Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • زیادتی کی شکار کئی خواتین کی لاشیں خاموشی سے دفن کیں اور جلائیں،ملزم کا اعتراف

    زیادتی کی شکار کئی خواتین کی لاشیں خاموشی سے دفن کیں اور جلائیں،ملزم کا اعتراف

    بھارتی ریاست کرناٹکا کے تاریخی اور مذہبی حوالے سے معروف دھرماستھلا مندر میں ایک ایسا راز سامنے آیا ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مندر کے سابق ملازم، جو صفائی کا کام کرتے تھے، نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اسکول کی طالبات سمیت کئی خواتین کی لاشوں کو جلانے اور دفنانے پر مجبور کیا گیا تھا۔

    مذکورہ شخص نے بتایا کہ یہ واقعات 1998 سے لے کر 2014 کے درمیان دھرماستھلا اور اس کے قریبی علاقوں میں پیش آئے۔ ان خواتین کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا، اور لاشوں کو چھپانے کے لیے انہیں آگ لگائی گئی یا زمین میں دفن کر دیا گیا۔ یہ اعتراف ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے پیچھے اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے کھڑا ہونا چاہتا ہے اور متاثرہ خواتین کے حق میں آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔
    کناٹکا پولیس نے 3 جولائی کو دفعہ 211(a) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ملزم نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے، اور عدالت سے اجازت ملنے کے بعد کیس کو رجسٹر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس شخص نے اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے بھی درخواست دی ہے کیونکہ انہیں موت کے دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔

    اس سابق ملازم نے پولیس کو اپنی شکایت کے ساتھ ساتھ ان لاشوں کی باقیات کی تصاویر بھی فراہم کی ہیں جو اس نے دفن کی تھیں۔ اس کے بیان کے مطابق "میں نے 1995 سے دسمبر 2014 تک دھرماستھلا مندر میں صفائی کا کام کیا۔””ابتدائی طور پر میں نے لاشوں کو خودکشی یا حادثاتی موت سمجھا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ بیشتر پر جنسی زیادتی کے نشانات تھے۔””1998 میں میرے سپروائزر نے مجھے خفیہ طور پر لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا حکم دیا، جب میں نے انکار کیا تو مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔””میں نے تقریباً 11 سال پہلے اپنے خاندان سمیت دھرماستھلا چھوڑ دیا کیونکہ ہمیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہیں۔”

    سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کے وی دھننجے نے اس کیس کی تحقیقات کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ شکایت 4 جولائی کو درج ہوئی ہے، تو ان معاملات میں فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ سنسنی خیز انکشاف بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، عصمت دری اور قتل کے سنگین جرائم کے خلاف ایک نئی بحث کو جنم دے گا۔ عوام اور حقوقِ انسانی کے کارکنان کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس کیس میں سخت اور فوری کاروائی کرے اور متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرے۔

  • پولیس افسران کو تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔وزیراعظم

    پولیس افسران کو تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےافسران و اہلکار دہشت گردی کے خاتمے کےلیے پرعزم ہیں ، عوام کے جان ومال کا تحفظ اور عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی پولیس کا نصب العین ہے،میرٹ پرعملدرآمد ایک شاندارمعاشرے کے قیام کےلئے باوقار معیار ہے، نیشنل پولیس اکیڈمی میں معیاری تربیت اور رہائش کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلیے بھرپورتعاون کریں گے،تربیت کے لئے افسران کو چین بھی بھجوایا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیر تربیت پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں وفاقی وزیر دخلہ سید محسن نقوی،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اعلیٰ پولیس افسران بھی موجو د تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ پولیس افسران نے تربیت کے بعد میدان عمل میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عام لوگو ں کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، ان کی جان ومال کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ کی تربیت کا معیار بہترین ہو اور اس کےلیے پولیس افسران کوتمام تر سہولیات مہیا کی جائیں اور تربیت کے نصاب کا بنیادی مقصد عام لوگوں کی حفاظت اور انہیں انصاف مہیا کرنا ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کےلئے یہ تمام عوامل انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، اہداف کا حصول تبھی ممکن ہے جب آپ کی تربیت اور بہترین سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں بطوروزیراعلیٰ ہم نے ایلیٹ فورس قائم کی تھی اوراس پولیس فورس کے قیام کا مقصد اشرافیہ کی حفاظت نہیں بلکہ دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنا ہے ،اسی طرح ہم نے پاکستان اورخطے کے پہلے سیف سٹی پراجیکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جب دہشت گردی عروج پر تھی اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایاجارہا تھا تو انسداد دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا گیا،یہ ایک مایہ ناز ادارہ ہے ،اسی طرح لاہور میں ملک کی پہلی فرانزک لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا،یہ ادارے دہشت گردی اور سماج دشمن عناصر کے خاتمے کےلئے سرگرم کردار ادا کررہے ہیں ، سب اداروں نے مل کر عام آدمی کی جان ومال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے پولیس افسران کو اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں ،پولیس اکیڈمی میں معیاری تربیت اور رہائش کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلئے بھرپورتعاون کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں ان کی وزارت اعلی ٰ کے دور میں پولیس اہلکار میرٹ پربھرتی کیے گئے ، اگرمجھے کوئی شکایت بھی ملی تو ذمہ دار افسران کومعطل کیا گیا، میرٹ پرعملدرآمد ایک شاندارمعاشرے کے قیام کےلیے باوقار معیار ہے، وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم اس مقصد کے لیے دن رات محنت کررہی ہے ،وہ انشاء اللہ قوم کی امیدوں پر پور ا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے ماحول کو بہتر بنانا ہے، وزیرداخلہ نیشنل پولیس اکیڈمی کی مکمل تزئین و آرائش کا فیصلہ کرچکے ہیں ، اکیڈمی میں ایسا ماحول قائم ہوگا جو کسی بھی تربیت گاہ میں ہونا لازم ہے،پولیس اکیڈمی میں ماسٹرز کی ڈگری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 25ایکڑ پرمحیط نیشنل پولیس اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،جس طرح بیدیا ں لاہور میں ایلیٹ ٹریننگ سکول قائم کیا گیا ہے اسی طرح اسلام آباد میں بھی اس سے بھی بہتر ایلیٹ ٹریننگ سکول قائم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ فائرنگ رینج بھی بنائی جائے گی،زیر تربیت افسران کےلئے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا،پولیس افسران کو ایک ماہ کی تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیر تربیت پولیس افسران قوم کے مایہ ناز بیٹے اور بیٹیا ں ہیں ، ان کا تعلق پنجاب ، سندھ ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے ہے، وزیر داخلہ گلگت بلتستان کے کوٹے پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ شہداء میں ہمارے پولیس کے افسران اورجوان بھی شامل ہیں ، جہلم میں ایک پولیس اہلکار لوگو ں کی جانیں بچاتے ہوئے خود شہید ہوگیا، اسی طرح پولیس کے افسران اورجوان فر ض کی ادائیگی ، عوام کے جان ومال کے تحفظ اور مادر وطن کی حفاظت کےلیے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اس سے بڑ ی اور کوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ہماری بہادر افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، رینجرز اور ایف سی بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں ، اپنے بچوں کویتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں ۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے زیر تربیت پولیس افسران میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے اور زیر تربیت پولیس افسران کو سہولیات کی فراہمی اور تربیت کے معیار کی بہتری کیلئے فائرنگ رینج اور ہاسٹل کی تعمیر کے دو منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

    قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے اکیڈمی کا دورہ کیا تھاتو اس کی حالت بہت خستہ تھی، اکیڈمی میں کوئی سٹاف ممبر نہیں تھا بلکہ یہ ایک ڈمپنگ سٹیشن بن چکی تھی، وزیراعظم سے اکیڈمی کی تزئین و آرائش سے متعلق بات کی، پی ایم اے طرز پر پولیس اکیڈمی اور تربیت کا معیار بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں دوسرے ممالک کے لوگ تربیت کیلئے آتے تھے، اب اکیڈمی میں اقوام متحدہ اپنا پروگرام بھی شروع کرے گا، سائبر کرائم، کریمنالوجی جیسے جدید نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے، تربیت دینے والے افسران کو مناسب تنخواہیں دی جائیں گی ، ہمارا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی جدید تربیت کو فروغ دینا ہے ، اسسٹنٹ کورس کمانڈرز بھی دیئے جائیں گے تاکہ بہترین افسران تیار کئے جا سکیں، اب نیشنل پولیس اکیڈمی ڈمپنگ سٹیشن نہیں رہے گی۔

  • پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں کے باعث متعدد اہم شاہراہیں متاثر ہو گئی ہیں۔ ان حالات میں پاک فوج اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    ایف ڈبلیو او اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی مشترکہ ٹیمیں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ اہم سڑکوں کی بحالی اور راستے کھولنے میں مصروف ہیں تاکہ علاقے کی رابطہ کاری بحال ہو سکے۔ قراقرم ہائی وے پر پاک فوج اور انتظامیہ کے تعاون سے ملبہ ہٹانے اور راستے کھولنے کے کام جاری ہیں۔قراقرم ہائی وے کے مختلف حصوں پر خاص طور پر تھلیچی سے چلاس تک کئی مقامات کو کلیئر کر دیا گیا ہے، جہاں ملبہ اور سیلابی ریلے نے راستے بند کر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ تتہ پانی اور جلی پور میں بھی روڈ کلیرئنس کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔گندالو نالہ پر تین مقامات بند ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کو مشکل پیش آ رہی ہے، تاہم بھاری مشینری جلد ہی وہاں روانہ کی گئی ہے تاکہ روڈ کو کلیئر کیا جا سکے۔ پاسو گاؤں میں بھی تباہ شدہ روڈ کی بحالی کے لیے کام جاری ہے، تاکہ لوگوں کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

    جگلوٹ سے سکردو جانے والی روڈ کو مکمل کلیئر کر دیا گیا ہے اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے، جو علاقے کی رابطہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔پاک فوج، ایف ڈبلیو او، این ایچ اے اور انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو آپریشنز جاری ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد ملی ہے بلکہ متاثرہ شاہراہوں کی جلد از جلد بحالی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔

  • نومئی کیس،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو 10 سال قید کی سزا

    نومئی کیس،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو 10 سال قید کی سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے کوٹ لکھپت جیل میں 9 مئی کو شیر پاؤ پل پر ہونے والے اشتعال انگیز جلسے اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر کو 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کے تحت دیگر ملزمان کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اہم فیصلے کا اعلان کیا۔ عدالت میں ملزمان کے وکلاء اور سرکاری وکیل نے حتمی دلائل پیش کیے جن کے بعد مقدمے کا جیل ٹرائل مکمل کیا گیا۔

    عدالت نے ایم این اے احمد چھٹہ سمیت تمام دیگر کارکنوں کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔ تاہم فیصلے کے وقت اپوزیشن لیڈر ملک احمد بھچر سمیت کوئی بھی ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

    مزید برآں، انسداد دہشت گردی عدالت نے بتایا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کل صبح 10 بجے مزید دلائل دیں گے جس کے بعد ان کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا۔ عدالت نے اس کیس میں دیگر 14 ملزمان کے خلاف بھی ٹرائل مکمل کیا ،اس مقدمے میں 61 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جو عدالت میں پیش کیے گئے۔ یاد رہے کہ میانوالی میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے کیس کے بیشتر ملزمان ضمانت پر ہیں۔

  • سیلابی صورتحال پر پی ٹی اے  کی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری

    سیلابی صورتحال پر پی ٹی اے کی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری

    ملک کے مختلف حصوں میں سیلابی صورتحال پر پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے

    ٹیلی کام سروسز کی مانیٹرنگ کے لئے قومی ایمرجنسی ٹیلی کمیونیکیشن کوآرڈینیشن سینٹر بھی قائم کر دیا گیا، پی ٹی اے نے کہا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں کشمیر گلگت بلتستان سمیت صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیاریاں یقینی بنائیں،ٹیلی کام کمپنیاں سیلابی صورتحال میں سروسز کی بلاتعطل فراہمی کے متبادل منصوبے مرتب کریں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل، انٹرنیٹ سروس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے،پی ٹی اے نے حساس علاقوں میں ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو محفوظ بنانے کی ہدایت کی اورکہا کہ بڑی فنی خرابی کی صورت میں پی ٹی اے ہیڈکوارٹر کو فوری اطلاع دی جائے،خرابی بروقت دور کرنے کے لئے سپئیر پارٹس اور فیول کی دستیابی یقینی بنائیں،ٹیلی کام آپریٹرز ہر چھ گھنٹے بعد سروس کی بحالی سے متعلق رپورٹ پیش کریں .

