Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 18 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 18 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 18 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقعات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 28 اور 29 اکتوبر کو بلوچستان میں 2 الگ الگ کارروائیوں میں 18 دہشتگرد ہلاک ہوئے، کوئٹہ کے علاقے چلتن میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیاگیا جس دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سرپرستی یافتہ 14 دہشتگرد ہلاک ہوئے، ایک اورانٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیچ کے علاقے بلیدہ میں کیا گیا جہاں دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کرتے ہوئے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا، مارے گئے دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد کیا گیا جب کہ دہشتگرد مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ کسی بھی بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد کو انجام تک پہنچانے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشنزجاری ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنےوالےادارے ’عزم استحکام‘ کے تحت انسدادِدہشتگردی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملک سے غیرملکی سرپرستی و حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

  • سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کیخلاف ملک گیر کاروائیاں جاری

    سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کیخلاف ملک گیر کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں،

    سیکیورٹی فورسز نے خاران کے لجا علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ذرائع کے مطابق دو جوان زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مزاحمت کو روکا جا سکے۔

    بنو ں کے مامند خیل علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے مسجد میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی، جس کے دوران ایک دہشت گرد زخمی ہوا۔فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے تاکہ باقی عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔

    بارہ تحصیل، ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
    آپریشن کے دوران اسلحہ و گولہ بارود کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ترجمان کے مطابق دہشت گرد علاقے میں بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    جانی خیل کے علاقے ملی خیل میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جسے فورسز نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا۔حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے، بعد ازاں علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    کرم کے مرکزی علاقے میں کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک کی شناخت افغان صوبہ پکتیا کے رہائشی محمد زمان عرف الیاس کے نام سے ہوئی۔آپریشن کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس کارروائی جاری ہے۔

    ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والا اہم کمانڈر ایاز عرف عمر مخلص مہاجر مارا گیا۔ذرائع کے مطابق وہ سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث تھا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    تحصیل امبر، مہمند ضلع کے رامبت علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کردیے۔ذرائع کے مطابق 20 سے 25 مسلح دہشت گرد علاقے میں موجود تھے، جن میں سے کئی مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    بنو کے علاقے لنک روڈ سے اغوا ہونے والے مردم شماری افسر امیراللہ کو سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کے دوران بازیاب کرالیا۔ذرائع کے مطابق انہیں گزشتہ اتوار کو دہشت گردوں نے سرکاری گاڑی سمیت اغوا کیا تھا۔

    اپر دیر کے علاقے دارہ اطرافی میں نامعلوم افراد نے امن کمیٹی کے سابق رکن حاجی اعظم خان کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    لنڈی کوتل میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، ٹرانسپورٹرز اور لیبر یونین نے طورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ریلی باچاخان چوک سے شروع ہو کر طورخم کی جانب بڑھی۔پولیس کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مچنی چیک پوسٹ سے آگے جانے پر پابندی عائد ہے اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

  • پاکستان کا افغان طالبان سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید اظہارِ تشویش

    پاکستان کا افغان طالبان سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید اظہارِ تشویش

    حکومتِ پاکستان نے افغان طالبان سے وابستہ افراد کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں پاکستان کے خلاف کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں غیر ریاستی عناصر، بشمول گروہ "فتنہ الخوارج”، کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات اور مواد شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں بعض افغان شہریوں کو فیصل مسجد، اسلام آباد کے قریب ایسے پوسٹرز اٹھائے ہوئے دیکھا گیا ہے جن پر پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز نعرے درج تھے۔ ان مناظر نے ملکی سلامتی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اسے پاکستان کی خودمختاری اور استحکام کے خلاف براہِ راست چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین کو انتہاپسند گروہوں یا پراکسی حملوں کے لیے استعمال کرنا نہایت غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا، جو نہ صرف علاقائی امن کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینا یا سہولت فراہم کرنا صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل قانونی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، حالیہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں ایسے نیٹ ورکس کے شواہد ملے ہیں جو افغان سرزمین سے رابطے میں ہیں۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ پاکستانی انٹیلی جنس ادارے اس معاملے پر مکمل طور پر متحرک ہیں۔

