Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، شہباز شریف کا اعلان

    سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، شہباز شریف کا اعلان

    سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، شہباز شریف کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کے 2 ہزارپلیٹ لیٹس پراندرونی بلیڈنگ نہ ہونامعجزہ ہے ڈاکٹر نےفوری طورپربیرون ملک بھجوانے کی تجویزدی،انڈیمنٹی بانڈ کا جوازکیا ہے؟ یہ گھٹیا حرکت اورچھوٹے ذہن کی عکاسی ہے، عمران خان کوچوٹ لگی تونوازشریف خودعیادت کیلئے گئے تھے، گھرمیں نوازشریف کیلئے باقاعدہ آئی سی یوبنایا گیا ہے،طعنہ دیاگیا نوازشریف گھرکیوں منتقل ہوئے،عمران خان چاہتے ہیں وہ قوم کوبتائیں دیکھامیں نے رقم نکلوالی، محکمہ داخلہ نیب اورنیب محکمہ داخلہ کی جانب گیند پھینک رہا ہے،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کا فیصلہ پوری قوم کے سامنے ہے، وزیراعظم اور ان کی سیاسی ٹیم کا کھیل قابل مذمت ہے، پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا، حکومت نے بدترین ڈرامہ بازی کی ہے، پاکستان کے عوام بہت رنجیدہ ہیں۔ پارٹی کو سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، کیا حکومت کے گھٹیا پن کی کوئی اور مثال ہوسکتی ہے ؟ عمران خان انسانی مسئلے کو سیاسی بنا رہے ہیں، نواز شریف کو بیٹی کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں قید کر دیا گیا، کیا اس وقت نواز شریف نے انڈیمنٹی بانڈ دیا تھا ؟۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ کی آڑ میں ہم سے تاوان لینا چاہتے ہیں، سلیکٹڈ وزیراعظم ڈیڑھ سال سے بھاشن دے رہے ہیں، عمران خان این آر او دے سکتے ہیں نہ لے سکتے ہیں۔

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ میں میری جانب سے درخواست دائر کی جائےگی،امید ہےکہ عدالت جلد فیصلہ کرے گی،20دن سے حکومتی کھیل چل رہا ہے جو قابل مذمت ہے،رات کو فی الفور فیصلہ کیا کہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے،نوازشریف اور میں نے اس مطالبے کو مسترد کیا ہے ،انڈیمنٹی بانڈ کی شرط ہرگز قبول نہیں،نوازشریف مشکل صورتحال کا مقابلہ کررہے ہیں

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ 2عدالتوں نے نوازشریف کی ضمانت منظور کی ہے،3بار وزیراعظم رہنے والے شخص سےانڈیمنٹی بانڈ مانگا جارہا ہے،یہ چاہتے ہیں لوگوں کو بتائیں کہ نوازاور شہبازشریف سے7ارب روپے نکال لیے،عدالتوں نے انڈیمنٹی بانڈ کی شرط نہیں لگائی،حکومت میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے قرضہ معاف کرایا،عوام نوازشریف کی صحت اورحکومت سیاست کی فکر میں ہے،رات میں ڈاکٹر عدنان نے فون کیا کہ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس 16ہزار تک پہنچ گئے،نوازشریف کی بیماری کو شٹل کاک بنادیا گیا ہے،ڈاکٹر شمسی کو ہم نے نہیں،حکومت نے بلایا تھا،عمران خان نے قوم کو گمراہ کرنے کی ایک اور سازش کی ہے،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ قوم کسی حادثے کی متحمل نہیں ہوسکتی،ذلفی بخاری کو آدھے گھنٹے میں کس نے ای سی ایل سے نکلوایا؟پرویز مشرف سے تاوان نہیں مانگاگیا،مشرف کیس میں عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دی ،نوازشریف اور مریم نواز ایون فیلڈ کیس میں ضمانت پر رہیں،العزیزیہ کیس کا فیصلہ ارشد ملک نے لکھا،جج کو تو ہٹادیا گیا لیکن فیصلہ معطل نہ ہوا،ٹرائل کورٹ نےفلیگ شپ کیس کو ختم کردیا،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف کو کچھ ہوا تو عمران نیازی کو ذمہ دارٹھہراوَں گا،جب تک نام ای سی ایل سے نہیں نکلےگا تب تک ائیرایمبولنس نہیں آسکتی،