  • خزانے کی تلاش میں مزار کی کھدائی کرنیوالی خاتون سمیت ساتھی گرفتار

    خزانے کی تلاش میں مزار کی کھدائی کرنیوالی خاتون سمیت ساتھی گرفتار

    بہاولپور کے علاقے گوٹھ محراب میں خزانے کی تلاش کے دوران پولیس نے کراچی سے آنے والی ایک خاتون اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، خاتون اور اس کے ہمراہ افراد نے مقامی مزار یتیم شاہ کے مقام پر غیر قانونی کھدائی کی کوشش کی، جس کا مقصد مبینہ طور پر خزانہ تلاش کرنا تھا۔

    خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے علم اور معلومات کی بنیاد پر یقین تھا کہ اس جگہ خزانہ دفن ہے، اس لیے وہ یہاں پہنچی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون اور اس کے ساتھیوں نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر مزار کی قبروں کے پاس کھدائی شروع کر دی تھی، جو مقامی لوگوں کی شدید ناراضگی اور احتجاج کا باعث بنی۔علاقہ مکینوں نے قبروں کے پاس غیر قانونی کھدائی کو مذہبی جذبات کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پولیس نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خزانے کی تلاش کے نام پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی کھدائی برداشت نہیں کی جائے گی، اور عوام کو بھی اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ علاقے میں امن و امان قائم رہے،مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تہہ تک پہنچا جا سکے۔

  • بارشیں،سیلابی صورتحال،جانی و مالی نقصانات پر مرکزی مسلم لیگ کا اظہار افسوس

    بارشیں،سیلابی صورتحال،جانی و مالی نقصانات پر مرکزی مسلم لیگ کا اظہار افسوس

    سیاحتی علاقوں میں قبل از وقت حفاظتی اقدامات کو فعال کیا جائے ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اسلام آباد،راولپنڈی، دیامر اور مری میں شدید بارشوں، سیلابی صورتحال اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد کی موت اور سیلاب سے دیگر علاقوں میں ہونے والے نقصانات پر قوم غمزدہ ہے، ہم تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔”

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے اور لاپتا افراد کی فوری تلاش کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں،ہاؤسنگ سوسائٹیز اور شہری ادارے بارشوں اور نالوں کی نکاسی کے مؤثر انتظامات کریں تاکہ ایسے دلخراش واقعات دوبارہ نہ ہوں،سیاحتی علاقوں میں قبل از وقت حفاظتی اقدامات، ٹریفک کنٹرول، اور موسم کی پیشگی اطلاع کے نظام کو فعال کیا جائے تاکہ سیاح محفوظ رہ سکیں، قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن مؤثر حکمت عملی، بروقت اقدامات اور ریاستی اداروں کی فعال موجودگی سے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے، ضلعی اور صوبائی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ مزید جانیں نہ جائیں،قومی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر فوری نظرِثانی کی جائے،تمام حساس علاقوں میں ہنگامی ریسکیو و ریلیف کےمراکز قائم کیے جائیں،سیاحتی علاقوں میں موبائل وارننگ سسٹم، وائرلیس الرٹس اور موسمی ایپلی کیشنز کو فعال کیا جائے۔

  • دیامر،ڈاکٹر میاں بیوی سمیت 3 سیاح جاں بحق، متعدد زخمی اور لاپتہ

    دیامر،ڈاکٹر میاں بیوی سمیت 3 سیاح جاں بحق، متعدد زخمی اور لاپتہ

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید سیلابی ریلے نے تباہی مچادی ہے۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں لودھراں کے رہائشی ڈاکٹر میاں بیوی سمیت کم از کم 3 سیاح جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتہ ہیں۔

