Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیپٹن عبدالرحیم شہید،  ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    کیپٹن عبدالرحیم شہید، ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    پاک فوج کے بہادر سپوت کیپٹن عبدالرحیم شہید، ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    پاکستانی قوم کیپٹن عبدالرحیم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے،راولپنڈی کینٹ میں موجود ایک چوک کا نام کیپٹن عبدالرحیم شہید کی یاد میں رکھا گیا ہے ،کیپٹن عبدالرحیم شہید 2 دسمبر 1959ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں پیدا ہوئے، 10 جون 1983 ء کو کیپٹن عبدالرحیم شہید نے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا،کیپٹن عبدالرحیم شہید کی میراث غیر معمولی بہادری کے کارناموں سے بھری ہے،دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک کیپٹن عبدالرحیم شہید نےپاکستان آرمی ایوی ایشن میں خدمات سرانجام دیں،کیپٹن عبدالرحیم شہید کا پرواز کا وسیع تجربہ تھا ،کیپٹن عبدالرحیم شہید کافکسڈ ونگ پر 800 گھنٹے جبکہ روٹری ونگ پر 4000 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا،1985ء میں آرمی ایوی ایشن میں شمولیت کے بعد کیپٹن عبدالرحیم نے لاما ہیلی کاپٹر کی پروازیں سکردو میں شروع کیں، آپ کا شمار ہیلی کاپٹرز کو اڑانے والے صفِ اول کے پائلٹس میں رہا

    1999 میں، کیپٹن عبدالرحیم شہید کو اسکردو سے تقریباً 14,000 فٹ کی بلندی پر ایئر فورس کے ایک ریڈار کو منتقل کرنے کا اہم مشن سونپا گیا،8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے دوران آرمی ایوی ایشن کے *آپریشن لائف لائن* میں کیپٹن عبدالرحیم شہید صف اول کے پائلٹ تھے،کیپٹن عبدالرحیم نے 8 سے 15 اکتوبر 2005 کے دوران 22,500 کلوگرام امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا،انہوں نے اسی عرصے میں 229 میتوں کی منتقلی کی،زلزلے کے پہلے سات دنوں میں انہوں نے 32 گھنٹے کی پرواز مکمل کی،یہ روزانہ اوسطاً 4 سے 5 گھنٹے کی مسلسل فلائنگ اور ریسکیو مشن کے برابر تھا،15 اکتوبر 2005 کو امدادی مشن کے دوران کیپٹن عبدالرحیم شہید کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث قریبی پہاڑی سے ٹکرا گیا ،اس افسوسناک حادثے میں تمام سات افراد، جن میں کیپٹن عبدالرحیم اور دیگر عملے کے ارکان شامل تھے، شہید ہو گئے،1992 میں، کیپٹن عبدالرحیم شہید نے برفانی تودے کی زد میں آنے والے 21,000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک پوسٹ سے تین افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا ،اس کامیاب ریسکیو آپریشن پر کیپٹن عبدالرحیم شہید کو ستارہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا

    کیپٹن عبدالرحیم شہید کا منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ انہیں تمغہ بسالت کے اعزاز سے ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ نوازا گیا،تمغہ بسالت کا پہلا اعزاز انہیں شہادت سے قبل، 2005 کے دوران سیاچن میں 2,000 گھنٹے کی محفوظ پرواز مکمل کرنے پر دیا گیا،اسی بے مثال کردار کے اعتراف میں، صدرِ پاکستان نے کیپٹن عبدالرحیم شہید کو 2006 میں بعد از شہادت تمغۂ بسالت سے نوازا،دھمیال بیس راولپنڈی میں یادگارِ شہداء کیپٹن عبدالرحیم شہید کے نام سے منسوب ہے جسے ان کے بیٹے نے ڈیزائن کیا ہے،کیپٹن عبدالرحیم شہید صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ غیر متزلزل حوصلے کی علامت تھے،

  • بھارتی سی آر پی ایف  اہلکار کے ہاتھوں ساتھی خاتون افسرکا قتل

    بھارتی سی آر پی ایف اہلکار کے ہاتھوں ساتھی خاتون افسرکا قتل

    مودی کابھارت خواتین کے لیے جہنم، اسپتال، تھانہ، پبلک بس یا کارپوریٹ دفتر کوئی جگہ محفوظ نہیں

