ریلوے پولیس کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری،کتنے لاکھ قومی خزانے میں جمع کروائے؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریلوے پولیس لاہور نے کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، ریلوے ٹریفک پولیس لاہور ڈویژن نے سال 2019 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کیا ہے۔ ریلوے ٹریفک پولیس لاہور ڈویژن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق سال 2019 کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 14807 افراد کے چالان کئے گئے اور چالانوں کی مد میں 1030600 روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے گئے جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی 814 چھوٹی و بڑی گاڑیوں کو بند کیاگیا اور 30 ڈرائیوروں و کنڈکٹروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی۔
اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے بازاروں میں غیر قانونی طور پر ریڑھیاں لگانے والوں اور ناجائز تجاوازات قائم کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز پاکستان ریلوے پولیس اظہر رشید خان نے ریلوے ٹریفک پولیس لاہور ڈویژن کی کارکردگی کو سراہا ہے اورکہا ہے کہ ریلوے ٹریفک پولیس ملک بھر میں ریلوے اسٹیشنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کوکنٹرول کرتی ہے جس کا بنیادی مقصد ریلوے مسافروں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ریلوے مسافر بروقت ریلوے اسٹیشن تک پہنچ سکیں اور ان کے وقت کا ضیاع نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے ٹریفک پولیس کا کام نا صرف قانون کا نفاذ ہے بلکہ عوام کو ٹریفک اصولوں سے آگاہی دینا اور ان میں روڈ سیفٹی کا شعور پیدا کرنابھی ہے۔
فواد چودھری کی بدتمیزی، مبشر لقمان نے کیا اہم اعلان،ثاقب کھرل نے معافی کیوں مانگی؟ انکشاف کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے فواد چودھری کی جانب سے بد تمیزی پر خاموشی توڑ دی، اپنے ویڈیو پیغام میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سے گلے مل کر پیچھے ہو رہا تھا تو فواد چوہدری نے پیچھے سے آ کر اوئے کر کے آواز دی ،اس کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ گھما یا ۔فواد چوہدری کے ساتھ دو تین لوگ تھے سفید کپڑوں میں جنہوں نے آکر مجھے پکڑ لیااور دھکے دینے شروع ہو گئے تاکہ میں کوئی جواب نہ دے سکوں ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ وہاں پر عثمان بزدا ر بھی موجود تھے ،میں نے جا کر انہیں شکایت کی جس پرانہوں نے جواب دیاکہ ہم اس معاملے کو مکمل طور پر دیکھ کر تحقیق کرتے ہیں ،میں نے عثمان بزدار سے کہا تحقیق کیا کرنی ہے ،آپ بھی اس ہال میں موجود ہیں ،گورنر پنجاب اور محسن لغاری بھی ہیں ۔اس معاملے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے ،انہیں ساری بات بتائی ہے جس پر وزیراعظم کا ایک جواب بھی آیا ہے جو کہ ان کی امانت ہے ،میں نجی پیغام کو لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرسکتا ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے فوری طور پر پولیس کو رپورٹ کی ہے لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی،ہم قانونی طریقے سے دیکھیں گے کہ تھوڑے دنوں تک ایف آئی آر ہوتی ہے یا نہیں ا ور اگر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تو عدالت سے رجوع کریں گے ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جب فواد چوہدری نے شادی میں میرے ساتھ بد تمیزی کی تو اِس کے بعد میری ٹیم نے میرے گھر بیٹھ کر جواب دینے کی پلاننگ شروع کی جہاں ثاقب کھرل بھی تھے ،اتنی دیر میں ثاقب کھرل میرے گھر سے اٹھ کر فواد چوہدری کے گھر گئے جو میرے گھر سے تین منٹ کی دوری پر ہے۔