خامیوں کے ازالے کے لیے ایکشن پلان جاری کرنے کی آخری تاریخ میں بھی توسیع دے دی ہے۔

  • وطن سے محبت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    وطن سے محبت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے آج مختلف وفود سے ملاقات کے دوران ملکی سیاسی منظرنامے، معاشی بے یقینی اور بڑھتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ وقت تصادم، الزام تراشی اور محاذ آرائی کا نہیں، بلکہ پاکستان کو بچانے اور مضبوط کرنے کا ہے۔” اس وقت وطنِ عزیز نازک دور میں قومی اتحاد، مفاہمت اور فہم و فراست کا شدید تقاضا کرتا ہے، کیونکہ انتشار کی ہر چنگاری براہِ راست ریاستی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ سیاسی قیادت اور تمام ریاستی ادارے ذاتی انا اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں۔ موجودہ سیاسی کشیدگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے، جس کے منفی اثرات ملک کی سلامتی، معیشت اور معاشرتی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ: “ملک و قوم ہم سب کی مشترکہ امانت ہیں، یہ وقت دلوں میں فاصلے بڑھانے کا نہیں بلکہ وطن کی خاطر ایک دوسرے کے قریب آنے کا ہے۔”انھوں نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی، شدت پسندی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت پیچیدہ سیکیورٹی ماحول سے گزر رہا ہے، جہاں دشمن ہماری داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہیں۔لہذا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی تشکیل دی جائے، جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہو۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام نے افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کی حرمت، سرحدوں کی حفاظت اور امن کے قیام کے لیے ہمارے بہادر جوانوں نے جو قربانیاں دی ہیں، قوم انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا انہی شہیدوں اور غازیوں کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اپنا آج، قوم کے کل کی خاطر قربان کیا۔ وطن سے محبت محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک ذمہ داری ہے۔ “پاکستان ہم سب کا گھر ہے، اور اس گھر کو محفوظ، مضبوط، خوشحال اور باوقار بنانے کے لیے اتحاد، مفاہمت اور قومی سوچ ناگزیر ہے۔” پوری قوم، سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت سے ہماری اپیل ہے کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی خاطر ایک مشترکہ راستہ اختیار کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مضبوط اور روشن مستقبل دیا جا سکے۔

  • سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    سنگیتا سے بھتہ طلبی،دھمکیاں،شیرا کوٹ تھانے میں مقدمہ درج

    لاہور: فلم انڈسٹری کی معروف ہدایتکارہ سنگیتا سے بھتہ طلب کرنے، دھمکیاں دینے اور شوٹنگ کے دوران ہنگامہ آرائی پر شیراکوٹ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایک نامزد ملزم سمیت آٹھ افراد نے نہ صرف بھتہ طلب کیا بلکہ دھمکیاں دینے کے بعد شوٹنگ کا عمل بھی زبردستی رکوا دیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سنگیتا اپنی پروڈکشن کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ اسی دوران متعدد افراد وہاں پہنچے، عملے کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا، شوٹنگ کروانے سے منع کیا اور موقع پر توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی آلات متاثر ہوئے بلکہ پروڈکشن کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تھانے کے مطابق ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا تاکہ ہدایتکارہ اور ان کی ٹیم کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