    نربھیا دہلی کی بس میں درندگی کا شکار بنی، کولکتہ کی ڈاکٹر اسپتال میں ماری گئی، مودی سرکار "بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ” کا جھوٹا راگ الاپتی رہی جبکہ بھارتی خواتین قتل ہو رہی ہیں ،بھارتی فورسز میں ذہنی تناؤ، نفسیاتی بگاڑ اور اخلاقی گراوٹ بڑھ چکی،این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق: "گجرات کے ضلع کَچھ میں خاتون پولیس افسر اپنے سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) ساتھی کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا،سی آر پی ایف کا کانسٹیبل ،دلِیپ ڈانگچیا، ، قتل کا اعتراف کر کے خود تھانے پہنچا ،25 سالہ ارونا بین نتوبائی کَچھ پولیس اسٹیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرکے طور پر خدمات انجام دے رہی تھی،ارونا بین اور ساتھی دلِیپ میں معمولی بات پر شروع ہونے والی تکرار سنگین شکل اختیار کر گئی ،

    انجر ڈویژن کے ڈی ایس پی مکیش چوہدری کے مطابق "جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ غصے میں آ کر دلیپ نے ارونا بین کا گلا گھونٹ دیا” ملزم، سنٹرل ریزرو پولیس فورس سی آر پی ایف میں منی پور میں تعینات ہے، دونوں 2021 سے انسٹاگرام کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور تب سے ایک ساتھ رہ رہے تھے،

    منی پور اور کشمیر میں برسوں کے ظلم و جبر نے سی آر پی ایف کے اہلکاروں کو ذہنی طور پر معذور اور جذباتی طور پر بے حس کر دیا ہے،سی آر پی ایف کے اہلکار صرف کشمیر میں نہیں، اب بھارت کی اپنی بیٹیوں کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں

  • بھارتی نجومی نیویارک میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    بھارتی نجومی نیویارک میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    بھارت کا فراڈ کلچر اب محض اندرونی بحران نہیں بلکہ ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے

    یوگا اور بالی ووڈ کے پیچھے چھپا مودی کا بھارت، حقیقت میں جعلسازوں کا بین الاقوامی نیٹ ورک بن چکا ہے،”وِشوا گرو” کا نعرہ لگانے والا بھارت، اب مودی کی قیادت میں دنیا کا سب سے بڑا فریب گرو بن چکا ہےمجعلی عملیات اور جادو ٹونے کے ذریعے مالی فراڈ بھارتی نجومیوں کی پہچان بن چکی ہے،امریکی خبر رساں ایجنسی سی بی ایس نیوز کے مطابق:بھارتی شہری ہیمانتھ کمار منیپا نے روحانی عملیات کےنام پر 68 سالہ امریکی خاتون سے 60,000 ڈالرز لوٹ لیے،بھارتی نجومی نے "بری نظر” کے خاتمے، برکتوں اور روحانی تحفظ کاجھانسہ دے کر خاتون سے پیسے بٹورے،دھوکہ دہی کا آغاز $20,000 سے ہوا، بعد میں مزید $42,000 مانگے گئے،

    نیویارک پولیس کے مطابق:”منیپا نے 3 جولائی کو فال نکالنے کی خدمات کے عوض خاتون سے $20,000 وصول کیے”جمعرات کے روز مزید "روحانی خدمات” کے لیے ساؤتھ براڈوے پر واقع "انجنہ جی” کے پاس دوبارہ گئی, منیپا نے خاتون سے مزید $42,000 ادا کرنے کا مطالبہ کیا، اور اُسے براڈوے پر واقع ایک بینک لے جایا گیا تاکہ وہ رقم نکال سکے، پولیس نے کارروائی اس وقت کی جب خاتون بینک سے رقم نکالنے گئی اور شبہات پیدا ہوئے، نیویارک پولیس نے جعلی نجومی ہیمنت کو ہِکس وِائل میں بینک کے باہر گرفتار کیا، نیویارک ریاستی قانون کے مطابق، روحانی طاقتوں کے جھوٹے دعوے اور ان پر پیسے لینا غیر قانونی ہے،