  • فروغ نسیم کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ن لیگ نے نیا مطالبہ کر دیا

    فروغ نسیم کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ن لیگ نے نیا مطالبہ کر دیا

    فروغ نسیم کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ن لیگ نے نیا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہم نے کوئی منی لانڈرنگ اورکرپشن نہیں کی، یہ 7ارب روپےکس چیزکےتحت میاں صاحب کے کھاتےمیں ڈالنا چاہتے ہیں،یہ لوگ نوازشریف کے ساتھ پلی بارگین کرناچاہتے ہیں،عدالت میں ہم ضمانتی مچلکےجمع کرا چکےہیں،

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ عمران خان کوبھی اب یقین آیاکہ نوازشریف سخت بیمارہیں،فروغ نسیم نےگارنٹی دی تھی کہ مشرف واپس آئےگا،مشرف واپس نہیں آئے اب فروغ نسیم کو کیوں گرفتارنہیں کیا جا رہا؟ ہر انسان کی عزت ہوتی ہے، بات نواز شریف کے بانڈز کی نہیں بلکہ مسئلہ حکومت کی جانب سے کی گئی بے عزتی کا ہے۔ ان لوگوں نے کلثوم نواز کی بیماری پر بھی بہت باتیں کی تھیں،

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ جس حکومت کی خود کی گارنٹی نہیں ہے وہ گارنٹی مانگ رہی ہے ، میاں صاحب کے اوپر سے اربوں وار کر دے سکتے ہیں لیکن اس حکومت کو نہیں،پرویز مشرف کے باہر جانے پر تو کوئی شرائط نہیں تھی ،اور آج یہ سیاسی انتقام لے رہے ہیں نواز شریف سے ،یہ کوئی پلاٹ نہیں جو نوازشریف نے شوکت خانم کےنام پہ دے دیا ، ہاں اِنکو زکات خیرات کےنام پر وہ ضرور دے سکتے ہیں.

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ جو شخص اپنی ماں شوکت خانم کے نام پر آج تک سیاست کرتا آیا ہے۔وہ شحض دوسروں کی بیماری کو بھی تماشا بناتا ہے اور جو جو اس نے کہا تھا گھوم پھر کر اس پے آیااوریہ وقت بھی آئے گا اس پر اس نے کوئی آب حیات نہیں پی رکھا۔اس ملک میں صرف سیاسی مخالفین کو چن چن کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اس سے بھی تسلی نہیں ہورہی تو ان کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے

  • ہائی ویز کی بندش، پیپلز پارٹی مولانا کا ساتھ دے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    ہائی ویز کی بندش، پیپلز پارٹی مولانا کا ساتھ دے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    ہائی ویز کی بندش، پیپلز پارٹی مولانا کا ساتھ دے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکمران بے نقاب ہو گئے ، مہنگائی اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا،بلاول بھٹونے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کیا،ہائی ویزکی بندش پرابھی تک پیپلزپارٹی نے فیصلہ نہیں کیا،پیپلزپارٹی ہمیشہ سےمذہبی کارڈکےاستعمال کےخلاف رہی ہے،

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ آئین اورقانون کے دائرے میں رہتے ہوئےاحتجاج سب کاحق ہے،آصف زرداری کوذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جارہی نوازشریف کوجوریلیف ملاوہ آصف زرداری کونہیں دیا گیا،

    ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

    آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

    قبل ازیں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شرکا سڑکیں بند کرنے والوں کے ساتھ شریک ہو جائیں گے، حکومت کی بنیادیں ہل چکیں، اگلے مرحلے میں دیوار گرا دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے جاری رہے گا۔ ہم آج ہی یہاں سے روانہ ہوں گے۔ دنیا نے تسلیم کیا کہ آپ کتنے منظم ہیں۔ دوسرے محاذ پر بھی ہمیں پرامن رہنا ہے۔ جس طرح مجھے اپنے کارکن کی زندگی عزیز ہے، اسی طرح مجھے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا خون بھی عزیز ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن عام شہری کی زندگی متاثر نہیں کریں گے بلکہ شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔ کسی ایمبیولینس کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کریں۔ ہم کسی ذات کی نہیں، سب کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا۔