اس دوران میرے ایک پرڈیوسر نے ثاقب کھرل کو فون کر کے ملنے کا کہا تو ثاقب کھرل فواد چوہدری کے گھر سے اٹھ کر میرے پروڈیوسر سے ملے ،ثاقب کھرل نے میرے پروڈیوسر سے کہا کہ مجھ پر بہت دباؤ ہے ،میری بیوی نے فون کر کے کہا ہے کہ اگر فواد چوہدری سے معاملات ٹھیک نہیں کیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گی کیونکہ فواد چوہدری اور ثاقب کھرل کی بیویاں سہیلیاں ہیں ۔اس کے بعد ثاقب کھرل نے ٹوئٹ کر کے فواد چوہدری سے معافی مانگی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لڑائی کوئی آج شروع نہیں ہوئی اس کو سات مہینے ہوئے ہیں اور آج تک مجھے پتہ چلا کہ ایک لوگوں نے کہا کہ آپ نے فواد چودھری یا اس کے پی اے کو کال کر کے غلط زبان استعمال کی جس پر میں نے کہا کہ ایک دو دن یا ایک ہفتے کو چھوڑ کر پچھلے سات مہینے میں کوئی کال دکھائیں جو میں نے انکو کی ہو، آپ کے پاس کال کا ریکارڈ نہیں ہو گا تو کال آنے کا ریکارڈ تو ہو گا، وہ تو ٹیلی فون کمپنی دے دی گی کہ اس نمبر سے کال آئی اور اسکا وقت کیا تھا ،یہ کوئی مشکل نہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہانہ بنایا جا رہا ہے ایک انٹرویو کا جو میں نے ایک صحافی کا کیا نیو ٹی وی کے اینکر کا،اور یوٹیوب پر کیا، جس میں انہوں نے بڑے بڑے کلیم کئے ،وہ ان کے اپنے کلیم ہیں ، خود ساختہ کلیم ہیں کیونکہ میں نہیں کہہ رہا،وہ ان دو لڑکیوں کے جن کا آج کل بڑا چرچا ہے حریم اور صندل ،ان دونوں کے بہت قریب ہیں،وہ ان کی بات سنتی ہیں، باتیں ایکسچینج کرتی ہیں ،یہ انہوں نے مجھے کہا ،میں نہیں کہہ رہا،دیکھیں اس میں ایک مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں .خواتین سے مسئلہ چار مہینے پہلے شروع ہوا اور فواد چودھری سے سات مہینے پہلے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چودھری سے جتنی میری دوستی رہی وہ بھی اوپن ہے میں نے کبھی چھپایا نہیں، ایک ٹائم آ یا کہ وزیر بننے کے بعد میرے اور فواد چودھری کے راستے جدا ہو گئے اسکی کئی وجوہات ہیں،بڑی وجہ یہ تھی کہ جب فواد چودھری نے مخالفت شروع کر دی جب انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان کی، ارشد خان کو عمران خان نے خود ایم ڈی پی ٹی وی لگایا تھا ،فواد چودھری نے یونین کو اکسایا اورکہا کہ پی ٹی وی پر قبضہ کر لو،ارشد خان کو نہ آنے دو جس پر میں نے چینل پر کئی پروگرام کئے اور ان پر تنقید کی ، آڑے ہاتھوں لیا، موصوف کی اطلاعات و نشریات کی پالیسیز پر کڑی تنقید کی،فواد چودھری نے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ نیوز چینل تو غلط ہیں، ہمیں انکی ضرورت ہی نہیں، ہمیں فلمی چینل شروع کرنے ہیں، پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اقتدار میں آئی انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ پورے کا پورا میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے خلاف کیوں ہو گیا.
