Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان کیخلاف کوئی بھی جارحیت کرے  تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پاکستان کیخلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا۔

    پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ مجھے کسی کے خلاف نہیں لایا گیا، آئین اورقانون کی بالادستی کے لیے آیا ہوں، ہمارا ہر قدم قانون اور آئین کے مطابق ہوگا، پرامن احتجاج کرینگے، یہ صوبہ ہم سب کا ہے، گزشتہ حکومت میں ہم تھوڑے کمزور تھے، ہم عدالتوں میں جنگ لڑرہے ہیں، انصاف نہ ملاتواحتجاج ہی کرینگے،افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے، یہاں سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، 12لاکھ اب بھی ہیں، باعزت طورپربھجوائیں گے، افغان مہاجرین نے اتناوقت یہاں گزارا تو باعزت واپس جائیں،میں حکومت چلانے نہیں تبدیلی کے لیے آیا ہوں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت نہ ملاتو کابینہ سے متعلق مشاورت کے لیے پارٹی سے بات کروں گا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ پہلے مجھے ٹارگٹ کیا گیاپھر آئینی عمل روکا گیا کیا، یہ طریقہ ہے؟ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جو اعتراضات دور کرکے پیرکو دوبارہ دائرکرینگے، جسے بانی پی ٹی آئی کہیں گے وہی کابینہ میں ہوگا ورنہ نہیں، کابینہ کے اہل اور نااہل ارکان کے بارے میں بانی کوبتاؤں گا، بانی نے صرف مزمل اسلم کو کابینہ میں شامل کرنے کا کہا ہے، ایڈوائزری کونسل کی بات پارٹی میں ہوئی نہ کسی نے بات کی، بحیثیت ورکرپارٹی تنظیم اور وزیراعلیٰ کے طورپر صرف عمران خان کوجوابدہ ہوں،صنم جاوید کے حوالے سے خاص نہیں، عام ہدایات تھیں اور یہ ہدایت تمام سیاسی ورکروں کے لیے تھیں کہ کسی سیاسی ورکرکو گرفتارنہ کیاجائے، صنم جاوید کی رپورٹ ملی لیکن مطمئن نہیں دوبارہ لوں گا۔

  • پنجاب،دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع

    پنجاب،دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع

    پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی

    محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع کر دی،پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی،دفعہ 144 کے تحت چار یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی،پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے،دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے

    پنجاب بھر میں اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہے،دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا،کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 38ویں اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کی سفارش کی گئی،حکومت پنجاب نے دہشت گردی اور امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر احکامات جاری کیے،پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازہ اور تدفین پر نہیں ہوگا،سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہیں ،لاؤڈ سپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں ،سکیورٹی خطرات کے پیش نظر عوامی جلوس و دھرنا دہشت گردوں کیلئے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے،شرپسند عناصر عوامی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے ریاست مخالف سرگرمیاں کر سکتے ہیں،محکمہ داخلہ نے جمعہ 24 اکتوبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،

  • لاہور پریس کلب نے آصف بٹ کی رکنیت معطل کر دی،داخلہ بند

    لاہور پریس کلب نے آصف بٹ کی رکنیت معطل کر دی،داخلہ بند

    لاہور پریس کلب نے کونسل ممبر آصف بٹ کی رکنیت معطل کر دی، اس ضمن میں سیکرٹری لاہور پریس کلب زاہد عابد نے اعلامیہ جاری کیا ہے

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ لاہور پریس کلب صحافتی کمیونٹی کا ایک معتبر ادارہ ہے اور پریس کلب آئین کے مطابق ادارے اور صحافتی کمیونٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں کونسل ممبر آصف بٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر لاہور پر لیس کلب اور منتخب ایگزیکٹو باڈی ممبران کے خلاف غیر مناسب و غیر اخلاقی کمپین چلائی گئی جس پر کو رنگ باڈی نے ان سے وضاحت طلب کی اور صفائی کا موقعہ دیا مگر آصف بٹ نے اس پر کلب آفس میں کوئی وضاحت نہیں دی تاہم جنرل سیکرٹری کو ذاتی واٹس ایپ اور دیگر واٹس ایپ گروپس میں بھی انہوں نے اس معاملے پر جو جواب دیا اس میں اپنے لگائے گئے الزامات بارے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی بطور ادارہ لاہور پریس کلب بارے استعمال کئے گئے غیر مناسب الفاظ پر کوئی وضاحت دی۔

    لاہور پریس کلب بارے غیر مناسب الفاظ پر کلب ممبران اور گورننگ باڈی ارکان میں تشویش پائی گئی ہے اور اس بارے ممبران نے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ آصف بٹ نے لاہور پریس کلب اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بارے استعمال کئے گئے الفاظ پر معذرت نہیں کی بلکہ سوشل میڈیا پر مزید غیر اخلاقی پوسٹس کرتے رہے ۔ لاہور پریس کلب کی کورنگ باڈی کی جانب سے آصف بٹ کو اپنے الزامات اور غیر مناسب الفاظ بارے وضاحت کا جو موقعہ فراہم کیا گیا تھا انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا لہذا گورننگ باڈی کے 15 اکتوبر کے اجلاس کے فیصلے کے مطابق اور لاہور پریس کلب آئین کے آرٹیکل IX رول 12 کے تحت آصف بٹ کی ممبر شپ معطل کر کے انکا کلب میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور کردارکشی کرنے پر گورننگ باڈی نے انکے خلاف قانونی کارروائی کا آغا ز بھی کر دیا ہے ۔

    لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی نے واضح کیا ہے کلب کے حوالے سے تنقید برائے اصلاح کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہر پلیٹ فارم پر جوابدہی کے لئے تیار ہیں لیکن تنقید کی آڑ میں ادارے، اس کے منتخب نمائندوں اور معز زممبران کے بارے غیر اخلاقی سوشل کمپین کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور صحافی برادری کی ساکھ و مفاد کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • پاکستان   ٹی ٹی پی،بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کیخلاف کارروائی چاہتا ہے،دفترخارجہ

    پاکستان ٹی ٹی پی،بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کیخلاف کارروائی چاہتا ہے،دفترخارجہ

    وزارتِ خارجہ پاکستان کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں آج دوحہ میں افغانستان کی طالبان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ جاری کشیدگی پر اہم مذاکرات کرے گا۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات طے کرنا اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کو بحال کرنا ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم افغان طالبان قیادت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرے اور پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابلِ تصدیق کارروائی کرے، پاکستان خاص طور پر ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی چاہتا ہے،پاکستان، قطر کی جانب سے ثالثی اور مصالحتی کوششوں کی قدر کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں خوارج گل بہادر گروپ کے مصدقہ ٹھکانوں پر کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، 48 گھنٹے کے جنگ بندی معاہدے کے دوران افغانستان سے سرگرم خوارج نے پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملوں کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔ جوابی کارروائیوں کے دوران 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، گل بہادر گروپ کے خوارج نے شمالی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا، جس میں ایک سپاہی اور کئی شہری شہید ہوئے، جب کہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔انہوں نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ کارروائیوں میں عام شہری نشانہ بنے۔یہ تمام پروپیگنڈا دہشت گرد گروہوں کے حامی عناصر پھیلا رہے ہیں تاکہ افغانستان سے سرگرم دہشت گردوں کے لیے ہمدردی پیدا کی جا سکے، پاکستان سمجھتا ہے افغان سرزمین سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مسئلے کا پائیدار حل بات چیت اور افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر کے کنٹرول میں ہے۔ تاہم پاکستان کو اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے، اور ہم کسی بھی دہشت گرد کو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