    مولانا فضل الرحمان کے پلان "بی” کے مقابلے میں حکومت کا بھی "پلان بی” تیار ہو گیا ہے،ملک کی اہم شاہراہوں کی حفاظت کے لیے رینجرز تعینات کر دی گئی،اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پل کی حفاظت۔ کے لیے بھی رینجرز اہلکار پہنچ گئے. کوئٹہ چمن شاہراہ کی بندش کے باعث پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی معطل ہے جبکہ سینکڑوں مسافر گاڑیاں پھنس گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  • یہ ہے پر امن لاہور،سکھ یاتری خواتین کے ساتھ ڈکیتی کی واردات

    یہ ہے پر امن لاہور،سکھ یاتری خواتین کے ساتھ ڈکیتی کی واردات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہو رمیں سکھ یاتریوں کے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوئی ،ڈولفن سکواڈ نے نیلا گنبد میں سکھ یاتری خواتین سے ہونے والی واردات کو ناکام بنا دیا۔

    سکھ یاتری خواتین انارکلی میں شاپنگ کر رہی تھیں۔ موٹر سائیکل سوار 02 سنیچرز نے جھپٹا مارتے ہوئے خواتین سے پرس اور طلائی زیورات چھین لیے۔انار کلی میں سکھ یاتریوں کی حفاظت کے لیے گشت پر مامور ڈولفن ٹیم نے ملزمان کو قابو کر لیا۔ملزمان کے قبضہ سے چھینے گئے طلائی زیورات سکھ یاتری خواتین کے حوالے کر دیئے

     

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    سکھ یاتری خواتین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے یہاں آکر تحفظ کا بھر پور احساس ہوتا ہے۔لاہور پولیس وڈولفن سکواڈ نے سکھ یاتریوں کے دل جیت لیے ہیں۔

    ڈولفن اسکواڈ نے ملزمان احمد علی اور ندیم بٹ کو تھانہ اولڈ انار کلی کے حوالے کر دیا ہے۔ ایس پی ڈولفن نوید ارشاد کی طرف سے ڈی ایس پی سول لائنز شاہد رشید کو شاباش اور ٹیم کے لیے تعریفی اسناد و کیش انعامات کا اعلان کیا گیا

  • مولانا کا پلان اے فلاپ ہوا، بی بھی فلاپ ہو گا،ایسا کس نے کہا؟

    مولانا کا پلان اے فلاپ ہوا، بی بھی فلاپ ہو گا،ایسا کس نے کہا؟ مولانا فضل الرحمان کے پلان "بی” کے مقابلے میں حکومت کا بھی "پلان بی” تیار ہو گیا ہے

    اسلام آباد ۔ 13 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا، اشیاءضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیئے مڈل مین کے کردار کو محدود کرنا ہو گا، مولانا کے پلان بی سے حکومت کو خطرہ نہیں جس طرح پلان اے فلاپ شو ثابت ہوا، اسی طرح پلان بی کیا بلکہ سی بھی فلاپ ہوگا، ہمیں مینڈیٹ مولانا نے نہیں بلکہ عوام نے دیا ہے۔

    بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کے خلاف کمر کس لی اور اس سلسلے مڈل مین کے کردار کو کم کرنے کے لئے عملی اقدامات شروع کئے جا رہے ہیں، مہنگائی میں کمی کے لیے حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ مڈل مین کو نکیل ڈالی جائے تا کہ مہنگائی کم ہو سکے، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی، ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مڈل مین کے کردار کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔

    ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

    آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

    قبل ازیں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شرکا سڑکیں بند کرنے والوں کے ساتھ شریک ہو جائیں گے، حکومت کی بنیادیں ہل چکیں، اگلے مرحلے میں دیوار گرا دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے جاری رہے گا۔ ہم آج ہی یہاں سے روانہ ہوں گے۔ دنیا نے تسلیم کیا کہ آپ کتنے منظم ہیں۔ دوسرے محاذ پر بھی ہمیں پرامن رہنا ہے۔ جس طرح مجھے اپنے کارکن کی زندگی عزیز ہے، اسی طرح مجھے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا خون بھی عزیز ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن عام شہری کی زندگی متاثر نہیں کریں گے بلکہ شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔ کسی ایمبیولینس کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کریں۔ ہم کسی ذات کی نہیں، سب کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا۔