    دنیا کو یوگا اور شانتی سکھانے والا بھارت، اندر سے دھوکہ، فریب اور لوٹ مار کا گڑھ ہے،مودی کا بھارت اب سافٹ پاور نہیں، فراڈ پاور کے طور پر ابھر رہا ہے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر نوٹس جاری کیا،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس کی آئندہ سماعت ہو گی،

    عافیہ صدیقی کا کیس مقرر کرنے اور کاز لسٹ جاری نہ کرنے پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نےچیف جسٹس آفس پر اظہار برہمی کیا کہا آج کیس مقرر کیا لیکن کاز لسٹ ہی جاری نہیں کی گئیم کیا چیف جسٹس کے پاس کاز لسٹ پر دستظ کیلئے تیس سیکنڈز ہی نہیں؟ جج چھٹی کے دن عدالت میں انصاف مہیا کرنے کے لیے بیٹھنا چاہتاہے،ایک بار پھر ایڈمنسٹریٹیو پاور کو جوڈیشل پاور کے لیے استعمال کیاگیا، میں انصاف کو شکست کا سامنا نہیں کرنے دوں گا،ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے میں اپنی جوڈیشل پاورز کا استعمال کروں گا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا روسٹر چیف جسٹس آفس ہینڈل کرتا ہے،
    حکومت نے سپریم کورٹ میں میرے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے،جج اگر چاہے تو چھٹیوں میں بھی کام نہیں کر سکتا، میری چھٹیاں آج سے شروع ہونی تھیں، میں نے فوزیہ صدیقی کیس دیگر کیسز کے ساتھ آج مقرر کیا تھا،ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جوڈیشل پاورز کا بھرپور استعمال کروں گا،

    واضح رہے کہ عدالت نے 10 دن پہلے ہی واضح طور پر 21 جولائی کی تاریخ دی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے انتظامی اختیارات والوں نے بنچ دستیاب نہیں لکھ کر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت کی کازلسٹ ہی جاری نہیں کی

  • شاندانہ گلزار کے حق میں مظاہرہ، جرائم پیشہ افراد کی شرکت کا انکشاف

    شاندانہ گلزار کے حق میں مظاہرہ، جرائم پیشہ افراد کی شرکت کا انکشاف

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کے حق میں پشاور کے کوہاٹ روڈ پر منعقدہ مظاہرے میں جرائم پیشہ افراد کی شرکت سامنے آ گئی ہے، جو کہ اس احتجاج کی نوعیت اور مقاصد پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

    نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق، پولیس ریکارڈ اور ایس ایچ او کے بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاندانہ گلزار کے حق میں ہونے والے احتجاج میں وہ افراد بھی شریک تھے جن کا تعلق مختلف جرائم سے رہا ہے۔ پولیس نے ان افراد کے احتجاج میں شامل ہونے کو ان کی قانونی مشکلات سے بچنے کے لیے ایک حربہ قرار دیا ہے۔ایس ایچ او کے مطابق، احتجاج کا سہارا لینے والے کئی افراد پر مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اپنے خلاف قانونی کارروائیوں سے بچنے کے لیے اس مظاہرے میں شرکت کر رہے تھے۔ اس انکشاف نے سیاسی حلقوں میں خاصی ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے احتجاج کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاندانہ گلزار نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب بے بنیاد اور جھوٹے دعوے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس طرح کے جھوٹے الزامات کے ذریعے دباؤ میں لا کر راضی نامے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شاندانہ گلزار نے کہا کہ ان کا احتجاج قانونی اور جائز حقوق کے لیے تھا اور اس میں شامل تمام افراد قانون کی پابندی کرنے والے شہری تھے۔

    2013ء سے آپ کی حکومت ہے، کیا آج تک کوئی بڑا پراجیکٹ کیا؟جسٹس اعجاز انور کا شاہانہ گلزار سے استفسار
    علاوہ ازیں پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کی درخواست پر ایس ایچ او بڈھ بیر کو 23 جولائی کو طلب کرلیا،پشاور کی عدالت عالیہ میں پی ٹی آئی رکن اسمبلی شاندانہ گلزار کی ایس ایچ او بڈھ بیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست پر جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی نے سماعت کی،سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار عوامی نمائندہ ہیں اور عدالت سے کچھ عرض کرنا چاہتی ہیں۔