  • پیپلز پارٹی بینظیر کے مشن کو آگے لے کر چل رہی ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی بینظیر کے مشن کو آگے لے کر چل رہی ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری نےکہا ہے کہ بینظیربھٹونےجدوجہدجاری رکھی اور 27 دسمبر 2007 کو شہید ہو گئیں، بینظیرنےانتہاپسندقوتوں کامقابلہ کرتےہوئےشہادت قبول کی،پیپلزپارٹی شہید بینظیر بھٹو کے فلسفر کو آگے لے کر چلی رہی ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بینظیر دہشت گردوں سے لڑیں، انکے سہولت کاروں سے نہیں ڈریں، جھکی نہیں، پیپلز پارٹی بینظیر کے مشن کو آگے لے کر چل رہی ہے، 18 اکتوبر کو کارساز کے موقع پر جب محترمہ واپس آئی تھیں تو دھماکہ ہوا تھا، بینظیر غریب عوام کے لئے واپس آئی تھیں،بینظیر بھٹو شہید ملک کے غریب عوام کی آواز تھیں، ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور کارساز کے شہدا ءکے مشن کو آگے بڑھائیں گے تا کہ ایک ایسا پاکستان تعمیر ہو جہاں جمہوریت، مساوات اور انصاف کی حکمرانی ہو۔ قوم کی روح پر 18 اکتوبر 2007ء کا دن ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا۔ یہ وہ دن تھا جب 30 لاکھ سے زائد لوگوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال کیا۔یہی وہ دن تھا جب 180 بہادر جیالوں نے جمہوری پاکستان کے خواب کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

  • افغانستان کا عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ،اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

    افغانستان کا عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ،اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

    حالیہ دنوں میں افغان صوبوں خوست اور پکتیکا میں کیے گئے پاکستانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے فضائی حملوں کے بعد افغان سوشل میڈیا اور طالبان کے زیرِ اثر اکاؤنٹس پر ایک پروپیگنڈا مہم چلائی گئی جس میں دعوٰی کیا گیا کہ “قومی کرکٹرز” اور بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم سرکاری اور عسکری ذرائع، مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس، اور دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ یہ آپریشن ہدفی تھا ، ہدف دہشت گرد کمانڈراور دہشت گرد تھے نہ کہ عام شہری،دہشتگردوں کے ٹھکانے تھے، یہ فضائی کاروائیاں اُن ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں جو طویل عرصے سے بیرونی کارروائیوں، خاص طور پر شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے خودکش حملوں اور VBIED حملوں کی منصوبہ بندی و تیاری کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ یہ جوابی کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑی تھیں، جن میں ایک خودکش حملے میں ایک پاکستانی فوجی شہید ہوا تھا۔ افغانستان کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ درحقیقت افغان اپنے جرائم پر پردہ پوشی کر رہے ہیں.

    پاکستان کے فضائی حملے خوست اور پکتیکا میں حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے والے درست آپریشن تھے، جس میں سینئر کمانڈروں سمیت 40-50 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں خارجی گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے اہم کارندے تھے جو حالیہ سرحد پار حملوں میں براہ راست ملوث تھے، اسی گروپ نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا تھا۔ حالیہ فضائی حملے کے دوران مارے گئے عسکریت پسند کے جی بی کمانڈروں کی فہرست میں کمانڈر فرمان عرف عکرمہ، کمانڈر صادق اللہ داوڑ، کمانڈر غازی ماڑا خیل، کمانڈر مقرب، کمانڈر قسمت اللہ، کمانڈر گلاب عرف دیوانہ، کمانڈر رحمانی، کمانڈر عادل، کمانڈر فضل الرحمان، کمانڈر فضل الرحمان اور کمانڈر فضل الرحمان شامل ہیں۔ کوثر، کامڈ یونس
    ، زخمی عسکریت پسند کمانڈروں میں کمانڈر تلوار، کمانڈر صدر حیات، عمران، نعمت اللہ، شمس الدین اور عسکریت پسند کمانڈر عزیز شامل ہیں۔

    اگر یہ افراد حقیقی کرکٹرز تھے، جیسا کہ مبینہ طور پر، ایک کمپاؤنڈ کے اندر ان کی موجودگی طویل عرصے سے دہشت گردی کے اڈے کے طور پر شناخت کرتی ہے، سنگین سوالات پیدا کرتی ہے کہ کیا وہ اتفاق سے وہاں موجود تھے یا جان بوجھ کر عسکریت پسندوں کی جانب سے کور کے طور پر استعمال ہوئے؟ طالبان کا "کرکٹرز مارے جانے” کا دعویٰ جھوٹا کیونکہ کوئی بھی کرکٹرز دہشت گردوں کے کمپاؤنڈز میں نہیں رہتے۔ ان کی موجودگی یا تو ملوث ہونے یا طالبان کی جانب سے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو ثابت کرتی ہے۔ طالبان حکومت حقائق کو توڑ مروڑ کر یا "شہری ہلاکت” کی داستانیں بنا کر دہشت گرد تنظیموں کی اپنی ملی بھگت اور اسپانسرشپ کو چھپا نہیں سکتی۔