    مولانا فضل الرحمان کے پلان "بی” کے مقابلے میں حکومت کا بھی "پلان بی” تیار ہو گیا ہے،ملک کی اہم شاہراہوں کی حفاظت کے لیے رینجرز تعینات کر دی گئی،اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پل کی حفاظت۔ کے لیے بھی رینجرز اہلکار پہنچ گئے. کوئٹہ چمن شاہراہ کی بندش کے باعث پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی معطل ہے جبکہ سینکڑوں مسافر گاڑیاں پھنس گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح کم کیوں؟ وزیراعظم پریشان

    پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح کم کیوں؟ وزیراعظم پریشان.
    یہ امر باعث تعجب ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں صدقات و خیرات اور فلاح و بہبود کے کاموں میں عوام سبقت لیتی ہے وہاں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح سب سے کم ہے

    اسلام آباد ۔ 13 نومبر (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں غربت کے خاتمہ کےلئے ضروری ہے کہ کاروباری عمل تیز ہو، لوگ منافع بخش کاروباری سرگرمیاں سر انجام دیں، معاشی عمل تیز ہونے سے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگ غربت سے نکلتے ہیں، حکومت کی معاشی اصلاحات کے نتیجہ میں معیشت میں بہتری اور استحکام آیا ہے، ملک کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہو رہا ہے، ملکی برآمدات میں بڑھوتری جبکہ درآمدات میں کمی آئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ایف بی آر کے سینئر افسران موجود تھے۔

    وزیرِاعظم عمران خان نے افسران سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث تعجب ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں صدقات و خیرات اور فلاح و بہبود کے کاموں میں عوام سبقت لیتی ہے وہاں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انہوں نے سب سے زیادہ پیسہ اکٹھا کیا ہے، شوکت خانم دنیا کا وہ واحد ہسپتال ہے جہاں کینسر جیسے مرض کا جس کا علاج مہنگا ترین علاج شمار ہوتا ہے وہاں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور یہ سارا پیسہ لوگوں کے عطیات سے اکٹھا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کے بعد انہوں نے نمل یونیورسٹی کی تعمیر کی جہاں 90 فیصد غریب بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے، نمل یونیورسٹی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستانی عوام نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا بلکہ اس کی توسیع میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

    کے پی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    سیاحت کے فروغ کے لئے عمران خان کی آزاد کشمیر حکومت کو ہدایت

    انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستانی عوام کی جانب سے انسانی خدمت کا یہ مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن جب دوسری طرف ملک کےلئے ٹیکس کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو تعجب ہوتا ہے کہ یہاں ٹیکس دینے کی شرح سب سے کم ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ جب بھی کاروباری طبقہ سے ملے ہیں ان سب کا اتفاق تھا کہ ایف بی آر پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہے اور کاروباری طبقہ میں ایف بی آر سے متعلق ایک خوف پایا جاتا ہے۔

    وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے، ماضی میں جس طرح اس ملک کو چلایا جا رہا تھا یہ ملک اب مزید اس طرح نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو ملک تاریخی معاشی مسائل کا شکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ بڑا مسئلہ ملک کی نوجوان آبادی جو کہ کل آباد ی کا 60 فیصد ہے اس کے ٹیلنٹ کو بروئے کار لانا ہے، نوجوان نسل کو تعلیم دے کر ان کو معاشرے کی تعمیر و ترقی کا جزو بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پر توجہ دینے کے لئے ضروری ہے کہ مطلوبہ مالی وسائل موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیلنج اور بھی بڑھ جاتا ہے جب ملکی آمدنی کا تقریباً آدھا حصہ ملکی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ اس ملک کے پوٹینشل سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ہمارے ملک میں 8 کھرب ٹیکس اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔

    سیاحت کا فروغ، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس،حکومت کیا کرنے جا رہی ہے؟