    درخواست گزار ایم این اے شاندانہ گلزار نے کہا کہ میرے حلقے میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں، 3 ماہ میں ان کا کچھ پتہ نہیں چلا،جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ کےحلقے میں شاید پاکستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے.جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ 2013ء سے آپ کی حکومت ہے، کیا آج تک کوئی بڑا پراجیکٹ کیا؟ وہاں دشمنیاں ہیں، لوگ قتل ہوئے، کیا سیاسی لوگوں نے آج تک اس کے حل کے لیے کوئی جرگہ کیا؟ ہمارے پاس جو رپورٹس ہیں ان کے مطابق آئس، اسلحہ اور ہوائی فائرنگ پر پابندی ہے، میں بھی اس حلقے سے ہوں، کیا وہاں پر کوئی یونیورسٹی، کالج، گرلز کالج یا پلے گراؤنڈ بنایا؟ آپ صرف اس طرح سے ایس ایچ او کا تبادلہ کروانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے، اگر اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر آئی تو ہم اس کو سن لیں گے، صرف الزامات پر ہم کسی کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دے سکتے۔ 50 سال سے اس علاقہ میں رہتا ہوں، مجھے وہاں کے حقائق معلوم ہیں، یہ بی بی شاید اس علاقہ میں رہتی بھی نا ہوں۔

    جس کے جواب میں درخواست گزار شاندانہ گلزار نے کہا کہ میں وہاں رہتی ہوں، وہاں پر میرا گھر ہے۔حلقے میں کام کے حوالے سے شاندانہ گلزار نے کہا کہ میں نے بڈھ بیر گرلز کالج اور زچہ و بچہ اسپتال وہاں پر منظور کروایا ہے۔جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ کو کوئی لیگل بات کرنی ہیں تو کریں، دیگر لوگ بیٹھے ہیں، ہم نے ان کو بھی سننا ہے۔درخواست گزار نے بتایا کہ وہاں پر ایس ایچ او کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اس پر تو حکومت نے انکوائری کا کہا ہے، ان کی رپورٹ آجائے گی نا۔عدالت نے سی سی پی کو طلبی نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جولائی کو ہونے والی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔

  • غیرت کے نام پر قتل کی ہر شکل، صورت میں شدید مذمت کی جانی چاہیے۔سپریم کورٹ بار

    غیرت کے نام پر قتل کی ہر شکل، صورت میں شدید مذمت کی جانی چاہیے۔سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان بلوچستان میں ایک بے گناہ اور معصوم عورت کے بہیمانہ قتل کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

    سپریم کورٹ بار کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ان متعدد واقعات میں سے ایک ہے جہاں ایک بے گناہ خاتون کو ایک بار پھر نام نہاد غیرت کے نام پر قتل جیسے نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل کا شکار بننا پڑا۔یہ ایسوسی ایشن یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کسی بھی صورت میں بلوچ یا کسی بھی صوبائی اورقومی ثقافت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا نہ تو کسی سماجی یا مذہبی روایت سے کوئی واسطہ ہے، اور نہ ہی یہ قانون یا آئینِ پاکستان کے تحت کسی طور جائز یا قابلِ قبول ہیں۔ اس قسم کے اقدامات خواتین کے خلاف بدترین تشدد کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اس جھوٹے تصور پر مبنی ہوتے ہیں کہ متاثرہ خاتون نے خاندان یا برادری کی عزت کو نقصان پہنچایا ہے۔یہ مسئلہ براہِ راست خواتین کے بااختیار ہونے اور انسانی حقوق سے متعلق ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کی ہر شکل اور صورت میں شدید مذمت کی جانی چاہیے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مضبوط قانونی ڈھانچہ وضع کیا جائے۔ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کا بار بار پیش آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ غیرت کے نام پر تشدد جیسی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود، کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود کو منصف، جیوری اور جلاد، کے طور پر پیش کرے۔ صرف ریاست ہی کو انصاف فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ یہ واقعات ریاست کی اس ناکامی کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ وہ معاشرے میں پائے جانے والے نقصان دہ اور غیر عقلی نظریات کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ ایک قومی اور سماجی شعور کا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے ریاست کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔جو لوگ اس سفاکانہ عمل میں ملوث ہیں، انہوں نے نہ صرف ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ ریاست کی عملداری کو بھی چیلنج کیا ہے۔ SCBAP صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کریں اور انہیں عبرتناک سزا دلوا کر ایسے غیر انسانی واقعات کا سدباب کریں۔