    برسوں سے، پاکستان نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی، ایچ جی بی، اور بی ایل اے کی پناہ گاہوں کو ختم کر دیں۔ ان کی بے عملی نے اب افغان سرحدی صوبوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لانچ پیڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ طالبان حکومت کی انتہائی منظم میڈیا مہم جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے تصنیف کی گئی ہے، نور ولی محسود کی حالیہ ویڈیو سے لے کر نام نہاد "کرکٹرز کی موت” تک، افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے ایک مربوط معلوماتی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    نام نہاد "کرکٹر” کہانی ایک بدنیتی پر مبنی من گھڑت ہے۔ طالبان سے منسلک اکاؤنٹس کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ افراد کہاں رجسٹرڈ تھے، کس صوبائی یا آفیشل کرکٹ بورڈ نے انھیں تسلیم کیا، اور وہ کیوں HGB کے عسکریت پسند کمپاؤنڈ میں مقیم تھے۔ افغان پروپیگنڈہ اس وقت واضح ہو گیا جب ایک مبینہ طور پر "ہلاک” کھلاڑی فضل حق فاروقی کو ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر تعزیت کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو کہ طالبان کی اناڑی غلط معلومات کی ایک شاندار مثال ہے۔

    اگر اسامہ بن لادن جیسا ڈاکٹر، انجینئر یا ارب پتی بھی دہشت گرد بن سکتا ہے تو کرکٹ بیٹ والا آدمی کیوں نہیں بن سکتا؟ دہشت گردی پیشوں کو بھی نہیں بخشتی کیونکہ دہشت گرد بھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کرکٹ کی چند تصاویر یا ویڈیوز کا ہونا عسکریت پسندوں کو ان کے جرائم سے بری نہیں کرتا۔ ٹی ٹی پی کی متعدد ویڈیوز میں عسکریت پسندوں کو تربیت کے دوران کھیل کھیلتے دکھایا گیا ہے جس سے وہ کھلاڑی نہیں بنتے۔ ان دہشت گردوں نے ماضی میں کرکٹ کھیلی ہوگی اور کچھ حقیقی شہریوں کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائی ہوں گی۔ اب افغان طالبان کہانی گھڑنے کے لیے اسے استعمال کر رہے ہیں۔افغان طالبان درجنوں معروف دہشت گرد کمانڈروں کی ہلاکت کی بات کیوں نہیں کر رہے؟ وہ ٹی ٹی پی سے اپنی ہلاکتیں چھپانے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟ "کرکٹرز” کا نام لینے کے بجائے طالبان حکومت کو شفاف ہونا چاہیے

    سوشل میڈیا پوسٹس جو دہشت گردوں کی تصاویر کو عام شہری کے طور پر پیش کرتی ہیں طالبان کے میڈیا ونگ کی جانب سے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ کوششیں طالبان کی جاری حمایت، پناہ گاہوں اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ ہم آہنگی کو نہیں چھپا سکتیں۔دریں اثنا، طالبان کے اندرونی مواصلات سے پتہ چلتا ہے کہ TTA (تحریک طالبان افغانستان) نے TTP اور HGB عسکریت پسندوں کو اپنی ہلاکتوں کو چھپانے کی ہدایت کی ہے، جس سے وہ مزید دھوکہ دہی اور پردہ پوشی میں اپنا کردار ثابت کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے اقدامات دفاعی، انٹیلی جنس پر مبنی تھے اور اپنے دفاع سے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 سے پوری طرح مطابقت رکھتے تھے۔ پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے: دہشت گردوں کی ہر پناہ گاہ کو ختم کر دیا جائے گا، اور اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کا فوری اور درست جواب دیا جائے گا۔

