Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کنگ چارلس سوئم اور وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سال کے اواخر میں برطانیہ کی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس مثبت پیشرفت سے برطانوی پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان تبادلے کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہائی کمشنر کے مثبت کردار کو خاص طور پر سراہا۔

    وزیراعظم نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعاون کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں ہونے والے تجارتی مذاکرات دونوں فریقین کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی برطانیہ کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے، جس کی اس وقت پاکستان کے پاس صدارت ہے۔

    ملاقات میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے برطانیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ لندن کے بارے میں بتایا جہاں انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کے حوالے سے وسیع مشاورت کی۔برطانوی ہائی کمشنر نے وزیر اعظم کے وژن اور قیادت میں گزشتہ ڈیڑھ سال میں حکومت کی معاشی کارکردگی کو سراہا جس سے تمام اہم میکرو اکنامک اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی۔ ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر نے وزیراعظم کے ساتھ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی علاقائی پیش رفت پر برطانیہ کے نقطہ نظر کے حوالے سے گفتگو کی۔

  • نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی خود نگرانی کروں گا،وزیراعظم

    نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی خود نگرانی کروں گا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت رہاستی ملکیتی اداروں (SOEs ) کی نجکاری کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری ملکی معیشت کی بہتری اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے ، نجکاری کے عمل کو موثر ، جامع اور مستعدی سے کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،منتخب اداروں کی نجکاری میں تمام قانونی مراحل اور شفافیت کے تقاضے پورے کیے جائیں ، قومی اداروں کی بیش قیمت اراضی پر ناجائز قبضہ کسی صورت قابل قبول نہیں، نجکاری کے مراحل میں قومی اداروں کی ملکیت میں بیش قیمت اراضی کی تصفیہ میں ہر ممکن احتیاط ملحوظ خاطر رکھی جائے،مذکورہ اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کے اہداف مارکیٹ کے معاشی ماحول کے مطابق مقرر کیے جائیں تاکہ قومی خزانے کو ممکنہ نقصان سے ہر صورت بچایا جا سکے ، نجکاری کے مراحل میں سرخ فیتےاور غیر ضروری عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے نجکاری کمیشن کو قانون کے مطابق مکمل خود مختاری دی جائے گی، تمام فیصلوں پر مکمل اور موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے ،نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی باقاعدگی سے خود نگرانی کروں گا،نجکاری کے مراحل اور اداروں کی تشکیل نو میں پیشہ ور ماہرین کی مشاورت اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھا جائے

    وزیراعظم کو 2024 میں نجکاری لسٹ میں شامل کیے گئے اداروں کی نجکاری پر پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن ، منتخب اداروں کی مرحلہ وار نجکاری میں قانونی، مالیاتی اور شعبہ جاتی تقاضوں کو مد نظر رکھ رہا ہے ، منتخب اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کو کابینہ سے منظور شدہ پروگرام کے تحت مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا ، پی آئی اے، بجلی کی ترسیل کار کمپنیز (ڈسکوز)، سمیت نجکاری کی لسٹ میں شامل تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ معاشی، اداراجاتی اور انتظامی اہداف کے مطابق مکمل کیا جائے گا، اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ سرکاری افسران اور اعلی حکام نے شرکت کی۔

