Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • استعمال شدہ کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس، تاجر  سراپا احتجاج، سفید پوش مشکلات کا شکار

    استعمال شدہ کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس، تاجر سراپا احتجاج، سفید پوش مشکلات کا شکار

    حکومت کی جانب سے رواں برس استعمال شدہ پرانے کپڑوں (لنڈا) کی درآمد پر 200 روپے فی کلوگرام ٹیکس عائد کیے جانے کے فیصلے نے تاجروں اور عام صارفین دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ تاجر برادری نے اس فیصلے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سفید پوش اور غریب طبقہ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہو گیا ہے۔

    تاجروں کے مطابق حکومت کی جانب سے عائد کردہ 200 روپے فی کلوگرام ٹیکس کے بعد استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فی عدد قیمت میں 500 سے 1500 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس اضافے سے وہ طبقہ جو ہر سال سردیوں میں لنڈا بازاروں سے کم قیمت میں گرم کپڑے خریدتا تھا، اب ان اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے سبب مجبور اور پریشان دکھائی دے رہا ہے۔تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر بھاری ڈیوٹیز کے باعث ان کا سرمایہ پھنسا ہوا ہے۔ اگرچہ اس سال لنڈے کے کپڑوں کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں، پھر بھی وہ کوشش کر رہے ہیں کہ قیمتوں کو ممکنہ حد تک کم رکھا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

    دوسری جانب، شہریوں کا کہنا ہے کہ لنڈا بازار غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے سردیوں میں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے، لیکن موجودہ ٹیکس پالیسی سے ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

  • شہدائے کارساز کی دی ہوئی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے،بلاول

    شہدائے کارساز کی دی ہوئی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ سانحۂ کارساز آج بھی ہمارے ذہنوں میں زخم کی مانند تازہ ہے۔ 18 سال گزر چکے مگر 177 سے زائد جیالوں کی قربانیاں ہمیں ہر دن جمہوریت کے دفاع کی یاد دلاتی ہیں۔

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بہ طورِ منصوبہ آمریت اور دہشت گردی کی ملی بھگت تھا، مگر قاتلوں کا مقصد ناکام ہوا اور ملک میں شہداء کے خون سے جمہوریت کا سورج پروان چڑھا۔ آئیں آج عہد کریں کہ ہم شہدائے کارساز کی دی ہوئی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور امن و جمہوریت کے لیے ہر محاذ پر لڑتے رہیں گے-

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 18 اکتوبر کو سانحہ کارساز کے موقع پر ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں دعائیہ تقاریب کے انعقاد کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر ضلع میں ہونے والی ان تقاریب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان، ہمدرد، تنظیمی عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور منتخب نمائندے اپنے اپنے اضلاع میں شریک ہوں۔واضح رہے کہ 18 اکتوبر ہفتے کو بلاول ہاؤس کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوگا، اجلاس کی کارروائی کا آغاز شام چار بجے سے ہوگا۔

  • شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان سعودی عرب میں ایک ساتھ

    شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان سعودی عرب میں ایک ساتھ

    بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک تقریب کے دوران اسٹیج پر اکٹھے ہو گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس موقع پر عامر خان نے اسٹیج پر گانا بھی گایا، جبکہ شاہ رخ خان اور سلمان خان نے ان کے لیے خوشی کا اظہار کیا، تینوں خان ریاض میں منعقدہ ’جوئے فورم‘ میں شریک تھے،بالی ووڈ کے تینوں خانز آخری بار جام نگر میں امبانیز کی شادی کی تقریبات کے دوران مختصر وقت کے لیے نظر آئے تھے، مگر اس مرتبہ ریاض میں شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان ایک ساتھ اسٹیج پر نمودار ہوئے جہاں انہوں نے اپنے کیریئرز اور فلموں کے بارے میں بھی بات کی،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس تقریب کی کئی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جہاں سلمان، شاہ رخ اور عامر کو اسٹیج پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا ہے، یہ ان کے مداحوں کے لیے یادگار لمحہ تھا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنے پسندیدہ ستاروں کو ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