    وزیرِاعظم عمران خان نے ایف بی آر کے افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک کے مالی وسائل کو بڑھانے اور معاشی طور پر ترقی دینے میں ان کا کلیدی کردار ہے، جب تک اس ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے اور ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کو ایک ذمہ داری اور فریضہ نہیں سمجھا جائے گا ملک ترقی نہیں کر پائے گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کےلئے ٹیکس افسران کا فیڈ بیک اور ان سے تجاویز حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی ترقی کےلئے ہم نے کاروباری طبقہ اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کا ٹیکس کے نظام پر اعتماد بحال نہیں ہو گا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر پائے گا۔ وزیرِاعظم نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ٹیکس کے نظام میں جو بھی اصلاحات لائی جائیں ان میں ایف بی آر کے افسران کی آراءاور تجاویز شامل ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر کے افسران کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ ٹیکس نظام، ماضی میں حکومتی شہ خرچیوں اور بے جا اخراجات کی وجہ سے عوام کا اعتماد متاثر ہونے سے متعلق ایک سوال پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ اگر عوام اپنے خون پسینے کی کمائی کو بے جا اخراجات اور حکومتی شہ خرچیوں کی نذر ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کا ٹیکس کے نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے دن سے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اخراجات میں کٹوتی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی مہم انہوں نے اپنی ذات اور وزیرِاعظم آفس سے شروع کی۔

    سیاحت کے فروغ اورمسافروں کی سہولت کے لئے خیبر پختونخواہ حکومت بازی لے گئی

    انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم آفس کے خرچے میں 30 کروڑ تک کمی لائی گئی ہے، چونکہ وہ اپنے ذاتی گھر میں رہتے ہیں اس لئے وزیرِاعظم ہاﺅس کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رہائشگاہ کے اطراف میں سیکورٹی کے تقاضوں کے تحت باڑ لگانے کا معاملہ آیا تو اس کےلئے پیسہ سرکاری خزانہ سے نہیں لیا گیا، گھر کی سڑک خراب تھی تو اس کی مرمت بھی سرکاری خزانہ کی بجائے ان کی اپنی جیب سے کی گئی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کی مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی کے مقابلہ میں 45 ارب روپے کم خرچہ کیا ہے، فوج نے اپنے اخراجات میں کمی کی ہے اور بجٹ میں کٹوتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کابینہ ممبران کے بیرونی ممالک کے غیر ضروری دوروں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ پیسے کی ایک ایک پائی کی حفاظت کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مسئلہ یہی رہا ہے کہ جو اقتدار میں آیا اس نے سرکاری وسائل اور عوامی پیسوں کو اپنی ذات پر خرچ کرنا اپنا حق سمجھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں گورنر ہاﺅس مری کی تزئین و آرائش پر 83 کروڑ روپے خرچ کئے گئے، اس کے برعکس موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ تمام گورنر ہاﺅسز اور سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کو بروئے کار لایا جائے اور ان سے آمدنی پیدا کی جائے تاکہ ان پر سرکار کا خرچہ نہ ہو۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ہم نے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہے۔ ماضی کے حکمرانوں اور اپنے غیر ملکی دوروں کا تقابل کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں واشنگٹن کے دورے پر اخراجات 8 لاکھ ڈالر تھے، (ن) لیگ کے دور میں ایک دورہ 7 لاکھ ڈالر میں ہوا جبکہ وہی دورہ جب انہوں نے کیا تو اس پر محض 65000 ڈالر خرچ آیا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں دورے کے دوران اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں وزیرِاعظم نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری کا دورہ 12 لاکھ ڈالر، سابق وزیرِاعظم نواز شریف کا دورہ 11 لاکھ، سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ 8 لاکھ میں مکمل ہوا جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں اسی دورے کے اخراجات محض ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر تک محدود رکھے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ عوام کا پیسہ بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری کی مہم کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اربوں روپے اپنی تشہیر کےلئے خرچ کئے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اس وقت ملک میں ٹیکس اور ملکی پیدوار کی شرح بہت کم ہے جو کہ برصغیر میں بھی سب سے کم ترین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بنگلہ دیش کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شرح کو ہم نے بہتر بنانا ہے۔ ایک سوال کے جواب پر وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایف بی آر بھی اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے، اگر معاشرے میں مجموعی طور پر اخلاقیات کا درجہ کم ہو اور کرپشن میں اضافہ ہو تو ایف بی آر بھی یقیناً اس سے متاثر ہو گا لیکن ہم نے اس میں بہتری لانی ہے۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم، صحت و دیگر سہولتوں کی بہتری کےلئے ضروری ہے کہ اس کےلئے درکار مالی وسائل اکٹھے کئے جائیں۔ وزیرِاعظم نے ایف بی آر افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اکٹھا کرنا ایک قومی فریضہ ہے جس پر ملکی ترقی کا انحصار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ ماضی میں قومیانے کی پالیسی سے معاشی عمل اور صنعتی ترقی کو بے تحاشا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ دولت اور وسائل کی معاشرے میں منصفانہ تقسیم کےلئے مزید بہتر طریقے اختیار کئے جا سکتے تھے لیکن 70ءکی دہائی میں جو پالیسی اختیار کی گئی اس سے دولت بنانے کے عمل کو جرم گردانہ گیا اس سے نہ صرف صنعتی ترقی کا عمل جمود کا شکار ہوا بلکہ کاروباری برادری کے اعتماد کو ناقابل تلافی ٹھیس پہنچی۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت کے خاتمہ کےلئے ضروری ہے کہ کاروباری عمل تیز ہو، لوگ منافع بخش کاروباری سرگرمیاں سر انجام دیں، معاشی عمل تیز ہونے سے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگ غربت سے نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں 70ء کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا گیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں معیشت میں بہتری اور استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کےلئے اقدامات کئے ہیں جن کی بدولت پاکستان کی ایز آف ڈوئنگ بزنس ریٹنگ میں 28 پوائنٹس بہتری آئی ہے جس کا ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ کاروباری برادری کےلئے جس قدر آسانیاں ہوں گی ملک اتنا جلدی ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے ہم نے اس ملک میں اصلاحات متعارف کرانے کا عمل شروع کر دیا ہے جس سے معاسی اعشاریوں میں بہتری آ رہی ہے، آج ملک کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہو رہا ہے، ملکی برآمدات میں بڑھوتری جبکہ درآمدات میں کمی آئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو بدلنا ہے، ہم نے بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ وہ بھی ملکی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے ملکی معاشی ترقی کا ایک نیا باب روشن ہوگا۔ اس صورتحال میں ٹیکس نظام کی بہتری انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس ضمن میں ٹیکس افسران کا کلیدی کردار ہے۔ وزیراعظم نے ایف بی آر افسران کو یقین دلایا کہ حکومت ٹیکس نظام کی بہتری کے سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ٹیکس افسران کے تجربہ سے استفادہ کیا جائے گا۔