    پاکستان امن، مکالمے اور خطے کے استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل اختیارات کے ساتھ تیار رہیں۔

  • سی سی ڈی کا انسپکٹر تاجر کے اغوا کی واردات کا ماسٹرمائنڈ نکلا

    سی سی ڈی کا انسپکٹر تاجر کے اغوا کی واردات کا ماسٹرمائنڈ نکلا

    لاہور میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے انسپکٹر جاوید اقبال کی مجرمانہ سرگرمیوں کا انکشاف ہوا ہے، جو اپنے ہی محکمے کے اہلکار کے ساتھ مل کر ایک تاجر کے اغوا میں ملوث پایا گیا۔

    پولیس کے مطابق انسپکٹر جاوید اقبال نے اہلکار توصیف کے ساتھ مل کر کاہنہ کے علاقے سے مقامی تاجر کو اغوا کیا۔ ملزمان نے مغوی کے اہل خانہ سے 40 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم ایل او ایس کے قریب وصول کی۔لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ مغوی تاجر کو رہا ہوتے ہی کاہنہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اغوا کاروں کو گرفتار کرلیا۔دورانِ تفتیش انسپکٹر جاوید اقبال اور اہلکار توصیف کی حقیقت سامنے آگئی، جس پر دونوں کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    ترجمان لاہور پولیس کے مطابق محکمے کے اندر کسی بھی اہلکار کی مجرمانہ سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ سی سی ڈی کے اعلیٰ افسران نے واقعے کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاوید اقبال اور توصیف سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اس نوعیت کی دیگر وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں یا نہیں۔

  • بلاول سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن کی ملاقات

    بلاول سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن کی ملاقات

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی ملاقات ہوئی ہے

    بلاول بھٹو زرداری اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے درمیان زرداری ہاؤس میں ملاقات ہوئی
    ،بلاول زرداری نے ہدایت کی کہ بی آئی ایس پی کے تحت مستحق افراد کو دی جانے والی ادائیگیوں کے نظام کو مزید شفاف کیا جائے، مستحق افراد کو ادائیگی کا ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو،
    چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے یقین دہانی کروائی کہ بی آئی ایس پی کے تحت ادائیگیوں کے نظام میں جلد مزید بہتری لائیں گے،

    بلاول بھٹو زرداری نےبینظیر ہنرمند پروگرام کے حوالے سے استفسار کیا ، بلاول بھٹو سرداری کو بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر ہنرمند پروگرام پر بریفنگ دی

  • بھارت کی ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ، نیلم میں بلا اشتعال فائرنگ

    بھارت کی ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ، نیلم میں بلا اشتعال فائرنگ

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارتی فوج نے جورا سیکٹر، وادیٔ نیلم کے علاقے میں بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے رات گئے جورا سیکٹر میں اچانک فائرنگ شروع کی، جس میں مارٹر گولوں اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کیا گیا۔ بھارتی گولہ باری کا ہدف مقامی آبادی اور رہائشی مکانات تھے، تاہم پاک فوج کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کی اشتعال انگیزی کا جواب انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کے ساتھ دیا، جس کے نتیجے میں بھارتی چوکیوں پر خاموشی طاری ہو گئی اور دشمن کی توپیں بند ہو گئیں۔

    بھارت جانب سے بارہاسیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔پاکستان ہمیشہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔

  • نصیرآباد کے قریب جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ

    نصیرآباد کے قریب جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ

    بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں نوتال کے قریب جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کی اطلاع ملی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس نوتال کے علاقے سے گزر رہی تھی۔ نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک کے قریب سے ٹرین پر راکٹ فائر کیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق راکٹ حملے کے بعد فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، لیکن حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔محکمہ ریلوے کے مطابق جعفر ایکسپریس کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا، اور ٹرین بحفاظت ڈیرہ مراد جمالی اسٹیشن پہنچ گئی ہے۔ حملے کے بعد ٹرینوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ابتدائی اندازے کے تحت حملے کا مقصد ریلوے سسٹم کو نقصان پہنچانا اور خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ ایسے حملے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور دہشت گردوں کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔

  • منبر رسولؐ پر کھڑے ہوکر مارو جلا دوکی بات کرنا کیا درست عمل ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