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
ایرانی میزائل حملوں سے کیا نقصان ہوا، ٹرمپ بول پڑے، کہا ہم ایران کویہ کام نہیں کرنے دیں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ہے کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرنے دیں گے۔ ہم نے اس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میزائل حملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہ کہ امریکی فوج کسی بھی چیز کیلئے تیار ہے۔ ایران اپنی ایٹمی سرگرمیاں روکے۔ ایرانی حملے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا، ہمارے تمام فوجی محفوظ رہے اور کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا لیکن فوجی اڈوں کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس سلسلے میں ہم پہلے ہی تیاری کی جا چکی تھی تاکہ ممکنہ حملے سے بچا جا سکے۔ ارلی وارننگ سسٹم نے بہترین کام کیا۔ میرے دور میں 2.5 ٹریلین ڈالر سے امریکی فوج کو مضبوط کیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میرے حکم پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا گیا۔ سلیمانی امریکی مفادات پر حملے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ انہوں نے ہی عراق میں موجود امریکی فوجیوں پر حملے کے احکامات دیے تھے۔ جنرل سلیمانی نے دہشت گرد اور حزب اللہ کو ٹریننگ دی، انھیں بہت پہلے ہی مار دینا چاہیے تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا، اس کے رویے کو ایک حد تک برداشت کیا گیا۔ ایران نے یمن، لبنان، افغانستان اور عراق میں تباہی مچائی۔ ایران نے حالیہ دنوں میں 2 امریکی ڈرون بھی تباہ کیے۔ اب معاملہ برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد ایران کی جانب سے بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آپریشنز ہیڈ کوارٹر آکر کارروائی کی سربراہی کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی ایئربیس پر 30 میزائل داغے گئے۔
پنٹاگون نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی تصدیق کر دی۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ متناسب جواب دے دیا، اسی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایرانی جنرل کو ہدف بنایا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سیلف ڈیفنس میں کارروائی کی۔
واضح رہے کہ بغداد ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے، فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے، عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر ہلاک شدگان میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی کا رہنما بھی شامل ہے۔
بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ایران نے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے، عراق نے بھی امریکا کی فوج کے انخلا کی قرار داد منظور کر لی ہے جس پر امریکہ نے عراق کو بھی دھمکی دی ہے، پاکستان نے خطے میں امن کے لئے بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے، دیگر ممالک نے بھی بات چیت پر زور دیا ہے،
امریکا کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ کے حالات کشیدہ ہیں، ایران نے انتقام لینے کی دھمکی دی ہے، امریکی صدر ٹرمپ بھی دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب سے رابطہ کیا ہے، چین ،پاکستان نے دونوں ممالک کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے،اسرائیل بھی ہائی الرٹ ہے،
مشرق وسطیٰ کی صورتحال، وزیراعظم نے خاموشی توڑ دی، دنیا کو دیا اہم پیغام
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے عمان کے وزیر مذہبی امور نے ملاقات کی جس کے بعد اعلامیہ جاری کر دیاگیا ہے، اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان خطےمیں مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی،ایران اورسعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کے لیے بھی کوششیں کیں،پاکستان ہمیشہ امن کاپارٹنربنےگا
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ خطے میں تنازعے سے پاکستان کوبہت نقصان ہواہے،جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں،مزیدکشیدگی سے بچنے کے لیے اقدامات کرناہوں گے
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا،اعلامیہ کے مطابق وزیراعطم عمران خان نے عمان کے وزیر کو بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں سےامتیازی سلوک کی بی جے پی پالیسیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ عالمی برادری کوصورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرناہوں گے
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد ایران کی جانب سے بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آپریشنز ہیڈ کوارٹر آکر کارروائی کی سربراہی کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی ایئربیس پر 30 میزائل داغے گئے۔
پنٹاگون نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی تصدیق کر دی۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ متناسب جواب دے دیا، اسی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایرانی جنرل کو ہدف بنایا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سیلف ڈیفنس میں کارروائی کی۔
واضح رہے کہ بغداد ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے، فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے، عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر ہلاک شدگان میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی کا رہنما بھی شامل ہے۔
بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ایران نے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے، عراق نے بھی امریکا کی فوج کے انخلا کی قرار داد منظور کر لی ہے جس پر امریکہ نے عراق کو بھی دھمکی دی ہے، پاکستان نے خطے میں امن کے لئے بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے، دیگر ممالک نے بھی بات چیت پر زور دیا ہے،
امریکا کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ کے حالات کشیدہ ہیں، ایران نے انتقام لینے کی دھمکی دی ہے، امریکی صدر ٹرمپ بھی دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب سے رابطہ کیا ہے، چین ،پاکستان نے دونوں ممالک کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے،اسرائیل بھی ہائی الرٹ ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب آرڈیننس پرحکومت اوراپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، مذاکرات اسپیکر اسدقیصرکے چیمبرمیں جاری ہیں، ن لیگ کی جانب سے خواجہ آصف،راناثنااللہ اورایازصادق شریک ہیں، اناتنویراورعطاتارڑبھی مذاکرات میں شریک ہیں،.
حکومت کی جانب سے پرویزخٹک،شیریں مزاری، شاہ محمودقریشی اوراعظم سواتی شریک ہیں، پیپلزپارٹی کی جانب سے نوید قمر مذاکرات میں شریک ہیں، رہنماؤں کے درمیان نیب آرڈیننس کے معاملے پرمشاورت جاری ہے.