    انسٹاگرام کے ایک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں عامر خان کو سنجیو کمار کی فلم انوکھی رات کے مشہور گانے’او رے تال ملے ندی کے جل میں‘ گاتے ہوئے دیکھا گیا، اس موقع پر شاہ رخ خان اور سلمان خان پیچھے کھڑے ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ شاہ رخ خان کی گزشتہ 2 سال میں کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی، ان کی آخری ریلیز ہونے والی فلم 2023ء کی ’ڈنکی‘ تھی، جبکہ رواں برس ستمبر میں انہیں فلم ’جوان‘ کے لیے بہترین اداکار کا نیشنل ایوارڈ دیا گیا،مداحوں نے عامر خان کو حال ہی میں فلم ’ستارے زمین پر‘ میں دیکھا، جبکہ سلمان خان کی فلم ’سکندر‘ رواں برس عید کے موقع پر سنیما گھروں کی زینت بنی ہے،شاہ رخ خان اب اپنی نئی فلم ’کنگ‘ میں نظر آئیں گے، جس میں ان کی صاحبزادی سہانا خان اور دیپیکا پڈوکون ان کے ہمراہ اداکاری کے جوہر دکھائیں گی۔

  • بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز، ملٹری، ہلالِ جرات نے کہا ہے کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے انتہائی اعزاز اور باعث فخر ہے،میں بنگلہ دیش، عراق، مالی، مالدیپ، نائیجیریا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا اور یمن سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو بھی اس عظیم ادارے سے تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے قیام سے اب تک، افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حالیہ آپریشن معرکۂ حق، بنیان مرصوص میں افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور عزم سے دشمن کو شکست دے کر قوم کا اعتماد مزیدمستحکم کیا ہے، ازلی دشمن کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا،دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس-400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، اللہ کے فضل اور قومی عزم کے ساتھ، ہم نے من حیث القوم متحد ہو کر فولادی دیوار کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا،پاکستان نے ایک بار پھر ایک ایسے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی جو اپنی گمراہ کن بالادستی کے غرور میں مبتلا تھا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے جلد بازی میں الزام تراشی کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا،بھارت کا خود ساختہ شواہد پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی حکمران جماعت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی کو سیاسی رنگ دیا، پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے خلاف اپنی واضح فتح کی بدولت نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل کی، نوجوانوں میں یہ اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک بنیادی ستون ہیں، میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، میں نہایت فخر کے ساتھ پاکستانی عوام کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں،میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہر سپاہی، سیلر، فضائیہ کے جوانوں، بہادر مرد، خواتین، بچے، اور بزرگ جنہوں نے ان کٹھن حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا،اُن غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے یہ جنگ لڑی، قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں،قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتا ہوں نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک میں جنگ کے لیے گنجائش نہیں، پاکستان کے ساتھ بنیادی مسائل کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کریں۔ یہ پیشہ ور فوج روایتی میدان میں بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا چکی ہیں، جنگ میں ہمارے ہتھیار زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہوئے بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے، دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے۔افواج پاکستان دنیا کی بہترین فوج ہے، دشمن پاکستانی افواج اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنا چاہتا ہے، ہم شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کے بے حد شکر گزار اور مقروض ہیں، شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں، آپ شہداء کے وارث ہیں، اپنی زندگی کو ان کی یاد کے شایانِ شان بنائیں، آپ کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ دنیا کی ایک عظیم اور باوقار فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جو کسی سے کم نہیں، دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمارے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں، پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کا فتنۃ الہند، فتنہ الخوارج کو”ہائرڈ گنز” کے طور پر استعمال کرنا اس کے بزدلانہ چہرے کوبے نقاب کرتا ہے، افغانستان کے لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دائمی تشدد کے بجائے باہمی سلامتی کا انتخاب کریں، طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں، یہ پراکسیز پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیےافغان سرزمین استعمال کرتی ہیں،دشمن کسی بھول میں نہ رہے، پاک فوج ہر محاذ پر چوکس ہے، پاکستان کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا، قانون نافذ کرنے والے ادارے، مسلح افواج اور عوام کے تعاون سے یقیناً اس لعنت کو بھی شکست دیں گے، ہم اسلام کی غلط تشریح کرنے والے مٹھی بھر گمراہ دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے،

