فواد حسن فواد کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی، احتساب عدالت نے فواد حسن فواد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی .
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے فواد حسن فواد کے ریمانڈ میں توسیع کر دی، عدالت نے فواد حسن فواد کو دوبارہ 29 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا.
نیب کا کہنا ہے کہ فواد حسن فواد نے اربوں روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثہ جات بنائے ، فواد حسن فواد نے 4 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کیے .نیب نے فواد حسن فواد کےخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کا ریفرنس دائر کررکھا ہے ،نیب کے مطابق فواد حسن فواد نے راولپنڈی میں 50 کروڑ روپے مالیت کا کمرشل پلاٹ لیا،فواد حسن فواد کے راولپنڈی کے ایک 15 منزلہ پلازے میں 3 ارب 85 کروڑ روپے کے حصص سامنے آئے
سابقہ پیشی میں شہباز شریف احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوسکے ، ، شہباز شریف کے وکیل عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکی تھی .کیس میں شہبازشریف فوادحسن فواد اور احد چیمہ سمیت 13 ملزمان شامل ہیں،بسم اللہ کنسٹرکشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو شاہد شفیق ،بلال قدوائی اور امتیاز حیدر بھی ملزمان میں شامل ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہو رمیں ریلوے ملازمین نے احتجاجا ریلوے کے انجن روک دئیے ہیں، ریلوے ملازمین کا ڈیزل شیڈ میں احتجاج جاری ہے، پہلے مرحلے میں تیز گام کا انجن روکا گیا ہے، تیز گام نے ایک بج کر بیس منٹ پر لاہور سے کراچی روانہ ہونا تھا تا ہم ریلوے ملازمین کی جانب سے انجن کو شیڈ میں ہی روکا گیا ہے، احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ انجن ٹرین کی روانگی کے وقت سے دو گھنٹہ قبل شیڈ سے نکالا جاتا ہے لیکن ہم نے تیز گام کا انجن روک دیا ہے.
ریلوے ملازمین نے ڈیزل شیڈ میں احتجاج کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ اسکیل1تا16کی اپ گریڈیشن کی جائے،وزیراعظیم پیکج اور کنٹریکٹ ملازمین کومستقل کیا جائے. مظاہرین نے مہنگائی کے حساب سے تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا، مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں ریلوے کا پہیہ جام کر دیں گے .
ریلوے ملازمین نے باغی ٹی وی سی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم نے لاہور سے انجن روکا ، دو بجے تک کراچی سے بھی انجن روکیں گے اس کے بعد ملک بھر میں یہ سلسلہ شروع ہو گا اور شام تک ملک بھر میں ریلوے کا پہیہ جام ہو گا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک ویڈیواسکینڈل کی انکوائری کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی ہے، سپریم کورٹ میں درخواست سہیل اختر نامی شہری نے وکیل اکرام چودھری کے ذریعے دائر کی .
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں نواز شریف، شہباز شریف اورمریم نواز کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں شاہد خاقان عباسی، جج ارشد ملک، پیمرا اور وفاق کو بھی فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری کرائے، جج ارشد ملک کی ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے .ویڈیو کے ذریعے عدلیہ کو بد نام کرنے کی سازش کی گئی .
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا 3رکنی بینچ کل جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کرے گا ،3رکنی بینچ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں.
واضح رہے کہ مریم نواز نواز شریف کو سزا دینے والے جج کی مبینہ ویڈیو کچھ دن قبل میڈیا کے سامنے لائی تھیں ، ویڈیو آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے ،حکومت نے اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا جبکہ جج ارشد ملک نے بھی پریس ریلیز جاری کر کے تردید کی. جس میں کہا گیا کہ ویڈیوزمیں مختلف موضوعات پرکی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑکرپیش کیا گیا ہے. ناصر بٹ اور اسکا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مجھ سے بے شمار بار ملتے رہے ہیں، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی،
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔ نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کے ساتھ دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی اور ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا. یہ فیصلہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دیا تھا.
واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووںپر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے حوالے سے جوبات ہورہی ہے مجھے وہ سمجھ نہیں آرہی کیوں کہ فارن فنڈنگ تو سٹیٹ بینک میں آتی ہے کسی کے پاس ڈائریکٹ تو نہیں آتی.
واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں احتساب عدالت نے 14 روز کی توسیع کر دی، عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کو 29 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا. سابق صدر آصف زرداری کو نیب نے جعلی اکاونٹس کیس اور پارک لین کیس میں گرفتار کر رکھا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی زیر صدارت جاری ہے، اجلاس میں حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کو لے کر اپوزیشن نے ایوان میں ہنگامہ کیا، جس پر فیاض الحسن چوہان نے اسمبلی میں خطاب کیا، فیاض الحسن کے خطاب کے دوران بھی اپوزیشن اراکین نے خوب شورشرابا کیا.
فیاض الحسن چوہان نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن ہے،ن لیگ نے یتیموں کا پیسا بھی نہیں چھوڑا ،رانا مشہود تازہ تازہ خضاب لگا کرآئے ہیں ، جوان بننے کی کوشش کر رہے ہیں ، چوہان کا مزید کہنا تھا کہ میں بات کروں گا تو اپوزیشن ارکان ٹھمکے ماریں گے ، اپوزیشن میں سچ بات سننے کی ہمت نہیں .
اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے کہا کہ پروڈکشن آڈرجاری نہ کئے گئے تو ہاؤس نہیں چلنے دیں گے،اب سلیکشن سے نکل کرپارلیمانی روایات آگےبڑھائی جائیں ، جس پر ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے کہا کہ پروڈکشن آڈر جاری کرنا اسپیکر کا اختیار ہے .
مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لیڈرآف اپوزیشن کواجلاس بلانےکیلئے پروڈکشن آڈرجاری کئےجائیں،تھوڑی دیرکے لئے اجلاس ملتوی بھی کرنا پڑے توکر دیں . رانا مشہور نے کہا کہ آپ سب بھی کرپشن کی بنیاد پر اندر ہوں گے، جھوٹ کی سیاست کا وقت گزر چکا سچ کا سامنا کریں،اتنا ہی کریں جتنا کل آپ خود برداشت کرسکیں،ہم مشرف کے خلاف بھی کھڑے ہوئے،جو آئین کیخلاف جائیگا اسکے خلاف کھڑے ہونگے ،اپوزیشن کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا،اس کی مذمت کرتے ہیں
ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے دوران اجلاس ن لیگی اراکین کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ چیمبرمیں یقین دہانی کروا کر ایوان میں آکر مکر جاتے ہیں، آپ کی ایک زبان ہی نہیں ہے ،ایوان کا ماحول خراب نہ کریں .
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی زیرصدارت جاری ہے، اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے کہا کہ پروڈکشن آڈرجاری نہ کئے گئے تو ہاؤس نہیں چلنے دیں گے،اب سلیکشن سے نکل کرپارلیمانی روایات آگےبڑھائی جائیں ، جس پر ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے کہا کہ پروڈکشن آڈر جاری کرنا اسپیکر کا اختیار ہے .
مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لیڈرآف اپوزیشن کواجلاس بلانےکیلئے پروڈکشن آڈرجاری کئےجائیں،تھوڑی دیرکے لئے اجلاس ملتوی بھی کرنا پڑے توکر دیں . رانا مشہور نے کہا کہ آپ سب بھی کرپشن کی بنیاد پر اندر ہوں گے، جھوٹ کی سیاست کا وقت گزر چکا سچ کا سامنا کریں،اتنا ہی کریں جتنا کل آپ خود برداشت کرسکیں،ہم مشرف کے خلاف بھی کھڑے ہوئے،جو آئین کیخلاف جائیگا اسکے خلاف کھڑے ہونگے ،اپوزیشن کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا،اس کی مذمت کرتے ہیں
ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے دوران اجلاس ن لیگی اراکین کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ چیمبرمیں یقین دہانی کروا کر ایوان میں آکر مکر جاتے ہیں، آپ کی ایک زبان ہی نہیں ہے ،ایوان کا ماحول خراب نہ کریں .
تحریک انصاف کے رکن صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے اسمبلی اجلاس میں کہا کہ اپوزیشن ارکان کو غریب عوام کی پرواہ ہوتی تو عوام کی بات کرتے .فیاض الحسن کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شورشرابا کیا.
سابق صدر آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی گئی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں احتساب عدالت نے 14 روز کی توسیع کر دی، عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کو 29 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا.
سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی ، کیس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی، جج محمد بشیر کو جج ارشد ملک کے تبادلے پر تعینات کیا گیا ہے .
سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی نیب نے احتساب عدالت پیش کر دیا ہے، کیس کے انویسٹی گیشن افسر کی عدم موجودگی کے باعث عدالتی سماعت میں وقفہ ہوا ہے، دوران سماعت آصف زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو عدالت پہنچ گئیں اور عدالت سے استدعا کی کہ انہیں والد سے ملنے کی اجازت دی جائے، عدالت نے آصفہ بھٹو کو والد سے ملاقات کی اجازت دے دی.
گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں 13 روز کی توسیع کی تھی، آصف زرداری کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گیے ہیں .
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کسٹم انٹیلی جنس نے چناب ٹول پلازہ کے قریب کاروائی کی اور اس دوران کروڑوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان برآمد کر لیا، اسمگل شدہ سامان میں ادویات، کپڑے اور دیگر اشیاء شامل ہیں.
ڈی سی کسٹم کا کہنا ہے کہ چناب ٹول پلازہ سے پکڑا جانے والا سامان افغانستان سے لاہور لایا جا رہا تھا، یہ سامان افغانستان سے آیا اور لاہور کی مارکیٹوں میں جانا تھا، ڈی سی کسٹم نے مزید بتایا کہ سامان کی مالیت تین کروڑ روپے کی ہے.
واضح رہے کہ افغانستان سے پاکستان میں منشیات سمگل کرنے کا بھی کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے، افغانستان سے پاکستان کے شہر کراچی میں آئس فروخت کرنے کے لئے بھجوائی جاتی ہے، دو ماہ قبل پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا جس سے دو کلو آئس برآمد ہوئی تھی . گرفتار ملزم عابد بلوچ کو افغانستان سے حاجی گل نے دو کلو آئس کراچی پہچانے کے لئے دی تھی۔ منشیات کی منتقلی کے فی چکر میں ملزم کو پچاس ہزار روپے دیئے جاتے تھے۔
سابق صدر آصف زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو کو عدالت نے والد سے ملاقات کی اجازت دے دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی ، کیس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی، جج محمد بشیر کو جج ارشد ملک کے تبادلے پر تعینات کیا گیا ہے .
سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی نیب نے احتساب عدالت پیش کر دیا ہے، کیس کے انویسٹی گیشن افسر کی عدم موجودگی کے باعث عدالتی سماعت میں وقفہ ہوا ہے، دوران سماعت آصف زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو عدالت پہنچ گئیں اور عدالت سے استدعا کی کہ انہیں والد سے ملنے کی اجازت دی جائے، عدالت نے آصفہ بھٹو کو والد سے ملاقات کی اجازت دے دی.
گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں 13 روز کی توسیع کی تھی، آصف زرداری کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گیے ہیں کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی. نیب آصف زرداری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی
لاہور ہائیکورٹ نے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور دیگر رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے پر صوبائی حکومت اور سی ٹی ڈی سے جواب طلب کر لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حافظ محمد سعید کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، لاہور ہائیکورٹ کے ججز جسٹس شہرام سرور اور مسٹر جسٹس وحید خان پر مشتمل بنچ نے حافظ محمد سعید کی درخواست پر سماعت کی ۔ عدالت نے حافظ محمد سعید و دیگر مرکزی رہنماوں کی درخواست پر پنجاب کی صوبائی حکومت اور سی ٹی ڈی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا.
حافظ محمد سعید کی جانب سے ان کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ درخواست ناقابل سماعت ہے جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا اور حکومت سے جواب طلب کر لیا.
لاہور ہائیکورٹ نے حافظ محمد سعید کی درخواست پر کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی.
واضح رہے کہ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماوں کے خلاف سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات درج ہونے کے بعد جماعۃ الدعوۃ نے عدالت سے رجوع کر لیا، اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے .
جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید، حافظ عبدالرحمان مکی ، امیر حمزہ اور محمد یحییٰ عزیز سمیت سات درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ریجنل ہیڈ کوارٹر محکمہ انسداد دہشت گرد (سی ٹی ڈی) کو فریق بنایا۔
لاہور ہائیکورٹ میں جماعۃ الدعوۃ کے رہنماوں کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حافظ محمد سعید اور دیگر رہنماوں پر درج مقدمات ختم کئے جائیں، حافظ محمد سعید کا لشکر طیبہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا القاعدہ یا ایسی کسی تنظیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، عدالت میں دائردرخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ریاست کے خلاف اقدامات میں ہرگز ملوث نہیں ہیں، انڈین لابی کا حافظ محمد سعید پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے بیان حقائق کے منافی ہے .
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کے ادارے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیموں کے رہنماوں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں. دہشتگردوں کی مالی معاونت کےالزام پرجماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کیخلاف بھی دہشتگردی ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ،