Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان زلزلہ،  اسحاق ڈار کاافغان وزیر خارجہ سےرابطہ،تعاون کی پیشکش

    افغانستان زلزلہ، اسحاق ڈار کاافغان وزیر خارجہ سےرابطہ،تعاون کی پیشکش

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ زلزلے کی تباہ کاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور افغان عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر ممکن طریقے سے اپنے افغان بھائیوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔
    اسحاق ڈار نے افغان عوام کے لیے نیک تمناؤں اور ہمدردی کا پیغام بھی دیا اور خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے دعا کی جو اس قدرتی آفت سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔

    قبل ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی افغانستان میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ شدید زخمیوں کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کرکے فوری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔صوبائی و وفاقی حکومتیں باہمی تعاون کے ساتھ امدادی ٹیمیں، ادویات اور طبی ساز و سامان متاثرہ علاقوں میں روانہ کریں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات افغانستان کے مشرقی صوبہ کنڑ میں 6.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ متعدد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے مگر دشوار گزار علاقوں اور محدود وسائل کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیراعظم آفس میں ہونے والی اہم کرپشن کو اپنے یوٹیوب چینل پر بے نقاب کیا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب گھر کا نگہبان ہی چور بن جائے، جب وزیراعظم آفس میں ہی کرپشن کے شبہات سر اٹھانے لگیں تو باقی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے، وزیراعظم ہاؤس وہ مقام ہے جہاں ملک کا نظم و نسق چلایا جاتا ہے، جہاں تمام فیصلے ہوتے ہیں، شفافیت ،ایمانداری کی مثال قائم ہوتی ہے لیکن اگر وہاں افسر ذاتی فائدے کے لئے کرپشن کرے تو یہ سارے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں قانون بنتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہیں قانون توڑے جارہے ہیں، یہ ایک الارم ہے جو ہمیں بتا رہا ہےاگر آج اس ناسور کو نہ روکا تو کل یہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی، وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال،اہم عہدوں پر فائز افراد کس طرح طاقت کو ذاتی فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں،کہانی کا مرکزی کردار شکیل احمد منگنیجو ہے،ان کے اقدامات نے سرکاری عہدوں کی حرمت کو پامال کیا ہے، عام طور پر جب کوئی افسر کا تبادلہ ہوتا ہے تو وہ سابقہ ذمہ داریوں سے فارغ ہوتا ہے لیکن یہاں صاحب نے نیا اصول بنا لیا، وہ وزارت تجارت سے وزیراعظم کے آفس میں منتقل ہوئے لیکن پاکستان ری کے انشورنس کمپنی لمیٹڈ بورڈ آف ڈائریکٹر میں وزارت تجارت کے نمائندے کے طور پر اپنا عہدہ انہوں نے نہیں چھوڑا، یہ کھلی خلاف ورزی ہے،پاکستانی قانون کی،یہ سوچ کی عکاسی ہے کہ میرے لئے کوئی قانون نہیں ہے میں خود ہی قانون ہے، یہ عہدے کی غیر قانونی برقراری کا معاملہ نہیں بلکہ ایسا قدم ہے جس کا مالی فائدہ حاصل کیا گیا، انہوں نے اپنے تبادلے کے بعد 20 سے زائد میٹنگز میں بھی شرکت کی اور ہر میٹنگ کے لئے ڈیڑھ لاکھ کی خطیر رقم وصول کی، غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے وصول کئے لیکن کسی نے نہیں روکا کیونکہ وہ طاقتور عہدے پر تھے، اس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی، کیونکہ اس کی رسائی وزیراعظم آفس تک ہے، وزیراعظم کے احکامات کو سب سے اعلیٰ ترین سمجھاجاتا ہے لیکن منگنیجو نے وزیراعظم آفس کی ہدایات کو نظر انداز کر دیا ،ہدایات میں کہا گیا کہ وزارتوں کے نمائندے کسی میٹنگ میں شرکت سے قبل وزیر سے مشاورت کریں لیکن انہوں نے بغیر کسی مشاورت کے 15 سے زائد میٹنگز میں شرکت کر لی،منگنیجو کی موجودگی نے اس سارے عمل پر سوال اٹھائے ہیں، وزیر تجارت کو قانونی نوٹس بھی بھیجا گیا ہے، 26 اگست 2025 کو وزارت تجارت یا وزیر تجارت جام کمال نے خط لکھا جس میں منگنیجو کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور بورڈ کو ہدایت کی گئی کہ منگینجو کی تجویز کردہ کسی بھی ہدایت پر عمل نہ کریں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ کیا ہمارے ملک میں قانون ہے، یا ہے تو کیا سب کے لئے برابر ہے، یا عہدے والے سب کرتے رہیں،بدعنوانی کی یہ کسی واضح مثال ہے اس کو بے نقاب کرنا ضروری ہے، دیکھتے ہیں اس رپورٹ کے بعد وزیراعظم اور وزیر تجارت کیا ایکشن لیتے ہیں

  • آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام علییوف سے چین کے شہر تیانجن میں منعقد ہونے والی SCO کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ (CHS) کے موقع پر ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط کرنے پر صدر علییوف کو مبارکباد پیش کی، جو جنوبی قفقاز میں دیرپا امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات، دفاع، تعلیم اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں دوطرفہ تعاون کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیا اور پاکستان آذربائیجان تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی خوشحالی اور انضمام کو فروغ دینے کے لیے علاقائی رابطوں کے منصوبوں اور کثیر جہتی فریم ورک بشمول SCO کے تحت تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے بارے میں بھی نقطہء نظر کا اشتراک کیا اور متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    آذربائیجان کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آذربائیجان کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے صدر علییوف کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ تیانجن کے اسٹینڈنگ ممبر اور تیانجن -بنہائی نیوء ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ماؤ جن کی وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتی ہے ،چین اور پاکستان ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں،پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں چین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ،چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 میں اسمارٹ سٹیز، زرعی صنعت کے حوالے سے تعاون اور نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی انڈسٹری پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی ،چینی صدر عزت مآب شہر جن پنگ کی زیر قیادت تیانجن کی ترقی دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی ہے ،تیانجن-بنہائی نیو ایریا اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے خواہاں ہیں،پاکستان کے کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ اور گوادر پورٹ اور چین کے تیانجن پورٹ درمیان تعاون اور تجارت کو وسعت دینا چاہتے ہیں ،پورٹ ہینڈلنگ اور پورٹ آپریشنز کے معاملات کے حوالے سے تیانجن-بنہائی نیو ایریا کی مہارت سے فایدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے حوالے سے چینی کمپنیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں،فارماسیوٹیکل ، بائیو میڈیسن اور جانوروں کی ویکسین کے حوالے سے تیانجن-بنہائی نیو ایریا کی صنعت سے تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں ،حکومت پاکستان نے پچھلے ڈیڑھ سال میں معاشی اصلاحات میں نمایاں سنگ میل عبور کئے ہیں ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن ، نئی قومی اقتصادی پالیسی اور آئی ٹی سے متعلق اقدامات کے فروغ سمیت کئی دیگر اصلاحات کی خود نگرانی کر رہا ہوں،وزیراعظم نے تیانجن سے صنعتی و اقتصادی شعبے سے وابستہ نمایاں افراد کے وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی،وزیراعظم کو تیانجن -بنہائی نیوء ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ماؤ جن کی جانب سے تیانجن-بنہائی نیوء ایریا کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ تیانجن-بنہائی نیوء ایریا میں انٹیلی جینٹ ٹیکنالوجی ، گرین پیٹرو کیمیکل، آٹو موٹو انڈسٹری ، بائیو میڈیسن ، نیوء انرجی ، ایرو اسپیس ، کولڈ چین اسٹوریج ، ڈیپ-سی مائننگ ، جین تھراپی سمیت کئی دیگر شعبوں کی صنعتیں موجود ہیں ،پاکستان اور تیانجن کے درمیان کھاد ، فارماسیوٹیکل ، ٹائرز ، معدنیات اور فشریز کی تجارت ہوتی ہے ،تیانجن-بنہائی نیوء ایریا پاکستان کے ساتھ تجارت خصوصاً ای-کامرس کو وسعت دینے کا خواہاں ہے ،تیانجن-بنہائی نیوء ایریا کے کاروباروں اور صنعتوں کو پاکستان تک پھیلانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی،ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ، چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے ۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کے 25 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد تیانجن سے بذریعہ بلٹ ٹرین بئیجنگ پہنچ گئے بئیجنگ کے جنوبی ریلوے اسٹیشن پر نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن محترمہ وینگ ہانگ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔بئیجنگ میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم عالمی فاشزم کے خلاف جنگ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ وزیر اعظم کی چینی صدر عزت مآب شی جنپنگ ، چینی وزیر اعظم عزت مآب کی کیانگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم چین-پاکستان بزنس تو بزنس کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے اور خطاب بھی کریں گے۔