  • کسی نے جارحیت کی تو ادھار نہیں رکھیں گے،رانا ثناء اللہ

    کسی نے جارحیت کی تو ادھار نہیں رکھیں گے،رانا ثناء اللہ

    وزراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، کسی نے جارحیت کی تو ادھار نہیں رکھیں گے، گڈ اور بیڈ طالبان کی تھیوری ناکام ہو چکی ہے، کسی بھی جماعت پر پابندی مسلم لیگ ن کی پالیسی نہیں رہی۔

    وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے لاہو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جنگ میں کبھی پہل نہیں کرے گا، پاکستان لڑائی میں کسی کا ادھار نہیں رکھے گا، پاکستان نے افغان مہاجرین کی برسوں میزبانی کی، افغانستان کے رویے پر انتہائی افسوس ہے، اب ہم مزید شہداء کے جنازے نہیں اٹھا سکتے، دہشت گردی کسی طور پر برداشت نہیں کی جائے گی، کسی بھی دہشتگردی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، کسی نے جارحیت کی تو ادھار نہیں رکھیں گے، افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی کی کارروائیاں بند کی جائیں،ایک طرف وہ ہمارے لوگوں کو شہید کریں اور دوسری طرف مذاکرات کریں، ہمارا مطالبہ ہی یہی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں بند کریں، دہشت گردی کی کارروائیاں پہلے بند کی جائیں پھر بات ہوسکتی ہے۔انتشار اور فتنہ کسی کو نہیں پھیلانے دیں گے، کسی بھی جماعت پر پابندی مسلم لیگ ن کی پالیسی نہیں رہی، بدقسمتی سے 3 بار احتجاج کے دوران ہلاکتیں ہوئیں، پنجاب حکومت کی سفارش پر وفاقی کابینہ نے فیصلہ کرنا ہے۔

  • کوہستان کرپشن اسکینڈل ،مرکزی ملزم اہلیہ سمیت گرفتار

    کوہستان کرپشن اسکینڈل ،مرکزی ملزم اہلیہ سمیت گرفتار

    کوہستان کرپشن اسکینڈل کیس میں اہم پیشرفت، نیب نے مرکزی ملزم قیصر اقبال کو اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا۔

    کوہستان کرپشن اسکینڈل کیس میں اہم پیشرفت ہوگئی، نیب نے ملزم قیصراقبال کو اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا، وہ کافی عرصہ سے ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج تھا۔نیب ذرائع کے مطابق ملزم کو اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی گرفتار کرلیا گیا، ملزم نے اپنی اہلیہ اور ٹھیکیدار کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے منتقل کیے تھے،نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہستان کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم نے اپنی اہلیہ اور بھانجے کے نام پر کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنائیں۔نیب ذرائع کے مطابق ملزمان قیصر اقبال کو احتساب عدالت میں جسمانی ریمانڈ کیلئے پیش کیا جائے گا۔

  • مینار پاکستان ورکرز کنونشن،مرکزی مسلم لیگ کامیابی کے لئے متحرک

    مینار پاکستان ورکرز کنونشن،مرکزی مسلم لیگ کامیابی کے لئے متحرک

    مرکزی مسلم لیگ کے 2 نومبر کو مینار پاکستان پر ہونے والے ورکرز کنونشن کی تیاریاں بھر پورطریقے سے جاری ہیں،کنونشن کی کامیابی کے لئے ملک بھر میں اجلاسوں، مشاورتی ملاقاتوں، اور تنظیمی سرگرمیوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے، اسلام آباد،سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ورکرز کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا،مسلم یوتھ لیگ بھی ورکرز کنونشن کی کامیابی کے لئے متحرک ہے