    منبر رسولؐ پر کھڑے ہوکر مارو جلا دوکی بات کرنا کیا درست عمل ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اتحادبین المسلمین کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی درخواست پر تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے علماء و مشائخ کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے حکومت پنجاب کے اصولی موقف کی بھرپور حمایت کر دی۔ اس موقع پر علماء کرام اور مشائخ نے قیام امن کے لئے حکومت کی کاوشوں کی تائید کی۔اجلاس میں سیل ہونے والی مساجدکا انتظام تنظیم المدارس اہل سنت کے سپرد کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بے گناہ ثابت ہونے والے افراد کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حکام کوبے گناہ افراد کو خودباعزت طریقے سے گھر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ مذہبی علامات اور مقدس ناموں والے پوسٹرو بینرزکی تکریم برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔مساجد کے آئمہ کرام کیلئے 25ہزار ر وپے وظیفہ مقررکرنے پر اتفاق کیاگیا۔ اجلاس میں مساجد میں اذان اور خطبہ کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ علماء کرام سے رابطوں کے لئے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر کوفوکل پرسن مقرر کردیا گیا۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ بے گناہ افراد کی رہائی کے لئے 15 پر رپورٹ کی جاسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے اجلاس سے فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریم ؐ کی سنت پر عمل کرنے والے نامور اور جید علماء کرام امت مسلمہ کا ضمیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ا حکامات اور نبی کریمؐ کی سنت کی روشنی میں رہنمائی کے لئے علماء کرام سے رجوع کیا جاتا ہے۔دین کا صحیح راستہ دکھا کر آسانی پیدا کرنے والے علماء ہمارا فخر ہیں۔ریاست، عوام اور ہم سب علماء کرام کو رہنما مانتے ہیں۔ اللہ اور نبی کریم ؐ کو ماننے والوں کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت کا احساس تکلیف دہ ہیں۔ خود جماعتوں کو نیچے دکھانے اور ضرر پہنچانے کے لئے شرپسند ٹولے تشکیل دیئے گئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سوچنے کی بات ہے کہ ریاست کو ایکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ مذہبی جماعتوں میں نیک لوگ ہیں جو دین کا راستہ دکھاتے ہیں لیکن املاک کو نقصان پہنچانے اوربے گناہوں کی جان لینے والے کون ہیں؟۔ روزمرہ زندگی میں خلل نہ آنے دینا، عوام کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ر وزگار اور دیگر امور کے لئے آنے جانے والوں کا راستہ روکنا اور کاروبار زندگی معطل کرنا کیا درست ہے؟۔ شرپسند کفر اسلام کی جنگ بنا کر فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ رحمتہ ا للعالمینؐ کا نام لیکر حکم دینا پولیس والوں کو چھوڑنا نہیں یہ کیسا فعل ہے۔ سچے عاشقان رسولؐ نبی کریم کا نام سنیں تو فرط محبت سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ عشق رسولؐ کا دعوی کرنے والوں کے ہاتھ میں بندوق اورکیلوں والے ڈنڈے کس نے تھمائے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام اور املاک کی حفاظت کرنے والوں کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں توڑنے والے کون لوگ ہیں؟۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ منبر رسولؐ پر کھڑے ہوکر مارو جلا دوکی بات کرنا کیا درست عمل ہے؟۔ نبی کریمؐ نے تو راستے سے پتھر ہٹانے کا حکم دیا یہاں سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ عشق رسولؐ کا دعوی ہے لیکن عمل احکامات نبویؐ کے منافی ہوتے ہیں۔ نبی کریم ؐنے فرمایا کہ روزقیامت حق پر ہونے والے غیر مسلم کا خود وکیل بنوں گا۔ حرم پاک میں احرام کی حالت میں لبیک کی تکرار دل کو چھو لیتی ہے۔ علماء کرام سے ہاتھ جوڑ کر عوام کی درست سمت میں رہنمائی کی درخواست کرتی ہوں۔ غزہ کے لئے توانا آوازنہ بننے کا شکوہ خود سے بھی ہے۔ غزہ کے مسلمانوں پر روز قیامت گزرتی رہی، معاہدہ ہوا تو غزہ والوں نے خوشی منائی اور دنیا نے شکر ادا کیا۔ غزہ معاہدے پر فلسطینی خوشیاں منارہے تھے اور یہاں اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان ہورہا تھا۔ ایک بار بھی شرپسند جماعت والوں کی زبان سے فلسطین کی حمایت میں ایک لفظ تک نہیں سنا گیا۔ فلسطین کے حق کی بجائے پولیس والوں کو مارنے کے اعلان کیے جارہے تھے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صفائی سنت ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی، صفائی کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ستھرا پنجاب کی گاڑیاں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خریدی گئیں،جلانے سے کس کا نقصان ہوا۔ سفارتخانے پر چڑھائی کرنے کے لئے اعلانات کیے گئے۔ اپنے ملک میں سفارتی عملے کی حفاظت ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ مختلف واقعات ہوتے رہے لیکن میں نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔ غریب ریڑھی والے کو سلام نہ کرنے پر مارا گیا، ویڈیو دیکھ کر تکلیف ہوئی۔ مذہبی گھرانے سے تعلق ہے،عید میلاد النبیؐ پر ہمیشہ گھر کو سجایا جاتا ہے۔دادا کے دور میں گھرکے سامنے سے گزرنے والے جلوس پر پھول نچھاور اور مٹھائی تقسیم کی جاتی تھی۔لوگوں کو دین کی صحیح روح سے آگاہ کرنا علما کرام کا فرض ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جان و مال اور عزت آبرو اور املاک کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔ ریڈ کے دوران ایسا جدید اسلحہ برآمد ہوا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ریڈ میں برآمد ہونے والا اسلحہ ریاست کے خلاف اور پولیس والوں کے سینے پر چلانے کے لئے استعمال ہونا تھا۔ شہید ہونے والے انسپکٹر کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،قتل کی محض مذمت کافی نہیں۔ سچ کہنا چاہیے، درمیانی بات سے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ وقت آگیا ہے فتنہ کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ فتنے سراٹھائے تو ملک و قوم کی تباہی شروع ہوجاتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جو سیاسی یا مذہبی جماعت ہتھیار اٹھاتی ہے تو سیاسی یا مذہبی جماعت نہیں رہتی۔ پی ٹی آئی کی سیاست سب برداشت کرتے رہے،ر یاست کے خلاف اسلحہ اٹھایا تو پکڑے گئے۔ مشکل وقت ہم نے بھی دیکھا مگر ہتھیار نہیں اٹھایا بلکہ صبر کیا۔ انڈیا نے حملہ کیا تو فوج نے مقابلہ کرکے شکست دی، اسی فوج پر حملہ کیا گیا۔ملک وقوم حساس دور سے گزررہے ہیں، علماء کرام کی مدد کی ضرورت ہے۔ قوم کی حفاظت کرتے ہوئے جان دینے والوں کے بچوں اور اہل خانہ کو کیا جوابدیں؟۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ محرم الحرام میں مجالس اور جلسوں کے دوران عرق گلاب کا چھڑکاؤ کیا گیا، سبیلیں اور لنگر پیش کیے گئے۔ عید میلاد النبیؐ پر ہر شہر اور گاؤں کو سجایا گیا، مٹھائی تقسیم کی گئی۔ کون شہید ہے کون ظالم فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے، اسلام کا سرٹیفکیٹ ہم نے جاری نہیں کرنے۔ قانون کا اطلاق مرد و خواتین پر برابر ہوتا ہے، کوئی تفریق نہیں۔2 دفعہ بے گناہی کی جیل کاٹ کر آئی۔ عورت کو ڈھال بنانا اورمسجد میں ہتھیار چھپانے والے کیسے مسلمان ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین ریڈ لائن ہیں کوئی بھی ظلم ہو تو قانون فوراً حرکت میں آتا ہے۔ گرین بسوں میں خواتین کے الگ کمپارٹمنٹ اور سی سی ٹی وی سے ہراسمنٹ کے واقعات میں کمی آئی۔ مخالف کی بیٹی کے ساتھ بھی ظلم نہیں چاہتی، چاہئے وہ میرا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ کسی بے گناہ کو اٹھا لیا گیا تو اسے عزت سے گھر چھوڑ کر آئیں۔ اگر کوئی جرم میں ملوث ہے تو اسے پکڑا جائے، چادر اور چار دیواری کا تقدس ضروری ہے۔ عوام کی خدمت، انصاف اور حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں۔ تصادم سے گریز کرنے کی پالیسی اپنائی۔ فتنہ وفساد روکنا ریاست کا فرض ہے ورنہ یہ آگ ہر گھر تک پہنچے گی۔ ڈیوٹی پر جانے والوں کی ہڈیاں توڑنے کے اعلان کا جواب کون دے گا۔ کروڑوں روپے اور ہتھیار برآمد ہوئے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔دین کا نام استعمال کرکے اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا کیا درست ہے؟