    فیلڈ مارشل کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان نے بے پناہ کوششیں کیں، پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کر رہا ہے، توقع کرتے ہیں غزہ کی انسانی بنیادوں پر امداد اور تعمیر نو کا عمل جاری رہے گا، توقع ہے کہ فلسطین کے لوگ اپنے وطن میں امن سے رہ سکیں، پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پُرامن عمل میں بھی کردار ادا کیا ہے، دیگر تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، چین کے ساتھ اپنی تاریخی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری اور دوستی پر فخر ہے، امریکا کے ساتھ مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ متحرک کرنا حوصلہ افزا اور خوش آئند پیشرفت ہے،تنازعات کے شکار علاقوں میں قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں اور اسٹریٹجک لیڈرشپ قابل تعریف ہے، ہم امن، سلامتی اور ترقی کے مفاد کے لیے اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ان تعلقات کو مزید پروان چڑھائیں گے، عالمی طاقتوں بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، پاکستان نے مستقل طور پر خطے اور اس سے باہر امن کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کا ثبوت دیا ہے، ہماری مسلح افواج دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بڑی تعداد میں شامل ہوتی ہیں۔

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں لانگ کورس، ٹیکنیکل کورس، لیڈی کیڈٹ کورس اور اینٹی گریٹڈ کورس مکمل کرنے والوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب ہوئی،پی ایم اے کاکول میں 152 ویں لانگ کورس، 37 ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 71 ویں اینٹی گریٹٹ کورس اور 26 ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی شاندار تقریب کے مہمان خصوصی فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں،پاس آؤٹ ہونے والوں میں 40 دوست ممالک کے فوجی بھی شامل ہیں جن کا تعلق عراق، مالدیپ، مالی، نیپال، فلسطین، سری لنکا، یمن، نائیجیریا اور بنگلا دیش سے ہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کا شاندار استقبال کیا۔ بعد ازاں مہمان خصوصی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا۔

  • ایئر انڈیا کا عملہ ہوٹل میں قیام کے دوران ڈکیتی کا شکار

    ایئر انڈیا کا عملہ ہوٹل میں قیام کے دوران ڈکیتی کا شکار

    بھارت کی معروف فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے عملے کو اُس وقت خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب آدھی رات کے بعد ایک گروہ نے ہوٹل میں اُن کے قیام گاہ پر دھاوا بول دیا۔ یہ واقعہ سیکٹر 42 میں واقع اس ہوٹل میں پیش آیا جہاں کمپنی کا عملہ تربیتی پروگرام کے دوران ٹھہرا ہوا تھا۔

    پولیس کے مطابق، واقعہ تقریباً رات 2 بجے پیش آیا جب ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ہوٹل میں زبردستی داخل ہو کر ایئر انڈیا کے عملے کو ایک کونے میں بٹھا دیا اور اُن کے تمام قیمتی سامان اور نقدی لوٹ لی۔عینی شاہدین اور پولیس ذرائع نے بتایا کہ ہوٹل کی بالکونی اور کمروں میں بیگ، کپڑے اور دیگر سامان بکھرا ہوا ملا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردات تیزی اور منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی۔

    ایئر انڈیا نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ "ہم اپنے عملے کے ساتھ پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ عملے کی حفاظت ایئر انڈیا کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے متاثرہ ساتھیوں کو فوری طور پر گڑگاؤں کے ایک دوسرے ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کمپنی اُنہیں تمام ممکنہ مدد فراہم کر رہی ہے۔” کمپنی پولیس سے قریبی رابطے میں ہے اور اس معاملے کو مکمل قانونی کارروائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

    ایئر انڈیا کے مطابق "عملے کے سفر اور رہائش سے متعلق انتظامات انتہائی سخت حفاظتی پالیسیوں کے تحت کیے جاتے ہیں، اور اُن پالیسیوں کا باقاعدگی سے جائزہ بھی لیا جاتا ہے تاکہ عملے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔”

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور قریبی علاقوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈاکوؤں کی شناخت اور گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، واردات کے وقت ہوٹل میں موجود عملے کے ارکان شدید خوفزدہ ہو گئے تھے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے واردات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

  • افغان طالبان  اور فتنۂ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب،خودکش بمبار گرفتار

    افغان طالبان اور فتنۂ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب،خودکش بمبار گرفتار

    افغان طالبان اور فتنۂ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب، کم عمر افغان نوجوانوں کی مذہبی ذہن‌سازی کر کے افواج پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں پر اکسایا جا رہا ہے