  • شاہ محمود قریشی مولانا سے خوش، آزادی مارچ بارے کیا کہا؟

    شاہ محمود قریشی مولانا سے خوش، آزادی مارچ بارے کیا کہا؟

    شاہ محمود قریشی مولانا سے خوش، آزادی مارچ بارے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دھرنا ختم کرنا جے یوآئی کا اچھا فیصلہ ہے، دھرنا حکومت اور مولانا کے مفاد میں نہیں تھا، دھرنے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پس پشت چلا گیا تھا، ہم نے رکاوٹ ڈالی نہ انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا، مولانا کا شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ مناسب نہیں،

    وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ لیگی قیادت کے رویے سے لگتا ہے نواز شریف وطن واپس نہیں آئیں گے،نوازشریف کو انسانی بنیادوں پرراستہ دیاگیاہے،نواز شریف کی صحت کاتقاضہ ہےانہیں علاج کیلئےباہر جانا چاہیے،نواز شریف ایک کیس میں سزا یافتہ ہیں، جائزہ لینے کے بعد کابینہ نے بیرون ملک جانے کی تجویز دی،نوازشریف کی صحت کیلئے دعاگو ہیں،

    سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کے حوالہ سے وزارت داخلہ نے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے.وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے متن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ محمد نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک علاج کیلئے ایک مرتبہ 4 ہفتوں کیلئے اجازت دیدی جائے۔