  • ٹرمپ کے سیز فائر دعوؤں پر راہول گاندھی وزیراعظم مودی پر برس پڑے

    ٹرمپ کے سیز فائر دعوؤں پر راہول گاندھی وزیراعظم مودی پر برس پڑے

    کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کی ہے

    راہول گاندھی نے امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوؤں پر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھا دیا، راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ;’وزیراعظم بیان کیسے دے سکتے ہیں؟ کیا بولیں گے؟ ٹرمپ نے اس کا اعلان کیا ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے، لیکن یہ سچ ہے، پوری دنیا جانتی ہے کہ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان "جنگ بندی” کا اعلان کیا ، یہ حقیقت ہے اور اس سے چھپا نہیں جاسکتا،یہ مسئلہ صرف جنگ بندی تک محدود نہیں ہے، کئی اہم مسائل پر بات کرنے کی ضرورت ہے،دفاع، دفاعی مینوفیکچرنگ، اور آپریشن سندور سب پر بات ہونی چاہئے،حالات اچھے نہیں ہیں، پوری قوم جانتی ہے،وزیر اعظم نے ٹرمپ کے دعوؤں کا ایک بھی جواب نہیں دیا ہے، جو لوگ خود کو ‘دیش بھکت’ کہتے ہیں وہ بھاگ گئے ہیں،ٹرمپ نے 25 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا ، ٹرمپ کون ہوتا ہے یہ کام اس کا نہیں ہے،وزیراعظم نے ایک بار بھی جواب نہیں دیا ، یہی سچائی ہے جو چھپ نہیں سکتی،

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس، شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کر لیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس، شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کر لیں

    اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شوگر انڈسٹری سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری فوڈ نے بریفنگ دی کہ سیزن کے آغاز میں ملک میں 1.3 ملین ٹن چینی کا ذخیرہ موجود تھا۔

    اجلاس کے دوران معین پیرزادہ نے بتایا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں صارفین کی نمائندگی موجود نہیں ہے، جس پر ارکان نے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ صارفین کی آواز کو بھی بورڈ میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ منصفانہ فیصلے کیے جا سکیں۔چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ چند شوگر ملز مالکان کو پہلے ہی چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم کمیٹی نے اس معاملے پر مزید شفافیت کا مطالبہ کیا اور شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کر لیں۔سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کے ریمارکس پر ارکان نے تشویش ظاہر کی اور پوچھا کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت کس نے دی؟ اور کس کس ملک کو چینی برآمد کی گئی تھی؟ اس حوالے سے مکمل تفصیلات جلد پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ چینی کی برآمدات کا مقصد کاشتکاروں کو تحفظ دینا تھا تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے، لیکن اس عمل میں کچھ ابہامات موجود ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔پی اے سی نے چینی کے اس معاملے کو آئندہ ہفتے تک مؤخر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام دستاویزات اور تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔

  • امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    ناکام "آپریشن سندور” کا بھارتی دعویٰ ایک بار پھر جھوٹا ثابت ، امریکی صدر کے ہاتھوں بھارت کو سبکی مل رہی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نےری پبلکن اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ جنگ نہ رکواتے تو ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ بھی اپنے نام کیا اور کہا کہ میں نے دونوں ملکوں سے کہا کہ جنگ نہ روکی تو امریکا آپ سے تجارت نہیں کرے گا، بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں 5 لڑاکا طیارے مار گرائے گئے،

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا بیان اس سے قبل بھی سامنے آچکا ہے

  • کراچی میں خاتون کے ہاں پانچ بچوں کی پیدائش

    کراچی میں خاتون کے ہاں پانچ بچوں کی پیدائش

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک نجی اسپتال میں ایک خاتون نے پانچ بچوں کو جنم دیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ بچے وقت سے قبل پیدا ہوئے ہیں اور ان کا وزن بہت کم ہے، جس کے باعث ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    اسپتال انتظامیہ نے مزید بتایا کہ بچوں کو زندگی بچانے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور تمام بچوں کو آکسیجن فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے سانس لے سکیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحت پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور انہیں تمام ضروری طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔

    اس موقع پر اسپتال کے سینئر میڈیکل آفیسر نے میڈیا کو بتایا کہ اس قسم کی پیدائشیں نایاب ہوتی ہیں اور یہ واقعہ میڈیکل دنیا میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک بچوں کی صحت میں بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں لیکن مکمل صحت یابی کے لیے وقت درکار ہوگا۔خاتون اور ان کے بچوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔ اس نایاب موقع پر اسپتال کے عملے اور اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور دعائیں کی جا رہی ہیں کہ بچے اور والدہ جلد صحتیاب ہوں۔

  • نالاں نوجوانوں کے شکوے دور کر کے گلے لگایا جائے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان

    نالاں نوجوانوں کے شکوے دور کر کے گلے لگایا جائے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگرد ایک انچ زمین پر بھی دیرپا قبضہ کرنے کی کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے۔