    جنوبی وزیرستان میں فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک افغان خودکش بمبار کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار دہشتگرد نے ہوشربا انکشافات میں بتایا کہ اسے قندھار کے ایک مدرسے میں مذہب کے نام پر گمراہ کر کے افواج پاکستان کے خلاف اکسایا گیا اور افغان شہر خوست میں خودکش حملوں کی تربیت دی گئی۔
    اس کے مطابق افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں ایسے مراکز اور مدارس قائم ہیں جہاں نو عمر افغان نوجوانوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کر کے پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں کے لئے بھیجا جاتا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی پاکستان دشمنی اب اُسے بھاری پڑ رہی ہے، کیونکہ پاکستان نے فیصلہ کن کارروائیوں میں فتنۂ خوارج کے افغانستان میں درجنوں تربیتی مراکز اور ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔پاکستان کے خلاف ہونے والی فتنہ خوارج کی ہر سازش کے پیچھے افغان حکومت کا براہِ راست ہاتھ صاف دکھائی دے رہا ہے، جسے مزید نظرانداز کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے تباہ کن ہوگا۔

  • اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور، ایبٹ آباد، گلگت اور شمالی پاکستان کے متعدد علاقوں میں جمعہ کی شام زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ اپنے گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے میدانوں میں نکل آئے۔

    زلزلے کے جھٹکے راولپنڈی، اسلام آباد، چترال، سوات، مالاکنڈ اور گردونواح میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 اور گہرائی 120 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن، افغانستان میں تھا۔گلگت شہر اور اس کے گردونواح میں بھی جھٹکے خاصے شدید نوعیت کے تھے، جس کے باعث شہریوں میں خوف کی فضا دیکھنے میں آئی۔ تاہم اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  • مرکزی مسلم لیگ کے میڈیا کوآرڈینیٹر کا اجلاس،مینار پاکستان ورکرز کنونشن تیاریوں بارے مشاورت

    مرکزی مسلم لیگ کے میڈیا کوآرڈینیٹر کا اجلاس،مینار پاکستان ورکرز کنونشن تیاریوں بارے مشاورت

    مرکزی مسلم لیگ کے میڈیا کوآرڈینیٹر کا اجلاس سنٹرل میڈیا سیل مرکزی ترجمان تابش قیوم کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سیلاب کے دوران بہترین کوریج پر میڈیا کوآرڈینیٹرز کو اعزازی شیلڈ دی گئیں جبکہ 2 نومبر کو مینار پاکستان پر ہونے والے ورکرز کنونشن کے حوالہ سے بھی مشاورت کی گئی.

    میڈیا کوآرڈینیٹر کے اجلاس سے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل انجنیئر حارث ڈار،مرکزی ترجمان تابش قیوم،لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے خطاب کیا، اجلاس میں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات وڈیجیٹل میڈیا ہیڈ طہ منیب،آئی ٹی ہیڈ ملک وقاص سعید،ترجمان خیبر پختونخوا محمد عبداللہ،میڈیا کو آرڈینیٹر پنجاب زمان سیف، ترجمان جنوبی پنجاب احمد اجمل سمیت ضلعی میڈیا کو آرڈینیٹر نے شرکت کی.اجلاس میں سیلاب میں بہترین کوریج پر ضلعی کوآرڈینیٹر کو اعزازی شیلڈز دی گئیں،اجلاس میں‌فیصلہ کیا گیا کہ مینار پاکستان ورکرز کنونشن سے قبل ملک بھر میں سوشل میڈیا میٹ اپ کا انعقاد ضلعی سطح پر کیا جائے گا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح، قوم کے اتحاد،انتشارکے خاتمے کے لئے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے،2 نومبر کو ورکرز کنونشن یہ ثابت کرے گا کہ مرکزی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی محافظ جماعت ہے، قاری یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونے والا ورکرز کنونشن تاریخی ہو گا،لاکھوں کارکنان خدمت وملک کے دفاع کے جذبے کے ساتھ شریک ہوں گے،شفیق الرحمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ خدمت کی سیاست کا عملی نمونہ سیلاب میں قوم نے دیکھ لیا، مرکزی مسلم لیگ اسی جذبے کے ساتھ ورکرز کنونشن منعقد کر رہی ہے.ہم صرف نعرے اور وعدے نہیں عملی کام کرتے ہیں، انجینئر حارث ڈار،تابش قیوم، مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کا مقدمہ لڑنا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ قیام پاکستان کی تحریک کا تسلسل ہے ، قیام پاکستان کے مقاصد سے دور ہوئے تو مشکلات آئیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جسے تائید الہی حاصل ہے ۔ اخلاص نیت کے ساتھ کام کریں گے تو منزل تک آسانی سے پہنچیں گے، ورکرز کنونشن سے قوم کو امید پیغام دیں گے ۔ نفرت کے ماحول میں محبتیں، انتشار کے ماحول میں اتحاد قائم کرنا ہے۔