اب کونسا بل ایوان میں پیش کیا جا رہا ہے؟ فیصل جاوید میدان میں آ گئے، کیا کہا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ 2020 کا آغازاچھا ہوا ہے، زینب الرٹ بل بھی جلد ایوان میں پیش کیا جائےگا، حکومت قانون سازی کےعمل میں تیزی لائے گی،سینیٹ سے مجوزہ بلزکی منظوری حکومت کی بڑی کامیابی ہے،امید ہے اپوزیشن دیگر بلز پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی،امید ہے اپوزیشن تعمیری کردار ادا کرتی رہےگی
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ زینب الرٹ بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ، وفاقی حکومت بچوں پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ بین الاقوامی انسانی اور بچوں کے حقوق کے دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں بچوں پر تشدد کا معاملہ اٹھایا اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کو صحت و تعلیم کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا۔
شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس میں خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جس میں بچوں کے اغواء سے متعلق شکایت درج کرائی جا سکتی ہے،بچوں پر تشدد کی روک تھام اور حقوق کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، معاشرہ میں بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالہ سے ہمیں معاشرہ کی سوچ تبدیل کرنا ضروری ہے، بچے ہمارا مستقبل اور ملک کا اثاثہ ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق رابعہ جویری آغا نے وزارت کی جانب سے بچوں پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے حوالہ سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم سے عمان کے وزیر مذہبی امور کی ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے اومان کے وزیر برائے مذہبی امور عبداللہ بن محمد بن عبداللہ السلامی نے ملاقات کی۔ بدھ کو وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری بھی موجود تھے ،ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی مضبوطی پر بات چیت کی گئی.
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان عمان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں خصوصاً تجارت میں فروغ دینے کی ضرورت ہے، اوورسیز پاکستانی عمان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عمان کے وزیر مذہبی امور شیخ عبداﷲ بن محمد سے ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عمان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مشترکہ ثقافت، تاریخ اور ورثہ پر مبنی ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو باہمی مفاد کے تمام شعبوں بالخصوص تجارت و سرمایہ کاری میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ خطہ میں امن دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے، پاکستان خطہ میں امن و استحکام کیلئے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی عمان کی ترقی میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، پاکستان میڈیسن، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اکاﺅنٹینسی، تعلیم اور تکنیکی کام کے شعبوں میں غیر ہنرمند کے ساتھ ساتھ انتہائی پیشہ وارانہ افرادی قوت فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے طلباءکے تبادلے کے پروگراموں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور سیمینارز کے انعقاد پر توجہ دیں۔
اس موقع پر عمان کے وزیر نے صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا اور اپنے ملک کی قیادت اور عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے پاکستانی حکومت کے ملکی ترقی اور خطہ میں امن کے وژن کی تعریف کی
سلطنت عمان کے وزیر اوقاف و مذہبی امور شیخ عبداﷲ بن محمد بن عبداﷲ السالمی دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق معزز مہمان اور ان کے ہمراہ وفد کا وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور ایڈیشنل سیکرٹری محمد داﺅد باڑیچ نے نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا۔
عمان کے وزیر مذہبی امور پاکستان میں اپنے قیام کے دوران صدر مملکت، وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں کریں گے۔ شیخ عبداﷲ بن محمد وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام ” اسلامو فوبیا کے خلاف مسلم امہ کے تعاون کے فروغ “ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں بطورِ مہمانِ شرکت کریں گے۔
عمان کے وزیر مذہبی امور و اوقاف کے دورہ پاکستان سے نہ صرف پاکستان اور عمان کے باہمی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ دونوں ممالک کی مذہبی امور کی وزارتوں کے درمیان تعلقات بھی مضبوط تر ہوں گے
ویڈیو لیک کرتے کرتے حریم شاہ کے ساتھ ہو گئی "زیادتی”
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ شیخ رشید کی ویڈیو کال لیک کرنے کے بعد خبروں میں آئیں اور مسلسل خبروں میں رہیں یہاں تک کہ حریم شاہ کے سینیٹ اجلاس میں بھی تذکرے ہونے لگے، حریم شاہ کس کی ویڈیو لیک کرتی ہیں سب کو حریم شاہ کی ویڈیو کا انتظار ہوتا ہے تا ہم کچھ لوگوں نے اب ووٹ کی بجائے حریم شاہ کی عزت شروع کر دی ہے انکو خطرہ ہے کہ کہیں ہماری ویڈیو نہ آ جائے،
حریم شاہ کے فیاض الحسن چوہان کے ساتھ تعلقات کی ایک سیریز سامنے آ چکی ہے، دبئی سے بھی حریم شاہ اور موصوف صوبائی وزیر رابطے میں ہیں، شیخ رشید بھی حریم شاہ کے ساتھ بات چیت کا اعتراف کر چکے ہیں تا ہم نکاح متعہ کی انہوں نے تردید کی، فواد چودھری نے دن دہاڑے حریم شاہ کو نہ ملنے کا جھوٹ بولا جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین حریم شاہ اور فواد چودھری کی ملاقات کی تصاویر سامنے لے آئے اور فواد چوھدری کو جھوٹا ثابت کر دیا.