    جاں بحق جوڑے کی شناخت ڈاکٹر میاں بیوی کے طور پر ہوئی ہے، جو تفریحی دورے پر اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ دیامر آئے تھے۔ ان کے والد بھی سیلاب میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین سالہ بچہ ابھی تک لاپتہ ہے۔ فیملی ذرائع نے بتایا ہے کہ حادثے میں متاثرہ خاندان کے دیگر افراد محفوظ ہیں۔ موسم کے بہتر ہوتے ہی میتوں اور اہل خانہ کو دیامر سے لودھراں منتقل کیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلاؤڈ برسٹ سے دیامر کے 15 مختلف مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر بابو سر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاؤڈ برسٹ کی شدت زیادہ تھی جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور بابو سر روڈ بند ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلے نے 7 سے 8 کلومیٹر روڈ مکمل طور پر تباہ کردیا ہے اور تقریباً 10 سے 15 گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ تین سیاحوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں پایا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں اور حکام جلد متاثرین کو ریلیف پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

    متاثرہ خاندان کے افراد تفریحی مقاصد کے لیے گلگت بلتستان گئے تھے اور گزشتہ روز اسکردو سے واپسی کے دوران دیامر میں سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشنز کے بعد حالات بہتر ہوتے ہی متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔علاقہ مکینوں اور حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور سیلاب زدہ علاقوں میں جانے سے گریز کریں تاکہ مزید جانوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔ امدادی تنظیمیں اور مقامی انتظامیہ متاثرین کی فوری مدد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہیں۔

  • سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ،  سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں شدید بارش اور لینڈسلائیڈنگ میں پھنسے سیاحوں کو پاک آرمی نے ریسکیو کرلیا

    پاک آرمی کے فوری ریسکیو آپریشن کو سیاحوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے،خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے سکردو آئے تھے، دیوسائی کے مقام پر سیلاب کے باعث ہماری گاڑیاں ڈوب گئیں،الحمد اللہ پاک آرمی نے فوری طور پر ہمیں ریسکیو کیا، میری اور میرے ساتھ آئی خاتون کی طبعیت کافی خراب ہو گئی تھی، پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہمیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، پاک آرمی نے اس ایمرجنسی میں جس طرح کی خدمات سرانجام دیں وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتیں، پاک فوج ریسکیو کئے گئے سیاحوں کو طبی امداد اور کھانا بھی فراہم کر رہی ہے، ہمیں مکمل بھروسہ ہے کہ کسی طرح کی بھی ناگہانی آفت میں ہماری آرمی ہمیں ریسکیو کرلے گی،

  • راولپنڈی:  کار سوار 2 افراد برساتی نالے میں بہہ گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    راولپنڈی: کار سوار 2 افراد برساتی نالے میں بہہ گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    راولپنڈی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 5 میں شدید بارش کے باعث ایک کار سوار دو افراد برساتی نالے میں بہہ گئے۔ حادثے کے موقع پر دونوں افراد نے گاڑی سے مدد کے لیے بار بار آوازیں لگائیں، تاہم تیز پانی کے بہاؤ کی وجہ سے وہ کار سمیت نالے میں بہہ گئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کار سوار افراد برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، جس کے نتیجے میں دونوں افراد کار سمیت نالے میں بہہ گئے۔ ریسکیو حکام نے فوری طور پر افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔بارش کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ خاص طور پر راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ڈی ایچ اے فیز 8 میں پانی داخل ہو گیا ہے، جبکہ ملحقہ دیہات بھی شدید بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ گاؤں میں باغ راجگان، کھڑکن اور سوہاوہ شامل ہیں جہاں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

    ٹریفک پولیس نے بھی بتایا ہے کہ اڈیالہ سرکل اور بسکٹ فیکٹری چوک پر بارش کے پانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے پیش نظر عوام کو احتیاط برتنے اور نشیبی علاقوں میں جانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ریسکیو حکام اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ شہری بھی محکمہ موسمیات کی وارننگز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حفاظتی اقدامات کریں۔