  • اصغر بنگلزئی کا ساتھیوں سمیت مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان

    اصغر بنگلزئی کا ساتھیوں سمیت مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان

    بلوچستان سے براہوی قومی موومنٹ کے رہنما اصغر بنگلزئی نے ساتھیوں کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ مرکزی مسلم لیگ کوئٹہ کے صدر محمد ادریس، جنرل سیکرٹری میر شاہجہان گڑگناری، نائب صدر سردار سعود ساسولی، نائب صدر بابر مغل، صوبائی صدر ملی لیبر فیڈریشن میر شاکر خان، بخت کاکڑ، حافظ خلیل اللہ بڑیچ و دیگر موجود تھے۔

    اس موقع پر حافظ ادریس نے اصغر بنگلزئی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ میں بڑی تعداد میں شمولیت ہماری خدمت کی سیاست کے باعث ہے۔ بلوچستان میں عوام کا بڑھتا ہوا اعتماد ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے۔ ہم ایک نظریاتی جماعت ہیں اور نظریۂ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے اس نظریے سے روگردانی اختیار کی ہے۔

    اس موقع پر اصغر بنگلزئی نے کہا کہ میں مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں۔ مرکزی مسلم لیگ کا کردار ہمیشہ خدمت اور امن کا رہا ہے۔پاکستان کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہے، جبکہ بلوچستان میں بدامنی اور مسائل حل کرنے کے لیے اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

  • دفاع کےحق کےتحت طالبان کے حملوں کو مؤثر طور  پر  پسپا کیا،ترجمان دفتر خارجہ

    دفاع کےحق کےتحت طالبان کے حملوں کو مؤثر طور پر پسپا کیا،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے پاکستان اور افغانستان مسئلے کے پُرامن حل کے لیے تعمیری مذاکرات میں مصروف ہیں۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے باربار افغانستان میں فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع دی، 11 تا 15 اکتوبر سرحد پرطالبان کے اشتعال انگیز حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جبکہ پاکستان نے اپنے دفاع کےحق کےتحت طالبان کے حملوں کو مؤثر طور پر پسپا کیا، طالبان فورسز اور ان کے زیر استعمال دہشت گرد ٹھکانوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، جوابی کارروائی شہری آبادی نہیں دہشتگرد عناصر کے خلاف تھی اور کارروائی کے بعد طالبان کی درخواست پر 15 اکتوبرکی شام 6 بجے سے 48 گھنٹوں کی جنگ بندی نافذ کی گئی، دونوں ممالک مسئلے کے پر امن حل کےلیےتعمیری مذاکرات میں مصروف ہیں، پاکستان نے طالبان حکومت سے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کی توقع ظاہر کی، طالبان حکومت اپنے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے، پاکستان نے چار دہائیوں سے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، اپنی سرزمین پر غیرملکیوں کی موجودگی عالمی اصولوں اور ملکی قوانین کےمطابق منظم کریں گے،پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، امید ہے کہ افغان عوام ایک دن نمائندہ اور جامع حکومت کے تحت آزادانہ زندگی گزاریں گے۔

    شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت اور افغانستان کے مشترکہ اعلامیے کے مندرجات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلامیے میں جموں وکشمیرسے متعلق مؤقف کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا،پاکستان نےافغان قائم مقام وزیرِ خارجہ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے، پاکستان نے افغانستان کو سرگرم دہشت گرد گروہوں کی تفصیلات شیئر کیں جو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے خود کو بری نہیں کر سکتی، امن و استحکام کے قیام کی ذمہ داری افغانستان پر بھی عائد ہوتی ہے۔