حریم شاہ کے پاس کس کس کی ویڈیو ہیں ابھی تک اس کا نہیں معلوم تا ہم اب معلوم ہوا ہے کہ حریم شاہ اپنے جس ٹویٹر اکاؤنٹ سے ویڈیو یا پیغام دیتی تھیں اس کو بلاک کر دیا گیا ہے، اب حریم شاہ نیا اکاؤنٹ بناتی ہیں یا کیا کرتی ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تا ہم ان لوگوں میں ایک بار خوشی کی لہر دوڑ گئی جن کو خدشہ تھا کہ اگلی ویڈیو ان کی ہو سکتی ہے.
حریم شاہ کا اکاؤنٹ بند ہوا، یا بند کروایا گیا؟ اس کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا تا ہم سب کو اس بات کا انتظار ہے کہ حریم شاہ اب کیا دھماکہ کرتی ہیں اور کس کی ویڈیو جاری کرتی ہیں. حریم شاہ جس ٹویٹر ہینڈل _hareem_shah سے ٹویٹ کرتی تھیں وہ اب ٹویٹر پر موجود نہیں ہے.
حریم شاہ خود کو پاکستانی اور پی ٹی آئی کی کہتی ہیں تا ہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ، حریم شاہ روزانہ ٹویٹ کر کے پھر ڈیلیٹ کر دیتی ہے، کہتی ہے عمران خان کو دھمکی نہیں دی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شاید مریم نواز اتنے ٹویٹ نہیں کرتی تھی جتنے حریم شاہ کے اکاؤنٹ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود پنجاب حکومت کے فیاض الحسن چوہان حریم شاہ سے رابطے میں ہیں.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے طیارے سے چوری کرنے اور بعد میں معافی مانگنے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ دفتر خارجہ کے کمیٹی روم میں پہنچ گئی تھی جس کا سوشل میڈیا پر چرچاہوا، ٹویٹر پر ویڈیو جاری ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا تھا تا ہم تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی
غیر سنجیدہ خاتون حریم شاہ وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم میں کیسے پہنچیں ؟ کس کے ساتھ گئیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے سوالات اٹھ گئے، وزیراعظم ہاؤس کے نوٹس لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تا ہم کیا تحقیقات ہوئیں اور کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کچھ معلوم نہ ہو سکا
حریم شاہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق پر انگلیاں اٹھی تھیں،صارفین کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کمیٹی روم میں حریم شاہ کو لے جانے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آئے گا.
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر پر کہا کہ جو بھی حریم شاہ کو ایسی حساس جگہوں پر لے کر گیا اس کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اگر حریم شاہ جا سکتی ہے تو معلوم نہیں کہ کون کون پہلے بھی ایسے جا چکا ہے؟ حریم شاہ کی تو ٹک ٹاک سے پتہ چلا۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔ اس کی مکمل چیکنگ کی ضرورت ہے.
