Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ

    بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ

    مودی راج میں بھارت میں بڑھتاجنسی استحصال،بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ ہو گئی،

    بی جے پی کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ نے بھارت کو جنسی زیادتی کا گڑھ بنا دیا ہے ،مودی سرکار بچوں سے جنسی زیادتی جیسے حساس معاملات پر فوری کارروائی کرنے میں ناکام ہے،ہندوستان ٹائمز کے مطابق تامل ناڈو میں 10 سالہ بچی کا جنسی استحصال، پولیس نے 5 دن بعد مقدمہ درج کیا ،ترولور ضلع میں 10 سالہ بچی کے ساتھ اسکول سے گھر واپسی کے دوران جنسی زیادتی کی گئی،امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر حزبِ اختلاف کی جانب سے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن پر کڑی تنقید کی گئی ہے،یونیسف رپورٹ 2005–2013 کے مطابق: بھارت میں 43 فیصد لڑکیاں 19 سال کی عمر سے پہلےہی جنسی استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں*نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق
    2019 میں بچوں کے خلاف جرائم میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا، جس میں 148,185 کیسز رپورٹ ہوئے،مہاراشٹرا، اتر پردیش، مادھیہ پردیش، کرناٹکا اور گجرات میں2017 سے 2019 کے دوران سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، بھارت میں 2016 سے 2022 کے درمیان بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں 96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بین الاقوامی تنظیم فئیر پلینیٹ کے مطابق بھارت میں صرف 2022 میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 38,911 مقدمات درج ہوئے،

    بھارت میں جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے،مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث بھارت میں جنسی استحصال کے واقعات میں مسلسل اضافہ ایک المیہ بن چکا ہے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر ریاستی ناکامی پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں،عورتوں اور بچوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات ہندوتوا سرکار اور شدت پسند معاشرے کی علامت ہے،

  • بھارتی فضائیہ کی ناکامی، مودی سرکار کی پردہ پوشی بے نقاب

    بھارتی فضائیہ کی ناکامی، مودی سرکار کی پردہ پوشی بے نقاب

    معرکہ حق کے دوران پاکستان کے ہاتھوں جدید طیارے گنوا کر بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامناکرنا پڑا

    برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کی عبرتناک ناکامی کی قعلی کھل گئی ،رپورٹ نے مودی حکومت کی پردہ پوشی اور بھارتی فضائیہ کی جنگی حماقتوں کو بے نقاب کر دیا،پاکستان نے معرکہ حق میں بھارتی فضائیہ کے جدید طیارے گرا کر دشمن کی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا،دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق؛”بھارت کے کم از کم پانچ طیارے تباہ ہوئے جن میں مہنگے رافیل بھی شامل تھے”،بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل انیل چوہان نے اعتراف کیا کہ جنگی غلطیوں سے طیارے کھوئے، بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے تسلیم کیا کہ سیاسی قیادت نے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کی اجازت نہ دی، بھارتی رافیل طیارے سپیکٹرا وار سسٹم کے باوجود پاکستانی میزائلوں کو روک نہ سکے، بھارتی طیاروں پر نہ میٹیور میزائل نصب تھے نہ جدید سافٹ ویئر اور الیکٹرانک جمنگ سسٹم، بھارت میں رافیل طیارے کی ناکامی پر فوجی حلقوں میں داسوٹ کمپنی پر تنقید، سافٹ ویئر شیئر نہ کرنے کا الزام ہے،چین نے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ رئیل ٹائم ٹارگٹنگ ڈیٹا بھی فراہم کیا،

    مودی سرکار کی ناکامی پر بھارت میں آئندہ 114 طیارے خریدنے کی ڈیل پر سوالات اٹھنے لگے،بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی سرکار ناکامی چھپانے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے سے قاصر ہے ،بھارتی ریاست پنجاب کے علاقے اکالیا کلان (بھٹنڈا) میں بھارتی طیارے کا ملبہ گرا، مگر متاثرہ خاندان آج بھی معاوضے کے منتظرہے،

  • بھارتی اداروں کا شرمناک کردار، نسل پرستی اور ریاستی جبر بے نقاب

    بھارتی اداروں کا شرمناک کردار، نسل پرستی اور ریاستی جبر بے نقاب

    مودی سرکار کے دورِ اقتدار میں پولیس عوام کو ریاستی جبر سے کچلنے کے لیے نسل پرستانہ مثالوں کا سہارا لینے لگی

    حال ہی میں بھارتی پنجاب پولیس نے سیاہ فام جارج فلوئڈ کی ہلاکت کا منظر عوام کو دھمکانے کے لیے استعمال کیا،جارج فلوئڈ کی بیٹی گیانا فلوئڈ نے بھارتی پولیس کی ٹوئٹ کو شرمناک اور توہین آمیز قرار دیا،گیانا فلوئڈ نے کہا کہ یہ پوسٹ میرے والد اور لاکھوں امریکیوں کی جدوجہد کی توہین ہے،پنجاب پولیس کی ٹوئٹ میں پاکستان کا پرچم تھامنے والوں کو یکساں انجام بھگتنے کی سخت وارننگ دی گئی،جارج فلوئڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کو بھارتی پولیس نے فخر سے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا،بھارتی پنجاب پولیس کی حالیہ ‘ایکس’ پوسٹ، انسانی حقوق کی کھلی تضحیک اور ریاستی دہشتگردی کا واضع ثبوت ہے،سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کے بعد پنجاب پولیس نے متنازعہ ٹوئٹ کو ہٹا دیا

  • بھارت کی پائیدار ترقی میں محدود پیش رفت، ماحولیاتی چیلنجز بڑھنے لگے

    بھارت کی پائیدار ترقی میں محدود پیش رفت، ماحولیاتی چیلنجز بڑھنے لگے

    بھارت کی پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت میں نمایاں سستی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی بحران اور آلودگی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر شائع ہونے والی 2025 کی ایک رپورٹ میں بھارت کو 167 ممالک کی فہرست میں 99 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جو موجودہ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کی ناکامی کا عالمی ثبوت تصور کیا جا رہا ہے۔

    بھارتی جریدے اسکرول ان کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے پائیدار ترقی کے متعدد اہداف میں سست روی پائی جا رہی ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بہتری کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے صرف ایک تہائی اہداف درست سمت میں ہیں، جبکہ باقی اہداف منفی رجحانات کا شکار ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت وہ چند ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ کے بعد بھارت تیسرا سب سے بڑا کاربن خارج کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ خاص طور پر، ملک میں ایندھن اور سیمنٹ کے استعمال کی وجہ سے فی کس کاربن اخراج بھی کافی زیادہ ہے۔ماحولیاتی چیلنجز کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی 70 فیصد سے زائد بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا ہوتی ہے، جو ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت نے زیرو ہنگر، صنعت و انفراسٹرکچر کی بہتری، ذمہ دار کھپت، اور زمین پر زندگی جیسے کلیدی پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت روک دی ہے۔ اگر پالیسیوں میں فوری تبدیلی نہ آئی تو بھارت 2030 تک ان اہداف کے حصول سے محروم رہ جائے گا۔

    اسکرول ان کے مطابق بھارت میں فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت کے تمام 1.4 ارب لوگ مضر صحت فضائی آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، بھارت میں میٹھے پانی کے ذخائر کا غیر ذمہ دارانہ استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے پانی کا بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مودی سرکار کی کارکردگی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل، خاص طور پر پانی کو سیاسی اور اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پائیدار ترقی کے دعوے صرف زبانی بیانات تک محدود ہیں۔ ماحولیاتی تباہی اور ناقص پالیسیاں مودی حکومت کے ترقیاتی ماڈل کو عالمی سطح پر بے نقاب کر چکی ہیں۔

    اگر بھارت نے اپنی ماحولیاتی پالیسیاں فوری طور پر بہتر نہ کیں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے، تو یہ نہ صرف ملک بلکہ خطے کے لیے بھی ماحولیاتی بحران کی صورت میں ایک بڑا خطرہ بن جائے گا۔ عالمی رپورٹیں اور مقامی تحقیق ایک آواز میں خبردار کر رہی ہیں کہ تبدیلی اب وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

  • ہنجروال میں ہنی ٹریپ کا مکروہ جال بے نقاب، دو خواتین سمیت چار ملزمان گرفتار

    ہنجروال میں ہنی ٹریپ کا مکروہ جال بے نقاب، دو خواتین سمیت چار ملزمان گرفتار

    ہنجروال پولیس نے ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر محمد عمر کی خصوصی ہدایت پر ہنی ٹریپ کے مکروہ دھندے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ اس گروہ نے شہریوں کو دھوکہ دے کر حبسِ بے جا میں رکھا، نازیبا ویڈیوز بنائیں، تشدد کیا اور پھر بلیک میلنگ کے ذریعے بڑی رقم بٹوری۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق مرکزی ملزمہ روبینہ نے شہری وقار کو فون پر ورغلا کر اپنے مکان پر بلایا جہاں پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت اسے قید کیا گیا۔ اس دوران اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نازیبا ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس کے بعد ملزمان نے ان ویڈیوز کی بنیاد پر وقار کو دھمکیاں دیں اور رقم کی ادائیگی پر مجبور کیا۔حیران کن بات یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزمان میں سے ایک سول ڈیفنس کا اہلکار بھی شامل ہے، جو خود کو پولیس کا اہلکار ظاہر کر کے متاثرین کو خوفزدہ اور بلیک میل کرتا رہا۔

    پولیس نے متاثرہ شہری کے شکایت پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر محمد عمر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے ملزمان کے خلاف آگے آئیں تاکہ قانون کے کٹہرے میں لائے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہریوں کو بلیک میل کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا یہ گروہ ماضی میں بھی متعدد شہریوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے نقصان پہنچا چکا ہے۔ پولیس نے مزید متاثرین سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کیس کو مکمل منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔مزید انکشافات جلد متوقع ہیں، اور متاثرین کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے تاکہ اس طرح کے مکروہ جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  • بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ پر قتل کی کوشش کا مقدمہ درج

    بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ پر قتل کی کوشش کا مقدمہ درج

    مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع کے سوری علاقے سے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ حسین جہاں پر اپنے پڑوسی کے قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ زمین کے تنازعے کے باعث درج کیا گیا ہے جس میں قتل کی کوشش، مجرمانہ سازش اور حملے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ واقعہ مغربی بنگال کے سوری علاقے کے وارڈ نمبر 5 کا ہے جہاں حسین جہاں نے مبینہ طور پر ایک متنازعہ پلاٹ پر تعمیراتی کام شروع کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق زمین کے تنازع پر کچھ دن قبل حسین جہاں اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا۔ حسین جہاں نے الزام لگایا ہے کہ گڈو بی بی نامی خاتون ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ زمین سابق بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ حسین جہاں کی بیٹی عرشی جہاں کے نام پر ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ جب حسین جہاں اور ان کی بیٹی نے تعمیراتی کام روکنے کی کوشش کی تو پڑوسی خاتون پر حملہ بھی کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • 10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج "یوم الحاق پاکستان” اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ جموں کشمیر کی بھارتی قبضے سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے 19 جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے تاریخی اجلاس میں متفقہ طور پر پاکستان کے ساتھ جموں کشمیر کے الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔یہ قرارداد جموں کشمیر اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی ، جغرافیائی ، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کی عکاس ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت کی چیرہ دستیوں کے باوجود کشمیری عوام کا الحاق پاکستان کا خواب زندہ و جاوید ہے ، وہ اپنے 19 جولائی 1947ء کے عہد پر قائم و دائم ہے۔انہوں نے کہا کہ عظیم آزادی پسند قائد سید علی گیلانی شہید کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیریوں کی پہچان بن چکا ہے ، بھارت کا بے انتہا جبر و ستم انکے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ اس کے تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یوم الحاق کشمیر ہر سال 19 جولائی 1947 میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سری نگر کے اجلاس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کشمیر کے غیور عوام نے ریاست جموں و کشمیر کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی جو داستان 1947ء میں شروع ہوئی تھی وہ آج بھی نہ صرف جار ی و ساری ہے بلکہ10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی اور سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں اضافہ ہو اہے ۔ آج کشمیریوں کی تیسری نسل بھی اپنے حق خوداردیت کے حصول کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی طرح پرعزم ہے.دہائیوں پہ محیط غیور کشمیریوں کی غیر قانونی تسلط کے خلاف جدوجہد ان کی جذبہ حب الوطنی اور آزادی کے لیے سچی طلب کی غمازی کرتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل ہی کشمیریوں کے حقوق اور خطے میں امن کا ضامن ہے۔ حکومت اور پاکستان کے عوام کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے.

  • کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر جاری مہم جوئی کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین جان کی بازی ہار گئے۔

    شگر کے ڈپٹی کمشنر عارف حسین نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کے ٹو پر مہم کے دوران کل چار کوہ پیماؤں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔ ان میں سے تین غیر ملکی کوہ پیما برفانی تودے سے بچ نکلے اور انہیں بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ہے۔ تینوں زخمی کوہ پیماؤں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔بدقسمتی سے مہم کے دوران ایک پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ محمد افتخار حسین سدپارہ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی کمیونٹی میں انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر عارف حسین کے مطابق جاں بحق کوہ پیما کی میت آج اسکردو منتقل کی جائے گی اور ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں سدپارہ میں کی جائے گی۔ امدادی ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں۔

    کے ٹو کی مہم جوئی میں یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات اور موسمی حالات کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بلند ترین پہاڑوں پر۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کے جذبے کو سراہتے ہوئے دعا ہے کہ آئندہ مہمات میں ایسی حادثاتی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • پاک بھارت جنگ،5 طیارے تباہ ہوئے تھے،ٹرمپ کی تصدیق

    پاک بھارت جنگ،5 طیارے تباہ ہوئے تھے،ٹرمپ کی تصدیق

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت کے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ری پبلکن اراکین کانگریس سے خطاب کے دوران سامنے آیا، جہاں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ پاک بھارت جنگ کے دوران کل 5 طیارے تباہ ہوئے تھے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہو رہی تھی اور اس جنگ کو روکنا ضروری تھا، جس کے لیے انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی رابطہ کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ملکوں کو خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی نہ کی گئی تو امریکا ان سے تجارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے، جس کے بعد 10 مئی کو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔

    اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا اور اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔امریکا نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی لیکن پاکستان پر الزام عائد کرنے کے بھارتی دعوے کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، بھارت نے اپنی طاقت اور جارحیت کے نشے میں 7 مئی کو پاکستان پر جنگ مسلط کردی، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔

    7 مئی کے بعد پاک بھارت فضائی جنگ میں دونوں طرف سے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کا استعمال ہوا۔ پاکستان نے بھارت کے معروف لڑاکا طیارے رافیل سمیت 5 طیارے مار گرائے تھے،بھارت طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کرنے سے ہمیشہ گریز کرتا رہا ہے، مگر صدر ٹرمپ کی حالیہ تصدیق نے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ واقعی بھارت کے 5 طیارے تباہ ہوئے تھے۔

  • کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

    کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 40 ارب روپے کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 8 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں 2 سرکاری افسران، 2 بینکرز اور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ اسکینڈل صوبے کا سب سے بڑا مالیاتی کرپشن کیس قرار دیا جا رہا ہے جس کی تحقیقات کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    گرفتار ملزمان میں شفیق الرحمان قریشی (ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر)،محمد ریاض (سابق کیشیئر بینک اور ڈمی کنٹریکٹر)،فضل حسین (آڈیٹر، اے جی آفس پشاور)،طاہر تنویر (سابق مینیجر بینک)،دوراج خان (ٹھیکیدار)،عامر سعید (ٹھیکیدار)،صوبیدار (ٹھیکیدار)،محمد ایوب (ٹھیکیدار)شامل ہیں،ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی چیکوں کی منظوری اور دستخط کے ذریعے جعلی تعمیراتی فرمز کا استعمال کرتے ہوئے اربوں روپے کی خردبرد کی۔ مالیاتی دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت سے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فنڈز منتقل کیے گئے۔ اس پورے عمل میں مواصلات و تعمیرات ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی بھی شمولیت شامل ہے، جنہوں نے اس اسکینڈل کو ممکن بنایا۔

    سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ شفیق الرحمان قریشی نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکوں کی منظوری اور دستخط میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ دیگر ملزمان نے مالیاتی دھوکہ دہی اور بینک کی سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس میگا کرپشن اسکینڈل میں مزید گرفتاریوں کا امکان موجود ہے۔ ملزمان سے مزید شواہد حاصل کرنے اور مالی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کرپشن کے خلاف حکومت کی سنجیدہ اور مؤثر کوششوں کا حصہ ہے اور عوام کے اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