    انہوں نے یہ بات 16 ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ماضی کی حقائق جاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ بلوچستان کے حوالے سے دیگر علاقوں میں جو تصورات عام ہیں وہ حقیقت کے منافی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی یا بیروزگاری شورش کی اصل وجوہات نہیں ہیں بلکہ یہ مسائل زیادہ پیچیدہ اور تاریخی نوعیت کے ہیں۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت سے نالاں نوجوانوں کے شکوے دور کر کے انہیں گلے لگایا جائے گا، مگر ریاست مخالف کارروائیاں کرنے والوں کے ساتھ آئین سے ہٹ کر کوئی بات ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تشکیل دے دیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز گرے زونز میں موثر آپریشنز کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوست اور دشمن کی پہچان مشکل ہے لیکن بلوچستان میں دہشتگردوں کو زمین پر کوئی دیرپا قابض بننے نہیں دیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق جامع قانون سازی کی جا چکی ہے تاکہ ایسے مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے ہر صورت روکنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت گورننس اور سروس ڈلیوری کے نظام میں اصلاحات لا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں 99 فیصد بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں اور طلبہ کو قومی و عالمی سطح پر اسکالرشپس دی جا رہی ہیں تاکہ نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو۔

  • یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ شاہ محمود قریشی پارٹی کی قیادت سنبھالیں گے،سلمان اکرم راجہ

    یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ شاہ محمود قریشی پارٹی کی قیادت سنبھالیں گے،سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سابق وزیر خارجہ اور پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی پارٹی کی قیادت سنبھالیں گے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے خلاف ابھی بھی 8 سے 9 مقدمات زیر سماعت ہیں اور وہ ابھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئے۔سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پارٹی کے فیصلہ ساز اور منصوبہ ساز کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پورے ملک کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ موجودہ نظام انصاف اب انصاف کا نظام نہیں رہا۔

    انہوں نے کہا، "ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور عدلیہ کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ آج پورا نظام کنٹرول میں ہے جو کہ عوام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ زندہ قومیں ایسے حالات کا جواب دیتی ہیں۔”

  • 5 اگست سے ایک نئی تحریک آزادی کا آغاز ہوگا ،علی امین گنڈاپور

    5 اگست سے ایک نئی تحریک آزادی کا آغاز ہوگا ،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر قانونی اور غیر آئینی گرفتاری اور سزا کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سزائیں عوام کی رائے اور آئین پر ایک واضح حملہ ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ تمام غیر قانونی فیصلے فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان میں 5 اگست سے ایک نئی تحریک آزادی کا آغاز ہوگا جو ملک کی حقیقی آزادی کے لیے سرگرم ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گے اور پی ٹی آئی اپنی طاقت سے مزید مضبوط ہوگی۔

    وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

  • اپووا وفد کی جے یو آئی پنجاب کے ترجمان مولانا غضنفر عزیز سے ملاقات

    اپووا وفد کی جے یو آئی پنجاب کے ترجمان مولانا غضنفر عزیز سے ملاقات

    آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن (اپووا) کے ایک نمائندہ وفد نے جمعیت علماء اسلام پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات، مولانا غضنفر عزیز سے ان کے دفتر میں اہم اور تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال، استحکام پاکستان کے موضوع اور قومی ہم آہنگی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اپووا کے وفد نے مولانا غضنفر عزیز کو 14 اگست کو لاہور میں ہونے والی استحکام پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی اور قائدِ جمعیت، مولانا فضل الرحمٰن کا باقاعدہ دعوت نامہ بھی ان کے سپرد کیا۔مولانا غضنفر عزیز نے وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن تک دعوت نامہ ضرور پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے اپووا کی علمی و فکری خدمات کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ قومی یکجہتی کے ہر مثبت اقدام کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

    ملاقات کے بعد مولانا غضنفر عزیز کی جانب سے وفد کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا، جس سے مہمانوں کی خاطر تواضع اور روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ ہوا۔وفد میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، ممتاز اعوان، فہیم فاضل اور طاہر تنولی شامل تھے۔