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اڈیالہ میں بیٹھا ہوا شخص 400، 600 لوگ جاں بحق ہونے کا ٹویٹ کرتا ہے۔دو سال سے جیل میں ہے پھر بھی فتنہ انگیزی سے باز نہیں آتا۔سینکڑوں لوگوں کے جاں بحق ہونے کا جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اگر سچ تھا تو لاشیں کہاں ہیں۔ ہزاروں زخمی ہوئے تو کن ہسپتالوں سے علاج کرایا گیا۔ زخمی اور قتل ہونے والے کی ویڈیو نہیں بنی بلکہ چھاپوں اوربرآمدگیوں کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ پولیس انسپکٹر کو شہید کیا گیا تو جنازہ پڑھا گیا سب نے دیکھا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اس نہج پر معاملات کو کیوں لایاگیا کہ والدین اولاد، بیویاں شوہر، اور بچے باپ سے محروم ہوگئے۔ اتنی بڑی تعداد برآمد ہونے والا اسلحہ دیکھ کر سب حیران تھے۔ اڈیالہ میں بیٹھے شخص کے دور میں مسجد میں گھس کر لوگوں کو مارا گیا۔ احسن اقبال صاحب کو گولی ماری گئی اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔سکیورٹی والوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر شرانگیز بیانات دیئے جارہے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ علماء کرام فساد اور فتنے کو سپورٹ نہیں کرتے لیکن نام استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا یجنڈا مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ کا گھر عبادت اور تبلیغ دین کی بجائے دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ پولیس کے خلاف متحد ہونے اور تشدد کرنے کے بینرز آویزاں کیے جارہے ہیں۔ مسجد کا منبر اور مائیک اشتعال انگیزی کے لئے استعمال ہورہا ہے اس سے زیادہ مسجد کے تقدس کی پامالی کیا ہوگی۔ مساجد اور مدارس کو مفتی منیب الرحمان کے ادارے کے سپرد کیا جارہا ہے۔ امام مسجد سب سے معتبر شخص ہوتا ہے مگر غریب عوام سے چندہ لیکر تنخواہ دی جاتی ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 65ہزار مساجد کے آئمہ کے لئے وظیفہ مقرر کرہے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے آئمہ کرام کے لئے 15ہزار کی بجائے 25 ہزار وظیفہ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت آئمہ کرام کی معاونت کریگی تاکہ عوام کے چندے پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ عام لوگ جھانسے میں آجاتے ہیں صحیح راستے پر لانے کی کوشش کرنا علماء کرام کا فرض ہے۔ اپیل کرتی ہوں کہ امن وامان کے قیام کی کوشش کے لئے علماء کرام حکومت کا دست وبازو بنیں۔ بے گناہ ثابت ہونے پر سینکڑوں لوگوں کو رہاکیا گیا۔

    تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات امن وسکون اور سلامتی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر اور خطبے پر پابندی نہیں لیکن قانون شکنی پر معین طریقے سے کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ شرپسندوں کو کسی صورت ریلیف نہیں ملنا چاہیے۔ روڈ بلاک اور املاک کو نقصان پر سخت ردعمل ضروری ہے، ہارڈ سٹیٹ کا تاثر دیئے بغیر معاملات نہیں چل سکتے۔

    صاحبزادہ اسد عبید نے کہا کہ پاکستان ہم نے بنایا حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، انتشار پسند آلہ کار بنے ہیں۔ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے شر سے محفوظ رکھے۔ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ مکار دشمن فکری یکجہتی کو پار ہ پارہ کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے، دامے، درمے سخنے حکومت کے ساتھ ہیں۔ سی سی ڈی مجرموں سے جس طرح نمٹ رہی ہے مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعا ئیں دیتی ہیں۔صفائی کے لئے ستھرا پنجاب اور ٹرانسپورٹ کے لئے گرین بس بہترین پراجیکٹ ہیں۔

  • طالبان کیخلاف بغاوت،بدخشاں میں مولانا عبدالرحمان عمارکے ساتھ چھڑپیں،گرفتاری کا حکم

    طالبان کیخلاف بغاوت،بدخشاں میں مولانا عبدالرحمان عمارکے ساتھ چھڑپیں،گرفتاری کا حکم

    افغانستان میں برسراقتدار طالبان رجیم میں اختلافات شدت اختیار کرگئے اور صوبہ بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے کیلئے آپس میں لڑ پڑے۔

    طالبان کے خلاف پہلی بڑی بغاوت ، تاجک کمانڈر مولانا عبدالرحمٰن عمار، جن کی حمایت 500 سے زائد جنگجوؤں نے کی ہے، نے بدخشاں میں بغاوت شروع کر دی ہے۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ضلع شہر بزرگ میں جھڑپیں طالبان رجیم کی جانب سے تعینات کان کنی کے شعبے کے سابق سربراہ عبدالرحمان عمار اور نئے تعینات ہونے والے سربراہ شفیق اللہ حافظی کے گروپوں کے درمیان جاری ہیں،بدخشاں میں دونوں بااثرطالبان کمانڈر سمجھے جاتے ہیں،رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغان رجیم میں مسلح افواج کے سربراہ فصیح الدین فطرت کی تنازع ختم کرنے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

    رپورٹس کے مطابق جھڑپوں میں کئی طالبان جنگجو مارے گئے ہیں اور سابق طالبان کمانڈر عبدالرحمان عمار نے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں پر مورچے سبنھال رکھے ہیں جبکہ طالبان نے مرکز سے مزید فوجی دستے بدخشاں بھیج دیے تاکہ ’باغی‘ کمانڈر کو گرفتار کیا جائے،بعض افغان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ نے باغی کمانڈر عبد الرحمان عمار کو گرفتار کرکے قندھار لانے کا حکم دیا ہے تاہم اب تک افغان فورسز انہیں پکڑنے میں ناکام ہیں۔

  • طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس، امیر فتح ٹیپو کی گرفتاری کیلیے پولیس چھاپہ

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس، امیر فتح ٹیپو کی گرفتاری کیلیے پولیس چھاپہ

    لاہور: طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کے معاملے میں امیر فتح ٹیپو کی گرفتاری کے لیے پولیس نے بڑا چھاپہ مارا

    اچھرہ انوسٹی گیشن پولیس نے رات گئے امیر بالاج کے ڈیرے پر چھاپہ مارا اور دو افراد کو حراست میں لے لیا،پولیس کے مطابق جاوید بٹ قتل کیس میں نامزد ملزم امیر فتح کی عدم پیشی پر اس کی ضمانت خارج ہو چکی ہے،ڈی ایس پی گلبرگ سرکل قمر عباس کی قیادت میں پولیس نے بالاج ٹیپو کے بھائی امیر فتح اور اشتہاری ملزم عارف خان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا،انوسٹی گیشن پولیس نے طارق اور سہیل بٹ کو حراست میں لیا

    جاوید بٹ قتل کیس کا مقدمہ تھانہ اچھرہ میں درج ہے، ایف آئی آر میں امیر فتح اور قیصر بٹ کے نام شامل تھے،نامزد ملزم قیصر بٹ نے طیفی بٹ گروپ کے ساتھ صلح کر لی، جس کے بعد جاوید بٹ کے بیٹے نے قیصر بٹ کا نام مقدمے سے نکالوا دیا،پولیس نے مقدمے میں دو دیگر شوٹرز کو بھی گرفتار کیا تھا، جن کی عدالت سے ضمانت ہو گئی تھی،ڈی ایس پی قمر عباس کے مطابق جاوید بٹ قتل کیس میں نامزد ملزم امیر فتح کو پولیس نے بے گناہ نہیں لکھا