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    نوٹی فیکیشن میں نواز شریف کی بیرون ملک علاج کیلئے جانے کو اینڈیمنٹی بانڈ سے مشروط کیا گیا ہے۔ ضمانتی مچلکے نواز شریف یا شہباز شریف کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ کے پاس جمع کرانے ہونگے۔ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے لیے 8 ملین برطانوی پاؤنڈز، 25 ملین امریکی ڈالرز اور 1.5 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔

  • شریف فیملی جان بوجھ کر میاں صاحب کی زندگی سے کھیل رہی ہے

    شریف فیملی جان بوجھ کر میاں صاحب کی زندگی سے کھیل رہی ہے

    شریف فیملی جان بوجھ کر میاں صاحب کی زندگی سے کھیل رہی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عامر مسعود مغل نے کہا ہے کہ شریف فیملی میں اقتدار کی جنگ عروج پر ہے۔ شریف فیملی اقتدار کی خاطر نواز شریف کی مبینہ جان لیوا بیماری سے کھیل رہی ہے ،اس وقت جھگڑا نواز شریف کی جانشینی کا ہے۔ شہباز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے بعد پارٹی کو وہ چلائیں اور مریم نواز سمجھتی ہیں کہ پارٹی چلانا ان کا حق ہے ،اس کھنچا تانی میں نواز شریف کی زندگی کو مبینہ جان لیوا بیماری کے ہاتھوں داو پر لگایا جا رہا ہے۔.

    عامر مسعود مغل کا مزید کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف اور مریم نواز میاں نواز شریف کی صحت اور علاج کے بارے میں مخلص ہہں تو انہیں ایک منٹ ضائع کئیے بغیر نواز شریف کی ضمانت کے عوض شورٹی بانڈز دے دینے چاہئیں، لیکن اقتدار کی خاطر بھائ اور بیٹی دونوں میاں صاحب کی مبینہ جان لیوا بیماری سے مذاق کر رہے ہیں ،شہباز شریف اور مریم نواز کی کوشش ہے کہ میاں صاحب علاج کے بہانے ملک سے باہر جائیں اور پھر واپس نہ آئیں تا کہ وہ پارٹی اپنی مرضی سے چلا سکیں.

    عامر مسعود مغل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کسطرح نواز شریف کو بغیر کسی شورٹی بانڈ کے بھیج سکتی ہے جبکہ وہ ایک کرپشن کے کیس میں سزا یافتہ ہیں اور اس کے علاوہ ان پر اربوں روپے کرپشن کے کیس چل رہے ہیں۔ میاں نواز شریف اگر علاج کروا کر واپس آنا چاہتے ہیں تو میاں شہباز شریف اور مریم نواز کو شورٹی بانڈز جمع کروا کروا چاہئیے،اسحاق ڈار کا کیس پوری قوم کے سامنے ہے علاج کے بہانے ملک سے فرار ہوئے اور آج تک واپس آنے سے گریزاں ہیں۔ صورتحال سے یوں لگتا ہے کہ یا تو نواز شریف واقعی بیمار نہیں ہیں اور شریف فیملی بیماری کے نام پر صرف سیاست کا گندا کھیل کھیل رہی ہے اور اپنا ووٹ بینک بچانا چاہتی ہے، یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ شریف فیملی جان بوجھ کر میاں صاحب کی زندگی سے کھیل رہی ہے۔ ہر دو صورتوں میں شریف فیملی انتہائ مکروہ اور گندا سیاسی کھیل کھیل رہی ہے۔۔میاں صاحب کیلئے بھی آج عبرت کا مقام ہے جس فیملی کیلئے وہ سب کچھ کررے رہے آج وہ ان کی مبینہ جان لیوا بیماری پر سیاست کا گندا اور مکروہ کھیل کھیل رہے ہیں.

    عامر مسعود مغل نے مزید کہا کہ تحریک انصاف صاف شفاف اور ساف ستھرے احتسابی عمل پر یقین نہ رکھتی ہوتی تو آج وفاقی کابینہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف صاحب کو علاج کیلئیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دیتی،بہرحال گیند اب شریف فیملی کی کورٹ میں ہے پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ کس طرح شریف فیملی نے نواز شریف کی مبینہ جان لیوا بیماری کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور اس کو اپنے مکروہ سیاسی عزائم کیلئے استعمال کر رہی ہے۔