  • امریکی ٹیرف،بھارت نے دیر کر دی، ٹرمپ

    امریکی ٹیرف،بھارت نے دیر کر دی، ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے تجارتی معاملات پر کہا ہے کہ اب بھارت نے اپنے محصولات کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی، یہ پیش کش کئی سال پہلے کر دینی چاہیے تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار ہے لیکن بھارت امریکا کے ساتھ بہت بڑے حجم میں کاروبار کرتا ہے، بھارت امریکا کو بڑی مقدار میں سامان فروخت کرتا ہے اور امریکا بھارتی مصنوعات کا سب سے بڑا گاہک ہے، امریکا بھارت کو بہت کم چیزیں فروخت کرتا ہے، کئی دہائیوں سے اب تک تجارتی تعلق یک طرفہ رہا ہے، بھارت نے اب تک امریکا پر دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ محصولات لگا رکھے ہیں اور بھارت کے زائد محصولات کی وجہ سے امریکی کمپنیاں بھارت میں اپنی مصنوعات بیچ نہیں پاتیں، یہ مکمل طور پر یک طرفہ تباہی رہی ہے،بھارت اپنا زیادہ تر تیل اور فوجی ساز و سامان روس سے خریدتا ہے، بھارت تیل اور فوجی سازو سامان امریکا سے بہت کم خریدتا ہے، اب بھارت نے اپنے محصولات کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی، بھارت کو یہ پیش کش کئی سال پہلے کر دینی چاہیے تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری ہے، بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ کرنے کا بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پرٹیرف 50 فیصد کردیا جب کہ ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاک بھارت جنگ میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت انکاری ہے۔

  • اسلام آباد میں‌شدید بارش،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    اسلام آباد میں‌شدید بارش،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    اسلام آباد میں جاری موسلادھار بارش کے نتیجے میں مختلف علاقے زیر آب آگئے۔

    بارش کے باعث اسلام آباد کا سیکٹر جی 11 زیرآب آگیا، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ ندی نالوں میں طغیانی آگئی،اسلام آباد کے سیکٹر جی 8 مرکز میں بھی گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں، بنی گالہ اور سری نگر ہائی وے بھی زیرآب آگئے، موسلادھاربارش کے باعث میٹرو بس کا روٹ بھی زیرآب آگیا،ملکہ کوہسار مری میں بھی موسلادھار بارش جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے مری میں آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    دورسی جانب ترجمان واسا کا کہنا ہے کہ راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، اسلام آبادکے علاقے سید پور 40 ملی میٹر، گولڑہ میں 66 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی،ترجمان واسا کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں شمس آباد کے مقام پر25 ملی میٹر، پیر ودھائی میں 35 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی، راولپنڈی میں نیوکٹاریاں میں 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،ایم ڈی واسا سلیم اشرف کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی، نالہ لئی کے اطراف ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

  • پاکستان کے مستقبل کےلیےکالا باغ ڈیم ضروری ہے،علی امین گنڈا پور

    پاکستان کے مستقبل کےلیےکالا باغ ڈیم ضروری ہے،علی امین گنڈا پور

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سب کو مطمئن کرکے آپ کو کالا باغ ڈیم جیسا پروجیکٹ اپنے بچوں، نسلوں اور پاکستان کے لیے کرنا چاہیے۔

    اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ صوبائیت کے چکر میں پورے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، پورے پاکستان کے فائدے کو پیچھے نہیں دھکیل سکتا، جب پاکستان کا فائدہ ہے تو پاکستان کے فائدے کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا، کسی کی اپنی ذاتی یا صوبائیت کی وجہ سے، سب کو مطمئن کرکے کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے کو اپنے بچوں اور پاکستان کے مستقبل کےلیے بننا چاہیے۔ تمام کو اپنے حقوق کے مطابق تحفظات کو دور کرکے کالا باغ ڈیم جیسا پروجیکٹ کرنا چاہیے۔

  • قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی،خواجہ آصف

    قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر کمرشل تعمیرات کی گئیں، دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز بنائی گئیں جس سے حالیہ سیلاب میں تباہی وبربادی ہوئی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں حالیہ سیلابی صورتحال پر بحث کی تحریک پیش کی گئی، حالیہ سیلابی صورتحال پر بحث کی تحریک وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کی،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیلابی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفت قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے اعمال ہیں کہ ہم اتنی بڑی آفت کا سامنا کر رہے ہیں، ہم نے دریاؤں پر ہوٹل بنالیے ہیں۔دریاؤں کے راستوں کو تنگ کرکے ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنائی جا رہی ہیں، نالوں کے اندر پلاٹ بناکر بیچ دیے گئے، جب آپ قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی۔سیلاب جب بھی آتا ہے تو کہا جاتا ہے اتنے ارب ڈالر کا نقصان ہوگیا، ہر سال سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہم دنیا اور یو این سے مدد مانگتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے،دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنائی گئیں، سیالکوٹ میں دریا کے راستوں کو آباد کردیاگیا ہے لیکن ہم نے گزشتہ برسوں میں تجاوزات کے خلاف کتنی کارروائیاں کیں، ملک میں بڑے ڈیم صرف آمروں کے دور میں بنائے گئے کیونکہ ان کے پاس طاقت ہوتی ہے اور وہ اس طاقت کے ذریعے قومی اتفاق رائے پیدا کرا لیتے ہیں، لیکن سیاست دان اختلافات اور سیاسی دکانداری کی وجہ سے قومی معاملات پر یکجہتی قائم نہیں کر پاتے،اب وقت آگیا ہے کہ قومی اتفاق رائے سے نئے ڈیمز تعمیر کیے جائیں تاکہ مستقبل میں تباہ کن سیلابی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔؎

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ اگر کہیں کوئی نہر یا ڈیم بنانے کی بات کی جائے تو سڑکیں نہیں بند کرنی چاہییں، ہمیں فوری طور پر چھوٹے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، کیوں کہ 10 سے 15 سال انتظار کرتے رہے تو سب کچھ ڈوب جائےگا۔

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیپرا کو طلب کر لیا

    سینیٹ قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیپرا کو طلب کر لیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری اجلاس میں سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ جو ادارے آج منافع میں ہیں، ضروری نہیں کہ آئندہ بھی رہیں، حکومت کی سوچ ہے کہ بجلی، بسیں یا جہاز چلانا ہمارا کام نہیں، جو کمپنی منافع میں نہ ہو وہ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے دلچسپی کی حامل ہے۔

    سینیٹر افنان اللّٰہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں جنریشن کمپنیوں (جنکوز) کی نجکاری کا ایجنڈا زیر بحث آیا، سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ جنکوز کے 2 پلانٹس پرائیویٹائزیشن لسٹ پر ہیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری نے اگلے اجلاس میں چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا، چیئرمین نجکاری کمیٹی کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیپرا کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیتے ہیں،جوائنٹ سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ اس وقت ڈسکوز اور جنکوز کی پرائیویٹائزیشن ہورہی ہے، نندی پور کے 8 ایشوز حل کرلیے،9 رہتے ہیں، گڈو کے 9 میں سے 4 ایشوز حل کرلیے ہیں،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سوال کیا کہ نجکاری کرکے یہ نیشنل گرڈ میں رہے گا یا الگ سے کوئی پیکج ہے؟ جس کے جواب میں سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ ڈسکوز پر فنانشنل ایڈوائزر ہائر ہوا ہے،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے پوچھا کہ تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ کیسے ہوا؟ سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے جواب دیا کہ نجکاری کا اعلیٰ سطح پر فیصلہ ہوا، کابینہ نے فیصلہ کیا، جب یہ پلانٹس پرائیویٹ سیکٹر میں جائیں گے توحکومت کو ریونیو ملے گا، پرائیویٹ سیکٹر ایفیشینسی لاتا ہے، ریکوری کی پوزیشن بہتر ہوگی۔