  • لوئر دیر ، دہشتگردوں کو علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم، تمام سیاسی جماعتیں امن کے لیے متحد

    لوئر دیر ، دہشتگردوں کو علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم، تمام سیاسی جماعتیں امن کے لیے متحد

    20 جولائی 2025 کو لوئر دیر کے علاقے کامبار بازار چوکی میں عوام کی جانب سے ریاست کے حق میں اور دہشتگردی کے خلاف اور امن کے حق میں ایک پرامن "پاسون” (اجتماع) کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد ریاستی اداروں سے اظہارِ یکجہتی اور دہشتگردوں کے خلاف عوامی ردعمل کا اظہار تھا۔

    یہ امن پاسون جماعت اسلامی، مقامی مشران، عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس میں تمام مقررین نے دہشتگردی کی کھل کر مذمت کی اور واضح مطالبہ کیا کہ خوارج فوراً علاقہ چھوڑ دیں۔ مقررین اور شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اپنے علاقوں میں اب دہشتگردی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

    پاسون کے دوران کسی قسم کی ریاست مخالف یا فوج مخالف نعرہ بازی نہیں کی گئی، بلکہ عوام نے واضح طور پر ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔

    بدقسمتی سے، پی ٹی ایم نے حسبِ معمول اس پرامن اجتماع کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور اسے سیکیورٹی اداروں کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کرنے کا جھوٹا پراپیگنڈا کیا۔ عوامی مؤقف اور پاسون کی حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا دراصل اس امر کا ثبوت ہے کہ پی ٹی ایم خوارج کا سیاسی چہرہ ہے اور اپنی مقبولیت ختم ہونے پر خود کو خبروں میں رکھنے کے لیے گمراہ کن اور منفی ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

    عوام نے آج یہ ثابت کر دیا کہ امن کے لیے وہ متحد ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

  • یہی وہ روشنی ہے

    یہی وہ روشنی ہے

    جب قدرتی آفات آتی ہیں تو صرف وہی جماعتیں انسانیت کی خدمت کا فریضہ بخوبی ادا کرتی ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کے درد کو محسوس کرتی ہیں،عوام کے ووٹوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں صرف بیانات،وعدے اور دعوے کرتی ہیں تو وہیں کچھ جماعتیں خدمت انسانیت کے فریضہ میں مصروف عمل ہوتی ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد جس انداز میں فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کا نام بھی ہے۔

    راولپنڈی، چکوال، جہلم اور گردونواح کے علاقے مون سون کی شدید بارشوں سے شدید متاثر ہوئے۔ کئی گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو گئیں، ندی نالے بپھر گئے، سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور متعدد خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔چکوال کے علاقے کھیوال میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جہاں محمد افضل کا بیٹا اور پوتا بارش کے باعث چھت گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ تھا۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہو کر نہ صرف دکھ بانٹا بلکہ متاثرہ گھر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی مہمات بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں، راولپنڈی کے خیابان سیکٹر 3 میں مفت میڈیکل کیمپ کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذریعے مفت علاج و معالجہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔ جہلم میں بھی اسی طرز کے کیمپ قائم کیے گئے جہاں خواتین، بچے اور بزرگ طبّی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں،صرف طبّی سہولتیں ہی نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے پکی پکائی خوراک کی فراہمی کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری ہے۔ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آ چکی ہیں، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کشتیوں کے ذریعے خوراک، صاف پانی اور ضروریاتِ زندگی متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ مناظر انسانیت کی معراج اور سیاسی شعور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کےبارش سے متاثرہ علاقوں میں پہنچے ہیں اور نہ صرف امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے دکھ درد میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر امدادی سرگرمیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اُن کا یہ جملہ دلوں کو چھو جاتا ہے،ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے، اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرکزی مسلم لیگ نے سیاست کو صرف انتخابی میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا یہ طرزِعمل دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے کہ جب قوم پر مشکل وقت آئے، تو صرف دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔

    بارشوں کا سلسلہ تو قدرت کا حصہ ہے، مگر ان بارشوں میں بھیگتے، بلکتے، تڑپتے انسانوں کو سہارا دینا ہی اصل انسانیت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے یہی پیغام دیا ہے – کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جب قیادت مخلص ہو، اور کارکنان خدمت کے جذبے سے لبریز ہوں تو کوئی آفت، کوئی مصیبت قوم کو زیر نہیں کر سکتی۔ قدرتی آفات عارضی ہوتی ہیں، مگر انسانیت کی خدمت کا اثر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید کا دیا جلاتی ہے۔

  • بلوچستان میں دہشتگردانہ حملہ،  میجر محمد انور کاکڑ شہید

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملہ، میجر محمد انور کاکڑ شہید

    بلوچستان کے پشین ضلع سے تعلق رکھنے والے پاکستان آرمی کے افسر، میجر محمد انور کاکڑ، دہشتگردحملے میں شہید ہو گئے۔ یہ حملہ دہشتگرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” کے ایجنٹس نے بزدلانہ انداز میں کیا، جس نے ملک کے دفاع کا ایک عظیم سپوت ہم سے چھین لیا۔

    میجر انور کاکڑ نے بلوچستان میں پاکستان کے دفاع کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں۔ وہ نہ صرف پاک فوج کی صفوں میں فرنٹ لائن پر دشمن کے خلاف لڑتے رہے بلکہ معلوماتی جنگ میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا مقصد خطے میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانا تھا۔میجر کاکڑ کی قیادت میں کئی اہم آپریشنز کامیابی سے انجام پائے، جنہوں نے بھارت کے گماشتوں کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔ وہ نہایت بہادری، لگن اور جذبے کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہے۔

    بھارت، جسے پاکستان سے براہ راست مقابلہ کرنے میں کئی مرتبہ ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا، اب دہشتگرد گروہوں کو مالی اور اسلحہ فراہم کر کے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر میجر انور کاکڑ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے دفاع کا جذبہ کبھی کمزور نہیں ہوگا اور دشمن کی سازشیں ناکام ہو کر رہیں گی۔میجر انور کاکڑ پیچھے اپنی والدین، بیوی اور تین بچوں کو چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی شہادت پاکستان کی حفاظت کرنے والوں کی غیرمتزلزل حوصلے اور قربانی کی ایک زندہ مثال ہے۔پاکستان کو میجر انور کاکڑ جیسے بیٹوں پر فخر ہے، جنہوں نے جان کی بازی لگا کر وطن کی سلامتی کو یقینی بنایا۔

  • پاکستان نے  ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئین شپ جیت لی

    پاکستان نے ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئین شپ جیت لی

    پاکستان کی انڈر 16 والی بال ٹیم نے ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفاعی چیمپئن ایران کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر پہلی مرتبہ یہ ٹائٹل جیت لیا ہے۔

    فائنل میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان نے ابتدائی دو سیٹس میں پیچھے رہتے ہوئے اپنی حوصلہ مندی اور جذبے کی بدولت تین سیٹس جیت کر تاریخی فتح حاصل کی۔ میچ کا اسکور 22-25، 21-25، 30-28، 25-21 اور 15-10 رہا۔

    پاکستان کی جانب سے محمد جنید اور فیضان اللہ نے شاندار کھیل پیش کیا اور اپنی ٹیم کو مشکل حالات میں سنبھالا۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی نے ٹیم کو کم بیک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستانی ٹیم کی یہ فتح نہ صرف ملک کے لیے باعث فخر ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ محنت اور لگن سے بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔تاریخی طور پر یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نے ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیتا ہے، جو ملکی کھیلوں کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