  • نواز شریف علاج کے لئے جا سکتے ہیں، نوٹفکیشن جاری

    نواز شریف علاج کے لئے جا سکتے ہیں، نوٹفکیشن جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کے حوالہ سے وزارت داخلہ نے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے.وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے متن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ محمد نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک علاج کیلئے ایک مرتبہ 4 ہفتوں کیلئے اجازت دیدی جائے۔

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    نوٹی فیکیشن میں نواز شریف کی بیرون ملک علاج کیلئے جانے کو اینڈیمنٹی بانڈ سے مشروط کیا گیا ہے۔ ضمانتی مچلکے نواز شریف یا شہباز شریف کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ کے پاس جمع کرانے ہونگے۔ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے لیے 8 ملین برطانوی پاؤنڈز، 25 ملین امریکی ڈالرز اور 1.5 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے میاں نواز شریف کو علاج کے لیے مشروط پر بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ سامنے آیا تو ن لیگ نے اس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ایم ایل (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے بھی مشروط پربیرون ملک جانے سے انکار کردیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کل سہہ پہر تین بجے اہم پریس کانفرنس کرکے عوام کو اعتماد میں لیں گے

    واضح رہے کہ نواز شریف نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی اور سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں لاہورہائیکورٹ نے نواز شریف کی چوھدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کی، نواز شریف سروسز سے گھر منتقل ہو چکے ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے،

  • پاک بحریہ،ریئر ایڈمرل زاہد الیاس نے بطور کمانڈر کراچی کمان سنبھال لی

    ریئر ایڈمرل زاہد الیاس نے بطور کمانڈر کراچی کمان سنبھال لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی این ایس بہادر کراچی میں منعقدہ تبدیلی کمان کی پر وقار تقریب میں ریئر ایڈمرل زاہد الیاس نے کمانڈر کراچی کی کمان سنبھال لی ہے۔وائس ایڈمرل امجد خان نیازی نے کمان ریئر ایڈمرل زاہد الیاس کے سپرد کی۔ کمانڈر کراچی کی حیثیت سے وہ پاک بحریہ کی تمام تربیتی یونٹس کے سربراہ ہوں گے ۔

    پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق ریئر ایڈمرل زاہد الیاس نے 1988 میں پاک بحریہ کی آپریشنز برانچ میں کمیشن حاصل کیا ۔ وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف تقرریوں کاوسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی اہم کمانڈ تقرریوں میں کمانڈنگ آفیسر پی این ایس بابر اور پی این ایس ذوالفقار اور کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی شامل ہیں۔ریئر ایڈمرل زاہد الیاس نے 18 ویں ڈسٹرائر اسکواڈرن کی کمان کرتے ہوئے یمن میں محصور پاکستانیوں کے انخلاءکے آپریشن کی نگرانی کی جس پر انہیں ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔انہیں مشترکہ ٹاسک فورس 151(CTF-151) کی کمان کا تجربہ بھی رہا۔ ان کی اہم اسٹاف تقرریوں میں پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف آف دی نیول اسٹاف ، ڈائریکٹر جنرل C41 اور نیول ہیڈ کوارٹرز اسلا م آباد میں ڈپٹی چیف آف دی نیول اسٹاف (ٹریننگ اینڈ ایویلوایشن) شامل ہیں۔ کمانڈر کراچی کے فرائض منصبی سنبھالنے سے قبل وہ کمانڈر سینٹرل پنجاب اور کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج لاہورکی خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔

    ریئر ایڈمرل زاہدالیاس پاکستان نیوی وار کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ، اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں ۔ انہوں نے برطانیہ سے ملٹری ریسرچ میں ماسٹرز اور چین سے سینئر نیول کمانڈ کورس کی تعلیم حاصل کی۔ گراں قدر خدمات و شجاعت کے اعتراف میں انہیں ہلال امتیاز (ملٹری) اور ستارہ بسالت سے نوازا جا چکا ہے۔

    کمان سنبھالنے پر نئے کمانڈر کراچی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور ما تحت یونٹس کے کمانڈنگ افسران سے ان کا تعارف کروایا گیا۔ تبدیلی کمان کی تقریب میں پاک بحریہ کے افسران ، سی پی اوز، سیلرز اور بحریہ کے سولین کی بڑی تعداد شریک تھی ۔