    اجلاس میں شرکاء کو پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن حکام نے بریفنگ دی، چیف فنانشل آفیسر پی ایم ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہمارا اس سال کا ریونیو 5.4 بلین روپے ہے، جس پر چیئرمین نجکاری کمیٹی نے کہا کہ ایف سی سے بات کر کے مائننگ کرنے والوں کے لیے ریٹس بہتر کروالیں،ایڈیشنل سیکریٹری دفاع نے کہا کہ اگر آپ کوئی علاقہ پوائنٹ کر دیں جہاں ایف سی کے ریٹ زیادہ ہیں، جواب میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ایجنڈا داخلہ کمیٹی میں بہتر ڈسکس ہوسکتا ہے،چیف فنانشل آفیسر پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ 15لاکھ ٹن ہماری نمک کی پیداوار ہے، نجکاری کے حق میں نہیں ہیں، ابھی منرلز پر کام کر رہے ہیں،سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ یہ صوبائی سبجیکٹ ہے تو وفاق کو پیسے کس مد میں مل رہے ہیں، جواب میں چیف فنانشل آفیسر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ رائلٹی صوبوں کو جاتی ہے، ٹیکسز وفاق کو جاتے ہیں،کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ تجویز ہے کہ پھر پی ایم ڈی سی کو نجکاری لسٹ سے نکال دیا جائے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو،30 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو،30 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا

    ،پنجاب کے 25 سیلاب متاثرہ اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، 30ہزار سے زائد شہریوں کو کشتی سروس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا،ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی گئی،مرکزی مسلم لیگ کےمیڈیکل کیمپوں میں6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھ کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کی کشتی سروس جاری ہے،10 ہزار سے زائد رضاکارامدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، لاہورکے علاقے موہلنوال میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ٹینٹ سٹی قائم کی گئی ہے،ٹینٹ سٹی میں ہزاروں سیلاب متاثرین مقیم ہیں،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں،مرکزی رہنما محمد سرور چوہدری، انجینئر حارث ڈار، حمید الحسن، تابش قیوم و دیگر بھی نگرانی کر رہے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ نے ٹینٹ سٹی کا دورہ کیا،قاری محمد یعقوب شیخ نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور ریسکیو و ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اور لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے موہلنوال ٹینٹ سٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب سے جہاں بھی تباہی ہوئی،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار وہاں پہنچے،لاہور میں خیمہ بستی میں متاثرین کو تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،300 خیمے لگ چکے ہیں، اس سے زیادہ اور لگا رہے ہیں،خیموں میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے، میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے،متاثرین میں کپڑے بھی تقسیم کر رہے ہیں،بچوں کو دودھ اور دیگر اشیا بھی دے رہے ہیں،

    شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملتان کی جانب سے بستی لنگڑیال، بستی موضع ہمروٹ اور بستی محمد پور گھوٹہ کی خیمہ بستی میں سیلاب متاثرین میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا جارہا ہے،مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری،صدر وسطی پنجاب حمیدالحسن نے اوکاڑہ کا دورہ کیا،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے امدادی سرگرمیوں کاجائزہ لیا،کیمپ میں‌کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے،میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے،قصورمیں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 300 افراد کو ریسکیو کیا،20 ہزار افراد میں کھانا تقسیم کیا گیا،قصور میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام 350 سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا، دریا ئےستلج تلوار پوسٹ گاؤں چندہ سنکھ میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سےمتاثرین میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ چیچہ وطنی،چنیوٹ کی جانب سے سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کیا گیا،بہاولپور میں تیرہ پتی جھوک شیرا ( ڈیرہ بکھا ) ضلع بہاولپور کے سیلاب زدگان میں کھانا تقسیم کیا گیا، نواب زادی سائرہ عباسی نےبہاولپور میں‌مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ کا دورہ کیا، مظفرگڑھ میں‌رات کے وقت بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن میں متحرک رہے، ساہیوال کی بستی اورنگ آباد میں واٹر بوٹ کے ذریعے متاثرہ عوام کو کھانا فراہم کیاگیا،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے گاؤں پٹھانوالہ سرگودھا میں سیلاب متاثرین میں کھانے کی تقسیم کی گئی،مرکزی مسلم لیگ سندھ کی طرف سے روہڑی میں فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا،مسلم یوتھ لیگ بہاول نگر کے زیر اہتمام سیلاب زدگان کے جانوروں کے لیے چارے کی تقسیم کی گئی،بہاولنگر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،ملتان ، بستی لنگڑیال قاسم بیلہ کے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا گیا،جامع آباد کے دور دراز علاقوں کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پہنچ گئے،پاکپتن دریائے ستلج منچن آباد پل پر چوک امیر اہلو کا میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں.بہاولنگر میں ایک کشتی کے ذریعے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکا ر سیلاب متاثرین کو ریسکیو کر رہے ہیں،3 ہزار سے زائد افراد میں کھانا تقسیم کیا گیا،دو میڈیکل کیمپوں میں دو سو سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،بہاولنگر میں جانوروں کے چارہ بھی بڑی تعداد میں تقسیم کیا گیا،سکھر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر مرکزی مسلم لیگ سندھ نے بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے خیموں کی بڑی کھیپ سکھر پہنچا دی گئی ہے، جبکہ فوری امداد کی فراہمی کے لیے فلڈ ایمرجنسی ریلیف سینٹر بھی قائم کردیا گیا ہے۔عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور مشکلات کم کرنے کے لیے دریائے سندھ کے کناروں پر 10 مقامات پر فری کشتی سروس شروع کردی گئی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق ریلیف آپریشن کو مزید وسعت دی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جاسکے.

  • قدرتی آفات ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔سبیل اکرام

    قدرتی آفات ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔سبیل اکرام

    معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ اجتماعی توبہ و استغفار ہی قدرتی آفات سے نجات کا ذریعہ ہے، حالیہ سلاب، موسلا دھار بارشوں اور دیگر قدرتی آفات ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔ انسان جب اپنے رب سے غافل ہوجاتا ہے تو زمین و آسمان کی قوتیں تنبیہ کے طور پر متحرک ہوتی ہیں تاکہ انسان رجوع الی اللہ کرے۔ اس موقع پر سب سے زیادہ ضرورت اجتماعی توبہ و استغفار اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کے ساتھ جھکنے کی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ہر بڑے حادثے اور آفت کے بعد قوم نے عارضی طور پر بیداری کا مظاہرہ کیا، لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آئے ہم دوبارہ غفلت اور بے فکری کا شکار ہوگئے۔ یہی روش ہمیں بار بار آزمائشوں میں مبتلا کررہی ہے۔ قدرتی آفات ہمیں اپنی اجتماعی روش پر غور کرنے اور اصلاح احوال کا پیغام دیتی ہیں۔ اگر ہم نے اجتماعی طور پر توبہ استغفار نہ کیا تو آئندہ نسلوں کو مزید بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ محض حکومتی امداد، ریلیف کیمپ اور وقتی منصوبے مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں۔ جب تک ہم بحیثیت قوم اپنے گناہوں سے رجوع کرکے عدل، دیانت اور امانت کو زندگی کا شعار نہیں بناتے تب تک یہ آزمائشیں ختم نہیں ہوں گی۔ اللہ کی مدد تب ہی شامل حال ہوتی ہے جب بندے اپنے اعمال درست کریں اور اجتماعی طور پر نیکیاں اپنائیں۔انہوں نے تمام مکاتب فکر کے علما، سماجی رہنماؤں اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم کو اجتماعی دعا، توبہ اور اصلاح احوال کی طرف بلائیں۔ ہمیں مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں میں خصوصی اجتماعات کا اہتمام کرنا چاہیے جہاں بارشوں اور سلاب سے متاثرہ افراد کے لیے دعائیں بھی ہوں اور ان کی عملی امداد بھی۔ یہ وقت محض تنقید یا سیاست کرنے کا نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کا ہے۔ اگر ہم نے سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کیا تو نہ صرف موجودہ آفات سے نجات ملے گی بلکہ ملک میں رحمت، برکت اور خوشحالی کے دروازے بھی کھلیں گے۔