    اسلام آباد میں صدر مرکزی مسلم لیگ انعام الرحمٰن کمبوہ کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف یونین کونسلز اور وارڈز کے ذمہ داران نے شرکت کی، انہوں نے ورکرز کنونشن میں بھرپور شرکت کا عزم ظاہر کیا،شیخوپورہ میں مرکزی مسلم لیگ ہاؤس میں پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت اور ورکرز کنونشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔کنگن پور میں مسلم یوتھ لیگ کے زیراہتمام یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔حیدرآباد میں مسلم اسٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے اقصیٰ آڈیٹوریم میں اجلاس ہوا،جس میں ورکرز کنونشن کی کامیابی کے لئے اہداف دیئے گئے، گوجرانوالہ میں مختلف وارڈز، شعبہ خدمتِ خلق، اور نوجوانوں کی ٹیموں کی جانب سے میٹنگز کا انعقاد کیا گیا۔ قاری سلمان یوسف، شعیب چوہدری اور سردار محمد وسیم نے کنونشن کے حوالے سے کارکنان کو اہداف دیے،فیصل آباد میں مسلم یوتھ لیگ کے صدر حارث ڈار، عدیل عامر اور ایوب گلوتر کی زیرصدارت تنظیمی اجلاس میں کنونشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر عارف اللہ خٹک، مجیب الرحمن اور عبداللہ آفریدی نے تحصیل جمرود میں اجلاس میں شرکت کی،اس موقع پر شرکا نے مینار پاکستان ورکرز کنونشن میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا۔ مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تنظیمی شعبہ جات، لائرز فورم اور سٹی سطح کے ذمہ داران کے الگ الگ اجلاس ہوئے، جس میں ورکرز کنونشن میں بھر پور طریقے سے شرکت یقینی بنانے کے فیصلے کئے گئے،

  • بیٹی کو چھیڑنے پر ماں نے جوتوں سے  کی نوجوان کی سرعام پٹائی

    بیٹی کو چھیڑنے پر ماں نے جوتوں سے کی نوجوان کی سرعام پٹائی

    بیٹی کو چھیڑنے پر ماں نے جوتا اتار کر نوجوان کی ٹھکائی کر دی، واقعہ بھارت کا ہے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے

    اتراکھنڈ کے ضلع اُتّر کاشی کے علاقے متلی بندرکوٹ سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں ایک خاتون کو ایک نوجوان کو جوتوں سے بری طرح مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس نوجوان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے خاتون کی بیٹی کو چھیڑا اور ہراساں کیا، ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون بار بار اپنے جوتے سے نوجوان پر حملہ کر رہی ہے، جبکہ اردگرد موجود لوگ خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق، مذکورہ نوجوان مقامی پنکچر کی دکان پر کام کرتا ہے۔ ویڈیو اگرچہ چند دن پرانی بتائی جا رہی ہے، تاہم یہ حال ہی میں وائرل ہوئی اور سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی ہے۔

    مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سے نوجوان فرار ہے۔ ہندو تنظیم کے ایک رکن سچندرا پرمار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا واقعے کے بعد سے وہ نوجوان لاپتہ ہے، اس کی موجودہ جگہ کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامیہ فوری کارروائی کرے اور اسے گرفتار کرے، حالیہ دنوں میں اُتّر کاشی سے کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں مبینہ طور پر خواتین سے بدسلوکی کے واقعات شامل ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب کسی خاتون نے اپنی بیٹی سے بدتمیزی کرنے والے شخص کو عوامی سطح پر سزا دی ہو۔ ستمبر 2024 میں اتر پردیش کے ایک گاؤں میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، جہاں ایک عورت نے اپنی بیٹی کی جعلی فحش تصاویر پھیلانے والے شخص کو جوتوں سے مارا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملزم نے لڑکی کی تصاویر میں رد و بدل کر کے انہیں غیر اخلاقی انداز میں سوشل میڈیا پر پھیلایا تھا، جس سے لڑکی کی شادی کے امکانات متاثر ہوئے۔ابتدائی طور پر مقامی پنچایت نے معاملے کو صلح کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی اور نوجوان کو معاف کرنے کا عندیہ دیا۔ تاہم لڑکی کی ماں نے اصرار کیا کہ وہ اسے جوتے سے مارے بغیر معاف نہیں کرے گی۔ پنچایت کے ایک رکن نے اس شرط کو قبول کیا اور خاتون نے خود نوجوان کو جوتوں سے مارا۔

    بعد ازاں فیصلہ ہوا کہ اس واقعے پر کوئی پولیس کارروائی نہیں کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں معاملے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی، البتہ اگر شکایت موصول ہوئی تو تحقیقات ضرور کی جائیں گی۔