حریم اور ترمیم میں کیا فرق؟ ٹک ٹاک سرکاربتائے،ایسا کس نے کہہ دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے بہتر بتائیں گے کہ حریم اور ترمیم میں کیا فرق ہے۔ نا اہل وزراء کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ ویڈیو بناؤ اور وائرل کرو، 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی کابینہ ارکین کی تعداد 11 فیصد سے زیادہ نہیں رکھ سکتے۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 8 لاکھ مستحقین کو متاثر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جسے کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ موجودہ حکومت ٹک ٹاک سے ہی بنی ہے اور یہ ٹک ٹاک سے ہی گر جائے گی ۔وفاقی وزراء کا کام روزانہ ایک ٹک ٹاک بنانا اور شام کو 50 ہزار لائیک ہونے پر جشن منانا ہے۔ شہر یار آفریدی سے ہی پوچھا جائے کہ حریم اور ترمیم میں کیا فرق ہے.
قبل ازیں سعید غنی نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کہ تعلیم کی وزارت کا وزیر نہیں، تعلیم سمیت متعدد محکمے وزیراعلیٰ سندھ کے پاس ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد وزارتوں کی تعداد کا توازن ہوتا ہے۔بعض علاقوں میں غیر ضروری اسکول بناکر اوطاق بنادی جاتی ہے، غیر فعال تمام اسکول بند ہونے چاہئیں۔
حریم شاہ خود کو پاکستانی اور پی ٹی آئی کی کہتی ہیں تا ہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ، حریم شاہ روزانہ ٹویٹ کر کے پھر ڈیلیٹ کر دیتی ہے، کہتی ہے عمران خان کو دھمکی نہیں دی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شاید مریم نواز اتنے ٹویٹ نہیں کرتی تھی جتنے حریم شاہ کے اکاؤنٹ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود پنجاب حکومت کے فیاض الحسن چوہان حریم شاہ سے رابطے میں ہیں.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے طیارے سے چوری کرنے اور بعد میں معافی مانگنے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ دفتر خارجہ کے کمیٹی روم میں پہنچ گئی تھی جس کا سوشل میڈیا پر چرچاہوا، ٹویٹر پر ویڈیو جاری ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا تھا تا ہم تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی
غیر سنجیدہ خاتون حریم شاہ وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم میں کیسے پہنچیں ؟ کس کے ساتھ گئیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے سوالات اٹھ گئے، وزیراعظم ہاؤس کے نوٹس لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تا ہم کیا تحقیقات ہوئیں اور کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کچھ معلوم نہ ہو سکا
حریم شاہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق پر انگلیاں اٹھی تھیں،صارفین کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کمیٹی روم میں حریم شاہ کو لے جانے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آئے گا.
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر پر کہا کہ جو بھی حریم شاہ کو ایسی حساس جگہوں پر لے کر گیا اس کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اگر حریم شاہ جا سکتی ہے تو معلوم نہیں کہ کون کون پہلے بھی ایسے جا چکا ہے؟ حریم شاہ کی تو ٹک ٹاک سے پتہ چلا۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔ اس کی مکمل چیکنگ کی ضرورت ہے.
آرمی ایکٹ میں ترمیم، قانون سازی کا مرحلہ مکمل، بل سینیٹ سے منظور
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، سینیٹ اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا گیا.
وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر قانون فروغ نسیم اجلاس میں شریک ہوئے،وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی بھی سینیٹ اجلاس میں شریک ہوئے،وزیردفاع پرویزخٹک نے پاک آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا جو سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،ولیداقبال نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پرقائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی
اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹرز نے سینیٹ اجلاس سے واک آوَٹ کیا،سینیٹ اجلاس میں جماعت اسلامی اور نیشنل پارٹی کے ارکان نے احتجاج بھی کیا،
قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین ولید اقبال کے زیر صدارت اجلاس میں ترمیمی بل کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ترامیم واپس لینے پر کمیٹی نے ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ کسی جماعت کی طرف سے کوئی ترامیم پیش نہیں کی گئیں،
قبل ازیں یہ بل قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا تھا،جماعت اسلامی، جے یو آئی ف نے بل پیش ہونے کے دوران علامتی احتجاج کیا، بل وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایوان میں پیش کیا، وزیراعظم عمران خان اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی اجلاس میں پہنچ گئے تھے، اجلاس میں بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی آپس میں بات چیت کرتے رہے،
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 16 دسمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت سے متعلق کیس میں تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پارلیمنٹ چھ ماہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع اور ریٹائرمنٹ سے متعلق قانون سازی نہیں کرتی تو صدر مملکت نئے آرمی چیف کی تعیناتی کریں گے۔43صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اب معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے، پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے۔